• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اسلامی ثقافت، عناصر اور اہمیت

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,234
پوائنٹ
402
حملہ آوروں کی ثقافت کا اصلی مقصد کہ جسے انہوں نے پہلے سے ترسیم کیا ہوا ہے ، آج دنیا بالکل اسی سمت حرکت کررہی ہے یعنی اسلامی معاشرے کی شناخت اور اس کے اثرات کو تباہ و برباد کرنا ، دینی اعتقادات کو کمزور کرنا اور خصوصا نسل جوان کو بے دین بنانے کے درپے ہیں ۔ یہ ثقافتی یلغار کا مقدمہ ہے تاکہ توحیدی فکر کو تمام دنیا سے ہٹاکر اس کے جگہ اپنی ثقافت کو مسلط کرے ؛ اس لئے اس کو دو اہم مقصد میں خلاصہ کیا جاسکتا ہے:
۱۔ اسلام کو ہٹانا ،
۲۔اسلامی ثقافت کی جگہ حملہ آور کی ثقافت کو لے آنا۔

ثقافتی یلغار کے اسباب اور عوامل
ثقافتی یلغار کو شکل دینے میں جو عوامل اور اسباب مؤثر ہیں ، ان کو دو حصوں یعنی اندرونی اور بیرونی اسباب میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔ ہاں البتہ جو پہلے ذکر کئے گئے وہ بھی انہی کا حصہ ہیں جو سب مل کر ایک دوسرے کو مکمل کررہے ہیں ، وہ عوامل یہ ہیں:
خود اعتمادی کی کمی
یہ عامل انسان کے فردی ، سیاسی اور اقتصادی پہلؤوں میں ظہور کرتا ہے ۔ اس کا معنی اور مطلب یہ ہے کہ عام مسلمان خصوصا جوان نسل ، اپنی قابلیتوں اور خدادادی استعدادوں کو کچھ نہ سمجھے بلکہ اس تفکر کو اپنے اندر باور کرائے کہ استعداد اور قابلیت تو صرف مغرب والوں کے اختیار میں ہے ۔ اسی طرح یہ سبب سیاسی اور اقتصادی عرصہ میں بھی یہی معنی رکھتا ہے جس کی وجہ سے بعض مسلمانوں کا تصور یہ ہے کہ اسلامی معاشرہ اس میدان میں مستقل ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے اس لئے جب تک خود کو دوسرے ترقی یافتہ ممالک سے وابستہ نہ کرلیں تب تک مستقل نہیں ہوسکتے !جس کے نتیجے میں یہ عامل سبب بنا کہ اسلامی معاشرے کے جوانوں کے اندر خود اعتمادی میں کمزوری آجائے اور ثقافتی حملہ آور ممالک کی طرف رغبت پیدا کریں ۔ شاید اسلام اسی چیز کا مقابلہ کرنے کی طرف دعوت دے رہا ہے اور یہ پکار رہا ہے کہ اپنے اوپر یقین کرو ، اپنے کو پہچانو اور مستقل رہنے کی طلب و تڑپ میں رہو ۔ جیسا کہ امام خمینی (رہ) دعوت اسلام کے اس معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں : (( اگر یہ جوان نسل اپنے آپ کو پہچان لے اور اپنے سے مایوسی کو دور کرے اور دوسروں سے وابستہ ہونے کی طرف نظر نہ رکھے تو ایک طویل مدت کے بعد سب کچھ کرنے اور بنانے کی طاقت رکھتے ہیں )) ۔
2 ۔ کم تجربہ گی و نا پختگی
ثقافتی یلغار کے اسباب میں سے ایک سبب ، جوانوں کی کم تجربہ گی اور علم کی کمی ہے ۔ یہ جوان طبقہ جو زمانے کا کافی تجربہ نہیں رکھتے ہیں ، اپنی پرنشیب و فراز زندگی کے آغاز میں ہیں ؛ لذا بہت ہی جلد منافع خوروں کی مذموم سیاستوں سے متاثر ہوتے ہیں ۔ ان جوانوں کی کم تجربہ گی سبب بنتی ہے کہ وہ حق و باطل کی پہچان میں مشکل سے دوچار ہوجائیں ۔ جوانوں کا مغربی ثقافت اپنانا ، وہاں کی شخصیتوں کو اپنے لئے گفتار میں ماڈل قرار دینا اس معنی کی بہترین دلیل ہے ۔ ثقافتی حملہ آور بھی اسی خصوصیت سے بھرپور استفادہ کرکے جوانوں کو غفلت کے دام میں ڈال دیتے ہیں ۔ امام صادق ؑ فرماتے ہیں : (( اے جوانو ! تقوا اختیار کرو اور جھوٹے رہبروں کو اپنا ماڈل نہ بناؤ تاکہ ان کی پیروی نہ کرسکو )) ۔ امام صادق ؑ کے اس نورانی جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ؑ کے زمانے میں بھی جوان طبقہ اس ثقافتی یلغار کے جال میں شکار ہورہے تھے ۔
دینی عقائد کی کمزوری
دینی عقائد کی کمزوری بھی ، ثقافتی یلغار کے لئے ایک سبب ہے ۔ اگر دینی عقائد کمزور ہوجائیں تو جوان نسل اپنے بنیادی سوالوں کے جواب سے محروم ہوجاتی ہے ، درنتیجہ عمل کے میدان میں آہستہ آہستہ دوسروں کے افکار و خیالات میں جذب ہوکر ان کو اپنا ماڈل قرار دیتے ہیں ۔ دوسری طرف ثقافتی حملہ کرنے والے بھی ہمیشہ دین سے لڑنے اور اس سے جدا کرنے کی سازش میں لگے ہوئے ہیں اور اس طرح اپنی تبلیغ کررہے ہیں کہ دین ایک قسم کا دیا گیا خیالی افکار کے مجموعہ کا نام ہے جو کہ فردی زندگی سے مربوط ہے اور اس کا علم و دنیا سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ شاید اس قسم کی ثقافتی یلغار سے روکنے کے لئے ہماری دینی تعلیمات میں سب سے مخاطب ہوکر ، خصوصا جوانوں کو اپنی فکری بنیادوں کو مضبوط کرنے اور دینی معارف کو سیکھنے پر زور دیا گیا ہے ، یہاں تک کہ امام باقر ؑ اور امام صادق ؑفرماتے ہیں : (( اگر شیعوں میں سے کسی جوان کو اس طرح دیکھوں کہ وہ اپنے دین کو نہیں سمجھ رہا ہے اور اس وظیفے کے ادا کرنے میں سستی کرتا ہے اور خلاف ورزی کررہا ہے تو میں اس کو سخت سزا دوں گا )) ۔
۴۔ ثقافتی خلاء :
یہ عامل بھی ثقافتی یلغار کا ایک سبب ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صحیح طور پر جوان نسل کو ثقافتی غذا نہیں دی گئی ہے اور وہ عملی طور پر اپنے ثقافتی آثار سے بے خبر ہیں ؛ جس طرح تازہ نونہال پودے کی مانند جب سخت ہوائیں چلتی ہیں تو اکھڑ جاتے ہیں اسی طرح اس دور کے تند ثقافتی حملوں نے ہمارے جوانوں کو بھی اپنی قومی ثقافتی پہچان سے دور کردیا ہے ۔
ثقافتی خلاء ہونے کی صورت میں دشمن کی ثقافت کو قبول کرنے کا موقع فراہم ہوتا ہے ؛ کیونکہ ہمیشہ جوان طبقہ اپنے ثقافتی آئی ڈی کو حاصل کرنے کے پیچھے لگے ہوتے ہیں ؛ اس لئے جوانوں کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ اسلامی معاشرہ ایک بے نیاز ثقافت رکھتا ہے اور یہ بھی ان کو یاد دلایا جائے کہ بہت سے علمی میدانوں میں تمغات کو حاصل کرنے والے اور جیتنے والے بہادر ، اسلامی معاشرے سے تعلق رکھتے تھے ۔ اس کے علاوہ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ اسلامی معاشرہ ، اہلبیت ؑ کے علوم و معارف سے بہرہ مند ہے ، ان کی تعلیمات کو اسلامی معاشرے میں اگر صحیح طریقے سے فروغ دیا جائے تو لوگ خصوصا جوان نسل کبھی بھی بیگانہ ثقافت کو نہیں اپنائیں گے ؛ اسی لئے تو معصوم ؑ نے فرمایا ہے : (( اگر ہمارے کلام کو صحیح طور پر بیان کردیا جائے تو لوگ ہماری طرف مائل ہوجائیں گے )) ۔
دین کی غلط تفسیر کرنا :
دین اور اس کی تعلیمات کی غلط تفسیر کرنا بھی ثقافتی یلغار کا باعث ہے ۔ دین کے تمام احکام ، اخلاق اور الہی حدود کی اس طرح تفسیر کی جائے کہ کسی دشمن کو تحریف کرنے کا موقع نہ ملے ۔ شاید اسی وجہ سے دین اسلام میں اس کی صحیح تفسیر کے لئے اجتہاد کا باب کھول دیا گیا ہے ، تاکہ ہر کس و ناکس دین کی غلط تفسیر نہ کرسکیں ۔
یہ مجتہدین و علماءربانیین کا کام ہے کہ وہ الہی احکام کا صحیح استنباط کرکے لوگوں تک پہنچائیں ۔ ا افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض نے دین کو دنیا سے جدا تفسیر کیا ہے ، ان کا عقیدہ یہ ہے کہ دین صرف آخرت کے مسائل کا جوابگو ہے ۔ اسی طرح بعض مسلّٖم عقائد اور دینی تعلیمات کے مفاہیم میں مشکل کے روبرو ہوگئے ہیں ۔
6 ۔ بہت سے دیگر عوامل :
یہاں اور بہت سارے عوامل و اسباب ہیں جن کو طولانی ہونے کی وجہ سے ذکر نہیں کیا ہے ان میں سے بعض یہ ہیں : گھریلوے اختلافات ، بے روزگاری ، غریبی و ناداری ، تعلیم سے محرومیت ، میڈیا و اخبارات کی طرف سے فحش تصاویر اور فلموں کی نمائش و۔۔۔ یہ سب ثقافتی حملہ آوروں کے طریقے شمار ہوتے ہیں ۔ اس کے علاوہ اسلامی معاشرہ میں بعض اسلامی لیڈر و حکام اور ذمہ دار افراد بھی باعث بنتے ہیں کہ جوان نسل اپنی ثقافتی شناخت اور دینی تعلیمات سے دور ہوجائے اور بیگانہ ثقافت کی طرف مائل ہوجائے۔
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,234
پوائنٹ
402
ثقافتوں کا تصادم
سیمیوئل ہنٹنگٹن کی شہرہ آفاق کتاب The Clash of Civilization نے دورِ حاضر میں بڑے بحث و مباحثے کو جنم دیا ہے۔اس کتاب کا خلاصہ یہ ہے سوویت یونین کے انہدام کے بعد مغرب کا پہلا ٹکراؤ اسلامی دنیا سے ہوگا۔اس کے بعد اگلا ٹکراؤ چین سے ہوگا۔یہ کتاب سیاسی پس منظر میں لکھی گئی ہے، اس لیے ٹکراؤ سے مراد سیاسی تصادم ہے۔اور اس میں شک نہیں کہ اس کی پیش گوئی ٹھیک ثابت ہوئی اور 9/11 کے بعد مغربی اور اسلامی دنیا کا باقاعدہ سیاسی تصادم شروع ہوچکا ہے۔
درحقیقت یہ سیاسی تصادم کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ مسلمان اس میں جیتیں یا ہاریں وہ یکساں طور پر نقصان میں رہیں گے۔اصل بات یہ ہے کہ مغرب سے مسلمانوں کا ٹکراؤ ایک دوسرے میدان میں ہورہا ہے، جس میں مسلمان بغیر مقابلے کے ہار رہے ہیں۔ یہ میدان ثقافت کا میدان ہے، روایات کا میدان ہے، اقدار کا میدان ہے، حیات و کائنات کے بارے میں نقطہ نظر کا میدان ہے۔ مسلمان دانشوروں اور اہل علم کی ساری توجہات اس وقت سیاست کے میدان میں ہیں۔ ان کے بہترین لوگ، سرمایہ اور دانش اسی میدان میں ضائع ہورہے ہیں۔ جبکہ ثقافت و اقدار کے میدان میں مغرب کو Walk Over مل چکا ہے۔ اس لیے کہ مسلمانوں کی ذہانتیں اور صلاحیتیں اس میدان میں مقابلے کے لیے موجود نہیں۔
ہم مغرب سے دو سو برس سے سیاسی میدان میں شکست کھارہے ہیں۔ آئندہ دو سوبرس تک بھی صورتحال کے بدلنے کا کوئی امکان نہیں۔ مگر ابھی تک ہماری ثقافت بہرحال اپنی جگہ قائم و دائم تھی، مگر اب لگتا ہے کہ اب اس شہر پناہ کی بربادی کا وقت آگیا ہے۔
ہماری ثقافت جو خدا پرستی اور فکر آخرت کی اساس پر قائم ہے اور عفت وعصمت کے ستونوں پر کھڑی ہے، مغرب دنیا پرست اور آزاد ثقافت سے مغلوب ہونا شروع ہوگئی ہے۔چند دہائیوں کی بات ہے، اس کے بعد ممکن ہے کہ ہم قوم پرستی کے جذبے سے مغرب کے خلاف کھڑے ہوں، مگر ہم ثقافتی طور پر مغربی انداز فکر کو قبول کرچکے ہوں گے۔
اخلاقی انحطاط
مغرب کا یہ اندازِ فکر یہ کہ اصل زندگی دنیا ہی کی زندگی ہے۔ ہر کامیابی دنیا کی اور ہر ناکامی دنیا ہی کی ہوتی ہے۔ یہ زندگی صرف ایک بار ملی ہے اس لیے اسے جتنا انجوائے کرنا ہے کرلو۔اہل مغرب کی خوش قسمتی ہے کہ وہاں کئی صدیوں سے بڑے لوگ پیدا ہوتے رہے ہیں اور ان کے معاشرے نے ان بڑے لوگوں کی بات مانی ہے۔ اس لیے وہ لذت پرستی اور دنیا پرستی کی اس دوڑ میں بھی بہرحال کچھ اصول واخلاقیات کے پابند ہیں۔
مگر ہمارا حال یہ ہے کہ پچھلے دو سو برس سے ہم زندگی کو سیاست کی عینک سے دیکھنے کے ایسے عادی ہوئے ہیں کے اس کے پیچھے اپنے سارے تربیتی ادارے گنوا بیٹھے ہیں۔اس کے نتیجے میں ہماری اخلاقی بنیادیں کھوکھلی ہونا شروع ہوگئی ہیں۔ہم نہ مغربی ثقافت کی ثقافتی یلغار کا مقابلہ کرنے کے قابل ہیں اور نہ دنیا پرستی کی بین الاقوامی لہر کا سامنے کرنے کے۔
آج معیارِ زندگی بلند کرنے کی جو دوڑ لگی ہوئی ہے اور دنیوی لذتوں اور تعیشات کو زندگی کا مقصد بنالینے کا جو عمل شروع ہوگیا ہے، اس کے نتائج ہمارے کھوکھلے اخلاقی وجود کے لیے تباہ کن ثابت ہورہے ہیں۔ ہم دنیا بھر سے اسلام کے نام پر لڑتے ہیں،مگر انفرادی یا اجتماعی سطح پر اپنے سیرت و کردار میں وہ مثالی نمونہ پیش نہیں کرپاتے جو صحابہ کرام یا ان کے بعد بھی مسلمانوں کا شعار تھا۔ مثالی ہونا تو دور کی بات ہے ہم معمول کا وہ اخلاقی رویہ بھی نہیں پیش کرپاتے جس کی توقع بحیثیت ایک اچھے انسان کے کی جاسکتی ہے۔
جس معاشرے میں نہ دوا خالص ملتی ہو نہ غذا اس کی اخلاقی حیثیت پر کیا تبصرہ کیا جائے۔ جہاں ہر ناجائز کام رشوت دے کر کرانا ممکن ہو اور بغیر رشوت کے کسی جائز کام کا کرنا ناممکن ہو، اس معاشرے کی اسلامی حیثیت پر سوال پیدا ہونا لازمی ہے۔ہمارے معاشرے کے پڑھے لکھے اور باشعور طبقے نے کرپشن کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ ایک زمانے میں ہم دنیا کی سب سے زیادہ بدعنوان ریاست تھے۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ہمارے ہاں کرپشن کی صورتحال میں ابھی تک کوئی زیادہ بہتری نہیں آئی۔ کاروباری طبقہ ناجائز منافع خوری اور غیر معیاری اشیا کی فراہمی سے اپنے خزانوں میں ہر روز اضافہ کررہا ہے۔جن غریب غربا کے لیے یہ راستے بند ہیں انہوں نے جرائم کی راہ اپنالی ہے۔
خواتین کو بھی تلاشِ معاش کے لیے گھروں سے نکلنا پڑرہا ہے۔ہمارے ہاں خواتین کے احترام کی روایت اب مضبوط نہیں رہی ۔ اسی طرح لوگ بالعموم مرد و زن کے اختلاط کے آداب سے بھی واقف نہیں۔ اس لیے یہ یہ مخلوط معاشرت اپنے ساتھ نئے اخلاقی مسائل لارہی ہے۔پھر بہت سی جگہوں پر خواتین کو ان کی نسوانیت ہی کی بنا پر ملازمت ملتی ہے۔اس کے اپنے نتائج ہوتے ہیں۔میڈیا اور اشتہارات کی صنعت میں کم اور تنگ کپڑے پہننے ہی سے کافی پیسے مل جاتے ہیں۔اس لیے اچھے گھرانوں کی لڑکیاں بھی اس میدان میں اتررہی ہیں۔جو زیادہ غریب ہیں وہ دوسرے طریقے سے اپنی قیمت وصول کررہی ہیں۔
ایک طرف یہ صورتحال ہے اور دوسری طرف دنیا بھر میں ہماری شہرت ایک مذہبی معاشرے کی ہے اور یہ شہرت غلط نہیں ہے۔ہماری سوسائٹی میں دینداری کے کم و بیش سارے مظاہر بغیر کسی حکومتی جبر کے موجود ہیں۔ہمارے ہاں بہت بڑے پیمانے پر مدارس و مساجد قائم ہورہے ہیں۔ نماز روزے کا اہتمام بڑے پیمانے پر کیا جاتا ہے۔حج و عمرہ کے لیے جانے والوں کی کثرت ہے۔ باپردہ خواتین اور داڑھی والے حضرات بغیر کسی جبر کے بڑی تعداد میں معاشرے میں نظر آتے ہیں۔ دینی اور تبلیغی جماعتیں فروغ پارہی ہیں۔ تبلیغ کا معاملہ ہو یا جہاد کا، بڑے پیمانے پر افرادِ کار اور مالی مدد یہاں سے ملتی ہے۔ ملی غیرت کا حال یہ ہے کہ دنیا بھر میں مسلمانوں کا کوئی مسئلہ ہو سب سے زیادہ اس کی حمایت ہمارے ہاں سے کی جاتی ہے۔ مذہبی حمیت کا حال یہ ہے کہ سلمان رشدی کا معاملہ ہو یا سوئیڈش اخبار کا، مظاہرے اور احتجاج میں ہم سب سے آگے ہیں۔ ہمارے آئین میں اسلام کے حوالے سے اتنی شقیں ہیں کہ بلا خوفِ تردید ہم آئین کی حد تک ایک مکمل اسلامی ریاست ہیں۔
ڈسکو کلب، شراب نوشی، جوا اور قحبہ گری جو دنیا بھر بشمول اسلامی ممالک معمول کی بات ہے، ہمارے ہاں علانیہ ان کا تصور نہیں ۔ خواتین کا جینز پہننا اور بغیر آستینوں کی قمیض پہننا ہمارے معاشرتی رویوں میں ابھی تک ایک نامانوس چیز ہے اور آزاد خیال خواتین بھی اس سے آگے نہیں بڑھ پاتیں۔ ہمارے ساحلِ سمندر ان خرافات سے پاک ہیں جو دنیا بھر میں عام ہیں۔ہماری فلموں کا سنسر اتنا سخت ہے کہ بوس و کنار کے وہ مناظر جو دنیا بھر کی فلموں میں معمولی بات ہیں، ابھی تک ہمارے ہاں راہ نہیں پاسکے ہیں۔ ہم اس ملک کے باسی ہیں، اس لیے ہمیں یہ چیزیں معمول کی بات لگتی ہیں، مگر باہر سے آنے والے ایک شخص کی نظر میں یہ سب مل کر پاکستان کو ایک غیر معمولی مذہبی معاشرہ بنادیتا ہے۔
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,234
پوائنٹ
402
اصل مسئلہ کیا ہے؟
یہ ہمارے معاشرے کے تضادات ہیں۔ایک طرف مغرب کی ثقافتی یلغارکے اثرات ہیں، دوسری طرف ہمارا اخلاقی انحطاط اور تیسری طرف یہ دینداری کی فضا۔ اسی آخری چیز نے ہمارے لیے شدید مسائل پیدا کردیے ہیں۔ کیونکہ یہی آخری چیز یعنی ظاہر ی دینداری آنکھوں کو بھلی لگتی ہے ۔ اس سے یہ اطمینان قلب بھی رہتا ہے کہ دین پھیل رہا ہے، مگر درحقیقت یہ نہ مغرب کی ثقافتی یلغار کا مقابلہ کرسکتی ہے نہ جدید اذہان میں پیدا ہونے والے سوالات کا جواب دے سکتی ہے۔ یہ نہ اخلاقی انحطاط کے سامنے کوئی رکاوٹ باندھ سکی ہے اور نہ دنیا پرستی کی لہر کا توڑ کرسکتی ہے۔
دین کا صحیح تصور اور صحیح علم ایک انسان کے روحانی اور اخلاقی وجود کے لیے غذا کی مانند ہے۔ یہ اگر انسان کو مل جائے اور اس کی بنیاد پر انسان کی تربیت ہو تو اس کے نتیجے میں لازمی طور پر ایک اعلیٰ اخلاقی وجود جنم لے گا۔اور اگر یہ نہ ملے یا اس میں ملاوٹ ہوجائے تو پھر اخلاقی روح فنا ہوجاتی ہے یا مسخ ہوجاتی ہے۔ کسی معاشرے میں جب یہ صورتحال پیدا ہوجائے تو پھر اس میں وہ اخلاقی انحطاط پیدا ہوجاتا ہے ۔اور ایسے میں مغربی ثقافت جیسی کوئی طاقتور فکر حملہ کردے تو جس طرح ایک کمزور جسم وائرس کا حملہ نہیں سہہ سکتا، اسی طرح ایسا معاشرہ ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے۔چاہے اس میں ظاہری دینداری کی کتنی ہی دھوم ہو اور اس کا آئین کتنا ہی اسلامی کیوں نہ ہو۔
ہمارے ہاں معاشرے کے تمام طبقات کسی نہ کسی حوالے سے اس صورتحال سے متاثر ہوکر کمزور پڑچکے ہیں۔ہمارے معاشرے کے ایک طبقے تک دین کا صحیح علم پہنچا ہی نہیں ہے ۔ ان کے ہاں قحط کی کیفیت ہے۔ دوسرا گروہ ان مریضوں کی طرح ہے جن کی بھوک ختم ہوچکی ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جن میں دین کی طلب نہیں اور نہ انہیں اس سے کوئی دلچسپی ہے۔ تیسرا گروہ وہ ہے جن تک دینی علم کے نام پر وہ کچھ پہنچایا جاتا ہے جو معیاری دینی علم کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتا۔ ایسے میں ان تینوں کا اخلاقی انحطاط سے متاثر ہونا ایک لازمی امر ہے۔آئیے اپنے معاشرے کے ان تینوں گروہوں کا تفصیلی تجزیہ کرلیتے ہیں۔
پہلا طبقہ
مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد وہ ہے جو محض پیدائشی طور پر مسلمان ہے۔ان کے اردگرد اول تو دین موجود نہیں ہوتا۔ اور اگر ہو بھی تو وہ کچھ رسوم و عادات اور سنے سنائے توہمات پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس طرح کے دین کی دو بنیادی خصوصیات ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ اس دین کے بالعموم کوئی اخلاقی مطالبات نہیں ہوتے۔کچھ رسوم و عادات اور تہوار منانے اور ان پر پیسہ خرچ کرنے سے ہی سارے دینی مطالبات پورے ہوجاتے ہیں۔
دوسرا یہ کہ اس طرح کا دین کسی غور و فکر کا مطالبہ نہیں کرتا، بلکہ سنی سنائی باتو ں اور توہمات اور قصے کہانیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔یہ چیزیں ذہن کو بند کردیتی ہیں۔ چنانچہ دین کبھی ان کی ذاتی دریافت یا تجربہ نہیں بنتا۔یہ ان کی سوچ اور فکر کا محور نہیں بنتا۔خدا پرستی اور آخرت کی تیاری ان کا مسئلہ نہیں ہوتی۔ان کی جتنی کچھ بھی دینداری ہوتی ہے وہ تہوار منالینے اور رسمی اعمال ادا کرنے سے پوری ہوجاتی ہے۔چنانچہ ایسے لوگوں کا نصب العین دنیا کمانا بن جاتا ہے ۔ وہ ساری زندگی دنیا کمانے کی جدو جہد میں لگے رہتے ہیں اور اس راہ میں ہر حد کو پامال کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔
ان کے دل پر جوکچھ بوجھ ان حرکتوں کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے، اسے اتارنے کے لیے وہ دینداروں کو چندے دیدیتے ہیں، مساجد بنوادیتے ہیں، عرس و میلاد کا انعقاد کرتے ہیں ،محرم اور شب برات پر نیاز دیتے ہیں۔ یہ ہمارے عوام الناس کا طبقہ ہے۔
دوسرا طبقہ
دوسرا طبقہ وہ ہے جس میں دین کا کبھی ذکر ہوتا ہے اور نہ اس کی خواہش ہی رہ جاتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن میں دین کی طلب بالکل ختم ہوچکی ہے۔ یہ بس اس حد تک مسلمان ہوتے ہیں کہ مرتے وقت ان کا جنازہ پڑھا جاتا ہے اور ان کے مرنے والوں کی چتا جلانے کے بجائے انہیں دفنایا جاتا ہے۔ شادی کے وقت یہ آگ کے گرد پھیرے نہیں لگاتے، بلکہ ان کا نکاح پڑھایا جاتا ہے۔
باقی دین سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ عام زندگی میں دینی شعار کی توہین کرنا یا کم از کم ان کی خلاف ورزی کرنا ان کے لیے معمول کی بات ہوتی ہے۔مذہبی لوگوں پر اعتراض کرنا اور دین کو ماضی کا ایک معاملہ سمجھنا ان کے شعور یا لاشعور کا حصہ بن جاتا ہے۔دین سے بے تعلق ہوکر پہلے گروہ کی طرح ان لوگوں کی زندگی کا نصب العین بھی دنیا کمانا ہوتا ہے ۔ اوراخلاقی حدود کی پامالی میں ان کا رویہ بھی پہلے گروہ سے کوئی مختلف نہیں ہوتا۔ صرف اس فرق کے ساتھ کے یہ ہوس زر کی دوڑ میں دوسروں سے بہت آگے ہوتے ہیں۔یہی وہ لوگ ہیں جو سب سے بڑھ کر مغرب کی ثقافتی یلغار کے اسیر ہوئے ہیں۔ اپنے لباس و آداب، رہن سہن، رنگ ڈھنگ اور طور طریقوں میں یہ سب سے بڑھ کر مغربی ثقافت کے دلدادہ ثابت ہوتے ہیں۔
ایسے لوگوں کے سامنے اللہ رسول کی بات کیجیے۔ توحید و آخرت کا ذکر کیجیے۔ قرآن و سنت کا تذکرہ کیجیے۔عمل صالح اور اخلاق عالیہ کی دعوت دیجیے، تو آپ دیکھیں گے کہ گویا وہ بہرے ہیں جو سن نہیں سکتے۔ اندھے ہیں جو دیکھ نہیں سکتے۔جو شخص ان کے سامنے یہ باتیں کرتا ہے، وہ ان کی محفلوں کے لیے اجنبی ہوجاتا ہے ۔وہ صرف فیشن، سیر وتفریح، فلموں ڈراموں، بنگلہ، گاڑی اور انہی جیسی دیگر دنیوی چیزوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
انہیں اپنے اطمینان قلب کے لیے ان رسمی اعمال کے کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہوتی جو پہلے گروہ کا معمول ہے، بلکہ اکثر وہ اس توہم پرستی کا مذاق بھی اڑاتے ہیں۔تاہم زندگی میں ان کی گوٹ کہیں پھنس جائے یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی سخت آزمائش آ جائے تو ان کی دبی ہوئی مذہبی حس بیدار ہوتی ہے، مگر اپنی تسکین کے لیے پھر یہ بھی وہی کچھ کرتے ہیں جو پہلے گروہ کا معمول ہوتا ہے۔ یہ طبقہ بالعموم ہماری اشرافیہ میں شامل ہے۔
تیسرا طبقہ
یہ تیسرا طبقہ ہمارا دینی طبقہ ہے اورزیادہ تر اس کا تعلق ہماری مڈل کلاس سے ہوتا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جن کی فطرت کی خوبی انہیں ان کے حالات سے اوپر اٹھاتی ہے اور توفیق الہی سے ان میں دین کا کچھ ذوق و شوق پیدا ہوجاتا ہے۔مگر اس کے بعد جو دینی علم ان تک پہنچتا ہے وہ ملاوٹ والی غذا کی طرح ہوتا ہے۔ یعنی دین کے نام پر وہ غذا دی جاتی ہے جو حقیقی دینی غذا نہیں۔اس غذامیں ایمانیات کے ساتھ توہمات بھی ہوتے ہیں۔ اعمال صالح کے ساتھ ظاہر پرستی کی آمیزش بھی ہوتی ہے۔عبادات کے ساتھ بدعات اور خود ساختہ رسومات کی چاشنی بھی ہوتی ہے۔ اللہ اور رسول کی محبت کے ساتھ سیاسی انقلاب اور قومی مفادات کا تڑکہ بھی لگا ہوتا ہے۔
یہ غذا ظاہر ہے کہ ویسے ہی دیندار پیدا کرتی ہے جیسے دیندار اس وقت نظر آتے ہیں۔اور وہی دینداری پیدا ہوتی ہے جس کا نقشہ ہم اوپر کھینچ آئے ہیں۔اسی طرح یہ لوگ مغرب کے سیاسی غلبے اورچند ظاہری اثرات کی تو مخالفت کرسکتے ہیں، مگر دنیا پرستی کی جو فکر مغرب کی اساس ہے یہ نہ اس کے اثرات سے اپنے لوگوں کو بچاسکتے ہیں اور نہ اخلاقی انحطاط ہی کے آگے کوئی بند باندھ سکتے ہیں۔
اصل کام یہ ہے کہ اس دین کو لوگوں تک پہنچایا جائے اور اس کے درست شعور کے ساتھ پہنچایا جائے۔اس کی اس تعلیم کے ساتھ پہنچایا جائے کہ دین رب کے رنگ میں رنگ جانے، اس کے اخلاق کو اختیار کرلینے، اس کی جنت کو اپنا مقصد بنالینے کا نام ہے۔ اسی کے نتیجے میں ہم نہ صرف مغربی ثقافت کے غلبے کا راستہ روک سکتے ہیں بلکہ اپنے اخلاقی انحطاط کو بھی کسی نہ کسی درجے میں کم کرسکتے ہیں۔
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,234
پوائنٹ
402
غیر اسلامی ثقافتی یلغار سے بچاو کے طریقے:
اب یہاں پر گذشتہ ثقافتی یلغار کے عوامل اور اسباب کے مد مقابل ، اسلامی لیڈروں اور حکام سے لے کر گھر کے والدین تک کے ہر فرد کی اس ثقافتی یلغار کو روکنے اور بچانے میں کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے ؟ یہاں پر بہت زیادہ طور طریقے بیان کئے گئے ہیں ، ان میں سے بعض کی طرف بطور مختصر اشارہ کرتے ہیں
۱۔ اسلامی ثقافت کو عملی فروغ دینا:
اس کی اہمیت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ، اگر ہم اسلامی ثقافت کو عملی فروغ دینے میں صحیح طریقے سے اپنا وظیفہ ادا کرے تو کافی حد تک روکا جاسکتا ہے ؛ اس لئے کہ جس صدی میں ہم زندگی گزار رہے ہیں ، ثقافتی یلغار اور ثقافتوں کے تصادم کی صدی ہے ۔ اسلامی معاشروں میں مغربی ثقافت کے طرف سے خصوصا جوان نسل کو جہاں فحاشی ، غیر اخلاقی ، بے دینی بنانے میں بہت سی کوششیں ہورہی ہیں وہاں پر ان کو اخلاق ، تعلیم ، آداب و سنن سے دور کیا جارہا ہے ، جس کی وجہ سے ہمارے جوانوں کی سوچ ، گفتار وکردار ،مغربی ثقافت کی ترجمانی کررہی ہے اور ہر کوئی دیکھنے والا بھی یہی کہتا ہے کہ یہ تو مغربی ثقافت کا ترجمان ہے ؛ کیونکہ تمام حرکات و سکنات سر سے پاؤں تک اسلامی ثقافت سے زیادہ دوسروں کے ثقافت سے ملتی جلتی ہے۔
اس ثقافتی یلغار کو روکنے کا واضح اور واحد طریقہ یہ ہے کہ ہم اسلامی ثقافت کو زندہ کریں ، اپنے اور معاشرے کے اندر اسلامی ثقافت کو اجاگر کرنے کے لئے اسلامی تعلیمات کو عملا فروغ دیں ۔ مغربی ثقافت و تمدن کو اپنانے کے نقصانات ان کے اپنے ہی بنائے ہوئے مختلف ذرائع اور وسائل سے آگاہ کریں اور یہ باور کرایا جائے کہ مغربی ثقافت و ثقافت نے خود مغربی معاشرہ کو تباہی کے دہانے پہ پہنچادیا ہے ، مغربی معاشرہ تمام اخلاقی اقدار اور انسانی سعادتمندی کے آثار کھوچکا ہے ، دنیا پرستی نے ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے ۔ اب یہ معلوم ہونے کے باوجود ہماری نوجوان نسل پر افسوس کی بات ہوگی کہ اس جیسی ذلت بار ثقافت و ثقافت کو روشن خیالی ، پیشرفتہ ، عظمت و۔۔۔ سمجھ کر اندھی تقلید میں ان کو اپنا ماڈل قرار دیں ۔
۲۔ گھر کا ماحول :
اپنی ثقافتی میراث کو جوان نسل تک منتقل کرنے میں سب سے پہلے گھر کا جو اہم کردار ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کیونکہ نسل جوان کا بنیادی کام اس کے اپنے چاردیواری گھر میں ہی ہوتی ہے ۔ اگر اس گھر میں اسلامی ثقافت کی تربیت نہ کی جائے تو یہ گھر خرابا کی طرح ہے ( کہ جو بیگانہ ثقافت کا ہر لمحہ حملے کا باعث بن سکتا ہے ) جیسا کہ اس مطلب کی طرف پیغمبر اسلام ﷺنے ارشادفرمایاہے : (( ما من بیت لیس فیه شیئ من الحکمة الا کان خرابا)) یعنی وہ گھر جس میں حکمت نہ ہو ( اسلامی ثقافت کی تعلیم نہ دی جائے تو ) وہ گھر نہیں کھنڈر ہے ۔
3 ۔ تعلیم و تربیتی مراکز
البتہ تعلیم و تربیتی مراکز کا دائرہ بہت ہی وسیع ہے اور بہت سے مصادیق کا حامل ہے ۔ ان میں سے صرف دو کا ذکر کرتے ہیں
الف ) ۔ اسکولز سے یونیورسٹی تک :
یہ وہ مقام ہے جہاں انسان واقعا انسان بن کر دوسروں کو بھی انسانیت کی تعلیم دینے کے قابل بنتا ہے ۔ ابتدائی اسکول سے لے کر یونیورسٹی تک کے مراحل میں علم و ادب ، ہنر و مھارت و۔۔۔ سیکھتا ہے یعنی درواقع یہ انسانی شخصیت کا وہ حساس مرکز ہے جہاں ایک معیاری اور اچھے تربیتی نظام تعلیم کے ذریعے ، تعلیمی ، فکری اور اعتقادی ، گویا ایک ثقافتی میراث جوانوں تک منتقل ہوتی ہے ۔
اب یہ بات واضح ہے کہ جب سے مغربی استکبار نے اپنا ثقافتی یلغار کا آغاز کیا ہے وہ اس بات کو بخوبی جان لیا تھا کہ اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں پر قبضہ کرکے نئی نسل کو اس کی اپنی ثقافتی میراث سے دور کردیں گے تو وہ خود بخود بآسانی مغربی ثقافت اپنالیں گے ۔ اس کام کے لئے انہوں نے بہت سے اسکول اور یونیورسٹیز بنائیں اور اب تک یہ کام جاری و ساری ہے ۔جس کا پہلا مقصد نئی نسل کو عیسائی بنانا نہیں بلکہ ایک طرف اپنا کلچر پھیلانا اور دوسری طرف جوانوں کو اسلام سے دور کردینا تھا ؛ اس لئے انہوں نے اسکولوں میں کورسز د ینے کے علاوہ دیگر ثقافتی پروگراموں تک ہر چیز کو اپنے مقصد کے لئے استعمال کیا اور کیا جارہا ہے ۔
ب ) : دینی مدارس
تعلیم و تربیتی مراکز میں سے ایک دینی مدرسہ بھی ہے جہاں صرف اسلامی ثقافت کی تعلیم دی جاتی ہے ۔ یہ ادارہ میرے نزدیک بہت ہی حساس ہے چونکہ یہاں الہی تعلیم دی جاتی ہے اور انبیاء ؑ کا وارث بننے کی تربیت کی جارہی ہے ، یہاں سے علماء اور طلاب منبر و محراب کے ذریعے لوگوں تک احکام الہی کو پہنچاتے ہیں ؛ اس لئے تو دشمن اس جگہ سے ہمیشہ ہراساں رہا ہے اور اپنے تمامتر ذرائع کے ساتھ علماء کے خاتمہ کے لئےکوشاں ہے ،مخصوصا شیعوں کے درمیان ولایت فقیہ کےخلاف اتنا پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے جس کی کوئی حد نہیں ہے ۔اس اعتبار سے دینی طالبعلم اورعالم کی قدر ومنزلت بہت ہی عظیم ہے ۔ ہاں یہ بات صد البتہ یہاں قابل ذکر ہے کہ طول تاریخ میں ایسے بعض عالم نما بھی گزرے ہیں جو خود کو عالم سمجھ رہے تھے لیکن ظالم و جابر و طاغوتی بادشاؤں کے درباری کہلائے جاتے تھے ( درباری ملّا )۔ خدا ہی بہتر جانتا ہے کہان جیسے درباری علماءکے فتوؤں سے کتنے بے گناہ انسان لقمہ اجل بن گئے ہیں!۔دوسرے الفاظ میں اگرعالم فاسد ہوجائے تو پوری دنیا کو فاسد کردیتا ہے جیسا کہ اس مطلب کی طرف روایت میں اشارہ ہوئی ہے (( اذا فسدالعالم فسد العالم )) ۔
نتیجہ :
ظاہر ہے اگر ہمیں اپنی جوان نسل کو دشمنوں کی ثقافتی یلغار سے بچانا مقصود ہے اور اسلامی ثقافت کو زندہ رکھنا ہے اور اسلامی تعلیمات کو عملا فروغ دینا ہے تو یہ کام صرف دینی لیڈروں کا وظیفہ نہیں ہے بلکہ سیاسی لیڈروں اور حکام سے لے کر گھر کے والدین تک ہر ایک اپنی ذمہ داری کو سمجھ کے اپنی بساط کے مطابق اس ثقافت کو اپنے مابعد کے نسل تک صحیح انداز میں منتقل کرے ۔
علامہ اقبال ؓ نے اپنی اعلیٰ تعلیم تو مغرب ہی میں حاصل کی لیکن وہ ان کی ثقافتی ثقافت و تمدن کے غلام نہیں بنے بلکہ اس کھوکھلی ثقافت پر زبردست تنقید بھی کی ۔ ہاں علامہ اقبال ؓ کو ہمیشہ یہ حسرت رہی کہ علم و حکمت میں مسلمان قوم نے مغرب کو اپنے علمی خزانے تو پیش کئے لیکن خود اس عظیم خزانے سے استفادہ نہیں کیا
 
Top