1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ایک ڈائری لکھنا قتل کی وجہ ٹھرا اور بہنوں کا خون حلال ہو گیا!!!

'خوارج' میں موضوعات آغاز کردہ از عبداللہ عبدل, ‏اکتوبر 09، 2012۔

  1. ‏اکتوبر 09، 2012 #1
    عبداللہ عبدل

    عبداللہ عبدل مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2011
    پیغامات:
    493
    موصول شکریہ جات:
    2,196
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    السلام علیکم۔۔

    کیا ملالہ یوسف زئی بہن مرتد تھی؟؟؟
    کیا کسی کو محض خلاف بولنے پر قتل کیا جاسکتا ہے؟؟
    کون سی شرعی دلیل تھی ، جس پر ہماری اس بہن پر قاتلانہ حملہ ہوا؟؟؟
    اس ساتھ موجود بے گناہ بہنے کس شرعی اصول کے تحت اس حملے کا نشانہ بنی؟؟


    ملالہ یوسفزئی پر حملہ ہم نے کیا: تحریک طالبان
    آخری وقت اشاعت: منگل 9 اکتوبر 2012 , 11:52 GMT 16:52 PST

    لنک::ملالہ یوسف زئی پر حملہ ہم نے کیا: تحریک طالبان پاکستان

    اب کوئی کہے کہ یہ خالص ’’ مجاہدین ‘‘ ہیں ؟؟
    اہل ’’ حق‘‘ ہیں؟؟

    زرا سوچ کر بولنا ، کل قیامت کے دن ان بہنوں کے خون کا جواب بھی دینا ہے۔۔۔۔۔۔۔ظالموں پر افسوس کوئی نہ کرے!!!!
     
  2. ‏اکتوبر 09، 2012 #2
    ضحاک

    ضحاک مبتدی
    جگہ:
    grw
    شمولیت:
    ‏فروری 06، 2012
    پیغامات:
    43
    موصول شکریہ جات:
    180
    تمغے کے پوائنٹ:
    23

    جس نے ظالموں کی نشاندہی کی وہی ظلم کا نشانہ ٹہر گیا۔

    ان ظالموں سے اللہ نجات عطافرمائے امین!

    ویسے کہا یہ جارہا ہے کہ آئندہ چار دن اس کی زندگی کے بہت اہم ہیں لگتا یوں ہی ہے کہ حالت کافی نازک ہے ۔

    اور اب اسے بیرون کسی ملک لے جانے کا انتظام کیا جارہا ہے۔

    اللھم اشفھا
     
  3. ‏اکتوبر 10، 2012 #3
    عبداللہ عبدل

    عبداللہ عبدل مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2011
    پیغامات:
    493
    موصول شکریہ جات:
    2,196
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    آمین
     
  4. ‏اکتوبر 10، 2012 #4
    شیر سلفی

    شیر سلفی رکن
    جگہ:
    صوابی، خیبرپختونخواہ
    شمولیت:
    ‏جون 16، 2011
    پیغامات:
    98
    موصول شکریہ جات:
    197
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    السلام علیکم، بھائی مجھے بڑا تعجب ہے کہ کس طرح بغیر کسی تحقیق کے یہ الزام آپ نے طالبان کے سر تھونپ دیا ہے، میں نہ طالبان کا حامی ہوں اور نہ ہی کوئی لیبرل قسم کا انسان ہوں، مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ صرف ایک یہودی چینل بی بی سی کی خبر کو لے کر آپ طالبان کو بدنام کر رہے ہیں، میرا مقصد آپ سے جھگڑا کرنا ہرگز نہیں، صرف سمجھنے کے لیے اعتراض کیا ہے،
    آپ یہ سوچیں کہ جیو نے یہ خبر نشر کرکے یہ کہہ دیا کہ طالبان نے زمہ داری قبول کرلی۔ آخر کیسے قبول کر لی، کیا ان کی طرف سے کوئی ایسی ویڈیو وغیرہ آئی ہے کہ یہ ہماری دشمن ہے اور ہم اس کو قتل کریں گے، صرف بی بی سی کے کہنے سے بات تو نہیں بنتی وہ تو میں بھی لکھ دوں کہ فلاں نے فلاں کا قتل کیا ہے اور ذمہ داری بھی قبول کر لی ہے،
    جس نے بھی یہ حرکت کی ہے وہ بہت گھٹیا اور کفریہ حرکت کی ہے کہ ایک مسلمان بہن پر قاتلانہ حملہ کیا ہے، اللہ ایسے لوگوں کو تباہ و برباد کرے،
    لیکن کیا یہ حرکت صرف طالبان ہی کر سکتے ہیں، کیا ہمارے ملک میں پیسے لے کر قتل کرانے والے غنڈے اور ناپاک لوگ نہیں، کیا کوئی کفار کی ایجنسی یہ کام نہیں کروا سکتی، سکول سے بچیوں کو منع کے کیس تو ہمارے دوسرے علاقوں میں بھی ہوتے ہیں اور اکثر یہ قتل قریبی رشتہ دار یا گاؤں کے وڈیرے وغیرہ کرتے ہیں۔میرے ایسے دوست ہیں جن کی بہنیں خود سکولوں کو جاتی ہیں، طالبان ان کو کچھ نہیں کہتے بلکہ ان کی اپنی بہنیں بھی جاتی ہیں لیکن شرعی پردے میں۔
    کیا سوات میں ایسے جہلا نہیں جو کسی جاہل کی باتوں میں آکر کہ یہ لڑکی سکول کیوں جاتی ہے، حملہ کر دیا ہو اور الزام طالبان پر لگا دیا ہے، ہم نےبھی بس جیو اور بی بی سی کو سندِ حدیث سمجھا ہوا ہے،نہ طالبان کی طرف سے کوئی ویڈیو ، نہ کوئی بیان، اگر آ بھی جائے تو کیا لاذمی وہ طالبان ہی ہوں گے یا پھر گاؤں کے چند جاہل اکھٹے ہو کر اور پگڑی باندھ کر بیان دیا ہو گا۔
    میرے بھائی میں طالبان کی قطعاً حمایت نہیں کر رہا، اور آپ کی اطلاع کے لیے پہلے سے عرض کردوں کہ ماشا اللہ میں سلفی عقیدہ اہل حدیث مسلمان ہوں۔ آپ یہ نہ سمجھ لینا کہ کوئی دیوبندی اٹھ کر اپنے طالبان کا دفاع کر رہا ہے،
    بات یہ ہے کہ اس واقعے سے اسلام اور جہاد کو کتنا نقصان پہنچے گا؟؟؟
    ہر کوئی یہ سمجھے گا کہ واقعی یہ لوگ دہشت گرد ہیں اس لیے جہاد دہشت گردی کا نام ہے۔ نعوذ باللہ
    حافظ سعید صاحب اور ان کی جماعت الدعوۃ کو نقصان پہنچے گا۔
    میرے بھائی چاہیے تو یہ تھا کہ ہم اسلام اور جہاد کی تبلیغ کرتے لیکن الٹا اس کو دبا رہیں ہیں۔

    امید ہے اگر میں غلطی پر ہوا تو آپ میری اصلاح کریں گے اور اگر آپ ہیں تو اللہ آپ کو ہدایت دے۔
     
  5. ‏اکتوبر 10، 2012 #5
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,268
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    ١۔ سب سے پہلے تو دہشت گردی کے اس واقعہ کی مذمت کرتا ہوں جس میں مختلف طالبات زخمی ہوئیں۔ دعا ہے کہ اللہ انہین صحت کاملہ عطا کرے آمین۔ اسلام اس طرح کے ”حملوں“ کی اجازت نہیں دیتا۔ اور جس کسی نے بھی یہ کیا ہے، غیر اسلامی کام کیا ہے۔

    ٢۔ پاکستان میں دہشت گردی کی اس طرح کی وارداتوں میں طالبان کا نام لیا جانا، اور ”طالبان کی طرف سے ذمہ داری قبول کرنا“، اس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ اس قسم کی خبریں پاکستانی میڈیا کو ”غیر ملکی خبر رساں ایجنسیاں“ فراہم کرتی ہیں۔ اور غیر ملکی خبر رساں ادارے کس کے اشارے پر اور کس کے لئے کام کرتے ہیں، یہ کوئی اب راز نہیں رہا۔

    ٣۔ اس وقت پاکستان میں دہشت گردی عام ہے، اس دہشت گردی میں اضافہ کا بڑا سبب ہمارا امریکہ کی مسلمانوں کے خلاف جنگ بنام وار اگینسٹ ٹیررزم میں شمولیت ہے۔ جب سے ہم نے امریکہ کے ساتھ شامل ہوکر سابقہ جہاد افغانستان کے مجاہدین اور ان کے ہمدرد پاکستانیوں کو پاک آرمی کے ذریعہ قتل کرنا، کروانا شروع کیا ہے، جوابی رد عمل کے طور پر پاکستان مین دہشت گردی شروع ہوئی۔ اور اس جوابی ردعمل کی آڑ میں سی آئی اے، بھارتی را اور ان کے مقامی ایجنٹس نے بھی اپنی کاروائیاں ڈال کر کراچی اور بلوچستان کے حالات کو خراب کرنا شروع کردیا ہے۔

    ٤۔ کراچی مین ایک عرصے سے بلا ناغہ درجن دو درجن افرد ٹارگٹ کلنگ کے ذریعہ مارے جارہے ہیں۔ یہی حال بلوچستان کا ہے جہاں محب وطن پاکستانیوں، اور آزاد بلوچستان کے مخالفین کو چن چن کر قتل کیا جارہا ہے۔ لیکن ان روزانہ کے قتل پر غیر ملکی خبر رساں ادارے کبھی کوئی اسٹوری فائل نہین کرتے نہ ہی ان کے خلاف امریکہ یا اس کے حواری آواز بلند کرتے ہیں۔

    ٥۔ لیکن جیسے ہی ملالہ یوسف پر قاتلانہ حملہ ہوتا ہے، جو قبل ازیں برطانوی نشریاتی ادارے کو ان کی منشا کے مطابق رپورٹین بھجوایا کرتی تھی تو نہ صر برٹش پاسپورٹ کے حامل پاکستانی وزیر داخلہ، ایم کیو ایم کے قائد اور برطانوی شہری الطاف حسین اور خود امریکہ اس حملہ کے خلاف آواز بلند کرنے لگتے ہیں۔ پاکستان مین عوام الناس یا اسلام پسند ، محب وطن افراد کے قتل پر میڈیا میں صرف ”اسکور“ درج ہوتا ہے کہ آج اتنے بندے مارے گئے۔ جبکہ امریکہ و برطانیہ کے ”پسندیدہ“ افراد کے ہلاک یا زخمی ہونے پر ان کے ساتھ ساتھ پاکستانی میڈیا بھی اسٹوریز پر اسٹوریز نشر کرتا رہتا ہے۔

    کسی نے غور کیا کہ آخر ایسا کیوں پوتا ہے؟؟؟؟
     
  6. ‏اکتوبر 10، 2012 #6
    ابوالحسن عزیز

    ابوالحسن عزیز رکن
    جگہ:
    Islamabad
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 19، 2011
    پیغامات:
    75
    موصول شکریہ جات:
    403
    تمغے کے پوائنٹ:
    44

    میڈیا کی یکطرفہ رپورٹنگ اپنی جگہ مگر طالبان کے وہ ترجمان جو اکثر حامد میر اور سلیم صافی وغیرہ کو فون پر انٹرویو دیتے ہیں اس کی تردید کر سکتے ہیں۔ نیز اگر حملہ انہوں نے نہیں کیا تو اپنی درجنوں ویب سائٹس کے ذریعے ہی تردید کر دیں۔
     
  7. ‏اکتوبر 10، 2012 #7
    راجا

    راجا سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 19، 2011
    پیغامات:
    734
    موصول شکریہ جات:
    2,555
    تمغے کے پوائنٹ:
    211

    جوائن پیس اور یوسف ثانی صاحب سے احتراماً اختلاف کرنا چاہوں گا۔ عرض ہے کہ آج کے دور میں یہ کچھ بھی مشکل نہیں کہ اصل حقیقت تک پہنچا جا سکے۔ اس سے قبل بھی طالبان پر کئی جھوٹے الزامات میڈیا کی جانب سے لگائے جا چکے ہیں۔ لیکن طالبان اپنے میڈیا کے ذریعے اس کی تردید کرتے رہتے ہیں۔ جن میں سب سے اہم میڈیا انٹرنیٹ ہے۔ اس وقت طالبان سمیت دیگر جہادی تنظیموں کے اراکین اسی کو محفوظ ذریعہ تصور کرتے ہوئے حقیقت تک پہنچتے ہیں اور دیگر لوگوں کو بھی حقائق سے آگاہ کرتے ہیں۔

    اگر طالبان کے ترجمان نے بی بی سی کو فون کر کے اس واقعہ کی ذمہ داری تسلیم نہیں کی ہے تو کیا انہیں دوبارہ بی بی سی پر اعتماد کرتے ہوئے ان سے فون پر روابط استوار رکھنے چاہئیں؟ یا اپنے میڈیا کے ذریعے بی بی سی کے اس جھوٹ کو طشت از بام کر دینا چاہئے؟

    اس وقت جتنی بھی ان کی ویب سائٹس ہیں، کہیں بھی اس واقعہ کے تعلق سے تردید سامنے نہیں آئی ہے۔ بلکہ اس کے بالکل برعکس جہادی فورمز پر اس واقعہ کو عین شریعت کا تقاضا ثابت کرنے کی مہم جاری ہے۔ ملالہ یوسف زئی کی ڈائری کے اقتباسات پیش کئے جا رہے ہیں، فیس بک پر ان کی ویڈیو کہ جس میں اس نے اوباما کو اپنا آئیڈیل سیاسی لیڈر تسلیم کیا ہے، کے ذریعے اس ناحق قتل کی کوشش کو "جہاد" باور کروایا جا رہا ہے۔ اگر مجھے اس کا ڈر نہ ہو کہ لنک دینے سے لوگ ان کے فورمز پر جائیں گے، تو یہاں بطور ثبوت بھی فورم کے لنکس ضرور دے دیتا۔ جن صاحب کو درکار ہو، وہ مجھ سے ذاتی پیغام پر رابطہ کر کے لنک لے سکتے ہیں۔

    اس شرط پر کہ اس واقعہ کے ذمہ دار تحریک طالبان پاکستان کے لوگ ہیں، یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ فقط ان پاکستانی طالبان سے سیاسی بنیادوں پر اختلاف رکھنا، یا ان کے خلاف رائے رکھنا بھی ایسا جرم ہے جو کسی بھی کلمہ گو مسلمان کو نہ صرف یہ کہ دائرہ اسلام سے خارج کر دینے کو کافی ہے بلکہ اس کی جان، مال اور عزت و آبرو کو بھی دیگر مسلمانوں پر حلال کر دیتا ہے۔ گویا طالبان اگر حکومت میں ہوتے تو ایسی رائے رکھنے والی خواتین کو اپنی لونڈیاں بنا لیتے، یا انہیں سر عام پھانسی پر لٹکایا کرتے۔ خوب بہنوں کی عزت و جان کے محافظ ہیں یہ لوگ۔
     
  8. ‏اکتوبر 10، 2012 #8
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,764
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    اے اللہ حق کوواضح اور باطل کوطشت ازبام کردے ۔
    اللہم أرنا الحق حقا و ارزقنا اتباعہ و أرنا الباطل باطلا وار زقنا اجتنابہ
     
  9. ‏اکتوبر 10، 2012 #9
    تلمیذ

    تلمیذ مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 12، 2011
    پیغامات:
    765
    موصول شکریہ جات:
    1,503
    تمغے کے پوائنٹ:
    191

    آج سے کئی سال پہلے جیش محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے امیر مسعود اظہر صاحب نے کہا تھا کہ علم بغیر جہاد کے محفوظ نہیں اور جہاد بغیر علم کے تباہی لاتا ہے ۔
    آپ کو یاد ہوگا جب کراچی میں یوم عشق رسول صلی اللہ علیہ و سلم پر گستاخانہ فلم کے خلاف احتجاج ہوا تھا اور بہت زیادہ لوٹ مار ہوئی تھی ۔ بعض حضرات کہتے ہیں کہ اس جلوس میں لٹیرے گھس آئے تھے اور انہوں نے لوٹ مار کی ۔ نہیں بھائی لٹیرے بھی ہوں گے لیکن ہزاروں کی تعداد میں لٹیروں کا ایک جگہ جمع ہونا بہت مشکل ہے ۔ سب لٹیرے نہیں تھے ۔ میرے خیال میں اس دن کوئی اہل علم قیادت نہ تھی ، بس بغیر قیادت کے عوام تھی ۔ اور علم کے بغیر احتجاج تباہی لایا ۔
    اسی طرح سوات اور کچھ دوسرے علاقوں کی صورت الحال یہی ہے ۔ سوات میں طالبان کے علماء مارے جا چکے ہیں اور اب سوات کی حد تک قیادت بغیر علم والے لوگوں کے ہاتھ میں ہے اور بغیر علم کے جہاد تباہی لاتا ہے اور وہ تباہی نظر آرہی ہے ۔
    ڈرون حملوں سے ایک امریکی مقصد یہی بھی ہے کہ علماء والی قیادت ختم کردی جائے باقی بچیں گے بغیر علم والے مجاھدین تو پھر تباہی ہی تباہی ہو گي اور پاکستان میں تباہی امریکی مذموم مقاصد میں سے ہے ۔
     
  10. ‏اکتوبر 10، 2012 #10
    ابو القاسم

    ابو القاسم رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 23، 2011
    پیغامات:
    79
    موصول شکریہ جات:
    324
    تمغے کے پوائنٹ:
    65

    بے شبہ جس شخص نے بھی یہ حرکت کی ہے کہ وہ قابل مذمت ہے۔ لیکن ہمیں یہ بات بھی نظر انداز نہیں کرنی چاہیے کہ امریکہ میڈیا کے ذریعے اپنے مخصوص اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہا ہے۔ طالبان کے نام پر جہاداور جہادیوں بارے لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات کو جنم دیا جا رہا ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں