1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

احمق لوگ

'عملی تصوف' میں موضوعات آغاز کردہ از سرفراز فیضی, ‏جنوری 01، 2013۔

  1. ‏فروری 03، 2013 #31
    عاصم کمال

    عاصم کمال رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 10، 2012
    پیغامات:
    112
    موصول شکریہ جات:
    233
    تمغے کے پوائنٹ:
    49

    محترم حافظ صاحب بات مقصد کی کرنی چاہئے۔ایک ہی زبان میں ایک ہی چیز کے لئے مختلف نام استعمال ہوتے ہیں ۔اور پھر یہ ساری اصطلاحات ہیں جو ضرورت بننے پر مستعمل ہوئی۔اہک مبارک زمانہ تھا یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ مسلمان ہو گا اور بے نمازی ہو گا۔ لیکن جوں جوں زمانہ گزرتا گیا اور ہم میں خیر القرون میں دوریاں ہوئی تو پھر باعمل مسلمان اور بے عمل مسلمان کے لئے مختلف اصطالاحات استعمال ہوئی۔ حتی کہ آج یہ بھی کہا جاتا ہے۔کہ آج دین پر عمل کرنے والوں کو طالبان ،مولوی اور لبرل طبقے میں اسلام پسند کہا جا رہا ہے۔
    عہد مبارک میں تو تین ہی طبقے تھے۔مسلمان، منافق اور کافر لیکن آج مسلمانوں میں کتنے طبقے بن چکے ہیں
    آپ ﷺ کی تعلیمات کے دوحصے ہیں تعلیمات نبوت اور برکات نبوت
    ظاہری حروف میں جو تعلیمات ہیں اور جو ارشاد مبارک ہیں یہ حصہ تعلیمات نبوت کہلاتا ہے اور آپ ﷺ کی صحبت میں بیٹھ کر جو لطیف جذبے اور کفیات نصیب ہوتی تھی ،اسے برکات نبوت کہتے ہیں ۔انبیا علیہ اسلام صرف الفاظ نہیں پہنچاتےبلکہ الفاط کیساتھ عمل کرنے کا جذبہ بھی دیتے ہیں کہ بندہ اللہ کو دیکھے بغیر گویا دیکھ رہا ہوتا ہے،یہ حصہ صحبت پیغمبرﷺ سے ملا کہ صحابہ خلوص کی ان بلندیوں پر تھے کہ ساری امت کی ولایت ایک طرف اور ایک صحابی کی جس نے کلمہ پڑھا اور دنیا سے چلے گئے انکی ولایت ساری امت سے بڑھ کر ہے حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ کا فرمانا کہ کہ حنطلہ منافق ہو گیا ہے صحبت کی بات تھی کیونکہ نور نبوت سے وہ براہ راست مستفیید ہوتے تھے ۔
    آپ ﷺ کی وفات کے بعد صحابہ کی صحبت میں بیٹھنے والا تابعی بنا اور تابعین سے صحبت یافتہ تبع تا بعین اسکے بعد دین کے مختلف شعبے وجود میں آئے ،جیسے مفسرین محدثین اسی طرح لوگوں کے اعمال میں جو دوری آئی تو لوگوں کو اخلاص کی طرف متوجہ کرنے والے لوگ صوفیاء کہلائے ۔
    ( پھر کبھی انشاء اللہ تفصیل سے لکھا جائے گا،
    آپکا فرمانا کی نبیﷺ کیا صوفی تھے تو اس معنوں میں بالکل تھے ،لیکن جس طرح مولوی دین سکھانے والے کو کہا جاتا ہے لیکن یہ لفط صحابہ کے لئے ہم نہیں بولتے اسی طرح لفظ نبی کے بعد صوفی لکھنا کیا حثیت رکھتا ہے۔
     
  2. ‏فروری 03، 2013 #32
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    ہم تصوف کی مخالفت اس لیے کرتے ہیں کہ اس کے بگاڑ نے امت کے عقائد کو گمراہیوں کی ان گہرائیوں تک پہنچایا ہے کہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ امت کے تزکیہ کے لیے قرآن وسنت کی روشنی میں جو کچھ بھی کیا جاسکتا ہے کیا جانا چاہیے ۔ لیکن اس کے لیے لفظ تصوف پر اصرار صحیح نہیں ۔ بلکہ اس کے استعمال سے پرہیز ہی کرنا چاہیے ۔ تاکہ عوام کو ان گمراہیوں سے محفوظ رکھا جاسکے جو تصوف کے نام پر امت میں پھیلائی گئی ہیں اور اب تک پھیلائی جارہی ہیں۔
     
  3. ‏فروری 03، 2013 #33
    عاصم کمال

    عاصم کمال رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 10، 2012
    پیغامات:
    112
    موصول شکریہ جات:
    233
    تمغے کے پوائنٹ:
    49

    محترم فیضی صاحب!دیکھے تصوف و احسان یہ ایک معنوں میں متقدمین اور متاخرین علماء استعمال کرتے رہئے ہیں میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ ہمیں کوئی اصرار نہیں ہے کہ تصوف ہی لکھا جائے مگر دیکھے حقیقت کو دیکھا جاتا ہے اگر تصوف کے نام پر گمرائیاں ہیں تو یہ قصور ان لوگوں کا ہے خواہ مخواہ ایک لفظ سے چڑنا کو ئی اچھی بات نہیں ۔ اور پھر لفطی مباحث پر جائے تو پھر کیا یہ دیوبند،بریلوی اور اہلحدیث کا بھی فیصلہ ہونا چاہئے۔
    فضول بحثوں میں وقت ضائع کرنے کے بجا ئے مقصد پر بات کرنی چاہئے۔ اور پھر کئی میں دفعہ لکھ چکا ہوںکہ آپ جعلی اور نقلی تصوف واضح کر تصوف کے خلاف لکھے تو کوئی اعتراض نہیں۔مگر یہ تو کوئی بات نہ ہوئی کہ مطلق ہی صوفیاء احمق ہیں اگر یہ احمق پھر جن علماء اہلحدیث کا صوفی ہونا میں ثابت کر چکا ہوں اور خاندان ولی الہی اور مجد الف ثانیؒ اور تصوف کے حمایتی ابن تیمیہ ؒ ،ابن قیم ،شیخ عبد القادر جیلانیؒ ،امام احمد بن حنبلؒ اور مزید آگے چلے جائے تو جس کو یہ بزرگان دین تصوف کہتے ہیں وہ تو تبع تبعین کے دور میں جماعتیں تھی ۔ اور پھر اس سب کی اصل ارشادات پیغمبر ﷺ سے ثابت ہو رہا ہے
    تو محترم فیصلہ آپ کریں کیا جہلاء صوفیوں کے رد میں ان برگزیدہ ہستیوں کو بھی احمق کہے گے ،حضرت یقین جانیے ہمیں دکھ لگتا ہے ان باتوں پر ۔
    اس لئے اکا برین اہلحدیث کا احسان سلوک لکھ کر آپ کو اس بات کی دعوت دی کہ آپ مطلق تصوف کی مخالفت نہ کریں مگر پھر جب محترم حافظ انس نضر صاحب نے یہ بات کہیں کہ یہ مشرک بدعتی ہیں اور متبادل اسلام ہیش کر رہئے ،زمیں و آسمان کا فرق ہے۔وغیرہ وغیرہ۔ تو میں نے مجبور ہو کر فتوی مانگا تا کہ ہم اور ہمارے اکابرین صوفی الگ ہو جائے اور منکرین تصوف الگ ہو جائے ۔کیونکہ بات فروعات تک رہے توکوئی بات نہیں ،محترم عالم ہیں حافط ہیں اور حضرت عبد اللہ روپڑی کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں محترم مشرک اور بدعتی کے لفظ استعمال کر رہئے ہیں، تو اسی لئے میں یہ بات کہتا ہوں کہ جولوگ مطلق تصوف کے انکا ری ہیں وہ واضح کر دے ۔
    میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں
    میں یہ بات پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ مسلک اہلحدیث کا امتیاز پاک و ہند میں رکھنے والے اور اس مسلک کی اشاعت اور تدوین کرنے والے اگر تمام نہیں تو اکثریت صوفی تھی اور ان میں سے اکثر حضرات کا طریق نقشبدیہ تھا مگر وائے حسرت کہ آج اسی مسلک سے منسوب لوگ سب سے زیادہ صوفیاء عظام کی توہین اور نفرت پھیلانے میں پیش پیش ہیں
    تو پھر میں اپنے سوال دہرا دیتا ہوں
    مسلک اہلحدیث کی تدوین و اشاعت پاک وہند میں صوفیاء اہلحدیث ہی نے کی ہے ،اگر مسلک اہلحدیث سے یہ صوفیاء لوگ لکال دیئے جائے ،یاا نکی خدمات کو نظر انداز کر دیا جائے تو اس مسلک کے پاس باقی کچھ نہیں بچتا،یہ لوگ جو آج ابن تیمیہ ؒ کا ذکر کر کے بتاتے ہیں کہ وہ تصوف کے مخالف تھے،شاید وہ نہیں جانتے کہ ابن تیمیہ ؒ کا متعارف ہی یہاں خاندان غزنویہ نے کرایا ہے۔سوال یہ ہے
    آجکل کے علمائے اہلحدیث یہ سب جانتے ہیں
    لیکن وہ خاموش کیوں ہیں ؟
    تصوف کو رد کرنے کے لیئے جتنی تحقیق کی جا رہی ہے
    اتنی اگر اس کی سچائی کو معلوم کرنے کے لیئے کی جاتی تو اب تک ساری حقیقت سامنے آ چکی ہوتی
    یہ اکا برین ان حضرات کی نظر میں کیا مقام رکھتے ہیں جو صوفیاء کو جاہل ،بدعتی مشرک وغیرہ سمجھتے ہیں ؟
    آخر یہ منکرین تصوف اتنا بھی سوچ نہیں سکتے
    کیا ساری زندگی قال اللہ اور قال الرسول کا درس دینے والے یہ صوفیا ء اہلحدیث انتا بھی نہ جان سکے کی تصوف بدعت و شرک ہے؟
     
  4. ‏فروری 03، 2013 #34
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    بھائی اس بارے میں میں اتنا ہی کہوں گا۔
    فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِنْ نَفْعِهِمَا
    تصوف کا اصل مقصد ایمان کا اضافہ ہے اور ایمان کے اضافہ کے چکر میں آکر ایمان ہی سے ہاتھ دھو بیٹھے تو یہ بہت گھاٹے کا سودا ہے ۔
    اس لیے بہتر ہے کہ اس لفظ کے استعمال سے پرہیز ہی کیا جائے ۔ اور تزکیہ کےلیےعلماء بیٹھ کر سوچیں کہ کیا کیا جاسکتا ہے ؟
     
  5. ‏فروری 03، 2013 #35
    ابو بصیر

    ابو بصیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 30، 2012
    پیغامات:
    1,420
    موصول شکریہ جات:
    4,161
    تمغے کے پوائنٹ:
    239

    بیٹھ کرسوچنا کی بجائےظالم ہندؤوں ،یہودیوں اور رومیوں سے جہاد کیا جائے۔۔اس سے ایمان میں صحیح اضافہ ہو گا
    میں پہلے بھی بتا چکا ہوں تصوف نام ہے جہاد سے بھاگنے کا
     
  6. ‏فروری 03، 2013 #36
    عاصم کمال

    عاصم کمال رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 10، 2012
    پیغامات:
    112
    موصول شکریہ جات:
    233
    تمغے کے پوائنٹ:
    49

    محترم آپ کی اس پوسٹ سے اندازہ ہو گیا ہے ۔کہ آپ تاریخ اسلام پر گہری نظر رکھتے ہیں ویسے آپ کو ادھر پوسٹ کرنے کی ضرورت نہ تھی کیونکہ آپ نے جہاں پہلے لکھا تھا وہاں ہم پڑھ چکے ہیں۔اور دیگر آپکے علمی و تحقیقی مراسلات سے بھی مستفید ہوتے رہتے ہیں ۔لہذا آپ کی اس پوسٹ پر میں بہت شکر گذار ہوں۔اللہ آپ کو اجر عظیم عطا فر مائیں۔
     
  7. ‏فروری 04، 2013 #37
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    مفتی صاحب نے کوئی جواب نہیں دیا، یا شائد ان کے پاس جواب بچا ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مفتی صاحب نے بذات خود تصوف کی جو تعریفات نقل کی ہیں ان کے مطابق تصوف احسان اور ذکر وغیرہ کا نہیں بلکہ کسی اور ہی شے کا نام ہے۔ ذرا غور فرمائیے:

    اوپر کی تعریفات سے پتہ چلتا ہے کہ تصوف ایک جیسا فلسفیانہ طریق کار ہے جس میں یہ چیزیں شامل ہیں: ’روح کی طرف لوٹنا‘، نفسی اور روحانی ریاضتیں، غایۃ بعیدہ (ذاتِ الٰہی سے اتصال اور اس میں فناء ہونا) تک پہنچ جانا، معرفۃ مباشرۃ اور حقیقۃ روحیۃ، ہر وہ چیز جس کا جسم سے تعلق ہے اس سے الگ ہوجانا وغیرہ وغیرہ

    پھر بھی مفتی صاحب اور عاصم کمال صاحب کو اصرار ہے کہ نہیں تصوف سے مراد احسان، ذکر اور تزکیہ ہے۔
    ایک صاحب تزکیہ کو تصوف قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
    تصوف کیا ہے؟ — Mahnama Tahaffuz

    یہاں سے سب لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ تصوف باطنی علم، علم لدنی کو کہا جاتا ہے جن کا تعلق شریعت سے تو ہے ہی نہیں۔ اور یہ ڈائریکٹ نبی کریمﷺ سے حاصل کیا جاتا ہے۔ آج بھی ۔۔۔ (العیاذ باللہ)
     
  8. ‏فروری 04، 2013 #38
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    السلام علیکم
    آپ کے ترکش میں جتنے تیر ہیں ان سب کو نکال دیجیے تبھی کوئی بات ہوگی
     
  9. ‏فروری 04، 2013 #39
    عاصم کمال

    عاصم کمال رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 10، 2012
    پیغامات:
    112
    موصول شکریہ جات:
    233
    تمغے کے پوائنٹ:
    49

    [/QUOTE]پھر بھی مفتی صاحب اور عاصم کمال صاحب کو اصرار ہے کہ نہیں تصوف سے مراد احسان، ذکر اور تزکیہ ہے۔
    ایک صاحب تزکیہ کو تصوف قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
    تصوف کیا ہے؟ — Mahnama Tahaffuz

    یہاں سے سب لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ تصوف باطنی علم، علم لدنی کو کہا جاتا ہے جن کا تعلق شریعت سے تو ہے ہی نہیں۔ اور یہ ڈائریکٹ نبی کریمﷺ سے حاصل کیا جاتا ہے۔ آج بھی ۔۔۔ (العیاذ باللہ)[/QUOTE]
    حافظ صاحب ایک بات لے اس کی تکمیل تک نئی بحث نہ چھیڑے۔اب علم پر ہی بات چلے گئی ۔ آپ بتا دے علم حاصل کرنے کے کون کون سے ذرائع ہیں ؟
     
  10. ‏فروری 05، 2013 #40
    ابوحنیفہ

    ابوحنیفہ مبتدی
    شمولیت:
    ‏جنوری 26، 2013
    پیغامات:
    11
    موصول شکریہ جات:
    28
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    ’’صوفی‘‘ تو ایک گالی ہے پھر یہ بحث فضول ہے کہ کس کس شخصیت کو یہ گالی دی جاسکتی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کو گالی دینا کفر ہے تو پھر رسول اللہ اور صحابہ کو صوفی کی گالی دے کر کون کافر ہونا چاہتا ہے؟؟؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں