1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

استحسان کی تعریف اور مثال آسان فہم انداز میں بیان کردیں

'اصول فقہ' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن قدامہ, ‏اکتوبر 24، 2015۔

  1. ‏اکتوبر 25، 2015 #11
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,357
    موصول شکریہ جات:
    714
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    اوپر کہی گئی میری بات اسحاق صاحب کی پوسٹ کے جواب میں لکهی گئی تهی ۔
    والسلام
     
  2. ‏اکتوبر 25، 2015 #12
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,369
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    جزاکم اللہ تعالیٰ احسن الجزاء
     
  3. ‏اکتوبر 25، 2015 #13
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,369
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    اس میں یہ بات ملحوظ رہے کہ :
    استحسان اور اس کی پیش کردہ تعریف حنفیہ کے مسلک اور نکتہ نظر کے مطابق ہے ؛
     
  4. ‏اکتوبر 25، 2015 #14
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,369
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    محترم بھائی !
    امام مالک رحمہ اللہ نے خود ’’ استحسان ‘‘ کو ۔۔استنباط کے اصول ۔۔کے طور پر ذکر نہیں کیا ۔۔اور نہ ہی اس کی علمی تعریف بیان فرمائی ہے ؛
    اور مالکی مذہب کے مشہور امام قاضی عیاض ؒ نے (ترتيب المدارك وتقريب المسالك ) میں امام ابو حنیفہ اصول فقہ کے رد
    میں لکھا ہے :
    (فصل) وأما أبو حنيفة فإنه قال بتقديم القياس والاعتبار على السنن والآثار، فترك نصوص الأصول وتمسك بالمعقول وآثر الرأي والقياس والاستحسان، ثم قدم الاستحسان على القياس فأبعد ما شاء.
    وحد بعضهم استحسان أنه الميل إلى القول بغير حجة.
    وهذا هو الهوى المذموم والشهوة والحدث في الدين والبدعة، حتى قال الشافعي من استحسن فقد شرع في الدين))

    کہ : ابو حنیفہ آثار و سنن پر قیاس کو مقدم کرتے ہیں ۔اور نصوص کو چھوڑ کر معقول کو قبول کرتے ۔اور رائے ،قیاس ،اور استحسان کو ترجیح دیتے ہیں
    اور کبھی کبھی تو استحسان کو قیاس پر بھی مقدم کردیتے ہیں ۔
    اور استحسان کی تعریف بعض علماء نے یہ کی ہے کہ :
    استحسان : بے دلیل قول کی طرف میلان کو کہا جاتا ہے،
    اور یہ واضح ہے اس طرح تو یہ محض مذموم خواہش،اور من پسندی ہے ،اور دین میں بدعت ہے ،اسی لئے امام شافعی فرماتے ہیں کہ :
    استحسان کرنے والا دراصل شریعت گھڑتا ہے ‘‘((ترتيب المدارك وتقريب المسالك )
     
  5. ‏اکتوبر 25، 2015 #15
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    بھائی آپ اس تعریف کو آسان مہم انداز میں بیان کرسکتے ہیں
    upload_2015-10-25_20-40-55.png
     
  6. ‏اکتوبر 25، 2015 #16
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    upload_2015-10-25_20-42-33.png
     
  7. ‏اکتوبر 26، 2015 #17
    رحمانی

    رحمانی رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 13، 2015
    پیغامات:
    382
    موصول شکریہ جات:
    102
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    [بَابُ الْقَوْلِ فِي الِاسْتِحْسَانِ]ِ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: تَكَلَّمَ قَوْمٌ مِنْ مُخَالِفِينَا فِي إبْطَالِ الِاسْتِحْسَانِ حِينَ ظَنُّوا أَنَّ الِاسْتِحْسَانَ حُكْمٌ مِمَّا يَشْتَهِيه الْإِنْسَانُ وَيَهْوَاهُ، أَوْ يَلَذُّهُ، وَلَمْ يَعْرِفُوا مَعْنَى قَوْلِنَا فِي إطْلَاقِ لَفْظِ الِاسْتِحْسَانِ.فَاحْتَجَّ بَعْضُهُمْ فِي إبْطَالِهِ بِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {أَيَحْسَبُ الْإِنْسَانُ أَنْ يُتْرَكَ سُدًى} [القيامة: 36] وَرُوِيَ: أَنَّهُ الَّذِي لَا يُؤْمَرُ وَلَا يُنْهَى، قَالَ: فَهَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ لَيْسَ لِأَحَدٍ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ تَعَالَى أَنْ يَقُولَ بِمَا يَسْتَحْسِنُ، فَإِنَّ الْقَوْلَ (بِمَا يَسْتَحْسِنُهُ شَيْءٌ يُحْدِثُهُ لَا عَلَى مِثَالِ مَعْنًىسَبَقَ) فَهَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ لَمْ يَعْرِفْ مَعْنَى مَا أَطْلَقَهُ أَصْحَابُنَا مِنْ هَذَا اللَّفْظِ، فَتَعَسَّفُوا الْقَوْلَ فِيهِ مِنْ غَيْرِ دِرَايَةٍ.
    وَقَدْ حَدَّثَنِي بَعْضُ قُضَاةِ مَدِينَةِ السَّلَامِ، مِمَّنْ كَانَ يَلِي الْقَضَاءَ بِهَا فِي أَيَّامِ الْمُتَّقِي لِلَّهِ، قَالَ سَمِعْتُ إبْرَاهِيمَ بْنَ جَابِرٍ، وَكَانَ إبْرَاهِيمُ هَذَا رَجُلًا كَثِيرَ الْعِلْمِ، قَدْ صَنَّفَ كُتُبًا مُسْتَفِيضَةً فِي اخْتِلَافِ الْفُقَهَاءِ، وَكَانَ يَقُولُ بِنَفْيِ الْقِيَاسِ، بَعْدَ أَنْ كَانَ يَقُولُ بِإِثْبَاتِهِ. (قَالَ فَقُلْتُ) لَهُ: مَا الَّذِي أَوْجَبَ عِنْدَكَ الْقَوْلَ بِنَفْيِ الْقِيَاسِ بَعْدَمَا كُنْت قَائِلًا بِإِثْبَاتِهِ؟ فَقَالَ: قَرَأْتُ إبْطَالَ الِاسْتِحْسَانِ لِلشَّافِعِيِّ فَرَأَيْتُهُ صَحِيحًا فِي مَعْنَاهُ، إلَّا أَنَّ جَمِيعَ مَا احْتَجَّ بِهِ فِي إبْطَالِ الِاسْتِحْسَانِ هُوَ بِعَيْنِهِ يُبْطِلُ الْقِيَاسَ، فَصَحَّ بِهِ عِنْدِي بُطْلَانُهُ. وَجَمِيعُ مَا يَقُولُ فِيهِ أَصْحَابُنَا بِالِاسْتِحْسَانِ فَإِنَّهُمْ إنَّمَا قَالُوهُ مَقْرُونًا (بِدَلَائِلِهِ وَحُجَجِهِ) لَا عَلَى جِهَةِ الشَّهْوَةِ وَاتِّبَاعِ الْهَوَى، وَوُجُوهُ دَلَائِلِ الِاسْتِحْسَانِ مَوْجُودَةٌ فِي الْكُتُبِ الَّتِي عَمِلْنَاهَا فِي شَرْحِ كُتُبِ أَصْحَابِنَا، وَنَحْنُ نَذْكُرُ هَهُنَا جُمْلَةً، نُفْضِي بِالنَّظَرِ فِيهَا إلَى مَعْرِفَةِ حَقِيقَةِ قَوْلِهِمْ فِي هَذَا الْبَابِ بَعْدَ تَقْدِمَةٍ بِالْقَوْلِ فِي جَوَازِ إطْلَاقِ لَفْظِ الِاسْتِحْسَانِ.

    قاضی عیاض نے جوبات کہی ہے کہ امام ابوحنیفہ قیاس اوررائے کو آثار پر مقدم رکھتے ہیں تو یہ نہایت غلط بات ہےاوراس کی تردید خودامام ابوحنیفہ سے باسناد صحیحہ ثابت ہے جسے ابن معین نے اپنی تاریخ میں اورابن عبدالبر نے الانتقاء میں اورخطیب بغدادی نے تاریخ بغداد میں ذکر کیاہے ۔اورچونکہ ہمارے کچھ مہربان احناف کے خلاف کسی بھی بات کو بڑی گرمجوشی کے ساتھ قبول کرتےہیں لہذا اس کی تردید کیلئے امام ابوبکر جصاص رازی کا یہ اقتباس نقل کیاہے۔ترجمہ کی ضرورت نہیں کہ اہل علم ترجمہ کو بخوبی جانتے ہیں، امام ابوبکرجصاص رازی کی ’’الفصول فی الاصول‘‘فقہ حنفی میں اصول فقہ کی بہترین کتاب ہے۔ اس میں انہوں نے استحسان کے دلائل پر بہت بہترکلام کیاہے اورامام شافعی کے قول پر بھی کلام کیاہے۔
    خلاصہ کلام اتناہے کہ امام شافعی جس استحسان کی تردید کرتے ہین اس استحسان کے احناف قائل نہیں اورجس استحسان کے احناف قائل ہیں، امام شافعی نے اس کی تردید نہیں کی۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں