1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

انجینیئر محمد علی مرزا کے ایک پمفلٹ "واقعہ کربلا ٧٢ صحیح احادیث کی روشنی میں" کا تحقیقی جائزہ

'جدیدیت' میں موضوعات آغاز کردہ از وجاہت, ‏جنوری 31، 2017۔

  1. ‏فروری 03، 2017 #41
    مظاہر امیر

    مظاہر امیر مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جولائی 15، 2016
    پیغامات:
    1,271
    موصول شکریہ جات:
    361
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    یہ آپ نے غلط لکھا ہے ۔ عربی عبارت ایسے نہیں ہے
     
  2. ‏فروری 03، 2017 #42
    مظاہر امیر

    مظاہر امیر مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جولائی 15، 2016
    پیغامات:
    1,271
    موصول شکریہ جات:
    361
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    توقف کرنا چاہئے ۔ دونوں عشرہ مبشرہ کے اصحاب ہیں ۔
     
  3. ‏فروری 03، 2017 #43
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,138
    موصول شکریہ جات:
    2,633
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    @وجاہت صاحب سے کہا بھی تھا، کہ وہ ذرا بریک لگائیں!
    پہلے ان کی پیش کردہ دو روایات پر بات کریں گے!
    مگر انہیں صبر نہیں!
     
  4. ‏فروری 03، 2017 #44
    ابو حمزہ

    ابو حمزہ رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 10، 2013
    پیغامات:
    381
    موصول شکریہ جات:
    139
    تمغے کے پوائنٹ:
    91

    وجاہت بھائی اگر ایک کر کہ روایات پر بات کریں گے تو آپ کس مقصد پہ پھنچ سکین گے ایک جگہ پہ بہت سی روایات وہ مختلف موضوعات پر تو ممکن ہی نہیں کہ خیر خواہ نتیجہ پر آپ پھنچ سکیں ۔ اس لئے آپ ایک کر کہ روایت پیش کریں یہاں اہل علم اس کا جو جواب دیں پھر آپ راء قائم کر سکتے ہیں پھر دوسری روایت پیش کریں۔
     
  5. ‏فروری 03، 2017 #45
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,977
    موصول شکریہ جات:
    1,494
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    محترم -

    پہلی بات تو یہ کہ صحابی رسول عشرہ مبشرہ حضرت علی رضی کے متعلق میں نے کوئی ایسی بات نہیں کہی جسے آپ بجا تنقید کہیں یا بے جا تنقید سمجھیں - میرا منشاء تو وہی ہے جو میں پہلے عرض کرچکا ہوں -کہ اہل سنّت ہونے اور کھلانے کے باوجود آخر ہم رافضیت سے اتنے متاثر کیوں ہیں ؟؟داماد رسول علی رضی الله عنہ سے متعلق کسی بات یا ان کے اجتہاد سے متعلق نظریہ پر تو ہمارا انگ انگ کھول اٹھتا ہے اور جب خاندان بنو امیہ کے چشم و چراخ و مہدی امیر معاویہ رضی الله عنہ کی کسی اجتہادی خطا ء پر بات ہو تو ان کا عمل صرف خطا ء نہیں فسق و فجور بن جاتا ہے (جو اس تھریڈ کا موضوع بھی ہے )- ہر وہ روایت جھوٹی نظر آتی ہے جو ان کی فضیلت سے متعلق ہو - کیا یہ دوغلا پن اور منافقت نہیں؟؟ - جب کہ دونوں اصحاب رسول الله کے نبی کے بہت قریبی اصحاب تھے- کیا امیر معاویہ رضی الله عنہ کا دفاع آپ کے نزدیک "ناصبیت" ہے ؟؟ اگر ایسا ہی ہے تو افسوس ہے آپ کی سوچ پر - میں تو پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ صحابہ کرام وہ پاکیزہ ہستیاں ہے کہ جن کی وساطت سے دین اسلام آج ہماری زندگی کا حصّہ ہے - اور ہم انہی پر انگلی اٹھانے چلے ہیں- اگر یہ رافضیت کے بیج ہمارے اندر سے ختم ہو جائیں تو علی رضی الله عنہ سے متعلق بھی لوگوں میں حقیقی محبّت جاگ اٹھے - لیکن لعنت ہے عبدللہ بن سبا اور اس کے پیروں کاروں پر کہ حضرت علی رضی الله عنہ کو ایک ایسا دیو ملائی انسان بنا کر پیش کردیا کہ وہ معصوم عن الخطاء تھے اور ان سے غلطی کا صدور ممکن ہی نہیں- اور آج اہل سنّت کی اکثریت بھی ایسی ہی ڈگر پر ہیں -

    الله ہمارے حالوں پر رحم کرے (آمین )
     
    Last edited: ‏فروری 03، 2017
  6. ‏فروری 03، 2017 #46
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,977
    موصول شکریہ جات:
    1,494
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    یہ بھی خوب کہی آپ نے -

    "کہ حضرت عقیل رضی الله عنہ کو تو مرنے سے پہلے امیر معاویہ رضی الله عنہ کا ساتھ دینے پر افسوس تھا اور انہوں نے اس پر دکھ کا اظہار بھی کیا" ؟؟- لیکن حضرت علی رضی الله عنہ کے اپنے بیٹے حضرت حسن رضی الله عنہ کو معاویہ رضی الله عنہ سے مصالحت کی بیعت پر کوئی افسوس نہ ہوا بلکہ بخوشی یہ بعیت کی؟؟- جب کہ (اہل سنت میں ایک مشہور روایت جو کہ اصل میں ضعیف ہے کے مطابق کہ نبی کریم یہ فرما گئے ہیں کہ خلافت کے تیس سال بعد ملک عضوض کا آغاز ہوگا ) حضرت حسن رضی الله عنہ جانتے بوجھتے ان کے لئے خلافت سے دست بردار ہو گئے- یعنی امّت پر ایک ظالم بادشاہ کو مسلط کرکے چلے گئے (نعوز باللہ) ؟؟

    سوال ہے کہ اب حرف کس پر آ رہا ہے ؟؟- اہل بعیت کے چشم و چراغ حضرت حسن رضی الله عنہ پر یا جھوٹی روایات بیان کرنے والوں پر- اب کیا یہ بھی ناصبیت ہے ؟؟
     
    Last edited: ‏فروری 03، 2017
  7. ‏فروری 04، 2017 #47
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,504
    موصول شکریہ جات:
    393
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

    محدثین نے بھی اس روایت کو ذکر کیا ہے لیکن متن روایت میں قابل اعتراض يَأْمُرُنَا أَنْ نَأْکُلَ أَمْوَالَنَا بَيْنَنَا بِالْبَاطِلِ وَنَقْتُلَ أَنْفُسَنَا یہ الفاظ مفقود اور غیر مذکور ہیں۔

    یہ قابل اعتراض کلمات راوی کی طرف سے اضافہ شدہ ہے اور اس نے ان کلمات کو اپنے ظن و گمان کے اعتبار سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف ذکر کیا۔

    اس مضمون کو شارح مسلم امام نووی رحمتہ اللہ نے بالفاظ ذیل ذکر کیا ہے

    الْمَقْصُودُ بِهَذَا الْكَلَامِ : أَنَّ هَذَا الْقَائِلَ لَمَّا سَمِعَ كَلَامَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْروِ بْنِ الْعَاصِ ، وَذِكْرَ الْحَدِيثِ فِي تَحْرِيمِ مُنَازَعَةِ الْخَلِيفَةِ الْأَوَّلِ ، وَأَنَّ الثَّانِيَ يُقْتَلُ ، فَاعْتَقَدَ هَذَا الْقَائِلُ هَذَا الْوَصْفَ فِي مُعَاوِيَةَ لِمُنَازَعَتِهِ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَكَانَتْ قَدْ سَبَقَتْ بَيْعَةُ عَلِيٍّ فَرَأَى هَذَا أَنَّ نَفَقَةَ مُعَاوِيَةَ عَلَى أَجْنَادِهِ وَأَتْبَاعِهِ فِي حَرْبِ عَلِيٍّوَمُنَازَعَتِهِ وَمُقَاتَلَتِهِ إِيَّاهُ مِنْ أَكْلِ الْمَالِ بِالْبَاطِلِ ، وَمِنْ قَتْلِ النَّفْسِ ، لِأَنَّهُ قِتَالٌ بِغَيْرِ حَقٍّ ، فَلَا يَسْتَحِقُّ أَحَدٌ مَالًا فِي مُقَاتَلَتِهِ .

    اس کا مطلب یہ ہے کہ جب راوی عبدالرحمن بن عبد رب الکعبہ نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی کہ خلیفہ اول منتخب ہوجانے کے بعد اس کے ساتھ منازعت حرام ہے اور خلافت کے دوسرے دعویدار کے ساتھ مقاتلہ کرنا چاہئے تو اس راوی نے (اس دور کے حالات کے پیش نظر) یہ گمان کیا کہ یہ وصف حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ میں موجود ہے یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت ہوچکی ہے اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ان کے خلاف منازعت کئے ہوئے ہیں۔ گویا کہ (حضرت علی رضی اللہ عنہ) کے خلاف ان کے جنود اور لشکروں پر مال خرچ کرنا باطل طریقہ ہے اور قتال کرنا قتل نفس کی دعوت ہے۔
     
    • پسند پسند x 2
    • علمی علمی x 2
    • لسٹ
  8. ‏فروری 04، 2017 #48
    غازی

    غازی رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 24، 2013
    پیغامات:
    114
    موصول شکریہ جات:
    170
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    جس طرح بریلویوں کی تفسیر قرآن کے شروع میں آیات قرآنی کے حوالے سے عنوان لگالگا کر ہرطرح کی شرک وبدعت کو ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
    اسی طرح مرزا صحیح احادیث لیکر رافضی افکار کو ثابت کرنے کی کوشش کرراہے۔
    صرف صحیح احادیث پیش کردینا کافی نہیں ہے صحیح احادیث سے صحیح استدلال بھی پیش کرنا ضروری ہے۔
    ورنہ بریلیوں کا کیا قصور ہے وہ تو قرآنی آیات پیش کرکے ہر طرح کا شرکیات و بدعات کو ثابت کرتے ہیں ۔
     
    • متفق متفق x 4
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  9. ‏فروری 04، 2017 #49
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    میرے خیال میں پیارے وجاہت بھائی کا اس بات کی طرف دھیان نہیں گیا ورنہ پہلی حدیث پہ استوار کیا گیا مرزا کے موقف کا بیت العنکبوت ہونا واضح ہو جاتا

    آج بہت دنوں بعد مچھلی دعوت کی یاد میں آنا ہوا تو دیکھا تو کچھ اصولی بات لکھنے کا سوچا باقی تفصیلی باتیں تو شیخ ابن داود بھائی کو جب فرصت ملے گی وہ کر لیں گے
    یاد رکھیں بھائی جان کہ اللہ نے قرآن میں فرمایا کہ
    ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ مِنۡہُ اٰیٰتٌ مُّحۡکَمٰتٌ ہُنَّ اُمُّ الۡکِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِہٰتٌ ؕ فَاَمَّا الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ زَیۡغٌ فَیَتَّبِعُوۡنَ مَا تَشَابَہَ مِنۡہُ ابۡتِغَآءَ الۡفِتۡنَۃِ وَ ابۡتِغَآءَ تَاۡوِیۡلِہٖ ۚ؃ وَ مَا یَعۡلَمُ تَاۡوِیۡلَہٗۤ اِلَّا اللّٰہُ ۘؔ وَ الرّٰسِخُوۡنَ فِی الۡعِلۡمِ یَقُوۡلُوۡنَ اٰمَنَّا بِہٖ ۙ کُلٌّ مِّنۡ عِنۡدِ رَبِّنَا ۚ وَ مَا یَذَّکَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴿۷﴾آل عمران

    ‏ ‏ وہی تو ہے جس نے تم پر کتاب نازل کی جس کی بعض آیتیں
    ہیں اور وہی اصل کتاب ہیں اور بعض
    ہیں، تو جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ متشابہات کا اتباع کرتے ہیں تاکہ فتنہ برپا کریں اور مراد اصلی کا پتہ لگائیں حالانکہ مراد اصلی خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور جو لوگ علم میں دستگاہ کامل رکھتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ان پر ایمان لائے۔ یہ سب ہمارے پروردگا کی طرف سے ہیں اور نصیحت تو عقلمند ہی قبول کرتے ہیں

    یاد رکھیں کہ کچھ چیزیں واضح ہوتی ہیں جو دین میں ام کی حیثیت رکھتی ہیں ان میں احتمالات نہیں ہوتے البتہ کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن میں ایک سے زیادہ احتمالات ہو سکتے ہیں یعنی متشابہ ہو سکتی ہیں
    اسکو ایک مثال سے سمجھاتے ہیں

    مثال:

    فرض کریں ایک شخص عبداللہ کسی قبر پہ کھڑا ہاتھ اٹھائے دل میں کوئی دعا کر رہا ہے اب ایسی صورت میں تین احتمالات ہو سکتے ہیں
    ۱۔ وہ اس قبر والے سے بیٹا وغیرہ مانگ رہا ہے (یہ کھلا شرک ہے)
    ۲۔ وہ اس قبر والے کا واسطہ یعنی وسیلہ دے کر اللہ سے بیٹا وغیرہ مانگ رہا ہے (یہ بعض صورتوں میں بدعت ہے شرک نہیں اور فقہ حنفی میں بھی مکروہ ہے)
    ۳۔وہ اس قبر والے کی مغفرت کے لئے دعا مانگ رہا ہے (یہ عین سنت ہے)


    اب چونکہ وہ دل میں سب کچھ مانگ رہا ہے تو ہمیں سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ اوپر والی تین صورتوں میں کون سی صورت میں ہے تاکہ اسکے مطابق حکم لگ سکے اب اسکا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ جہاں کسی کی ذات کے بارے ایک سے زیادہ احتمالات ہوں وہاں دوسری جگہ کو دیکھا جاتا ہے جہاں حتمی کوئی بات ہمیں مل جائے اور اس حتمی بات کے تحت ہم ان احتمالوں سے کسی ایک احتمال کو متعین کر سکیں
    اب اوپر والے عبداللہ کی اوپر والی حالت دیکھ کر ہم اوپر تین صورتوں میں سے اپنی مرضی سے کوئی ایک صورت متعین کر لیں گے تو وہ نا انصافی ہو گی فرض کریں اگر ہم خود ہی گمان کر لیں گے کہ یہاں وہ قبر والے سے مانگ رہا ہے اور وہ مشرک ہے تو یہ بہت بڑی زیادتی ہو گی اور کھلی نا انصافی ہو گی کیونکہ ہم نے جو تعین کیا ہے وہ کسی دلیل کی بنیاد پہ نہیں ہے
    اسکی بجائے اگر ہم نے کسی دوسری جگہ اسی عبداللہ کو کوئی تقریر کرتے دیکھا ہو کہ وہ شرک کے خلاف تقریر کر رہا تھا اور اس میں کوئی ایک سے زیادہ احتمالات بھی نہیں تھے تو اس تقریر کی وجہ سے کم از کم یہ بات متعین ہو جائے گی کہ وہ اس قبر والے سے نہیں مانگ رہا ہو گا یعنی پہلی والی صورت ختم ہو جائے گی اور آخری دو احتمالات رہ جائیں گے کہ شاید وہ قبر والے کا واسطہ دے کر مانگ رہا ہے یا قبر والے کے لئے دعا مانگ رہا ہے
    اب اگر کسی اور جگہ اسکو واسطے کے خلاف درس دیتے بھی دیکھا گیا ہو گا تو پھر دوسری صورت بھی خٹم ہو جائے گی اور صرف اور صرف پہلی صورت متعین ہو جائے گی یہی انصاف کی بات ہے
    پس امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے جو اوپر والی حدیث آپ نے بیان کی ہے اس میں کوئی بھی سلیم القلب اور انصاف پسند چاہے وہ رافضی ہی کیوں نہ ہو وہ یہ نہیں کہ سکتا کہ وہاں اس حدیث کے آخری الفاظ سے صرف اور صرف ایک ہی احتمال نکلتا ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حرام کھانے کا حکم دیتے تھے
    بھائی اس میں تو ایک راوی صرف یہ کہ رہا ہے کہ وہ وہ ایسا کرتے تھے جیسا کہ محترم حمزہ بھائی نے سمجھانے کی بھی کوشش کی ہے اس طرح تو سیکڑوں باتیں احادیث سے نکال کر دکھائی جا سکتی ہیں پھر تو نہ ابوبکر رضی اللہ عنہ بچیں گے نہ عمر رضی اللہ عنہ نہ اور جلیل القدر صحابی بچیں گے
    یہ تو غیر صحابی کی بات آپ کر رہے ہیں اس طرح تو صحابیوں کی باتیں دوسرے کے خلاف دکھائی جا سکتی ہیں خود فاطمہ رضی اللہ عنھا کی باتیں ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنھما کے خلاف فدک کے مال کھانے کے بارے دکھائی جا سکتی ہیں

    تفصیل مندرجہ ذیل فتوی پہ دیکھ سکتے ہیں
    باغ فدک سے محرومی پر حضرت فاطمۃالزہراء تا دم مرگ ناراض رہیں

    اب اس حدیث میں تو بہت زیادہ احتمالات بن سکتے ہیں اور کچھ تو ایسے ہیں کوئی بھی انکو درست نہیں مانے گا اسکو آج کی مثال سے سمجھتے ہیں
    اس حدیث میں راوی کی طرف سے الزام لگایا گیا ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ہمیں آپس میں مال کھانے اور قتل کرنے کا حکم دیتے ہیں اور جو حدیث عبداللہ بن عمرو نے سنائی تھی اسکی رو سے ایسا کرنا لازمی غلط ہے
    اب کوئی آج کہے کہ فوج والے وزیرستان میں اپنے بھائیوں کو مارنے اور انکا مال کھانے کا حکم دیتے ہیں اور یہ بھی اس حدیث کی رو سے غلط ہے پس کوئی کہنے لگ جائے کہ فوج اپنے آپ کو قتل کرنے اور اپنے لوگوں کے مال کھانے کا حکم دیتی ہے تو کیا یہ الزام درست ہو گا؟
    نوٹ: صحابہ میں جو جنگیں ہوئیں یا اختلافات ہوئے ان میں ایک سے زیادہ احتمالات نکلتے ہیں کہ انہوں نے لڑائی نیک نیتی سے کی ہو گی یہ بھی احتمال ہو سکتا ہے اور بدنیتی سے کی ہو یہ بھی ہو سکتا ہے مگر اسکا تعین کرنے کے لئے گمان کی بجائے باقی زندگی کو جب دیکھتے ہیں تو پھر مجبورا ہمیں غلط احتمالات کو ختم کرنا پڑتا ہے اور یہی کام مرزا نہیں کرتا
     
    Last edited: ‏فروری 04، 2017
    • پسند پسند x 5
    • زبردست زبردست x 2
    • متفق متفق x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  10. ‏فروری 04، 2017 #50
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    اسی طرح عمار رضی اللہ عنہ والی حدیث میں بغاوت کا جو ذکر ہے پہلی بات تو یہ مجھے معلوم نہیں کہ کیا اس پہ کوئی ٹھوس دلیل ہے کہ عمار رضی اللہ عنہ کو معاویہ رضی اللہ عنہ کے لوگوں نے ہی شہید کیا یا کسی فسادی نے شہید کیا میں دیکھ کر بتاوں گا
    دوسری بات کہ اگر ایسا ہوا بھی ہو تو زیادہ سے زیادہ یہ امیر معاویہ کی علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے خلاف بغاوت کہلائی جا سکتی ہے اور ایسی بغاوت تو عائشہ رضی اللہ عنھا نے اور طلحہ و زبیر رضی اللہ عنھما بھی پہلے کر چکے تھے اور عائشہ تو نادم بھی تھیں لیکن ایسی بغاوت کی وجہ سے کوئی گمراہ و کافر تو نہیں ہو جاتا
    اگر مرزا کے ہاں وہ گمراہ اور کافر یا کم از کم طعن کے قابل ہو بھی جاتا ہے تو پھر یہ سارا طعن والا کام انکو عائشہ اور طلحہ اور زبیر حتی کہ پھر حسین کے بارے بھی کرنا چاہئے واللہ اعلم
     
    • پسند پسند x 4
    • مفید مفید x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں