1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

باب:11۔ راہزنوں، ڈاکوؤں اور لٹیروں کی سزا اور آدابِ لڑائی

'حکومت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد آصف مغل, ‏مئی 31، 2013۔

  1. ‏مئی 31، 2013 #1
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436


    قطاع الطریق یعنی راہزنوں، ڈاکوؤں، لٹیروں کی عقوبت و سزا۔ جب نبی کریمﷺ کسی کو جہاد کے لیے بھیجتے تو نصیحت فرماتے کہ کافروں کو قتل کرو لیکن غلو {یعنی حد سے تجاوز} نہ کرنا۔ اپنا وعدہ اور عہد پورا کرنا۔ ناک کان وغیرہ کاٹ کر مثلہ نہ کرنا۔ چھوٹے بچوں کو قتل نہ کرنا۔ جو اپنے اپنے گھروں میں اسلحہ اور ہتھیار لے کر بیٹھے ہوں ان کو قتل نہ کرنا۔ اگر کافر مسلمانوں کو مثلہ کریں تو مسلمانوں کو اجازت ہے کہ وہ بھی ایسا کریں۔ لیکن نہ کرنا بہتر ہے

    محارب {لڑائی کرنے والا، جنگی مجرم، کرائے کے قاتل یا دہشتگرد}، قطاع الطریق، راہزن، ڈاکو، جو راستوں وغیرہ میں مسافروں، راہ چلنے والوں کو لوٹا کرتے ہیں اور ان کا مال چھینا کرتے ہیں، اب وہ اور اعراب اور بدو، دیہاتی ہوں یا ترکمان، فلاحین کسان یا بدمعاش سپاہی، فوجی ہوں یا نوجوان شہری ہوں خواہ کوئی بھی ہوں، ان کی عقوبت و سزا کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

    اِنَّمَا جَزَآء الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْآ اَوْ یُصَلَّبُوْآ اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْھِمْ وَاَرْجُلُھُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ ذَالِکَ لَھُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَلَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ
    جو لوگ اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) سے لڑتے اور فساد کی غرض سے ملک میں دوڑے دوڑے پھرتے ہیں، ان کی سزا تو بس یہی ہے کہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر قتل کر دیئے جائیں یا ان کو سولی دی جائے یا ان کے ہاتھ پاؤں الٹے سیدھے (یعنی دایاں ہاتھ تو بایاں پاؤں اور بایاں ہاتھ تو دایاں پاؤں) کاٹ ڈالے جائیں یا ان کو جلا وطن کر دیا جائے یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب تیار ہے۔ (المائدۃ:34)

    امام شافعی رحمہ اللہ اپنی سنن میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے قطاع الطریق راہزنوں، ڈاکوؤں اور لٹیروں کے متعلق فرماتے ہیں:

    اِذَاقَتَلُوْاوَاَخَذُواالْمَالَ قُتِّلُوْا وَصُلِّبُوْا وَاِذَا قَتَلُوْا وَلَمْ یَاخُذُوا الْمَالَ قُتِّلُوْا وَلَمْ یُصَلِّبُوْا وَاِذَا اَخَذُوا الْمَالَ وَلَمْ یُقَتِّلُوْا قُطِّعَتْ اَیْدِیْھِمْ وَاَرْجُلُھُمْ مِنْ خِلَافٍ وَاِذَا اَخَافُوا السُّبُلَ وَلَمْ یَاْخُذُوا الْمَالَ نُفُوْا مِنَ الْاَرْضِ
    جب وہ قتل کریں اور مال و متاع لوٹ لیں تو انہیں قتل کیا جائے اور سولی پر چڑھا دیا جائے اور جب وہ قتل کریں اور مال و متاع نہیں لوٹا تو انہیں قتل کیا جائے اور سولی پر چڑھایا جائے، اور جب مال لوٹ لیں اور قتل نہ کریں تو ان کے ہاتھ اور پاؤں، ایک ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیئے جائیں، اور جب یہ لوگ مال و متاع نہیں لوٹتے اور صرف ڈراتے ہیں تو انہیں جلاوطن کر دیا جائے۔
     
  2. ‏مئی 31، 2013 #2
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    یہی قول اکثر علماء کا ہے، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہما اللہ بھی یہی کہتے ہیں۔ اور یہی قول امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول کے قریب قریب ہے۔

    اور انہیں لوگوں میں بعض ایسے بھی ہوں گے جن کے متعلق امام و امیر {حکام اور جج یا قاضی} کو اجتہاد اور غور کرنا ہوگا۔ قتل کرنے اور نہ کرنے کی مصلحت سامنے رکھنی ہو گی۔ اگر رئیس و سردار، پیشوائے مطاع (مریدوں اور حُروں کا ''پیر'') ہے تو اُسے قتل نہ کیا جائے۔ دوسروں کو مصلحت دیکھ کر قتل کرا دے۔ اگر انہوں نے مال نہیں لوٹا لیکن وہ شجاع اور بہادر اور قوی ہے، اور قوت و طاقت سے مال لے سکتا ہے، اس کا بھی یہی حکم ہے۔

    بعض کا قول ہے کہ اگر اس نے مال لوٹا ہے تو اُسے قتل کر دیا جائے، اور اُس کے ہاتھ کاٹے جائیں اور سولی پر لٹکا دیا جائے۔ پہلا قول اکثر علماء کا ہے۔

    جو محارب {کرائے کے قاتل یا دہشتگرد} ہیں اور انہوں نے قتل بھی کیا ہے، تو امام و امیر، اور حاکم ان پر حد جاری کرے، اور انہیں قتل کر ا دے۔ ایسے لوگوں کو معاف کرنا اور درگذر کرنا کسی طرح بھی جائز نہیں۔ اور کسی حال میں جائز نہیں ہے۔ ابن المنذر کہتے ہیں اس پر علماء کا اجماع ہے۔ مقتول کے ورثاء پر اس کا دارومدار نہیں ہو گا۔ بخلاف اس کے کہ کسی آدمی نے کسی باہمی عداوت و جھگڑے کی وجہ سے یا کسی اور وجہ خاص اور اسباب کی وجہ سے قتل کیا ہے تو مقتول کے اولیاء اور ورثاء کو اختیار دے دیا جائے، یہ چاہیں تو اُسے قتل کر دیں، چاہیں معاف کر دیں۔ اور چاہیں تو دیت و خون بہا لے لیں۔ کیونکہ غرض خاص اور وجہ مخصوص کی بنا پر قتل کیا گیا ہے۔

    محارب {لڑائی کرنے والے، جنگی مجرم، کرائے کے قاتل اور ہشت گرد} سب کے سب قتل کر دیئے جائیں کیونکہ انہوں نے مال لوٹا ہے، اور ان کا ضرر و نقصان عام ہے۔ یہ بمنزلہ چوروں کے ہیں اور انہیں قتل کرنا حد کی بنا پر ہو گا۔ اور یہ مسئلہ تمام فقہاء کے نزدیک متفق علیہ ہے۔

    اگر مقتول کفو من قاتل کے برابر نہیں ہے مثلاً قاتل حُر و آزاد ہے اور مقتول غلام ہے، یا قاتل مسلمان ہے اور مقتول غیر مسلم ذمی یا جسے امان دی گئی ہے تو فقہاء کا اس میں اختلاف ہے کہ محارب ہونے کی وجہ سے قتل کیا جائے۔ اور قوی قول یہی ہے کہ قتل کر دیا جائے کیونکہ فساد عام کے اعتبار سے بربنائے حد قتل کیا جائے گا۔ جس طرح کہ لوگوں کا مال لینے کی وجہ سے ہاتھ کاٹے جاتے ہیں اور لوگوں کے حقوق کی بنا پر حبس و قید میں رکھا جاتا ہے۔

    اگر محارب راہزنوں اور چوروں کی ایک جماعت ہے اور ان میں سے ایک قتل کا مرتکب ہے اور دوسرے اس کے معاون و مددگار ہیں تو کہا گیا ہے کہ جو شخص قتل کا مرتب ہے فقط اُسے قتل کیا جائے۔

    اور جمہور علماء کا قول ہے کہ سب کو قتل کر دیا جائے، اگرچہ ان کی تعداد سینکڑوں تک پہنچتی ہو۔ خلفاء راشدین سے یہ ماثور ہے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے محارب لوگوں کے اس نگران کو جو بلند مقام پر بیٹھ کر مسلمانوں کے حالات کا جائزہ لیا کرتا تھا اور کافروں کو اطلاع دیا کرتا تھا کہ کون آیا اور کون گیا، قتل کرا دیا تھا۔ اس لیے کہ قتل کرنے والا ان کی معاونت و امداد سے قتل کرنے پر قادر ہوتا ہے۔ اور ان کی اعانت و امداد سے ظفریاب اور متمتع ہوتا ہے۔ اور اس لیے ثواب و عقاب میں سب کے سب مشترک ہوں گے جیسے کہ مجاہدین ثواب اور مال میں سب مشترک ہوتے ہیں۔
     
  3. ‏مئی 31، 2013 #3
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے:

    اَلْمُسْلِمُوْنَ تَتکَافَاء دِمَائُھُمْ وَ یَسْعٰی بِذِمَّتِھِمْ اَدْنَاھُمْ وَھُمْ یَدٌ عَلٰی سِوَاھُمْ وَ یُرَدُّ متسَریھِمْ عَلٰی قَاعِدَتِھِمْ
    تمام مسلمانوں کے خون برابر ہیں اور ادنیٰ آدمی کا ذمہ بھی پورا کیا جائے گا۔ اغیار کے مقابلہ میں سب ایک ہاتھ کی مانند ہیں۔ اور مسلمان سریہ {فوجی جنگی دستہ} بھیجیں تو اُس سریہ میں مال {و اسبابِ جنگ} بھیجنے والے، بیٹھے رہنے والوں کے برابر ہیں۔

    یعنی جب مسلمانوں کا لشکر چند آدمیوں کو بطور سریہ بھیجیں اور اس سریہ نے مال غنیمت حاصل کیا تو اُس میں مسلمانوں کا لشکر بھی شریک رہے گا۔ کیونکہ اسی کے بل بوتے پر غالب رہے ہیں۔ اور انہی کی قوت و تمکنت سے قدرت پائی ہے۔ ہاں کچھ نُفل یعنی زائد دیا جائے تو یہ دوسری {بہتر} بات ہے۔ نبی کریم ﷺ نے نُفل اور زائد سریہ {فوجی دستے} کو دیا ہے۔ ابتداء میں خمس کے بعد ایک ربع دیا تھا۔ جب لوگ وطن واپس لوٹے اور وطن سے سریہ بھیجا تو خمس کے بعد ایک ثلث یعنی تہائی حصہ دیا تھا۔

    اسی طرح اگر فوج و لشکر مال غنیمت حاصل کرے تو سریہ کو شریک کر لیا جائے کیونکہ سریہ {فوجی دستہ} مسلمانوں کی فوجی، لشکری مصلحتوں کی وجہ سے بھیجا گیا ہے۔ جس طرح کہ نبی کریم ﷺ نے جنگ بدر میں سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو دیا تھا۔ اس لیے کہ لشکر اسلام اور مسلمانوں کی فوجی مصلحت کی وجہ سے یہ بھیجے گئے تھے، تو اس گروہ کے معاونین و انصار معاون و مددگار وہی فائدہ اٹھائیں گے جو {دوسرے} لوگ اٹھا رہے ہیں۔ جو اُن کے لیے ہو گا ان کے لیے بھی ہو گا اور جو اُن پر ہو گا وہ ان پر بھی ہو گا۔

    یہی حال ان لوگوں کا ہے جو باطل پر لڑے مرے اور بلا تاویل کے قتل ہوئے مثلاً قبائلی عصبیت یا جاہلیت کی دشمنی کی بناء پر باہم لڑے اور قتل ہوئے۔ جیسے کہ قبیلہء قیس اور قبیلہء یمن وغیرہ۔ دونوں کے دونوں ان میں سے ظالم تھے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

    اِذَا التَقی المُسْلِمَانِ بِسَیْفَیْھِمَا فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُوْلُ کِلَاھُمَا فِی النَّارِ
    جب دو مسلمان باہم تلواریں سونت لیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنمی ہیں (بخاری و مسلم)

    ان میں سے ہر گروہ دوسرے گروہ کی جان و مال تلف کرنا چاہتا تھا۔ گو قاتل اور مقتول نہیں جانتے تھے کہ کون مرتا ہے اور کون مارتا ہے۔ ہر طائفہ، ہر گروہ اپنی مدافعت کرتا تھا اور دوسرے کو مارتا تھا۔
     
  4. ‏مئی 31، 2013 #4
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    لیکن اگر صرف مال لوٹ لیا ہے قتل نہیں کیا جیسا کہ اکثر اعراب {بدوؤں} کا دستور ہے تو اس صورت میں ہر ایک کا داہنا ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹا جائے گا۔ اکثر اہل علم کا یہی قول ہے۔ مثلاً امام ابو حنیفہ، امام شافعی، امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ وغیرہ کا یہی قول ہے۔ اور یہ اللہ کا فرمان بھی ہے۔

    اَوْ تُقطِّعَ اَیْدِیْھِمْ وَاَرْجُلُھُمْ مِنْ خَلَافٍ (المائدۃ:34)
    یا ان کے ہاتھ پاؤں الٹے سیدھے کاٹ دیئے جائیں۔

    ہاتھ کاٹا جائے جس سے وہ پکڑتے اور چھینتے تھے۔ اور پاؤں کاٹا جائے جس سے یہ چلتے تھے۔ ہاتھ پاؤں کاٹنے کے بعد کھولتے ہوئے زیتون کے تیل میں داغ دیئے جائیں تاکہ خون بند ہو جائے اور اُس کی جان تلف نہ ہو۔ چوروں کے ہاتھ کاٹے جائیں اُن کا بھی یہی طریقہ ہے۔

    اور یہ عمل یعنی ہاتھ پاؤں کاٹنا ایسا عمل ہے کہ قتل سے زیادہ موجب زجر و توبیخ {عبرتناک} ہوا کرتا ہے۔ کیونکہ اعراب و فساق، لشکری غیر لشکری (اور آبادیوں میں رہنے والے) ہمیشہ کٹے ہوئے ہاتھ اور پاؤں دیکھا کرتے ہیں اور باہم مذاکرہ کرتے رہتے ہیں کہ فلاں جرم کے عوض میں یہ سزا ملی ہے۔ اور اس سے ڈرتے رہتے ہیں۔ بخلاف قتل کے کہ اکثر اسے بھول جایا کرتے ہیں۔ اور اسی لیے بعض لوگ ہاتھ پاؤں کاٹنے کے مقابلہ میں قتل ہونے اور مرنے کو پسند کرتے ہیں۔ یقینا چوروں وغیرہ کے لیے یہ سزا نہایت عبرت آموز ہے۔

    اور اگرچہ لوگ اسلحہ نکال لیں۔ مگر کسی کو گزند نہیں پہنچائی اور نہ مال وغیرہ لوٹا ہے۔ اور پھر تلواریں نیام میں کر لیں یا بھاگ گئے۔ یا لوٹ مار اور جنگ چھوڑ دی تو ایسے لوگوں کو جلاوطن کردیا جائے۔ کہا گیا ہے جلاوطن کرنے کے معنی یہ ہیں کہ کسی ایک شہر اور آبادی میں اجتماعی حیثیت سے انہیں نہ رہنے دیا جائے۔ بعض کہتے ہیں انہیں حبس و قید میں رکھا جائے یہی ان کے لیے جلاوطنی ہے، بعض کہتے ہیں جلاوطن کرنے کے معنی یہ ہیں کہ امام و امیر اور حاکم جس بات کو قوم کے حق میں اصلح {زیادہ بہتر} سمجھے وہ کرے، خواہ جلا وطن کرے یا حبس و قید میں رکھے یا جو طریقہ بھی مناسب ہو معلوم کرے۔

    اور شرعی قتل یہ ہے کہ تلوار یا کسی دوسری تیز چیز سے انسان کی گردن کاٹ دی جائے۔ کیونکہ قتل کا آسان ترین طریقہ یہی ہے۔ اللہ نے آدمی، بہائم اور چوپایوں کو اسی طرح قتل کرنا مشروع فرمایا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:

    ان اللہ کتب الاحسان علی کل شیء فاذا قتلتم فاحسنوا القتلۃ و اذا ذبحتم فاحسنوا الذبحۃ ولیحد احدکم شفرتہ ولیرح ذبیحتہ
    بیشک اللہ تعالیٰ نے ہر چیز پر احسان کرنا فرض کیا ہے جب تم کسی کو قتل کرو تو اچھے طریقے پر قتل کرو جب کسی جانور کو ذبح کرو تو اچھے طریقے پر ذبح کرو۔ اپنی چھری تیز کر لیا کرو اور ذبیحہ کو جلد سے جلد راحت پہنچاؤ۔ (رواہ مسلم)
     
  5. ‏مئی 31، 2013 #5
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے:

    ان اعف الناس قتلۃ اھل الایمان
    بیشک اہل ایمان قتل (یعنی ذبح) کرنے میں سب سے زیادہ باعافیت ہوتے ہیں۔

    سولی دینے کا طریقہ یہ ہے کہ انسان کو اونچی جگہ لٹکا دیا جائے تاکہ لوگ اُسے دیکھیں اور مشتہر ہو جائے۔ جمہور علماء کے نزدیک یہ قتل کرنے کے بعد ہوا کرتا ہے اور بعض علماء کا قول ہے پہلے سولی پر لٹکا دیا جائے پھر قتل کردیا جائے۔

    اور جو لوگ قتل کئے جائیں تو اُنہیں مثلہ کرنا، یعنی ناک، کان وغیرہ کاٹنا قطعاً جائز نہیں ہے۔ ہاں قصاص و بدلہ کی صور ت میں جائز ہے چنانچہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے جب کبھی ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا تو صدقہ و خیرات کاحکم فرمایا۔ اور مثلہ کرنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ کفار کو ہم قتل کریں تو اُن کو بھی مثلہ کرنے سے ہم کو منع فرمایا ہے۔ قتل کے بعد اُن کو مثلہ نہیں کیا کرتے تھے اُن کے ناک او ر کان نہیں کاٹتے تھے اور نہ ہی ان کے پیٹ چیرا کرتے تھے ہاں اگر مسلمانوں کے ساتھ انہوں نے ایسا کیا تو ہم بھی ایسا کرتے تھے لیکن پھر بھی چھوڑ دینا بہتر سمجھتے تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:

    وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِہٖ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَھُوَ خَیْرٌ لِّلصَّابِرِیْنَ وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُکَ اِلاَّ بِاللہِ (نحل:12-126)
    مسلمانو! مخالفین کیساتھ سختی بھی کرو تو ویسی ہی سختی کرو جیسی تمہارے ساتھ کی گئی ہو اور اگر صبرو کرو تو بہرحال صبر کرنے والوں کے حق میں صبر بہتر ہے اور اے پیغمبر (ﷺ) تم صبر کرو اور اللہ کی توفیق کے بغیر تم صبر کر ہی نہیں سکتے۔

    کہاگیا ہے کہ یہ آیت اُس وقت نازل ہوئی ہے جب سید الشہداء سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ اور شہداء اُحد کے ساتھ کفار نے ایسا کیا، اُن کو مثلہ کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے انتہائی رنج کے مارے کہا:

    لَئِنْ اَظْفرنی اللہ بھم لامثلن بضعفی ما مثلوا بنا
    اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے ظفریاب {فتح یاب} کیا تو میں اُن میں سے دُگنے آدمیوں کو مثلہ کروںگا جیسا کہ اُنہوں نے ہمارے ساتھ کیا ہے۔

    تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ گو اس سے پہلے مکہ معظمہ میں یہ آیت نازل ہوچکی تھی جس طرح کہ یہ آیت دوبارہ نازل ہوئی ہے:

    وَ یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الرُّوْحِ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ (بنی اسرائیل:85)
    اے پیغمبر(ﷺ)! کفار آپ سے روح کی حقیقت دریافت کرتے ہیں تو کہہ دو کہ روح میرے رب کا ایک حکم ہے۔
     
  6. ‏مئی 31، 2013 #6
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    اور یہ آیت:

    وَ اَقِمِ الصَّلوٰۃَ طَرَفَیِ النَّھَارِ وَزَلْفًا مِّنَ الَّیْلِ اِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّئَاتِ
    اے پیغمبر ! دن کے دونوں سرے صبح و شام اور اوائل شب نماز پڑھا کرو بیشک نیکیاں گناہوں کو دُور کر دیتی ہیں۔(ہود ع 10)۔

    وغیرہ آیتیں دوبارہ نازل ہوئی ہیں، پہلے مکہ میں نازل ہوچکی تھیں پھر ضرورت پیش آئی تو پھر نازل کی گئیں۔ غرض! نبی ا نے اس آیت کے نازل ہونے کے بعد فرمایا:
    بَلْ نَصْبِرُ بلکہ ہم صبر کریں گے ۔

    اور صحیح مسلم میں برودۃ بن الحصیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی ا جب کبھی کسی کو امیر سریہ یا امیر لشکر بنا کر بھیجتے تو اُسے اور اُس کے ساتھیوں کو خاص نصیحت فرماتے اور تقویٰ و پرہیزگاری کی ہدایت فرماتے اور پھر فرماتے:

    اغذوا بسم اللہ و فی سبیل اللہ قاتلوا من کفر باللہ لا تغلوا ولا تعذروا ولا تمثلوا ولا تقتلوا ولیدا (رواہ مسلم)
    اللہ کانام لے کر جہاد کرو اور اللہ کی راہ میں لڑو اور جو لوگ کفر کرتے ہیں اُن کو قتل کرو غلو مت کرو اور غدر نہ کرو اور مثلہ نہ کرو اور چھوٹے بچوں کو قتل نہ کرو۔

    اگر کفار مال و متاع لوٹنے کی غرض سے بڑی آبادیوں میں اسلحہ، ہتھیار لے کر چڑھ دوڑیں تو انہیں محارب کہاجائے گا یا نہیں؟ بعض کہتے ہیں وہ محارب نہیں کہے جائیں گے بلکہ وہ بمنزلہ اُچکوں اور ڈاکوؤں کے ہوں گے کیونکہ شہری آبادی میں امداد و اعانت طلب کی جائے تو لوگ امداد کے لیے دوڑ پڑتے ہیں۔

    اور اکثر لوگوں کا قول ہے کہ آبادیوں اور صحراء کا ایک ہی حکم ہے اور یہ قول امام مالک رحمہ اللہ کا ہے اور امام شافعی اور امام احمد رحمہم اللہ کے اکثر شاگردوں کا۔ اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بعض شاگردوں کا ہے: بلکہ شہروں میں لوٹ و غارت گری کرنے والے صحراء میں لوٹ و غارت گری کرنے والوں کے مقابلہ میں زیادہ عقوبت و سزا کے حقدار ہیں کیونکہ شہری آبادیاں امن و اطمینان کے اعتبار سے زیادہ محفوظ ہوا کرتی ہیں باہم ایک دوسرے کی نصرت و امداد اور تعاون زیادہ حاصل ہوا کرتا ہے اور ایسی جگہ اقدام کرنا سخت ترین محاربہ اور سخت ترین غلبہ کی دلیل ہے ان کا جتھہ بہت قوی اور مضبوط ہے اور اسی لیے وہ شہر اور آبادیوں پر حملہ آور ہوئے ہیں اور ان کے گھروں میں گھس کر سلب و غارت گری اور لوٹ مار کررہے ہیں ان کا مال ان کا اندوختہ لوٹ رہے ہیں اور مسافر کیساتھ سارا مال و متاع نہیں ہوا کرتا بلکہ کچھ مال ہوتا ہے۔ ان کے بارے میں یہی مسلک صحیح صواب ہے خصوصاً وہ گروہ جنہیں شام و مصر والے مفسر اور بغداد والے عیار کہاکرتے ہیں۔
     
  7. ‏مئی 31، 2013 #7
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    اگریہ لوگ لاٹھیوں اور پتھروں سے جنگ کریں تو یہ لوگ بھی محارب ہی کہے جائیں گے فقہاء سے نقل کیا گیا ہے ''لا محاربۃ الا بالمحدود'' محاربہ تیز چیز سے ہوا کرتا ہے بعض لوگوں نے اس پر اجماع نقل کیا ہے کہ محاربہ تیز چیز او ربھاری چیز کے پھینکنے سے ہو اور پھر اس بارے میں اختلاف و نزاع ہو یا نہ ہو صحیح مسلک جس پر عام مسلمانوں کا اجماع ہے وہ یہ ہے کہ جس شخص نے مال لوٹنے کی غرض سے قتل و غارت گری شروع کی تو وہ کسی قسم کی بھی جنگ کریں محارب ڈاکو لٹیرے کہے جائیں گے جس طرح کہ مسلمانوں سے جنگ کرنے والے کفار کو حربی کہاجاتا ہے خواہ کسی قسم کی بھی جنگ کریں اور کسی طرح بھی لڑیں خواہ تلوار اور نیزوں سے یا پتھر اور لاٹھیوں سے کافروں نے مسلمانوں کے مقابلہ میں جنگ کی تو وہ حربی ہوں گے اور مسلمان مجاہد فی سبیل اللہ ہوں گے۔

    وہ لوگ جو پراسرار اور مخفی طریقوں سے قتل کرتے ہیں اور مال لینے کے لیے جانیں لیتے ہیں مثلاً دکانیں، مسافر خانے راستوں میں مسافروں کے نام سے بنوا کر ان میں مسافروں کو ٹھہراتے ہیں جب کوئی مسافر ہتھے چڑھ جاتا ہے اور ان لوگوں میں تنہا پھنس جاتا ہے تو اُسے قتل کرکے اس کا سارا مال لے لیا جاتا ہے یا بعض لوگوں کا پیشہ ہوتا ہے کہ طبیب ڈاکٹر کو اُجرت دے کر اپنے گھر لے آتے ہیں اور موقع پاکر اُسے قتل کر دیتے ہیں اور اس کا مال وغیرہ لوٹ لیتے ہیں اور مکر و فریب سے لوٹ لیتے ہیں اور جب یہ مال لوٹ لیاگیا تو اب اُن کو محارب سمجھا جائے گا یا نہیں؟ یا ان پر قصاص کا حکم جاری ہوگا؟ اس میں فقہاء کے دو قول ہیں۔ ایک یہ کہ وہ محارب ہوگا کیونکہ حیلہ سے قتل کرنا اور کھلے طور پر قتل کرنے سے زیادہ مضرت رساں اور زیادہ خطرناک ہوتا ہے کھلے طور پر قتل کرنے والے سے بچاؤ اور حفاظت کی جا سکتی ہے لیکن حیلہ اور دھوکہ سے قتل کرنے والے سے حفاظت و بچاؤ مشکل ہے۔

    دوسرا قول یہ ہے کہ محارب اُسے کہیں گے جو کھلے طور پر قتل کرنے پر اُتر آئے اور پھر یہ کہ اس دھوکہ باز حیلہ ساز کا معاملہ مقتول کے ورثاء کے ہاتھ میں ہے مگر پہلا قول اُصولِ شریعت کے زیادہ موافق ہے کیونکہ اس کا نقصان اور ضرر بہت سخت ہواکرتا ہے بمقابلہ محارب کے۔

    اگر کوئی شخص سلطان {حاکمِ وقت} کو قتل کر دے تو اُس کا کیا حکم ہے؟ فقہاء کا اس میں اختلاف ہے مثلاً سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ یا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو قتل کیا گیا تو اُن کا حکم محاربین کا ہوگا؟ ان پر حد جاری ہوگی یا ان کا معاملہ اولیاء الدم {مقتول کے ورثا} کے ہاتھ میں ہوگا۔ امام احمد رحمہ اللہ وغیرہ کے اس بارے میں دو قول ہیں۔ اس لیے کہ ایسے لوگوں کو قتل کرنے میں عام فساد کا اندیشہ ہے۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں