1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بچے کے کان میں اذان دینے کی شرعی حیثیت

'احکام ومسائل' میں موضوعات آغاز کردہ از ڈاکٹر عادل ایوب سلفی, ‏جولائی 12، 2015۔

  1. ‏جولائی 12، 2015 #1
    ڈاکٹر عادل ایوب سلفی

    ڈاکٹر عادل ایوب سلفی مبتدی
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏مئی 24، 2015
    پیغامات:
    18
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    9

    السلام علیکم و رحمة الله وبركاته!
    اس مسلئہ کی تحقیق درکار ہے سنن ابوداود میں بچے کے کان میں اذان دینے کی حدیث درج ذیل ہے

    "جناب عبداللہ بن ابو رافع نے اپنے والد سے روایت کیا وہ کہتے ہیں کہ جب سیدہ فاطمہ رضی الله عنہ نے حسن بن علی رضی الله عنہما کو جنم دیا تو میں نے دیکھا کہ رسول الله صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے ان کے کان میں نماز والی اذان کہی تھی۔"
    (سنن ابی داود ، حدیث نمبر 5105)

    اس حدیث کو شیخ البانی نے ضعیف قرار دیا ہے دیکھئے
    (الضعیفہ ،1/ 329-331 ، حدیث:321)
    اس حدیث کو شیخ زبیر علی زئی نے بھی ضعیف قرار دیا ہے دیکھئے
    (انوارالصحیفہ فی الاحادیث الضعیفہ، صفحہ نمبر 177، مکتبہ الاسلامیہ)

    شیخ البانی سے بھی اذان دینے کا عمل ملتا ہے اور اس پر بعض اہلحدیث کا بھی عمل ہے

    تو اس مسلئہ میں اہل علم سے تحقیق درکار ہے

    جزاكم الله الخير
     
    • مفید مفید x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  2. ‏جولائی 12، 2015 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    لیکن حافظ شیخ زبیر علی زئی ؒ کا یہ فتوی بھی پیش نظررہے:

    سوال: نومولودبچے کے کان میں اذان دینا صحیح صریح احادیث سے ثابت ہے؟

    جواب: نومولودکے کان میں اذان دینے والی حدیث ضعیف ہے لیکن امام ترمذی کے قول ’’والعمل علیہ‘‘(سنن ترمذی:1514ونسخہ مخطوطہ ص108) سے معلوم ہوتاہے کہ اس مسئلہ پرتمام مسلمانوں کا عمل یعنی اجماع ہے۔
    [ماہنامہ الحدیث: 10/ 22]۔
     
  3. ‏جولائی 12، 2015 #3
    ڈاکٹر عادل ایوب سلفی

    ڈاکٹر عادل ایوب سلفی مبتدی
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏مئی 24، 2015
    پیغامات:
    18
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    9

    اس مسلئہ کو میں نے شیخ مبشر احمد ربانی کے سامنے جب پیش کیا تو انہوں نے اس کا یہ جواب دیا
    کہ ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے تو اس کے ماں باپ ہرتے جو اسے یہودی یا مجوسی بنا دیتے
    تو انہوں نے کہا کب بچہ پیدا ہی مسلمان ہوتا تو اذان دینے سے اس نے تھوڑا مسلمان ہونا تو انہوں احادیث کی رو اذان دینا درست نہیں
    والله اعلم
     
  4. ‏جولائی 12، 2015 #4
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

  5. ‏جولائی 14، 2015 #5
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    اس کے متعلق تمام روایات ضعیف ہیں ۔ البتہ شیخ زبیر صاحب نے ترمذی کی بات سے جو اجماع کی بات کی ہے ، اس رو سے اگر کوئی کرلے تو بدعت وغیرہ کا فتوی نہیں لگایا جاسکتا ۔ واللہ اعلم ۔
    ایک غیر متعلق بات :
    تقریبا تین سال پہلے مدینہ منورہ میں پاکستانی طلبہ کے ایک اجتماع میں اس موضوع پر مباحثہ ہوا تھا ، جس میں ٹائپر الحروف نے اس کے حق میں دلائل دیے جو سب سے بھاری اور وزنی تسلیم کیے گئے اور ہم اول انعام کےحق دار قرار پائے ۔ ابتسامہ ۔
     
    • زبردست زبردست x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏جولائی 14، 2015 #6
    مون لائیٹ آفریدی

    مون لائیٹ آفریدی مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 30، 2011
    پیغامات:
    640
    موصول شکریہ جات:
    396
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    شیخ ابو محمد امین اللہ پشاوری صاحب کی تحقیق کے مطابق کہ یہ ایک مستحب عمل ہے اگر کوئی اس پر عمل نہ کرے تو کوئی گناہ نہیں ہے ۔
    ترمذی میں حسن حدیث ہے کہ جب حسن ابن علی رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو نبی علیہ السلام نے اس کے کان میں اذان دی ۔
    اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ جب پیداہوئے تو ان کے کان میں اذان دی تھی ۔
    عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اس بات کو روایت کیا ہے ۔جو کہ ایک تابعی اور نیک انسان مشہور تھے ۔ انھوں نے یہ بات اپنی من سے تھوڑی کی ہے ۔
    اور اس پر مسلمانوں کا تعامل ۔
    اس کی تائید میں دو روایات اور بھی ہے جن میں ایک ضعیف اور دوسری قوی ہے جوپہلی روایت کی وضاحت اور تائیدکرتی ہے ۔
    ‏1۔إذا تغولت الغيلان فنادوا بالأذان ۔۔ مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد
    رواه البزار ، ورجاله ثقات ، إلا أن الحسن البصري لم يسمع من سعد فيما أحسب
    جب کبھی جنات آپ کو ڈرائے تو اذان شروع کرو۔
    لیکن یہ روایت معناً صحیح ہے ۔ مسلم میں ایک روایت ہے جو پہلی کا مفہوم ادا کرتا ہے ۔
    ایک صحابی نے اپنے بیٹے کو کہیں پر بھیجا ، راستہ میں کسی نے آواز دی جب وہ پیچھے پلٹا تو کوئی نہیں تھا ڈر گیا ۔
    واپسی پر اس نے والد کو قصہ سنایا تو والد نے جواب دیا کہ اگر مجھے پتہ ہوتا کہ آپ اس طرح ڈر جاتے تو میں کبھی آپ کو وہاں پر نہ بھیجتا ۔ لیکن پھر اگر ایسا کوئی واقعہ رونما ہوجائے تو اذان شروع کرنا کیونکہ میں نے نبی علیہ السلام سے سنا ہے کہ جب اذان شروع ہوجاتی ہے تو شیطان دوڑنا شروع کرتا ہے اور گوز مارتا ہے ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏جولائی 14، 2015 #7
    آزاد

    آزاد مشہور رکن
    جگہ:
    فی ارض اللہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    363
    موصول شکریہ جات:
    915
    تمغے کے پوائنٹ:
    125

    وہ وزنی تے بھاری دلائل یہاں بھی رقم فرما دیں۔
     
  8. ‏جولائی 14، 2015 #8
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    وه صرف بالمشافہ بحث و مباحثہ کے لیے تھے ،، دعوت ککڑی میں تشریف لائیں ،سن لیجیے گا ۔
     
  9. ‏جولائی 15، 2015 #9
    آزاد

    آزاد مشہور رکن
    جگہ:
    فی ارض اللہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    363
    موصول شکریہ جات:
    915
    تمغے کے پوائنٹ:
    125

    دعوت ککڑی میں آنا مشکل ہے یا ابا عبد المنان!
     
  10. ‏جولائی 16، 2015 #10
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    يسر الله لك لكل خير يا أباعبدالله
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں