1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اہل سنت کا منہج تعامل

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏دسمبر 14، 2019۔

  1. ‏دسمبر 14، 2019 #1
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,529
    موصول شکریہ جات:
    6,615
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    اہل سنت کا منہج تعامل
    کتاب و سنت اور فہم سلف کی روشنی میں


    بسم اللہ لرحمن الرحیم
    عرض مؤلف
    الحمدللہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
    إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ (النحل ۹۰)
    ’’بیشک اللہ تعالیٰ عدل، احسان اور رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے۔‘‘
    وَأَقْسِطُوا ۖ إِنَّ اللَّـهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ (الحجرات ۹)
    ’’اور انصاف کرو، بے شک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔‘‘
    یہ دونوں آیات اس بات کی دلیل ہیں کہ عدل و انصاف ایک مومن کی طبعی صفت ہے جو اس سے جدا نہیں ہوتی وہ اپنے مخالفین کے بارے میں عدل و انصاف سے فیصلہ کرتا ہے، ظلم و زیادتی سے دور رہتا ہے، افراط و تفریط کے درمیان اعتدال کا راستہ اپناتا ہے۔ اعتدال کا راستہ صراط مستقیم ہے۔ افراط و تفریط دونوں مذموم ہیں۔ شیطان افراط و تفریط کے ذریعے صراط مستقیم سے ہٹانا چاہتا ہے ۔ابلیس نے اللہ تعالیٰ کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا :
    قَالَ فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ ﴿١٦﴾ ثُمَّ لَآتِيَنَّهُم مِّن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَن شَمَائِلِهِمْ ۖ وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ ﴿١٧﴾(الاعراف ۱۶،۱۷)
    ’’کہنے لگا تو نے مجھے گمراہی میں مبتلا کیا ہے لہذا اب میں تیری صراط مستقیم پر انکو گمراہ کرنے کے لیے بیٹھوں گا پھر انسانوں کو آگے سے، پیچھے سے، دائیں سے اور بائیں سے غرض ہر طرف سے گھیر لوں گا اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا‘‘
    گویا اس نے اپنی زبان سے اعلان کیا کہ وہ ہر سمت اور ہر پہلو سے انسان پر حملہ کرے گا۔ وہ اسکے مشاہدات، احساسات، جذبات اور خواہشات کے ذریعے اس کے اندر گھسنے کی کوشش کرے گا البتہ ہمارے لیے یہ بہت بڑی خوشخبری ہے کہ اگر ہم صراط مستقیم پر قائم رہنے کا عزم کر لیں اور شیطان کے پیدا کردہ شبہات و شہوات کا اللہ کے فضل سے مقابلہ کریں تو وہ ہمیں گمراہ نہیں کر سکتا۔
    إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ (بنی اسرائیل ۶۵)
    ’’بلاشبہ میرے بندوں پر قطعا تیرا بس نہیں چلے گا‘‘
    آج’’ اہل سنت کے منہج تعامل‘‘ کے بارے میں بعض دعاۃ و مبلغین افراط و تفریط کا شکار ہیں اس سے بچتے ہوے صراط مستقیم واضح کرنا مجھ جیسے طالب علم کے لیے ایک انتہائی مشکل کام تھا لیکن الحمدللہ سعودی عرب کے دار الأفتاء کی اللجنۃ الدائمہ کے فتاوی و بحوث، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے فتاویٰ پر مشتمل کتاب ’’اہل سنت فکر و تحریک‘‘ اور دارالتربیہ فیصل آباد کی شائع کردہ ’’مقالات تربیت‘‘ شیخ مقصود الحسن فیضی حفظہ اللہ کی ’’وفاداری یا بیزاری ‘‘ سمیت جید علمائے کرام کی کئی کتابوں میں اس مسئلے کو واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ میں نے علمائے کرام کے انہی حوالہ جات کو جمع کیا ہے۔ میں ان تمام معزز و محترم علماء کرام کا ممنون ہوں جنہوں نے اپنے قیمتی اوقات میں سے وقت نکال کر میری کتاب کا مطالعہ کیا اور ان کے تبصروں سے مجھے حوصلہ ملا اور یقینا ان کی تائید سے عامۃ المسلمین صحیح معنوں میں اس کتاب سے استفادہ کر سکیں گے۔ خصوصاً شیخ الحدیث محمد رفیق اثری، شیخ القرآن عبدالسلام رستمی، ڈاکٹر عبدالرشید اظہر، شیخ عبدالعزیز نورستانی حفظہم اللہ کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں جنہوں نے ایک طالب علم کی دقیق مباحث پر مشتمل کتاب کا مطالعہ کیا اور تبصرہ کیا کہ کتاب ھذا میں اعتدال و توازن اور عدل کا پہلو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ میں شیخ عبدالغنی محمدی حفظہ اللہ کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جن کی زیدی برادران سے محبت کی بنا پر میں شیخ حافظ الیاس اثری، پروفیسر محمد سعید کلیروی اور محمد عباس انجم گوندلوی حفظہم اللہ کی تائید حاصل کر پایا ہوں۔ میں شیخ الحدیث عبدالرحمن چیمہ اور شیخ محمد زکریا زکی حفظہما اللہ کا بھی مشکور جنہوں نے کتاب کی تائید فرمائی۔ اس کے ساتھ ساتھ برادرم حافظ سید طیب الرحمن حفظہ اللہ کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کرنا ضروری سمجھتا ہوں جن کے تنقیدی تبصرہ کی بدولت مجھے کتاب کے کئی مقامات پر اصلاح کرنے کا موقعہ ملا۔ برخوردار سید عبدالعلام اور سید عبدالسلام نے تعامل مع المخالف پر عرب علماء کرام کے بہت سے فتاویٰ جمع کر کے کتاب کے حسن میں اضافہ کیا اللہ تعالیٰ ان کے لیے بھی زاد آخرت بنائے اور انہیں جزائے خیر دے۔ اور اس کتاب کو زوال پذیر امت مسلمہ کی اصلاح کا باعث بنائے۔ آمین۔
    علمائے کرام سے گزارش ہے کہ اگر اس میں منہج اہل سنت یعنی منہج صحابہ و سلف صالحین سے ہٹی ہوئی کوئی بات ہو تو اصلاح فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔
    ڈاکٹر سید شفیق الرحمن
     
  2. ‏دسمبر 14، 2019 #2
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,529
    موصول شکریہ جات:
    6,615
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    منہج سلف کا مفہوم اور اہمیت

    سلف اور منہج سلف کا مفہوم و معنی
    منہج سلف سے مراد دین کو سمجھنے کا وہ منہج ہے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین عظام اور تبع تابعین رحمھم اللہ کے ہاں پایا گیا۔ جسے ائمہ اہل سنت نے اپنی کتب میں محفوظ کرتے ہوئے ہم تک منتقل کیا۔ اس منہج پر چلنے والے گروہ کو اہل سنت و الجماعت کہتے ہیں اور اس کو ترک کرنے والے گروہ اہل بدعت کہلاتے ہیں۔ علامہ خلیل ھراس رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
    ’’جماعت کا مطلب ہے اجتماع، اس کی ضد فرقہ ہے۔ جب ’’جماعت‘‘ کا لفظ ’’سنت‘‘ کے ساتھ بولا جائے مثلاً ’’اہل السنۃ والجماعۃ‘‘ تو وہاں اس امت کے سلف مراد ہوتے ہیں یعنی صحابہ، اور تابعین جو اللہ کی کتاب اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مطہرہ سے ثابت شدہ حق صریح پر رہے ہوں‘‘۔(شرح الواسطیۃ از ھراس ص:۱۶)

    منہج سلف کی دو اساسی بنیادیں مصدر تلقی اور منہج تلقی ہیں
    مصدر تلقی
    دین کہاں سے لینا ہے اسے مصدر تلقی کہتے ہیں۔ دین کے مصدر صرف اور صرف کتاب و سنت ہیں، اس کے علاوہ کوئی چیز دین کا مصدر نہیں ہے۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے پاس دو چیزیں چھوڑ چلا ہوں جب تک تم انہیں مضبوطی سے پکڑے رکھو گے ہرگز گمراہ نہ ہو گے ایک اللہ کی کتاب دوسری اس کے رسول کی سنت۔ (المستدرک علی الصحیحین کتاب العلم ۱/۹۳ )
    کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ ذریعہ ہے جس سے ہمارے ایمان اور عمل کی اصلاح ہوتی ہے۔ کتاب و سنت وہ ذخیرہ ہے جس کی تازگی کا کوئی بدل نہیں۔ کوئی چیز ان کا متبادل نہیں، ہر دور میں ایمان کی پیاس صرف اور صرف کتاب و سنت سے بجھ سکتی ہے۔ کیونکہ یہ ایک مومن کا اصل نصاب ہے ایک طالب علم قرآن و سنت سے فائدہ اٹھانے کے لیے منطق اور فلسفہ کا محتاج نہیں۔
    اس لیے ہر وہ شخص اور گروہ جو دین لینے کے لیے کتاب و سنت کے علاوہ کسی اور چیز کو مصدر تسلیم کرتا ہے گمراہ اور بدعتی ہے۔ جیسے رافضہ اپنے ائمہ کے اقوال کو، معتزلہ ’’عقل‘‘ کو، صوفیہ ’’کشف و الہام‘‘ کو، سیکولر ’’خواہشات نفس‘‘ کو دین کے مصدر کی حیثیت دیتے ہیں۔ یہ تمام گروہ ہلاکت کی طرف بلانے والے ہیں، عقیدہ کی اصطلاح میں انہیں اہل بدعت کہتے ہیں۔
    اہل سنت کے ہاں دین کے مصادر کے حوالے سے اتفاق پایا جاتا ہے کہ یہ کتاب و سنت کے علاوہ اور کوئی نہیں۔ جس طرح کتاب اللہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی وحی ہے اسی طرح حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی اللہ کی وحی ہے۔ ان میں سے کسی ایک کا انکار بھی کفر ہے۔

    منہج تلقی
    دین کیسے لینا ہے؟ اسے ’’منہج تلقی‘‘ کہتے ہیں۔ منہج کے حوالے سے اہل سنت کی طرف منسوب گروہوں اور افراد میں کئی ایک خامیاں پائی جاتی ہیں۔

    مصدر تلقی اور منہج تلقی میں فرق نہ کرنا
    بہت سارے لوگ مصدر تلقی اور منہج تلقی میں فرق نہیں کرتے۔ چنانچہ اگر انہیں کہا جائے تم نے دین کا فہم کہاں سے حاصل کیا ہے؟ وہ جواباً کہتے ہیں ’’قرآن و حدیث ‘‘ سے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ رہتی دنیا تک حق کا پیمانہ قرآن و حدیث کے سوا اور کوئی نہیں ہے مگر یہاں سوال کی نوعیت مختلف ہے۔ زیادہ واضح کرنے کے لیے ہم سوال یوں رکھ دیتے ہیں کہ:
    ’’آپ نے قرآن و حدیث کو کہاں سے سمجھا ہے؟‘‘
    آخر قرآن و حدیث کو سمجھنے کا بھی تو کوئی ذریعہ ہو گا؟
    یہ ذریعہ یہاں کے درسی نصاب ہیں؟
    تنظیمی لٹریچر ہے؟
    اسٹال پر فروخت ہونے والی کتب اور رسائل ہیں؟
    جلسے اور پروگرام ہیں؟
    تقریری اور تحریری مناظرے ہیں؟
    ادیبوں اور شاعروں کا کلام ہے؟
    ’’ذاتی مطالعہ‘‘ ہے؟
    ریڈیو اور ٹی وی کی دینی نشریات ہیں؟
    اخبارات کے ’’روحانی ایڈیشن‘‘ ہیں؟ …
    یا پھر منہج سلف؟ جو صرف علمائے اہل سنت کے ہاں سے ہی ملتا ہے۔
    یاد رہے ہمارا مقصد کسی’’لٹریچر‘‘ یا ’’تقریر و تحریر‘‘ کی افادیت کم کرانا نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ لٹریچر، نصاب، پروگرامز جن سے ہم جڑیں ہیں اُن کے بارے میں یہ دیکھنا ہے کہ وہ ’سلف‘ سے کس قدر جوڑتے ہیں اور اپنے آپ سے کس قدر ۔؟
    قرآن و حدیث دین کا اصل مصدر ہیں۔ بلکہ دین ہیں۔ یہ بات ہر بحث اور شبہ سے بالا تر ہے۔ اس کے سوا رب تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ نہیں اتارا۔ دین کا یہ منبع محکم ہے اور اپنے آپ میں انتہائی واضح۔ مگر پھر بھی اس کی ’’تفسیر‘‘ اور ’’بیان‘‘ ایک باقاعدہ علم ہے اور اس علم کو درست طور پر جاننے اور سمجھنے والے تاریخی طور پر کچھ متعین لوگ ہیں۔
    کیا سب لوگ قرآن و حدیث کو ایک ہی طرح سمجھ سکتے ہیں؟ سچ تو یہ ہے کہ درست مراجع اور صحیح ضوابط نہ ہوں تو قرآن و حدیث کو صحیح معنوں میں سمجھا بھی نہیں جا سکتا۔ یہ درست مرجع اور علم فہم سلف کا نام ہے جس کے بغیر اس دین کو سمجھنا گمراہی کے دروازے کھولنا ہے۔ آیات اور احادیث کے فہم اور تطبیق کے بارے میں جب بعض لوگوں کو صحابہ اور سلف کے راستے کی پابندی کرنے کو کہا جاتا ہے تو وہ جواب دیتے ہیں: ’’ہم ان کی بات کیوں مانیں، وہ کوئی نبی تو نہیں ہیں؟ ‘‘حقیقت یہ ہے کہ سلف اور ائمہ کے اقوال کا اللہ اور اس کے رسول کے قول سے مقابلہ نہیں بلکہ وہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کا فہم حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں اس بات کو خود اللہ اور اُس کے رسول نے بیان فرمایا ہے۔
    نماز کی ہر رکعت میں یہ دعا اسی حقیقت کو بیان کرتی ہے :
    صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ (الفاتحۃ ۷)
    ’’ہمیں اُن کی راہ چلا جن پر تو نے انعام کیا نہ کہ ان کی جن پر تیرا غضب ہوا اور نہ گمراہوں کی۔‘‘
     
  3. ‏دسمبر 14، 2019 #3
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,529
    موصول شکریہ جات:
    6,615
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    سلف امت … نہ کہ اکابرین جماعت
    ایک طرف وہ لوگ ہیں جو سلف کے فہم سے آزاد ہو کر قرآن و سنت کو اپنی، اپنی جماعتوں اور گروہوں کی تحقیق سے دیکھتے ہیں تو دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو سلف کی اتباع کے نام سے اُن متاخرین سے جڑے ہیں کہ جن میں بدعات بلکہ بسا اوقات شرک تک پایا جاتا ہے۔ وہ انہیں سلف کے اُس مقدس مقام پر فائز کیے ہوئے ہیں کہ جو مقام صحابہ کرام، تابعین و تبع تابعین کا ہے۔ یہ بھی سیدھی راہ سے ہٹی ہوئی سوچ اور فکر ہے۔
    ہمارے معاشرے میں ’اکابرین‘ اور ’بزرگوں‘ کی اصطلاح بکثرت استعمال ہوتی ہے۔ اپنے بڑوں کا احترام کرنا اور ان کے علمی ورثہ کو قیمتی جاننا بے حد مستحسن امر ہے مگر انہیں قرآن و سنت کے فہم کا معیار سمجھنا اور جو کچھ انہوں نے کہہ دیا اسے ناقابل تنقید جاننا نہایت غلط روش ہے۔ یہ حیثیت تو صرف پہلے تین زمانوں کے سلف صالحین کو حاصل ہے کہ کتاب سنت کی تشریح میں جس بات پر وہ متفق رہے اُسے ناقابل تنقید جانا جائے۔ باقی جو کچھ ان کے بعد وجود میں آیا ہے بہرحال اس کی تحقیق کرنا اور اسے کتاب و سنت کے سلفی مفہوم پر پرکھنا بے حد ضروری ہے۔
    آج سے سو دو سو سال پہلے آنے والے ’بزرگوں‘ اور ’بڑوں‘ کو سلف کا مقام دینا نہایت غلط ہے۔ صفات باری تعالیٰ میں اشعریت و ماتریدیت کی تاویلات، صو فیاء کے چشتی، نقشبندی، سہروردی اور دیگر سلسلے، علم کلام اور علم تصوف، کیا ابو بکر و عمر اور ابن مسعود رضی اللہ عنہم، ایسی اسلام کی نسل اول کے ہاں پائے گئے ہیں؟ یا عمر بن عبدالعزیز، مجاہد اور عکرمہ رحمھم اللہ ایسی اسلام کی نسل دوئم سے منقول ہیں؟ یا یہ سب کچھ امام ابو حنیفہ، مالک، ثوری، شافعی، ابن حنبل رحمھم اللہ ایسی نسل سوئم کے علمی ذخیروں میں پایا جاتا ہے؟… یا پھر یہ پہلے تین زمانے گزر جانے کے بعد امت میں دیکھی جانے لگیں؟
    کسی چیز کی تعظیم میں خاموش ہوا جا سکتا ہے تو وہ کتاب اللہ، سنت رسول اللہ اور خیر القرون کا فہم اسلام ہے۔ اس کے سوا کوئی ایسی چیز نہیں جس پر بات نہ ہو سکے۔ یہ سوچ کہ بزرگوں نے کتاب و سنت سے جو نچوڑ نکالنا تھا وہ نکال لیا ہے اور ہمیں بس بزرگوں پر ہی انحصار کرنا ہے، نسل در نسل اب قیامت تک انہی کی دہرائی ہوئی عبارتوں کو دہرانا ہے … ہلاکت خیز سوچ ہے۔ کتاب و سنت کا نچوڑ نکالنے کا کیا مطلب؟ یہ تو وہ چشمہ ہے کہ اس سے جتنا بھی نکالا جائے اس کی سطح ذرہ بھر بھی نیچی نہ ہو ۔ زمانے اس سے سیراب ہو لیں اس میں کچھ کمی نہ آئے۔ پھر اس نچوڑ کے حق ہونے کے لیے بھی لازم ہے کہ یہ ’سلف صالحین‘ سے سند یافتہ ہو۔
    ’’فہم سلف‘‘ کتاب و سنت کا متبادل نہیں بلکہ وہ وحی کے چشمہ سے سیراب ہونے کا ہی وہ ادب اور طریقہ ہے جس کے بغیر انسان کو شفا اور سیریابی ہونے کی بجائے کوئی روگ لگ سکتا ہے۔ ارشاد ربانی ہے :
    يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا (البقرۃ:۲۶)
    ’’بہتوں کو وہ اس کے ذریعے ہدایت دیتا ہے اور بہتوں کو گمراہی۔‘‘

    "فہم سلف" کسی ایک امام کی فقہ میں مقید نہیں
    ’’فہم سلف‘‘ کے حوالے سے یہ ایک اور انحراف ہے جو تقلید جامد کی صورت میں امت میں بڑے عرصے سے پایا جا رہا ہے جسے اہل سنت کے تمام مکاتب فکر اہل حدیث، حنفیہ، شافعیہ، مالکیہ، حنابلہ ،اہل ظاہر نے ہمیشہ رد کیا ہے۔ اپنے "ائمہ" اور اپنی کتب فقہ کے علاوہ کہیں اور سے رجوع کیے جانے کو باطل سمجھنا اور انہی کے اندر وارد ہونے والے مسائل کو قیامت تک کے لیے حرف آخر جاننا۔ اس سے اختلاف کو برداشت نہ کرنا چاہے وہ کتنی ہی علمی بنیاد پر کیوں نہ کیا گیا ہو اور دیگر مستند ائمہ دین سے اس کا ثبوت کیوں نہ ملتا ہو, ایسی گمراہی ہے جس نے امت کو تفرقہ اور فساد میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ وہ عمل شر ہے جس کا سلف نے ہمیشہ ہی رد کیا ہے۔ ائمہ کے اقوال اس کے بہترین شاہد ہیں:
    علامہ شامی حنفی لکھتے ہیں:۔
    ’’إذا صح الحدیث وکان علی خلاف المذھب عمل بالحدیث ویکون ذلک مذھبہ ولا یخرج مقلدہ عن کونہ حنفیا بالعمل بہ فقد صح عن ابي حنیفۃ أنہ قال اذا صح الحدیث فھو مذھبی۔‘‘ (شرح عقود رسم المفتی لا بن عابدین ص۱۹)
    ’’جب صحیح حدیث ملے اور وہ حدیث ہمارے مذہب کے خلاف ہو پھر حدیث ہی پر عمل کیا جائے گا اور وہی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب ہو گا اور اس صحیح حدیث پر عمل کرنے کی وجہ سے کوئی حنفیت سے نہیں نکلے گا کیونکہ امام صاحب کا فرمان ہے کہ جب حدیث صحیح ہو تو وہی میرا مذہب ہے۔‘‘
     
  4. ‏دسمبر 14، 2019 #4
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,529
    موصول شکریہ جات:
    6,615
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    منہج سلف کی اہمیت
    اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا معیار اصحاب رسول رضی اللہ عنہم اور سلفِ امت ہیں:
    اللہ تعالیٰ صحابہ کرام کی یوں تعریف فرماتا ہے :
    مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّـهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ۖ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّـهِ وَرِضْوَانًا ۖ سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ ۚ ذَٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ (الفتح ۲۹)
    ’’محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ آپ کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت(مگر) آپس میں رحم دل ہیں تم انہیں رکوع اور سجود کرتے ہوئے اور اللہ کا فضل و رضا تلاش کرتے ہوئے دیکھو گے (کثرت) سجدہ سے ان کی پیشانیوں پر امتیازی نشان موجود ہیں ان کی یہی صفت تورات میں بیان ہوئی ہے۔‘‘
    صحابہ وہ مومن تھے کہ جنہیں اللہ رب العزت نے اپنے نبی کی صحبت کے لیے چنا تھا اور انہیں لوگوں پر اپنا گواہ بنایا تھا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    قُلِ الْحَمْدُ لِلَّـهِ وَسَلَامٌ عَلَىٰ عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفَىٰ ۗ آللَّـهُ خَيْرٌ أَمَّا يُشْرِكُونَ (النمل ۵۹)
    ’’آپ کہہ دیجیے سب تعریف اللہ کے لیے ہے اور اُسکے بندوں پر سلامتی ہو جنہیں اُس نے منتخب کیا‘‘۔
    ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ’’یہاں مراد اصحاب محمد ہیں۔‘‘ (تفسیر ابن کثیر 381/3)
    اور اللہ نے فرمایا :
    وَجَاهِدُوا فِي اللَّـهِ حَقَّ جِهَادِهِ ۚ هُوَ اجْتَبَاكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ ۚ مِّلَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ ۚ هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِن قَبْلُ وَفِي هَـٰذَا لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ (الحج ۷۸)
    ’’اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے، اُس نے تمہیں (اپنے دین کے لیے) چن لیا ہے اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی، یہ تمہارے باپ ابراہیم کا دین ہے اللہ نے اس سے پہلے بھی تمہارا نام مسلم رکھا تھا اور اس (قرآن) میں بھی (مسلم ہی رکھا ہے) تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ بنو۔‘‘
    صحابہ امت کے وہ مبارک لوگ ہیں جن کے علم و دیانت کی گواہی اللہ نے اپنی کتاب میں دی ہے۔
    وَيَرَى الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ الَّذِي أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ هُوَ الْحَقَّ (سبا ۶)
    ’’اور جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے خوب سمجھتے ہیں کہ جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپکی طرف نازل ہوا وہ حق ہے‘‘۔
    جو لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایمان لائے وہ سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اطاعت کرنے والے اور دین کی اتباع میں سبقت لے جانے والے لوگ تھے۔ انہوں نے اللہ کی خوشنودی کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ انہوں نے قرآن مجید کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھا نزول قرآن، نزول کے اسباب اور قرآن کی تفسیر سے براہ راست مستفید ہوئے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاں قرآن حکیم کے الفاظ سیکھے وہاں قرآن کے معانی بھی سیکھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے قران کے حفظ کے ساتھ اس کا فہم بھی حاصل کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن کی تفسیر سنی آپ کے حالات کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا آپ کی دعوت کو اپنے دلوں میں محفوظ کیا۔
    اس لحاظ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جو فضیلت حاصل ہوئی وہ کسی اور کو حاصل نہیں ہو سکتی کیونکہ صحابہ کرام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بلا واسطہ علم حاصل کیا اور آپس میں ایک دوسرے سے سیکھا چنانچہ سب صحابہ ’’عدالت‘‘ کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے، یہی وجہ ہے صحابہ کرام کو اسناد، راویوں کے حالات، سند کی جرح و تعدیل کی ضرورت ہی نہ تھی۔ پس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بڑھ کر کتاب اللہ کو سمجھنے والا، سنت کا علم رکھنے والا اور کوئی نہیں ہو سکتا۔
    امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    ’’یہ بات جاننا ضروری ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو جس طرح قرآن کے الفاظ بیان فرمائے ویسے ہی اس کے معانی بھی واضح فرمائے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان:
    وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ (النحل ۴۴)
    ’’تاکہ تم لوگوں کے سامنے وہ تعلیم جو تم پر اتاری گئی کھول کھول کر بیان کر دو‘‘ میں جہاں الفاظ کے پہنچانے کا حکم ہے وہیں اس کے معانی کھول کھول کر بیان کرنے کا بھی حکم ہے۔
    ’’ابو عبدالرحمن السُّلَمی (جو معروف تابعی ہیں) کہتے ہیں: وہ لوگ جو ہمیں قرآن پڑھایا کرتے تھے، مثلاً: عثمان بن عفان اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما وغیرہ، وہ ہمیں بتایا کرتے تھے کہ جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دس آیات سبق میں لے لیتے تو اس وقت تک اگلے سبق پر نہ جاتے جب تک وہ ان دس آیات میں علم و عمل کی ہر بات سیکھ نہ لیتے کہا کرتے تھے: سو یوں ہم نے قرآن سیکھا تو اسکا علم اور عمل ایک ساتھ سیکھا۔‘‘
    یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ ایک سورت کے حفظ میں مدت گزار دیا کرتے تھے۔‘‘ (مقدمۃ فی اصول التفسیر :۳۵)
    بنیادی طور پر یہ ایک مدرسہ ہے جس میں صحابہ پڑھے اور آگے پڑھاتے رہے اور پھر صحابہ سے پڑھنے والے اپنے بعد والوں کو پڑھاتے رہے۔ دین کی حقیقت، دین کی فطرت، دین کا مزاج، دین کے اصول و فروع کی حدود، اتفاق اور اختلاف کے حدود اور آداب، اتباع اور اجتہاد کے میدانوں کا تعین، اتحاد و اجتماع کا طریقہ، بدعات و محدثات سے نمٹنے کا طریقہ …غرض نصوص وحی کے ساتھ تعامل اختیار کرنے کی سب تفصیلات ہمیں اسی مدرسہ سے لینی ہیں جس میں صحابہ نے پڑھا اور پڑھایا پھر صحابہ سے پڑھے ہوئے پڑھاتے رہے۔
    اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کے ایمان کو تمام مسلمانوں کے لیے نمونہ قرار دیتے ہوئے اُن کی طرح ایمان لانے کا حکم دیا:۔
    فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنتُم بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوا ۖ وَّإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ ۖ فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّـهُ ۚ (البقرۃ ۱۳۷)
    ’’پس اگر وہ ایسا ایمان لائیں جیسے تم لائے ہو تو وہ ہدایت پا لیں گے اور اگر وہ اس سے پھریں تو وہ ہٹ دھرمی پر ہیں لہذا اللہ ان کے مقابلے میں آپ کو کافی ہے‘‘۔
    پس جو کوئی ہدایت کا طلبگار ہے اور آخرت میں نجات چاہتا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ویسے ایمان لائے جیسے صحابہ لائے تھے، کیونکہ حق وہی ہے جس پر وہ گامزن تھے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اُن کی اتباع کا حکم دیا ہے:
    وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّـهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (التوبۃ ۱۰۰)
    ’’اور جو مہاجر و انصار ایمان لانے میں سبقت کرنے والے ہیں اور وہ لوگ جنہوں نے اخلاص کے ساتھ ان کی پیروی کی اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے۔ اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ تیار کر رکھے ہیں جن میں نہریں جاری ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے‘‘۔
    امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
    ’’چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے پیچھے چلنے والوں کو بھی اپنی خوشنودی اور جنت کی نعمتوں میں شریک کر دیا … اس لئے جو لوگ سابقینِ اولین کی اتباع کریں گے وہ انہی میں شمار ہوں گے جبکہ یہ لوگ انبیاء کرام کے بعد افضل ترین ہیں، کیونکہ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم افضل ترین امت ہے جو لوگوں کے لیے نکالی گئی ہے اور یہ لوگ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں افضل ترین ہیں۔
    اس لئے علم اور دین میں ان کے اقوال و اعمال کی معرفت رکھنا، دین کے جملہ علوم اور اعمال میں متاخرین کے اقوال و اعمال کی معرفت سے صد مرتبہ افضل اور مفید تر ہے۔ کیونکہ یہ لوگ اپنے بعد والوں سے افضل ہیں جیسا کہ کتاب و سنت سے ثابت ہے، پھر جب ایسا ہے تو ان لوگوں کی اقتداء بعد والوں کی اقتدا سے بہتر ہے۔ علم دین کے سلسلے میں دوسروں کے اجماع و اختلاف کی نسبت صحابہ کے اجماع اور اتفاق اور انہی میں ہونے والے اختلاف کی معرفت و دریافت زیادہ بہتر ہے … اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا اجماع بہرحال معصوم ہوتا ہے، صحابہ نے اگر اختلاف کیا تو بھی حق ان کے اقوال میں سے کسی ایک میں ہوتا ہے۔ ان کے اقوال میں سے کسی قول کو اس وقت تک غلط نہیں کہا جا سکتا جب تک کتاب و سنت سے اس کا غلط ہونا ثابت نہ ہو جائے …
    اسی طرح دین میں کوئی بھی ایسا مسئلہ نہیں رہ جاتا جس کے بارے میں سلف نے کلام نہ کیا ہو اس لئے اس کی مخالفت یا موافقت میں سلف سے ضرور کوئی نہ کوئی قول مل جاتا ہے۔‘‘ (مجموع الفتاویٰ ص ۱۳،۳۳،۲۷)
    رب تعالیٰ نے ہمیں پہلوں کے راستے پر چلنے کی نصیحت فرمائی ہے:
    وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَيَّ (لقمٰن ۱۵)
    ’’اور اس کی راہ چلنا جو میری طرف جھکا ہوا ہو‘‘
    اور فرمایا:
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ (التوبۃ ۱۱۹)
    ’’اے ایمان والوں اللہ سے ڈر تے رہو اور سچوں کا ساتھ دو۔‘‘
    ایک سے زائد سلف نے یہاں صادقین سے مراد ’’اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ لیے ہیں۔
    سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ اللہ نے کسی کو سچ کہنے کی توفیق دے کر اُس پر اتنا احسان کیا ہو جیسا مجھ پر کیا ہے۔ میں نے اُس وقت سے لے آج تک قصداً کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ اللہ تعالیٰ نے اسی بارے میں یہ آیت اتاری۔‘‘ (بخاری:۴۶۷۸ ) (تفسیر ابن کثیر :414/2)
    اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اعلان کرواتا ہے کہ وہ اور اس کے اصحاب بصیرت کے ساتھ حق پر گامزن ہیں:
    قُلْ هَـٰذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّـهِ ۚ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي (یوسف ۱۰۸)
    ’’کہہ دیجیے میرا راستہ یہی ہے کہ میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں اور میں خود بھی اس راہ کو پوری بصیرت کے ساتھ دیکھ رہا ہوں اور میرے پیروکار بھی۔‘‘
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے منہج اور فہم کو جماعت حقہ کی پہچان قرار دیا ہے۔
    عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے "رسول اللہ نے فرمایا:
    ’’کہ میری امت ۷۳ فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی۔ سوائے ایک جماعت کے سب دوزخ میں جائیں گے۔ عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول وہ کونسا گروہ ہو گا؟ آپ نے فرمایا : ((ما انا علیہ واصحابی)) ’’یہ وہ جماعت ہو گی جو اس راستے پر چلے گی جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں‘‘ (ترمذی :۲۵۶۵)
    اس حدیث میں یہ اشارہ بھی ہے کہ سنت رسول کے ساتھ طریق صحابہ بھی قیامت تک محفوظ رہے گا کیونکہ جو چیز محفوظ نہ ہو وہ قیامت تک نجات پانے والے گروہ کی نشانی کیسے بن سکتی ہے؟۔ اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام اور ان کے بعد آنے والے اسلاف کی پیروی کی تلقین فرمائی ہے۔
    نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میرے بعد شدید اختلاف دیکھو گے۔ اس وقت تم میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت کو لازم پکڑنا۔ اس پر مضبوطی سے جمے رہنا، دین میں نئے پیدا ہونے والے امور سے اپنے آپ کو بچا کر رکھنا کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے‘‘ (ابن ماجۃ :۴۷)
    معلوم ہوا فتنوں کے ظہور کے وقت بچائو صرف اور صرف نبی اکرم اور آپ کے خلفاء راشدین کی سنت اختیار کرنے میں ہے۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میرے صحابہ کے طریقہ پر عمل کر کے میری سنت کی حفاظت کرو پھر تابعین اور تبع تابعین کے طریقہ پر چلو پھر اس کے بعد جھوٹ پھیل جائے گا‘‘۔ (ابن ماجہ کتاب الاحکام :۲۳۶۳)
    عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میری امت میں بہترین زمانہ میرا ہے۔ پھر اس کے بعد والا (تابعین کا) زمانہ پھر اس کے بعد والا (تبع تابعین کا) زمانہ پھر ایسی قومیں پیدا ہوں گی جو بغیر مطالبے کے جھوٹی گواہیاں دیں گی اور خیانت کریں گی اس لیے انہیں امین نہیں بنایا جائے گا اور ان میں موٹاپا عام ہو جائے گا‘‘۔ (مسلم : ۲۵۳۵۔ ترمذی: ۱۸۱۰)
    ان آیات و احادیث سے یہ بات واضح ہے کہ فہم دین کے حوالے سے پہلے ابتدائی تین زمانوں میں جو کچھ سمجھا اور سمجھایا گیا وہ بالکل حق ہے۔ بعد والوں کو اب انہی کے پیچھے کھڑے ہونا ہے۔
    اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    اتَّبِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ ۗ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ (الاعراف ۳)
    ’’لوگو جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اس کی اتباع کرو اور اس کے علاوہ دوسرے سرپرستوں کی اتباع نہ کرو۔ تھوڑی ہی تم نصیحت مانتے ہو۔‘‘
    اس آیت کا یہ مفہوم نہیں کہ صحابہ کرام کا فہم حجت نہیں ہے۔ یاد رکھئے قرآن و سنت کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھا اور تابعین نے صحابہ کرام سے سیکھا۔ صحابہ و تابعین سے زیادہ بہتر کیا کوئی اور قرآن و سنت کو سمجھ سکتا ہے؟ یقینا نہیں۔ لہٰذا قرآن و سنت کا وہی مفہوم معتبر ہو گا جو صحابہ و تابعین نے متعین کیا۔ سلف کے مقابلے میں بعد والوں کے فہم کی کوئی حیثیت نہیں۔ سلف کا فہم ہی وہ سبیل المؤمنین ہے جس پر چلنے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے:
    وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا (النساء۱۱۵)
    ’’جو شخص ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد رسول کی مخالفت کرے اور مومنوں کی راہ چھوڑ کر اور راہ اختیار کرے۔ تو ہم اسے ادھر ہی پھیر دیتے ہیں جدھر کا اس نے رخ کیا پھر اسے جہنم میں جھونکیں گے جو بدترین ٹھکانہ ہے۔‘‘
    اس آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کے ساتھ مؤمنوں کی راہ پر نہ چلنا بھی جہنم میں جانے کا سبب بتایا۔
    محدث البویطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "میں نے امام شافعی رحمہ اللہ کو یہ فرماتے سنا کہ اصحاب الحدیث کا دامن مت چھوڑو اس لیے کہ وہ سب سے زیادہ درست بات کہنے والے ہیں" (تاریخ حدیث و محدثین ص ۴۰۱)
    امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کہتے ہیں:
    ’’سنت کے احول ہمارے ہاں یہ ہیں کہ ہر وہ امر جس پر اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے، اس سے چمٹ کر رہا جائے۔ ان کی اقتدا کی جائے اور نئی ایجادات کو ترک کیا جائے کیونکہ ہر نئی ایجاد بدعت و ضلالت ہے‘‘۔ (شرح اصول السنۃ والجماعۃ للالکائی ۱/۱۵۶)
    امام اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    ’’سنت کی راہ پر جمے رہو۔ ان پہلوں کے قدم جہاں رک گئے ہوں وہاں تم بھی ضرور رک جائو۔ جس بات کے وہ قائل ہوئے ہیں تم بھی اسی بات کے قائل رہو۔ جس بات سے وہ خاموش رہے ہوں تم بھی اس سے خاموش رہو۔ چلو تو اپنے ان سلف صالحین کی راہ پر چلو‘‘۔ (شرح اصول السنۃ والجماعۃ للالکائی ۱/۱۵۴)
    قوام السنہ، امام اسماعیل بن محمد الاصبہانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’علم کثرت روایت کا نام نہیں، بلکہ علم تو اتباع اور اقتداء کا نام ہے۔ صحابہ کرام اور تابعین عظام کی پیروی کرو، اگرچہ علم تھوڑا ہی ہو اور جو شخص صحابہ و تابعین کی مخالفت کرے وہ گمراہ ہے اگرچہ زیادہ علم والا ہی ہو‘‘ (الحجہ فی بیان المحجہ لابی القاسم الاصبہانی۴۶۹۔۲)
    ابو محمد عبداللہ بن زید قیروانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’سنتوں کو تسلیم کرنا عقل و قیاس کے خلاف نہیں ۔ سنن کی جو تفسیر سلف صالحین نے کی ہے ہم وہی کریں گے اور جس پر انہوں نے عمل کیا، اسی پر ہم عمل کریں گے اور جس کو انہوں نے چھوڑا ہم بھی چھوڑ دیں گے۔ ہمیں یہی کافی ہے کہ وہ جس چیز سے رک گئے اس سے ہم رک جائیں اور جس چیز کو انہوں نے بیان کیا، اس میں ہم ان کی پیروی کریں اور جو انہوں نے استنباط اور اجتہاد کیا اس میں ان کی اقتداء کریں، جس چیز میں ان کا اختلاف ہے اس میں انکی جماعت سے نہ نکلیں (کوئی نیا مذہب نہ نکالیں، بلکہ اختلافی صورت میں ان میں سے ہی کسی ایک کا مذہب قبول کریں)۔ تمام وہ چیزیں جو ہم نے ذکر کی ہیں وہ اہل سنت اور فقہ و حدیث کے ائمہ کے اقوال ہیں۔ (الجامع: ۱۱۷)
    حافظ ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ (ابن ابی زمنین) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’جان لیں کہ سنت قرآن کریم کی دلیل ہے۔ سنت کو قیاس اور عقل کے ذریعے حاصل نہیں کیا جا سکتا، بلکہ وہ تو ائمہ کرام اور جمہور امت کے طریقے کی اتباع کا نام ہے (کتاب اصول السنۃ لابی ابن زمنین :۱)
    امام آجری رحمہ اللہ (م۳۶۰ھ) فرماتے ہیں:
    ’’جن لوگوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے بھلائی کا ارادہ کیا ہے، ان کی علامت اللہ عز و جل کی کتاب، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں اور آپ کے صحابہ اور ان کے پیروکاروں کے آثار کی اتباع کرنا ہے، نیز وہ اس راستے پر چلتے ہیں جس پر ہر علاقے کے ائمہ مسلمین اور اب تک کے علمائے کرام، مثلاً امام اوزاعی، امام سفیان ثوری، امام مالک بن انس، امام شافعی، امام احمد بن حنبل، امام قاسم بن سلام رحمھم اللہ اور ان کے نقش قدم پر چلنے والے اہل علم چلے اور وہ ہر اس طریقے سے بچتے ہیں جسے ان علمائے کرام نے اختیار نہیں کیا۔ ‘‘(الشریعۃ للآجری:۱۴)
    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’ہر وہ قول جس میں بعد والا متقدمین سے منفرد ہو، اس سے پہلے وہ قول کسی نے نہ کہا ہو وہ یقینا غلط ہو گا۔‘‘ (مجموع فتاویٰ لابن تیمیہ ۲۱۔۲۹۱)
    ’’حافظ عبداللہ روپڑی محدث رحمہ اللہ (متوفی۱۳۸۴ھ) فرماتے ہیں: خلاصہ یہ کہ ہم تو ایک ہی بات جانتے ہیں وہ یہ کہ سلف کا خلاف جائز نہیں‘‘ (فتاویٰ اہل حدیث ج۱ص۱۱۱)
     
  5. ‏دسمبر 14، 2019 #5
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,529
    موصول شکریہ جات:
    6,615
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    منہج سلف … اسلامی اجتماعیت کی بقا کا ضامن
    اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ یہ دین صرف "افراد" اور جماعتوں کو چلانے کے لیے نازل نہیں ہوا بلکہ یہ ایک "امت" بنانے اور ایک "امت" چلانے کے لیے اترا ہے۔ اس کا یہی قد کاٹھ ذہنوں میں رہنا ضروری ہے اور اس کا یہی مرتبہ دلوں میں جانشین کروانا چاہیے۔ ضروری ہے کہ دین کے فہم کے بارے میں ایسے مستند مراجع اختیار کیے جائیں جو نہ صرف صحیح ہوں بلکہ وہ "امت" کی سطح کے ہوں۔ ایک فرد یا جماعت اپنی بات چھوڑ کر ان پر آنے کی پابند ہو۔ ان کو اپنا کر ایک جماعت امت کی سطح پر آئے نہ کہ امت کو جماعت کی سطح پر لانے کی کوشش کرے۔ ایک بڑی چیز اپنے سے چھوٹی چیز میں فٹ نہیں ہو سکتی۔ اس عمل کے جہاں اور بہت سے تقاضے ہیں وہاں فہم دین کے لیے کچھ ایسے مراجع کا اختیار کیا جانا از حد ضروری ہے جو بیک وقت مستند بھی ہوں اور مشترک بھی۔
    وہ اصول و ضوابط جو اہل سنت کے مختلف گروہوں مثلاً مذاہب اربعہ، اہل حدیث اور اہل ظاہر کو اپنا تنوع برقرار رکھتے ہوئے ایک ساتھ چلنے میں مدد دے سکیں۔ ان کے لیے اجتماع کی ایک معقول بنیاد فراہم کر سکیں اور ان کے اتفاق و اختلاف کی حدود و آداب متعین کر کے انہیں ایک مضبوط امت بنا سکیں اصول اہل سنت کہلاتے ہیں جنہیں سلف صالحین نے امت کے لیے کھول کھول کر بیان فرمایا ہے۔
    ’’فہم سلف‘‘ سے ہی ہم یہ سیکھتے ہیں کہ دین کے کچھ امور ایسے ہیں جن میں اختلاف کیا ہی نہیں جا سکتا ہے، انہیں اساسیات دین یا مسلمات کہتے ہیں، اور کچھ امور ایسے ہیں جن میں اختلاف برداشت کرنے کا حکم دیا گیا ہے انہیں فروع دین کہتے ہیں۔ جو لوگ سلف کے منہج سے ناواقف ہیں وہ یا تو دین کے بنیادی امور تک میں اختلاف کی گنجائش دیتے ہوئے دین کی بنیادیں ڈھاتے نظر آتے ہیں یا پھر اس قدر شدت اختیار کرتے ہیں کہ دین کے ہر مسئلہ کو کفر و اسلام کا مسئلہ بنا کر فقہی باتوں میں اختلاف تک پر کفر کے فتوے لگا دیتے ہیں۔ یہ طرز عمل اسلام کی اجتماعیت کو توڑنے اور تفرقہ کو ہوا دینے کا سبب ہے بلکہ یہی تفرقہ ہے۔ اس لیے اسلامی اجتماعیت کے لیے منہج سلف کو اپنانا بے حد ضروری ہے۔
    ذیل میں ائمہ کے اقوال اسلام کی اسی سچی تعبیر کو بیان کرتے ہیں :
    امام حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    ’’سلف نے اس بات سے ممانعت فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ یا اس کے اسماء و صفات کے بارے میں بحث اور اختلاف ہو۔ البتہ جہاں تک فقہی مسائل کی بات ہے تو سلف کا اتفاق ہے کہ ان امور میں بحث اور اخذ و رد ہو سکتا ہے۔ کیونکہ یہ (فقہ) ایسا علم ہے جس میں قیاس کرنے کی حاجت ہوتی ہے۔ جبکہ اعتقادات کا معاملہ ایسا نہیں ہے کیونکہ اہلسنت والجماعت کے نزدیک اللہ عزوجل کی بابت کوئی بات کی ہی نہیں جا سکتی سوائے اس بات کے جو وہ خود ہی اپنی ذات کے بارے میں بیان کر دے، یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بابت بیان کر دے، یا جس پر امت نے اجماع کر لیا ہو اللہ کی مثل کوئی چیز ہے ہی نہیں جس کا قیاس یا گہرے غور و خوض کے نتیجے میں، ادراک ہونا ممکن ہو …
    ’’دین اس معنی میں کہ وہ اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور بعث بعد الموت اور یوم آخرت پر ایمان ہے تو اس تک رسائی اللہ کے فضل سے اس کنواری دوشیزہ کو بھی حاصل ہے جس کو کبھی گھر سے باہر کی ہوا تک نہ لگی ہو۔ (دین کے اسی پہلو، یعنی ’’اصول دین‘‘ کے بارے میں) عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا قول ہے: جو شخص اپنے دین کو بحثوں کا موضوع بناتا ہے پھر وہ اکثر نقل مکانی کرتا ہے۔‘‘ (صحیح جامع بیان العلم وفضلہ ۳۸۳)
    ’’دین کے اصول و مسلمات‘‘ دین کا وہ حصہ ہیں جس پر سمجھنا سمجھانے کے لیے گفتگو تو ہو سکتی ہے مگر یہ کسی کی ہار جیت سے بدلے نہیں جایا کرتے۔
    امام مالک رحمہ اللہ کے پاس ایک شخص آیا اور دین کے کچھ بنیادی امور میں آپ کو بحث و گفتگو کی دعوت دی۔ اُس نے امام مالک کو کہا: ’’آئو بات کر کے دیکھتے ہیں۔ اس شرط پر کہ میں جیتوں تو تم میرے ہم خیال ہو جائو گے اور تم جیتو تو میں تمہارا ہم خیال ہو جائوں‘‘
    امام مالک رحمہ اللہ نے اس تجویز پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا: ’’اور اگر کوئی تیسرا شخص ہم دونوں کو خاموش کرا دے؟‘‘
    اُس شخص نے جواب دیا: ’’تو ہم اُس کی بات تسلیم کر لیں گے۔‘‘
    بظاہر دیکھئے تو اس شخص کی بات سے بڑی ہی انصاف پسندی اور حق پرستی جھلکتی ہے، بظاہر بہت اصولی پیش کش ہے۔ مگر امام مالک رحمہ اللہ اس کا جو جواب دیتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ وہ آپ جیسے آئمہ سلف کی ہی شان ہے، فرمایا:
    ’’تو کیا جب بھی کوئی نیا شخص میدان میں آئے اور پہلے والے سے بڑھ کر دلیل دے لینے کی مہارت دکھائے تو ہم اپنا دین اور راستہ تبدیل کر لیا کریں؟ سنو، میں اپنا دین یقینی طور پر معلوم کر چکا ہوں کہ وہ کیا ہے۔ تمہیں اپنا دین تا حال معلوم نہیں تو جہاں چاہو تلاش کرتے پھر و‘‘۔ (اللالکائی 144/1)
    یہ ہیں ہمارے ائمہ جو ایسا راستہ بتلا گئے کہ جس پر چلنے والا ایک روشن اور مضبوط راہ پر ہے۔ وہ اس راہ کا ہر پہلو امت کے سامنے رکھ گئے۔ اللہ اُن پر رحمت فرمائے۔
    رہے ’’دین کے فروع‘‘ تو اُس میں یہ شدت اور سختی نہیں ہے، مگر وہاں بھی ہر ایرے غیرے کو اجتہاد کرنے اور فتوی دینے کی اجازت نہیں ہے۔ اس میں بھی استدلال اور مسائل اخذ کرنے کے باقاعدہ اصول اور قواعد ہیں۔ دین کے اس حصہ میں بات کرنے اور رائے دینے کے لیے بھی ضروری ہے کہ آدمی نہ صرف استدلال کے ان فقہی اصولوں سے واقف ہو بلکہ نصوص شریعت کا علم بھی رکھتا ہو۔
    امام محمد بن حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    ’’جو شخص کتاب و سنت کا علم رکھتا ہے، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال سے واقف ہو اور فقہائے مسلمین کے اقوال سے آگاہ ہو وہی اس بات کا مجاز ہے کہ کوئی مسئلہ اس کے سامنے پیش آئے تو وہ اجتہاد کر کے کوئی رائے اختیار کرے اور اپنی اس رائے کو اپنی نماز، روزے یا حج یا شرعی اوامر و نہی کے کسی معاملے میں قابل عمل جانے۔‘‘ (جامع بیان العلم و فضلہ)
    رہا عام آدمی تو وہ اہل علم سے کسی مسئلہ کو سن کر یا ان کے فتاویٰ کو آگے بیان کر سکتا ہے۔ اس سے بڑھ کر اُسے اجتہاد کرنے کا حق نہیں ہے۔
    سلف کے ان اصول و ضوابط سے یہ بات بخوبی جانی جا سکتی ہے کہ وہ کس طرح اسلام کی حفاظت کرتے رہے اور یہ کہ مسلم معاشرے کی علمی پاسداری کا حق صرف انہی کو ہے۔ منہج سلف سے جس گروہ نے بھی انحراف کیا اُس نے مسلم اجتماعیت کو پارہ پارہ کیا اور اسلام کے صاف ستھرے عقیدے کو خراب کیا۔
    امام مالک رحمہ اللہ نے کیا خوب فرمایا:
    ’’لن یصلح آخر ھذہ الامۃ الا بما صلح بہ اولھا‘‘ (الشفا للقاضی عیاض:ج:۲،ص:۸۸)
    ’’اس امت کے آخری دور کی اصلاح بھی اسی طرح سے ممکن ہے جس طرح اس امت کے اول حصّے (صحابہ) کی ہوئی تھی‘‘۔
     
  6. ‏دسمبر 14، 2019 #6
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,529
    موصول شکریہ جات:
    6,615
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    منہج سلف کا انکار …گمراہی کی بنیادی وجہ
    گمراہی کی ایک بنیادی وجہ فہم سلف کو اختیار نہ کرنا اور قرآن و سنت کی من مانی تفسیر کرنا ہے۔ فہم سلف کے انکار سے ہی مسلمانوں میں گمراہی کی ابتداء ہوئی اور پہلا بدعتی فرقہ جسے خوارج کہا جاتا ہے وجود میں آیا۔ اس گمراہی کا کچھ لوگوں نے مقابلہ کیا مگر انہوں نے بھی فہم سلف کو اختیار نہ کیا جس کے نتیجے میں وہ بھی گمراہ ہوئے انہیں مرجئہ کہا گیا ہے۔ البتہ وہ لوگ جو سلف کے طریق پر گامزن رہے اور انہی کے فہم سے چمٹے رہے، وہ ہدایت و رشد کے وارث بنے جنہیں اہل سنت و الجماعت کہا جاتا ہے۔ صحابہ و تابعین کے فہم کا انکار کس طرح گمراہی میں دھکیل دیتا ہے اس کے لیے ہم مسئلہ ایمان پر اہل سنت اور اہل بدعت کے اختلاف کو بطور مثال پیش کرتے ہیں۔

    خوارج
    سب سے پہلے خوارج صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فہم کو چھوڑ کر قرآن و سنت کی اتباع کرنے پر گمراہ ہوئے:
    امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    ’’ان کی بدعت زندقہ اور الحاد کی وجہ سے نہ تھی بلکہ کتاب اللہ کے معنی کے فہم میں جہالت اور ضلالت کی وجہ سے تھی۔‘‘ (منھاج السنۃ فی کلام الشیعۃ والقدریۃ ۱/۱۵)
    ان کی گمراہیوں میں بنیادی گمراہی یہ تھی کہ وہ ہر گناہ گار کو کافر سمجھتے تھے خواہ گناہ ارادۃً ہو، غلط فہمی سے ہو یا اجتہادی خطا سے ہو۔
    علامہ شھرستانی رحمہ اللہ ان کے ایک فرقے ازارقہ کے متعلق فرماتے ہیں:
    ’’ازارقہ‘‘ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جس نے گناہ کبیرہ کا ارتکاب کیا وہ ایسے کفر کا مرتکب ہوا جس سے آدمی مکمل طور پر اسلام سے خارج ہو جاتا ہے اور وہ تمام کفار کے ساتھ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ (الملل و النحل از عبد الکریم شھرستانی۔۱/۱۱۵)
    چند ایسی روایات ملاحظہ فرمائیں: جن میں کبیرہ گناہ کے مرتکبین کو یہ وعید سنائی گئی ہے کہ وہ جنت میں داخل نہ ہوں گے، یا انہیں جہنمی قرار دیا گیا ہے۔
    تکبر کرنا: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہو گا وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا‘‘ (مسلم : 91)
    اللہ اور اس کے رسول پر جھوٹ بولنا: انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے‘‘۔ (بخاری:108، مسلم:2)
    کسی مومن کو ناحق قتل کرنا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّـهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا (النساء 93)
    ’’اور جو کوئی کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کر ڈالے اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے اور اس کے لیے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘
    غیر مسلم معاہد کا قتل: سیدنا عبداللہ بن عمرور رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے کسی غیر مسلم کو جو سلطنت اسلامیہ میں عہد و پیمان کے ساتھ رہ رہا ہو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پا سکتا جب کہ جنت کی خوشبو چالیس سال کی مسافت کی دوری سے سونگھی جاسکتی ہے‘‘ (بخاری: 6914)
    خود کشی: جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’تم سے پہلے گذرے ہوئے لوگوں میں ایک زخم خوردہ آدمی تھا جس نے تکلیف سے گھبرا کر چھری سے اپنا ہاتھ کاٹ دیا جس سے اس قدر خون نکلا کہ وہ مر گیا اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس بندے نے میرے حکم (موت) سے پہلے اپنے بارے میں جلدی کی میں نے اس پر جنت حرام کر دی‘‘۔ (بخاری 3463۔ مسلم: 113)
    والدین کی نافرمانی کرنا: عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’والدین کا نافرمان، احسان جتلانے والا اور شراب پینے کا عادی جنت میں داخل نہیں ہو گا‘‘۔ (النسائی:5675)
    باپ کی بجائے دوسرے کی طرف نسبت کرنا: سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص جان بوجھ کر (اپنے باپ کو چھوڑ کر) غیر کی طرف نسبت کرے اس پر جنت حرام ہے‘‘۔ (بخاری: 4326، مسلم: 63)
    قریبی رشتہ داروں سے قطع تعلق کر لینا اور صلہ رحمی نہ کرنا: جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’رشتہ داروں کے ساتھ بد سلوکی (قطع رحمی) کرنے والا جنت میں داخل نہیں گا‘‘۔ (بخاری:5984۔ مسلم: 2556)
    پڑوسی کو تکلیف دینا: ابو شریح رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ کی قسم وہ شخص مومن نہیں۔ اللہ کی قسم وہ مومن نہیں۔ اللہ کی قسم وہ مومن نہیں‘‘۔ عرض کیا گیا کون یا رسول اللہ؟ آپ نے فرمایا: ’’جس کا ہمسایہ اس کی شرارتوں سے محفوظ نہیں‘‘ (بخاری: 6016)
    مسلمانوں سے قطع تعلق کرنا: ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ اپنے بھائی سے تعلق منقطع رکھے۔ پس جو شخص تین دن سے زائد تعلق منقطع رکھے گا اور اگر اسی حالت میں اسے موت آگئی تو وہ جہنم میں جائے گا‘‘ (ابوداود: 4914)
    یتیم کا مال کھانا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَىٰ ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا ۖ وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا (النساء 10)
    ’’جو لوگ ناحق ظلم سے یتیموں کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں اور عنقریب وہ دوزخ میں جائیں گے۔‘‘
    واپس نہ کرنے کی نیت سے قرض لینا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’سبحان اللہ قرض کے معاملے میں اللہ تعالیٰ نے کس قدر زیادہ سختی فرمائی ہے۔ مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر کوئی آدمی اللہ کے راستے میں شہید کر دیا جائے پھر دوبارہ زندہ ہو پھر شہید ہو پھر زندہ ہو پھر شہید ہو اگر وہ مقروض ہے تو جب تک اس کا قرض ادا نہ کیا جائے وہ جنت میں داخل نہ ہو گا‘‘۔ (النسائی:4688)
    مال فروخت کرنے کے لیے جھوٹی قسم کھانا: ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں فرمایا: ’’جس نے عصر کے بعد سودا بیچا اور اللہ کی قسم اٹھا کر گاہک سے کہا کہ میں نے تو خود اتنے کا خریدا ہے حالانکہ وہ جھوٹ بول رہا تھا لیکن گاہک نے اس کی قسم کا اعتبار کیا اور اس کو سچا جان کر اس سے وہ چیز خرید لی۔ تو ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہیں دیکھے گا۔ نہ اس سے کلا م کرے گا اور نہ اس کو گناہوں سے پاک کرے گا بلکہ اس کے لیے درد ناک عذاب ہو گا‘‘ (بخاری:2369 مسلم: 108)
    چوری کرنا: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’زانی جس وقت زنا کرتا ہے اس وقت مومن نہیں ہوتا اور شراب پینے والا جس وقت شراب پیتا ہے مومن نہیں ہوتا۔ اور چوری کرنے والا جس وقت چوری کرتا ہے مومن نہیں ہوتا۔ لوگوں کی نگاہوں کے سامنے ڈاکہ ڈالنے والا مومن نہیں رہتا‘‘۔ (بخاری: 2475،مسلم:57)
    سودی لین دین کرنا: سود خور کا برا انجام اللہ تعالیٰ یوں بیان فرماتا ہے:
    الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا ۗ وَأَحَلَّ اللَّـهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ۚ فَمَن جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّهِ فَانتَهَىٰ فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّـهِ ۖ وَمَنْ عَادَ فَأُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (البقرۃ: 275)
    ’’جس شخص کو اس کے رب کی طرف سے یہ نصیحت پہنچے اور آئندہ وہ سود خوری سے باز آجائے تو جو کچھ وہ پہلے کھا چکا سو کھا چکا۔ اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے اور جو اس کے حکم کے بعد پھر اسی حرکت کا اعادہ کرے وہ جہنمی ہے جہاں وہ ہمیشہ رہے گا۔‘‘
    دنیا کے لیے دین کا علم حاصل کرنا: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص ایسا علم حاصل کرتا ہے جس سے اللہ کی رضا مقصود ہونی چاہیے تھی لیکن وہ اسے اس لیے حاصل کرتا ہے تاکہ اس کے ذریعے اسے دنیا کا سامان مل جائے۔ ایسا شخص قیامت کے دن جنت کی خوشبو تک نہ پا سکے گا‘‘ (ابن ماجۃ: 252)
    ’’خوارج‘‘ نے کبیرہ گناہ کے مرتکب کو کافر کہتے ہوئے اس بات کی بالکل پرواہ نہ کی کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان احادیث کے بارے میں کیا کہتے ہیں اس طرح وہ گمراہ ہوئے۔

    مرجئہ
    ’’خوارج‘‘ کی طرح مرجئہ نے بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام کے فہم کو کوئی حیثیت نہ دی اور براہ راست قرآن و حدیث کو اپنی عقل سے سمجھا اور کہنے لگے کہ جس طرح کسی کافر کو کوئی نیکی فائدہ نہیں دیتی ایسے ہی کسی مسلمان کو کوئی گناہ نقصان نہ دے گا۔ اگر خوارج نے مرتکب کبیرہ کو کافر قرار دیا تو مرجئہ نے ان کے بارے میں یہ عقیدہ گھڑا کہ گناہ سے ان کے ایمان میں کوئی نقص واقع نہیں ہوتا۔ انہوں نے ان احادیث سے استدلال کیا:
    (1) سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’اللہ نے جہنم کی آگ ہر اس شخص پر حرام کر دی ہے جس نے اللہ کی رضامندی کے حصول کے لیے لَا اِلٰہ إِلَّا اللّٰہُ کہا‘‘ [بخاری: 425، مسلم: 33۔ ک 5 ح263]
    (2) سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بلاشبہ بندوں پر اللہ تعالیٰ کا یہ حق ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں۔ اور کسی چیز کو بھی اس کا شریک نہ ٹھہرائیں اور بندوں کا اللہ تعالیٰ پر یہ حق ہے کہ جو کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائے وہ اس کو عذاب نہ دے۔ (بخاری:۲۸۵۶، مسلم:۳۰)
    (3) سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میرے پاس جبریل آئے اور مجھے خوشخبری دی کہ جو اس حال میں فوت ہوا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا تھا وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے کہا اگرچہ اس نے چوری کی اور زنا کیا؟ آپ نے فرمایا ہاں اگرچہ اس نے چوری کی ہو یا زنا کیا ہو۔ (بخاری ۴۷۸۷ ، مسلم ۹۴)

    اہل سنت والجماعت
    یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے کتاب و سنت کو اپنے فہم کی بجائے سلف کے فہم کے ساتھ سمجھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اور تابعین عظام کا طرز فکر خوارج اور مرجئہ کے الٹ تھا انہوں نے ان دونوں قسم کی روایات کو جمع کیا اور یہ بتلایا کہ کبیرہ گناہ پر عذاب کا معاملہ اللہ تعالیٰ کی مرضی پر موقوف ہے، اگر چاہے تو بخش دے اور جنت میں داخل کر دے اور اگر چاہے تو عذاب دے کر جنت میں داخل کر دے۔ کفر اکبر، شرک اکبر اور نفاق اکبر کے علاوہ دیگر گناہوں کے مرتکب کو جہنم کا عذاب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نہیں ہو گا۔ آخر کار اس کا انجام جنت ہو گا۔ چنانچہ اہل کبائر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش سے جہنم سے نکلیں گے۔
    سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میری امت میں جو لوگ کبیرہ گناہ کے مرتکب ہوئے میری شفاعت ان کے لیے ہو گی‘‘۔ (ترمذی:2435)
    سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’محمد کی شفاعت سے ایک قوم جہنم سے نکلے گی اور جنت میں داخل ہو گی۔ انکا نام جہنمی ہو گا‘‘۔ (بخاری:6566)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قیامت کے دن میں اپنے رب سے (شفاعت کی) اجازت چاہوں گا، مجھے اجازت ملے گی میں سجدے میں گر جائوں گا پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے محمد اپنا سر اٹھائو کہو سنا جائے گا، مانگو دیا جائے گا، شفاعت کرو قبول کی جائے گی۔ میں عرض کروں گا اے میرے رب میری امت میری امت حکم ہو گا جائو جس کے دل میں ایک جو کے برابر ایمان ہے اسے نکال لوـ… میں جائوں گا اور ایسا کروں گا پھر لوٹ کر آئوں گا پھر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کروں گا پھر میں سجدے میں گر جائوں گا پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے محمد اپنا سر اٹھائو کہو سنا جائے گا، مانگو دیا جائے گا، شفاعت کرو قبول کی جائے گی۔ میں عرض کروں گا اےـ میرے رب میری امت میری امت حکم ہو گا جائو جس کے دل میں ایک ذرہ یا رائی کے برابر ایمان ہے اسے نکال لو میں جائوں گا اور ایسا کروں گا پھر لوٹ کر آئوں گا پھر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کروں گا۔ میں سجدے میں گر جائوں گا پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے محمد اپنا سر اٹھائو کہو سنا جائے گا، مانگو دیا جائے گا، شفاعت کرو قبول کی جائے گی۔ میں عرض کروں گا اے میرے رب میری امت میری امت حکم ہو گا جائو جس کے دل میں رائی کے دانے سے بھی کم ایمان ہے اسے نکال لو میں جائوں گا اور ایسا کروں گا۔۔۔ پھر لوٹ کر آئوں گا‘ اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کروں گا اور کہوں گا اے میرے رب مجھے ان لوگوں کی اجازت دے جنہوں نے لا الہ الا اللہ کہا ہو اللہ تعالیٰ فرمائے گا قسم ہے میری عزت و جلال کی اور عظمت و کبریائی کی کہ میں دوزخ سے اس کو نکال دوں گا جس نے لا الہ الا اللہ کہا ہو۔ (بخاری:۷۵۱۰، مسلم:۱۹۳)
    اہل سنت اور اہل بدعت کے مابین اختلاف کی اس مثال سے مقصود یہ ہے کہ قرآن و سنت کو محنت، ذہانت یا عربی زبان کی مدد سے سیکھنا کافی نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ کتاب و سنت کے اپنے فہم کو سلف کے منہج پر پیش کیا جائے۔ اس طرح ہم اس راستے پر چل سکیں گے جس کے درست ہونے کی ضمانت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے گویا ہمیں راستہ بنانے کی ضرورت نہیں بلکہ سلف کے راستے پر چلنے کی ضرورت ہے۔ دین کی وہ باتیں جن کے بارے میں سلف صالحین کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ان کی از سر نو تحقیق کی کوئی ضرورت نہیں۔ جو کچھ سلف نے کیا وہی حق ہے اور اس کو ماننا واجب ہے اور جہاں ان کا اختلاف ہوا تو حق بھی ان کے اقوال میں سے کسی ایک میں ہوتا ہے۔ اختلاف کی جتنی گنجائش ہمارے سلف کے ہاں پائی گئی ہماری تحقیق کا دائرہ بھی اسی کے اندر رہے گا اور یہ کام بھی وہی کریں گے جو دین کے معاملے میں سلف کے پیروکار ہیں اور خود بھی دین کو خوب سمجھنے والے عالم ہوں۔
    سلف صالحین کے فہم کی پابندی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ کسی کو کتاب و سنت سے کھیل کھیلنے کا موقعہ نہیں مل سکتا۔ آج امت کا ایک بہت بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ کوئی بھی شخص چند آیات اور چند احادیث کا ترجمہ پڑھ کر اور چند دلائل جمع کر کے اسلام کی ایک نئی تعبیر متعارف کرواتا نظر آتا ہے۔ پھر قرآن و حدیث سے جو بات اس کی سمجھ میں آ جائے اسے وہ حق قرار دیتا ہے اور جنہوں نے اسے مختلف انداز میں سمجھا انہیں باطل اور گمراہ۔ کچھ لوگ اس کی دعوت کو کتاب و سنت سمجھ کر ساتھ مل جاتے ہیں اور باقی اس کی تعبیر کو رد کر دیتے ہیں اس طرح وہ ساری زندگی لوگوں کو اپنی فکر کے ساتھ جوڑتا رہتا ہے اور اخلاص کے ساتھ امت کے اندر توڑ پھوڑ کا عمل جاری رکھتا ہے۔

    تفرقہ سے بچنے کی واحد سبیل
    ’’جماعت ‘‘ کے ساتھ حق پر گامزن رہنا اور تفرقہ سے بچنا تبھی ممکن ہے کہ جب انسان اپنے خود ساختہ نظریات چھوڑ کر سلف کا منہج اختیار کرے۔ اصول دین میں ان میں کوئی اختلاف نہیں تھا۔ ﷲ عزوجل نے اس ملت اور اہل ملت کو حق پر مجتمع رہنے کا حکم دیا ہے، ساتھ ساتھ فرقہ بندی اور اختلاف سے ڈرایا ہے، جس میں پہلی امتیں پڑتی رہی ہیں۔
    وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّـهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا (آل عمران ۱۰۳)
    ’’اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام رکھو اور فرقے نہ بنو۔
    وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ ۚ وَأُولَـٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ (آل عمران :۱۰۵)
    ’’ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو فرقہ بندی اور اختلاف میں پڑ گئے جبکہ ان تک روشن دلیلیں پہنچ چکی تھیں، انہی لوگوں کے لیے عذاب عظیم ہے۔‘‘
    ابو شامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ’’جہاں جماعت سے وابستگی اور لزوم کا حکم آیا ہے وہاں اس سے مراد حق سے وابستگی اور اس کی اتباع ہے، چاہے حق پر جمے رہنے والے لوگ کم اور اس کے مخالف زیادہ ہی کیوں نہ ہوں، کیونکہ حق وہ ہے جس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم والی جماعت تھی اب ان کے بعد اہل باطل کی کثرت ہو جائے تو اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے؟ (الباعث لابی شامہ ص:۲۲)
    ’’اہل الحدیث‘‘ سے مراد وہ لوگ ہوتے ہیں جو حدیث رسول سے روایت یا درایت کے لحاظ سے شغف رکھتے ہیں، احادیث نبویہ کو پڑھنے پڑھانے، ان کی روایت کرنے میں مشغول رہے ہیں اور علم و عمل دونوں لحاظ سے ان پر عمل کرنے میں محنت صرف کرتے ہیں، سنت کی پابندی اور بدعت سے اجتناب کرتے ہیں اور ان اہل خواہشات و شہوات سے قطعی امتیاز رکھتے ہیں جو اہل ضلال و گمراہی کے اقوال و آراء کو اقوال رسول اکرم پر فوقیت دیتے اور اپنی فاسد عقل، بوسیدہ منطق اور متناقض کلام کو کتاب اللہ اور سنت نبوی کی تعلیمات پر مقدم ٹھہرا لیتے ہیں۔ حاملین حدیث، اس لحاظ سے، لوگوں میں سب سے زیادہ صحیح عقیدہ، سنت کی پابندی اور ’’جماعت‘‘ اور فرقہ ناجیہ سے وابستگی کے حامل ہوتے ہیں ۔ اسی لئے امام احمد رحمہ اللہ نے ’’جماعت ‘‘ کے بارے میں فرمایا ہے: اگر وہ اصحاب الحدیث نہیں ہیں تومیں نہیں جانتا کہ وہ لوگ کون ہوں گے۔ (شرف اصحاب الحدیث ص ۲۵)
    اہل حدیث اور اہل سنت باہم قریب اصطلاحیں ہیں۔ جب یہ دونوں اکٹھے مذکور ہوں تو اہل حدیث کا اطلاق علم حدیث کے متخصص اصحاب فن پر ہو گا اور ’’اہل سنت‘‘ کا اطلاق باقی اصناف اہل الخیر پر ہو گا۔
     
  7. ‏دسمبر 15، 2019 #7
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    ما شاء اللہ ، احسنتم
     
  8. ‏دسمبر 16، 2019 #8
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,529
    موصول شکریہ جات:
    6,615
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    فہم سلف اپنانے کا عملی طریقہ
    اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    يَرْفَعِ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ ۚ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ (المجادلۃ: ۱۱)
    "جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور جن کو علم ملا اللہ ان لوگوں کے درجات بلند کرے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی جو تم کرتے ہو خبر ہے۔"
    اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دین اور شریعت کے عالم کو عظمت اور شرف عطا کیا ہے جب کہ علم نہ رکھنے والوں کو یہ عظمت اور شرف حاصل نہیں۔
    نافع بن عبد الحارث نے عسفان میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی جن کو عمر نے مکہ پر امیر مقرر کیا ہوا تھا تو سیدنا عمر نے پوچھا کہ تم نے وادی والوں پر کس کو امیر بنایا؟ انہوں نے کہا ابن ابزیٰ کو سیدنا عمر نے پوچھا ابن ابزیٰ کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہمارے آزاد کردہ غلاموں میں سے ایک آزاد کردہ غلام ہے سیدنا عمر نے کہا کہ تم نے غلام کو ان پر امیر بنایا ہے انہوں نے کہا کہ وہ کتاب اللہ کے قاری ہیں اور ترکہ (علم وراثت) کو خوب بانٹنا جانتے ہیں سیدنا عمر نے کہا کہ سنو تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کتاب کے سبب سے کچھ لوگوں کو بلند کرے گا اور کچھ کو گرا دے گا (مسلم)
    طائفہ منصورہ کے علماء کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عالم کی عابد پر فضیلت ایسی ہے جیسے چاند کی تمام ستاروں پر فضیلت ہے بلاشبہ علماء انبیاء کے وارث ہیں کیونکہ علماء درہم و دینار نہیں چھوڑتے وہ ورثہ میں علم چھوڑتے ہیں تو جس نے اس علم کو حاصل کیا اس نے بہت بڑا حصہ پا لیا‘‘ (ابو داود: ۳۶۴۱، قال البانی: صحیح)
    یہ علماء کرام ہی ہیں جو لوگوں کو اسلامی احکام سے آگاہ کرتے ہیں اور جب لوگوں میں اسلام اجنبی ہو جائے تو یہ لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "اسلام اجنبی شروع ہوا اور عنقریب اسی طرح اجنبی ہو جائے گا جس طرح ابتداء میں اجنبی تھا ان پر دیسیوں کے لیے خوشخبری ہے" (مسلم:۱۴۵)
    یہ وہی پردیسی ہیں جو لوگوں کو اصل اسلام کی طرف دعوت دیتے ہیں ۔امام احمد بن حنبل، امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام ابن تیمیہ، امام ابن قیم، امام ابن العز حنفی، امام محمد بن عبد الوہاب اور انکے شاگرد اسی طائفہ منصورہ کے وہ چمکتے ہوئے ستارے ہیں جن کو علماء حقہ اپنا امام مانتے ہیں، لہذا اس فہم کو بیان کرنا جو انہوں نے قرآن و سنت سے حاصل کیا ضروری ہے۔ ہم ان علماء کی وضاحت اس لیے بیان نہیں کرتے کہ ہم قرآن و سنت کو ناکافی سمجھتے ہیں بلکہ اس لیے بیان کرتے ہیں کہ قرآن و سنت کے اس مفہوم کو ہر دور میں طائفہ منصورہ کے علمائے کرام نے بیان کیا ہے اور یہی بیان حق ہے۔
    ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا

    اہل سنت کے عمومی خصائص
    طائفہ منصورہ کے علماء کرام نے اہل السنۃ والجماعۃ کی جو خصوصیات بیان کی ہیں وہ ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔ ان میں چند ایک کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے۔
    ۱۔ ولاء اور وفاداری صرف حق کے لئے
    اللہ تعالیٰ فرقان حمید میں ارشاد فرماتا ہے:
    وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلَّـهِ [البقرۃ: ۱۶۵]
    ’’اور اہل ایمان سب سے زیادہ اللہ سے محبت رکھتے ہیں‘‘۔
    اہلسنّت والجماعت کی محبت، تعلق اور وفاداری صرف اور صرف حق سے ہوتی ہے۔ وہ حق سے محبت کی بنیاد پر ہر شخص اور گروہ سے اپنا رویہ، سلوک اور موقف طے کرتے ہیں اور جاہلیت پر مبنی کسی تعصب مثلاً قبیلہ، وطن، علاقہ، جماعت، یا شخصیت وغیرہ کی بنا پر اپنا موقف اختیار نہیں کرتے۔
    امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    ((ولیس لأحد أن یعلق الحمد والذم، والحب والبغض، والموالاۃ والمعاداۃ والصلاۃ واللعن، بغیر الأسماء التیی علق اللہ بھا ذلک: مثل أسماء القبائل، والمدائن، والمذاھب، والطرائق المضافۃ الی الأئمۃ والمشایخ، ونحو ذلک مما یراد بہ التعریف……فمن کان مؤمناً وجبت موالاتہ من أي صنف کان۔ومن کان کافرًا وجبت معاداتہ من أي صنف کان……ومن کان فیہ ایمان وفیہ فجور أعطي من الموالاۃ بحسب ایمانہ: ومن البغض بحسب فجورہ، ولا یخرج من الایمان بالکیۃ بمجرد الذنوب والمعاصي۔))
    [کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ مدح یا مذمت، محبت یا بغض، موالات (تعلق اور وفاداری) یا دشمنی، درود یا لعنت میں سے کوئی بھی کام ان بنیادوں پر کرے جس کی اللہ رب العزت نے مذمت فرمائی ہے جیسے، قبیلہ وطن یا علاقہ، مذہب (مذاہب ومسالک) اماموں اور مشائخ سے منسوب طریقت یا کوئی بھی ایسی بنیاد جس سے کوئی پہچان یا تشخص قائم ہوتا ہو… جو شخص بھی ایمان رکھتا ہے اس کے ساتھ ولاء (دوستی، تعلق اور وفاداری) فرض ہو جاتی ہے چاہے وہ کسی بھی نسبت سے منسوب ہو یا کسی بھی صنف سے تعلق رکھتا ہو اور جو بھی کافر ہے اس سے دشمنی رکھنا فرض ہے چاہے وہ کسی بھی نسبت سے منسوب ہو یا کسی بھی صنف سے تعلق رکھتا ہو …مزید براں جو شخص ایمان بھی رکھتا ہو اور اس میں فسق و فجور بھی ہو تو ایسے شخص کے ساتھ اس کے ایمان کے بقدر ولاء و موالات اور اس کے فسق و فجور کے بقدر بغض رکھنا چاہئے کہ وہ صرف گناہوں اور معصیت کی وجہ سے ایمان سے خارج بہرحال نہیں ہوتا] (مجموع الفتاویٰ: ج۲۸ ص ۲۲۷-۲۲۹)

    ۲۔ اہلسنّت عمومی طور پر باہم دوستی اور وفاداری (ولاء) رکھتے ہیں
    اللہ تعالیٰ فرقان حمید میں ارشاد فرماتا ہے:
    إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَالَّذِينَ آوَوا وَّنَصَرُوا أُولَـٰئِكَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ (الانفال:۷۲)
    ’’بے شک جو ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنے اموال اور جانوں سے جہاد کیا اور وہ لوگ جنہوں نے ان (مہاجرین) کو پناہ دی اور ان کی مدد کی یہ سب ایک دوسرے کے اولیاء ہیں‘‘۔
    وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ [التوبۃ: ۷۱]
    ’’مومن مرد اور مومن عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے دوست (مددگار) ہیں‘‘۔
    إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّـهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ ﴿٥٥﴾ وَمَن يَتَوَلَّ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا فَإِنَّ حِزْبَ اللَّـهِ هُمُ الْغَالِبُونَ (سورۃ المائدہ)
    ’’تمہارا دوست تو اللہ تعالیٰ، اس کا رسول اور اہل ایمان ہیں، جو نماز قائم کرتے ہیں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور (اللہ کے آگے) جھکتے ہیں، جو شخص بھی اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور مومنوں سے دوستی کرے گا تو (وہ اللہ کی جماعت میں داخل ہو جائے گا) اور اللہ کی جماعت ہی غلبہ پانے والی ہے‘‘
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (قیامت کے دن) "اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ میری جلالت و عظمت کی خاطر باہم محبت کرنے والے کہاں ہیں۔ ان کے لیے نور کے منبر ہیں (جس پر وہ بیٹھیں گے) ان پر انبیاء اور شہداء بھی رشک کریں گے۔ (ترمذی:۲۳۹۰)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم اس وقت تک جنت میں نہیں جائو گے جب تک ایمان نہیں لائو گے۔ اور تم اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک تم ایک دوسرے سے اللہ کے لیے محبت نہیں کرو گے۔ (مسلم۔ح۵۴)
    اہلسنّت والجماعت آپس میں اختلاف رکھنے کے باوجود دوستی، محبت، تعلق اور وفاداری رکھتے ہیں بلکہ وہ سب کے سب ایک ہاتھ کی مانند ہیں۔ ایک دوسرے کو غلطی پر عذر دیتے ہیں اور باہم بہتان طرازی اور گمراہی کے فتوے لگانے میں جلدی نہیں دکھاتے ۔
    امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    ((الواجب ان یقدم من قدمہ اللہ ورسولہ، ویؤخر من أخرہ اللہ ورسولہ، ویحب ما أحبہ اللہ ورسولہ، ویبغض ما أبغضہ اللہ ورسولہ وینھیٰ عما نھیٰ اللہ عنہ ورسولہ، وأن یرضیٰ، بما رضي اللہ بہ ورسولہ، وأن یکون المسلمون یدًا واحدۃ فکیف اذا بلغ الأمر ببعض الناس الیٰ أن یضلل غیرہ ویکفرہ، وقد یکون الصواب معہ: وھو الموافق للکتاب والسنۃ، ولوکان أخوہ المسلم قد أخطأ في شيء من أمور الدین: فلیس کل من أخطأ یکون کافراً ولا فاسقاً، بل قد عفا اللہ لھذہ الأمۃ عن الخطأ والنسیان))
    [شرعی فرض یہ ہے کہ جو اللہ اور رسول کو مقدم رکھتا ہے اسے مقدم رکھا جائے اور جو اللہ اور رسول کو موخر رکھتا ہے اسے موخر رکھا جائے، اللہ اور رسول کو جو محبوب ہو اسے محبوب رکھا جائے اور جو اللہ اور رسول کو ناپسند اور قابل نفرت ہو اسے ناپسند اور قابل نفرت رکھا جائے۔ جس بات سے اللہ اور رسول نے روکا ہے اس چیز سے روکا اور منع کیا جائے، جو اللہ اور رسول کی خوشنودی و رضا مندی کا باعث ہے اس سے اپنی خوشنودی و رضامندی وابستہ رکھی جائے اور یہ کہ مسلمان سب کے سب ایک ہاتھ کے مانند ہوں۔ شومیٔ قسمت کہ بعض لوگوں کی حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ایک دوسرے کو گمراہ اور کافر گردانتے ہیں۔ ہو سکتا ہے صائب رائے اسی کی ہو یعنی کتاب اور سنت کی موافقت میں ہو، یا اس کے دوسرے مسلمان بھائی نے امور دین میں سے کسی چیز میں غلطی کی ہو یا خطا کھائی ہو، مگر ہر خطا کرنے والا کافر یا فاسق نہیں ہوتا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کی خطا اور نسیان معاف کر دیا ہے] (مجموع الفتاویٰ ج:۳ ص: ۴۲۰)

    ۳۔ تالیف قلوب اور اجتماع کلمہ
    اہلسنّت والجماعت ہمیشہ جماعت کی شیرازہ بندی اور جملہ مسلمانوں کی خیر خواہی کرتے ہیں، زیادتی کرنے والے کی زیادتی اور غلطی کرنے والے کی غلطی سے عفو و درگزر کرتے ہیں۔ اس کے لئے ہدایت، راستی بھلائی اور مغفرت کی دعاء کرتے ہیں ۔
    اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ فَاَصْلِحُوْا بَيْنَ اَخَوَيْكُمْ (الحجرات:۱۰)
    ’’مومن سب آپس میں بھائی بھائی ہیں لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کروا دیا کرو۔‘‘
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ایک مومن دوسرے مومن کے لیے اس عمارت کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصہ کو مضبوط کرتا ہے۔‘‘ (بخاری ۔ح۔۶۰۲۶۔ مسلم ح۔۲۵۸۵)
    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    ((تعلمون أن من القواعد العظیمۃ التي ھي من جماع الدین: تألیف القلوب، واجتماع الکلمۃ، وصلاح ذات البین، فان اللہ تعالیٰ یقول: فَاتَّقُوا اللہَ وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَيْنِكُمْ (الانفال:۱)
    وأمثال ذلک من النصوص التي تأمر بالجماعۃ والا ئتلاف، وتنھیٰ عن الفرقۃ والاختلاف، وأ ھل ھذا الأصل: ھم أھل الجماعۃ، کما أن الخار جین عنہ ھم أھل الفرقۃ، وجماع السنۃ: طاعۃ الرسول…واني لاأحب أن یؤذیٰ أحد من عموم المسلمین، فضلاً عن أصحابنا، بشيء أصلاً: لا باطنًا ولا ظاھرًا۔ ولا عندي عتب علیٰ أحدمنھم ولا لوم أصلاً۔ بل لھم عندي من الکرامۃ والاجلال والمحبۃ والتعظیم أضعاف أضعاف ما کان، کل بحسبہ، ولا یخلوالرجل: اما أن یکون مجتحدًا مصیبًا، أو مخطئًا، أو مذنبًا فالأول: مأجور مشکور، والثاني: مع أجرہ علیٰ الاجتھاد فمعفو عنہ مغفورلہ، والثالث: فاللہ یغفر لنا ولہ ولسائر المؤمنین…))
    ’’دین‘‘ کی وحدت و اجتماعیت کی عظیم الشان بنیادوں میں سے یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کے دلوں میں تالیف و شیرازہ بندی کی جائے، ان کے کلمہ کو جمع رکھا اور ان کے مابین اندرونی طور پر صلح و صفائی اور پیار ومحبت کی فضا پیدا کی جائے۔
    اللہ عزوجل کا حکم ہے : فَاتَّقُوا اللہَ وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَيْنِكُمْ (الانفال:۱)
    ’’اللہ سے ڈرتے رہو اور آپس میں صلح واصلاح کرتے رہو۔‘‘
    اس طرح کی اور بہت سی نصوص ملتی ہیں جن میں جماعت، اجتماعیت اور شیرازہ بندی پر زور دیا گیا ہے اور تفرقہ و اختلاف سے منع کیا گیا ہے اس ’’اصل عظیم‘‘ کے حاملین ’’اہل جماعت‘‘ ہیں جبکہ اس سے خارج ہونے والے اہل تفرقہ ہیں۔ جبکہ ’’مذہب سنت‘‘ کی بنیاد اطاعت رسول ہے…
    اختلاف کی صورت میں مسلمان کی تین صورتیں ہو سکتی ہیں:
    ۱۔ وہ مجتہد صائب الرائے ہو گا
    ۲۔ اس کا اجتہاد غلط ہو گا
    ۳۔ گناہ گار ہو گا
    جہاں تک درست اور صائب اجتہاد کرنے والے کا تعلق ہے تو اس کو اجر بھی دو گنا ملتا ہے اور دین میں وہ قابل قدر بھی ہوتا ہے ،جہاں تک اجتہاد میں غلطی کرنے والے کا تعلق ہے تو اس کو بھی اجر ملتا ہے اس کی غلطی بھی معاف ہوتی ہے اور اس سے مغفرت کا وعدہ بھی ہے، رہا تیسرا شخص تو اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں، اسے اور تمام مسلمانوں کو معاف اور درگزر کرے …(مجموع الفتاویٰ ج۲۸ص۵۰)
    مزید فرماتے ہیں:
    ((وقد کان العلماء من الصحابۃ والتابعین ومن بعد ھم اذا تنازعوا في الأمر اتبعوا امر اللہ تعالٰی في قولہ: فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَى اللہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ۰ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا (النساء:۵۹)
    وکانوا یتناظرون في المسالۃ العلمیۃ والعملیۃ، مع بقاء الالفۃ والعصمۃ وأُخوۃُ الدین۔))
    ’’صحابہ، تابعین اور ان کے بعد کے اہل علم جب کبھی کسی مسئلے میں اختلاف کرتے تو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر عمل کرتے:
    فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَى اللہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ۰ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا (النساء:۵۹)
    اگر تمہارے درمیان کسی بات میں باہم اختلاف ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دیا کرو بشرطیکہ تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو یہی بہتر اور افضل ترین تاویل ہے۔
    چنانچہ وہ حضرات علمی (اعتقادی) و عملی مسائل میں بحث و مباحثہ بھی کیا کرتے تھے مگر اس کے باوجود ان کی باہمی الفت اور دینی اخوت برقرار رہتی تھی۔‘‘ (مجموع الفتاویٰ ،ج ۲۴ ص ۱۷۲)

    اہل تفرقہ کے عمومی خصائص:
    اہل سنت کے برعکس اہل بدعت مسلمانوں کی اجتماعیت کو پارہ پارہ کرنے والے ہوتے ہیں۔ وہ حق کی بنیاد پر محبت کرنے اور شریعت کی پیروی کرنے کی بجائے اپنی ذات، بزرگ اور جماعت کی اساس پر محبت اور بغض رکھتے ہیں۔ اہل بدعت دو وجوہات کی بناء پر سنت کی مخالفت کرتے ہیں، پہلا یہ کہ حق سے جاہل ہوتے ہیں اس لئے ظن کی بنا پر اور علم کے بغیر حکم لگاتے ہیں، دوسرا باعث ہوائے نفس ہوتے ہیں، چنانچہ وہ ظلم کی بنا پر اور عدل کے بغیر حکم لگاتے ہیں۔
    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں :
    ((من والٰی موافقہ وعادیٰ مخالفہ وفَرَّق بین جماعۃ المسلین، وکفّر وفَسَّق مخالفہ دون موافقہ في مسائل الآراء والاجتھادات، واستحل قتال مخالفہ دون موافقہ، فھؤلاء من أھل التفرق والاختلاف))
    ’’جو اپنے سے اتفاق کرنے والے سے ہی ولاء (محبت اور دوستی) رکھے، اختلاف رکھنے والے سے دشمنی رکھے اور اس طرح مسلمانوں کی جماعت میں افتراق پیدا کرے، آراء اور اجتہادات کے مسائل میں جو اس کے ساتھ اتفاق نہیں کرتا اسے کافر اور فاسق قرار دے اپنے مخالف سے، جو کہ اس کی موافقت نہیں کرتا، قتال کو جائز قرار دے، تو ایسے ہی لوگ اہل تفرق اور اہل اختلاف ہیں۔‘‘ (مجموع الفتاویٰ، ج۳ص ۳۴۹)
    چنانچہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو یہ درجہ دیتا ہے کہ جو اس سے محبت کرتا اور موافقت رکھتا ہے اس کا شمار اہلسنّت والجماعت میں ہو گا اور جو اس سے اختلاف رکھتا ہے اسے اہل بدعت اور اہل تفرقہ گردانتا ہے …تو یہی اہل بدعت و ضلال اور اہل تفرق ہیں‘‘۔ (مجموع الفتاویٰ، ج۳ ص ۳۴۷)
    اسی طرح اہل سنت اور اہل بدعت میں ایک بڑا فرق یہ ہے کہ اہل سنت ہر خطا کار کو گنہگار قرار نہیں دیتے جبکہ اہل بدعت خطا (غلطی لگ جانے) اور گناہ کو ایک سا کر دیتے ہیں۔
    شیخ الاسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں :(اہل سنت کا یہ عقیدہ ہے کہ) جب مجتہد درست اجتہاد کرتے ہیں تو ان کو دو نیکیاں ملتی ہیں۔ اور اگر ان کا اجتہاد غلط ہو تو بھی ان کو اجتہاد کرنے سے ایک نیکی ملتی ہے نیز ان کی یہ اجتہادی غلطی معاف ہو جاتی ہے۔ جبکہ اہل ضلال و گمراہی غلطی لگنے اور گناہ کو لازم و ملزوم ٹھہراتے ہیں۔ کبھی تو غلو کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ وہ (ائمہ) معصوم ہیں اور کبھی تفریط کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ (ائمہ مجتہدین) خطا کی بنا پر گنہگار ہیں جبکہ اہل علم اور اہل ایمان ان حضرات کو نہ معصوم قرار دیتے ہیں اور نہ ہی گناہ گار … (مجموع الفتاویٰ،ج۳۵ ص۶۹-۷۰)
     
  9. ‏دسمبر 16، 2019 #9
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,529
    موصول شکریہ جات:
    6,615
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    بدعت اور اہل بدعت
    بدعت کی تعریف اور ضابطہ:۔
    شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
    بدعت کی شرعی تعریف یہ ہے کہ:
    ’’اللہ کی عبادت اس طریقہ کے ساتھ کی جائے جسے اللہ نے مشروع نہیں کیا۔
    جیسے کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
    أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُم مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللَّـهُ ۚ (شوریٰ:۲۱)
    ’’کیا ان لوگوں نے ایسے شریک بنا رکھے ہیں جو ان کے لیے دین کا ایسا طریقہ مقرر کرتے ہیں جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی۔‘‘
    اس کی تعریف یوں بھی کر سکتے ہیں کہ:
    اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طریقہ سے کرنا جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، خلفاء راشدین اور صحابہ کرام نے نہیں کی۔
    جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم میرے بعد میری اور میرے خلفاء راشدین مھدیین کی سنت کو لازم پکڑنا اور اسے مضبوطی سے تھامے رکھنا اور نئے نئے امور سے بچنا۔ کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے ۔‘‘ (ابن ماجہ:۴۷، مجموع الفتاویٰ ابن عثیمین۲ /۲۹۱)

    بدعت کی اقسام:
    شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ فرماتے ہیں:
    ابتداع و ایجاد کی دو قسمیں ہیں :
    ۱۔ عادات میں ابتداع و ایجاد جیسے نئی نئی ایجادات۔ اور یہ جائز ہے، اس لئے کہ عادات میں اصل اباحت ہے۔ (یعنی شریعت نے تمام عادات کو حلال قرار دیا ہے جب تک کہ اللہ اور اس کے رسول کے کسی حکم کے مخالف نہ ہو ۔)
    ۲۔ دین میں نئی چیز ایجاد کرنا یہ حرام ہے اس لئے کہ دین میں اصل توقیف ہے۔
    (یعنی کسی بات کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے بغیر دین قرار دینا حرام ہے۔)

    دین میں بدعت کی دو قسمیں ہیں:
    اولاً : ایسی بدعت جن کا تعلق قول و اعتقاد سے ہے جیسے جہمیہ، معتزلہ، رافضہ اور تمام گمراہ فرقوں کے اقوال واعتقادات۔
    ثانیاً : عبادت میں بدعت، جیسے اللہ کی عبادت غیر مشروع طریقہ سے کرنا اور اس کی چند قسمیں ہیں۔
    پہلی قسم : نفس عبادت ہی بدعت ہو جیسے کوئی ایسی عبادت ایجاد کر لی جائے جس کی شریعت میں کوئی بنیاد اور اصل نہ ہو۔ مثلاً غیر مشروع روزہ یا غیر مشروع عیدیں جیسے عید میلاد النبی وغیرہ۔
    دوسری قسم : جو مشروع عبادت میں زیادتی کی شکل میں ہو جیسے ظہر یا عصر کی نماز میں پانچویں رکعت زیادہ کر دے۔
    تیسری قسم : جو عبادت کی ادائیگی کے طریقوں میں ہو یعنی اسے غیر شرعی طریقے پر ادا کرے، جیسے مشروع اذکار و دعائیں اجتماعی آواز اور خوش الحانی سے ادا کرنا۔ (بدعت، تعریف، اقسام اور احکام:4تا6)

    بدعت کا حکم
    بدعت حرام اور ضلالت و گمراہی کا باعث ہے۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’دین کے اندر تمام نئی پیدا کی ہوئی چیزوں سے بچو کیونکہ ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘ (ابو داؤد، ترمذی)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’جس نے ہمارے دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی جو دین سے نہیں تو وہ مردود ہے۔‘‘ (بخاری، مسلم)
    ’’جس نے کوئی ایسا کام کیا جو ہمارے دین کے طریقے پر نہیں تو وہ مردود ہے‘‘ (مسلم)
    یہ احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ دین میں ایجاد کردہ نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور وہ مردود ہے۔
    شیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ لکھتے ہیں:
    بدعتیں کفر کی ڈاک ہیں اور یہ دین میں ایک ایسی زیادتی ہے جسے اللہ اور اس کے رسول نے مشروع نہیں کیا۔ بدعت کبیرہ گناہ سے زیادہ بری چیز ہے اور شیطان کبیرہ گناہ کی نسبت بدعت سے زیادہ خوش ہوتا ہے اس لیے کہ گناہ گار گناہ کرتے ہوئے جانتا ہے کہ یہ گناہ ہے وہ اس سے توبہ کر سکتا ہے اور بدعتی بدعت کرتے وقت یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ یہ دینی چیز ہے جس سے اللہ کا قرب حاصل کیا جا سکتا ہے اس لیے وہ اس سے توبہ نہیں کرتا۔ بدعتیں سنتوں کا خاتمہ کر دیتی ہیں اور بدعتیوں کے نزدیک سنت اور اہل سنت مبغوض و ناپسندیدہ ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح بدعت اللہ سے دور کر کے اس کے غضب و عتاب کو لازم کرتی ہے اور دلوں کی کجی اور خرابی کا سبب بنتی ہے۔ (بدعت، تعریف، اقسام اور احکام: ص۳۵)
     
  10. ‏دسمبر 16، 2019 #10
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,529
    موصول شکریہ جات:
    6,615
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    بدعت کی اقسام
    اہل بدعت پر حکم کے اعتبار سے بدعت کی دو قسمیں:
    (۱)۔ بدعت مکفرہ۔
    (۲)۔ بدعت غیر مکفرہ۔

    بدعت مکفرہ
    علامہ حافظ حکمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    ((ضابط البدعۃ المکفرۃ: من أنکر أمراً مجمعاً علیہ متواتراً من الشرع، معلوماً من الدین بالضرورۃ من جحود مفروض، أو فرض مالم یفرض، أو تحلیل محرم، أو تحریم حلال، أو اعتقادہ ما ینزَّہ اللہ ورسولہ وکتابہ عنہ من نفي أو اثبات، لأن ذلک تکذیب بالکتاب وبما أرسل اللہ بہ رسولہ)) (معارج القبول :616,617/2)
    ’’بدعت مکفرہ کی تعریف یہ ہے کہ جس کسی نے بھی کسی ایسے امر کا انکار کیا جو متفق علیہ ہے شریعت سے متواتر ثابت ہے اور دین میں اس کا معلوم ہونا ضروری ہے چاہے وہ کسی فرض کا انکا رہو یا پھر کسی ایسی چیز کو فرض کرنا ہو جو فرض نہ تھی یا حرام کو حلال کرنا یا حلال کو حرام کرنا ہو یا پھر اللہ کی ایسی صفت بیان کرنا جس سے وہ پاک ہے یا ان صفات مذمومہ کو اللہ کی طرف منسوب کرنے کا اعتقاد رکھنا جن صفات سے پاک ہونا کتاب اللہ میں یا رسول اللہ کی سنت میں بیان کیا گیا ہے چاہے وہ اثبات ہو یا نفی‘ کیونکہ اس میں کتاب اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب ہوتی ہے۔ ‘‘(معارج القبول :616,617/2)
    کفریہ بدعت کی دو صورتیں ہیں: اس مسئلہ کو ائمہ کرام نے امور خفیہ اور امور ظاہرہ کی تقسیم کرتے ہوئے بیان کیا ہے۔

    [1] المسائل الظاہرہ
    وہ کفریہ بدعت جو لا الہٰ الا اللہ محمد رسول اللہ کے مدلول ہی سے براہ راست متصادم ہو۔ یہ وہ مسائل ہیں جن کو مسلمانوں کے عوام اور علماء سب جانتے ہیں یہ شریعت کے بنیادی عقائد ہیں۔ امت کا ان مسائل میں اجماع ہو چکا اس لیے ان بنیادی امور میں تاویل یا غلط مبحث کا کوئی امکان نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان مسائل میں اختلاف قطعاً قابل برداشت نہیں کیونکہ اس سے دین کی بنیاد ہی ختم ہو جاتی ہے۔ یہ امور قطعی طور پر ثابت ہیں اس لیے انہیں قطعیات کہتے ہیں علماء اسلام کا ان پر اتفاق ہے۔ اور یہ تواتر عملی سے امت کے اندر رائج ہیں۔ اس لیے ان کو صرف اور صرف تسلیم کر لینا ہی واجب ہے۔ یہ قطعیات عقائد اور فروع دونوں میں پائے جاتے ہیں ان میں اجتہاد، رائے یا اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ شریعت کے وہ عظیم الشان قواعد ہیں جو اٹل ہیں۔ جو شخص ان کے تسلیم کرنے میں ہی تردد کرے یا ان کے معاملے کو مشکوک ٹھہرائے وہ ملت اسلامیہ سے خارج یعنی مرتد ہو گا۔ اس کو لا علمی، جہالت، شبہ یا تاویل کا عذر نہیں دیا جائے گا۔ ان کفریہ بدعات کے حاملین کے بہت سے رخ ہیں کہیں یہ کلمہ پڑھ کر کیمونسٹ، سوشلسٹ اور ان سیکولر لوگوں کی شکل میں ہیں جو انسانوں کے بنائے ہوئے نظام جمہوریت اور سوشلزم کو اللہ کے دین سے بہتر سمجھتے ہوئے لوگوں کو زبردستی اس کا پابند بناتے ہیں اور اسلامی احکامات کا مذاق اڑانے سے بھی باز نہیں آتے۔ اللہ کے نازل کردہ چور زانی اور قاتل کی سزائوں کو وحشیانہ سزائیں قرار دیتے ہیں۔ اور کہیں ان نام نہاد مسلمانوں کی شکل میں ہیں جو اللہ کے تمام اسماء و صفات کا بغیر کسی تاویل کے انکار کرتے ہیں اور ایمان کو صرف معرفت سے تعبیر کرتے ہیں ان کو غلاۃ الجہمیہ کہا جاتا ہے۔ اور کہیں ان صوفیاء کی شکل میں جو اسلام کا لبادہ اوڑھ کر عقیدہ وحدۃ الوجود (ماہیت کے اعتبار سے کائنات عین وجود باری تعالیٰ ہے) کے مبلغ ہیں اور شریعت کو طریقت سے الگ سمجھتے ہیں اور جو رسول اللہ کو اللہ کے نور کا حصہ اور مشکل کشا مانتے ہیں۔ اپنی مشکلات میں اللہ کے نبی اور سیدنا حسن و حسین کو پکارتے ہیں‘ غیر اللہ کو مختار کل جان کر اپنی مشکلات کے حل کے لیے قبروں پر سجدہ کرتے ہیں۔ اور کہیں یہ احمدیوں کی شکل میں ہیں جو رسول اللہ کو آخری نبی تسلیم نہیں کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی کو رسول کہتے ہیں اور کہیں یہ اپنے ائمہ کو معصوم عن الخطا، مامور من اللہ اور ان کی اطاعت کو واجب قرار دینے اور امامت کو نبوت سے افضل قرار دیتے ہوئے 12 اماموں کی عصمت کا اعتقاد رکھنے، قرآن کو بدلی ہوئی کتاب ماننے اور صحابہ کو کافر کہنے والے رافضیوں کی شکل میں ہیں۔
    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر حافظ عبدالرشید اظہر حفظہ اللہ لکھتے ہیں:
    ’’بالخصوص عصر حاضر میں اسلام کا نام استعمال کرنے اور اس کے پردے میں کفر کی نشر و اشاعت کرنے والے باطل فرقوں کا یہی حکم ہے۔ جیسے البابیہ، بہایہ، قادیانیت، اشتراکیت، سوشلزم، علمانیت، قومیت، استشراق، وحدۃ الوجود، حلول و اتحاد، مادیت پرستی، روشن خیالی، وحدت ادیان، برابری کی بنیاد پر مکالمہ بین المذاہب وغیرہ۔ یہ اہل بدعت نام کی حد تک بدعتی ہیں، اصلاً یہ سب کفر کی شکلیں ہیں۔ جیسے نفاق اور کفر میں صرف لفظی فرق ہے، اصل میں دونوں ایک ہی ہیں۔ ان تمام بدعتوں کے دُعاۃ شر کھلے بندوں ہر قسم کے ذرائع ابلاغ میں کفر کی نشر و اشاعت میں مصروف عمل ہیں۔ بدعت کی اس نوع کے کفر اور اس کے مرتکبین کے کفار ہونے میں کسی تردد کی ضرورت نہیں ہے۔ اہل ایمان کو ان کے فریب سے نکالنا، سازشوں سے آگاہ رکھنا، ان کا حکم بیان کرنا، ممکن ہو تو انہیں نصیحت کرنا اور حق کی دعوت دینا، استطاعت ہو تو ان سے بحث کرکے حق واضح کرنا، بصورت دیگر ان سے مکمل قطع تعلقی اور اظہار بیزاری حضرات محدثین کا عقائدی منہج ہے، جس کی پیروی ان کی جماعت اہل الحدیث والسنہ کا فرض منصبی ہے۔ (مقالات تربیت،ص:۱۰۹)
    شیخ مقصود الحسن فیضی حفظہ اللہ لکھتے ہیں کافر و مشرک سے مراد وہ لوگ بھی ہیں جو مسلمان ہونے کے دعویدار تو ہیں لیکن کسی ایسے کام کا ارتکاب کرتے ہیں جس کا کفر و شرک علمائے امت کے نزدیک متفق علیہ ہے۔ جیسے غیر اللہ کو سجدہ کرنا، دین کی بنیادی باتوں کا انکار کرنا، اللہ اور اس کے رسول یا اسلام کا مذاق اڑانا۔ بشرطیکہ وہ خود با خبر ہوں یا ان پر حجت قائم ہو چکی ہو۔ (وفاداری یا بیزاری، ص30)
    سعودی عرب کی اللّجنۃ الدائمہ للبحوث العلمیہ والافتاء (جس کے رئیس الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ الہ تھے) کے چند فتوے ملاحظہ فرمائیں:
    ’’جو شخص نماز پڑھے، روزے رکھے اور ارکان اسلام پر عمل کرے مگر اس کے ساتھ وہ مُردوں، غیر حاضر بزرگوں اور فرشتوں وغیرہ کو مدد کے لیے پکارے وہ مشرک ہے اور اگر وہ نصیحت کو قبول نہ کرے اور مرتے دم تک اس عقیدے پر رہے تو اُسکی موت شرک پر ہے۔ اس کا شرک ’’شرک اکبر‘‘ ہے جو اسے اسلام سے ہی خارج کر دیتا ہے۔ اُسے نہ تو مرنے کے بعد غسل دیا جائے گا اور نہ ہی اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور نہ ہی اسے مسلمانوں کے قبرستانوں میں دفن کیا جائے گا اور نہ اس کیلئے مغفرت کی دعا کی جائے گی اور نہ ہی اس کی اولاد، والدین اور بھائی، اگر موحدین ہوں، اُس کے وارث ہوں گے۔‘‘ [فتوی نمبر6972]
    ’’جو شخص اللہ کی توحید اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی دیتا ہے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرتا ہے پس وہ مسلم و مومن ہے۔ اور جو شرکیہ اقوال یا شرکیہ افعال کرتا ہے جو کلمہ کے منافی ہیں پس وہ کافر ہے اگرچہ کلمہ پڑھے، نماز ادا کرے اور روزہ رکھے۔ جیسا کہ مُردوں کو مشکلات میں پکارتا ہے ان کی تعظیم میں قربانی کرتا ہے ایسے شخص کا ذبیحہ کھانا جائز نہیں۔ ‘‘[فتوی نمبر10685، فتاویٰ اللجنہ جمع و ترتیب احمد بن عبد الرزاق الدویش]
    اسی طرح جو شخص پانچ وقت کی نماز، رمضان کے روزوں، عشر، زکوٰۃ یا حج وغیرہ میں سے کسی ایک کا انکار کرے تو وہ بھی کافر ہو گا۔
    صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے زکوٰۃ کے منکرین کے خلاف جہاد کیا۔ حالانکہ وہ کلمہ پڑھتے اور نماز یں ادا کرتے تھے۔ جب عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ ان لوگوں سے کیسے لڑیں گے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ وہ لا الہٰ الا اللہ کا اقرار کر لیں اور جب وہ اس کا اقرار کریں تو انہوں نے اپنی جان اور اپنا مال میری تلوار سے محفوظ کر لیا مگر اسلام کا حق ان سے لیا جائے گا اور ان کے دل کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم میں ان لوگوں سے ضرور لڑوں گا جو نماز اور زکوٰۃ میں فرق کریں گے۔ بے شک زکوٰۃ مال کا حق ہے۔ اللہ کی قسم اگر انہوں نے اونٹ کے گلے میں باندھنے والی رسی بھی روکی جو یہ رسول اللہ کو دیا کرتے تھے میں اس کے روکنے پر ان سے ضرور لڑوں گا۔ عمر کہنے لگے اللہ کی قسم اللہ نے ابو بکر کا سینہ منکرین زکوٰۃ سے جہاد کے لیے کھول دیا اور پھر میں نے بھی جان لیا کہ یہی بات حق ہے (بخاری: ۱۴۰۰۔مسلم: ۲۰)
    گویا صحابہ کرام نے شہادتین کا اقرار کرنے اور نماز پڑھنے والوں کو مرتدین میں شمار کیا اور ان سے جہاد کیا کیونکہ وہ زکوٰۃ ادا نہیں کرتے تھے اور ان میں سے بعض کا یہ موقف تھا کہ نبی کریم کے بعد کسی اور کو زکوٰۃ نہیں دی جائے گی۔

    نماز کے تارک اور دین یا سنت نبوی کا مذاق اڑانے والے کے بارے میں للجنہ نے یوں فتویٰ دیا۔
    نماز کو جان بوجھ کر ترک کرنے والا اگر نماز کا منکر ہے تو اس کے متعلق علماء اسلام کا اجماع ہے کہ وہ کافر ہو جاتا ہے اور اگر سستی کی وجہ سے ترک کرے تو اس کے متعلق بھی صحیح قول یہی ہے کہ وہ کافر ہے اور جو شخص دین اسلام کا مذاق اڑائے یا کسی ایسی سنت کو نشانہ تضحیک بنائے جو رسول اللہ سے ثابت ہے مثلاً پوری داڑھی رکھنا، کپڑا ٹخنوں سے اوپر یا آدھی پنڈلی تک رکھنا اور اسے معلوم بھی ہو کہ یہ واقعی سنت ہے وہ کافر ہو جاتا ہے اور جو شخص کسی مسلمان کا محض اس لیے مذاق اڑائے کہ وہ اسلام کے احکام کا پابند ہے تو ایسا شخص بھی کافر ہوتا ہے۔ (فتاویٰ دارالافتاء جلد دوم ص ۳۵)
    غیر اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ کرنے والے
    ارشاد ربانی ہے ۔
    وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ (مائدۃ:۴۴)
    ’’جو اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہ کافر ہیں۔‘‘
    جنادہ بن امیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے ان کے ہاں گئے تو انہوں نے فرمایا: "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیعت لی کہ ہر مشکل و آسانی اور تنگی و خوشحالی‘ ہر حال میں امیر کی بات سنیں گے اور اطاعت کریں گے، جب تک امیر واضح کفر کا مرتکب نہ ہو جس کی تمہارے پاس اللہ کی طرف سے دلیل ہو"۔ (بخاری :۷۰۵۶، مسلم:۱۷۰۹)
    کلمہ گو حکمرانوں کا اسلام کے علاوہ کسی اور قانون کو شارع عام بنانے (یعنی وہ قانون کہ جس سے لوگوں کے مابین فیصلے کیے جاتے ہوں اور جس کا ماننا ہر ایک پر لازم ہو) کی کفریہ بدعت کا آغاز امام ابن کثیر اور امام ابن تیمیہ کے دور سے ہوا۔ جب تاتاریوں نے کلمہ پڑھنے کے باوجود دین اسلام کی بجائے ’’یاسق‘‘ نامی قانون کو فیصلوں کے لیے مرجع و مصدر قرار دیا۔ امام ابن کثیر اور اس وقت کے دیگر علماء نے انہیں اس عمل کی وجہ سے کافر قرار دیا۔ اس آیت کریمہ کی تفسیر کرتے ہوئے امام ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
    أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ ۚ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّـهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ (المائدۃ:۰ ۵)
    ’’تو کیا پھر جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں حالانکہ جو لوگ اللہ پر یقین رکھتے ہیں ان کے نزدیک اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا کوئی نہیں۔‘‘
    اﷲ تعالیٰ ان لوگوں کی تردید کرتا ہے جو اس کے ان احکام سے اعراض کرتے ہیں جن میں خیر ہی خیر ہے۔ جن میں ہر قسم کے شر سے روکا گیا ہے اور ایسی آراء، اقوال اور اصطلاحات کی طرف رجوع کرتے ہیں جن کو ان لوگوں نے وضع کیا جو شریعت اسلامیہ کی ابجد سے بھی واقف نہیں ہیں جیسے تاتاریوں نے چنگیز خان کی تقلید اور اس کی آراء کے مطابق فیصلے کرنے شروع کر دیئے۔ چنگیز خان نے یاسق کے نام سے ایک دستور مرتب کیا جو حقیقت میں مختلف مذاہب مثلاً یہودیت و نصرانیت اور ملت اسلامیہ سے اخذ شدہ تھا اور اس انتخاب میں بھی اس نے اپنی خواہشات اور ذاتی نظریہ کو ملحوظ رکھا۔ یہ ایسا مجموعہ ہے جسے اس کے پیروکار کتاب و سنت پر مقدم قرار دیتے اور اس کو مقدس سمجھتے ہیں پس جو شخص ایسے فعل کا مرتکب ہو گا وہ کافر ہے جس سے اس وقت تک جنگ کی جائے گی جب تک کتاب و سنت کی طرف رجوع نہ کرلے اور معمولی سے معمولی اور بڑے سے بڑے تنازع میں کتاب و سنت کو حَکَم نہ مان لے۔‘‘ (بحوالہ ہدایۃ المستفید ص 1074)
    فضیلۃ الشیخ عبداللہ بن عبد الرحمن آلِ جبرین فرماتے ہیں:
    ’’ہم کہتے ہیں کہ جو کوئی اللہ تعالی کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کرے (اللہ کے دین کو) ناقص یا حقیر جانتے ہوئے یا یہ عقیدہ رکھے کہ دوسرا قانون اس کی نسبت زیادہ اصلاح کرنے والا اور نفع بخش ہے پس وہ کافر ہے اور ملتِ اسلامیہ سے خارج ہے۔ اور جو لوگوں کے لیے اسلامی شریعت کے مخالف قانون بناتے ہیں تاکہ لوگ اس قانون پر عمل کریں یہ صرف اس وقت ممکن ہے جب ان کا یہ عقیدہ بھی ہو کہ خلافِ شریعت قانون مخلوق کے لیے زیادہ اصلاح کرنے کی صلاحیت رکھنے والا اور زیادہ نفع بخش ہے کیونکہ عقلی اور فطری طور پریہ بات مسلم ہے کہ انسان ایک راستہ چھوڑ کر اس کا مخالف راستہ اسی صورت میں اختیار کرتا ہے جبکہ اس کا عقیدہ ہو کہ جس راستہ کو وہ اختیار کر رہا ہے وہ فضیلت والاہے اور جسے چھوڑ رہا ہے وہ ناقص ہے۔ (الفتاوی الشرعیہ فی المسائل العصریہ من فتاوی علماء البلد الحرام۔ صفحہ نمبر۷۰‘۷۱)
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں