1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

التزام جماعت کا صحیح مفہوم

'سیاسی نظام' میں موضوعات آغاز کردہ از سید طہ عارف, ‏جون 01، 2016۔

  1. ‏جون 01، 2016 #1
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    671
    موصول شکریہ جات:
    125
    تمغے کے پوائنٹ:
    89

    مدنیت اور اجتماعیت انسان کی طبیعت اور فطرت کا ہی تقاضا نہیں ہے بلکہ شریعت کا حکم بھی یہی ہے کہ اجتماعی نظام قائم کیا جائے اور عادل و صالح امیر کی امارت کے تحت زندگی گزاری جائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امیر کی اطاعت سے نکلنے کو جاہلیت قرار دیا ہے اور التزام جماعت کا بھی حکم دیا ہے لیکن تحقیق طلب بات یہ ہے کہ التزام جماعت کا صحیح مفہوم کیا ہے؟ اور الجماعہ کی حقیقت کیا ہے؟ جس سے بالشت برابر علیحدگی بھی ایک مسلمان کو جاہلیت کے دائرے میں لے جاتی ہے
     
  2. ‏جون 01، 2016 #2
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    671
    موصول شکریہ جات:
    125
    تمغے کے پوائنٹ:
    89

    ایک نقطہ نظر تو یہ ہے:
    جب ملت اسلامیہ اپنے سرزمین میں خودمختار ہو اور اس کا کوئی حکمران ہو ان کے اس عمل سے جو ریاست یا نظم سیاسی وجود میں آئے گا وہ الجماعہ کہلائے گا اس میں یہ مفہوم بھی شامل ہے کہ پوری دنیا کے مسلمان ایک ہی نظم اجتماع سے وابستہ ہوں. حدیث کے اس مطلب کی راشنی میں جس کو ہم نے اوپر واضح کیا ہے یہ حکم ہمارے ملک میں حکومت پاکسران کے ساتھ وفادار رہنے اور اس کے قوانین کی پابندی کرنے سے پورا ہوجاتا ہے اور علی وجہ البصیرت یہ سمجھتے ہیں کہ حکومت پاکستان ہی اس سرزمین کے مسلمانوں کیلئے الجماعہ ہے (اشراق فروری 1994)

    Sent from my Lenovo A536 using Tapatalk
     
  3. ‏جون 01، 2016 #3
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    671
    موصول شکریہ جات:
    125
    تمغے کے پوائنٹ:
    89

    اس نقطہ نظر کے حاملین اس حکم شرعی کو تو جانتے اور مانتےہیں کہ:
    حکمران بلاشرط مطاع نہیں ہوسکتا چنانچہ یہ شرط لگادی کہ جب تک وہ قرآن و سنت پر عامل ہے اور شریعت اسلامیہ کو قانون بالا تسلیم کرتا ہے اس وقت تک اسکی اطاعت کی جائے. یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ کفر صرف یہ نہی کہ آدمی اسلام کے عقائد کا انکار کردے بلکہ حکمرانوں کے معاملے میں یہ بھی کفر ہے کہ وہ فصل نزاعات اور قانون سازی میں اللہ کی دی شریعت کی خلاف ورزی کریں اللہ کا فرمان ہے ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکافرون ھم الظالمون ھم الفاسقون.(اشراق فروری 1994)

    Sent from my Lenovo A536 using Tapatalk
     
  4. ‏جون 01، 2016 #4
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    671
    موصول شکریہ جات:
    125
    تمغے کے پوائنٹ:
    89

    لیکن شریعت کے اس حکم کو ماننے اور جاننے کے باوجود ان کا نقطہ نظریہ بھی ہے:
    شریعت کی رو سے تو کفر بواح کی مرتکب حکومت بھی اس وقت تک الجماعہ ہوتی ہے جب تک عامتہ الناس کا اعتماد اسے حاصل ہو اور مسلمان رعایا اس پر مجتمع ہو اس کی اطاعت سے علیحدگی اور تخلف ممنوع ہے

    Sent from my Lenovo A536 using Tapatalk
     
  5. ‏جون 01، 2016 #5
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    671
    موصول شکریہ جات:
    125
    تمغے کے پوائنٹ:
    89

    اس تضاد کی توجیہ یہ کی گئی ہے کہ التزام جماعت کے حکم کی علت اور حکمت نفاذ دین اور غلبہ دین نہیں ہے بلکہ اتفاق کا حصول اور افتراق و انتشار سے تحفظ التزام جماعت کی اصل علت ہے.(ایضا)

    Sent from my Lenovo A536 using Tapatalk
     
  6. ‏جون 01، 2016 #6
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    671
    موصول شکریہ جات:
    125
    تمغے کے پوائنٹ:
    89

    التزام جماعت کے مفہوم کے بارے میں ایک مکتب تو یہ ہے جس کا حاص یہ ہے کہ منتخب و معتمد حکومت الجماعہ ہے خواہ عادل یا فاسق ہو یا کھلے اور صریح کفر کی مرتلب ہو جیسی بھی ہو مگر جب تک اسے عامتہ الناس حاصل ہے اس وقت تک اس کی اطاعت کرنا اور اس کا وفادار رہنا شریعت کا متقاضی ہے.

    Sent from my Lenovo A536 using Tapatalk
     
  7. ‏جون 01، 2016 #7
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    671
    موصول شکریہ جات:
    125
    تمغے کے پوائنٹ:
    89

    دوسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ چونکہ حدیث صحیح میں جماعت المسلمین اور اس کے امام کے التزام کا حکم دیا گیا ہے اس لئے آج سے غالبا جو 30 سال پہلے کراچی میں جماعت المسلمین بنائی گئی اس میں شمولیت اختیار کرلی جائے اور دوسرے ناموں سے فرقے اور جماعتیں نہ بنائی جائیں. اس نقطہ نظر کا خلاصہ یہ ہے کہ نہ حکومت پاکستان الجماعہ ہے نہ دوارے ناموں سے بنائی گئی تنظیمیں اور جماعتیں بلکہ الجماعہ سے مراد جماعت المسلمین ہے التزام جماعت کا صحیح مفہوم یہی ہے کہ جماعت المسلمین اور اس کے امام کی اطاعت کی جائے.
     
  8. ‏جون 01، 2016 #8
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    671
    موصول شکریہ جات:
    125
    تمغے کے پوائنٹ:
    89

    ان دو نقطہ ہائے نظر کے درمیان ایک عام مسلمان سخت الجھن کا شکار ہوسکتا ہے.میری اس تحریر کا مقصد الجماعہ اور التزام جماعت کے صحیح مفہوم کی تنقیح و تشریح کرنا ہے
    تفھیم المسائل از مولانا گوہر رحمان
     
  9. ‏جون 01، 2016 #9
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    671
    موصول شکریہ جات:
    125
    تمغے کے پوائنٹ:
    89

    امت مسلمہ وہ عالمی اور آفاقی جماعت ہے جو توحید و رسالت کے عقیدے کی بنیاد پر وجود میں آئی ہے اس جماعت کی فکری قیادت رسالت محمدی یعنی قرآن و سنت کو تاقیامت حاصل ہے اور یہ پوری دنیا میں ایک ہی جماعت ہے اور جو بھی اس جماعت سے باہر ہے جو دائرہ اسلام سے بھی خارج ہے لہذا وہ جماعت جس کے التزام کے بغیر کوئی شخص مسلمان ہی نہی رہ سکتا اور اس میں شمولیت کء بغیر دائرہ اسلام میں داخل ہی ہو نہی سکتا وہ امت مسلمہ ہے لیکن سوال یہ ہے امت مسلمہ کی تشکیل اور اس کے وجود کا مقصد کیا ہے
     
  10. ‏جون 01، 2016 #10
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    671
    موصول شکریہ جات:
    125
    تمغے کے پوائنٹ:
    89

    ظاہر ہے کہ کوئی بھی جماعت مقصد اور ہدف کے تعین کے بغیر نہی بنائی جاتی. امت مسلمہ خود اللہ تعالی نے بنائی ہے اور اس کی فکری قیادت و امارت رسالت محمدی کو دی گئی. ظاہر ہے ایسی جماعت کا بےمقصد ہونا ناقابل تصور ہے .کسی جماعت کا مقصد وہی ہوسکتا ہے جو اس کے بنانے والے نے معین کیا ہو اور اس کے ارکان کو اس مقصد کے حصول کے لئے کام کرنے کا حکم دیا ہو
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں