1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ام المومنین سیدہ ام حبیبہؓ رضی اللہ عنہا کا نکاح

'فقہ اہل الرائے' میں موضوعات آغاز کردہ از دانش غفآر, ‏اگست 11، 2017۔

  1. ‏اگست 11، 2017 #1
    دانش غفآر

    دانش غفآر مبتدی
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏مئی 28، 2017
    پیغامات:
    20
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

    موحترم qarien کرام سے derkhuwast ہے

    صحیح مسلم کی حدیث پر aitiraz کا جوب درکار ہے



    سیدنا ابو سفیانؓ اورسیدہ ام حبیبہؓ کا نکاح
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    دوست نے سوال کیا کہ حدیث میں آتا ہے کہ نبی ﷺ نے سیدنا ابو سفیان ؓ کے کہنے پر سیدہ ام حبیبہؓ سے نکاح کیا تھا اور اگر چونکہ نبی ﷺ کسی کی کوئی بات رد نہ کرتے تھے سو اگر سیدنا ابو سفیانؓ نبی ﷺ سے ام حبیبہؓ سے نکاح کی درخواست نہ کرتے تو نبی ﷺ کبھی ان سے نکاح نہ فرماتے۔ روایت حسب ذیل ہے:

    عکرمہ نے کہا: ہمیں ابو زمیل نے حدیث بیان کی، انھوں نے کہا: مجھے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی، کہا: مسلمان نہ حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بات کرتے تھے نہ ان کے ساتھ بیٹھتے اٹھتے تھے۔اس پر انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !آپ مجھے تین چیزیں عطا فر ما دیجیے ۔آپ نے جواب دیا :" ہاں ۔"کہا میرے پاس عرب کی سب سے زیادہ حسین و جمیل خاتون ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہے میں اسے آپ کی زوجیت میں دیتا ہوں۔آپ نے فر مایا :"ہاں ۔"کہا: اور معاویہ (میرابیٹا ) آپ اسے اپنے پاس حاضر رہنے والا کا تب بنا دیجیے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا :" ہاں۔ "پھر کہا: آپ مجھے کسی دستے کا امیر مقرر فرمائیں تا کہ جس طرح میں مسلمانوں کے خلاف لڑتا تھا اسی طرح کافروں کے خلا ف بھی جنگ کروں ۔آپ نے فرمایا :"ہاں۔"ابو زمیل نے کہا: اگر انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان باتوں کا مطالبہ نہ کیا ہو تا تو آپ (از خود ) انھیں یہ سب کچھ عطا نہ فر ما تے کیونکہ آپ سے کبھی کو ئی چیز نہیں مانگی جا تی تھی مگر آپ (اس کے جواب میں) "ہاں" کہتے تھے۔ (صحیح مسلم: کتاب: صحابہ کرامؓ کے فضائل ومناقب ، باب: حضرت ابو سفیان صخر بن حرب ؓ کے فضائل، حدیث نمبر ۶۴۰۹)

    علامہ ابن کثیر البدایۃ و النہایۃ جلد ۴ صفحہ ۱۳۰ میں اس روایت کی بابت فرماتے ہیں کہ یہ ایک ایسی حدیث ہے جس کے باعث امام مسلم پر سخت اعتراضات کئے گئے ہیں۔

    اسی طرح سے امام نووی نے بھی شرح صحیح مسلم میں اس حدیث کی بابت لکھا ہے کہ یہ حدیث مسلم کی ان مشہور احادیث میں سے ہے جن پر اعتراضات کئے گئے ہیں اور پھر کچھ اعتراضات و شواہد نقل بھی فرمائے ہیں جیسا کہ صحیح روایات میں آتا ہے کہ نبی ﷺ کا ام حبیبہؓ سے ؁ ۶ ہجری میں حبشہ میں نکاح منعقد ہوا جبکہ ابو سفیانؓ کے ایمان لانے کا واقعہ ؁ ۸ ہجری کا ہے۔

    قاضی عیاض کا کہ کہنا ہے کہ صحیح مسلم کی اس روایت میں جو یہ بات آئی ہے کہ سیدنا ابوسفیان رض نے ام حبیبہ رض کا نکاح پڑھایا تو یہ انتہا سے زیادہ غریب بات ہے اور یہ امر توبہت مشہور ہے کہ صلح حدیبیہ کی تجدید کی غرض سے جب ابو سفیان رض مدینہ گئے اور اپنی بیٹی ام حبیبہ رض کے گھر تشریف لے جاکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر بیٹھنے لگے تو زوجہ نبی ام حبیبہ رض نے نیچے سے بستر کھینچ لیا۔

    امام نووی لکھتے ہیں کہ ابن حزم کہتے ہیں یہ حدیث موضوع ہے۔ اسے عکرمہ بن عمار نے وضع کیا ہے لیکن ان کے اس قول کا کوئی اور موئید نہیں۔ لیکن ابن الصلاح فرماتے ہیں کہ ابن حزم کی یہ بڑی جسارت ہے کہ وہ بڑے بڑے راویوں پر کلام کرتے ہیں ، ہوسکتا ہے کہ سیدنا ابو سفیانؓ نے نبی ﷺ سے تجدید نکاح کی درخواست کی ہو تاکہ ان کی طبیعت خوش ہوجائے لیکن ابن الصلاح کی اس تاویل کو امام نووی یہ کہہ کر رد کردیتے ہیں کہ حدیث میں یہ کہیں مذکور نہیں کہ نبی ﷺ نے تجدید نکاح فرمایا ہو یا سیدنا ابو سفیانؓ نے اس کی درخواست کی ہو۔

    البتہ شیخ ابراہیم خلیل نے دعوی کیا ہے کہ ابو سفیان رض نے ام حبیبہ رض سے نہیں بلکہ ان کی بہن عزہ رض سے نکاح کی بات کی تھی ۔ راوی نے غلطی سے ام حبیبہ رض کا نام لے لیا ہے۔ لیکن اس بابت حافظ ابن قیم فرماتے ہیں کہ حدیث میں صراحت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو سفیان رض کی تمام باتیں قبول فرمالیں تھی سو اگر یہ عزہ رض ہوتیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابو سفیان رض کو بھی وہی جواب دیتے جو انہوں نے ام حبیبہ رض کو دیا تھا کہ دو بہنوں کا ایک نکاح میں جمع کرنا حرام ہے۔

    لیکن حافظ ابن قیم جب اس روایت سے متعلق زادالمعاد میں کلام کرتے ہیں تو فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو سفیان رض کی تینوں باتیں نہیں بلکہ صرف ایک بات مانی تھی اور ایسا ہی تاویل بیشتر اہلحدیث علماء نے کی ہے کہ سیدنا ابو سفیانؓ کی چھوٹی بیٹی عزہ کی کنیت بھی ام حبیبہؓ تھی اور سیدنا ابو سفیانؓ نے ان سے نکاح کرنے کی درخواست کی تھی۔۔ لیکن حافظ ابن قیم اور متاخرین اہلحدیث علماء کی کی یہ بات خود حدیث کے الفاظ کے خلاف ہے جہاں تینوں باتیں ماننے کی صراحت موجود ہے۔ کیونکہ حدیث میں صاف صراحت موجود ہے کہ ہر درخواست کے جواب میں آپﷺ ’’نعم‘‘ فرماتے جاتے تھے۔جبکہ اگر یہ عزہ ہوتیں تو نبی ﷺ سیدنا ابو سفیانؓ کو منع فرمادیتے کہ دو بہنوں کا ایک نکاح میں جمع کرنا حرام ہے۔ سو حدیث کے ظاہری الفاظ سیدہ عزہؓ سے متعلق قطعی قابل قبول نہیں ہیں اور یہ تاویل حدیث کے مطابق نہیں بنتی۔

    پھر اس حدیث میں صراحت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو سفیان رض کے کہنے پر انکو کفار کے خلاف جنگ کرنے کے لئے عہدہ دیا جبکہ یہ بات معروف ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم کسی کو مانگنے پر عہدہ نہیں دیتے تو ابو سفیان رض کو کیونکر عہدہ دیدیا۔ پھر یہ بات بھی شواہد سے ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو سفیان رض کو کفار کے خلاف کسی جنگ میں عہدہ دینے کے بجائے انکو نجران کا عامل بنا کر بھیج دیا تھا تو پھر یہ سپہ سالار بنانے والی بات کب ہوئی۔

    اسی طور سے اس روایت کے متن میں ایک اور چیز جو اس احقر کو سخت الجھن میں مبتلا کرتی ہے کہ عبداللہ بن عباس رض فرماتے ہیں کہ مسلمان نہ تو سیدنا ابو سفیان رض کی طرف دیکھتے تھے اور نہ ان کے ساتھ بیٹھتے تھے، اسی لئے ابو سفیان رض نے یہ تین چیزیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیں۔ جبکہ مکہ کی غالب اکثریت نے ابو سفیان رض کے قبول اسلام کے ایک یا دو دن بعد ہی اسلام قبول کیا تھا، سو ایک دن پہلے تک تو ابو سفیان رض ان کے سردار تھے، جن کی اہل مکہ بے پناہ عزت کیا کرتے تھے، پھر اچانک سے انکو یہ کیا ہوگیا کہ ابو سفیان رض کو *منہ لگانا* چھوڑ دیا۔۔ جہاں تک انصار و مہاجرین کی بات ہے تو انکا اخلاق اس بات سے بہت ماورا تھا کہ وہ اس قسم کی حرکت کرتے، وہ تو نئے مسلمان ہونے والے لوگوں کی تالیف قلب کرتے تھے نا کہ مکہ کے سردار جن کی فراست کی وجہ سے مکہ بغیر کسی خاص مزاحمت کے فتح ہوگیا تھا، کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھتے۔ اور پھر خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو سفیان رض کے گھر کو دارالامن قرار دیکر ابو سفیان رض کا جو اکرام کیا تھا، اس کے بعد یہ سب کہا ممکن تھا کہ لوگ ابوسفیان رض کو چھوڑ دیتے۔ پھر یہ ارشاد بھی زیر غور رہے کہ اسلام لانے سے پہلے جو معزز تھا، اسلام لانے کے بعد اس کے اعزاز میں مزید اضافہ ہوگیا اسی لئے سیدنا عمر رض سیدنا عباس رض و سیدنا ابو سفیان رض کا اسلام لانے کے بعد از حد احترام کرتے تھے۔

    بلفرض اگر اس روایت کو صحیح باور کیا جائے تو اس روایت کے آخر میں راوی ابو زمیل کے الفاظ کہ اگر سیدنا ابو سفیانؓ نبی ﷺ سے ان چیزوں کا مطالبہ نہ کرتے تو نبی ﷺ ان کو کبھی یہ چیزیں عطا نہ کرتے، بہت مہمل اور قابل اعتراض ہیں۔ معاذ اللہ سیدنا ابو سفیانؓ کی بیٹی ام حبیبہؓ کیا کوئی گری پڑی خاتون تھیں کہ نبی ﷺ ان سے نکاح کرنا پسند نہ فرماتے یا پھر سیدنا معاویہؓ جو کہ صلح حدیبیہ کے بعد ایمان لے آئے تھے ، نبی ﷺ کے نزدیک امانت دار نہیں تھے کہ آپ ﷺ انکو کبھی اپنا کاتب مقرر نہ کرتے۔ اس روایت میں جہاں تاریخی لحاظ سے کئی قباحتیں ہیں، وہاں اس کو درست ماننے سے سیدنا ابو سفیانؓ، سیدنا معاویہؓ اور سیدہ ام حبیبہؓ پر بھی تبرا آتا ہے۔ درست بات یہی ہے کہ یہ روایت شاذ ہے( یعنی ثقہ راوی اپنے سے زیادہ ثقہ راوی کی مخالفت کررہا ہے۔) اور نبی ﷺ نے سیدہ ام حبیبہؓ سے فتح مکہ سے کافی پہلے ؁ ۶ ہجری میں ہی نکاح فرمالیا تھا جس وقت کہ سیدہ ام حبیبہؓ حبشہ میں تھیں اور نبی ﷺ نے اپنے صحابی سیدنا عمرو بن امیہ ضمریؓ کے ہاتھوں شاہ حبش نجاشی کو سیدہ ام حبیبہؓ کے لئے نکاح کا پیغام بھیجا جس پر سیدہ ام حبیبہؓ کی طرف سے مقرر وکیل سیدنا خالد بن سعید ؓ نے خطبہ نکاح پڑھا اور سیدہ ام حبیبہؓ کا ہاتھ نبی ﷺ کے ہاتھ میں دیکر آپؓ کو ام المومنین ہونے کا شرف مختص کردیا گیا۔اسی طرح سیدنا ابو سفیانؓ کو بغیر کسی سفارش کے ان کی قابلیت کے پیش نظر کوئی عہدہ طلب کرنے سے پہلے ہی ان کو نجران کا عامل بنا کر روانہ کردیا تھا اور یہی کچھ سیدنا معاویہؓ کے بارے میں بھی ہے کہ ان کو بھی بلا کسی سفارش کے اپنا کاتب مقرر فرمایا تھا۔

    تحریر: محمد فھد حارث
     
  2. ‏اگست 11، 2017 #2
    محمد المالكي

    محمد المالكي رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 01، 2017
    پیغامات:
    401
    موصول شکریہ جات:
    153
    تمغے کے پوائنٹ:
    47

  3. ‏اگست 11، 2017 #3
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,763
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے نکاح سے متعلق ’ ہاں ‘ کہنے کے حوالے امام نووی نے یہ توجیہ ذکر کی ہے کہ اس سے مراد فعل نکاح کا انعقاد نہیں تھا ، بلکہ نعم کہنے سےمراد تھا کہ یہ سعادت تو ابو سفیان کو پہلے سے ہی مل چکی ہے ۔
    جبکہ ابو سفیان کے نکاح کے باوجود نکاح کی درخواست کرنے کی یہ توجیہ ہوسکتی ہے کہ شاید اس نے سمجھا میرے اسلام قبول کرنے کے بعد شاید بیٹی کے تجدید نکاح کی ضرورت ہے ۔ وغیرہ ۔
    بہرصورت اس حدیث میں حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے نکاح سے متعلق واقعتا قابل اشکال باتیں موجود ہیں ، لیکن جب کوئی بات سمجھ نہ آرہی ہو تو حدیث کو رد نہیں کیا جاتا ، بلکہ اپنی ناسمجھی کا اعتراف کیا جاتا ہے ۔ حافظ ابن حزم رحمہ اللہ نے اس حدیث کے موضوع ہونے کی بات کی ، جس پر ابن صلاح نے سخت رد عمل دیا ہے ، اسی طرح دیگر ائمہ نے بھی اشکال رفع کرنے کی کوشش تو کی ہے ، البتہ حدیث کی صحت پر کلام نہیں کیا ، اگر اشکال حل نہیں ہورہا تو حدیث کو ہی سرے سے ضعیف کہہ دیا جائے ، یہ طرز عمل درست نہیں ۔
     
    • علمی علمی x 5
    • پسند پسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  4. ‏اگست 12، 2017 #4
    دانش غفآر

    دانش غفآر مبتدی
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏مئی 28، 2017
    پیغامات:
    20
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

    jazakallah shaikh sahab

    kya usoole hadeees mein

    ye usool milta he k

    hadees k siqah raavi
    kisi dusre bare ya jamhoor siqah ravi ki riwayat k khilaaf koi riwayat krein to wo riwayat na qabile qabool he ?
     
  5. ‏اگست 12، 2017 #5
    مظاہر امیر

    مظاہر امیر مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جولائی 15، 2016
    پیغامات:
    1,272
    موصول شکریہ جات:
    362
    تمغے کے پوائنٹ:
    176

    یہ فورم اردو میں ہے ، براہِ مہربانی رومن کے بجائے اردو میں لکھیں ۔ شکریہ
     
  6. ‏اگست 13، 2017 #6
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,763
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    جی یہ اصول تو ہے ، کہ شاذ یا منکر روایت قابل نہیں ہوتی ۔ آپ نے جو بات ذکر کی ہے ، یہ شاذ حدیث کی تعریف ہے ، لیکن جس طرح اوپر تحریر میں حدیث کو شاذ کہا گیا ہے ، یہ درست نہیں ۔ کیونکہ شاذ روایت تب ہوگی ، جب ایک ہی حدیث کے مختلف راویوں کا آپس میں اختلاف ہو ۔ جب احادیث مختلف ہوجائیں ، تو پھر اختلاف یا مخالفت کو شاذ یا منکر وغیرہ نہیں کہا جاتا ۔
    اس حدیث کے حوالے سے ایک گروپ میں کافی بحث ہوئی تھی ، وہاں میں نے یہ پوسٹ کی تھی :
    حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے نکاح سے متعلق صحیح مسلم کی جس حدیث سے متعلق بحث شروع ہوئی ہے ، اس کے بہت سارے پہلو ہیں ، میری نظر میں یہاں چند ایک باتوں کو مد نظر رکھنا ضروری ہے :
    1۔ کیا صحت حدیث کے لیے یہ شرط ہے کہ اس کا کسی اور حدیث سے تعارض نہ ہو ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بالکل بھی شرط نہیں ، ورنہ مختلف الحدیث کی بحث کی چنداں حاجت ہی نہ تھی ۔
    2۔ محدثین کے ہاں معلول حدیث سے کیا مراد ہے ؟ جواب یہ ہے کہ اس کے متعدد اطلاقات ہیں ، عام طور پر معلول حدیث ضعیف ہی ہوتی ہے ، لیکن بہرصورت صحیح حدیث کے لیے مختلف اعتبارات سے یہ لفظ استعمال کیے گئے ہیں ـ اب صحیحین کے اندر معلول یا علت والی احادیث کی بات ہوئی ہے ، تو اسے اسی تناظر میں سمجھا جائے گا ، جس تناظر میں اہل فن نے کہا ہے .. جیسا کہ کئی ایک مشایخ نے وضاحت کی ـ
    3۔ حدیث میں مخالفت اور شذوذ کیا ہوتا ہے ؟ یہ محدثین کی اصطلاح ہے ، اسے اس کے لغوی معنی میں لینے سے گریز ضروری ہے ، کسی حدیث کو روایت کرنے میں راویوں کا آپس میں اختلاف ہوجائے ، تو کوئی مرفوع ، کوئی موقوف ، کوئی مرسل ، کوئی موصول ، یا متن میں کوئی کچہ بیان کرے ، کوئ کچھ بیان کرے ، وغیرہ تو اسے ’ مخالفت ‘ کہا جائے گا ، اور پھر ضعیف یا ثقہ یا ثقہ یا اوثق کی بحث ہوگی ـ جب ایک حدیث کا راوی ہی ایک ہو ، سند ہی ایک ہو ، راوی یا اسانید ایک سے زیادہ ہوں ، لیکن ان کا آپس میں اختلاف نہ ہو ، لیکن اس حدیث کا متن کسی اور دوسری حدیث کے متن سے بظاہر متعارض نظر آتا ہو ، ایسی صورت حال میں مخالفت اور تعارض اور علت کی باتیں کرنا محدثین کا منہج نہیں ـ گویا اعلال حدیث بأخر کے لیے اتحاد مخرج ہونا ضروری ہے ـو إذا اختلف المخرج فلا یعل حدیث بأخر . اور یہ قاعدہ صرف اصولی ہی نہیں بلکہ منطقی بھی ہے ـ
    لہذا جن حضرات کے نزدیک ام حبیبہ رضی اللہ عنہا والی حدیث میں شذوذ یا مخالفت ہے ، وہ بتائیں کہ کس راوی نے کس کی مخالفت کی ہے ؟ کون ثقہ ہے اور کون اوثق ؟
    رہا اس حدیث کے دیگر احادیث یا تاریخی واقعات سے تعارض ، تو اسے حل کریں ، ہوجائے تو بہتر ، ورنہ صحیح حدیث پر کلام کرنے گریز کریں ـ
    یہ ویسے کس قدر عجیب و غریب قاعدہ ہوگا کہ راوی کی حدیث اس وقت تک ہی صحیح مانی چائے گی ، جب تک وہ ہماری عقل کے اندر رہے گی ، جونہی ہماری سمجھ سے باہر ہوئی ، اس سے صحیح ہونے کا حق بھی چھین لیا جائے گا ـ
    آخر میں مکرر عرض کرنا چاہوں گا ، صحیح مسلم میں ضعیف احادیث ہیں یا نہیں ؟ یہ بحث الگ کرلیں ، لیکن جس کو آپ ضعیف قرار دینا چاہتے ہیں ، اس پر منہج محدثین کے مطابق جرح کرکے ضعیف ثابت کریں ، ممکن ہو سکے تو اس کی تضعیف کرنے والوں کا بھی ذکر کریں ـ اب تک اس حدیث پر جس انداز سے جرح کی گئی ہے ، اس کا منہج محدثین سے کوئی تعلق نہیں ـ یہ جرح کسی بھی حدیث پر کوی بھی کرسکتا ہے ۔
     
    • علمی علمی x 4
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏اگست 13، 2017 #7
    دانش غفآر

    دانش غفآر مبتدی
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏مئی 28، 2017
    پیغامات:
    20
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

    Jazakumullah
     
  8. ‏اگست 13، 2017 #8
    دانش غفآر

    دانش غفآر مبتدی
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏مئی 28، 2017
    پیغامات:
    20
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

    جناب خضر بھائی ایک بات ور کیا اکراما جو حدیث کا راوی ہے

    اسپر جرح و تزیفو موجود ہے ؟؟؟؟
     
  9. ‏اگست 14، 2017 #9
    دانش غفآر

    دانش غفآر مبتدی
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏مئی 28، 2017
    پیغامات:
    20
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

    محترم خضر بھائی اس بات سے کتنا اتفاق ہے آپ کا



    جناب حدیث کو پرکھنے کے دو اصول ہوتے ہیں، علم الروایت و علم الدرایت۔ علم الروایت میں راویوں سے بحث کی جاتی ہے اور علم الدرایت میں متن سے اور ان دونوں کے تحت ہی کسی حدیث کو صحیح باور کروایا جاتا ہے، جبکہ آپ یہاں جس منھج کو محدثین کا منھج کہہ کر بحث کررہے ہیں وہ محدثین کا نہیں بلکہ متاخرین اہلحدیث کا منھج ہے جو کہ کسی بھی حدیث کی صحت کے لئے صرف روایت کی جانچ کو کافی جانتے ہیں جبکہ متقدمین محدثین درایت کی بنیادوں پر بھی احادیث پر کلام کرتے آئے ہیں۔ متن کا سمجھنا اور چیز ہے اور متن میں نکارت کا پایا جانا اور چیز ہے۔ جب سیدہ عائشہؓ نے یہ سنا کہ عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے قلیب بدر کے موقع پر مردوں سے کلام کیا تو سیدہ عائشہؓ نے فوراً قرآن کی آیت پیش کی اور اس بابت کا نکار کیا، جبکہ آپ کے بیان کردہ اصول کے مطابق تو یہ ہونا چاہیئے تھا کہ عبداللہ بن عمرؓ کی ثقاہت کے تحت سیدہ عائشہؓ اس بات کو قبول فرمالیتیں۔ سو یہ روایت یہ ثابت کرتی ہے کہ کسی روایت کے معلل ہونے کے لئے اس کے رواۃ پر جرح از بس ضروری نہیں ہوتی بلکہ بعض دفعہ متن کی نکارت بھی روایت کے ضعف پر دلالت کرتی ہے۔ فقہ کی کتب میں تو اس طرح کی مثالیں کثرت سے ملتی ہیں۔ بالکل اسی طور سے جب سیدہ عائشہؓ کے سامنے فرمایا گیا کہ عمرؓ نے فرمایا کہ مردے کو میت پر رونے والوں کے سبب عذاب ہوتا ہے تب بھی سیدہ عائشہؓ نے قرآن کی آیت کے تحت اختلاف کیا اور فرمایا کہ کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھائیگا۔۔۔ ورنہ یہاں بھی آپ کی بحث کے مطابق سیدہ عائشہؓ کو سیدنا عمرؓ کی ثقاہت کے زیر اثر اس بات کو از بس مان لینا چاہیئے تھا۔

    جناب عکرمہ کی آپ نے تعدیل تو نقل فرمادی لیکن اس پر جو مفسر جرح ہے اس کو مبہم فرماکر نظر انداز کرگئے۔ میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ میں نے خاص کر عکرمہ پر جرح نقل نہیں کی البتہ اس حدیث کا متن نہایت منکر ہے۔ پہلے آپ اس حدیث کے متن کی حدیث کے ظاہری الفاظ سے تطبیق دے لیں، پھر اس حدیث کے روات پر بھی بات ہوسکتی ہے۔

    فی الحال تو یہ حدیث سخت معلل ہے اسی لئے ابن حزم نے اس کو موضوع قرار دیدیا اور ان ہی کی رائے اس بابت صائب ہے کیونکہ باقی محدثین نے صرف امام مسلم کی جلالت قدر کی وجہ سے اس روایت کو بچانے کے لئے تطبیق کی کوشش کی ہے لیکن اس روایت کی کی جانے والی ہر تطبیق روایت کے ظاہری الفاظ سے لگا نہیں کھاتی۔

    نہ صرف ابو سفیانؓ کی بابت بلکہ ام حبیبہؓ اور سیدنا معاویہ ؓ کی بابت بھی اس روایت میں سخت نکارت پائی جاتی ہے۔ مکہ کی غالب اکثریت نے ابو سفیان رض کے قبول اسلام کے ایک یا دو دن بعد ہی اسلام قبول کیا تھا، سو ایک دن پہلے تک تو ابو سفیان رض ان کے سردار تھے، جن کی اہل مکہ بے پناہ عزت کیا کرتے تھے، پھر اچانک سے انکو یہ کیا ہوگیا کہ ابو سفیان رض کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا پسند نہ کرنے لگے۔۔ جہاں تک انصار و مہاجرین کی بات ہے تو انکا اخلاق اس بات سے بہت ماورا تھا کہ وہ اس قسم کی حرکت کرتے، وہ تو نئے مسلمان ہونے والے لوگوں کی تالیف قلب کرتے تھے نا کہ مکہ کے سردار جن کی فراست کی وجہ سے مکہ بغیر کسی خاص مزاحمت کے فتح ہوگیا تھا، کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھتے۔ اور پھر خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو سفیان رض کے گھر کو دارالامن قرار دیکر ابو سفیان رض کا جو اکرام کیا تھا، اس کے بعد یہ سب کہا ممکن تھا کہ لوگ ابوسفیان رض کو چھوڑ دیتے۔ پھر یہ ارشاد بھی زیر غور رہے کہ اسلام لانے سے پہلے جو معزز تھا، اسلام لانے کے بعد اس کے اعزاز میں مزید اضافہ ہوگیا اسی لئے سیدنا عمر رض سیدنا عباس رض و سیدنا ابو سفیان رض کا اسلام لانے کے بعد از حد احترام کرتے تھے۔

    اگر اس بات کا جواب مرحمت فرمادیں گے تو ممنون رہونگا کہ کونسی تاریخی روایات اور صحیح احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلمان سیدنا ابو سفیانؓ کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا پسند نہ فرماتے تھے؟ کیا مسلمانوں نے یہ سلوک کسی اور مسلمان کے ساتھ بھی کیا تھا، مثلاً ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلبؓ یا عکرمہ بن ابی جہلؓ یا پھر وحشی بن حرب ؓ کے ساتھ؟ اگر ان میں سے کسی کے ساتھ نہیں کیا تو خاص ابو سفیان ؓ کے ساتھ کیوں کیا جو کہ سیدنا معاویہؓ کے والد اور یزید بن معاویہؒ کے جد تھے۔
     
  10. ‏اگست 14، 2017 #10
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,763
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    اس تحریر سے مجھے ایک فیصد بھی اتفاق نہیں ، میں اس حوالے سے فورم پر ایک دو جگہ پر عرض کر چکا ہوں ، کہ ایک ہیں تحقیق حدیث کے اصول ، دوسرے ہیں آسانی کے لیے قرائن ۔ حدیث صحیح یا ضعیف اصول کی بنا پر قرار دی جاتی ہے ، قرینہ اگر اصول سے متعارض ہو ، تو اسے رد کردیا جاتا ہے ۔
    تحقیق حدیث کے اصول تو یہ ہیں کہ صحت حدیث کی پانچ شروط ہیں :
    ضبط رواۃ ، عدالت رواۃ ، اتصال سند ، علت نہ ہونا ، شذوذ نہ ہونا ۔ جس حدیث میں یہ پانچ شروط پائی جاتی ہوں ، وہ صحیح ، جس میں کوئی بھی شرط رہ جائے ، وہ ضعیف ۔
    تحقیق حدیث کے یہی اصول ہیں ، جو محدثین شروع سے لیکر اب تک بیان کرتے آرہے ہیں ، اور یہی طالبعلموں کو آج بھی پڑھایا جاتا ہے ۔
    البتہ حدیث قرآن کے مخالف نہ ہو ، تاریخی واقعات کے مخالف نہ ہو ، قیاس کے مخالف نہ ہو ، وغیرہ ، یہ سب قرائن ہیں ، کہ جو ضعیف احادیث ہوتی ہیں ، عام طور وہ قرآن مجید ، دیگر احادیث ، یا عقل و قیاس کے بھی خلاف ہوتی ہیں ، لیکن یہ سرسری بات ہے ، جب بھی تفصیلی تحقیق ہوگی ، وہ انہیں اصولوں کے مطابق ہوگی ، جو اوپر گزر چکے ۔ کیونکہ قرآن کے ، یا حدیث کے خلاف ہونا ، یا عقل کے خلاف ہونا یہ کوئی منضبط اور لگا بندا اصول ہے ہی نہیں ، اس میں نام بظاہر قرآن و حدیث کا بھی ہے ، لیکن اصل اس میں ’ عقل ‘ ہی ہے ۔ تو بھئی روایت کا ذریعہ راوی ہیں ، کسی کی عقل نہیں ۔ اگر آپ عقل کو اتنا قابل سمجھتے ہیں ، راویوں کی بنیاد پر صحیح بخاری و صحیح مسلم لکھی گئی ہے ، آپ عقل کی بنیاد پر ایک حدیث کا اضافہ کرکے دکھادیں ۔ جب عقل کی یہ اوقات ہی نہیں ، نقل خبر کا معاملہ شروع سے آخر تک راوی اور خبر کا محتاج ہے ، تو اس میں اصول بھی راوی اور خبر کی تحقیق کے ہی لاگو ہوں گے ، نہ کہ کوئی اور ۔
    بچوں والی بات ۔ شروع سے لیکر آج تک جتنے بھی محدثین نے اصول حدیث ذکر کیے ہیں ، کسی ایک کتاب کا حوالہ دے دیں ، جس میں صحیح حدیث ، یا ضعیف حدیث کی تعریف میں قرآن کے مطابق یا مخالف ہونا بیان کیا گیا ہو ۔ رہی بات ’ درایت ‘ اور پھر وہ بھی ’ متقدمین ‘ کی ، تو بڑی معذرت سے عرض کروں گا ، کبھی متقدمین کا احادیث پر کلام پڑھیں تو سہی ، کہ ان کے ہاں ’ مخالفت ، تعارض ‘ کس چڑیا کا نام تھا ، اور وہ اس کے ذریعے کیسے تحقیق کرتے تھے ۔ علی بن المدینی کا مشہور قول ہے : الباب إذا لم تجمع طرقہ لم یتبین خطؤہ ، حدیث کے طرق کو جب تک جمع نہ کیا جائے ، اس کی غلطی واضح نہیں ہوتی ، حالانکہ اگر معاملہ عقلی موشگافیوں کا ہوتا تو قرآن و حدیث کا ایک مفہوم ذہن میں بٹھا کر سب احادیث کو اسی سان پر چڑھا دیتے ۔
    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا خود صحابیہ تھیں ، وہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث سنتی تھیں ، احادیث کا آپس میں ظاہری تعارض ہوسکتا ہے ، جس طرح ہم ایک حدیث کو دوسری پر ترجیح دیتے ہیں ، صحابی اس بات کا زیادہ حق رکھتا ہے ، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ حدیث ہی ضعیف ہوجاتی ہے ، ترجیح کی بات ہی تب ہوتی ہے ، جب دونوں احادیث کوصحیح تسلیم کرلیا جائے ۔
    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے دیگر صحابہ کی حدیث کو اپنی حدیث کی بنا پر رد کیا ، اور بطور تائید کے قرآنی آیات پیش کیں ، اس میں تضعیف حدیث کہاں سے آگئی ؟
    دوسری بات : بفرض تسلیم یہ منہج بھی ہو ، تو کہاں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا اپنے جیسے ایک دوسرے صحابی کی بات کو رد کرنا ، اور کہاں صدیوں بعد آکر ہمارے جیسے علم کے کوروں کا ان احادیث کو رد کرنا ، جنہیں تمام محدثین کا محدثین کی ایک جماعت صحیح قرار دیے چکی ہو ؟ کیا دونوں ایک برابر ہیں ؟
    ابن حزم کی بات درست نہیں ، جس کا سختی سے رد حافظ ابن الصلاح نے کیا ہے ، جب راوی سب ثقہ ہیں ، کبار محدثین نے اسے صحیح مانا ہے تو پھر حدیث کو ضعیف قرار دینے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی ۔ باقی روایت میں تطبیق ممکن ہے یا نہیں ، یہ بعد کی باتیں ہیں ، اور یہ جمع و تطبیق تبھی شروع ہوتی ہے ، جب ہم کسی روایت کوصحیح مان لیتے ہیں ، ظاہر ہے کسی گپ یا موضوع و من گھڑت بات کو قرآن کی کسی آیت یا حدیث سے تطبیق دینا کار فضول ہے ۔
    رہی بات یہ کہ محدثین نے امام مسلم کو بچایا ہے ، تویہ کسی نے بطور طنز کی ہوگی ، لیکن میں کھل کر یہ بات کرتا ہوں ، اگر امام مسلم کو نہیں بچائیں گے ، راویوں کو نہیں بچائیں گے ، تو پھر احادیث کہاں سے آئیں گی ؟ آپ راویوں سے ہٹ کر کوئی اور ذریعہ بتادیں دین کا ، ہم ان کو چھوڑ کر وہ اختیار کرلیتے ہیں ۔ جب اللہ کی حکمت کا تقاضا ہے یہ راوی اور ائمہ نقل دین کا ذریعہ ہیں ، تو پھر ان کے دفاع یا عزت و احترام سے جلنا ، یا دفاع کرنے والوں پر طنز کرنا درست طریقہ کار نہیں ۔
    ویسے یہ بھی کیا خوب بات رہی کہ بڑے بڑے محدثین کو تو امام مسلم سے شرم آتی ہے ، البتہ ہمیں نہیں آتی ۔ یہ مسئلہ شرم کا نہیں ، اصول کا ہے ، ایک طرف تو پانچ شرائط پر مشتمل حدیث کوصحیح کہا جائے ، اور پھر دوسری طرف انہیں اصولوں کے مطابق صحیح ثابت ہونے والی احادیث کو ضعیف ، موضوع ، منکر بھی کہا جائے ، تو اصول کیا ہوئے ؟
    پہلی بات : یہ جتنے بھی مفروضے قائم کیے گئے ہیں ، ان میں سے کس بات میں اتنا وزن ہے، جتنا حدثنا فلان عن فلان کے ذریعے سے نقل شدہ بات میں ہوتا ہے ؟
    ابو سفیان رضی اللہ عنہ ایمان لا چکے تھے ، اس کے باوجود ان کے متعلق کسی کا یہ رویہ رہا ہو ، تو اس میں کوئی ایسی محال بات تو نہیں کہ جس طرح زمین آسمان جمع نہیں ہوسکتے ، اسی طرح ابو سفیان رضی اللہ عنہ کے متعلق اس وقت یہ رویہ نہیں ہوسکتا ۔ اور پھر یہ تو مجرد مفروضے بھی نہیں ، بلکہ یہ واقعات مستند ذرائع سے ہم تک نقل ہوئے ہیں ۔اور ان باتوں سے متعلق تو وہ بھی نہیں کہا جاسکتا ، جو استحالے حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کے حوالے سے پیش کیے جاتے ہیں ۔
    ویسے جس حدیث کو آپ رد کر رہے ہیں ، اس میں بھی تو یہی کچھ بیان کیا ہے ۔ اگر تحقیق حدیث کا معیار یہ قائم ہوجائے کہ ’ ایسا تو چونکہ ہو ہی نہیں سکتا ‘ تو پھر جس طرح ایک روایت رد ہوسکتی ہے ، اسی طرح دیگر بھی کی جاسکتی ہیں ۔
    آخر میں بطور خلاصہ عرض کروں گا ، کہ تحقیق حدیث کا جو معیار محدثین نے مقرر کیا ہے ، اس میں سندو متن دونوں کی تحقیق ہے ، اگر درایت نام کی کوئی چیز ہوسکتی ہے تو وہ بھی اسی معیار میں شامل ہے ، اس سے ہٹ کر کوئی اصول بنانا ، یہ اصول حدیث کے ایک متوازی منہج ہے ، جو ظاہر ہے بالکل قابل قبول نہیں ۔ واللہ اعلم بالصوب و إلیہ المرجع و المآب ۔
     
    • علمی علمی x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں