1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تبلیغی جماعت کے بارے میں انظر شاہ قاسمی کے خیالات مع گالیوں کے

'تبلیغی جماعت' میں موضوعات آغاز کردہ از سرفراز فیضی, ‏فروری 20، 2013۔

  1. ‏فروری 24، 2013 #11
    راجا

    راجا سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 19، 2011
    پیغامات:
    734
    موصول شکریہ جات:
    2,555
    تمغے کے پوائنٹ:
    211

    ہائی لائٹ کردہ الفاظ کے آئینے میں اپنا رویہ ملاحظہ کر لیجئے۔ شاید کہ اپنے خبث باطن سے آگاہی نصیب ہو جائے۔ ورنہ ایمنیشیا اور شارٹ ٹرم میموری لاس کے مریض کی مانند آپ کو بھی حقائق کا آئینہ بار بار دکھاتے رہنا پڑے گا۔
     
  2. ‏فروری 25، 2013 #12
    جمشید

    جمشید مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 09، 2011
    پیغامات:
    873
    موصول شکریہ جات:
    2,325
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    راجاصاحب کی یہ غلط فہمی ماقبل میں ہی دورہوجانی چاہئے تھی کہ ان کی سخت وسست باتیں ہم برداشت کرلیں گے ۔اپناتوحال یہ ہے کہ جیسے کو تیساکہاجائے۔کیونکہ کچھ لوگ جن میں راجا صاحب بھی شامل ہیں اسی زبان کو زیادہ بہتر طورپر سمجھتے ہیں ۔ماقبل میں بھی انہوں نے ایک اورمقام پر ایسی ہی حرکت تھی مدعی سست گواہ چست اوردیگ سے زیادہ چمچہ گرم کے تحت اسی فورم پر ایک تھریڈ میں شعلہ بیانی وآتش کلامی کے ساتھ حملہ آورہونے کی کوشش کی تھی لیکن اسی تب وتاب اورلہجہ میں جواب پاکر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مناسب ہے کہ ذراپورے تھریڈ پر ہی ایک نگاہ ڈال لی جائے۔
    اگرصرف تبلیغی جماعت کی بات ہوتی اورتبلیغی جماعت کے تعلق سے ہی انظرشاہ کے خیالات سے قارئین کو روشناس کرانا مقصود ہوتاتو عنوان کچھ دوسراہوتا۔
    تبلیغی جماعت کے بارے میں انظرشاہ قاسمی کے خیالات

    لیکن سرفراز فیضی صاحب نے عادت سے مجبورہوکر یہ لکھناضروری سمجھا"مع گالیوں کے"

    پھرلنک کے بعد بجائے اس کے کہ وہ موضوع کا تعارف کراتے۔ انظرشاہ نے کیاکہاہے اس کومختصرابتاتے انہوں نے گالیوں کا ذکر ضروری سمجھا۔
    بھائی کام کی بات سننے کے لیے ان کی گالیاں برداشت کرلیں ۔ عادت ہے بے چارے کی۔
    اگرکوئی ان سے یہ پوچھتا کہ ان کی تقریر میں اتنی گالیاں کیوں ہیں آپ نے ایسی تقریر کالنک یہاں کیوں دیاہے تب شاید وہ یہ بات لکھتے تو مناسب تھا لیکن بغیرکسی سوال کے وہ خود ہی مع گالیوں کے شروع ہوگئے۔
    خلاصہ کلام یہ کہ انہوں نے تبلیغی جماعت کے بارے میں انظرشاہ قاسمی کے خیالات سے زیادہ ان کی گالیوں پر اپنی توجہ مرکوز رکھی ہے اوراسی کو ہائی لائٹ کیاہے ہاں یہ اوربات ہے کہ انداز بیان تھوڑادوسرااختیار کیاہے۔لیکن تاڑنے والے قیامت کی نگاہ رکھتے ہیں

    شاعرہیں رازہائے دروں جانتے ہیں ہم
    دنیا کوہرلباس میں پہچانتے ہیں ہم ​

    اگرچہ اس کے جواب میں بہت کچھ غیرمقلدین کی حرکتیں پیش کی جاسکتی ہیں ۔ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا ۔ممبئی میں معراج ربانی نے جوکچھ کہااوراس پر جوہنگامہ ہوا وہ اخبارات کے صفحات کی زینت ہے۔
    میں نے بحث میں الجھنے کے بجائے ایک سلفی ابوسلام کا حوالہ دیا جن کے نزدیک مخلوط احتجاج میں شریک عورتوں کی ابروریزی جائز ہے؟
    اگرچہ سرفراز فیضی نے اپنی باتوں کی وضاحت کی لیکن بین السطور سے سب کچھ عیاں تھا کہ مقصد کام کی بات ہے یاپھراس کااظہار کاتبلیغیوں کو گالی دی گئی بہت اچھاہوا ۔
    میں نے پہلے ہی وضاحت کردی تھی کہ ان کی زبان سخت ودرشت ہے اوران کا لب ولہجہ ہرایک کے خلاف یکساں ہے۔ یہ شعلہ بیانی ان کی فطری عادت ہے ۔دوسرے لفظوں میں کہیں تو عادت سے مجبور ہیں۔ان کی تقریروں کی سائٹ بھی موجود ہے جس پر ان کی تمام تقریریں دیکھی جاسکتی ہیں۔
    دوواقعات ہیں۔
    دونوں یکساں قابل مذمت ہیں۔بلکہ بعض حیثیت سے دیکھیں تو پہلا زیادہ قابل مذمت ہے۔ لیکن اس کے باوجود اگراس پر صم بکم عمی کی روش روارکھی گئی اورگالیوں پر داد سخن دیاگیااوراسی حرف حکایت وشکایت کومیں نے رقم کردیاتو راجا صاحب نے بے قرارہوکر اپناخبث باطن بیان کردیا
    ویسے جوچیز پہلے ہی عیاں تھی اسےراجاصاحب کو بیاں کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ عیاں راچہ بیاں مشہور مقولہ ہے ۔

    گزارش فقط اتنی ہے کہ
    اگر ابوسلام کی بات تمام سلفیوں کیلئے لائق حجت نہیں توانظرشاہ قاسمی کوبھی تمام حنفیوں نے اس کا سرٹیفکٹ نہیں دے رکھاہے کہ "مستند ہے ان کا فرمایاہوا"
    اگرسلفی حضرات کہتے ہیں کہ گالیاں دینابہت بری بات ہے ۔توابوسلام کی زبان وبیان بھی قابل مدح نہیں بلکہ لائق مذمت ہے۔
    دوسروں کو آئینہ دیکھانے کے بجائے مناسب ہوگاکہ آپ اورہم خود سے آئینہ دیکھیں اوراس میں اپنی کمی کوتاہی معلوم کریں۔
     
  3. ‏فروری 25، 2013 #13
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    جمشید بھائی اگر اس تھریڈ سے آپ کو تکلیف ہوئی تو میں معذرت خواہ ہوں۔
     
  4. ‏فروری 25، 2013 #14
    جمشید

    جمشید مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 09، 2011
    پیغامات:
    873
    موصول شکریہ جات:
    2,325
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    نہ مجھے تکلیف ہوئی ہے اورنہ ہی معذرت کی ضرورت ہے لیکن یہ کہنے دیجئے کہ آپ کی دیگرتحریروں کے تناظر میں یہ تحریر مناسب نہیں ہے۔ آپ کی دوسری تحریروں سے میں نے استفادہ کیاہے۔ اس لحاظ سے اس تھریڈ کا عنوان اورانداز بیان ثقاہت سے ذراگراہوالگتاہے۔ہوسکتاہے کہ یہ صرف میراہی احساس ہو اورغلط احساس ہو لیکن احتساب نفس توہم سب کیلئے ضروری ہے۔
    تھریڈ کے اس خوشگوار اختتام اوربڑے ظرف کیلئے شکریہ قبول کریں۔ والسلام
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  5. ‏دسمبر 23، 2013 #15
    عبدالمجید بلتستانی

    عبدالمجید بلتستانی رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 22، 2013
    پیغامات:
    146
    موصول شکریہ جات:
    105
    تمغے کے پوائنٹ:
    49

    علامہ انورشاہ رحمہ اللہ کے بیٹے کانام انظرشاہ ہے،
     
  6. ‏دسمبر 23، 2013 #16
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,761
    موصول شکریہ جات:
    5,269
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    سخن پسند ہونے کے باوجود شاعر کے اس خیال کا کبھی حامی نہیں رہا کہ ع کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب؛ گالیاں کھا کے بے مزہ نہ ہوا ۔ بلکہ میرا معاملہ اس کے برعکس ہے کہ اگر “شیریں لب” (یا اُن کے پوسٹ کردہ ویڈیو لنک) کے منہ سے گالیاں برآمد ہوں تو مجھے دُہری اذیت ہوتی ہے۔ اگر اس ویڈیو (لنک) کی نشر و اشاعت اتنی ہی ضروری تھی تو گالیوں کو ایڈیٹ کرکے پوسٹ کی جاتی۔ اور اگر ایسا ممکن نہ تھا تو گالیوں سمیت اس کی پوسٹنگ کی ضرورت ہی کیا ہے؟ ایک طرف تو فورم کے منتظمین “اندیشہ ہائے دور دراز” (وہ اور آرائش خم کاکل؛ مَیں اور اندیشہ ہائے دور دراز ۔ ابتسامہ) کے تحت جاندار کی تصاویر (بھلے “بے ضرر” ہو، اور بے شک شرعاً حرام بھی نہ ہو) پر “پابندی” اور “ویڈیو” کی اجازت دیتے ہیں تو کیا اس “اجازت” میں “لائیو گالیاں” بھی شامل ہیں۔ اگر یہ فارمولہ کہ: “بھائی کام کی بات سننے کے لیے ان کی گالیاں برداشت کرلیں” (عذر گناہ بد تر از گناہ) درست ہے تو کل کلاں کو کسی ڈانسر کی ایسی عریاں ڈانس پر مبنی ویڈیو کی اشاعت بھی جائز قرار ہوسکتی ہے، جس میں ڈانس کے خاتمہ پر ڈانسر کا کوئی عبرتناک انجام بھی نظر آرہا ہو۔ بھائی! ڈانسر کا عبرتناک انجام دیکھنے کے لئے اس کے ڈانس کو برداشت کر لیں (ابتسامہ)کیونکہ عبرت ناک منظر کو دیکھ کر عبرت پکڑنے کے لئے ڈانس کو بھی برداشت کیا جاسکتا ہے، اگر گالیوں کو برداشت کیا جاسکتا ہو تو۔
    پس تحریر: مین نے ویڈیو نہیں دیکھی اور مجھے گالیوں والی ویڈیو دیکھنے کا شوق بھی نہیں ہے۔ لہٰذا مجھے نہیں معلوم کہ اس میں کس قسم کی گالیاں دی گئیں ہیں۔ لیکن چونکہ خود پوسٹر کا “اعتراف” موجود ہے کہ اس میں گالیاں ہیں، لہٰذا اس احقر کی ناقص رائے میں (جو اب اتنی بھی “ناقص” نہیں۔ ابتسامہ) ایک دینی فورم میں گالیوں کی نشر و اشاعت کو کسی بھی صورت میں “مناسب یا جائز” قرار نہیں دیا جاسکتا۔
    واللہ اعلم ۔ ۔ ۔
     
  7. ‏دسمبر 23، 2013 #17
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    جمشید بھائی ہمیشہ مقلد ہی تعصب کا مارا ہوتا ہے ہم اگر مقلد ہوتے تو آپ اس بات کہ مان لیتے کہ وہ سلفی عالم ہے اور یہ فتوی بھی ان سے صادر ہوا ہے ، یہ محض ایک الزام ہے ، اور جہاں تک تبلیغی جماعت کی گمراہی کی بات ہے تو وہ صرف اہل حدیث کی طرف سے نہیں ہے بلکہ بہت سے دیوبندی علما نے اس جماعت کو غلط کہا ہے اور جہاں تک انظر صاحب کی بات ہے تو اگر انھوں نے یہ کام کیا ہے یعنی گالیا ں دی ہیں تو ہم اس مذمت کرتے ہیں ، اللہ ہم سب کو سیدھی راہ سے آشنا کر دے آمین
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں