1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام کے ساتھ بعض رکعت تراویح پڑھنے والوں کا اجر

'نماز تراویح' میں موضوعات آغاز کردہ از مقبول احمد سلفی, ‏مئی 22، 2018۔

  1. ‏مئی 22، 2018 #1
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,250
    موصول شکریہ جات:
    354
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    امام کے ساتھ بعض رکعت تراویح پڑھنے والوں کا اجر

    مقبول احمد سلفی


    رات میں قیام کرنے کی بڑی فضیلت آئی ہے، یہ فرض نماز کے بعد سب سے عظیم الشان عبادت ہے ۔نبی ﷺ کا فرمان ہے : أفضلُ الصيامِ ، بعدَ رمضانَ ، شهرُ اللهِ المحرمِ . وأفضلُ الصلاةِ ، بعدَ الفريضَةِ ، صلاةُ الليلِ(صحيح مسلم:1163)
    ترجمہ: رمضا ن کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز ہے۔
    اللہ تعالی مومنوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتا: وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَقِيَامًا(سورة الفرقان:64)
    ترجمہ: اور جو اپنے رب کے سامنے سجدے اور قیام کرتے ہوئے راتیں گزار دیتے ہیں۔
    رمضان خیر وبرکت کا مہینہ ہے اس میں نیکیوں کا اجر بڑھ جاتا ہے ، قیام اللیل کا اجر سابقہ گناہوں کی مغفرت کا سبب ہے ۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے : مَن قامَ رمضانَ إيمَانًا واحْتِسابًا، غُفِرَ لهُ ما تقدَّمَ مِن ذَنْبِهِ(صحيح البخاري:2009)
    ترجمہ: جس شخص نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام کیا تو اسکے پہلے سب گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔
    آج کل ایک مسئلے میں عوام کا ذہن الجھا ہوا ہے یا انہیں الجھایا جارہا ہے کہ اگر امام بیس رکعت تراویح پڑھائے اور کوئی اس کے پیچھے صرف آٹھ رکعت یا بیس سے کم رکعت تراویح پڑھ کے چلا جائے تو اسے قیام اللیل کا ثواب نہیں ملے گا ۔ دلیل میں سنن اربعہ میں موجود مندرجہ ذیل روایت پیش کی جاتی ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے : من قامَ معَ الإمامِ حتَّى ينصرِفَ كتبَ اللَّهُ لَهُ قيامَ ليلةٍ(صحيح النسائي:1604)
    ترجمہ: انسان جب امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے اور اس کے فارغ ہونے تک اس کے ساتھ رہتا ہے تو اس کے لیے پوری رات کا قیام شمار کیا جاتا ہے ۔
    سنن اربعہ کی اس روایت میں یہ مذکور ہے کہ جو شخص امام کے ساتھ آخر وقت قیام میں شریک رہے تو اسے پوری رات قیام کرنے کا اجر ملے گا ۔ مثلا کوئی امام آدھی رات قیام کرے اور مصلی آدھی رات تک امام کے ساتھ رہے تو اسے پوری رات قیام کا اجر ملے گا یا امام پوری رات قیام کرے اور مصلی پوری رات قیام میں شریک رہے تو اسے پوری رات قیام کرنے کا ثواب ملے گا۔ اسی طرح کوئی امام رمضان میں گیارہ رکعت ترایح پڑھائے تو جو آخر وقت تک امام کے ساتھ ہوگا اسے مکمل رات قیام کرنے کا اجر ملے گالیکن کوئی امام بیس رکعت تراویح پڑھائے اور اس کے پیچھے کوئی مصلی آٹھ رکعت پڑھ کر چلا جائے تو اس مصلی نے نہ سنت کی مخالفت کی اور نہ ہی وہ رات میں قیام کے اجر سے محروم ہوگاالبتہ اس روایت میں مذکور مخصوص اجر "پوری رات قیام کا اجر" نہیں ملےگا ۔
    قیام اللیل کی جو فضیلت ہے وہ فضیلت ہر اس شخص کواس مقدار میں ملے گی جس مقدار میں قیام کیا ہے ۔ رمضان المبارک (غیررمضان میں بھی) میں نبی کریمﷺ کا قیام گیارہ رکعت کا ہوا کرتا تھا تو جو شخص رمضان المبارک میں آٹھ رکعت تراویح پڑھ لے (بعد میں تین وتر )خواہ وہ بیس رکعت والے امام کے پیچھے ہی کیوں نہ ہو اسے رمضان میں قیام سے متعلق اجر ملے گااور رمضان میں قیام اللیل کا اجر سابقہ گناہوں کا کفارہ ہے جیساکہ اوپر بخاری کی روایت گزر چکی ہے ۔ اسی طرح کوئی رات بھر قیام اللیل کرے یا رات کے بعض حصے میں قیام اللیل کرے اسے اللہ تعالی عبادت کے بقدر اجر سے ضرور نوازے گا ۔ اللہ تعالی نے نبی ﷺ کو حکم دیتے ہوئے فرمایاہے :
    يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ * قُمْ اللَّيْلَ إِلا قَلِيلا * نِصْفَهُ أَوْ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيلا * أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلْ الْقُرْآنَ تَرْتِيلا (المزمل:1-4)
    ترجمہ: اے کپڑے میں لپٹنےوالے ! رات (کے وقت نماز) میں کھڑے ہوجاؤ مگر کم، آدھی رات یا اس سے بھی کچھ کمکرلے یا اس پر بڑھادے اور قرآن ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو.
    نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    صلاةُ الليلِ مَثْنى مَثْنى . فإذا رأيتَ أنَّ الصبحَ يُدركُك فأَوتِرْ بواحدةٍ(صحيح مسلم:749)
    ترجمہ: رات کی نمازدو رکعتیں ہیں،جب تم میں سے کسی کو صبح ہونے کا اندیشہ ہو تو وہ ایک رکعت پڑھ لے،یہ اس کی پڑھی ہوئی(تمام) نماز کو وتر(طاق) بنادے گی۔
    نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    من قامَ بعشرِ آياتٍ لم يُكتب منَ الغافلينَ ومن قامَ بمائةِ آيةٍ كتبَ منَ القانتينَ ومن قامَ بألفِ آيةٍ كتبَ منَ المقنطرينَ(صحيح أبي داود:1398)
    ترجمہ: جس شخص نے دس آیتوں سے قیام کیا وہ غافلوں میں شمار نہیں ہوتا ۔ اور جو سو آیتوں سے قیام کرے وہ « قانتين » ( عابدین ) میں لکھا جاتا ہے ۔ اور جو ہزار آیتوں سے قیام کرے وہ « مقنطرين » ( بےانتہا ثواب جمع کرنے والوں ) میں لکھا جاتا ہے ۔
    ان ساری احادیث کا مفہوم یہ ہوا کہ رات کی نماز جو جس قدر پڑھے گا اس قدر ثواب ملے گا۔ دو، چار ، چھ ، آٹھ وغیرہ اور رمضان المبارک میں قیام اللیل کا ثواب گیارہ رکعت(مع وتر) پڑھنے سے حاصل ہوجاتا ہے جس پہ گزشتہ سارے گناہوں کی مغفرت کا وعدہ کیا گیا ہے نیز امام کے ساتھ مکمل رات قیام اللیل کا اجر اس وقت ملے گا جب آخر وقت تک امام کے ساتھ قیام میں شریک رہے ۔
    واللہ اعلم بالصواب

     
  2. ‏مئی 22، 2018 #2
    ابوحنظلہ

    ابوحنظلہ مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 20، 2018
    پیغامات:
    163
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    25


    نبی پاک ﷺ سے ۲۰ رکعت تراویح کا ثبوت

    قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ حَمْزَۃُ بْنُ یُوْسُفَ السَّھْمِیُّ حَدَّثَنَا اَبُوْالْحَسَنِ عَلِّیُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ اَحْمَدَ الْقَصْرِیُّ اَلشَّیْخُ الصَّالِحُ حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ عَبْدِ الْمُؤمِنِ اَلْعَبْدُ الصَّالِحُ قَالَ؛ اَخْبَرَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ حُمَیْدِ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ہَارُوْنَ حَدَّثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ الْحَنَّازِعَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عَتِیْکٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ خَرَجَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ فِیْ رَمَضَانَ فَصَلَّی النَّاسَ اَرْبَعَۃً وَّعِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَاَوْتَرَ بِثَلَاثَۃٍ. (تاریخ جرجان لحافظ حمزۃ بن یوسف السھمی ص146)
    اعتراض:
    محمد بن حمید الرازی اور عمر بن ہارون البلخی ضعیف ہیں۔ (ضرب حق: جولائی 2012ء مضمون زبیر علیزئی
    جواب:
    ۱۔ امام ابن ماجہ رحمة اللہ علیہ نے ایک حدیث نقل کی ہے جس میں محمد بن حمید راوی ہیں اور اس کو صحیح کہا ہے اور البانی نے بھی اس پر صحیح کا حکم لگایا ہے
    (۱۳۰۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ الزُّرَقِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ كَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى الْعِيدِ رَجَعَ فِي غَيْرِ الطَّرِيقِ الَّذِي أَخَذَ فِيهِ .
    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب عیدین کے لیے نکلتے تو اس راستہ کے سوا دوسرے راستہ سے لوٹتے جس سے شروع میں آئے تھے۔ابن ماجہ (صحیح عند ابن ماجہ و البانی وفیھا راوی محمد بن حمید)
    ۲۔عمر بن ہارون کے بارے میں امام ترمذی، امام بخاری اور دیگر محدثین کی رائے ملاحظہ فرمائیں۔

    (شرح۲۷۶۲) ، ‏‏‏‏‏‏وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ عُمَرُ بْنُ هَارُونَ:‏‏‏‏ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏لَا أَعْرِفُ لَهُ حَدِيثًا لَيْسَ لَهُ أَصْلٌ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ قَالَ:‏‏‏‏ يَنْفَرِدُ بِهِ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذُ مِنْ لِحْيَتِهِ مِنْ عَرْضِهَا وَطُولِهَا لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ هَارُونَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَأَيْتُهُ حَسَنَ الرَّأْيِ فِي عُمَرَ بْنِ هَارُونَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَسَمِعْتُ قُتَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ عُمَرُ بْنُ هَارُونَ كَانَ صَاحِبَ حَدِيثٍ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ يَقُولُ:‏‏‏‏ الْإِيمَانُ قَوْلٌ وَعَمَلٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا، ‏‏‏‏‏‏وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصَبَ الْمَنْجَنِيقَ عَلَى أَهْلِ الطَّائِفِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ قُتَيْبَةُ:‏‏‏‏ قُلْتُ لِوَكِيعٍ:‏‏‏‏ مَنْ هَذَا ؟ قَالَ:‏‏‏‏ صَاحِبُكُمْ عُمَرُ بْنُ هَارُونَ.(ترمذی)
    امام ترمذی کہتے ہیں: میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے: عمر بن ہارون مقارب الحدیث ہیں۔ میں ان کی کوئی ایسی حدیث نہیں جانتا جس کی اصل نہ ہو، یا یہ کہ میں کوئی ایسی حدیث نہیں جانتا جس میں وہ منفرد ہوں، سوائے اس حدیث کے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ڈاڑھی کے طول و عرض سے کچھ لیتے تھے۔ میں اسے صرف عمر بن ہارون کی روایت سے جانتا ہوں۔ میں نے انہیں ( یعنی بخاری کو عمر بن ہارون ) کے بارے میں اچھی رائے رکھنے والا پایا ہے، ۳- میں نے قتیبہ کو عمر بن ہارون کے بارے میں کہتے ہوئے سنا ہے کہ عمر بن ہارون صاحب حدیث تھے۔ اور وہ کہتے تھے کہ ایمان قول و عمل کا نام ہے، ۴- قتیبہ نے کہا: وکیع بن جراح نے مجھ سے ایک شخص کے واسطے سے ثور بن یزید سے بیان کیا ثور بن یزید سے اور ثور بن یزید روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل طائف پر منجنیق نصب کر دیا۔ قتیبہ کہتے ہیں میں نے ( اپنے استاد ) وکیع بن جراح سے پوچھا کہ یہ شخص کون ہیں؟ ( جن کا آپ نے ابھی روایت میں «عن رجل» کہہ کر ذکر کیا ہے ) تو انہوں نے کہا: یہ تمہارے ساتھی عمر بن ہارون ہیں
    واللہ اعلم
    - ابوحنظلہ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں