1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام ابوحنیفہ کا فتوی ۔۔۔ جو الله تعالیٰ کو عرش پر نہ مانے وہ کافر ہے

'حنفی' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارسلان, ‏فروری 08، 2013۔

  1. ‏فروری 08، 2013 #1
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    [​IMG]
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏اگست 05، 2013 #2
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    کیا امام ابو حنیفہ رحم اللہ کے فتویٰ کے مطابق سارے حنفی جو اللہ کو عرش پر نہیں مانتے کافر ہیں
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  3. ‏اگست 05، 2013 #3
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    کیا ہم ان کو کافر کہہ سکتے ہیں
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  4. ‏اگست 05، 2013 #4
    ریحان احمد

    ریحان احمد مشہور رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2011
    پیغامات:
    267
    موصول شکریہ جات:
    709
    تمغے کے پوائنٹ:
    120

    میرا خیال ہے ہم ان کو گمراہ ہی کہیں گے۔ کیونکہ وہ ان آیات کا انکار نہیں کرتے بلکہ تاویل کرتے ہیں۔ واللہ اعلم
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  5. ‏اگست 05، 2013 #5
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    یہ ایک بہت نازک معاملہ ہے، اکثر حنفی حضرات اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ذات پر گفتگو کرتے ہوئے احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتے ہیں، اور مختلف تاویلات کرتے ہیں، حالانکہ جتنا ہمیں بتا دیا گیا اتنا مان لینا چاہیے، مثلا اللہ عرش پر مستوی ہے یہ قرآن نے ہمیں بتایا ہے، بس ہم نے بغیر بحث کئے اس کو مان لینا ہے، کیوں ہے، کیسے ہے، اس بحث میں ہمیں نہیں پڑنا۔
    یہاں فتوی نقل کرنے کا مقصد ان حنفی حضرات کو مطلع کرنا ہے جو اپنے امام صاحب کی بات کو اہمیت دیتے ہیں کہ آپ کے امام کے نزدیک بھی اللہ کو عرش پر نہ ماننے والا دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ چلو ہماری نہ سہی اپنے امام کی ہی بات کو حنفی حضرات مان لیں۔
     
    • پسند پسند x 4
    • شکریہ شکریہ x 3
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  6. ‏اگست 05، 2013 #6
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,987
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    جب قران کی آیت اپنے مفہوم کے لحاظ سے واضح ہو تو اس کی من معنی تاویل نہیں کی جا سکتی - قادیانی بھی قرآن کی آیت کی غلط تاویل کی وجہ سے کافر قرار پاے -الله قرآن میں اپنی ذات کے حوالے سے فرماتا ہے -


    الرَّحْمَٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَىٰ سوره طہٰ ٥
    رحمان جو عرش پر جلوہ گر ہے -


    اس آیت اور دوسری بہت سی آیات میں الله کا اپنی ذات کے حوالے سے واضح طور پر فرمان ہے کہ وہ عرش پر مستوی ہے - (یعنی ہر جگہ اپنی ذات کے ساتھ موجود نہیں) - لہذا اس عقیدے کا انکار کفر ہے -جیسا کہ امام ابو حنیفہ رہمللہ کا بھی یہی فتویٰ ہے -

    افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس کفریہ عقیدے کے حامل زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو اپنے حنفی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں -ان کے اکابرین دین جدید " تصوف" کے دلدادہ تھے اور اب بھی ہیں - اور تصوف کی بنیاد ہی اس کفریہ عقیدے پر ہے کہ الله اپنی ذات کے ساتھ ہر جگہ موجود ہے -
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  7. ‏اگست 06، 2013 #7
    ریحان احمد

    ریحان احمد مشہور رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2011
    پیغامات:
    267
    موصول شکریہ جات:
    709
    تمغے کے پوائنٹ:
    120

    جزاک اللہ خیر
     
  8. ‏اگست 06، 2013 #8
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436



    جزاكم اللہ خیرا۔ اور یہ عقیدہ تمام سلف صالحین کا تھا کہ اللہ عرش پر مستوی ہے جیسے اس کی شان کے لائق ہے لیکن اس کا علم ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہیں۔
    اس آیت کریمہ میں وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ کی تشریح میں قدیم مفسرقرآن ، امام محمد بن جریربن یزید الطبری رحمہ اللہ (متوفی 310 ھجری )فرماتے ہیں کہ :وھوشاھد علیکم ایھاالناس اینما کنتم یعلمکم و یعلم اعمالکم و متقلبکم و مثواکم وھو علی عرشہ فوق سمٰواتہ السبع اور ائے لوگو ! وہ (اللہ ) تم پر گواہ ہے ، تم جہاں بھی ہو وہ تمہیں جانتا ہے ،، وہ تمہارے اعمال ، پھرنا اور ٹھکانا جانتاہے اور وہ اپنے سات آسمانوں سے اوپر اپنے عرش پر ہے (تفسیر طبری۔ جلد 22۔ ص 387)
    [​IMG]
    راوی کہتا ہے کہ میں نے اوزاعی کو یہ کہتے سنا: ہمارا عقیدہ اور سب تابعین کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش کے اوپر ہے، ہم اللہ تعالیٰ کی جملہ صفات کو مانتے ہیں جو احادیث میں آئی ہیں۔ (الاسماٰء والصفات للبیھقی۔ ص 291)
    [​IMG]
    اِمام صدر الدین محمد بن علاء الدین (تاریخ وفات 792ہجری)رحمہ ُ اللہ، جو ابن أبی العز الحنفی کے نام سے مشہور ہیں ،"شرح عقیدہ طحاویہ"میں لکھتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے شہادت دی کہ رب آسمانوں میں ہے اور اس پر ایمان رکھنا چاہیے: فرعون نے (بھی)موسیٰ علیہ السلام کی اِس بات کو نہیں مانا تھا کہ اُن کا رب آسمانوں پر ہے اور اِس بات کا مذاق اور اِنکار کرتے ہوئے کہا اے ھامان میرے لیے بلند عمارت بناؤ تاکہ میں راستوں تک پہنچ سکوں۔ آسمان کے راستوں تک، (اور ان کے ذریعے اوپر جا کر) موسیٰ کے معبود کو جھانک سکوں اور بے شک میں اسے (موسی) کو جھوٹا سمجھتا ہوں۔ (سورہ غافر آیت 36،37)
    لہذا جو اللہ تعالیٰ کے (اپنی مخلوق سے الگ اور )بُلند ہو نے کا اِنکار کرتا ہے وہ فرعونی اور جہمی ہے اور جواِقرار کرتا ہے وہ موسوی اور محمدی ہے (شرح عقیدہ طحاویہ از ابن أبی العز الحنفی۔ صفحہ 287)
    [​IMG]
    راوی کہتا ہے کہ امام ضحاک نے یہ آیت پڑھی: (کسی جگہ) تین (شخصوں) کا (مجمع اور) کانوں میں صلاح ومشورہ نہیں ہوتا مگر وہ ان میں چوتھا ہوتا ہے (سورۃ المجادلہ 7) اور پھر انہوں نے فرمایا کہ وہ (اللہ) عرش پر ہے اور اس کا علم ہمارے ساتھ ہے راوی کہتا ہےامام مالک نے کہا: اللہ عرش پہ ہے اور اس کا علم پوری کائنات میں ہے کوئی بھی جگہ اس کے علم سے خالی نہیں۔ (مسائل الامام احمد از ابو داؤد۔ باب فی الجھمیہ۔ صفحہ 353)
    [​IMG]
    راوی کہتا ہے کہ شقیق نے عبداللہ بن مبارک سے کہا: ہم اپنے رب کو کیسے پہچانیں؟ (عبداللہ بن مبارک نے) کہا: اس طرح کہ وہ ساتوں آسمانوں سے اوپر اپنے عرش پر ہے اور وہ اپنی مخلوقات سے جداء ہے۔ (الرد علی الجھمیہ از عثمان بن سعید دارمی۔صفحہ 39،40)۔
    [​IMG]
     
    • زبردست زبردست x 5
    • پسند پسند x 2
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  9. ‏اگست 06، 2013 #9
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  10. ‏فروری 18، 2014 #10
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں