1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اولاد کی تربیت میں والدین کا کردار

'معاشرت' میں موضوعات آغاز کردہ از حافظ عبدالکریم, ‏مارچ 11، 2017۔

  1. ‏مارچ 11، 2017 #1
    حافظ عبدالکریم

    حافظ عبدالکریم رکن
    جگہ:
    کڑمور
    شمولیت:
    ‏دسمبر 01، 2016
    پیغامات:
    137
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    31

    اولاد کی تربیت میں والدین کا کردار
    اللہ کی بے شمار نعمتوں‛ نوازشوں اور احسانات میں سے ایک عظیم نعمت اولاد اور بچے ہیں ۔ اس نعمت کی قدر ان لوگوں سے معلوم کی جاسکتی ہے جو اس سے محروم ہیں ۔
    اولاد اللہ کی امانت ہیں ۔ قیامت کے دن والدین سے ان کے بارے میں باز پرس ہوگی ۔ آیا انھوں نے اس ذمہ داری کو محسوس کر کے اس کی حفاظت کی تھی یا اسے برباد کیا تھا۔(چند اصول برائے تربیت)
    ⭐ تربیت میں والدین کا کردار:-
    دینی و اسلامی تربیت:
    والدین پر یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اپنی اولاد کو دین سے واقف کرائے جب ان کی اولاد سات سال کی عمر کو پہنچ جائے انھیں نماز کا حکم دیں جیسا کہ ابوداود کی روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : "جب بچے سات سال کی عمر کو پہنچے تو نماز کا حکم دو اور اگر یہ بچے دس سال کی عمر کو پہنچ جائے اور نماز نہ پڑھے تو انہیں مارو"(حسن:صحیح ابو داود:466)
    روزہ:
    چھوٹے بچوں کو روزہ رکھوانے میں کوی حرج نہیں ۔ جیسا کہ حافظ ابن حجر ؒ فتح الباری میں فرماتے ہیں : "چھوٹے بچوں کا روزہ رکھنا جائز ہے اگر چکہ وہ شریعت کے مکلف نہیں ۔( فتح الباری ۔ بحوالہ: اولاد اور والدین کی کتاب)
    اخلاقی تربیت:
    دس سال کی عمر میں بچوں کو بستر سے الگ کردیا جائے ۔ " جب بچے دس سال کے ہوجائیں اور وہ نماز نہ پڑھے تو انہیں مارو اور ان بچوں کو بستر سے الگ کردو-"(ابو داود)
    آداب گفتگو:
    والدین کو چاہئے کہ وہ اپنی اولاد کو گفتگو کے آداب سے واقف کرائے اور صحیح انداز گفتگو انہیں سکھلائیں۔
    پردہ کا حکم:
    جب ہمارے بچیاں بڑی ہوجائیں تو انہیں پردہ کرنے کا سختی سے حکم دیں تاکہ ہماری بچیاں مستقبل میں کامیاب زندگی گزار سکے
    جسمانی تربیت:
    والدین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کا ہر لحاظ سے خیال رکھیں خصوصا صحت کے معاملہ میں ۔
    والدین کو چاہئے کہ اپنی اولاد کو مسواک کرنے ترغیب دلائیں اور اسی طرح کھیل کود پر بھی توجہ دلائیں کیونکہ یہ وہ چیزیں ہیں جن پر عمل کرنے سے بچے تندرست رہتے ہیں ۔
    اجتماعی و معاشرتی تربیت:-
    صلہ رحمی:
    والدین اپنی اولاد کو صلہ رحمی کے پہلو سے واقف کرائیں
    پڑوسیوں کے حقوق سے آگاہی:
    اگر والدین اپنے بچوں کو پڑوسیوں کے حقوق سے آگاہ نہ کرائیں تو یہ بچے آگے چل کر فتنہ و فساد کا ذریعہ بن سکتے ہیں ۔
    آپ ﷺ نے پڑوسیوں کے جو حقوق بیان کئے ہیں انہیں اولاد کے سامنے لایا جائے ۔
    ایثار و قربانی:
    والدین اپنے بچوں کو ایثار و قربانی کی تعلیم دیں اور ان کے اندر قربانی کا جذبہ پیدا کریں۔
    جھوٹ :
    معاشرہ کے اندر پھیلی ہوی گندی برائیوں سے اپنے بچوں کو رکھا جائے۔
    آج کے معاشرہ میں جھوٹ عام ہوچکا ہے لہذا ہم اپنے بچوں کو جھوٹ جیسی عادت سے بچائیں۔
    تربیت میں ماں کا کردار:-
    بچے کا پہلا مدرسہ ماں کی گود کہلاتا ہے۔ اسی لیے ماں پہلا مدرسہ کہلاتی ہے ۔
    ماں کا اکثر وقت گھر میں گزرتا ہے اور ماں اپنے بچے کی دیکھ بھال صحیح طریقہ سے کرسکتی ہے ۔
    خلاصۂ بحث:-
    اولاد کی تربیت میں والدین کا کردار بہت اہم ہوتا ہے اس لیے والدین کو چاہئے کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت کا خاص خیال رکھیں ‛ ورنہ اولاد کے بگڑنے کے امکانات بہت ہیں ۔
    ﷲ تعالی والدین کو اولاد کی صحیح تربیت کرنے کی توفیق عطاء فرمائے (آمین)
    تحریر: حافظ عبد الکریم کڑموری
    〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں