1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

استحسان کی تعریف اور مثال آسان فہم انداز میں بیان کردیں

'اصول فقہ' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن قدامہ, ‏اکتوبر 24، 2015۔

  1. ‏اکتوبر 24، 2015 #1
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,771
    موصول شکریہ جات:
    420
    تمغے کے پوائنٹ:
    184

    منسلک کردہ فائلیں:

    Last edited: ‏اکتوبر 24، 2015
  2. ‏اکتوبر 24، 2015 #2
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,771
    موصول شکریہ جات:
    420
    تمغے کے پوائنٹ:
    184

  3. ‏اکتوبر 24، 2015 #3
    طاہر اسلام

    طاہر اسلام سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 07، 2011
    پیغامات:
    843
    موصول شکریہ جات:
    724
    تمغے کے پوائنٹ:
    256

    برادر عزیز! عنوان درست کیجیے؛استحسان،صحیح ہے۔
    بات تو بالکل واجح ہے؛دیکھیے اگر کسی مسئلے میں قیاس ایک نتیجے تک پہنچا رہا ہو یعنی اصولی طور پر وہی نتیجہ نکل رہا ہو لیکن مجتہد اسے نظر انداز کردے کہ اسے اختیار کرنے سے کوئی مشکل یا تنگی پیدا ہوتی ہو تو اس صورت میں وہ اس نتیجے کو چھوڑ کر عمومی دلائل اور کلیات کی روشنی میں اس مسئلے کا حل نکال لے۔مثلاً اصولی طور پر مجہول چیز کی خرید و فروخت حرام ہے لیکن حمام میں غسل جائز ہے حالاں کہ اس میں پانی کی مقدار معین اور معلوم نہیں ہوتی؛یہ ازراہِ استحسان جائز ہے کیوں دوسری صورت میں تنگی اور مشقت لازم آئے گی
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏اکتوبر 24، 2015 #4
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,511
    موصول شکریہ جات:
    4,366
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    استحسان
    (اصول فقہ) قیاس خفی جس سے کسی فقہی مسئلے کے حل میں مدد لی جائے یا مجتہد کی اپنی رائے جو حکم شرعی کی صورت میں بیان کی جائے۔
     
  5. ‏اکتوبر 25، 2015 #5
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,771
    موصول شکریہ جات:
    420
    تمغے کے پوائنٹ:
    184

    کلیات کسے کہتے ہیں؟
    محترم بھائی یہ آپ نے امام مالک کی تعریف کی ہے یا امام ابوحنیفہ
    کی؟ کیوں کے دونوں کی طریف میں اختلاف ہے ۔ مجھے امام مالک کی تعریف کی سمج نہیں آرہی تھی۔ابوحنیفہ کی کچھ کچھ آگی تھی ۔
    میری آپ سے درخوست ہے آپ دونوں تعریفیں بتادیں
     
  6. ‏اکتوبر 25، 2015 #6
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,771
    موصول شکریہ جات:
    420
    تمغے کے پوائنٹ:
    184

    اس مثال میں اس بات کی سمحج نہیں آئی کہ پانی کی تو حمام میں خرید و فروخت نہیں کی جاتی
     
  7. ‏اکتوبر 25، 2015 #7
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,511
    موصول شکریہ جات:
    4,366
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    کچھ لوگ جلدی کی صورت میں گھر میں پانی گرم کرنے کی کوفت سے بچنے کے لئے محلہ میں قریبی حجام کی دکان جہاں گرم حمام کا بندوبست ہوتا ھے وہاں نہاتے ہیں جس پر انہیں پانی کی قیمت ادا کرنی پڑتی ھے۔ کچھ لوگ کسی دوسرے شہر گئے ہوں یا کسی بھی مجبوری کی وجہ سے حمام میں نہاتے ہیں چاہے پانی گرم ہو یا ٹھنڈا دونوں صورتوں میں اس پر قیمت ادا کرنی پڑتی ھے اس پر پانی کی مقدار کا اندازہ نہیں ہوتا۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  8. ‏اکتوبر 25، 2015 #8
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,246
    موصول شکریہ جات:
    2,164
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    پیارے بھائی
    ’’ استحسان ‘‘
    استحسان عربی زبان کا لفظ ہے ،اسکا مادہ اصلی’’حسن‘‘ ہے۔باب استفعال سے حسن کا مصدر ’’استحسان‘‘ بنتا ہے۔عربی لغت میں استحسان کامطلب کسی چیز کو خاص خوبی کی بنا پر اچھا سمجھنا ہے۔فقہ اسلامی کے دبستان حنفی میں استحسان کو ایک اہم اور ضمنی ماخذ قانون کے طورپر تسلیم کیا گیا ہے۔استحسان کی مختلف تعریفیں کی گئی ہیں:
    1)قطع المسئلہ عن نظائرھابما ھو قوی ۔کسی مسئلہ کو قوی وجہ سے اسکے نظائر سے الگ کر لینا۔
    2)العدول عن قیاس الی قیاس اقوی العدل فی مسئلہ عن مثل ما حکم بہ فی نظائرھا ابی خلافۃ بوجہ ھو اقوی۔ایک قیاس چھوڑ کر اس سے زیادہ قوی قیاس اختیار کرنا،مسئلہ کے نظائرمیں جو حکم موجود ہے کسی قوی وجہ سے اسکو چھوڑ کر اسکے خلاف حکم لگانا۔
    3)اجود تعریف الاستحسان العدول بحکم المسئلہ عن نظائرھا لدلیل الشرعی۔استحسان کی سب سے بہتر تعریف یہ ہے کہ کسی مسئلہ کے فیصلے میں اسکے نظائر کو دوسری دلیل شرعی کی بنا پر چھوڑ دینا۔
    4)العدول بالمسئلہ عن حکم نظائرھاالی حکم آخر بوجہ اقوی ۔۔۔۔۔۔۔۔ھذالعدول۔کسی مسئلہ میں اسکے نظائر سے قطع نظر کر کے کسی دوسرے حکم کو کسی فوری وجہ کی بنا پر دلیل بنا کر کوئی حکم لگانے کو استحسان کہتے ہیں۔
    5)الاستحسان طلب السہولہ فی الاحکام فیما یبتلی فیہ الخاص والعام۔استحسان ان صورتوں میں سہولت طلب کرتا ہے جن میں خاص و عام سب مبتلا ہیں۔
    6)جب کسی مسئلہ میں قیاس سے زیادہ قوی دلیل موجود ہویعنی قرآن یا سنت کی نص یا اجماع تو فقہا نے صریح قیاس ترک کر کے زیادہ قوی دلیل کے مطابق فتوی دیا ہے اور یہی استحسان کا مفہوم ہے۔
    7)مسائل کا حل بالعموم قیاس ہی سے حاصل ہوجاتا ہے لیکن بعض دفعہ قیاس اصول عامہ سے ٹکرا جاتا ہے،ایسے میں بعض فقہا اصول عامہ کو اختیار کرتے ہیں اور اسے ہی استحسان کہتے ہیں۔

    امام شافعیؒ استحسان کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔انہوں نے کتاب الام میں اس پر طویل بحث کی ہے اور ایک رسالہ ’’الرد علی الاستحسان ‘‘ لکھا،جس میں کہ استحسان کی تردید میں دلائل نقل کیے ہیں۔امام شافعی ؒ کتاب الام میں ایک جگہ لکھتے ہیں
    ’’جب مجتہد استحسان کرتا ہے تو وہ گویا اپنی سوچ سے ایک بات اختراع کرتا ہے اور اس پر قیاس کرتا ہے جبکہ اسے اپنی سوچ کی اتباع کا حکم نہیں دیا گیا‘‘۔استحسان کے قائلین اس بات کاانکارکرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مجتہدکاقیاس اور استحسان کسی خاص دلیل شرعی کی بنا پر ہوتا ہے۔
     
    • علمی علمی x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  9. ‏اکتوبر 25، 2015 #9
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,771
    موصول شکریہ جات:
    420
    تمغے کے پوائنٹ:
    184

    السلام علیکم
    پیارے بھائی
    مجھے امام ملک کی تعریف درکار ہے۔آسان فہم انداز میں
    کیونکہ حنیفہ اور مالکیہ میں استحسان کی تعریف میں اختلاف ہے
     
    Last edited: ‏اکتوبر 25، 2015
  10. ‏اکتوبر 25، 2015 #10
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,230
    موصول شکریہ جات:
    686
    تمغے کے پوائنٹ:
    213

    جزاک اللہ خیر آپ نے احسن طریقے سے صحیح معنی سمجهائی اور امام شافعی کا قول نقل کرکے مزید وضاحت فرما دی ۔ اللہ آپکو جزائے خیر سے نوازے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں