1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بنتِ آدم کس طرح لٹتی ہیں۔ یہ ویڈیو سب ضرور دیکھیں

'گوشہ خواتین' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارسلان, ‏فروری 14، 2014۔

  1. ‏فروری 14، 2014 #1
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    السلام علیکم
    مجھے سمجھ نہیں آتی کہ میں اس ویڈیو پر کیا تبصرہ کروں، لہذا آپ سب مرد و خواتین سے گزارش ہے کہ یہ ویڈیوز ضررو دیکھیں۔
     
  2. ‏فروری 14، 2014 #2
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    جزاک اللہ ارسلان بھائی۔
    یہ واقعی ہمارے ہاں کا بڑا المیہ ہے۔ اگرچہ یہ تصویر کا صرف ایک ہی رخ ہے لیکن دوسرے رخ سے قطع نظر کہ وہ بھی بھیانک ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے۔
    اس کا واقعی ایک ہی حل ہے اور وہ ہے اسلام۔
    لیکن ایک بات مزید جاننی چاہیے کہ جس چیز سے آپ جتنا روکیں گے انسانی فطرت اتنا ہی اس کی طرف راغب ہوگی۔ دوسرا انسان اسی چیز کی طرف راغب ہوتا ہے جس کی اس کے پاس کمی ہو۔
    ان دو باتوں کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ:۔
    اپنے بچوں کو اپنی بساط کے مطابق تمام سہولیات دو۔ ان کو اعتماد کا احساس دو۔ وہ یہ سمجھیں کہ ان کے والدین ان پر مکمل اعتماد کرتے ہیں۔ ان کی اچھی تربیت کرو اور اس سب کے بعد ان کی خاموش نگرانی کرو۔ روکو صرف اس وقت جب وہ کسی اہم فیصلے کی طرف بڑھیں۔ صرف لڑکے یا لڑکی سے بات کرنے پر مت ٹوکو۔ بلکہ پردہ کی اہمیت اور اخوت اسلامی کا درس دیتے جاؤ۔
    اور دوسری اہم چیز انہیں محبت دو۔ محبت واحد چیز ہے جو ہر چیز کا بدل ہو سکتی ہے۔ اور کسی آخری فیصلے پر بھی یہی ابھارتی ہے مال و دولت نہیں۔ آپ انہیں دنیا کی ہر چیز مہیا نہیں کر سکتے نہ کریں۔ لیکن انہیں وہ محبت دیں کہ وہ یہ سمجھیں کہ آپ یہ کام نہیں کر سکتے ورنہ ان کے لیے کر گزرتے۔ یہ معاملہ کسی انتہائی فیصلے کے وقت ان کے قدموں کو جکڑ دے گا۔
    یہ میری رائے ہے جو غلط بھی ہو سکتی ہے۔
     
    • پسند پسند x 7
    • شکریہ شکریہ x 3
    • ناپسند ناپسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  3. ‏فروری 14، 2014 #3
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155


    جزاک اللہ خیرا اشماریہ بھائی
    ہائیٹ لائٹ کردہ بات سے متفق نہیں ہوں، دیگر باتیں آپ کی درست ہیں۔
     
    • متفق متفق x 4
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏فروری 14، 2014 #4
    محمد شاہد

    محمد شاہد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 18، 2011
    پیغامات:
    2,504
    موصول شکریہ جات:
    6,012
    تمغے کے پوائنٹ:
    447

    وعلیکم السلام!
    یوٹیوب پر اپلوڈ کرکے اس کا لنک دے دیں.
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  5. ‏فروری 14، 2014 #5
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    محترم بھائی آپ کی ٹھیک باتوں کے علاوہ کچھ سے اختلاف ہے اسی لئے آپ کی نیت پر شک کیے بغیر آپ سے اپنا اختلاف بیان کرنا چاہتا ہوں

    محترم بھائی آپ کی اوپر مطلق بات "جس چیز سے آپ جتنا روکیں گے انساننی فطرت اتنا ہی اس کی طرف راغب ہو گی" شرعی منکرات (بشمول منکر کی طرف وسیلہ) پر کسی صورت اطلاق نہیں ہو سکتا بلکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح احادیث اس پر موجود ہیں اور اوپر بات غالبا اسی پس منظر میں ہو رہی ہے

    یہ بھی اس بات کی مطلقا دلیل نہیں بن سکتی راغب ہونے سے روکنے کے لئیے اس چیز کی فراوانی کر دی جائے بلکہ احادیث میں منکرات کے قریب جانے سے بھی منع کیا گیا ہے اور چراگاہ والی مشہور مثال تو ہر کسی کو پتا ہو گی اسی طرح جب بٹھی والی حدیث کی علت کو دیکھیں تو اوپر بات پر قیاس کیا جا سکتا ہے کہ جیسے بٹھی والے میں زیادہ نقصان کے چانس کے ساتھ تھوڑی بہت لازمی خرابی کا ذکر ہے


    میں نے جتنا عرصہ تبلیغی جماعت کے ساتھ لگایا ہے اس میں سب سے زیادہ زور ماحول پر دیا جاتا ہے شاید آپ کو اسکا تجربہ نہیں
    محترم بھائی سہولیات کے وسیع معنی ہو سکتے ہیں کیا بچہ ماں سے چھری مانگے تو ماں کو اسکو یہ سہولت فورا پہنچا دینی چاہئے
    خالی نگرانی پر چرواہا بھی اعتماد نہیں کر سکتا بلکہ دوسروں کی چراگاہ سے دور رکھ کر نگرانی کرتا ہے


    محترم بھائی انتہائی معذرت کے ساتھ یہاں لاشعوری طور پر شاید آپ اپنی ساری باتوں کی ہی نفی کر گئے کیونکہ اب جب آپ اسکو روکیں گے تو وہ اس منکر کو قریب سے دیکھ چکا ہو گا اور اس کی لذت اس میں رچ گئی ہو گی جس سے بے رغبتی پیدا کرنا زیادہ مشکل ہو گا
    پس کیوں نہ پہلے ہی روک لیا جائے
    اسکو سمجھانے کے لئے میں اپنی سچی مثال بیان کرتا ہوں کہ میں اپنے بچے کے ساتھ کہیں جا رہا ہوتا ہوں اور کوئی چیز والا بچوں کو متوجہ کرنے کے لئے قریب آتا ہے اور اس چیز کو میں بچے کو نہیں دینا چاہتا تو میں کوشش کرتا ہوں کہ بچہ کو دوسری باتوں میں لگا کر ادھر متوجہ نہ ہونے دوں کیونکہ جانتا ہوں کہ جب وہ متوجہ ہو گیا تو اس غلط چیز سے روکنا میرے لئے ناممکن نہیں تو زیادہ مشکل ہو گا
    البتہ جہاں تک خواتین سے بات کرنے کا تعلق ہے تو اس میں بچوں کو ہی نہیں بلکہ بڑوں کو بھی محطاط اور ٹو دی پوائنٹ بات کرنی چاہئے ورنہ شیطان جب شرک کی طرف سیاہ رات کو سیاہ پتھر پر سیاہ چیونٹی سے بھی کم نظر آنے والے فریبوں سے مائل کر سکتا ہے تو وہ ہمیں انی لکما لمن الناصحین کا دھوکہ دے کر کچھ بھی کر سکتا ہے
    والدین انٹر نیٹ پر اولاد کی چیٹنگ پر کنٹرول کو چھوڑ کر کالج اور گھروں میں تو ڈائریکٹ یا موبائل پر خواتین سے بات کرنے پر کنٹرول کر سکتے ہیں
    میری بھی اپنی ایک سوچ ہے جس سے کوئی بھائی غیر متفق بھی ہو سکتا ہے
     
    • پسند پسند x 5
    • متفق متفق x 4
    • زبردست زبردست x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  6. ‏فروری 14، 2014 #6
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,940
    موصول شکریہ جات:
    6,202
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

    اس ویڈیو پر تبصرہ کی ضرورت نہیں ہے یہ اپنی بہتر وضاحت خود کر رہا ہے اور اسکا حل بھی پیش کررہا ہے۔

    اشماریہ صاحب کی یہاں دی گئی رائے یا تجاویز اسلام سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ اس کے برعکس عبدہ کی باتیں صحیح ہیں
     
    • متفق متفق x 3
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏فروری 14، 2014 #7
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,940
    موصول شکریہ جات:
    6,202
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    نہایت افسوس کی بات ہے کہ دور جدید کے مذہبی نوجوانان بھی ان سرگرمیوں میں پوری طرح ملوث ہیں کوئی کم اور کوئی زیادہ بس فرق یہ ہے کہ جب لڑکی یہ کہتی ہے کہ میری کہیں اور شادی ہورہی ہے مجھے بھول جاؤ۔ تو وہ شریف النفس نوجوان اسے بلیک میل نہیں کرتے اور شرافت سے اس کا پیچھا چھوڑ دیتے ہیں۔
     
    • پسند پسند x 5
    • متفق متفق x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  8. ‏فروری 14، 2014 #8
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا شاہد نذیر بھائی
    مختصر مگر بہت اچھا تبصرہ کیا آپ نے، میں آپ کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ ایسا صرف وہ مرد کرتے ہیں جن کو اللہ کا خوف ہوتا ہے، وہی جب اپنی پسندیدہ لڑکی کو نہیں پاتے تو تقدیر پر ایمان کے سبب وہ اس کا پیچھا چھوڑ دیتے ہیں، ورنہ ایسے مردوں کی کمی نہیں جو عورتوں کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔

    صاف سیدھی سی بات ہے اگر وہ آپ کو نہیں ملی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اس کو بلیک میل کر کے اس کی نئی شروع ہونے والی زندگی کو برباد کرو، وہ بھی تو آخر کسی کی بیٹی ہے، یہ بہت ہی بری عادت ہے مردوں کے اندر، اللہ تعالیٰ ایسے مردوں کو ہدایت عطا فرمائے آمین

    اور دوسری طرف

    اگر کوئی مرد ایسا نہیں ہے اور وہ کسی کی زندگی سے نہیں کھیلنا چاہتا تو عورت کو بھی چاہیے کہ وہ ریلیشن ختم ہونے پر یا کسی اور جگہ شادی ہونے پر کم از کم اس کو اپنا دشمن نہ سمجھے، جو اس قدر مخلص اور سچا پیار کرنے والا رہا ہو، اس سے اپنے ذاتی مفاد پورا نہ ہونے کی بنا پر ریلیشن ختم کر کے اسی کو ہی اپنا دشمن سمجھ لینا بھی خطرناک ہے، دوسروں کے سامنے اس کی بے عزتی اور توہین کرنے سے گریز کرنا چاہیے، ایسی عورتوں کے رویے اور کردار پھر ایک شریف مرد کو بدمعاش اور معاشرے کے لئے خطرناک ہونے کا باعث بنتے ہیں۔ لیکن جسے اللہ بچائے وہ بچ جاتا ہے۔ اللہ تمام فتنوں سے محفوظ فرمائے آمین
     
    • پسند پسند x 4
    • متفق متفق x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  9. ‏فروری 14، 2014 #9
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    جزاک اللہ خیرا۔ ٹوکنے سے مراد ہے سخت ری ایکشن۔ میرا اپنا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ بچہ پھر غلط کام بھی کرتا ہے اور چھپ کر بھی کرتا ہے۔
    اس کے برعکس اس کو دین کی سمجھ دیتے جائیں تو وہ خود ہی اس برائی سے ہٹ جاتا ہے۔
    واللہ اعلم
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  10. ‏فروری 14، 2014 #10
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    شاید میں اپنی بات صحیح طریقے سے سمجھا نہیں سکا۔
    خیر جانے دیں۔ یہ کون سا کوئی لازمی چیز ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں