1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

انگوٹھی سے متعلق بعض مسائل

'فقہ عام' میں موضوعات آغاز کردہ از مقبول احمد سلفی, ‏مارچ 10، 2015۔

  1. ‏مارچ 10، 2015 #1
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,218
    موصول شکریہ جات:
    352
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    (1) انگوٹھی سے متعلق علماء کرام کی رائے ہے کہ جسکوانگوٹھی پہننے کی ضرورت ہے اس کے حق میں سنت ہے مثلا حاکم اورقاضی وغیرہ ، لیکن عام لوگوں کے لئے افضل ہے کہ وہ نہ پہنے تاہم زینت کے طورپرپہننا سب کے لئے جائز ہے ۔ (موسوعہ فقہیہ 11/24)


    (2) مختلف احادیث وارد ہونے کی وجہ سے دونوں ہاتھ میں انگوٹھی پہن سکتے ہیں ۔ تاہم بعض اہل علم نے دایاں ہاتھ اور بعض نے بایاں ہاتھ افضل قراردیاہے ۔ دونوں میں الگ الگ مصلحت ہے ۔


    (3) مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بائیں ہاتھ کی سب سے چھوٹی انگلی (خنصر) میں انگوٹھی پہنتے تھے ۔امام نووی رحمہ اللہ نے ذکرکیا ہے کہ مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ مرد سب سے چھوٹی انگلی میں انگوٹھی پہنے گااورعورتیں سب انگلیوں میں۔(شرح نووی علی مسلم 14/298)


    (4) رسول صلی اللہ علیہ وسلم شہادت کی انگلی اوردرمیانی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع کیا ہے (مسلم ،ترمذی)


    (5) امام احمدسے سوال کیاگیاکہ سب سے بہترانگوٹھی کس چیز کی ہے ؟ توانہوں نے جواب دیاکہ چاندی کی انگوٹھی (موسوعہ فقہیہ 11/25)


    (6) سوناکی انگوٹھی مردوں کے لئے حرام ہے لیکن عورتوں کے لئے جائزہے ۔


    (7) انگوٹھی کا زون کتناہو،اس میں اختلاف ہے ۔ حنفیہ کے نزدیک ایک مثقال ،مالکیہ کے نزدیک دومثقال یااس سے کم، شافعیہ کے یہاں تحدیدنہیں، حنابلہ کہتے ہیں ایک مثقال یا اس سے زیادہ بھی ہونے پرکوئی حرج نہیں۔ ایک مثقال 4.25 گرام ہوتاہے ۔


    (8) بعض لوگ عورتوں کے لئے چاندی کی انگوٹھی ممنوع قراردیتے ہیں ، انکاکہناہے کہ یہ مردوں کاشعار ہے ۔اس معاملہ میں درست بات یہ ہے کہ عورت سونے ،چاندی اورموتی وغیرہ کی انگوٹھیاں پہن سکتی ہیں ۔ (شرح نووی 14/293)


    (9) اہل علم اس جانب گئے ہیں کہ گرچہ ایک سے زیادہ انگوٹھی پہنے کا جوازہے اوروہ بھی دونوں ہاتھوں میں مگراسراف وتکبرکے طورپرنہ ہووگرنہ حرام ہے ۔


    (10) اگرانگوٹھی پر احترام کا کلمہ ہوتو حمام جاتے وقت اسے اتاردے جیساکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا۔


    (11) انگوٹھی پرجاندارچیزوں کانقش بنانا جائز نہیں اور نہ غیرمسلموں کے مذہبی شعارکا نقش ۔


    (12) مہریاہدیہ کے طورپربیوی کوانگوٹھی دیناجائزہے البتہ شادی میں انگوٹھی کی رسم اداکرنے کی دلیل نہیں ملتی بلکہ یہ غیروں کی تقلید ہے ۔


    (13) جس کے ہاتھ میں انگوٹھی ہووہ وضوکرتے وقت اسے حرکت دے کراندرتک پانی پہنچائے ۔


    (14) اسی طرح غسل میں بھی انگوٹھی کوحرکت دے کرپانی پہنچانا ضروری ہے ، اگرانگوٹھی حرکت نہ کرے تو اسے نکال دے ۔


    (15) جمہوراہل علم کا خیال ہے کہ وضوکے برعکس تیمم میں انگوٹھی نکالناواجب ہے ۔


    (16) حالت احرام میں انگوٹھی پہننے میں کوئی حرج نہیں ۔(فتاوی ابن باز)


    (17) انگوٹھی اگرنصاب تک پہنچے تو اس میں بھی زکوۃ ہے ۔


    (18) میت کے ساتھ انگوٹھی کودفن کرنامال کا ضیاع ہے ، لہذا اسے اتارلیا جائے ۔


    (19)لوہے کی انگوٹھی پہننے میں اختلاف ہے مگر راحج قول یہی ہے کہ لوہے کی انگوٹھی پہن سکتے ہیں ۔ اس دلیل اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا تھا جبکہ اس کے پاس بیوی کو مہر دینے کے لیے کچھ نہیں تھا:

    التمس ولو خاتما من حدید (بخارى و مسلم)

    "ایک انگوٹھی تلاش کرکے لاؤ چاہے لوہے کی کیوں نہ ہو"۔

    جن علماء نے عدم جواز کا فتوی دیا ہے انہوں نے اس حدیث پر اعتماد کیا ہے آپ صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے:

    مالی أری علیک حلية أھل النار (أبوداؤد، ترمذى)

    "کیا بات ہے کہ میں تیرے ہاتھ میں جہنمیوں کا زیوردیکھ رہا ہوں"۔

    مگر یہ روایت ضعیف ہے ۔


    آخرمیں آپ سب سے اہم بات شیرکرناچاہتے ہیں کہ بعض لوگ انگوٹھی کے نام پر تجارت کرتے ہیں ، ان کادعوی ہے کہ یہ قسمت بنانے والاہے ۔ ایسے مکروفریب دینے والوں سے پرہیز کریں کیونکہ اس میں نفع ونقصان کی کچھ بھی طاقت نہیں ہے ، جو انگوٹھی پراس قسم کا بھروسہ رکھتاہے وہ شرک کرتاہے اور شرک کا ٹھکانہ جہنم ہے ۔
     
    • زبردست زبردست x 3
    • معلوماتی معلوماتی x 2
    • مفید مفید x 2
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  2. ‏مارچ 11، 2015 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,683
    موصول شکریہ جات:
    8,305
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    جزاکم اللہ خیرا۔
     
  3. ‏مارچ 14، 2015 #3
    sabm90

    sabm90 مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 11، 2015
    پیغامات:
    17
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    9

    پتھر کونسا سنت ہے؟ یا پتھر کے بغیر بھی سنت ادا ہو جائیگی؟
     
  4. ‏مارچ 16، 2015 #4
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    محترم بھائی !۔۔۔ایک مسئلہ سمجھ نہیں آیا کہ جب ان حدیث میں عورت کا بالخصوص ذکر نہیں تو کیسے کہا جا سکتا ہے کہ عورت تمام انگلیوں میں پہن سکتی ہے ؟ مسلم اور ترمذی کی احادیث میں واضح درمیانی اور شہادت کی انگلی میں انگوٹھی سے منع کیا گیا ہے ، پھر عورت اس حکم سے مستثنی کیسے ہے ؟
     
  5. ‏مارچ 16، 2015 #5
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,218
    موصول شکریہ جات:
    352
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    انگوٹھی میں نگینہ لگانا درست ہے اور یہ بات حدیث سے ثابت ہے ۔چنانچہ انس رضى الله عنہ کابیان ہے کہ ”نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ بھی چاندی کا تھا“ ۔ (بخاری )

    میں نے پتھر کے نگینے سے متعلق جو تنبیہ کی ہے وہ اعتقاد باطل سے متعلق ہے یعنی جو لوگ نگینے والی انگوٹھی اس عقیدے سے استعمال کرتے ہیں کہ یہ ہماری قسمت بنائے گی تو یہ جائز نہیں ہے ۔
     
  6. ‏مارچ 16، 2015 #6
    sabm90

    sabm90 مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 11، 2015
    پیغامات:
    17
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    9

    نگینہ چاندی کا مطلب؟
    عقیق کی بھی روایات ہیں؟
     
  7. ‏مارچ 16، 2015 #7
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,218
    موصول شکریہ جات:
    352
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    عورت ہرانگلی میں انگوٹھی پہن سکتی ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ اس کا تعلق زینت سے ہے اور عورت کے لئے اس کی ممانعت کی کوئی دلیل نہیں ہے ۔ممانعت والی روایت مردوں کے ساتھ خاص ہے ۔

    عورت کے درمیانی اور شہادت کی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے متعلق شیخ ابن عثیمین ؒ سے سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا:

    میرے لئے یہ بات ظاہر ہے کہ ان اگلیوں میں پہننا عورتوں کی عادت میں سے ہو تو ان انگلیوں میں پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ جہاں تک ممانعت والی حدیث کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں کہا جائے گا کہ یہ مردوں کے ساتھ خاص ہے ، البتہ عورتوں کی زینت کے لئے جائز ہے ۔(فتاوی نور علی الدرب سے ماخوذ)
     
  8. ‏مارچ 16، 2015 #8
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,218
    موصول شکریہ جات:
    352
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    چاندی کا نگینہ – مطلب انگوٹھی کے حلقے میں جو نگینہ جڑا تھا وہ چاندی کا تھا۔

    جہاں تک آپ ﷺ کے عقیق کے استعمال کا سوال ہے تو ایک روایت ہے جو مسلم شریف میں آئی ہے ۔

    عن أنس بن مالک قال کان خاتم النّبي صلی اللّہ علیہ وسلم من ورق وکان فصّہ حبشیًا(رواہ مسلم2094)

    انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہاکہ نبی ﷺ کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ حبشی(پتھر) تھا۔

    اس حدیث میں مذکور حبشی نگینہ کون سا تھا ؟ اس بارے علماء کے متعدد اقوال ہیں ، ان میں سے ایک قول عقیق بھی ہے ۔ (شرح نوویؒ)
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں