1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام سلیمان بن مہران الاعمش رحمہ اللہ کے حالات اور تدلیس

'ثقہ رواۃ' میں موضوعات آغاز کردہ از رضا میاں, ‏ستمبر 02، 2014۔

  1. ‏ستمبر 02، 2014 #1
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    السلام علیکم۔

    شیخ الاسلام امام سلیمان بن مہران الاعمش رحمہ اللہ

    (61 - 148 ھ)

    فہرست:
    امام اعمش رحمہ اللہ کا نام و نسب، پیدائش، اور صفات
    امام اعمش رحمہ اللہ کی توثیق وتعدیل
    امام اعمش رحمہ اللہ اور علوم قرآنی
    امام اعمش رحمہ اللہ کی عبادت
    امام اعمش رحمہ اللہ پر وضع حدیث کا الزام
    امام اعمش رحمہ اللہ اور تشیع
    کیا امام اعمش رحمہ اللہ غیر فقیہ تھے؟
    امام اعمش رحمہ اللہ کے شیوخ واساتذہ
    امام اعمش رحمہ اللہ کے تلامذہ
    مراسیل امام اعمش رحمہ اللہ
    امام اعمش رحمہ اللہ اور تدلیس
    امام اعمش رحمہ اللہ کے بعض اقوال وعقائد
    امام اعمش رحمہ اللہ کی وفات
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  2. ‏ستمبر 02، 2014 #2
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    امام اعمش رحمہ اللہ کا نام و نسب، پیدائش، اور صفات

    نام و نسب:
    آپ کا مکمل نام ہے: سليمان بن مهران الأسدى الكاهلى۔
    آپ بني كاهل کے آزاد کردہ غلام تھے اور اسی لئے آپ کو "الكاهلى" کہا جاتا ہے۔ "كاهل" سے مراد كاهل بن أسد بن خزيمة ہے۔ اور أسد بن خزيمة کی نسبت سے آپ کو الأسدى بھی کہا جاتا ہے۔
    ایک روایت یہ ہے کہ مہران ویلم کے کسی معرکہ میں گرفتار ہوئے،دوسرا بیان یہ ہے کہ اعمش کو کوفہ کے بنی کاہل کے ایک شخص نے خریدا تھا اور خریدکر آزاد کردیا،بہرحال اتنا مسلم ہے کہ اعمش ابتدا میں غلام تھے اوراس غلامی کی نسبت سے وہ کاہلی اوراسدی کہلاتے ہیں۔
    آپ کی کنیت أبو محمد ہے۔
    آپ اصلا ری نامی جگہ کے نواحی سے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ آپ اپنی والدہ کے گاؤں طبرستان کے علاقے میں پیدا ہوئے پھر بچپن میں ہی آپ کو کوفہ لے آیا گیا۔ اسی وجہ سے آپ کو الكوفي کی نسبت سے جانا جاتا ہے۔
    آپ کا لقب الأعمش ہے، اور اسی لقب سے آپ زیادہ مشہور ہیں۔ اعمش کا مطلب ہے کمزور بینائی والا اور یہ لقب آپ کو اس لئے دیا جاتا ہے کیونکہ آپ کی بینائی کمزور تھی۔
    پیدائش:
    امام اعمش سیدنا حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی شہادت والے دن پیدا ہوئے۔
    چنانچہ، امام ابن سعد، فضل بن دکین اور وکیع بن جراح سے نقل کرتے ہیں کہ:
    "وُلِدَ الْأَعْمَشُ يَوْمَ قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَذَلِكَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فِي الْمُحَرَّمِ سَنَةَ سِتِّينَ"
    "اعمش حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی شہادت والے دن یعنی محرم میں یوم عاشورہ کے دن سن 60 ہجری میں پیدا ہوئے"​
    (طبقات الکبری: 6/343)​
    نوٹ: یہاں پر 60 کی جگہ 61 آنا چاہیے تھا کیونکہ اسی سال سیدنا حسین کی وفات ہوئی۔ اور اس بات کی تصحیح دیگر محدثین نے کر دی ہے، چنانچہ ابو اسحاق الذہلی فرماتے ہیں:
    "ولد عمر بن عبد العزيز، وهشام بن عروة، والزهري وقتادة، والأعمش ليالي قتل الحسين ابن علي، وقتل سنة إحدى وستين"
    "عمر بن عبد العزیز، ہشام بن عروہ، زہری، قتادہ، اور اعمش حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت والے دن پیدا ہوئے اور آپ کی شہادت 61 ہجری کو ہوئی۔"​
    (تاریخ بغداد: 9/6)​
    اسی طرح امام عجلی فرماتے ہیں:
    "وذكروا أن أبا الأعمش مهران شهد مقتل الحسين، وأن الأعمش ولد يوم قتل الحسين، وذلك يوم عاشوراء سنة إحدى وستين"
    "علماء نے بیان کیا ہے کہ اعمش کے والد مہران حسین کے قتل کے شاہد تھے، اور اعمش حسین کے قتل والے دن پیدا ہوئے، اور یہ 61 ہجری کے عاشورہ کا دن تھا۔"​
    (تاریخ بغداد: 9/7)​
    اور امام ابن حبان فرماتے ہیں:
    "مولده السنة التي قتل فيها الحسين بن على بن أبى طالب سنة إحدى وستين"
    "آپ کا سال پیدائش 61 ہجری ہے جس میں حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی"۔​
    (مشاہیر علماء الامصار لابن حبان: 1/179)​
    صفات وفضل:
    امام اعمش مالی لحاظ سے نہایت ہی غریب اور فقیر انسان تھے۔ امام سفیان بن عیینہ فرماتے ہیں کہ میں نے اعمش کو چمڑی کا لباس بگڑی حالت میں پہنے ہوئے دیکھا اور ایک شلوار جس کے دھاگے ان کے پاؤں پر لٹک رہے تھے۔​
    (سیر اعلام النبلاء)​
    اس کے باوجود آپ علم کی دولت سے بھرپور سرشار تھے۔ آپ کو اپنے دور میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کا سب سے بڑا عالم کہا جاتا تھا۔
    آپ نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو دیکھا لیکن ان سے روایت نہیں لی۔
    اگرچہ اعمش کا آغاز غلامی سے ہوا،لیکن ان میں تحصیل علم کی فطری استعداد تھی، کوفہ میں ان کی نشوونما ہوئی،اس لیے آگے چل کر وہ کوفہ کی مسند علم وافتا کی زینت بنے،ان کے علمی اور عملی کمالات پر تمام ارباب سیروطبقات کا اتفاق ہے،ابن حجر اور حافظ ذہبی ان کو عابد مرتاض علامۃ الاسلام وشیخ الاسلام کے لقب سے یاد کرتے ہیں، (تذکرۃ الحفاظ:۱/۱۳۸ وتہذیب التہذیب :۴/۲۲۳) عیسیٰ بن یونس کہتے تھے کہ ہم نے اورہمارے قبل والے قرن کے لوگوں نے اعمش کا مثل نہیں دیکھا۔
    ان کو جملہ مذہبی علوم میں یکساں دستگاہ حاصل تھی،ابن عیینہ کا بیان ہے کہ اعمش کتاب اللہ کے بڑے قاری،احادیث کے بڑے حافظ اورعلم فرائض کےماہر تھے۔​
    (تذکرہ الحفاظ:۱/۱۳۸)​
    قرآن کے ساتھ ان کو خاص ذوق تھا اورعلوم قرآنی میں وہ "راس العلم" شمار کیے جاتےتھے (تہذیب التہذیب:۴/۲۲۳) ہشیم کا بیان ہے کہ میں نے کوفہ میں اعمش سے بڑا قرآن کا قاری نہیں دیکھا (تاریخ خطیب:۹/۶) قرآن کا مستقل درس دیتے تھے؛لیکن آخر عمر میں کبر سنی کی وجہ سے چھوڑدیا تھا،لیکن شعبان میں تھوڑا قرآن ضرور سناتے تھے،قرأت میں وہ عبداللہ بن مسعودؓ کےپیرو تھے،ان کی قرأت اتنی مستند تھی کہ لوگ اس کے مطابق اپنے قرآن درست کرتے تھے۔​
    (ابن سعد:۶/۲۳۸)​
     
    • پسند پسند x 5
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  3. ‏ستمبر 02، 2014 #3
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    امام اعمش رحمہ اللہ کی توثیق وتعدیل


    1- امام قاسم بن عبد الرحمن بن عبد اللہ بن مسعود رحمہ اللہ (المتوفی 120) امام اعمش کے استاد اور سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پوتے، فرماتے ہیں:
    "ليس بالكوفة أعلم بحديث ابن مسعود من سليمان الأعمش"
    "کوفہ میں سلیمان الاعمش سے زیادہ ابن مسعود کی حدیث کا کوئی عالم نہیں"
    (العلل ومعرفۃ الرجال روایۃ عبد اللہ: 6016، واسنادہ صحیح)​
    2- امام اسحاق بن راشد بیان کرتے ہیں:
    " كان الزهري إذا ذكر أهل العراق ضعف علمهم. قال قلت: إن بالكوفة مولى لبني أسد يروي أربعة آلاف حديث. قال: أربعة آلاف! قال قلت: نعم. إن شئت جئتك ببعض علمه. قال: فجيء به. فأتيته به. قال فجعل يقرأ وأعرف التغيير فيه وقال: والله إن هذا لعلم. ما كنت أرى أحدا يعلم هذا"
    "امام زہری جب بھی اہل عراق کا ذکر کرتے تو ان کے علم کو ضعیف بتلاتے تھے۔ تو میں نے ان سے کہا کہ کوفہ میں بنی اسد کا ایک غلام (اعمش) ہے جس کو چار ہزار حدیثیں یاد ہیں۔ زہری نے بڑے تعجب سے پوچھا' چار ہزار؟ میں نے کہا ہاں چار ہزار، اگر آپ فرمائیں تو میں ان کا کچھ حصہ لا کر پیش کروں؟ چنانچہ میں لے آیا۔ زہری اس کو پڑھتے جاتے تھے اور حیرت سے ان کا رنگ بدلتا جاتا تھا۔ مجموعہ ختم کرنے کے بعد فرمایا: خدا کی قسم علم اسے کہتے ہیں۔ مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ کسی کے پاس احادیث کا اتنا بڑا ذخیرہ بھی محفوظ ہو گا۔"
    (طبقات ابن سعد: 6/332، واسنادہ صحیح)​
    3- امام اعمش فرماتے ہیں:
    "كنت إذا اجتمعت أنا وأبو إسحاق جئنا بحديث عبد الله غضا"
    "جب میں اور ابو اسحاق جمع ہوتے تو ہم حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی احادیث کو محفوظ کیا کرتے تھے۔"
    (طبقات ابن سعد: 6/332، واسنادہ صحیح)​
    امام اعمش ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں:
    "سمعت من أبي صالح ألف حديث"
    "میں نے ابو صالح سے ایک ہزار احادیث سنی"
    (العلل و معرفۃ الرجال روایۃ عبد اللہ: 2910، 5588)​
    4- امام شعبہ بن الحجاج رحمہ اللہ (المتوفی 160) فرماتے ہیں:
    "سليمان أحب إلينا من عاصم"
    "سلیمان (الاعمش) ہمیں عاصم سے زیادہ محبوب ہیں۔"
    (العلل ومعرفۃ الرجال روایۃ عبد اللہ: 4136)​
    ایک دوسری جگہ امام شعبہ نے فرمایا:
    "ما شفاني أحد من الحديث ما شفاني الأعمش"
    "حدیث میں مجھ کو جو تشفی اعمش سے ہوئی وہ کسی سے نہیں ہوئی۔"
    (تاریخ بغداد: 9/11، واسنادہ صحیح)​
    5- امام ابو عوانہ (المتوفی 175 یا 176) فرماتے ہیں:
    "كانت للأعمش عندي بضاعة فكنت أقول له: ربحت لك كذا وكذا. قال وما حركت بضاعته بعد"
    "میرے پاس اعمش کا کچھ علمی ذخیرہ موجود تھا۔ میں کہتا کہ آپ نے بڑا سرمایہ جمع کیا ہے۔ آپ فرماتے کہ مجھے اس سرمائے کے علاوہ کسی اور سرمایہ کی ضرورت نہیں۔"
    (طبقات ابن سعد: 6/332، واسنادہ صحیح)​
    6- امام ہشیم بن بشیر رحمہ اللہ (المتوفی 183 ھ) فرماتے ہیں:
    "ما رأيت بالكوفة أحدا أقرأ لكتاب الله، ولا أجود حديثا من الأعمش"
    "میں نے کوفہ میں اعمش سے بڑا قرآن کا قاری نہیں دیکھا، اور نہ ان سے بڑا حدیث کا ماہر دیکھا ہے۔"
    (حلیہ الاولیاء: 5/50، واسنادہ صحیح)​
    7- امام عیسی بن یونس بن ابی اسحاق السبیعی رحمہ اللہ (المتوفی 187 ھ) فرماتے ہیں:
    "ما رأينا في زماننا مثل الأعمش، ولا الطبقة الذين كانوا قبلنا، ما رأينا الأغنياء والسلاطين في مجلس قط أحقر منهم في مجلس الأعمش وهو محتاج إلى درهم"
    "ہم نے اپنے زمانے اور ہمارے قبل والے زمانے میں اعمش کا مثل نہیں دیکھا۔ اعمش کے فقر واحتیاج کے باوجود ہم نے ان سے زیادہ امراء اور سلاطین کو کسی کی مجلس میں حقیر نہیں پایا۔"
    (حلیۃ الاولیاء: 5/47، وتاریخ بغداد: 9/9، واسنادہ صحیح)​
    8- امام ابو بکر بن عیاش رحمہ اللہ (المتوفی 194 ھ) فرماتے ہیں:
    "كنا نسمي الأعمش سيد المحدثين"
    "ہم اعمش کو سید المحدثین یعنی محدثین کا سردار کہتے تھے۔"
    (تاریخ بغداد: 9/12، واسنادہ صحیح)​
    9- امام یحیی بن سعید القطان رحمہ اللہ (المتوفی 198 ھ) نے آپ سے روایات لی ہیں اور آپ کی تعریف کی ہے (دیکھیں عنوان "امام اعمش رحمہ اللہ کی عبادت")۔
    امام یحیی القطان اپنے نزدیک صرف ثقہ لوگوں سے ہی روایت لیتے ہیں۔
    10- سہل بن حلیمہ فرماتے ہیں کہ امام سفیان بن عیینہ (المتوفی 198 ھ) نے فرمایا:
    "سبق الأعمش أصحابه بأربع خصال: كان أقرأهم للقرآن، وأحفظهم للحديث، وأعلمهم بالفرائض، ونسيت أنا واحدة"
    "اعمش نے اپنے اصحاب کو چار چیزوں میں پیچھے چھوڑ دیا ہے: پہلی وہ ان میں قرآن کی قراءت کا سب سے زیادہ علم رکھتے تھے، وہ ان میں حدیث کے سب سے بڑے حافظ تھے، اور فرائض کو ان میں سب سے زیادہ جانتے تھے راوی یعنی سہل کہتے ہیں کہ چوتھی چیز جو انہوں نے کہی تھی میں بھول گیا ہوں"
    (تاریخ ابن معین روایۃ الدوری: 1879 بحوالہ موسوعہ اقوال ابن معین: 2/262، واسنادہ صحیح)​
    11- امام وکیع بن الجراح رحمہ اللہ (المتوفی 196 یا 197 ھ) فرماتے ہیں:
    "الأعمش أحفظ لإسناد إبراهيم من منصور"
    "اعمش ابراہیم (نخعی) کی اسناد کے منصور (بن معتمر) سے زیادہ بڑے حافظ ہیں۔"
    (سنن الترمذی: تحت ح 70 واسنادہ صحیح)​
    12- امام یحیی بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    "سليمان بن مهران الأعمش، ثقة"
    "سلیمان بن مہران الاعمش ثقہ ہیں۔"
    (الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم: 4/146 بحوالہ موسوعہ اقوال ابن معین: 2/266، واسنادہ صحیح)​
    اور ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں:
    "كان الأعمش جليلا جدا"
    "اعمش نہایت جلیل القدر شخصیت تھے۔"
    (سؤالات الآجری: 1/203)​
    ابن طہمان روایت کرتے ہیں کہ امام یحیی بن معین نے فرمایا:
    "عاصم بن بهدلة ثقة لا بأس به، وهو من نظراء الأعمش، والأعمش أثبت منه"
    "عاصم بن بہدلہ (یعنی ابن ابن النجود) ثقہ ہیں ان میں کوئی حرج نہیں ہے اور وہ اعمش کے ہم عصر ساتھیوں میں سے ہیں، البتہ اعمش ان سے بھی زیادہ ثبت ہیں۔"
    (سؤالات ابن طہمان: رقم 157)​
    ایک دوسری جگہ امام یحیی بن معین فرماتے ہیں:
    "(أصح الأسانيد) الأعمش عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله"
    "اسانید میں سب سے صحیح اسناد اعمش عن ابراہیم عن علقمہ عن عبد اللہ (بن مسعود) ہے"
    (معرفہ علوم الحدیث للحاکم: 1/99)​
    13- امام علی بن المدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    "نظرت فإذا الإسناد يدور على ستة... ابن شهاب الزهري... عمرو بن دينار... قتادة بن دعامة... يحيي بن أبي كثير... أبو إسحاق... وسليمان بن مهران."
    "میں نے تحقیق کی تو دیکھا کہ اسناد کا دارومدار چھ لوگوں پر ہے (یعنی زیادہ تر اسانید کی بنیاد ان پر ہے، اور وہ ہیں)۔۔۔ ابن شہاب الزہری، عمرو بن دینار، قتادہ بن دعامہ، یحیی بن ابی کثیر، ابو اسحاق، اور سلیمان بن مہران الاعمش"
    (علل لابن المدینی: ص 36-37)​
    مزید براں امام ابن مدینی فرماتے ہیں:
    "كان أبو إسحاق وسليمان الأعمش أعلم أهل الكوفة بمذهب عبد الله وطريقه والحكم بعد هذين وكان سفيان بن سعيد أعلم الناس بهذين وبحديثهم وبطريقهم وكان يحيى بن سعيد القطان يحب سفيان ويحب هذا الطريق ولا يقدم عليه أحد"
    "ابو اسحاق اور سلیمان الاعمش اہل کوفہ میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مذہب اور ان کے طریقے کو سب سے زیادہ جاننے والوں میں سے تھے۔ اور حکم کا نمبر ان دو کے بعد آتا ہے۔ اور امام سفیان بن سعید (الثوری) ان دو (یعنی ابو اسحاق اور اعمش) اور ان کی حدیث اور طریقے کو لوگوں میں سب سے زیادہ جاننے والے تھے۔ امام یحیی بن سعید القطان سفیان کو (اس سند کے لئے) پسند کرتے تھے وہ اس سلسلۃ اسناد کو بہت پسند کرتے تھے اور اسے کسی دوسری اساند پر فوقیت نہ دیتے تھے۔"
    (علل لابن المدینی: ص 46)​
    14- امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ (المتوفی 241 ھ) سے پوچھا گیا کہ ابو صالح سے روایت کرنے میں سہیل اور اعمش میں سے کون آپ کو زیادہ پسند ہے؟ تو آپ نے فرمایا: "الأعمش أحب إلينا" کہ اعمش ہمیں زیادہ پسند ہے۔
    (العلل ومعرفۃ الرجال روایۃ عبد اللہ: 3288)​
    امام احمد سے پوچھا گیا، "ابو حصین اور اعمش میں سے کون بڑا ہے؟" تو آپ نے فرمایا:
    "أبو حصين أكبر من الأعمش، والأعمش أحب إلي، الأعمش أعلم بالعلم والقرآن من أبي حصين، وأبو حصين من بني أسد، وكان شيخاً صالحاً"
    "ابو حصین عمر میں اعمش سے بڑے ہیں، لیکن اعمش مجھے زیادہ محبوب ہیں (کیونکہ) اعمش علم وقرآن کے ابو حصین سے زیادہ عالم تھے۔ اور ابو حصین بھی بنی اسد سے تھے اور وہ صالح شیخ تھے۔"
    (سؤالات ابن ہانی: 2166)​
    ایک دوسری جگہ امام احمد سے پوچھا گیا، عاصم بن ابی النجود اور اعمش میں سے کون آپ کو زیادہ محبوب ہے؟ آپ نے فرمایا:
    "الأعمش أحب إلي، وهو صحيح الحديث، وهو محدث"
    "اعمش مجھے زیادہ محبوب ہیں، ان کی حدیث صحیح ہے اور وہ محدث ہیں۔"
    (سؤالات ابن ہانی: 2179)​
    عبد اللہ بن احمد روایت کرتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل نے فرمایا:
    "منصور، والأعمش، أثبت من حماد وعاصم"
    "منصور اور اعمش حماد اور عاصم سے زیادہ ثبت ہیں"
    (العلل ومعرفۃ الرجال: 4512)​
    ابن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد سے اعمش کے متعلق پوچھا: "هو حجة في الحديث؟" کہ کیا وہ حدیث میں حجت تھے؟ تو آپ نے فرمایا: "نعم" ہاں۔
    (سؤالات ابن ہانی: 2347)​
    15- امام محمد بن عبد اللہ بن عمار الموصلی رحمہ اللہ (المتوفی 242 ھ) فرماتے ہیں:
    "ليس فِي المحدثين أثبت من الأعمش، ومنصور بْن المعتمر وهو ثبت أيضا، وهو أفضل من الأعمش، إلا أن الأعمش اعرف بالمسند وأكثر مسندا منه"
    "محدثین میں اعمش سے زیادہ اثبت کوئی نہیں اور منصور بن المعتمر بھی ثبت ہیں بلکہ اعمش سے زیادہ افضل ہیں لیکن اعمش ان سے زیادہ مسند کو جاننے والے اور زیادہ روایتیں بیان کرنے والے ہیں۔"
    (تاریخ بغداد: 9/12، واسنادہ صحیح)​
    16- امام ابو حفص عمرو بن علی الفلاس رحمہ اللہ (المتوفی 249 ھ) فرماتے ہیں:
    "كان الأعمش يسمى المصحف من صدقه"
    "اعمش اپنی صداقت کے اعتبار سے مصحف کہے جاتے تھے۔"
    (تاریخ بغداد: 9/12، واسنادہ صحیح)​
    17- امام ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل البخاری رحمہ اللہ (المتوفی 256 ھ) نے اپنی مشہور کتاب "صحیح بخاری" میں بے شمار مقامات پر امام اعمش سے روایت لی ہے جن کی تعداد تقریبا 376 ہے۔
    اس سے معلوم ہوا کہ امام بخاری کے نزدیک امام اعمش زبردست ثقہ امام تھے۔
    18- امام مسلم بن الحجاج النیسابوری رحمہ اللہ (المتوفی 261 ھ) نے اپنی مشہور کتاب "صحیح مسلم" میں بے شمار روایات لی ہیں جن کی تعداد تقریبا 278 ہے۔
    معلوم ہوا کہ امام مسلم رحمہ اللہ کے نزدیک امام اعمش ثقہ امام تھے۔
    19- امام ابو الحسن العجلی رحمہ اللہ (المتوفی 261) نے انہیں اپنی کتاب الثقات میں ذکر کیا اور فرمایا:
    "ثقة، كوفي، وكان مُحدث أهل الكوفة في زمانه"
    "آپ ثقہ کوفی تھے، اور آپ اپنے زمانے میں اہل کوفہ کے محدث تھے۔"
    (الثقات للعجلی: 1/204)​
    20- امام ابو زرعہ الرازی رحمہ اللہ (المتوفی 264 ھ) فرماتے ہیں:
    "سليمان الاعمش امام"
    "سلیمان الاعمش امام تھے۔"
    (الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم: 4/147)​
    21- امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ عنہ (المتوفی 277 ھ) فرماتے ہیں:
    "الأعمش ثقة يحتج بحديثه"
    "اعمش ثقہ تھے اور ان کی حدیث سے حجت پکڑی جاتی ہے۔"
    (الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم: 4/147)​
    22- امام یعقوب بن سفیان الفسوی رحمہ اللہ (المتوفی 277 ھ) فرماتے ہیں:
    "وحديث سفيان وأبي إسحاق والأعمش ما لم يعلم أنه مدلس يقوم مقام الحجة"
    "سفیان، ابو اسحاق، اور اعمش کی حدیث سے حجت پکڑی جائے گی الا یہ کہ کسی حدیث میں معلوم ہو جائے کہ وہ مدلس ہے۔"
    (المعرفہ والتاریخ: 2/637)​
    23- امام ابو عیسی الترمذی رحمہ اللہ (لمتوفی 279 ھ) نے اپنی مشہور کتاب سنن الترمذی میں بے شمار مقامات پر امام اعمش کی روایات کی تصحیح کی ہے اور ایک جگہ پر آپ نے امام اعمش کی روایت کو منصور بن معتمر کی روایت پر فوقیت دیتے ہوئے فرمایا:
    "ورواية الأعمش أصح"
    "اعمش کی روایت منصور سے زیادہ صحیح ہے"
    (سنن الترمذی: تحت ح 70، 756)​
    24- امام ابو عبد الرحمن النسائی رحمہ اللہ (المتوفی 303 ھ) فرماتے ہیں:
    "ثقة ثبت"
    "اعمش ثقہ ثبت ہیں"
    (تہذیب الکمال للمزی: 12/89)​
    25- امام ابو بکر ابن خزیمہ رحمہ اللہ (المتوفی 311 ھ) نے اپنی صحیح اور کتاب التوحید میں بے شمار روایتیں امام اعمش سے روایت کی ہیں۔
    اس سے معلوم ہوا کہ امام اعمش ابن خزیمہ کے نزدیک ثقہ صدوق تھے۔
    26- امام ابو حاتم ابن حبان البستی رحمہ اللہ (المتوفی 354 ھ) نے امام اعمش کو اپنی کتاب الثقات میں ذکر کیا ہے (ت 3014)، اور ان سے کئی روایتیں اپنی صحیح میں روایت کی ہیں۔
    27- امام ابو الحسن الدارقطنی رحمہ اللہ (المتوفی 385 ھ) نے امام اعمش کی ایک روایت کے تحت فرمایا:
    "صحيح , إسناده حسن ورواته كلهم ثقات"
    "یہ حدیث صحیح ہے اس کی اسناد حسن ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں"
    (سنن الدارقطنی: ح 182 نیز دیکھیں ح 442، 443)​
    ایک دوسری جگہ آپ نے اعمش کے متعلق فرمایا:
    "هو أحفظ لحديث أبي وائل من واصل بن حيان"
    "وہ ابو وائل کی حدیث کے واصل بن حیان سے بڑے حافظ ہیں"
    (الالزامات والتتبع: 1/158)​
    اسی طرح فرماتے ہیں:
    "الأعمش أثبت من أشعث وأحفظ منه"
    "اعمش اشعث سے زیادہ ثبت اور بڑے حافظ ہیں"
    (سنن الدارقطنی: ح 3964)​
    28- امام ابو عبد اللہ الحاکم رحمہ اللہ (المتوفی 405) نے المستدرک میں بے شمار مقامات پر امام اعمش کی حدیث سے حجت پکڑی ہے اور ان کی اسانید کو صحیح کہا ہے۔
    اور ایک جگہ پر فرماتے ہیں:
    "والأعمش أعرف بحديث الحكم من غيره"
    "اعمش حکم کی حدیث کو دوسروں کی نسبت زیادہ جانتے ہیں"
    (مستدرک: 1/501)​
    29- امام شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ (المتوفی 748 ھ) امام اعمش کا تعارف کرواتے ہوئے فرماتے ہیں:
    "الإمام شيخ الإسلام شيخ المقرئين والمحدثين أبو محمد الأسدي الكاهلي مولاهم الكوفي الحافظ"
    "امام، شیخ الاسلام، قارئیوں اور محدثین کے شیخ، ابو محمد الاسدی الکاہلی ان کے آزاد کردہ غلام، الکوفی، الحافظ"
    (سیر اعلام النبلاء: 6/227)​
    ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں:
    " الحافظ الثقة شيخ الإسلام أبو محمد سليمان بن مهران الأسدي الكاهلي... وكان رأسا في العلم النافع والعلم الصالح"
    " حافظ، ثقہ، شیخ الاسلام، ابو محمد سلیمان بن مہران الاسدی الکاہلی۔۔۔ آپ علم نافع اور علم صالح میں سردار تھے۔"
    (تذکرۃ الحفاظ: 1/116)​
    میزن میں فرماتے ہیں:
    "أحد الائمة الثقات، عداده في صغار التابعين، ما نقموا عليه إلا التدليس"
    "آپ آئمہ ثقات میں سے تھے۔ آپ کا شمار صغار تابعین میں ہوتا ہے۔ آپ پر کسی قسم کی کوئی جرح نہیں ہے سوائے تدلیس کے"
    (میزان الاعتدال: 2/224)​
    30- حافظ ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ (المتوفی 852 ھ) فرماتے ہیں:
    "ثقة حافظ عارف بالقراءات ، ورع ، لكنه يدلس"
    "آپ ثقہ حافظ تھے اور علم قراءات سے خوب واقف اور پرہیزگار تھے۔ لیکن آپ تدلیس بھی کرتے تھے۔"
    (تقریب التہذیب: 2615)​
    اور ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں:
    "وهذا الإسناد مما ذكر أنه أصح الأسانيد وهي ترجمة الأعمش عن إبراهيم النخعي عن علقمة عن بن مسعود"
    "یہ سند جیسا کہ ذکر کیا گیا ہے تمام اسانید میں سے سب سے صحیح اسناد ہے یعنی اعمش عن ابراہیم النخعی عن علقمہ عن ابن مسعود"
    (فتح الباری: 9/107)​
    ایک دوسری جگہ فرمایا:
    "أبو معاوية هو محمد بن خازم بمعجمتين عن الأعمش سليمان بن مهران عن أبي صالح ذكوان تكرر كثيرا وهو من أصح الأسانيد"
    "ابو معاویہ کا نام محمد بن خازم ہے دو نقطوں کے ساتھ، وہ اعمش سلیمان بن مہران سے روایت کرتے ہیں وہ ابو صالح ذکوان سے روایت کرتے ہیں، یہ سند کثرت سے پائی جاتی ہے، اور یہ تمام اسانید میں سب سے صحیح اسناد ہے۔"
    (فتح الباری: 1/260)​
    نوٹ: دنیا کی کوئی ایسی صحیح، سنن، مسند، مستدرک، مستخرج، موطا، مصنف وغیرہ نہیں جس میں امام اعمش کی حدیث نہ ہو، کیونکہ امام اعمش کا شمار مجموعہ حدیث کے سب سے اہم اور مرکزی راویوں میں ہوتا ہے جیسا امام ابن المدینی نے صراحت کی ہے۔ اور آپ تمام محدثین و علماء کے نزدیک متفقہ طور پر ثقہ ہیں اور آپ کی احادیث سے حجت پکڑی جاتی ہے۔
     
    • پسند پسند x 3
    • زبردست زبردست x 3
    • لسٹ
  4. ‏ستمبر 02، 2014 #4
    Nasrullah khalid

    Nasrullah khalid رکن
    جگہ:
    multan
    شمولیت:
    ‏اگست 23، 2012
    پیغامات:
    183
    موصول شکریہ جات:
    139
    تمغے کے پوائنٹ:
    70

    بارک اللہ فیک بہت خوب کیا اسی طرح دیگر رواۃ کے بارے میں بھی لکھیں گے یا بس اعمش رحمہ اللہ کےلئے ہی خاص لکھا گیا ہے۔۔؟
     
  5. ‏ستمبر 02، 2014 #5
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    یہ مضمون ابھی جاری ہے۔۔۔
     
  6. ‏ستمبر 03، 2014 #6
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    امام اعمش رحمہ اللہ اور علوم قرآنی


    قرآن کے ساتھ امام اعمش کو خاص ذوق تھا اورعلوم قرآنی میں وہ راس العلم شمار کیے جاتےتھے۔ آپ سیدنا عبد اللہ بن مسعود کی قراءت کی مہارت اور روایت کی وجہ سے مشہور ہیں۔

    1- امام اعمش خود فرماتے ہیں:
    "لولا القرآن لكنت بقالا"
    "اگر قرآن نہ ہوتا تو میں ایک پنساری ہوتا۔"
    (المعرفۃ والتاریخ لیعقوب بن سفیان: 2/636)​
    2- امام ابو اسحاق السبیعی رحمہ اللہ (المتوفی 129 ھ) فرماتے ہیں:
    "ما بالكوفة منذ كذا وكذا سنة أقرأ من رجلين في بني أسد عاصم والأعمش، أحدهما لقراءة عبد الله، والآخر لقراءة زيد"
    "اتنے سال سے کوفہ میں بنی اسد کے دو لوگوں سے بڑا قاری کوئی نہیں آیا اور وہ دو عاصم اور اعمش ہیں۔ ایک عبد اللہ (بن مسعود) سے اپنی قراءت (کے لئے مشہور ہے) اور دوسرا (یعنی عاصم) زید سے قراءت کے لئے۔"
    (تاریخ بغداد: 9/8)​
    3- امام ابن سعد (المتوفی 230) فرماتے ہیں:
    "كان الأعمش صاحب قرآن وفرائض وعلم بالحديث. وقرأ عليه طلحة بن مصرف القرآن. وكان يقرئ الناس ثم ترك ذاك في آخر عمره. وكان يقرأ القرآن في كل شعبان على الناس في كل يوم شيئا معلوما حين كبر وضعف. ويحضرون مصاحفهم فيعارضونها ويصلحونها على قراءته. وكان أبو حيان التيمي يحضر مصحفا له كان أصح تلك المصاحف فيصلحون على ما فيه أيضا. وكان الأعمش يقرأ قراءة عبد الله بن مسعود. وكان الأعمش قرأ على يحيى بن وثاب. وقرأ يحيى بن وثاب على عبيد بن نضيلة الخزاعي. وقرأ عبيد بن نضيلة على علقمة. وقرأ علقمة على عبد الله."
    "اعمش قرآن، علم فرائض، اور علم حدیث کے بہت بڑے عالم تھے۔ طلحہ بن مصرف نے آپ پر قرآن کی قراءت کی ہے۔ آپ لوگوں کو قرآن کا مستقل درس دیتے تھے لیکن آخر عمر میں بڑھاپے کی وجہ سے چھوڑ دیا۔ پھر بھی آپ ہر شعبان میں ہر روز لوگوں کو قرآن میں سے کچھ نہ کچھ ضرور سناتے ۔ لوگ ان کے پاس اپنے اپنے قرآن لاتے، ان کے سامنے پیش کرتے اور ان کی تصحیح کراتے اور علم قراءت سیکھتے۔
    ابو حیان التیمی کے پاس ان مصاحف میں سے سب سے اصح مصحف تھا، آپ نے اسے ان کے سامنے پیش کیا تو آپ نے اس (میں جو جھوٹی سی بھی غلطی تھی اس) کی بھی تصحیح کر دی۔
    قراءت میں وہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پیرو تھے۔
    امام اعمش نے علم قراءت یحیی بن وثاب سے لیا، اور یحیی بن وثاب نے عبید بن نضیلہ الخزاعی سے لیا، اور عبید بن نضیلہ نے علمقہ سے لیا، اور علقمہ نے قراءت کا علم حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے لیا۔"
    (طبقات الکبری: 6/331)​
    4- امام ابو الحسن العجلی رحمہ اللہ (المتوفی 261) فرماتے ہیں:
    "كان الأعمش كثير الحديث، وكان عالمًا بالقرآن رأسًا فيه، وكان قرأ على يحيى بن وثاب، وكان فصيحًا، لا يلحن حرفًا، وكا عالمًا بالفرائض... ولم يكن في زمانه من طبقته أكثر حديثًا منه"
    "اعمش کثیر الحدیث تھے۔ اور آپ قرآن کے سب سے بڑا عالم تھے۔ آپ نے یحیی بن وثاب پر قراءت کی اور آپ نہایت فصیح تھے کہ ایک حرف کی بھی غلطی نہ کرتے تھے۔ آپ فرائض کے بھی عالم تھے۔۔۔ اور آپ کے زمانے میں آپ کے طبقہ کے لوگوں میں سے کسی نے آپ سے زیادہ احادیث روایت نہیں کیں۔"
    (الثقات للعجلی: 1/205)​
     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  7. ‏ستمبر 03، 2014 #7
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    امام اعمش رحمہ اللہ کی عبادت


    1- ابراہیم بن محمد بن عرعرہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے امام یحیی بن سعید القطان رحمہ اللہ (المتوفی 198 ھ) کو سنا، آپ جب بھی اعمش کا ذکر کرتے تو کہتے:
    "كان من النساك، وكان محافظا على الصلاة في الجماعة، وعلى الصف الأول، قال يحيى: وهو علامة الإسلام"
    "اعمش عباد وزاہدوں میں سے تھے۔ آپ ہمیشہ جماعت کے ساتھ صف اول میں نماز کا اہتمام کرتے تھے۔ آپ علامۃ الاسلام تھے۔"
    (حلیۃ الاولیاء: 5/50، وتاریخ بغداد: 9/9، واسنادہ صحیح)​
    2- امام وکیع بن الجراح رحمہ اللہ (المتوفی 196 یا 197 ھ) فرماتے ہیں:
    "كان الأعمش قريبا من سبعين سنة لم تفته التكبيرة الأولى"
    "اعمش سے ستر سال تک تکبیر اولی تک قضاء نہیں ہوئی۔"
    (حلیۃ الاولیاء: 5/49، واسنادہ صحیح)​
    3- عبد اللہ بن داؤد الخریبی رحمہ اللہ (المتوفی 213 ھ) فرماتے ہیں:
    "مات الأعمش يوم مات وما خلف أحدا من الناس أعبد منه، قال: وكان صاحب سنة"
    "اعمش نے اپنے بعد کسی کو اپنے سے بڑا عبادت گزار نہیں چھوڑا۔ اور وہ صاحب سنت تھے۔"
    (تاریخ بغداد: 9/9، واسنادہ صحیح)​
    4- امام عبد الرزاق بن ہمام الصنعانی رحمہ اللہ (المتوفی 211 ھ) فرماتے ہیں کہ ہمارے بعض اصحاب نے ہمیں مجھے خبر دی ہے کہ ایک دفعہ امام اعمش رات کو نیند سے اٹھ کر قضائے حاجت کے لئے گئے تو آپ کو پانی میسر نہ ہوا تو آپ نے اپنے ہاتھ دیوار پر مارے اور تیمم کیا، اور جا کر سو گئے۔ آپ سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:
    "أخاف أن أموت على غير وضوء"
    "مجھے خوف ہے کہ کہیں بغیر وضوء کی حالت میں مجھے موت نہ آ جائے۔"
    (حلیۃ الاولیاء: 5/49، واسنادہ صحیح الی عبد الرزاق)​
    5- امام ابو نعیم الاصبہانی رحمہ اللہ (المتوفی 430 ھ) فرماتے ہیں:
    "سليمان الأعمش ومنهم الإمام المقرئ، الراوي المفتي، كان كثير العمل، قصير الأمل، من ربه راهبا ناسكا، ومع عباده لاعبا ضاحكا"
    "سلیمان الاعمش بہت بڑے امام، قاری، راوی، اور مفتی تھے۔ آپ بہت زیادہ عبادات کرتے اور بہت کم خواہشات کرتے، آپ اپنے رب سے راہب اور زاہد بن کر رہتے اور اپنی عبادات کے باوجود آپ ہنسی مزاق بھی کیا کرتے تھے۔"
    (حلیہ الاولیاء: 5/46)​
     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  8. ‏ستمبر 03، 2014 #8
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    امام اعمش رحمہ اللہ پر وضع حدیث کا الزام


    بعض اہل بدعت ایک مکذوبہ روایت کی بنا پر امام اعمش پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ آپ احادیث گھڑا کرتے تھے اور اس بات کا اعتراف انہوں نے خود اپنی وفات کے وقت کیا ہے۔

    چنانچہ حافظ جوزجانی اپنی کتاب احوال الرجال میں نقل کرتے ہیں کہ:
    "حدثني أحمد بن فضالة وإبراهيم بن خالد عن مسلم بن إبراهيم عن حماد بن زيد قال قال الأعمش حين حضرته الوفاة أستغفر الله وأتوب إليه من أحاديث وضعناها في عثمان"
    "حماد بن زید نقل کرتے ہیں کہ جب اعمش کی وفات کا وقت آیا تو انہوں نے کہا: میں اللہ سے استغفار کرتا ہوں اور جو احادیث ہم نے عثمان رضی اللہ عنہ پر وضع کی تھیں ان سے میں توبہ کرتا ہوں۔"
    (احوال الرجال للجوزجانی: 1/192)​
    دکتور عبد العلیم البستوی کتاب احوال الرجال کے محقق اس خبر کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ:
    "
    رحم الله الإمام الجوزجاني لم يكن يليق به أن يذكر مثل هذه الرواية في كتابه ، فالأعمش ثقة حجة لم يؤخذ عليه سوى التدليس ، ومثل هذه الرواية الواهية لا تقدح فيه بعد أن اتفق الأئمة على توثيقه ، والجوزجاني نفسه بدأ كتابه هذا برواية رواها من طريق الأعمش وقد سبق أن شهد له بصدق اللسان وعده في رؤوس محدثي أهل الكوفة .
    وهذه الرواية وإن كان رجالها ثقات لكنها لا تثبت عن الأعمش لأن حماد بن زيد بصري والأعمش كوفي ، ولم يذكر حماد أنه حضر وفاة الأعمش إذن فلا بد من أنه سمعها من شخص آخر لم يصرح به هنا فالرواية منقطعة غير ثابتة .
    وعلى فرض صحتها عن الأعمش يكون معنى ( وضعناها ) أي جمعناها وألفناها ، هذا ما جاء في نسختنا ، ولا نعرف للكتاب نسخة أخرى حتى نتمكن من المقارنة والتأكد ، والذي يغلب على ظني أن صحة الرواية هي ( وضعنا بها من عثمان ) يقال : وضع منه فلان أي حط من درجته ( لسان العرب 8 : 397 ) ووضع عنه : حط من قدره ، ( تربيب القاموس 4 : 623 ) ، وكأن الأعمش ندم على بعض رواياته التي رواها عن غيره وفيها نيل من عثمان رضي الله عنه ، ويؤيد ذلك أني لم أجد أحدا من أئمة هذا الشأن من مترجمي الأعمش ذكر هذه الرواية عن الجوزجاني لا إقرارا ولا إنكارا رغم اطلاعهم على الكتاب وكثرة اقتباسهم منه ، وسكوتهم عن مثل هذا مستبعد جدا لأنهم ردوا على الجوزجاني وعلى غيره ما هو أقل من هذا بكثير في حق من هو أقل من الأعمش بكثير . انتهي النقل منه

    "
    "اللہ امام جوزجانی پر رحم کرے یہ ان کے شایان شان نہیں کہ وہ اس قسم کی روایت اپنی کتاب میں نقل کریں۔ اعمش ثقہ اور حجت تھے ان پر کسی نے تدلیس کے علاوہ کسی قسم کا کلام نہیں کیا ہے۔ اور ائمہ کا امام اعمش کی توثیق میں متفق ہونے کے بعد اس قسم کی واہیات روایات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بلکہ امام جوزجانی نے خود بھی اپنی اس کتاب کا آغاز ایک ایسی روایت سے کیا ہے جسے انہوں نے امام اعمش کے طریق سے نقل کیا ہے اور اسی کتاب میں پیچھے یہ بھی گزر چکا ہے کہ جوزجانی نے خود بھی امام اعمش کے صدق اللسان یعنی سچی زبان والا ہونے کی شہادت دی ہے اور آپ نے انہیں کوفہ کہ کبار محدثین میں شمار کیا ہے۔

    جہاں تک اس روایت کی سند کا تعلق ہے تو اگرچہ اس کے تمام رواۃ ثقہ ہیں لیکن یہ امام اعمش سے ثابت نہیں ہے کیونکہ حماد بن زید بصری تھے جبکہ امام اعمش کوفی تھے اور حماد نے یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ انہوں نے امام اعمش کو ان کی وفات کے وقت پایا تھا یا نہیں لہٰذا یہ کہنا بعید نہیں ہے کہ انہوں نے یہ بات کسی دوسرے شخص سے سنی ہے جس کا انہوں نے یہاں ذکر نہیں کیا ہے لہٰذا یہ روایت منقطع اور غیر ثابت ہے۔

    اور اگر اس کی صحت کو قبول بھی کر لیا جائے تو بھی اس روایت میں "وضعناها - ہم نے وضع کی ہیں" کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے جمع کی ہیں اور تالیف کی ہیں۔ یہی لفظ (یعنی وضعناها) ہمارے نسخے میں ہے اور ہمیں اس کتاب کے کسی اور نسخے کے بارے میں علم نہیں ہے کہ اس سے مقارنہ کیا جا سکے۔ ہمارا غالب ظن یہی ہے کہ اس روایت کی صحت اس طرح ہے "وضعنا بها من عثمان" جس طرح کہا جاتا ہے کہ فلاں نے اس سے وضع کیا یعنی اس کے درجے کو گھٹایا (لسان العرب: 8/397) اور وضع عنه یعنی: حیثیت یا قدر سے گرانا (ترتیب القاموس: 4/623)۔ گویا امام اعمش اپنی بعض روایات جو انہوں نے دوسروں سے روایت کیں جن میں عثمان رضی اللہ عنہ کو بے وقدر کیا گیا تھا ان پر نادم تھے (کہ انہوں نے یہ روایتیں ان سے کیوں نقل کیں)۔

    اس بات کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ مجھے اس فن کے کسی ایک بھی امام کا قول نہیں ملا جنہوں نے امام اعمش کا ترجمہ لکھا ہو جس میں انہوں نے جوزجانی کی یہ روایت نقل کی ہو نہ ہی اس کے اقرار میں اور نہ ہی اس کے انکار میں کوئی ایک بھی قول موجود ہے حالانکہ جوزجانی کی یہ کتاب تمام محدثین کے علم میں رہی ہے اور انہوں نے اس کتاب سے کثرت سے اقتباسات بھی نقل کیے ہیں اور ان سب کا اس روایت پر سکوت کرنا بہت بعید ہے کیونکہ انہوں نے جوزجانی وغیرہ پر اس سے کم اور ہلکی باتوں پر اور اعمش سے بہت کم درجے کے راویوں کے حق میں بھی کافی مقامات پر رد لکھے ہیں
    ۔" انتہی

    میں کہتا ہوں کہ جوزجانی کے علاوہ اس روایت کو ابو العباس نے المفجعین میں بھی روایت کیا ہے جیسا کہ مغلطائی نے صراحت کی ہے اور اس میں لفظ وضع نہیں ہے۔ چنانچہ مغلطائی نقل کرتے ہیں:
    "قال أبو العباس في كتاب «المفجعين» تأليفه ومن نسخة هي أصل سماعنا وقيل إنها كتبت عنه نقلت: ثنا عبد الله ثنا مسلم سمعت حماد بن زيد يقول: قال الأعمش في مرضه الذي مات فيه: اللهم إني أستغفرك من أحاديث صغتها في عثمان رضي الله عنه"
    "حماد بن زید کہتے ہیں کہ اعمش نے اپنے مرض الموت کے وقت کہا: اے اللہ میں ان احادیث سے معافی مانگتا ہوں جنہیں میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق ترتیب دیا/جمع کیا ہے۔"
    (اکمال تہذیب الکمال: 6/97)​
    اس روایت میں وضع کا کوئی لفظ نہیں ہے اور اس سے محقق کی بات کی بھی تائید ہوتی ہے کہ مذکورہ بالا روایت میں وضع کا معنی جمع کرنے کے معنی میں ہے۔
    لہٰذا امام اعمش پر یہ الزام بالکل غلط ہے۔ اعمش کبار ثقہ حفاظ میں سے تھے، اور وہ وضع حدیث سے بہت دور تھے۔ اگر اس روایت میں لفظ وضع کو گھڑنے کے معنی میں بھی قبول کر لیا جائے تو اس کا معنی یہ ہو گا کہ ان کے زمانے یا ان سے قبل میں بعض وضاعین نے عثمان رضی اللہ عنہ کی مذمت میں احادیث گھڑی ہوں گی اور امام اعمش نے اپنی جوانی یا طلب حدیث کی شروعات میں ان سے وہ روایات تدلیس یا تسویہ کے زریعے نقل کر دی ہوں گی یہ جانتے ہوئے کہ وہ موضوع یا غیر صحیح ہیں، تو آپ نے سوچا ہو گا کہ کہیں وہ بھی اس وضع کے جرم میں شریک نہ ہوں اس لئے انہوں نے اس بات پر افسوس کیا ان مرویات سےخبردار کیا اور اللہ سے توبہ کی، واللہ اعلم۔
     
    • پسند پسند x 4
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  9. ‏ستمبر 03، 2014 #9
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    امام اعمش رحمہ اللہ اور تشیع


    امام اعمش متفقہ طور پر اہل سنت والجماعت کے امام ہیں البتہ بعض لوگوں نے ان پر شیعہ ہونے کا الزام بھی لگایا ہے چنانچہ امام عجلی فرماتے ہیں:
    "وكان فيه تشيع"
    "اور ان میں تشیع پایا جاتا تھا"
    (الثقات للعجلی: 1/205)​
    اسی طرح امام ذہبی فرماتے ہیں:
    "رمي الأعمش بيسير تشيع"
    "اعمش پر بہت ہلکے تشیع کا الزام لگایا گیا ہے"
    (سیر اعلام النبلاء: 2/394)​
    اگر یہ الزام امام اعمش سے واقعی ثابت ہے تو بھی اس سے ان کی ثقاہت وامامت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ اس زمانے میں شیعہ سے مراد آج کل کہ رافضی نہیں ہوتے تھے۔ بلکہ اس زمانے میں شیعہ اسے کہتے تھے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو محض حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر فوقیت دے اور کسی صحابی کو گالی نہ دے اور نہ ہی ان کو بے قدر کرے بلکہ اہل سنت والجماعت کی طرح ابو بکر و عمر کو تمام صحابہ پر فوقیت بھی دے۔ چنانچہ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں:
    "فالتشيع في عرف المتقدمين هو اعتقاد تفضيل علي على عثمان وأن عليا كان مصيبا في حروبه وأن مخالفه مخطئ مع تقديم الشيخين وتفضيلهما وربما اعتقد بعضهم أن عليا أفضل الخلق بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم وإذا كان معتقد ذلك ورعا دينا صادقا مجتهدا فلا ترد روايته بهذا لا سيما إن كان غير داعية وأما التشيع في عرف المتأخرين فهو الرفض المحض فلا تقبل رواية الرافضي الغالي ولا كرامة"
    "پس متقدمین کے عرف میں تشیع اس اعتقاد کا نام ہے کہ علی کو عثمان پر فوقیت دی جائے اور یہ کہا جائے کہ علی اپنی جنگوں میں حق پر تھے اور ان کے مخالف غلطی پر تھے اس کے ساتھ شیخین کو ان سب پر فوقیت بھی دی جائے۔ اور ان میں سے بعض یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ علی رسول اللہ ﷺ کے بعد سب سے افضل ہیں اور یہ اعتقاد رکھنے والا اگر پرہیزگار، دیندار، اور سچا مجتہد ہو تو اس کی روایت کو اس وجہ سے رد نہیں کیا جاتا خصوصا جب وہ اس اعتقاد کی طرف دعوت بھی نہ دیتا ہو۔ جبکہ متاخرین کے عرف میں تشیع سے مراد رفض ہے پس غالی رافضی کی نہ روایت قبول کی جاتی ہے اور نہ اس کی عزت کی جاتی ہے۔"
    (تہذیب التہذیب: 1/81)​
    معلوم ہوا کہ اس زمانے میں شیعہ اس کو کہتے تھے جو تمام صحابہ کی اسی طرح عزت کرے جس طرح ان کی شان ہے۔ ابو بکر وعمر کو تمام صحابہ پر فوقیت دے، اور محض علی اور عثمان کے درمیان تفضیل کرے اور ان کی بھی عزت کرے۔
    یہ تعریف لفظ تشیع کی ہے جبکہ امام اعمش پر تو پھر بھی "یسیر یشیع" کا الزام ہے یعنی اس تعریف سے بھی ہلکا تشیع، جو ان کا امام اہل سنت ہونے کو ہرگز مانع نہیں ہے۔

    اس کے برعکس امام اعمش نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے فضائل میں بھی روایتیں نقل کی ہیں۔ چنانچہ امام اعمش نے حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے یہ روایت بھی نقل کی ہے:
    "أول الفتن قتل عثمان، وآخر الفتن خروج الدجال، والذي نفسي بيده لا يموت رجل وفي قلبه مثقال حبة من حب قتل عثمان إلا تبع الدجال إن أدركه، وإن لم يدركه آمن به في قبره"
    "سب سے پہلا فتنہ عثمان کا قتل تھا اور سب سے آخری فتنہ دجال کا خروج ہو گا۔ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، کوئی شخص ایسا نہیں جس کو اس حالت میں موت آئے کے اپنے دل میں ذرہ برابر بھی عثمان کے قتل کو محبوب جانتا ہو الا یہ کہ وہ دجال کا تابعدار ہوگا اگر وہ اسے پائے گا، اور اگر وہ اسے نہ بھی پائے گا تو اپنی قبر میں اس پر ایمان لے آئے گا۔"
    (البدایہ والنہایہ: 7/192 ط الفکر)​
    اور علامہ مغلطائی نے امام احمد سے نقل کیا ہے کہ:
    "لم يبلغنا أنه كان في تشيعه ينتقص أحدا من السلف"
    "ہمیں کبھی یہ بات نہیں پہنچی کہ اعمش نے اپنے تشیع میں سلف میں سے کسی کی بھی تنقیص کی ہو"
    (اکمال: 6/98)​
     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  10. ‏ستمبر 03، 2014 #10
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    کیا امام اعمش رحمہ اللہ غیر فقیہ تھے؟


    بعض لوگ امام اعمش کے امام ابو حنیفہ سے ہوئے ایک مکالمے کی بدولت کہتے ہیں کہ امام اعمش صرف ایک محدث تھے اور فقیہ نہ تھے۔ یہ مکالمہ اس طرح نقل کیا جاتا ہے:

    امام ابن عبد البر رحمہ اللہ (المتوفی 463 ھ) فرماتے ہیں:
    "أخبرني خلف بن قاسم، ثنا محمد بن القاسم بن شعبان، ثنا إبراهيم بن عثمان بن سعيد، ثنا علان بن المغيرة، ثنا علي بن معبد بن شداد، ثنا عبيد الله بن عمرو، قال: كنت في مجلس الأعمش فجاءه رجل فسأله عن مسألة فلم يجبه فيها، ونظر فإذا أبو حنيفة فقال: «يا نعمان، قل فيها» قال: القول فيها كذا، قال: «من أين؟» قال: من حديث كذا، أنت حدثتناه، قال: فقال الأعمش، «نحن الصيادلة وأنتم الأطباء»"
    " عبیداللہ بن عمرو کہتے ہیں میں اعمش کی مجلس میں تھا توایک شخص نے ان سے کوئی مسئلہ دریافت کیا توانہوں نے جواب نہیں دیا اورنگاہ دوڑائی تو امام ابوحنیفہ کو مجلس میں موجود پایا توفرمایا اے نعمان اس مسئلہ کے متعلق جواب دو توانہوں نے جواب دیا ۔اس پر اعمش نے مسئلہ کی دلیل دریافت کی توفرمایا اسی حدیث سے جوآپ نے بیان کیاتھا اس پر اعمش نے کہاکہ ہم پنساری ہیں اورتم اطباء ہو۔"
    (جامع بیان العلم وفضلہ: 2/1030 رقم 1973، واسنادہ حسن)​
    اسی طرح اس قصے کو امام ابن عدی نے اس سند ومتن سے بھی روایت کیا ہے:
    "حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمد بن عبيدة، حَدَّثَنا المزني إسماعيل بن يَحْيى، حَدَّثَنا علي بْن معبد عن عُبَيد اللَّه بْن عَمْرو الجزري، قَال: قَال الأَعْمَش يَا نعمان يعني أَبَا حنيفة ما تقول فِي كذا قَالَ كذا قَال: مَا تقول فِي كذا قَالَ كذا قَالَ من أين قلت قَالَ أنت حدثتني عن فلان عَنْهُ فَقَالَ الأَعْمَش يَا مَعْشَر الفقهاء أنتم الأطباء ونحن الصيادلة"
    " عبیداللہ بن عمرو کہتے ہیں کہ امام اعمش نے کہااے نعمان (ابوحنیفہ)آپ فلاں فلاں مسئلہ میں کیاکہتے ہیں یعنی اپ کی رائے کیاہے توانہوں نے جواب دیا۔ اس پر امام اعمش نے سوال کیاآپ کی ان باتوں کی دلیل کیاہے توفرمایا وہی حدیث جوآپ نے فلاں کی سند سے بیان کی تھی اس پر امام اعمش نے کہا۔اے گروہ فقہاء تم طبیب ہو اورہم پنساری ہیں۔"
    (الکامل لابن عدی: 8/238، واسنادہ صحیح)​
    اس روایت سے کہیں یہ ثابت نہیں ہوتا کہ امام اعمش غیر فقیہ تھے بلکہ یہ روایت تو الٹا ثابت کرتی ہے کہ امام اعمش بہت بڑے فقیہ تھے۔ اس روایت پر چند معروضات درج ذیل ہیں:
    اولا: یہ روایت بذاتِ خود اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ امام ابو حنیفہ امام اعمش کے شاگرد تھے اور موصوف امام صاحب درسگاہِ اعمش میں پڑھنے کے لئے گئے ہوئے تھے کہ کسی آدمی نے امام اعمش سے کوئی مسئلہ پوچھا، امام اعمش نے اپنے تلامذہ کی مجلس پر ایک نظر ڈال کر امام صاحب سے کہا کہ تم ہی اس سوال کا جواب دو، جب امام صاحب نے جواب دیا تو اعمش نے اس پر مذکورہ بالا بات کہی۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ امام اعمش کی مجلس میں پیش آنے والے جس واقعہ کا اس میں ذکر ہے، یہ اس زمانے میں پیش آیا تھا جبکہ امام صاحب درسگاہِ اعمش میں زیرِ تعلیم تھے اور امام اعمش نے سوال مذکور کا جواب دینے کی جو فرمائش امام صاحب سے کی وہ ان کی صلاحیت کا امتحان لینے کی غرض سے تھی (اللمحات: 1/302) نہ کہ اس لئے کہ آپ غیر فقیہ تھے۔ کسی استاد کا اپنے شاگرد کو کسی سوال کے جواب کا حکم دینا اور اس پر شاباشی کے طور پر اس کی تعریف کرنے سے یہ کیسے ثابت ہوتا ہے کہ شاگرد استاد سے زیادہ بڑا عالم ہے؟ بالآخر استاد استاد ہوتا ہے اور شاگرد شاگرد ہی رہتا ہے۔

    ثانیا: اس روایت میں ہی صراحت ہے کہ لوگ امام اعمش سے مسائل پوچھنے کے لئے آتے تھے تو اگر آپ غیر فقیہ ہوتے تو لوگوں کا کسی غیر فقیہ سے فقہی مسائل پوچھنے کے لئے آنا کیا معنی رکھتا ہے؟

    ثالثا: اس روایت میں امام اعمش کا اپنے آپ کو پنساری کہنا محض عاجزی وانکساری کے طور پر تھا اور کوئی فقیہ کبھی اپنے آپ کو خود فقیہ نہیں کہے گا کیونکہ یہ اپنی تعریف خود کرنے کے مترادف ہے۔ اگر واقعی امام اعمش کی فقہ میں صلاحیت کو جاننا ہے تو ان سے پوچھو جن کے ساتھ آپ بیٹھے ہیں یا جن سے آپ نے صحبت اختیار کی۔

    رابعا: امام ابن جریر الطبری روایت کرتے ہیں کہ عیسی بن موسی نے امام ابن ابی لیلی سے کہا:
    "اجمع الفقهاء" یعنی فقہاء کو جمع کرو۔
    "فجمعهم فجاء الأعمش في جبة فرو، وقد ربط وسطه بشريط، فأبطئوا، فقام الأعمش فقال: إن أردتم أن تعطونا شيئا وإلا فخلوا سبيلنا" "پس آپ نے انہیں جمع کیا تو اعمش کھال سے بنے جبہ میں تشریف لائے جس کے درمیان میں کمربند باندھ رکھا تھا اور آپ نے فرمایا: اگر تم نے ہمیں یہاں کچھ دینے کے لئے بلایا ہے تو دو ورنہ ہمارا راستہ خالی کرو۔"
    عیسی بن موسی نے کہا: "يا ابن أبي ليلى قلت لك تأتي بالفقهاء تجيء بهذا؟!" "اے ابن ابی لیلی میں نے تمہیں فقہاء کو لانے کے لئے کہا تھا اور تم یہ لے کر آئے ہو؟"
    تو امام ابن ابی لیلی نے جواب دیا: "هذا سيدنا هذا الأعمش" "یہ ہمارے سردار ہیں، یہ اعمش ہیں۔"
    (تاریخ بغداد: 9/9)​
    یعنی امام ابن ابی لیلی نے نہ صرف امام اعمش کو فقہاء میں شمار کیا بلکہ انہیں اپنا سردار بھی کہا۔ اور یہ وہی امام ابن ابی لیلی ہیں جو خود بہت بڑے فقیہ ہیں اور ان کے متعلق امام ذہبی نے فرمایا ہے:
    "وَكَانَ نَظِيْراً لِلإِمَامِ أَبِي حَنِيْفَةَ فِي الفِقْهِ"
    "آپ فقہ میں امام ابو حنیفہ کے مقابل ہیں۔"
    (سیر اعلام النبلاء: 6/311)​
    تو اگر امام ابن ابی لیلی فقہ میں امام ابو حنیفہ کے مقابل ہیں اور ابن ابی لیلی نے امام اعمش کو اپنا سردار قرار دیا ہے تو اس کا صاف مطلب ہے کہ امام اعمش فقہ میں ابو حنیفہ کے بھی سردار تھے۔
    اسی طرح امام اعمش فرائض کو تمام لوگوں میں سب سے زیادہ جاننے والے تھے، امام سفیان بن عیینہ (المتوفی 198 ھ) فرماتے ہیں:
    " كان الأعمش أقرأهم للقرآن، وأحفظهم للحديث، وأعلمهم بالفرائض "
    "اعمش ان میں قرآن کی قراءت کا سب سے زیادہ علم رکھتے تھے، وہ ان میں حدیث کے سب سے بڑے حافظ تھے، اور فرائض کو ان میں سب سے زیادہ جانتے تھے۔"
    (تاریخ ابن معین روایۃ الدوری: 1879 بحوالہ موسوعہ اقوال ابن معین: 2/262، واسنادہ صحیح)​
    اسی طرح عاصم الاحوال فرماتے ہیں:
    "مرَّ الأعمش بالقاسم بن عبد الرحمن فقال: هذا الشيخ أعلم الناس بقول عبد الله بن مسعود"
    "اعمش قاسم بن عبد الرحمن کے پاس سے گزرے تو انہوں نے کہا: یہ شیخ عبد اللہ بن مسعود کے قول کو لوگوں میں سب سے زیادہ جانتا ہے۔"
    (تاریخ بغداد: 5/10)​
    لہٰذا ثابت ہوا کہ امام اعمش کا شمار اپنے زمانے کے سب سے بڑے فقہاء میں ہوتا تھا۔ اور ان کا اپنے شاگردوں یعنی ابو حنیفہ اور ابن ابی لیلی وغیرہ سے کوئی مقابلہ ہی نہیں تھا۔

    خامسا: امام شافعی اور محمد بن حسن الشیبانی کے درمیان جب اس بات پر مناظرہ ہوا کہ امام ابو حنیفہ اور امام مالک میں سے کون بڑا فقیہ ہے تو دونوں میں آخر میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ امام مالک بڑے فقیہ ہیں۔ یہ مناظرہ اس بار پر دلالت کرتا ہے کہ فقاہت کی بنیاد چار چیزوں پر ہے: قرآن کا علم، حدیث کا علم، صحابہ کے اقوال کا علم، اور قیاس۔
    اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ امام اعمش کا علومِ قرآنی میں جو مقام ہے وہ ان کے زمانے میں کسی کا نہ تھا حتی کہ قراءت کے امام عاصم الکوفی پر بھی ان کو فوقیت حاصل تھی۔
    جبکہ امام ابو حنیفہ کا یہ مقام دور دور تک ثابت نہیں ہے۔
    اسی طرح حدیث میں امام اعمش کاجو مقام ہے وہ بڑے بڑے حفاظ کا بھی نہیں ہے اور آپ کا شمار حدیث کے مرکزی راویوں میں ہوتا ہے اور محدثین نے آپ کو سید المحدثین کا لقب بھی دیا ہے۔
    جبکہ امام ابو حنیفہ حدیث میں ضعیف اور قلیل الحدیث تھے۔
    اوپر ثابت کیا گیا ہے کہ امام اعمش ابن مسعود کے قول ومذہب کے سب سے بڑے عالم تھے۔
    جبکہ امام ابو حنیفہ کو محض حماد کے اقوال پر تفقہ حاصل تھا۔
    اور بچا قیاس تو وہ انہی مذکورہ تین چیزوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
    اس مقابلے سے پتہ چلا کہ امام ابو حنیفہ امام اعمش سے آگے کیا امام اعمش کی دور دور تک برابری بھی نہیں کر سکتے! لہٰذا امام ابو حنیفہ کی اندھی تقلید اور تعصب میں ایسے شگوفے نہیں چھوڑنے چاہئیں کہ جس سے الٹا ائمہ کی تنقیص ہو۔
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں