1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اہل بیت کون ؟ رافضی اعتراض اور سنی جواب

'اہل تشیع' میں موضوعات آغاز کردہ از خضر حیات, ‏ستمبر 28، 2013۔

  1. ‏نومبر 07، 2013 #11
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,339
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    مفید اور نتیجہ خیز بحث و مباحثہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہوتی ہے کہ فریقین ایسی بات کو موضوع بحث نہیں بناتے جو طرفین کے ہاں متفق علیہ ہو ۔ بلکہ ہر کوئی محل نزاع کو سمجھ کر اس کی تعین و تحریر کے بعد اپنے موقف کو بادلیل ثابت کرنے کی کوشش کرتاہے ۔
    میں سمجھتا ہماری اس گفتگو کم ازکم یہ بات ناپید ہے ۔ آپ ان باتوں پر زور دے رہے ہیں اور دلائل دے رہے ہیں جومیرے نزدیک بھی مسلم ہیں جبکہ جس چیز کی دلیل کی ضرورت ہے اس پر آ نہیں رہے ۔ مثلا آپ نے کہا :
    ہم نے کب انکار کیا ہے کہ حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کے شارح و مفسر اول ہیں ۔
    اور :
    جناب ہم نےکب اس تفسیر کا انکار کیا ہے ؟ اس سے یہ ثابت ہوتا ہےکہ جن جن کو آپ نے اپنی چادر کے نیچے کیا وہ اہل بیت میں سےہیں ۔ کس نے اس بات کا انکار کیا ہے ؟
    آپ کو دلیل اس بات کی دینی چاہیے کہ جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ امہات المؤمنین اہل بیت میں سےنہیں ہیں میں نےپہلے بھی گزارش کی تھی کہ :
    آ پ تسلیم کرتےہیں نا کہ (إنما یرید اللہ ۔۔۔ تطہیرا ) سے پہلے بھی اور بعد میں بھی امہات المؤمنین کو خطاب ہے ۔ آپ کے پاس کیا دلیل ہے کہ آیت کے اس خاص حصے (إنما یرید اللہ ۔۔۔ تطہیرا ) میں امہات المؤمنین اس خطاب سے خارج ہوگئ ہیں ؟ کوئی دلیل دیں صرف اپنا ذوق ہم پر لاگو نہ کریں ۔
    جس واقعے کو آپ اس آیت کی عملی تفسیر قرار دے رہے ہیں اس میں ان چار کے علاوہ بقیہ کی نفی کہاں ہے ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمۃ رضی اللہ عنہا سے کہا تھا کہ تم اہل بیت میں سےنہیں ہو لہذا تم اس چادر کے اندر نہیں آسکتی ؟
    جس کا جواب آپ نے اپنے تئیں یوں فرمایا ہے کہ :

    آپ سارا زور اس بات پر دے رہے ہیں کہ حضرت ام سلمۃ اور عائشہ رضی اللہ عنہما کو چادر کے اندر شامل نہیں کیا ۔

    آپ یہ دلیل دیں کہ جو چادر کے اندر نہیں شامل ہوئے ان کے اہل بیت ہونے کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نفی فرمائی ہے ۔

    حضور نے یہ جو قولی و فعلی تفسیر فرمائی میں اس کو مانتا ہوں اور ویسے بھی میں کون ہوتا ہوں کہ میں حضور کی تفسیر کا انکار کرسکوں ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس تفسیر سے ثابت کیا ہور ہا ہے ؟ صرف یہی کہ چادر کے نیچے آنے والے اہل بیت میں سےہیں ۔ اس میں یہ تو کہیں نہیں کہ جو چادر کے اندر نہیں تھے یا جن کو حضور نے چادر کے اندر شامل نہیں کیا وہ اہل بیت میں سے نہیں ہیں ۔


    یہ تفسیر آپ کے موقف کی دلیل دو صورتوں میں ہوسکتی ہے کہ اس میں دو میں سے ایک بات ہو :

    1۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو کہ یہ ہی میرے اہل بیت ہیں ۔
    2۔ یا آپ نے فرمایا ہوکہ اس کے علاوہ اور کوئی میرے اہل بیت میں سے نہیں ہے ۔


    بھائی میں نے صحیح مسلم کو پڑھا ہے کہ نہیں پڑھا ۔ اس کا اس بحث سے کیا تعلق ہے ؟ آپ اپنے موقف کی تائید میں جس کو بھی دلیل کہا جاسکتا ہے پیش کریں میں آپ کو اپنی مقروءات و مسموعات کا پابند نہیں کرتا ۔
     
    • زبردست زبردست x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏نومبر 09، 2013 #12
    علی بہرام

    علی بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2013
    پیغامات:
    1,216
    موصول شکریہ جات:
    161
    تمغے کے پوائنٹ:
    105

    صرف یہی ایک بات ہے جو میں سمجھتا ہوں کہ جس کا جواب نہیں دیا گیا
    جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آیت تطہیر نازل ہوئی تو آپ نے خود سمت چادر میں پنج تن پاک کولیا اور اس آیت تطہیر کی عملی تفسیر بیان فرمائی اس کا ایک معنی یہ بھی بنتا ہے کہ یہ تفسیر سورہ احزاب کی پوری آیت 33 کی تفسیر نہیں بلکہ صرف آیت تطہیر ہی کی تفسیر ہے اور اللہ تعالیٰ نے صرف آیت تطہیر میں ہی اہل بیت فرمایا ہے اس سے پہلے صرف امہات المومینن سے خطاب ہے کہ اے نبی کی عورتوں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چادر میں پنج تن پاک جمع ہوگئے تو حضرت ام المومینن حضرت ام سلمیٰ نے درخواست کی کہ میں بھی اس چادر میں آجاؤں تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ تم اپنی جگہ رہو تم خیر پر ہو یہاں یہ نہیں فرمایا کہ تم پہلے ہی اہل بیت میں ہو بلکہ فرمایا کہ خیر پر ہو اس کا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تم تمام مومنین کی ماں ہو
     
  3. ‏نومبر 09، 2013 #13
    علی بہرام

    علی بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2013
    پیغامات:
    1,216
    موصول شکریہ جات:
    161
    تمغے کے پوائنٹ:
    105

    1۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو کہ یہ ہی میرے اہل بیت ہیں ۔
    اس کو اگر عربی بیان کیا جائے تو کیا الفاظ ہونگے
     
  4. ‏نومبر 10، 2013 #14
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,339
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    یہ تفسیر آپ کے موقف کی دلیل دو صورتوں میں ہوسکتی ہے کہ اس میں دو میں سے ایک بات ہو :
    1۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو کہ یہ ہی میرے اہل بیت ہیں ۔
    2۔ یا آپ نے فرمایا ہوکہ اس کے علاوہ اور کوئی میرے اہل بیت میں سے نہیں ہے ۔
    میرے خیال سے اگر آئندہ آپ مزید کچھ لکھنے کا ارادہ رکھتے ہوں تو ان دو میں سے کوئی ایک بات ثابت کیجیے گا ۔ ورنہ ایک ہی بات کو بار بار دھرانے کا کوئی فائدہ نہیں ۔

    1۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی تو نہیں فرمایا کہ تم اہل بیت میں سےنہیں ہو ۔
    2۔ جو خیر پر ہو وہ اہل بیت میں سے نہیں ہوسکتا ؟ آپ کے نزدیک جو اہل بیت ہیں وہ خیر پر نہیں تھے ؟ (نعوذ باللہ من ذلک )
    اہل بیت سے ہونا اور خیر پر ہونا یہ دونوں چیزیں اکٹھی کیوں نہیں ہوسکتیں ؟
    3۔ اس کا یہ معنی کیوں نہیں ہوسکتا کہ تم تو پہلے ہی بنص قرآن اس خیر ( اہل بیت میں سے ہونا ) کو حاصل کرچکی ہو ؟
    جو تمام مؤمنوں کی ماں ہو وہ اہل بیت میں سے کیوں نہیں ہوسکتی ؟
    کلام کے اندر حصر پیدا کرنے کے لیے مختلف الفاظ اور اسالیب ہیں آپ کوئی سا بھی ثابت کردیجیے ۔
     
    • زبردست زبردست x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  5. ‏نومبر 10، 2013 #15
    علی بہرام

    علی بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2013
    پیغامات:
    1,216
    موصول شکریہ جات:
    161
    تمغے کے پوائنٹ:
    105

    یہ ایک دلیل کی فرمائش آپ کی طرف تھی وہ حاضر ہے
    حضرت زید بن ارقم سے کسی نے اہل بیت کے متعلق جب معلوم کیا تو آپ نے یہ ارشاد فرمایا
    وفيه : فقلنا : من أهلِ بيتِه ؟ نساؤُه ؟ قال : لا . وايمُ اللهِ ! إنَّ المرأةَ تكون مع الرجلِ العصرَ من الدَّهرِ . ثم يُطلِّقُها فترجع إلى أبيها وقومِها . أهلُ بيتِه أصلُه ، وعصبتُه الذين حُرِموا الصدقةَ بعده " .
    صحيح مسلم - الصفحة أو الرقم: 2408
    یعنی جب حضرت زید بن ارقم سے پوچھا گیا کہ کیا بیویاں بھی اہل بیت میں ہیں تو آپ نے فرمایا کہ نہیں اہل بیت وہ ہیں جن پر صدقہ حرام ہے
     
  6. ‏نومبر 10، 2013 #16
    راجا

    راجا سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 19، 2011
    پیغامات:
    734
    موصول شکریہ جات:
    2,555
    تمغے کے پوائنٹ:
    211

    دو باتیں نوٹ کیجئے:
    پہلی تو یہ کہ آیت تطہیر صراحت کے ساتھ ازواج کو اہل بیت میں شامل کر رہی ہے، اس سے آپ کو بھی انکار نہیں۔ ہاں ، آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تفسیر کی بنا پر اس کا انکار فرماتے ہیں، نا کہ آیت کی بنا پر۔
    دوسری بات یہ کہ جب قرآن نے بصراحت بتا دیا کہ اللہ تعالیٰ نے گندگی کو اہلبیت سے دور کر دیا ہے۔ تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اہل بیت کو چادر میں جمع کر کے پھر وہی دعا اللہ سے مانگنے کا کیا معنیٰ؟ یعنی اللہ تو کہہ رہا ہے کہ میں نے اہل بیت سے گندگی دور کر دی۔ اور اس کی تفسیر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ سے اللہ تعالیٰ سے سوال کر رہے ہیں کہ یا اللہ ان سے گندگی دور کر دے؟ چہ معنی دارد۔ لہٰذا یہاں یہ اہم بات ثابت ہوتی ہے کہ:

    اس آیت میں چونکہ ازواج النبی پہلے ہی سے شامل تھیں، اور جن کے بارے تطہیر کا فیصلہ اللہ تعالیٰ نازل فرما چکے تھے، لہٰذا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج کے علاوہ اہل بیت کوچادر میں شامل کر کے اللہ سے دعا کی کہ جیسے تو نے ازواج کو طہارت بخشی ہے، میرے ان اہل بیت کی بھی تطہیر فرما دیجئے۔

    پھر یہ بھی نوٹ کیجئے کہ حضرت ام سلمیٰ رضی اللہ عنہا ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لئے نامحرم تھیں۔ ایک ہی چادر میں ان کو جمع کرنا محال تھا۔لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ کہا کہ تم خیر پر ہو، سے مراد وہی ہے جس کی جانب خضر حیات صاحب نے بھی اشارہ کیا کہ تم تو پہلے ہی آیت تطہیر کی رو سے اس مقام کو حاصل کر چکی ہو۔

    بہرام صاحب، ایک سوال کا صریح جواب دیجئے۔ اگر اس آیت کی اس تفسیر کی رو سے فقط یہی پانچ لوگ اہل بیت میں شامل ہیں، تو آپ اپنے دیگر ائمہ معصومین کو کیسے اہل بیت میں شامل کریں گے؟ چادر والی روایت میں حصر ہے ہی نہیں، آپ کے اصول پر حصر ہے ، تو بھی فقط اہل سنت کی مخالفت کے لئے، ورنہ اس حصر کے عملاً قائل آپ بھی نہیں۔
     
    • زبردست زبردست x 4
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏نومبر 12، 2013 #17
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,178
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    شیعہ كہتے ہیں کہ آیت کریمہ:
    إِنَّما يُريدُ اللَّـهُ لِيُذهِبَ عَنكُمُ الرِّجسَ أَهلَ البَيتِ وَيُطَهِّرَكُم تَطهيرًا
    میں ازواج مطہرات شامل نہیں۔

    ان سے سوال ہے کہ اس سے پیچھے اور آگے کا خطاب کس سے ہے؟؟؟
    وَقَرنَ فى بُيوتِكُنَّ وَلا تَبَرَّجنَ تَبَرُّجَ الجـٰهِلِيَّةِ الأولىٰ ۖ وَأَقِمنَ الصَّلوٰةَ وَءاتينَ الزَّكوٰةَ وَأَطِعنَ اللَّـهَ وَرَسولَهُ ۚ إِنَّما يُريدُ اللَّـهُ لِيُذهِبَ عَنكُمُ الرِّجسَ أَهلَ البَيتِ وَيُطَهِّرَكُم تَطهيرًا ﴿٣٣﴾ وَاذكُرنَ ما يُتلىٰ فى بُيوتِكُنَّ مِن ءايـٰتِ اللَّـهِ وَالحِكمَةِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ كانَ لَطيفًا خَبيرًا ﴿٣٤﴾
     
  8. ‏نومبر 12، 2013 #18
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,178
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    شیعہ حضرات سے سوال ہے کہ سورۂ ہود کی آیت کریمہ:
    ﴿ قالوا أَتَعجَبينَ مِن أَمرِ اللَّـهِ ۖ رَحمَتُ اللَّـهِ وَبَرَكـٰتُهُ عَلَيكُم أَهلَ البَيتِ ۚ إِنَّهُ حَميدٌ مَجيدٌ ٧٣ ﴾
    میں سیدہ سارہ، جبکہ سورۃ القصص کی آیت کریمہ:
    فَلَمّا قَضىٰ موسَى الأَجَلَ وَسارَ بِأَهلِهِ ءانَسَ مِن جانِبِ الطّورِ نارًا قالَ لِأَهلِهِ امكُثوا إِنّى ءانَستُ نارًا لَعَلّى ءاتيكُم مِنها بِخَبَرٍ أَو جَذوَةٍ مِنَ النّارِ لَعَلَّكُم تَصطَلونَ ﴿٢٩﴾
    میں سیدنا موسیٰ﷤ کی بیوی شامل ہیں یا نہیں؟؟؟
     
  9. ‏نومبر 12، 2013 #19
    علی بہرام

    علی بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2013
    پیغامات:
    1,216
    موصول شکریہ جات:
    161
    تمغے کے پوائنٹ:
    105

    یاد رہے کہ اس آگے یا پیچھے والی آیت میں اہل بیت کے الفاظ کے ساتھ خطاب نہیں اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف اہل بیت جس آیت میں کہا گیا صرف اس کی ہی تفسیر فرمائی ہے نہ آگے والی آیات کی تفسیر فرمائی نہ اس سے پیچھے والی آیت کی تفسیر فرمائی یہ بات ذہین میں رکھے اور یہ ایک بار نہیں بلکہ اہل سنت کی صحیح حدیث کے مطابق ایسا دو بار ہوا
     
  10. ‏نومبر 12، 2013 #20
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344


    وأنا تارك فيكم ثقلين أولهما كتاب الله فيه الهدى والنور فخذوا بكتاب الله واستمسكوا به فحث على كتاب الله ورغب فيه ثم قال وأهل بيتي أذكركم الله في أهل بيتي أذكركم الله في أهل بيتي أذكركم الله في أهل بيتي فقال له حصين ومن أهل بيته ؟ يا زيد أليس نساؤه من أهل بيته ؟ قال نساؤه من أهل بيته ولكن أهل بيته من حرم الصدقة بعده قال وهم ؟ قال هم آل علي وآل عقيل وآل جعفر وآل عباس قال كل هؤلاء حرم الصدقة ؟ قال نعم [صحيح مسلم-ن 4/ 1873]۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں