1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

آیت( وليضربن بخمرهن علی جيوبهن) کی وضاحت درکار ہے

'لباس و ضروریات' میں موضوعات آغاز کردہ از سید طہ عارف, ‏جون 13، 2017۔

  1. ‏جون 13، 2017 #1
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    671
    موصول شکریہ جات:
    125
    تمغے کے پوائنٹ:
    89

    سورة النور کی آیت 31 میں وليضربن بخمورهن علی جيوبهن. .. کیا اس کا حکم گھر میں ہے یا باہر کے لیے ہے؟ ؟
    کیا یہ حکم محرموں کے سامنے کے لیے ہے؟
     
  2. ‏جون 13، 2017 #2
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,316
    موصول شکریہ جات:
    705
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

    اسی آیت میں تفصیل بهی موجود هے۔
    SC20170613-185245-1.jpg
     
  3. ‏جون 14، 2017 #3
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,659
    موصول شکریہ جات:
    8,296
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    اس آیت میں پردے کے متعلق احکامات ہیں ، پردہ محرم رشتہ داروں سے نہیں ہوتا ، لہذا اس آیت میں ذکر کردہ پابندیوں کا گھر میں اطلاق تبھی ہوگا ، جب گھر میں ایسا شخص موجود ہو ، جس سے پردہ کرنا لازمی ہے ۔
    اس آیت کی تفسیر میں مولانا عبد الرحمن کیلانی رحمہ اللہ نے خوب لکھا ہے :
    بعض علماء نے قرآن کریم کے الفاظ (اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا 31؀) 24۔ النور :31) سے یہ مراد لی ہے کہ حجاب سے چہرہ اور ہاتھ مستثنیٰ ہیں۔ یعنی عورتوں کو غیر مردوں سے بھی چہرہ اور ہاتھ چھپانے کی ضرورت نہں۔ یہ توجیہہ درج ذیل وجوہ کی بنا پر غلط ہے :
    ١۔ اس آیت میں احکام حجاب کی رخصتوں کا ذکر ہے نہ کہ احکام حجاب کی پابندیوں کی۔ یعنی ذکر تو یہ چل رہا ہے کہ فلاں فلاں ابدی محرم رشتہ داروں سے بھی حجاب کی ضرورت نہیں، اپنی عورتوں سے بھی لونڈیوں سے بھی، خدام اور نابالغ بچوں سے بھی اظہار زینت اور حجاب پر کوئی پابندی نہیں۔ اب دیکھئے اس آیت میں کہیں عام لوگوں یا غیر مردوں کا ذکر آیا ہے کہ ان سے بھی اظہار زینت پر کوئی پابندی نہیں؟ لہذا اگر ان حضرات کے مصداق ماظہر مہنا سے مراد چہرہ اور ہاتھ ہی لے لئے جائیں تو بھی چنداں فرق نہیں پڑتا کیونکہ اس آیت میں مذکور اشخاص کے سامنے ہاتھ اور چہرہ کھلا رکھنے کی اجازت ہی کا تو ذکر ہے۔
    ٢۔ اس بات کے باوجود بھی یہ توجیہہ غلط ہے کیونکہ ماظَھَرَ مِنْھَا کی ضمیر زِیْنَتَھُنَّ کی طرف راجع ہے جو کہ قریب ہی مذکور ہے، نہ کہ اعضائے بدن کی طرف جن کا یہاں ذکر ہی موجود نہیں۔ اور اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ ''عورتیں اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر جو اس زینت سے از خود ظاہر ہوجائے۔ گویا اللہ تعالیٰ عورتوں کو تکلیف مالا یطاق نہیں دینا چاہتے۔ یعنی اگر جلباب یا بڑی چادر یا برقعہ کسی وقت ہوا سے اٹھ جائے یا غفلت یا کسی دوسرے اتفاق کی بنا پر عورت کا زیور یا زینت یا اس کا کچھ حصہ ظاہر ہوجائے تو اس میں کچھ مضائقہ نہیں۔ اکثر صحابہ اور تابعین نے ماظَھَرَ مِنْھَا سے یہی مفہوم مراد لیا ہے۔
    ٣۔ پیچھے واقعہ افک میں ایک طویل حدیث، جو حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے، گزر چکی ہے۔ اس میں وہ خود فرماتی ہیں کہ میں نے صفوان بن معطل سلمی کو جب بیدار ہو کر اپنے پاس کھڑا دیکھ تو میں نے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا۔ کیونکہ اس سے پہلے (سورہ احزاب میں) پردہ کا حکم نازل ہوچکا تھا۔ پھر بعد میں کیا یہ حکم منسوخ ہوگیا تھا ؟ کیا کچھ شواہد و آثار ایسے ملتے ہیں جن سے یہ ثابت ہوسکے کہ یہ حکم منسوخ ہوگیا تھا ؟ اگر اس سوال کا جواب نفی میں ہو اور یقیناً نفی میں ہے تو پھر اس جملہ کا یہ مطلب کیسے لیا جاسکتا ہے کہ چہرہ اور ہاتھ پردہ کے حکم سے مستثنیٰ ہیں۔
    ٤۔ تمام بدن میں چہرہ ہی ایسا عضو ہے جس میں غیروں کے لئے دلکشی کا سب سے زیادہ سامان ہوتا ہے۔ پھر اگر اسے ہی پردہ سے مستثنیٰ قرار دے دیا جائے تو باقی احکام حجاب کی کیا اہمیت باقی رہ جاتی ہے؟ اب اس مسئلہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ تمام تر صحابہ کرام (رض) میں سے حضرت ابن عباس نے، پھر ان کے شاگردوں نے، پھر بعض فقہائے حنفیہ نے (اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا 31؀) 24۔ النور :31) سے یہ مراد لیا ہے کہ ہاتھ اور چہرہ حکم حجاب سے خارج ہیں اور یہی وہ اصل بنیاد ہے جس پر منکرین حجاب اپنی عمارت کھڑی کرتے ہیں۔ حالانکہ ان اصحاب کا یہ موقف بھی منکرین حجاب کے کام کی چیز نہیں وجہ یہ ہے کہ ابن عباس (رض) (يُدْنِيْنَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيْبِهِنَّ 59؀) 33۔ الأحزاب :59) مفہوم یوں بیان فرماتے ہیں۔ '' ابن عباس (رض) اور ابو عبیدہ نے فرمایا ''مومنوں کی عورتوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ چادروں سے اپنے سر اور چہروں کو ڈھانپ کر رکھیں مگر ایک آنکھ کھلی رکھ سکتی ہیں تاکہ معلوم ہوسکتے کہ وہ آزاد عورتیں ہیں'' (معالم التنزیل بحوالہ تفہیم القرآن ج ٣ ص ١٢٩) اسی طرح کی ایک دوسری روایت یہ ہے کہ علی بن ابی طلحہ ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ : ''اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی عورتوں کو حکم دیا ہے کہ جب وہ اپنے گھروں سے کسی ضرورت کے تحت نکلیں تو چادروں سے اپنے سروں کے اوپر سے چہروں کو ڈھانپ لیں اور (صرف) ایک آنکھ ظاہر کریں'' (تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص ٣١٨، جامع البیان للطہری ص ٣٣ مطبوعہ مصر) اور یہ تو ظاہر ہے کہ جلباب کا تعلق گھر کے باہر کی دنیا سے ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) گھر سے باہر مکمل پردہ (یعنی چہرہ سمیت کے قائل تھے، ان کے موقف میں اگر کچھ لچک ہے تو وہ گھر کے اندر کی دنیا سے ہے یعنی اگر گھر کے اندر ایسے رشتہ دار آجائیں جو محرم نہیں تو ان سے ہاتھ اور چہرہ چھپانے کی ضرورت نہیں لہذا آج کے مذہب اور پردہ کے مخالف طبقہ کے لئے ابن عباس (رض) کا یہ موقف بھی کچھ زیادہ سود مند نہیں۔
    آپ کے نقل کردہ آیت کے ٹکڑے کے متعلق لکھتے ہیں :
    بدن کی قدرتی زیبائش میں سب سے زیادہ نمایاں چیز عورت کے سینہ کا ابھار یا اس کے پستان ہیں۔ جو مرد کے لئے خاصی کشش رکھتے ہیں۔ لہذا سینہ کو ڈھانپنے کی بطور خاص تاکید فرمائی۔ اور جاہلیت کی رسم کو ختم کرنے کی صورت بھی بتلا دی۔ جاہلیت میں عورتیں اپنے خمار (دوپٹے) سر پر ڈال کر اس کے دونوں پلے پشت پر لٹا لیتی تھیں۔ اس طرح سینہ پر کوئی چیز نہ ہوتی تھی اور یہ بھی گویا حسن کا مظاہرہ یا نمائش تھی۔ اور آج کی مہذب سوسائٹی میں اول تو ہماری یہ مذہب عورتیں دوپٹہ لینا گوارا ہی نہیں کرتیں اور اگر لیں تو دوپٹہ کو گلے میں ڈال کر اس کے پہول پیچھے پشت پر ڈال دیتی ہیں۔ اس طرح سر اور سینہ دونوں ننگے رہتے ہیں۔ التبہ دوپٹہ کا نام ضرور بدنام کیا جاتا ہے۔ اور مقصود اس سے بھی سینہ کے ابھار کی نمائش اور مردوں کے لئے پرکشش بنے رہنا ہوتا ہے۔ گویا آج اس نئی روشنی اور ترقی میں پرانے دور جاہلیت سے بھی زیادہ جاہلیت کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ قرآن کریم نے یہ طریقہ بتلایا کہ دوپٹہ کو سر پر سے لا کر گریبان پر ڈالنا چاہئے اس طرح سر، کان، گردن، سینہ سب اعضاء چھپے رہتے ہیں۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو مدینہ کی عورتوں نے اپنے تہبند (یعنی موٹا کپڑا) پھاڑ کر اس کی اوڑھنیاں بنا لیں'' (بخاری۔ کتاب التفسیر) گویا اس حکم پر انہوں نے فوراً سرتسلیم خم کردیا۔ ( تیسیر القرآن )
    مختصر یہ کہ :
    عورت کے لیے گھر کے اندر مخصوص پردے والی پابندیاں نہیں ہیں ، ہاں البتہ جسے ’ عورہ ‘ یعنی ’ ستر ‘ کہا جاتا ہے ، انہیں ڈھانپنے کا اہتمام ہر ایک کے سامنے کرنا چاہیے ۔سینہ وغیرہ عمومی طور پر ڈھانپ کر ہی رکھنا چاہیے ، البتہ غیر محرم کےسامنے اس کا مزید خیال رکھنا ضروری ہے ۔
    اس حوالے سے اس لنک کو دیکھ لیں ۔ جس کا خلاصہ یہ ہے :
    ’ لباس اور چيز ہے، اور شرمگاہ اور ستر كو ديكھنا اور چيز، عورت كا عورت كے ساتھ مشروع لباس يہ ہے كہ اس كے ہاتھ اور ٹخنے تك چھپے ہوئے ہوں، مشروع تو يہى ہے، ليكن اگر عورت كى كسى ضرورت و كام وغيرہ كى بنا پر اپنا لباس اوپر اٹھانا اور اكٹھا كرنا پڑے تو وہ عورت كے سامنے گھٹنے تك، اور اسى طرح اگر بازوں كى ضرورت پڑے تو وہ كہنى تك صرف بقدر ضرورت اكٹھا كر سكتى ہے.
    ليكن اسے عام لباس ميں شامل كر لينا اور اس كى عادت بنا لينا جائز نہيں، حديث كسى بھى حالت ميں اس پر دلالت نہيں كرتى، اسى ليے ديكھنے والى كو خطاب كيا گيا ہے، نہ كہ جسے ديكھے جا رہا ہے.
    اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے تو اس حديث ميں مطلقا لباس كے ذكر كو چھوا تك بھى نہيں، چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے يہ نہيں فرمايا كہ: عورت كا لباس گھٹنے اور ناف كے درميان " تا كہ ان عورتوں كو يہ شبہ ہو.
    اور محرم مرد كا اپنى محرم عورت كو ديكھنے كا مسئلہ بھى عورت كا كسى دوسرى عورت كو ديكھنے جيسا ہى ہے، عورت اپنے محرم مرد كے سامنے سر گردن، اور پاؤں، ہاتھ بازو، اور پنڈلى وغيرہ ننگى كر سكتى ہے، ليكن وہ لباس چھوٹا نہ كرے. ‘
    ايك اور لنك :
    عورت کا گھر میں لباس
     
    Last edited: ‏جون 14، 2017
  4. ‏جون 14، 2017 #4
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    بہت عمدہ تفسیر ہے۔
     
  5. ‏جون 14، 2017 #5
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,333
    موصول شکریہ جات:
    1,074
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    بارک اللہ فیکم محترم شیخ.
     

اس صفحے کو مشتہر کریں