1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اسلامی نظریہ کونسل ختم کر دی جائے‘ سندھ اسمبلی کی متفقہ قرارداد

'سیاسی نظام' میں موضوعات آغاز کردہ از جہان حیرت, ‏اپریل 02، 2014۔

  1. ‏اپریل 02، 2014 #1
    جہان حیرت

    جہان حیرت مبتدی
    شمولیت:
    ‏اپریل 02، 2014
    پیغامات:
    4
    موصول شکریہ جات:
    7
    تمغے کے پوائنٹ:
    3

    اسلامی نظریہ کونسل ختم کر دی جائے' سندھ اسمبلی کی متفقہ قرارداد
    کراچی (وقائع نگار+ ایجنسیاں) سندھ اسمبلی نے متفقہ قرارداد کے ذریعہ اسلامی نظریہ کونسل کی طرف سے خواتین کے معاملات سے متعلق حالیہ سفارشات پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اس کونسل کو ختم کردیا جائے۔ یہ قرارداد فنکشنل لیگ کی خاتون رکن مہتاب اکبر راشدی نے پیش کی تھی جس پر کئی دیگر ارکان کے دستخط بھی موجود تھے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ ''یہ ایوان اسلامی نظریہ کونسل کی حالیہ سفارشات پر سخت تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ کونسل نے خواتین سے متعلق معاملات پر مکمل لاپروائی اور بے حسی کا مظاہرہ کیا ہے اور سفارش کی ہے کہ شادی کیلئے عمر کی کم سے کم کوئی حد نہیں، زیادتی کے واقعات میں ڈی این اے ٹیسٹ کی مخالفت کی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ دوسری شادی کیلئے بیوی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسلامی نظریہ کونسل کی یہ تمام سفارشات افسوسناک اور خواتین مخالف ہیں ۔ ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملات کو حل کرنے کی بجائے لوگوں کے ذہنوں میں انتشار اور الجھن پیدا کی جا رہی ہے۔ ایوان سفارش کرتا ہے کہ اسلامی نظریہ کونسل مثبت کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہے، لہٰذا اس سے جان چھڑا لینی چاہئے کیونکہ پاکستان اب مزید نقصانات کا متحمل نہیں ہوسکتا۔'' سینئر وزیر تعلیم نثار احمد کھوڑو نے قرارداد کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اسلام سے پہلے بیٹیوں کو دفن کردیا جاتا تھا لیکن اسلام اصلاحات لیکر آیا۔ اسلامی نظریہ کونسل کو اس طرح کے فتوے نہیں دینے چاہئیں ۔ اگر ایسے فتوے آتے رہے تو فتوے دینے والوں کی مخالفت ہوگی۔ مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر عرفان اللہ خان مروت نے کہا کہ اسلامی نظریہ کونسل ہم پر فتوے مسلط نہ کرے۔ قوم کے ساتھ یہ مذاق ہے کہ دوسری شادی کیلئے پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں۔ سندھ اسمبلی کی طرف سے قومی اسمبلی کو یہ پیغام ہے کہ اگر اس میں ہمت نہیں ہے تو ہم میں تو ہمت ہے ۔ پیپلز پارٹی کے رکن سید مراد علی شاہ نے کہا کہ اللہ اور اسکے رسولؐ کے بنائے ہوئے قانون میں کسی کو ترمیم کا اختیار نہیں ہے۔ اسلام میں شادی کیلئے نہ صرف رضامندی ضروری ہے بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ شادی سے پہلے دولہا اور دلہن ایک دوسرے کو پسند کریں۔ ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر سید سردار احمد نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے ارکان کی نامزدگی دیکھ بھال کر کرنی چاہئے اور ایسے لوگوں کو رکن بنانا چاہئے جو قانون، روایات، رسم و رواج اور ثقافت سے واقف ہوں۔ ایوان میں بلاول کو ملنے والے دھمکی آمیز خط پرتشویش کا اظہار کیا گیا اور ان کی سلامتی کیلئے دعا بھی درخواست بھی کی گئی۔ پیپلز پارٹی کے متعدد ارکان نے یہ مسئلہ اٹھایا۔ مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر عرفان اللہ خان مروت نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کو ملنے والے دھمکی آمیز خط کی مذمت کرتے ہیں، وہ قوم کا اثاثہ ہیں۔ انہیں ہر جگہ فول پروف سیکورٹی ملنی چاہیے، میرا پنجاب حکومت سے رابطہ ہے۔ پنجاب حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ انکے دورہ پنجاب کے دوران ہر ممکن اور انکی تسلی کے مطابق سکیورٹی فراہم کی جائیگی۔ سندھ اسمبلی نے ایک بل کی اتفاق رائے سے منظوری دیدی جس کے تحت ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے کی رقم میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ یہ بل پراونشل موٹر وہیکل (ترمیمی) بل 2014ء کہلائیگا، جس کے ذریعہ پراونشل موٹر وہیکلز آرڈیننس 1965ء میں متعدد ترامیم کی گئیں۔​
     
  2. ‏اپریل 02، 2014 #2
    جہان حیرت

    جہان حیرت مبتدی
    شمولیت:
    ‏اپریل 02، 2014
    پیغامات:
    4
    موصول شکریہ جات:
    7
    تمغے کے پوائنٹ:
    3

    یہ حال ہے اسمبلی کا جس سے علماء اور مذہبی جماعتیں اسلام کے نفاذ کی امید رکھتی ہیں​
    اس سادگی پر کون مر نہ جائے​
     
  3. ‏اپریل 02، 2014 #3
    جہان حیرت

    جہان حیرت مبتدی
    شمولیت:
    ‏اپریل 02، 2014
    پیغامات:
    4
    موصول شکریہ جات:
    7
    تمغے کے پوائنٹ:
    3

    کیا یہ تبدیل نہیں ؟
     
  4. ‏اپریل 02، 2014 #4
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    سید مراد علی شاہ نے بات کو گڈ مڈ کرنے کی کوشش کی ہے
    اسنے کہا کہ اسلام میں شادی کے لئے رضا مندی ضروری ہے اب دیکھا جائے تو لڑکی کی رضامندی کا ولی کو خیال رکھنے کی تلقین کی گئی ہے مگر یہ تو اس لڑکی کی اپنی شادی کی بات ہو رہی ہے مگر اس بات کو جس گفتگو کے پس منظر میں کیا گیا ہے وہ اس لڑکی پر سوکن لانے میں اس لڑکی کی رضامندی کی بات ہے تو لوگوں کو پہلی مثال دے کر دوسری بات منوانے کی کوشش کی گئی ہے جو تلبیسیت ہے
     
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  5. ‏اپریل 02، 2014 #5
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    میرے استاد محترم فرماتے ہیں کہ یہ لوگ سب سے زیادہ اصلاح کے محتاج ہیں۔ ان کی اصلاح ہو جائے اور کچھ نہ کچھ انہیں دین کا شعور مل جائے تو ہمارا بہت بڑا مسئلہ حل ہو جائے گا۔
    اللہ پاک ہم سب کو ہدایت دے۔
    آمین
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں