1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بے نمازی کی تکفیر؟

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارسلان, ‏نومبر 03، 2013۔

  1. ‏نومبر 03، 2013 #1
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    السلام علیکم محدث فورم کے اراکین!
    میں نے شیخ ابن عثیمین یا ابن باز کا ایک فتوی پڑھا ہے، پڑھ کر بہت بے چینی ہوئی ہے، میں نے یہ سوال محدث فتویٰ سائٹ پر بھی پوسٹ کیا ہے، سوال یہ ہے:
    لیکن میں آپ لوگوں کی رائے بھی جاننا ضروری سمجھتا ہوں، اس موضوع پر آپ تمام یہاں اپنی رائے دیں، اور جو جو آپ کو علم ہو وہ یہاں شئیر کریں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • زبردست زبردست x 3
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  2. ‏نومبر 03، 2013 #2
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    «اَلْعَهْدُ الَّذِیْ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلٰوةُ فَمَنْ تَرَکَهَا فَقَدْ کَفَرَ»
    "بے شک ہمارے درمیان اور ان (کافروں) کے درمیان فرق نماز کا ہے پس جس نے اس کو ترک کیا پس تحقیق اس نے کفر کیا''
    ترمذى -الايمان-باب ماجاء فى ترك الصلوة '

    إِنَّ الْعَهْدَ الَّذِی بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلَاةُ، فَمَنْ تَرَکَهَا فَقَدْ کَفَرَ.
    ''یقینا ہمارے اور ان (کفار) کے درمیان جو عہد ہے وہ نماز ہے پس جس نے نماز کو ترک کیا (گویا) اس نے کفر کیا (عہد سے منہ موڑ لیا)۔''
    ابن حبان ،الصحیح 4 305 رقم 1454 ۔

    ''ہمارے اور کافروں کے درمیان حد ِفاصل نماز ہے جو نماز کو چھوڑتا ہے وہ کافر ہے''۔ (ابوداؤد، ترمذی)۔

    جہاں تک سستی اور کاہلی کا تعلق ہے ،میری رائے میں یہ انسان کے اختیار میں ہوتا ہے اور ایسا جان بوجھ کر کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔
    اس لیے خود ساختہ نماز چھورنا کفر ہی ہوا۔واللہ اعلم بالصواب

    یوں بھی سستی اور کاہلی ہمیشہ نہیں ہو سکتی ، بلکہ یہ دھوکہ دینے والی بات ہے۔

    اگر ہم روز قرآن مجید کی تلاوت نہ کریں اور کہیں کہ "سستی ہو جاتی ہے"،اور ایک دن ہمیں موت آ جائے تو کیا یہ دلیل اللہ کے حضور پیش کر سکیں گے؟
    ہم ناشتے میں سستی نہیں کرتے ، کھانے میں سستی نہیں،ٹی وی چینل کے پروگرامز مقررہ وقت پر دیکھتے ہیں، اور جب بات آتی ہے نماز کی تو سستی کیوں؟؟؟
    اللہ ہدایت دے ۔آمین
     
    • پسند پسند x 5
    • شکریہ شکریہ x 4
    • متفق متفق x 2
    • زبردست زبردست x 2
    • لسٹ
  3. ‏نومبر 03، 2013 #3
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    جناب عالی کفر کی اصطلاحی تعریف تو کر دیںاور پھر دیکھیں کہ وہ ایک فرض کے ترک پر صادق آتی ہے جبکہ اس میں تکاسل بھی پایا جاتا ہو
     
  4. ‏نومبر 03، 2013 #4
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344


    وقال صلى الله عليه وسلم:
    خمس صلوات كتبهن الله على العباد فمن جاء بهن ولم يضيع منهم شيئا استخفافا بحقهن كان له عند الله عهد أن يدخله الجنة ومن لم يأت بهن فليس له عند الله عهد إن شاء عذبه وإن شاء أدخله الجنة
    رواه أبو داود (425) والنسائي (1 / 230) وغيرهما
    عن حذيفة بن اليمان رضي الله عنهـ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
    يدرس الإسلام كما يدرس وشي الثوب حتى لا يدرى ما صيام ولا صلاة ولا نسك ولا صدقة
    وليسري على كتاب الله عز وجل في ليلة فلا يبقى في الأرض منه آية وتبقى طوائف من الناس: الشيخ الكبير والعجوز يقولون: أدركنا آباءنا على هذه الكلمة:
    لا إله إلا الله " فنحن نقولها "
    رواه ابن ماجة (4049) والحاكم (4 / 473)
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  5. ‏نومبر 03، 2013 #5
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    اردو ترجمہ بھی پیش کر دیں بھائی۔
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  6. ‏نومبر 03، 2013 #6
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    پانچ نمازیں اللہ نے فرض کی ہیں جس نے ان کی پابندی کی اللہ کا یہ وعدہ ہے کہ اس کو جنت میں داخل کرےگا اورجس نے ان کی پابندی نہ کی اللہ کی مرضی ہے چاہے تو اس کو بخش دے اور چاہے تواسے عذاب دے
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏نومبر 03، 2013 #7
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    یہ مختصر ہے
     
  8. ‏نومبر 03، 2013 #8
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155


    ان تمام مسائل میں میری تحقیق ہے، لیکن یہاں جس نقطے کی میں بات کر رہا ہوں وہ آپ کو سمجھ ہی نہیں آیا، بے جا سستی اور کاہلی دین کے کاموں میں حقیقتا معیوب ہے۔
    میں جس نقطے کو یہاں واضح کرنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ شیخین ابن باز اور ابن عثیمین رحمہم اللہ کے فتاویٰ جات سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک نماز چھوڑ دینے پر بے نمازی کافر کا فتویٰ لگاتے ہیں، مثلا ایک شخص جنبی حالت میں صبح کرتا ہے اور وہ سستی کرتا ہے لیکن ہے مواحد ، ظہر کی نماز کے بعد وہ غسل کر کے بقیہ تمام نمازیں ادا کرتا ہے، اور اس دن کی جو نمازیں چھوڑ دیں تھیں ان کی قضا پڑھتا ہے یا پھر نوافل پڑھتا ہے تاکہ قیامت کے دن فرائض کی نوافل سے کمی پوری کی جا سکے، تو کیا ایسا شخص محض ایک دو نمازیں جب کہ وہ نمازی ہو اور زیادہ تر نمازیں ہی پڑھتا ہو، لیکن اس کی سست طبیعت یا کسی مجبوری کی وجہ سے اگر اس سے نمازیں قضا ہو جاتی ہیں یا چھوٹ جاتی ہیں اور وہ ان کی جگہ نوافل ادا کر لیتا ہے تو کیا تب بھی وہ کافر ہے؟ شیخین ابن باز اور ابن عثیمین رحمہم اللہ کے فتویٰ جات سے ایسا ہی معلوم ہوتا ہے۔

    میری تحقیق کے مطابق وہ بے نمازی جو کلمہ گو تو ہے لیکن نہ تو اپنی زندگی میں نماز جیسے بہترین فریضے کو اہمیت دیتا ہے، نہ ادا کرتا ہے، نہ اذان کی آواز سن کر اس کے کانوں میں جوں تک رینگتی، ایسا شخص میری نظر میں کفر کر رہا ہے، اس کے لیے سچی توبہ ہے اور اپنے نفس کی اصلاح کرنا ہے۔کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ کا مفہوم بھی یہی ہے کہ "جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑی اس نے کفر کیا"
    نیز آپ نے ان پوائنٹس پر بھی غور نہیں کیا:
     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 2
    • لسٹ
  9. ‏نومبر 03، 2013 #9
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا حافظ عمران صاحب
    مزید ان آیات و احادیث کے مفہوم کو پیش نظر رکھ کر تمام احادیث میں تطبیق دیں۔
    (1) إِنَّ اللَّـهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّـهِ فَقَدِ افْتَرَىٰ إِثْمًا عَظِيمًا ﴿٤٨﴾۔۔۔سورۃ النساء

    (2) إِنَّ اللَّـهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّـهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا ﴿١١٦﴾۔۔۔سورۃ النساء

    (3) حدیث کا مفہوم ہے کہ "جس شخص کو اس حال میں موت آئی کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو نہیں پکارتا تھا تو وہ جنت میں داخل ہو گا"

    (4) حدیث کا مفہوم ہے کہ "جس نے اللہ کے ساتھ شرک نہ کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف فرما دے گا چاہے اس کے گناہوں سے زمین و آسمان کے درمیان کا خلا بھر جائے"(حدیث کی سند کے لیے "کفایت اللہ" صاحب سے رابطہ کریں)

    (5) حدیث کا مفہوم ہے کہ "اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنے والا جنت میں جائے گا خواہ زنا کیا ہو خواہ چوری کی ہو"(حدیث کی سند کے لیے "کفایت اللہ" صاحب سے رابطہ کریں)

    (6) حدیث کا مفہوم ہے کہ "جس نے کہا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں، (عیسی علیہ السلام کے بارے میں یہ عقیدہ ہو کہ) عیسی اللہ کے بندے اور رسول تھے وہ کلمہ تھے جو اللہ نے مریم علیہ السلام کی طرف القاء کیا تھا اور اللہ کی طرف سے روح تھے، تو ایسا کہنے والا جنت میں جائے گا چاہے اس کے جیسے اعمال ہوں" (حدیث کی سند کے لیے "کفایت اللہ" صاحب سے رابطہ کریں)

    ان تمام قرآن مجید کی آیات و احادیث مبارکہ کو بھی مد نظر رکھیں اور پھر تطبیق دیں۔
     
    • پسند پسند x 4
    • شکریہ شکریہ x 3
    • لسٹ
  10. ‏نومبر 03، 2013 #10
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    ٹھیک ہے ہم اس کو کفر اصغر کہہ سکتے ہیں اور بے نمازی مسلمان گناہ گار ہے فاسق و فاجر ہے جہنم میں جا سکتا ہے اور اپنے گناہوں کی سزا پاکر جنت مین جا سکتا ہے یہی علامہ البانی رحمہ اللہ کی رائے ہے اور اس موضوع پر انھوں نے کتاب بھی لکھی ہے جس کا نام ہے حکم تارک الصلاۃ۔ اس کتاب میں انھوں نے ثابت کیا ہے کہ بے نماز کافر نہیں ہے بلکہ فاسق و فاجر ہے اپنے کرموںکی سزا پاکر جنت میں جائے گا ۔ واللہ اولم بالصواب
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں