1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تذکرہ اسلاف از مولانا عبد الرحمن ثاقب

'تذکرہ مشاہیر' میں موضوعات آغاز کردہ از خضر حیات, ‏ستمبر 01، 2017۔

موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
  1. ‏اکتوبر 17، 2017 #11
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,770
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    تذکرہ اسلاف (10 )
    جمع و ترتیب : عبدالرحمن ثاقب

    امام العصر شہید ملت علامہ احسان الہی ظہیر رحمة الله عليه


    تاریخ انسانیت کے صفحہ قرطاس کا مطالعہ کیا جائے تو اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ کتنی ہی ایسی نامور شخصیات اس کارخانہ عالم میں تشریف لائیں اور انہوں نے کائنات کے نظام میں عظیم انقلاب برپا کردیے اور وہ بےسروسامانی کے عالم میں بڑے بڑے جابروں اور ظالموں سے ٹکرائے اور ان کو ریزہ ریزہ کردیا. ڈر اور خوف کی ماری ہوئی قوم میں ایسی روح پھونکی کہ وہ قوم دوسری قوموں سے ممتاز نظر آنے لگی. ہم جب عبقری شخصیات کا مطالعہ کرتے ہیں تو جسم میں ایک تلاطم پیدا ہوجاتا ہے کہ ہم بھی اپنے اسلاف کی طرح دین حنیف کےلیے کچھ کر جائیں.
    علامہ احسان الہی ظہیر 31 مئی 1945 کو سیالکوٹ کے محلہ احمدپورہ میں حاجی ظہور الہی کے گھر صبح کے وقت پیدا ہوئے. آپ کا نام مولائےمیر علامہ محمد ابراہیم میر سیالکوٹی رحمہ اللہ کے مشورہ سے احسان الہی رکھا گیا اور عقیقہ مسنونہ کیا گیا. لیکن کس کو علم تھا کہ یہ بچہ جوان ہو کر مفکراسلام,مجسمہ عزم مصمم ,پیکرشجاعت اور اسلام کی آواز بن کر سوئی ہوئی قوم کو جھنجھوڑ کر بیدار کرے گا اور اس قوم کو روحانیت کا درس دے کر ہر باطل قوت سے ٹکرا جانے کا سبق سکھلائے گا اور آگے چل کر خود شہید اسلام بن جائے گا.
    شخصیت :-
    امام العصر شہید ملت حضرت علامہ احسان الہی ظہیر رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے آپ ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے. آپ کی آفاقیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی آپ نہ صرف پاک و ہند کے عظیم سرمایہ تھے بلکہ عالم اسلام کی متاع عزیز تھے. اللہ رب العزت نے آپ کو شاہین کا تجسس, عقاب کی نگاہ, شیر کی گرج, چیتے کا سا عزم, اسلامی جرنیلوں کی شجاعت, اہل اللہ کا شوق, اہل فقر کا احساس, رسول عربی صلی اللہ علیہ و سلم و صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی حددرجہ محبت ,مسلک محدثین کی علمبرداری, پہاڑوں کا وقار, سمندر کا تموج, دریاؤں کاشور, آبشاروں کی خروش, پھولوں کی مہک اور طوفانوں کی ہیبت عطاء فرمائی تھی.
    تعلیم :-
    علامہ احسان الہی ظہیر شہید رحمہ اللہ نے ابتدائی تعلیم محلہ کے اسکول سے مڈل تک حاصل کی. اللہ تعالی نے آپ کو ذہانت و برجستہ گوئی, جرأت و شجاعت کا وافر ملکہ عطاء فرمایا تھا. جس سے آپ کے اساتذہ آپ کے بارے رطب اللسان رہتے تھے. آپ کے والد گرامی جو کہ نہایت متقی, زاہد اور شب زندہ دار تھے انہوں نے آپ کو قرآن مجید حفظ کرنے پر لگادیا تو آپ نے صرف نو سال کی عمر میں حفظ مکمل کرکے اپنی ذہانت کا لوہا منوایا .آپ کے والد گرامی کو چونکہ علم اور اہل علم سے محبت تھی اور ان کی مجالس میں اٹھتے بیٹھتے تھے اس لیے وہی علم کا نور اپنے گھر میں پیدا کرنا چاہتے تھے علماء کے مشورہ سے علامہ شہید کو جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ میں داخل کروایا. آپ بڑی حساس طبیعت کے مالک تھے اپنے فارغ وقت کو ضایع کرنے کی بجائے مطالعہ کیا کرتے تھے پھر علماء کی مجلس میں شریک ہوتے اللہ تعالی کی طرف سے ودیعت کیےگئے گوناگوں اوصاف کو استعمال میں لاتے ہوئے اسلاف کی راہ پر چلنے کے خواہش مند کر درس نظامی جو کہ آٹھ سالہ نصاب ہے چھ سال میں مکمل کیا. حضرت علامہ شہید نے علم میں رسوخ پیدا کرنے کے لیے ہر فن کی ایک بنیادی کتاب زبانی یاد کی تھی. چنانچہ نحو میں " الفیہ " علم الصرف میں " صرف میر " اصول تفسیر میں " الفوزالکبیر " مصطلح الحدیث میں "نخبۃ الفکر " معانی میں " تلخیص المفتاح " منطق میں " مرقاۃ " زبانی یاد کی تھی. آپ زمانہ طالب علمی میں گوجرانوالہ کے علمی حلقون میں حاضری دیتے اور ان سے اپنی علمی برتری کا لوہا منواتے تھے. آپ نے صرف دین کی تعلیم ہی حاصل نہیں کی بلکہ عربی, اردو اور فارسی پر عبور حاصل کرنے کے لیے پنجاب یونیورسٹی سے فاضل عربی, فاضل اردو اور فاضل فارسی کے امتحان نمایاں پوزیشن سے پاس کیے اور ان تینون زبانون کے مدوجزر اور نشیب و فراز سے خوب واقفیت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ان میں ایم اے بھی کیا. اس طرح سے انگلش میں بھی ایم اے کیا اور قانون کی ڈگری بھی حاصل کی. آپ نے اپنی علمی تشنگی بجھانے اور مزید رسوخ و پختگی اور درائے علم میں مزید غوطہ زن ہونے کے لیے سرزمین حجاز کا سفر کیا اور عالم اسلام کی عظیم دانش گاہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں داخلہ لیا اور وہاں کے علمی ماحول سے خوب استفادہ کیا.
    اساتذہ کرام :-
    علامہ احسان الہی ظہیر شہید نے جن پاکستانی عبقری رجال سے اپنی علمی پیاس بجھائی ان کے اسماء گرامی یہ ہیں. شیخ الحدیث ابوالبرکات, حافظ محمد محدث گوندلوی, شیخ المنقولات والمعقولات مولانا شریف اللہ خان, شیخ الحدیث حافظ محمد عبداللہ بڈھیمالوی اور شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہم اللہ علیہم اجمعین کے اسماء گرامی قابل ذکر ہیں ان کے علاوہ مدینہ یونیورسٹی کے جن اساتذہ کرام سے علمی اکتساب کیا ان میں مجسمہ زہدوورع شیخ ابن باز اور محدث العصر علامہ ناصرالدین البانی رحمہمااللہ سرفہرست ہیں.
    اعزاز :-
    حضرت علامہ شہید نے مدینہ یونیورسٹی میں ذہانت و فطانت کی وجہ سے یونیورسٹی کے تمام اعزازات حاصل کیے مدینہ یونیورسٹی میں ہر سال اپنی کلاس میں ٹاپ کرتے رہے آخری سال کے امتحان میں 92 ممالک کے طلبہ میں علامہ شہید نے 93.50 نمبر حاصل کرکے پہلی پوزیشن حاصل کی.
    اسی طرح سے مدینہ یونیورسٹی میں " الفرق والملل " کے موضوع پر لیکچر ہوتا تھا جب قادیانیت کی باری آئی تو اساتذہ نے حضرت علامہ شہید سے کہا کہ آپ پاکستانی ہیں اور وہاں کے سلفی علماء نے اس فتنہ کی سرکوبی کےلیے عظیم جدوجہد کی ہے. لہذا اس عنوان پر آپ لیکچر دیں آپ نے اس پیشکش کو قبول کیا اور قادیانیوں کے پس منظر, تہہ منظر اور پیش منظر, ملحدانہ افکار اور لن ترانیوں کو خوب آشکار کیا اور یہ پہلی اور آخری روایت تھی کہ مدینہ یونیورسٹی کے طالب علم کو دوران تعلیم اساتذہ کی صف میں شمار کیا گیا. ان دروس کو جمع کرکے آپ نے " القادیانیت " کے عنوان سے کتاب ترتیب دی. جب 1967 میں یہ کتاب چھپنے لگی تو پبلشر نے علامہ صاحب کو مشورہ دیا کہ اگر اس کتاب پر فاضل مدینہ یونیورسٹی کے الفاظ لکھ دیے جائیں تو کتاب کی اہمیت میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا. آپ نے یہ بات وائس چانسلر مجسمہ زہد و تقوی علامہ ابن باز رحمہ اللہ سے کی تو انہوں نے اجازت دے دی علامہ صاحب نے کہا کہ! اے شیخ محترم اگر میں فیل ہوگیا ؟تو شیخ محترم نے فرمایا کہ میں اپنا عہدہ چھوڑ دوں گا.
    مسلکی حمیت و غیرت :-
    شہید ملت علامہ احسان الہی ظہیر رحمہ اللہ کے دل میں مسلک اہل حدیث کی حمیت و غیرت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی. اس سلسلہ میں آپ کسی بھی مداہنت کا رویہ اپنانے کےلیے کبھی بھی تیار نہ ہوتے تھے بلکہ اپنے مسلک اور اسلاف کے بارے میں ایک حرف سننا بھی گوارہ نہ کرتے تھے. غالباً 1984 کی بات ہے عظیم مادرعلمی جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی کے زیراہتمام تین روزہ سیدین شہیدین کانفرنس منعقد ہوئی حضرت علامہ شہید بھی اس کانفرنس میں مدعو تھے اور جامعہ کی مہمان خانہ میں تشریف فرماتھے اس دوران ڈاکٹر اسراراحمد صاحب تقریر کررہے تھے انہون نے دوران تقریر سیدین شہیدین کی تحریک پر نکتہ چینی کی علامہ صاحب فورا اٹھے اور اسٹیج پر آکر بیٹھ گئے حالانکہ اس وقت آپ کے خطاب کا وقت نہ تھا. ڈاکٹر صاحب کے فورا بعد علامہ صاحب مائیک پر تشریف لائے اور اس دوران ڈاکٹراسرار صاحب نے چلے جانے میں ہی عافیت سمجھی علامہ صاحب نے اس وقت فرمایا کہ کاش! ڈاکٹر صاحب بیٹھتے اور میری تقریر سنتے تاکہ انہیں پتہ چلتا کہ سیدین شہیدین کی تحریک جہاد کے ورثاء زندہ موجود ہیں. اسی طرح سے ایک دفعہ قاری طیب مرحوم مہتمم دارالعلوم دیوبند سعودیہ تشرہف لے گئے اور مدینہ یونیورسٹی کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اہل حدیث کے ساتھ ہم آہنگی کا اظہار کیا علامہ شہید فورا اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا کہ 1954 مین دارالعلوم دیوبند سے جس کے آپ مہتمم تھے اور اب بھی ہیں 60 طلبہ کو محض اہل حدیث ہونے کی وجہ سے نکال دیا گیا یہ کیسی اہلحدیثوں کے ساتھ ہم آہنگی ہے اس طرح حقیقت سے پردہ اٹھ گیا اور ان کے خطاب کا رنگ پھیکا پڑ گیا.
    میدان خطابت کا شہسوار :-
    علامہ احسان الہی ظہیر شہید جب جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے فراغت حاصل کرکے ملک واپس لوٹے تو انہی ایام میں لاہور کی مشہور و معروف اور قدیمی مسجد چینیاں والی کا منبر و محراب کسی خطیب اسلام کا منتظر تھا. مفکر اسلام شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمۃ اللہ علیہ آپ کو شیخ محمد اشرف کے پاس لے گئے اور کہا کہ میں ایک ہیرا تمہارے پاس لایا ہوں اس کی حفاظت کرنا ان شاءاللہ ایک وقت آئے گا اور پورا ملک ان کی ضیاءپاشیوں سے مستفیض ہوگا. اور آپ اس مسجد کے خطیب مقرر ہوگئے. رب العالمین نے جہاں ذہانت و کردار و گفتار سے نوازا تھا وہاں خطابت کا حظ وافر بھی عطاء کیا تھا. آپ جب خطاب کرتے تو گویا شیر گرج رہا ہو. ذہانت و وجاہت, جرات, فصاحت و بلاغت, ادب, بدیہہ گوئی, حاضر جوابی, بےباکی, سیرت و کردار کی بلندی, زبان پر دسترس یہ تمام چیزیں آپ کی خطابت کے اجزائے ترکیبی تھے. مسجد چینیانولی میں خطابت کرتے ابھی تھوڑا ووت گذرا تھا کہ مسجد تنگی داماں کا شکوہ کرتے نظر آئی.
    1968 میں جب ایوب خاں کی آمریت میں قادیانی چھائے ہوئے تھے اور آغا شورش کاشمیری کو پابند سلاسل کردیا گیا تو خطیبوں کی زبانیں گنگ ہوگئیں تھیں. اس ہو کے عالم میں علامہ شہید نے مسلسل چھ خطبے ختم نبوت کے موضوع پر دیے بس آپ کا اس موضوع پر خطاب کرنے کی دیر تھی کہ کارکنوں کے دلوں میں مسرت کی لہر دوڑ گئی اور پھر دیکھا دیکھی ہر کوئی میدان میں اتر آیا.
    1968 کا واقعہ ہے آپ چینیانوالی مسجد کے منصب خطابت پر فائز تھے ان دنوں فیلڈ لارشل ایوب خان کے خلاف تحریک چل رہی تھی اقبال پارک کی نماز عید کی امامت مسجد چینیانوالی کے خطیب کی حیثیت سے آپ کو وراثتا ملی تھی اقبال پارک میں نماز عید کا اجتماع مولانا سید محمد داؤد غزنوی رحمہ اللہ کے زمانہ سے ہی لاہور میں عید آزادگان کا اجتماع کہلاتا تھا اور اس کا شمار لاہور میں نماز عید کے چند بڑے اجتماعات میں ہوتا تھا. 1968 مین جب اس ملک کے عوام فیلڈ مارشل ایوب خان سے انتہائی برگشتہ تھے اور ان کی حکومت کے خلاف تحریک چلا رہے تھے عید سے چند روز پہلے مولانا عبیداللہ انور کے خلاف پولیس کاروئی کے باعث لاہور شہر میں حکومت کے خلاف شدید غیظ و غضب کا عالم تھا ہیجان تھا اور لوگ توقع رکھتے تھے کہ عید آزادگان کے خطبہ میں ایوب خان کی حکومت کو ہدف تنقید بنایا جائے گا اس سلسلہ میں آپ کے پاس عید سے پہلے ہی لوگوں کے وفود آنا شروع ہوگئے بعض لوگوں کا خیال تھا کہ چونکہ آپ سیاسی آدمی نہیں ہیں اگر آپ اجازت دیں تو اس مرتبہ وہ عید آزادگان کے خطبہ کےلیے کسی ایسی شخصیت کو لے آئیں جو اس عیدگاہ کے مقام و منصب کا حق ادا کرسکے اس پر آپ نے ان دوستوں سے کہا کہ وہ مطمئن رہیں مولانا داؤد غزنوی کی روایات کو قائم رکھا جائے گا. نماز عید کے خطبہ میں آپ نے جو تقریر کی اس کا تاثر اس قدر گہرا تھا کہ بہت سے لوگوں نے شدت جذبات میں آکر اپنے گریبان چاک کرلیے. آغاشورش کاشمیری مرحوم بھی نماز عید کا خطبہ سننے والوں میں موجود تھے. نماز عید کے بعد وہ آپ سے میاں عبدالمجید مالواڈہ بارایٹ لاء کے ہمراہ ملے اور کہنے لگے کہ میں خود بھی فن خطابت میں بہت دسترس رکھتا ہوں مگر میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ احسان الہی اگر تم آئندہ خطابت چھوڑ دو تو تمہاری صرف ایک تقریر سے تمہیں پاک و ہند کے چند بڑے خطیبوں میں شمار کیا جاسکے گا.
    علامہ شہید کی خطابت کی ایک خوبی یہ تھی کہ آپ بکھرے ہوئے مجمع کو چند لمحوں میں قابو کرلیتے تھے. ایک دفعہ مولانا محمد یوسف بنوری کی صدارت میں بادشاہی مسجد لاہور میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا جلسہ تھا سید ابوالاعلی مودودی کی تقریر کے دوران مولانا مفتی محمود صدر دروازے سے مسجد میں داخل ہو کر اسٹیج کی طرف بڑھے مفتی صاحب ذوالفقار علی بھٹو کو عام انتخابات میں شکست دینے, اپوزیشن کا قائمقام قائد حزب اختلاف ہونے اور پارلیمنٹ میں مرزا ناصر قادیانی کی تقریر کا موثر جواب دینے کی وجہ سے عوام میں خاصے مقبول تھے لہذا لوگ مولانا مودودی کی تقریر سننے کے بجائے مفتی صاحب کو دیکھنے کےلیے کھڑے ہوگئے اسٹیج سیکریٹری اور دیگر حضرات نے لاکھ کوشش کی کہ سامعین آرام سے بیٹھ جائیں تاکہ لوگ مولانا مودودی کی آرام سے سنیں اس صورتحال پر جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکن خاصے برہم تھے اس طرح سے جلسہ بد نظمی کا شکار ہوگیا. پھر اچانک حضرت علامہ شہید مائیک پر تشریف لائے اور شیر کی طرح گرج کر دومنٹ میں جلسہ کنٹرول کرلیا یہ آپ کی خطابت کی اثر آفرینی تھی.
    میدان صحافت میں :-
    علامہ احسان الہی ظہیر شہید مختلف ادوار میں ہفت روزہ " الاعتصام " لاہور, ہفت روزہ "اہل حدیث " لاہور اور ماہنامہ" ترجمان الحدیث " لاہور کے مدیر رہے. آپ نے ہفت روزہ اہل حدیث میں زوردار مضامین اور اداریے لکھ کر قادیانیوں کی ناک میں دم کر دیا تھا قادیانی گروہ کے متعلق آپ کی معلومات نہایت وسیع تھیں. آپ کی تحریریں مرزائیوں کےلیے سوہان روح بن گئیں. آپ نے ختم نبوت پر " ترجمان الحدیث " میں جس انداز سے لکھا اور قادیانی راز افشاں کیے انہیں پڑھ کر قادیانی قلمکار ہمیشہ کےلیے خاموش ہوگئے. علامہ شہید سلجھے ہوئے عالمانہ انداز میں گفتگو کرتے اور اپنی بات آسانی سے سامعین کے گوش گذار کرتے آپ کی بات کو عام آدمی بھی اچھی طرح سے سمجھ لیتا.
    میدان تصنیف :-
    علامہ احسان الہی ظہیر شہید جس طرح سے میدان خطابت کے شہسوار تھے اسی طرح سے میدان تصنیف میں بھی اپنے ہم عصروں سے ممتاز نظر آتے ہیں. آپ نے عربی زبان میں " فرق " کے موضوع پر قلم اٹھایا اور ایسی اہم کتب تصنیف کیں کہ وہ کتب دنیا کے لیے مرجع و مصادر کی حیثیت ٹہریں کئی زبانوں میں ترجمے ہوئے اور دنیا کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں مین بطور نصاب پڑھائی جاتی ہیں. کتب کے نام یہ ہیں. القادیانیۃ, البریلویہ, الشیعۃ والسنۃ, الشیعۃ و اھل البیت, الشیعۃ والتشیع, البھائیہ نقد و عرض, الاسماعیلیۃ, التصوف المنشاءوالمصادر, دراسۃ فی التصوف, مرزائیت اور اسلام, بین اھل الشیعۃ واھل السنۃ یہ کتب متعدد مرتبہ طبع ہو کر اہل علم سے داد تحسین وصول کرچکی ہیں.
    میدان سیاست :-
    حضرت علامہ شہید کو اللہ تعالی نے بےپناہ خوبیوں سے نوازا تھا. آپ بیک وقت مصنف, مولف, ادیب, مفکر, خطیب بے مثال, صحافی اور عالم باعمل ہونے کے ساتھ ساتھ سیاست کے میدان میں بھی کسی سے پیچھے نہ رہے. درحقیقت علامہ شہید نے میدان سیاست میں بھی اپنا لوہا منوایا اور آپ کی جماعت جمعیت اہل حدیث پاکستان بھی سیاسی میدان میں دیگر جماعتوں سے ممتاز نظر آتی ہے اور آپ نے قلیل عرصہ میں ملک کے طول و عرض میں سیاسی جلسہ ہائے عام منعقد کرکے یہ ثابت کردیا تھا کہ اہل حدیث پاکستان کی ایک بہت بڑی قوت ہے. آپ نے مرزائیوں کے خلاف تحریک میں بھرپور کردار ادا کیا اسی طرح تحریک بنگلہ دیش نامنظور میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا آپ نے تحریک استقلال میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی اور مرکزی سیکریٹری اطلاعات مقرر ہوئے. اسی طرح سے 1973 میں ممتاز علی بھٹو نے سندہ میں لسانی فسادات کروائے تو آپ نے نوب زادہ نصراللہ خان اور دیگر سیاسی قائدین کے ساتھ مل کر سندہ کا بھر پور دورہ کیا اور حقیقت سے پردہ اٹھایا. آپ کو ملتان میں غلام مصطفی کھر کے حکم سے گرفتار کیا گیا اور ڈرایا دھمکایا گیا لیکن آپ کہتے رہے!
    ہم قید و مشقت کیا سمجھین ہم طوق و سلاسل کیا جانے
    اک ساز نغمہ پر گو ہم شور سلاسل کیا جانے
    آپ نے بھٹو کے خلاف انتخابات میں حصہ لیا اور قومی اتحاد کی طرف سے ضلع قصورکے ایک دیہاتی حلقے سے امیدوار کے طور پر سامنے آئے.
    جذبہ محبت رسول :-
    علامہ احسان الہی ظہیر شہید سچے محب رسول صلی اللہ علیہ و سلم تھے آپ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت کا یہ عالم تھا کہ اکثر تقاریر میں سیرت طیبہ بیان کرتے ہوئے نظر آتے جناح ہال لاہور میں 1986 میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم پر آپ کی تقریر اس کی بہترین مثال ہے جس میں آپ کی کئی بار شدت جذبات سے آنکھیں اشکبار ہوگئیں اور آواز بھی بھرا گئی.
    جو کہا کر دکھایا :-
    علامہ احسان الہی ظہیر شہید نے 1986 کو جناح ہال لاہور میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ " ہمارا راستہ دو طرف جاتا ہے مگر منزل ایک ہے یا سر بلند رکھ کر غازی بن کے جیئو یا سر کٹا کر شہید بن کر مرو " آپ جب تک زندہ رہے سربلند رہے اور جب گئے تو شہادت کا عظیم الشان تاج سر پر رکھ کر اس دنیاء فانی سے رخصت ہوئے.
    جفا کی تیغ سے گردن وفا شعاروں کی
    کٹی ہے بر سر میدان مگر جھکی تو نہیں
    شریعت بل :-
    بعض متعصب اور غیر شریعت کو شریعت ماننے والے مولویوں نے قومی اسمبلی میں شریعت بل پیش کیا تو علامہ شہید اس کی تحریر و تقرہر کے ذریعہ سے دھجیاں اڑائیں روزنامہ نوائے وقت نے آپ کا بھرپور موقف شایع کیا اسی طرح سے جنگ فورم کے مذاکرے میں بھی آپ پوری محفل پر چھاگئے.
    جماعتی و تنظیمی زندگی :-
    شہید ملت حضرت علامہ احسان الہی ظہیر تحریک اور جدوجہد پر یقین رکھتے تھے بھٹو دور میں تحریک استقلال میں شامل ہوئے 1977 کا الیکشن بھی اسی پلیٹ فارم سے لڑا. لیکن جب تحریک استقلال کے سربراہ ایئر مارشل اصغر خان پاکستان قومی اتحاد سے علیحدہ ہوئے تو حضرت علامہ شہید نے تحریک کو خیر باد کہہ دیا. ضیاءالحق کے دور کے ابتدائی سالوں میں مرکزی جمعیت اہل حدیث کے ساتھ چلتے رہے آپ چونکہ سبک رفتار تھے اور تھوڑے وقت میں زیادہ کام کرنا چاہتے تھے. اس کےلیے گوجرانوالہ میں اکابر اہل حدیث علماء کے مشورہ سے 1981 میں جمعیت اہل حدیث پاکستان کے نام علیحدہ جماعت بنائی. شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ گوجرانوالہ امیر اور مولانا محمد حسین صاحب شیخوپوری ناظم اعلی بنائے گئے جنہوں نے کچھ ہی عرصہ بعد بوجوہ استعفی دیدیا تو جمعیت اہل حدیث کی مجلس شوری نے حضرت علامہ احسان الہی ظہیر شہید کو ناظم اعلی منتخب کرلیا. آپ نے اپنی قیادت میں علماء کو ایک نیا ولولہ اور نوجوانون کو حوصلہ دیا. حضرت علامہ شہید ابھی جرأت مندی اور حوصلہ مندی کے زینے چڑھ رہے تھے کہ مارچ 1986 کا عظیم سانحہ رونما ہوگیا.
    شادی و اولاد :-
    علامہ احسان الہی ظہیر شہید کی شادی محدث زماں حافظ محمد گوندلوی رحمۃ اللہ علیہ کی صاحبزادی سے ہوئی تھی.اللہ تعالی نے تین بیٹے اور پانچ بیٹیاں عطاء کیں تھیں. بیٹوں کے نام
    حافظ ابتسام الہی ظہیر صاحب
    حافظ ہشام الہی ظہیر صاحب
    معتصم الہی ظہیر صاحب
    آخری خطبہ جمعہ :-
    علامہ احسان الہی ظہیر نے سعودیہ سے 1967 کو واپسی کے بعد جامع مسجد چینیانوالی میں خطبہ جمعہ کا آغاز کیا تھا اور مستقل طور پر یہاں خطبہ جمعہ ارشاد فرماتے رہے. جب 20 مارچ 1987 کو آخری خطبہ جمعہ جو کہ آپ کی زندگی کا بھی آخری خطبہ تھا. آپ نے خطبہ میں فرمایا کہ آئندہ خطبہ لارنس روڈ ہوا کرے گا تو ہزاروں سامعین اشکبار ہوگئے اور رونے لگے.
    وفات :
    23مارچ 1987 کو شہید ملت علامہ احسان الہی ظہیر قلعہ لچھمن سنگھ سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم کانفرنس سے خطاب کرنے کے لیے تشریف لائے تو ہجوم عاشقاں دیدنی تھا آپ سے قبل خطیب ایشیا قاری عبدالحفیظ فیصل آبادی صاحب حفظہ اللہ خطاب کرچکے تھے اور خطیب اسلام مولانا حبیب الرحمن یزدانی رحمۃ اللہ علیہ خطاب کررہے تھے جب یزدانی صاحب مرحوم خطاب کرکے واپس جانے لگے تو علامہ شہید نے فرمایا کہ بیٹھ جاو اکٹھے چلیں گے اس کے بعد آپ نے شیر کی سی گرج کے ساتھ خطاب شروع کیا اور مخالفین اسلام اور حکمرانوں کو خوب رگیدا. اسی دوران کسی ظالم اور درندہ صفت, شقی القلب انسان نے ریموٹ کنٹرول بم چلادیا جس سے ایک قیامت بپا ہوگئی اور عالم اسلام یتیم ہوگیا اس دھماکہ میں آٹھ انسان فورا شہید ہوگئے جن میں شہید اسلام مولانا حبیب الرحمن یزدانی مفکر اسلام مولانا عبدالخالق قدوسی نوجوان قائد محمد خان نجیب رحمہم اللہ علیہم اجمعین سو سے زائد زخمی ہوگئے علامہ شہید کو فورا ہسپتال داخل کرادیا گیا دھماکے کی خبر سے عالم اسلام میں صف ماتم بچھ گئی انہی ایام میں والی حرمین شریفین شاہ فہد بن عبدالعزیز رحمہ اللہ لندن کے دورہ پر تھے انہوں نے پیشکش کی کہ علامہ صاحب کا علاج ریاض کے ملٹری ہسپتال میں کیا جائے سعودیہ والے طیارہ لے کر پہنچے تو عراق کے صدر صدام حسین کی طرف سے پیغام آیا کہ آپ کا علاج ملٹری ہسپتال بغداد میں ہوگا اور میرے وزیر مذہبی امور طیارہ لے کر کھڑے ہیں لیکن آپ نے سعودی عرب جانے کو ترجیح دی. 29 مارچ کو آپ سعودیہ پہنچ گئے وہاں پر ماہر اور اسپیشلسٹوں کی نگرانی میں آپ کا علاج شروع کردیا گیا. پاکستان کے علاوہ سعودی عرب کی 29 ہزار مساجد میں آپ کےلیے خصوصی دعائیں کی جانے لگیں. سعودی عرب کے حکمرانوں اور ڈاکٹروں نے آپ کےعلاج میں کوئی کمی نہ چھوڑی لیکن رب العالمین کو کچھ اور ہی منظور تھا بالآخر 30 مارچ کی صبح اسلام کے اس سچے سپاہی اور محب رسول کی روح جسد عنصری سے داعی اجل کو لبیک کہتے ہوئے پرواز کرگئی
    اناللہ وانا الیہ راجعون
    علامہ شہید کے سانحہ ارتحال کی خبر سعودی ریڈیو اور ٹلیویژن نے جاری کرکے عالم اسلام کو مغموم و محزون کردیا. ریاض کی یونیورسٹیوں اور دینی اداروں میں چھٹی ہوگئی. سرکاری دفاتر بند ہوگئے عالم اسلام کے دینی و روحانی پیشوا اور علامہ شہید کے استاد مکرم الشیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ نے آہوں اور سسکیوں کے سائے میں نماز جنازہ پڑھائی. ریاض کا یہ تاریخی جنازہ تھا کہ ہر آنکھ اشک بار اور پرنم تھی آپ کا دوسرا جنازہ مسجد نبوی میں ادا کیا گیا پوری سعودی قوم وہاں امڈ آئی تھی اور پاکستانی احباب بھی پہنچے ہوئے تھے. نماز جنازہ میں سروں کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا پھر آپ کو جنت البقیع میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم والے حصہ میں امام مالک کے قریب دفن کردیا گیا.
    پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا
    پاکستان بھر میں اہل حدیث حضرات نے غائبانہ نماز جنازہ ادا کی اور آپ کے لیے مغفرت اور بلندی درجات کی دعائیں کیں ملکی و غیرملکی اخبارات و رسائل, مجلدات و جرائد نے علامہ شہید کی شہادت پر خصوصی ایڈیشن شایع کیے. ممتاز صحافی جاوید جمال ڈسکوی نے علامہ شہید کی مختصر سوانح حیات مرتب کی. قاضی محمد اسلم سیف فیروزپوری رحمۃ اللہ علیہ نے" علامہ احسان الہی ظہیر ایک عہد ایک تحریک "کے نام سے مفصل کتاب لکھی اسی طرح سے انڈیا کے ایک عالم نے ایک کتاب علامہ شہید کی سیرت پر لکھی. قاضی محمد اسلم سیف اور محترم بشیر احمد انصاری نے مل کر ایک کتاب " ارمغان ظہیر " مرتب کی. تمام اخبارات کے ایڈیٹروں اور کالم نگاروں نے مثلا مجید نظامی, مجیب الرحمن شامی, ارشاد حقانی, صلاح الدین مرحوم اور خوشنود خان وغیرہ نے اپنے اپنے انداز میں حضرت علامہ شہید کو خراج تحسین پیش کیا. سیاسی لیڈروں نے اپنے اپنے بیانات کے ذریعے خراج عقیدت پیش کیا اور قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا. پاکستان کے علاوہ سعودی عرب, کویت, افغانستان, انڈونیشیا, ملائیشیا, بھارت, بنگلہ دیش, عراق, مراکش ,مصر, لندن, یورپ, امریکہ اور افریقہ کے کئی ممالک نے زبردست خراج تحسین پیش کیا آپ کی مظلومیت کی حمایت اور قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا.
    آپ کی شہادت پر پنجاب اسمبلی کا اجلاس برخاست ہوگیا آپ کے اعزاز میں پانچ منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی. اس واقعہ کی وجہ سے لوگ غم و غصہ سے بپھرے ہوئے تھے. پرنٹ میڈیا پر آپ کے رفقاء اور جانشین ایک وقت تک چھائے رہے جب تک کہ حکومت نے بذریعہ حکم اخبارات کو روک نہ دیا تھا. آپ کے غائبانہ نماز جنازہ کے بعد تحریک چلی احتجاجی جلسے اور جلوس نکالے گئے جلسہ عام منعقد کیے گئے اور یہ تحریک ایک عرصہ تک چلتی رہی. اور یہ شعر عام تھا
    تمہارے ہاتھوں پر جم گیا ہے لہو جو اس کے بدن سے نکلا
    وہ چاند طیبہ میں جا کر ڈوبا جو چاند میرے وطن سے نکلا
     
    • زبردست زبردست x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  2. ‏نومبر 03، 2017 #12
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,770
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    تذکرہ اسلاف (11 )
    جمع و ترتیب :- عبدالرحمن ثاقب

    علامہ قاری عبدالخالق رحمانی رحمة الله عليه

    قاری عبدالخالق رحمانی رحمة الله عليه مولانا عبدالجبار محدث کھنڈیلوی رحمة الله عليه کے گھر 25 نومبر 1925 بمطابق 8 جمادی الاولی 1344ھ کو کھنڈیلہ جےپور ( بھارت) میں پیدا ہوئے.
    تعلیم :- قاری عبدالخالق رحمانی صاحب نے عصری تعلیم مڈل تک حاصل کی. دینی تعلیم کا آغاز حفظ قرآن مجید سے کیا. بعدازاں دین اسلام کی ابتدائی کتب اپنے والد محترم سے مدرسہ مصباح العلوم کھنڈیلہ میں پڑھیں. حفظ قرآن مجید کی تکمیل مدرسہ عالیہ فتح پور دہلی میں کی. اس کے بعد دارالحدیث رحمانیہ دہلی میں علوم عالیہ وآلیہ کی تحصیل کی.
    اساتذہ کرام :-
    قاری عبدالخالق رحمانی صاحب نے درج ذیل اساتذہ کرام سے مختلف فنون و علوم میں اکتساب کیا.
    شیخ الحدیث مولانا احمداللہ پرتاب گڑھی ,شیخ الحدیث مولانا ابوالحسن عبیداللہ رحمانی مبارکپوری. مولانا محمد عبداللہ دہلوی, مولانا عبدالحلیم, مولانا نذیر احمد علوی رحمانی وغیرہ رحمھم اللہ علیہم اجمعین
    تدریس :-
    آپ نے تعلیم سے فراغت کے بعد 8برس تک مدرسہ قاسم العلوم آگرہ میں تدریس فرمائی اور شیخ الحدیث کے منصب پر فائز رہے. اس کے بعد درس و تدریس کو خیر باد کہہ کر ذریعہ معاش کےلیے تجارت شروع کی اور اس سلسلہ میں کئی شہروں کے سفر کیے. آپ جہاں اور جس جگہ تشریف لے جاتے آپ کا وعظ و تبلیغ اور درس و افتاء کا سلسلہ جاری رہتا. آپ کے زیادہ تر وعظ توحید الہی اور اتباع سنت پر ہوتے.
    یادگار واقعات :-
    1⃣ انڈیا کے شہر کلکتہ میں ایک ہندو پنڈت سے آپ کی ملاقات ہوئی جس کا نام گروناتھ تھا جو کہ مسلمانوں سے سخت نفرت کرتا تھا کلکتہ میں آپ کاروبار کےلیے آئے تھے جب آپ کو معلوم ہوا کہ ایک پنڈت جو کہ مسلمانوں کے لیے مصیبت بنا ہوا ہے تو آپ کا دل مچل اٹھا . آپ نے اپنے ساتھیوں کو اکٹھا کیا اور اس کے بارے پوچھا کہ یہ پنڈت کون ہے اور کس جگہ ملے گا ؟ آپ کے ایک ساتھی نے کہا کہ قاری صاحب اس کا نام گروناتھ ہے بہت ظالم آدمی ہے. مندر کالی ماتا پجاری ہے اور اس کے بارے یہ معلوم نہیں کہ رہتا کہاں ہے مگر ہر اتوار اور منگل کو مندر آتا ہے ہندووں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکاتا ہے. آپ نے کہا کہ مندر جاؤں گا آپ کے ساتھیوں نے آپ کو بہت سمجھایا لیکن آپ نہ مانے اور آپ اپنے چار ساتھیوں کے ساتھ منگل کے دن بھیس بدل کر گروناتھ کے پاس چلے گئے جب مندر کے ھال میں پہنچ گئے تو دیکھا کہ ایک بوڑھا جو شکل و صورت سے ہی ایک غلیظ انسان لگا پھر وہ ایک اونچے چبوترے پر چڑھ گیا اور مسلمانوں کے بارے انتہائی غلیظ زبان استعمال کرنے لگا. قاری صاحب نے جب یہ ماجرا دیکھا تو آپ نے ایک پتھر اپنے ساتھی کو لانے کا کہا, جب ساتھی پتھر لے کر آگیا. جب انہوں نے ہاتھ اٹھا کر نعرہ مارا تو آپ نے اللہ کا نام لیا اور بلند آواز سے اللہ کا نام لیا اور وہ پتھر گروناتھ کو دے مارا جو اس خبیث کے چہرے پر لگا اور وہ سب بھول کر ہائے ہائے کرنے لگا. ایک ہندو نے آپ کو پتھر مارتے دیکھ لیا اور جب آپ نے اپنے ساتھیوں کو دیکھا تو وہ سب غائب تھے آپ جلدی سے مندر سے باہر آئے ابھی تھوڑی دور ہی گئے ہوں گے کہ آپ کو آواز آئی وہ جارہا ہے جس نے بڑے پجاری کی ناک توڑ دی آپ نے جب شور سنا تو پیچھے دیکھا تو بہت سے ہندو لڑکے آپ کو پکڑنے کےلیے آرہے تھے آپ نے بھی دوڑ لگادی کیونکہ ہندو تو آپ کو قتل کرنا چاہتے تھے کسی کے ہاتھ میں تلوار, کسی کے ہاتھ میں خنجر اور کوئی ڈنڈا پکڑے ہوئے بیس پچیس ہندو تھے آپ آگے بھاگ رہے تھے اور وہ آپ کو پکڑنے کی کوشش کررہے تھے آپ کا ایک دل کرتا کہ نہ بھاگوں پھر سوچا کہ لوگ زیادہ ہیں اور زندگی بھی جاسکتی ہے اس سوچ میں آپ کے پاس ایک کار رک گئی اور اس نے آپ کو گاڑی میں آنے کا کہا آپ نے فورا گاڑی کا دروازہ کھولا اور بیٹھ گئے اور وہ آپ کو مندر سے کافی فاصلے پر لے گیا آپ نے اللہ کا شکر اداکیا جس نے اجنبی کو مدد کے لیے بھیج دیا. جب آپ اپنے مقام پر پہنچے تو آپ کے ساتھی بھی وہاں تھے آپ نے ان سے کوئی شکوہ نہ کیا. وہ کہنے لگے کہ قاری صاحب آپ نے تو خود مرنا تھا ساتھ ہمیں بھی مروانا تھا آپ نے جواب دیا اللہ کی راہ میں شہید ہوتا اب غازی ہوں یہ مقام اللہ کی راہ ہے پھر آپ اپنے قصبہ گئے اور اپنے والد محترم کو ساری داستان سنائی.
    2⃣ آگرہ میں ایک بزرگ ابوالعلاء کا مقبرہ ہے جو کہ پورے ہندوستان میں خواجہ معین الدین اجمیری کے بعد شرک کا مرکز ہونے کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر ہے. ان کے سالانہ عرس پر ہزاروں افراد مختلف مقامات سے آکر حاضری دیتے ہیں اور اپنے زعم میں حج کا سماں پیدا کرتے ہیں. مزار کو غسل دیا جاتا ہے طواف ہوتا ہے قبر پر قیام و سجود اور استغاثہ ہوتا ہے. ہمارے ممدوح قاری عبدالخالق رحمانی صاحب نے یہ سب کچھ سن رکھا تھا اور دل ہی دل میں کڑہتے رہتے تھے ایک بار اپنے شاگرد صلاح الدین بخاری کو لے کر عرس کے موقع پر عصر سے قبل وہاں پہنچے بڑی مشکل سے قبر تک رسائی ہوئی. جو کچھ آپ نے سن رکھا تھا اس سے بہت کچھ بڑھ کر آنکھوں سے دیکھ لیا. کوئی قیام میں رو رہا ہے بہت سے لوگ طواف میں مصروف ہیں اور عورتوں اور مردوں کی کثیر تعداد سربسجود ہے اور ایک مجاور گردن پکڑ پکڑ کر سجدے کرا رہا ہے اس کھلے کفر و شرک کو دیکھ کر آپ کا دل بےتاب ہوگیا تن بدن میں آگ سی لگ گئی اور دل ملامت کرنے لگا کہ اگر اس موقع پر بھٹگے ہوئے لوگوں کو راہ نہ دکھائی تو اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت ان لوگوں تک نہ پہچائی تو اللہ کے ہاں باز پرس ہوگی. آپ ادھر ادھر چکر لگانے لگے مگر بات سمجھ نہ آتی تھی کہ کیا کیاجائے اتنے میں عصر کی اذان ہوگئی اور آپ نماز کےلیے مسجد میں چلے گئے جس کے صحن میں اس مقبرے کا عظیم گنبد تھا. مسجد نمازیوں سے کھچا کھچ بھر گئی. اور نماز کے بعد عظیم قوال اور اس کے ہمنوا کے پروگرام کا اعلان ہوگیا آپ نے موقع غنیمت جانتے سمجھا اور سلام پھیرتے ہوئے ہی مسجد کے درمیانی دروازے میں کھڑے ہوگئے اور لوگوں سے کہا کہ مختصر سے وقت میں حضرت صاحب کے فضائل بیان کروں گا اس کے بعد قوالی سن لیں. لہذا خطبہ مسنونہ کے بعد آپ نے توحید پر بیان شروع کردیا. اللہ تعالی نے مدد فرمائی قرآن و حدیث کی جھڑیاں لگ گئیں. لوگ نہایت دلچسپی اور شوق سے ہمہ تن گوش ہو کر سنتے رہے. یہاں تک کہ مغرب کی اذان ہوگئی اور قوالی کا پروگرام منسوخ پڑا. جس پر قوال پارٹی واویلا کررہی تھی مگر لوگوں نے کوئی توجہ نہ دی. مغرب کی امامت کےلیے فرط عقیدت سے لوگوں نے آپ کو آگے کردیا. نماز سے فارغ ہوتے ہی پھر آپ نے لوگوں سے کہا کہ حضرت کے کچھ فضائل باقی رہ گئے ہیں وہ بھی سن جائیں اور پھر اللہ کی وحدانیت اور شرک کی مذمت پر بیان شروع کردیا. اللہ کا کرم ایسا ہوا کہ لوگ کھڑے ہو کر توبہ کرنے لگے اور کہنے لگے کہ اب یہ پیشانی اسی کے آگے جھکے گی جس نے اسے پیدا کیا ہے اور بےشک اللہ ہی مشکل کشا اور حاجت روا ہے اور سب اسی کے محتاج ہیں. وغیرہ وغیرہ
    اس پر مجاوروں نے قاری صاحب پر حملہ کردیا. چھریاں, خنجر اور ڈنڈے استعمال کیے گئے. نامعلوم وہ لوگ کون تھے جنہوں نے آپ کو گھیرے میں لے رکھا تھا اور سارے حملوں سے محفوظ رکھا اور نامعلوم وہ کون تھا جس نے ہاتھ پکڑ کر آپ کو آنا فانا غائب کردیا اور ایک نالے میں داخل کردیا جو کہ مقبرے کے پیچھے کی جانب ویرانے میں نکلتا تھا. یہ نالہ گٹر نما تھا اور کافی دیر سمٹ کر اس کو پار کرنا پڑا. باہر نکل کر آپ کو اونچی اونچی پہاڑیاں نظر آئیں ان کو عبور کیا سامنے ہی سڑک تھی وہاں پہنچ کر آپ نے سانس لیا اور ایک تانگے پر سوار ہو کر اپنے مقام پر پہنچے آپ کے شاگرد بخاری بھی آپ کے ساتھ رہے. مجاورین حیران و شسدر رہ گئے کہ آخر کہاں غائب ہوگیا.
    3⃣ اسی طرح کا ایک واقعہ ملتان میں پیش آیا. شیعہ حضرات نے توحید کانفرنس کا انعقاد کیا اور ہر مکتبہ کے علماء کو دعوت دی. شیعوں نے توحید یہ بتائی کہ پنجتن پاک کا دامن تھام لو. بریلویوں نے اللہ کو ہٹا کر دنیا کو مردوں کے حوالے کردیا. دیوبندیوں نے توحید پر کچھ بیان دے کر اس کے اتمام کےلیے تقلید کو ضروری بتایا. ہماری جماعت نے ذمہ داران اجلاس سے مطالبہ اور اصرار کیا کہ ہمارے اہل حدیث مقرر کو اگر اجلاس کے کے آخر میں تقریر کا موقع دیا جائے گا تو ہم شریک ہوں گے ورنہ نہیں. نہایت رد و کد کے بعد آخر ایسا ہی ہوا. جماعت اہل حدیث کے بزرگان بھی کافی تعداد میں آئے ہوئے تھے جن میں علماء اھل اللہ کی اتنی بڑی تعداد تھی جو پہلے کبھی دیکھنے میں نہ آئی تھی اور تمام خلوص دل سے دعا میں مصروف تھے ان دعاؤں کے جلو میں قاری صاحب نے توحید پر تقریر شروع کی اللہ نے سینہ کھول دیا اور تقریباً آپ نے پاؤ کے قریب سنایا اور اللہ نے ایسی آیات القاء فرمائیں کہ ان آیات نے مخالفین توحید کو کاٹ کاٹ کر گرادیا اور آپ کو اپنی طرف سے کچھ نہ کہنا پڑا اور پابندی بھی تھی کہ ایسی کوئی بات نہ کہی جائے جس سے کسی دوسرے مکتب فکر کی دل آزاری ہو. جگہ جگہ سے لوگ قبر پرستی اور غیراللہ پرستی سے توبہ کرنے لگے اور توحید پر قائم لوگوں کو گواھ بنانے لگے. عجیب بات یہ تھی کہ یہ اجلاس بہاؤالدین زکریا کے مقبرے کے سامنے عظیم الشان میدان میں منعقد ہورہا تھا مگر کوئی ہنگامہ اور مخالفت نہ ہوئی. مولانا خیر محمد جالندھری مہتمم خیرالمدارس جو اکابر علماء دیوبند میں سے تھے بقید حیات تھے انہوں نے اختتام جلسہ پر لوگوں سے کہا کہ اس اجلاس کی کامیابی کا سہرا اہل حدیث عالم کے سر بندھ گیا ہے.
    تصنیف و تالیف :-
    علامہ قاری عبدالخالق رحمانی صاحب کو کئی دفعہ تصنیف و تالیف کا خیال آیا کئی مسودات بھی تیار کیے گئے لیکن کاروباری مشاغل کی بناء پر طباعت کی نوبت نہ آسکی. جس کا آپ انتہائی قلق محسوس کرتے تھے.
    آل پاکستان اہل حدیث کانفرنس میں خطاب :-
    مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کی آل پاکستان پانچویں کانفرنس 14,15اور16 مارچ 1958 کو سرگودھا میں بطل حریت مولانا سید محمد داؤد غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کی صدارت میں ہوئی. اس کانفرنس میں ہمارے ممدوح قاری عبدالخالق رحمانی صاحب کو دعوت دی گئی اور آپ تشریف لائے اور تقریر کی. اشتہار میں آپ کا نام " مولانا عبدالخالق کراچی " لکھا گیا تھا آپ کی تقریر سے لوگ بے حد متاثر ہوئے اور پورے پنجاب میں آپ کی شہرت پھیل گئی. آپ قرآن پڑھتے تو سماں بندھ جاتا اور اس کا مطلب بیان کرتے توسامعین پر وجد کی سی کیفیت طاری ہوجاتی تھی. .سرگودھا کانفرنس کے بعد آپ کو مرکزی جمعیت اہل حدیث کی کانفرنسوں میں شرکت کی دعوت تو دی ہی جاتی تھی پھر اس کے علاوہ صوبہ کے مختلف مقامات کے تبلیغی جلسوں میں بھی آپ کو بلایا جانے لگا اور لوگ آپ کا نام سن کر کثیر تعداد میں ان جلسوں میں حاضر ہوتے تھے. بالخصوص توحید کے موضوع پر اس زمانہ میں تین حضرات کی تقریروں کی بڑی شہرت تھی. وہ تھے مولانا سید عبدالغنی کامونکی والے, حافظ محمد اسماعیل ذبیح اور قاری عبدالخالق رحمانی. مرکزی جمعیت اہل حدیث کی کانفرنسوں میں مولانا سید محمد داؤد غزنوی رحمہ اللہ ان تینوں مقریرین کی تقریریں بالخصوص سنتے اور بسا اوقات تقریر کے دوران غزنوی صاحب کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے. یہ تینوں حضرات اپنی اپنی باری سے دنیائے فانی سے رخصت ہوگئے ہیں. اللھم اغفر لھم وارحمھم وادخلھم الجنۃ الفردوس
    صرف خالص دین :-
    قاری عبدالخالق رحمانی صاحب جنرل محمد ضیاءالحق کے دور میں علماء کمیٹی کے رکن رہے اور تمام مکاتب فکر کے علماء کے بعد آپ کو دعوت خطاب دی جاتی تھی. ایک بار نفاذ شریعت کے سلسلہ میں علماء نے اپنی اپنی پسند کی فقہ نافذ کرنے پر زور دیا تو فقہ جعفریہ کے رہنماء نے کہا کہ اگر قرآن و سنت نافذ کریں تو ہم سب کے ساتھ ہیں اور اگر فقہ نافذ کرنا چاہیں تو فقہ جعفریہ نافذ کریں کیونکہ فقہ حنفی تو بہت گندی ہے. ضیاءالحق نے آخر میں حضرت قاری صاحب کو دعوت دی تو قاری صاحب نے مسلک کی بھرپور نمائندگی کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم جب ایک عظیم ہستی پر جمع ہوجائیں تو کوئی اعتراض اور اختلاف باقی نہیں رہتا وہ ہستی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے. جب آپ سے ہٹ کر کسی بھی دوسری شخصیت کا تعین کریں گے تو اتحاد پارہ پارہ ہوجائے گا مثلا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ہستی پرپوری امت مسلمہ کو یکجا نہیں کیا جاسکتا اہل تشیع کو اعتراض ہوگا تو بعد کے فقہاء و آئمہ میں سے کسی بھی امام پر سب کیسے متفق ہوسکتے ہیں. اس لیے فقہی وابستگی سے بالاتر ہوکر خالص دین " قرآن و سنت " پر سب اتفاق کرلیں.
    علمی رسوخ :-
    اللہ تعالی نے قاری عبدالخالق رحمانی کو بہت سی خوبیوں سے نوزا تھا آپ خطابت کے شہسوار تھے. وہیں درسی کتب سے تعلق نہ ہونے کے باوجود ان پر عبور و کمال حاصل تھا. بیش تر کتب ازبر تھیں اور آپ جامعہ دارالحدیث رحمانیہ کراچی کے ناظم تعلیمات کی حیثیت سے نگرانی و سرپرستی فرماتے رہے.
    ایک دفعہ ایک استاد منطق پڑھارہے تھے کتاب بھی مشکل تھی اور وہ سبق بھی قدرے الجھاؤ والا تھا. قاری صاحب چلتے چلتے سن کر رک گئے اور کہنے لگے کہ مولانا صاحب طلبہ کو آسان الفاظ میں حل کرکے سمجھائیں یہ نئی اور مشکل اصطلاحات بچوں کو سمجھ میں نہیں آرہی ہوں گی. وہ مولانا غصہ میں آگئے اور کہنے لگے کہ مجھے ایسا ہی آتا ہے آپ کو آتا ہے تو پڑھا دو. قاری صاحب نے فرمایا کہ آپ سامنے آجائیں پھر خود مسند پر بیٹھ کر بغیر کتاب کھولے اس پر مفصل تقریر کردی. خوب واضح کرکے سمجھایا آخر میں طلبہ سے کہا کہ کتاب کھولو اور ترجمہ کرلو یہ ہے آسان الفاظ میں سمجھا کر پڑھانا. وہ مولانا بڑے ہی نادم ہوئے وہ سمجھ رہے تھے کہ قاری صاحب نے اعتراض کردیا ہے انہین کیا معلوم کہ منطق کی یہ کتاب کیسی ہے ؟
    جامعہ دارلحدیث رحمانیہ کا سالانہ امتحان آپ خود لیتے تھے تین سوالات میں پوری کتاب کا خلاصہ آجاتا عموماً کئی اداروں اور خصوصاً دارالحدیث رحمانیہ میں صحیح بخاری کی آخری حدیث پر درس آپ ہی ارشاد فرماتے تھے. پہلے سیرت امام بخاری رحمہ اللہ پر روشنی ڈالتے پھر صحیح بخاری کے مقام و مرتبہ پر محدثین کی آراء نقل فرماتے اور پھر آخری باب اور آخری حدیث پر عالمانہ محققانہ خطاب سننے سے تعلق رکھتا تھا. موازین, القسط, اعمال و اقوال کا وزن وغیرہ کی تحقیق و تدقیق کے ساتھ قیامت کی ایسی منظر کشی کرتے کہ ہر آنکھ اشکبار ہوجاتی.
    اسی طرح سے اندرون سندہ جماعت کی عظیم درس گاہ جامعہ بحرالعلوم السلفیہ میرپور خاص مین بھی آپ وقتا فوقتا تشریف لاتے اور اپنے قیمتی مشوروں سے نوازتے اور جامعہ کے بانی و رئیس محترم حاجی محمد اسماعیل میمن صاحب حفظہ اللہ اور ان کے رفقاء کی ہمت بندھاتے خود بھی تعاون کرتے اور کراچی کے مخیر حضرات کو بھی اس جامعہ سے تعاون کےلیے ترغیب دیتے اور آپ کئی دفعہ جامعہ کی تقریب بخاری میں تشریف لائے اور صحیح بخاری کی آخری حدیث پر درس دیا اور طلبہ کی دستار بندی کی.
    تنظیمی خدمات :-
    قاری عبدالخالق رحمانی روز اول سے ہی مرکزی جمعیت اہل حدیث سے نہ صرف وابستہ رہے بلکہ مرکزی عہدے پر فائز رہے. مولانا سید محمد داؤد غزنوی رحمہ اللہ کے دور امارت میں آپ جونیئر نائب صدر تھے. حافظ محمد گوندلوی صاحب اور مولانا معین الدین لکھوی رحمت اللہ علیہما کے دور امارت میں قاری صاحب سینئر نائب امیر رہے. مرکزی جمعیت اہل حدیث کی مجلس شوری میں آپ کی اصابت رائے کا یہ عالم تھا کہ ارکان شوری نہ صرف آپ کے مشوروں کی قدر کیا کرتے تھے بلکہ اسے اختیار بھی کیا کرتے تھے.
    کراچی میں علماء کرام و مساجد اہل حدیث پر کچھ سال قبل حملے ہوئے اد موقع پر تمام اہل حدیث تنظیموں کا ایک مشترکہ اتحاد قائم ہوا جس کا نام " اہل حدیث سپریم کونسل " رکھا گیا جس کا چیرمین قاری عبدالخالق رحمانی رحمہ اللہ کو مقرر کیا گیا تھا اس اتحاد کا مقصد علماء, مساجد و مدارس اہل حدیث کا تحفظ تھا.
    شادی و اولاد :-
    قاری عبدالخالق رحمانی صاحب نے دو شادیاں کی تھیں. پہلی بیوی سے دو بیٹے اور ایک بیٹی جبکہ دوسری بیوی سے چار بیٹے اور دو بیٹیاں اللہ تعالی نے عطاء کین. بیٹوں کے نام یہ ہیں. حافظ مسعود عالم, محمود عالم, منصور عالم, محمد عامر, محمد طیب اور محمد طاہر.
    سب اپنا کاروبار کرتے ہیں اور سب بچے ماشاءاللہ بقدر ضرورت دہنی علم سے بہرہ ور اور دین دار ہیں.
    وفات :-
    قاری عبدالخالق رحمانی صاحب نے 3 دسمبر 2006 بروز اتوار کراچی میں انتقال کیا. قاری صاحب جماعت اہل حدیث کے گوہر شب چراغ تھے آپ کی وفات سے جو خلا پیدا ہوا اس کا پر ہونا نظر نہیں آتا. آپ کی نماز جنازہ ایک مینارہ مسجد شہید ملت روڈ پر واقع آپ کی رہائش گاہ کے قریب استاذالعلماء استاذی مکرم مولانا حافظ عبدالحنان سامرودی صاحب حفظہ اللہ نے پڑھائی جس میں علماء و طلبہ اور دیگر شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے احباب نے بڑی تعداد میں شرکت کی.
    اللھم اغفر له وارحمه وعافه واعف عنه اللهم ادخله الجنة الفردوس
     
  3. ‏نومبر 03، 2017 #13
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,770
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    تذکرہ اسلاف ( 12 )
    جمع و ترتیب : عبدالرحمن ثاقب

    شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ رحمة الله عليه


    شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ میاں عبدالرحمن کے گھر 20 مارچ 1920 کو چک نمبر 16 جنوبی تحصیل بھلوال ضلع سرگودھا میں پیدا ہوئے.
    تعلیم :-
    مولانا محمد عبداللہ رحمہ اللہ نے ابتدائی تعلیم اپنے ہی گاؤں چک نمبر 16 میں حاصل کی قرآن مجید اور اس کا ترجمہ پڑھا. مڈل کا امتحان چک نمبر 75 جنوبی کے مڈل اسکول سے پاس کیا. آپ کے دادا میاں علم الدین حافظ قرآن تھے. ان کا شوق تھا کہ ان کی اولاد میں کوئی دین کا علم حاصل کرے مگر ان کی اولاد میں سے کوئی ایسا نہ کرسکا جب شیخ الحدیث صاحب نے مڈل پاس کیا تو دادا علم الدین نے کہا کہ عبداللہ دین کا علم حاصل کرے گا. چنانچہ آپ کے دادا آپ کو جامعہ محمدیہ چوک نیائیں گوجرانوالہ میں داخل کرواگئے. گھر کی سہولتیں چھوڑ کر مدرسہ میں آئے تو ماحول اچھا نہ لگا اساتذہ کی ڈانٹ کے عادی نہ تھے اور جب پتہ چلا کہ یہاں تو کھانا بھی مانگ کر کھانا پڑے گا تو آپ چپکے سے گھر واپس چلے گئے دادا بہت ناراض ہوئے مگر آپ ضد پر قائم رہے کہ کھانا گھروں سے مانگ کر نہیں کھاوں گا. انہوں نے ہر طرح سے سمجھایا کہ آپ مجھ سے جتنا خرچہ چاہے لے لیا کرو مگر پڑھو ضرور. چنانچہ وہ آپ کو پھر گوجرانوالہ لے آئے آپ کے ساتھ ایک لڑکا سلیم اللہ پڑھتا تھا اس نے اس وقت آپ کی ہمت بندھائی کہ آپ کے حصے کا کھانا میں لے آیا کروں گا اس وجہ سے مدرسہ چھوڑ کر نہ جاؤ اس طرح سے آپ کی تعلیم کا دور شروع ہوا.
    مولانا محمد عبداللہ 1934 میں جامعہ محمدیہ میں داخل ہوئے. 1938 میں پنجاب یونیورسٹی سے فرسٹ ڈویژن میں منشی فاضل کیا پھر بخاری شریف پڑھی اس کے بعد مزید تعلیم کےلیے لکھنو چلے گئے 1940 سے 1942 میں ہی عربی فاضل کا امتحان فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا. اس کے ساتھ ساتھ دیگر علوم و فنون کی تعلیم بھی جاری رکھی.
    غالباً 1962 میں جب حکومت پاکستان کی طرف سے کوئٹہ میں ریفریشر کورس کےلیے اکیڈیمی قائم کی گئی تو آپ اس کے تین ماہ کے کورس میں پچیس جید علماء میں سے صرف ایک اہل حدیث تھے. ان علماء میں مولانا غلام اللہ خان راوالپنڈی اور مفتی محمد حسین نعیمی لاہور بھی شریک تھے. ان تمام علماء مین سے اللہ تعالی نے اہل حدیث عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ کو یہ عزت بخشی کہ آپ سب علماء میں سے اول نمبر آئے اور اہل حدیث کا سر فخر سے بلند ہوا. کوئٹہ میں ایک اور تقریری مقابلہ ہوا جس میں بڑے بڑے دانشور اور علماء شریک ہوئے حضرت شیخ الحدیث صاحب اس مقابلہ میں بھی اول آئے.
    اساتذہ :-
    شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ نے اس وقت کے ممتاز علماء کرام سے کسب فیض کیا. ان میں محدث العصر حافظ محمد گوندلوی, شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی اور مفکر اسلام علامہ سید سلمان ندوی رحمہم اللہ علیہم کے اسماء گرامی قابل ذکر ہیں.
    عملی زندگی کا آغاز :-
    شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ جب دینی تعلیم کی تکمیل کے بعد گھر تشریف لائے تو بھائیوں نے شدید خواہش کا اظہار کیا کہ ہماری زمین جو گاؤں کے قریب اور برلب سڑک ہے وہاں ایک مدرسہ کی بنیاد رکھی جائے تاکہ آپ کے علم و فضل کا فیضان اس علاقے کے لوگوں کو بھی پہنچے مگر آپ نے غوروخوض اور سوچ و بیچار کے بعد گوجرانوالہ کو ترجیح دی اور اپنی مادر علمی جامعہ محمدیہ چوک نیائیں گوجرانوالہ میں تدریس کا آغاز کیا اور جامع مسجد دال بازار میں خطابت کے ساتھ درس قرآن شروع کیا جو شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی کی وفات تک جاری رہا. مولانا محمد اسماعیل سلفی کی وفات کے بعد جامع مسجد چوک نیائیں ( اہل حدیث ) میں خطابت کی ذمہ داری سنبھالی جو بیماری کے ایام تک بطریق احسن نبھائی.آپ کے درس قرآن کا چرچا اس قدر ہوا کہ لوگ صبح صبح آپ کے درس میں شریک ہوتے. اور دال بازار مسجد میں خطبہ جمعہ کے وقت اتنا رش ہوتا کہ تمام ملحقہ بازار بند کروار کر صفوں کا انتظام کیا جاتا. اسی دوران مختلف شہروں کی مساجد کی طرف سے خطابت کی پیشکشیں بھی ہوئیں. کوٹھی, کار اور بھاری تنخواہ کی پیشکشیں مسترد کردیں اور گوجرانوالہ رہنے کو ترجیح دی. حضرت شیخ الحدیث کو بیان و خطاب میں خاص ملکہ حاصل تھا. جس سے علماء, اساتذہ اور طلبہ سب یکساں مستفید ہوتے. آپ ہمیشہ عام فہم, پر مغز, مدلل, نہایت موثر اور دلنشین خطاب فرماتے. آپ کے خطاب کے دوران سامع محسوس کرتا کہ وہ خود ان میں سے گذر رہا ہے. تمام گفتگو موضوع کی مناسبت سے ہوتی کبھی کسی موضوع تشنہ نہ چھوڑتے خطاب کے دوران پیدا ہونے والے تمام نکات و اشکالات خوش اسلوبی سے حل کرتے جاتے. بعض اوقات دقیق مسائل سادہ پیرائے میں بیان کرتے تو مجلس میں موجود بڑے بڑے علماء محو استعجاب ہوتے. مولانا کو خالق ارض و سماء کی طرف سے اس قدر قوت گویائی ودیعت کی گئی تھی کہ بسا اوقات ایسا ہوتا کہ آپ کی مجلس میں مخالفین موجود ہوتے جنہیں آپ کے موقف سے سو فیصد اختلاف ہوتا لیکن قوت گویائی ,گفتگو پر گرفت اور مدلل بیان کی وجہ سے مجلس کے اختتام تک تمام حاضرین و سامعین سو فیصد متفق ہوتے.
    1968 میں شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان نے شاہراہ دنیا چھوڑ کر جنت کا راستہ اختیار کیا. مولانا محمد عبداللہ رحمہ اللہ جامع مسجد دال بازار کے کامیاب خطیب اور جامعہ محمدیہ جو کہ اس وقت جامعہ شرعیہ تھا کے ناظم اور بانی تھے اور اسے کامیابی کے ساتھ چلارہے تھے نہ بجٹ کی کمی اور نہ ہی کسی قسم کا انتظامی بحران, جامعہ شرعیہ چند ہی سال میں ملک بھر کے مدارس میں ایک نام اور مقام پیدا کرچکا تھا. حضرت سلفی صاحب کی وفات کے بعد جامع مسجد چوک نیائیں میں ملک کے نامور خطباء کے خطبات رکھے گئے مگر حضرت سلفی صاحب کا خلا پر کرنے میں کسی حد تک بھی کامیاب نہ ہوسکے. باالآخر گوجرانوالہ کی جماعت نے شیخ الحدیث مولانا عبداللہ صاحب سے درخواست کی کہ آپ سلفی صاحب کے منبر و محراب کی ذمہ داریاں اٹھائیں.
    کسی بھی خطیب کےلیے اس سے بڑا اعزاز کیا ہوسکتا تھا کہ وہ عالم اسلام کی مسلمہ شخصیت اور اپنے استاد گرامی کی جانشینی کا شرف حاصل کرے مگر آپ نے جامعہ محمدیہ کے وفد کو فرمایا کہ میرے لیے اس وقت تک ممکن نہ ہوگا جب تک کہ دال بازار کی جماعت آمادگی کا اظہار نہ کرے. کیونکہ ان لوگوں نے عسر و پسر میں میرا ساتھ دیا ہے مین بڑی مسجد کے شوق میں اپنے ساتھیوں سے بےوفائی نہیں کرسکتا کئی ہفتے دونوں جماعتوں کے مذاکرات چلتے رہے جب بات آگے بڑھی تو کچھ لوگوں نے یہ مطالبہ پیش کیا کہ جس طرح سے آپ نے ہماری یہ فرمائش قبول کی ہے اسی طرح سے ہماری درخواست قبول فرمائیں کہ دونوں جامعات کو یکجا کردیا جائے اس کے ساتھ یہ مطالبہ بھی ہوا کہ جامعات کے یکجا ہونے کی صورت میں جامعہ شرعیہ کی بجائے جامعہ محمدیہ نام ہونا چاہئے یہ بڑا ہی کٹھن اور مشکل مرحلہ تھا کیونکہ جامعہ محمدیہ چوک نیائیں کی مسجد میں چند کمروں پر مشتمل تھا جبکہ جامعہ شرعیہ جی ٹی روڈ پر کئی ایکڑ زمین اور پرشکوہ عمارت پر محیط تھا اور آپ کی جوانی کا یہ ثمر تھا لیکن شیخ الحدیث صاحب نے ایک لمحہ تامل کیے بغیر فرمایا کہ نام میں کیا رکھا ہے. اگر آپ اس طرح سے راضی ہیں تو آج کے بعد جامعہ شرعیہ کو جامعہ محمدیہ کے نام سے پکارا جائے گا.
    تدریس :-
    شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ نصف صدی سے زائد عرصہ مسند تدریس و حدیث پر جلوہ افروز رہے. آپ سے علمی اکتساب کرنے والے بےشمار رجال وطن عزیز اور بیرون ملک دین حنیف کی خدمت میں مصروف ہیں آپ کے انتہائی قابل ذکر تلامذہ کے اسماء گرامی یہ ہیں : شہید ملت علامہ احسان الہی ظہیر شہید, مولانا حبیب الرحمن یزدانی شہید, مولانا حافظ عبدالغفور جہلمی, مولانا بشیرالرحمن سلفی, پروفیسر ڈاکٹر فضل الہی, علامہ محمد مدنی جہلم, مولانا رانا شمشاد احمد سلفی نارنگ منڈی, مولانا حافظ عبدالمنان نورپوری, مولانا حافظ محمد شریف فیصل آباد, مولانا حبیب الرحمن شاہ راوالپنڈی, پروفیسر قاضی مقبول احمد لاہور, مولانا عبدالرزاق, صاحبزادہ حافظ محمد عمران عریف بن شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ..
    مختلف تحریکوں میں حصہ :-
    شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ رحمہ اللہ کے دور شباب میں تحریک پاکستان اپنے عروج پر تھی. آپ گانگریس کے سخت مخالف اور مسلم لیگ کے زبردست حامی تھی. مسلم لیگ اور تحریک پاکستان کی حمایت و تائید اور گانگریس کی مسلم کش پالیسیوں کے خلاف آپ کے معرکۃ الآراء خطبات اور تقاریر قیام پاکستان کی تاریخ میں گرانقدر حیثیت رکھتی ہیں. آپ نے قیام پاکستان کےلیے قابل قدر خدمات سرانجام دیں اور مسلم لیگ کے موقف قریہ قریہ, بستی بستی, گلی گلی اور شہر شہر پہنچ کر خطاب کیا.
    یحی خان کے دور میں جب ذوالفقار علی بھٹو کی ملی بھگت سے سقوط ڈھاکہ کا المیہ پیش آیا اور اس خبر وحشت کے اثر سے پورے( مغربی) پاکستان میں صف ماتم بچھ گئی اور محب وطن قوتین مضمحل ہوگئیں تو مولانا محمد عبداللہ نے اپنے خطبات جمعہ میں اس المیہ کے کرداروں کو پوری جرأت کے ساتھ بےنقاب کیا اور مشرقی پاکستان میں اہل اسلام پر جو قیامت ٹوٹی اس پر سخت تنقید کی. آپ پیپلز پارٹی کے سخت ناقد رہے اور اس کے خلاف رائے عامہ کو ہموار کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے. بنگلہ دیش نامنظور کی تحریک میں مولانا محمد عبداللہ نے بےباک سیاستدان, ایک راست باز معاملہ فہم اور دور اندیش قائد کا کردار ادا کیا.
    29 مئی 1974 کو جب نشتر میڈیکل کالج کے طلبہ پر قادیانی غنڈوں نے ربوہ اسٹیشن پر لاٹھیوں, چاقووں اور چھروں سے مسلح ہو کر حملہ کیا اور انہیں ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ لگانے کی پاداش میں بری طرح زخمی کرکے نڈھال کردیا تو اس خبر سے ملک کے طول و عرض میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی اور ملک بھر کے دینی رہنماء فورا میدان عمل میں آگئے اور صورتحال کے پیش نظر مجلس عمل قائم کردی گئی جس کے قائدین نے ملک بھر کے دورے کیے. اس ضمن میں علماء اہل حدیث شہید ملت حضرت علامہ احسان الہی ظہیر شہید , شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ, حافظ محمد ابراہیم کمیرپوری, مولانا حبیب الرحمن یزدانی شہید, مولانا محمد اسحاق چیمہ, حافظ عبدالقادر روپڑی, مولانا عبدالحق صدیقی, حافظ عبدالغفور جہلمی ,مولانا معین الدین لکھوی, مولانا عبدالرشید راشد ہزاروی اور دیگر بےشمار علماء اہل حدیث کی گراں قدر خدمات داد و تحسین سے بالاتر ہین. شہید ملت حضرت علامہ احسان الہی ظہیر شہید نے تو اپنی شعلہ نوائی سے بھٹو شاہی پر تابڑ توڑ حملے کرکے عوام کو بھٹو کی مرزائیت نوازی کے خلاف صف آرا کردیا. ادھر شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ نے گوجرانوالہ میں جس مومنانہ فراست, شجاعت مسلم ,جرات و استقامت اور بےباکی سے اس تحریک کی قیادت کی وہ آپ کا ایک تاریخی کارنامہ ہے.
    1977 کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کی کھلے عام دھاندلیوں کے ردعمل میں قومی اتحاد کے اسٹیج سے ایک زبردست تحریک شروع ہوئی جو بعدازان تحریک نظام مصطفی کی شکل اختیار کرگئی گوجرانوالہ میں شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ کی سرپرستی میں مرکزی جامع مسجد اہل حدیث چوک نیائیں تحریک کا مرکز بنی رہی اور سب سے زیادہ جلوس یہیں سے نکلے اور بہت سے علماء اہل حدیث و کارکنان پس دیوار زنداں چلے گئے. شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ نعمانیہ روڈ گوجرانوالہ کے احتجاجی جلسہ میں اپنے رفقاء اور احباب کے ساتھ گرفتاری دینا چاہتے تھے لیکن تمام مکاتب فکر کے علماء جو اس جلسہ میں موجود تھے انہوں نے مرحوم شیخ الحدیث سے درخواست کی کہ آپ گرفتاری نہ دیں اس طرح شہر میں تحریک کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے چنانچہ آپ نے مناسب حکمت عملی کے تحت تحریک کو بھرپور انداز میں جاری رکھا. اس ملک گیر تحریک کی کامیابی کے نتیجہ میں بھٹو حکومت کا خاتمہ ہوگیا اور لوگوں نے سکھ کا سانس لیا.
    جب شیطان رشدی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے خلاف نہایت دلآزار کتاب لکھی تو تحریک تحفظ ناموس کے تحت اس کتاب کے خلاف رائے عامہ کو منظم کرنے اور اپنے مطالبات پر زور دینے کےلیے ملک بھر میں جلسہ ہائے عام کرنے کا فیصلہ کیا گیا جمعیت اہل حدیث نے نہایت جرأت و بیباکی کے ساتھ اپنا فرض ادا کیا مولانا محمد عبداللہ کی زیر صدارت شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں جلسہ عام منعقد ہوا جس میں ملک کی قابل ذکر جماعتوں کے قائدین تشریف لائے اور شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ کا خطاب ہی حاصل جلسہ تھا.
    جنرل (ر) ضیاءالحق کے دور میں ایک شریعت بل سامنے آیا تھا جسے جمعیت اہل حدیث نے مسترد کردیا تھا. اس مسئلہ میں شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ کا موقف یہ تھا کہ شریعت بل کا مسئلہ اکثریت کے حوالے سے نہیں بلکہ اصولوں کی بنیاد اور ایسے طریقے سے طے ہونا چاہئے جس سے فرقہ ورانہ کشیدگی پیدا نہ ہو. اصولی اور نظریاتی طورپر تمام مکاتب فکر کتاب و سنت کو اسلام اور شریعت کی اساس مانتے ہیں اور وہ اس پر اکٹھے ہوسکتے ہیں لہذا مجوزہ شریعت بل میں کسی فقہ کو بنیاد بنانے کی بجائے کتاب و سنت کو ہی بنیاد بنایا جائے.
    23 مارچ 1987 کو جب مینار پاکستان کے پہلو میں اللہ والوں کی متاع دین و دانش لٹ گئی. جمعیت اہل حدیث کے جلسہ عام میں بم دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں شہید ملت حضرت علامہ احسان الہی ظہیر شہید, علامہ حبیب الرحمن یزدانی, مولانا عبدالخالق قدوسی, محمد خان نجیب اور دیگر شہید ہوگئے.
    حضرت علامہ شہید علیہ الرحمہ سے حضرت شیخ الحدیث کا تعلق خاطر مثالی تھا بیٹوں سے بڑھ کر محبت کرتے تھے جب یہ دھماکے کا سانحہ ہوا تو حضرت شیخ الحدیث اندر سے ہل کر رہ گئے. اپنے بیٹے کی وفات پر اتنا دکھی نہ ہوئے جتنا اس سانحہ سے ہوئے. حضرت علامہ شہید کو سعودی عرب لیجایا گیا تو اپنے احباب اور جماعتی رہنماوں سے بار بار کہتے " علامہ ٹھیک ہو کر واپس آئے تو اتنا فقید المثال استقبال کرنا ہے کہ ملک کی تاریخ میں کسی حکمران کا بھی نہ ہوا ہو " اور جب وہاں سے حضرت علامہ احسان الہی ظہیر شہید کی کی شہادت کی خبر آئی تو پہاڑ کی استقامت والا یہ عظیم شخص خون کے آنسو رویا. پھر شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ اور علامہ پروفیسر ساجد میر صاحب حفظہ اللہ کی قیادت میں بڑی زور دار احتجاجی تحریک برپا ہوئی. سب سے زیادہ احتجاجی جلوس گوجرانوالہ سے نکلے حضرت شیخ الحدیث نے ایک اجتماعی جمعہ مسجد مکرم اہل حدیث میں پڑھایا. پابندی کے باوجود نماز جمعہ کے بعد بہت بڑے احتجاجی جلوس کا منظر دیدنی تھا. جب جلوس سیالکوٹی دروازے کے قریب پہنچا تو اس پر پولیس نے لاٹھی چارج اور زبردست شیلنگ کی مگر جلوس رواں دواں رہا اگلے روز بھی تحریک پورے جذبے کے ساتھ جاری رہی. اسی طرح ایک اور بہت بڑا جلوس ٹاہلی والی مسجد سے بھی نکالا گیا جس کا جوش و جذبہ دیکھ کر انتظامیہ بوکھلا اٹھی اور پولیس نے بہت سے کارکنوں کو گرفتار کرلیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا. اسی طرح سے یہ تحریک ایک عرصہ تک ملک بھر میں چلتی رہی اور سب کا مطالبہ ایک ہی تھا کہ قاتلوں کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے لیکن ستم کی بات یہ ہے عرصہ دراز گذر جانے کے باوجود قاتل گرفتار نہیں ہوسکے اس کوتاہی کی ذمہ دار وفاقی اور صوبائی حکومت ہے.
    1990 میں عراق نے اپنے ہمسایہ مسلم ملک کویت پر حملہ کرکے غاصبانہ قبضہ کرلیا اور سعودیہ عربیہ کی سرحدوں پر اپنی فوجیں جمع کرنا شروع کردیں جس کی وجہ سے سعودی عرب کی سلامتی کو بھی خطرہ لاحق ہوگیا. یہ سرزمین حرمین شریفین پوری دنیا کے مسلمانوں کی عقیدتوں اور محبتوں کا مرکز ہے. اس وقت جب حرمین شریفین کے تحفظ کا مسئلہ درپیش آیا تو بہت سے لوگوں کو سعودی عرب کی حمایت کی توفیق نہ ہوئی بلکہ ان پر صدام حسین کا ھوا سوار ہوگیا. ان حالات میں شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ نے جماعت کا اجلاس طلب کرکے یہ فیصلہ کیا کہ تحفظ حرمین شریفین کانفرنسیں منعقد کی جائیں. چنانچہ لاہور, گوجرانوالہ, قصور, کوئٹہ, فیصل آباد, ملتان, راوالپنڈی, جہلم, پشاور, کراچی وغیرہ میں کانفرنسیں منعقد کی گئیں جن میں عراق کے اس غیرانسانی, غیراخلاقی, غیرقانونی, غیراسلامی اقدام کی پرزور مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ کویت کی آئینی حیثیت بحال کی جائے. ہم عہد کرتے ہیں کہ تقدس حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے.
    لاہور کی کانفرنس اور احتجاجی جلوس تاریخی تھا. جماعت کے اس اقدام سے سعودی عرب میں اہل پاکستان کو بڑی عزت ملی.
    امانت و دیانت :-
    فرمان نبوی ہے کہ جو شخص امانت دار نہیں وہ ایمان دار نہیں ہوسکتا. اس حدیث کے مصداق شیخ الحدیث عبداللہ رحمہ اللہ امانت و دیانت سے مرصع تھے. گوجرانوالہ میں لڑکپن سے ضعیفی تک بھرپور عملی زندگی گذاری شہر میں بھی بلکہ گردو نواح میں مدارس کا نظام چلایا, مساجد تعمیر کروائیں اور جماعت کے دیگر منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچے لیکن کسی معاملہ میں امانت و دیانت کا دامن آپ کے ہاتھ سے نہیں چھوٹا اس ضمن میں دوست تو کیا دشمن بھی آپ کو مورد الزام نہیں ٹہراسکتا.
    جماعت کی قیادت :-
    1981 میں جب جماعت دو حصوں میں تقسیم ہوگئی تو ایک حصہ جمعیت اہل حدیث کی امارت کی ذمہ داری آپ کو سونپی گئی جبکہ ناظم اعلی مولانا محمد حسین شیخوپوری رحمہ اللہ کو بنایا گیا. مولانا محمد حسین صاحب شیخوپوری کے مستعفی ہونے کے بعد شہید ملت حضرت علامہ احسان الہی ظہیر شہید ناظم اعلی بنے. شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ اور علامہ احسان الہی ظہیر شہید نے جمعیت اہل حدیث کی عزت و وقار کےلیے جرات مندانہ فیصلے کیے سوئی ہوئی قوم کو جگایا, مساجد و مدارس سے سے نکال کر چوراہوں میں لاکھڑا کیا. اہل حدیث کارکن میں ایسی جرأت پیدا کی جسے تاریخ ہمیشہ اپنے صفحات میں محفوظ رکھے گی. شیخ الحدیث صاحب نے جماعتی رابطہ کے سلسلہ میں حضرت علامہ شہید کے ساتھ بیرونی ممالک کے دورے کیے. جن میں ایران, عراق, کویت, متحدہ عرب امارات, برطانیہ, مصر اور سعودی عرب قابل ذکر ہیں. مولانا محمد عبداللہ عرصہ دراز جماعت کے امیر رہے جب جماعت میں اتحاد ہوا تو پھر آپ سرپرست بنادیے گئے.
    ایک اعلی روایت :-
    جماعتی اتحاد کے بعد مرکزی قائدین امارت کی ذمہ داریاں کسی نہایت موزوں شخصیت کے کندھوں پر ڈالنا چاہتے تھے گہرے غور و خوض کے بعد سب کی نظر انتخاب شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ پر پڑی اور انہوں نے مل کر آپ سے درخواست کی کہ آپ آئندہ جماعتی کی سربراہی کےلیے آمادگی کا اظہار فرمائیں تو آپ نے جواب دیا کہ میں بوڑھا ہوچکا ہوں قوت کار متأثر ہوچکی ہے لمبے سفر کے قابل نہیں اس لیے یہ منصب سنبھالنے سے معذرت خواہ ہوں. پروفیسر ساجد میر صاحب اس منصب کےلیے نہایت موزوں ہیں جس قدر مجھ میں ہمت ہے میں کسی منصب کے بغیر بھی کام کرتا رہوں گا کام کےلیے کسی منصب کی ضرورت نہیں ہے. درحقیقت آپ نے معذرت کرکے ایک اعلی رواہت قائم کی جس کی مثال جماعت کی گذشتہ تاریخ میں نہیں ملتی.
    علمی رسوخ :-
    شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ برصغیر کے جلیل القدر علماء کرام میں سے تھے. تمام علوم دینیہ یعنی تفسیر, حدیث, فقہ, اصول فقہ, تاریخ و سیر, اسماءالرجال, لغت و ادب پر آپ کی نظر وسیع تھی. حدیث و اصول حدیث میں یگانہ روزگار تھے. آپ کی ساری زندگی جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ میں تدریسی خدمات میں گذری. تدریس کا آپ کو خاص ملکہ حاصل تھا مطالعہ کا بہت عمدہ ذوق رکھتے تھے بیشتر تفاسیر قرآن مجید اور شروحات حدیث کی کتب آپ کے مطالعہ میں آچکی تھیں فقہ پر بھی آپ کو کامل عبور تھا. اختلافی مسائل میں بڑی وسعت نظری سے کام لیتے تھے بلکہ ہر مسئلہ کی وضاحت کتاب و سنت کی روشنی میں کرتے تھے اس معاملہ میں کسی قسم کی مداہنت سے کام نہیں لیتے تھے. آپ کا خطبہ جمعہ خالص علمی ہوتا آپ اپنے خطبہ میں فقہی مسائل اتنے زبردست انداز میں بیان کرتے تھے کہ آپ کا اس میں کوئی ثانی نہ تھا اور فقہ حنفیہ پر آپ کے ردود تو معروف ہیں اور آپ اتنے مضبوط دلائل سے ردود کرتے کہ مخالفین بھی لاجواب ہوجاتے اور آپ کے خالص فقہی ردود کا یہ عالم تھا کہ لوگ نہ صرف سنتے نلکہ نوٹ کرکے لے جاتے. جامعہ محمدیہ کے قریب دیوبندیوں کا ایک معروف ادارہ ہے وہاں کے شیخ الحدیث جو کہ پوری دیوبندیت میں ایک ممتاز مقام رکھتے ہیں اپنے سینئر مدرسین اور طلبہ کو خصوصی طور پر بھیجتے کہ جاؤ اور جا کر جامعہ محمدیہ کا خطبہ سنو اور مولانا محمد عبداللہ صاحب کے دلائل اور ردود لکھ کر لاؤ. چنانچہ وہ لوگ آپ کا ایک ایک جملہ لکھتے اور اپنے اساتذہ کو مکمل رپورٹ پیش کرتے. مگر آپ کے دلائل اتنے مضبوط ہوتے کہ کسی کو جواب دینے کی جرأت نہ ہوتی اس لیے آپ خطابت کے بے تاج بادشاہ کہلائے.
    قناعت پسندی :-
    شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ رحمہ اللہ اپنی مسجد میں خطابت و تدریس کے علاوہ کہیں بھی شہر میں یا شہر سے باہرخطابت کےلیے عقیدتمندوں کے اصرار پر تشریف لے جاتے تو کسی سے بھی معاوضہ ,نذرانہ یا ھدیہ قبول نہ کرتے بلکہ مدرسہ کے اخراجات میں حصہ لینے کی ترغیب دیتے. آپ نے ساری زندگی دنیوی مال و اسباب کے بجائے کتاب و سنت سے پیار کیا اور اس کی ترویج و اشاعت میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا.
    اولاد :-
    اللہ تعالی نے مولانا محمد عبداللہ رحمہ اللہ کو چار بیٹے اور دو بیٹیاں عطاء کیں. جن میں سے ایک بیٹا عبدالرحمن عراق میں ایک حادثہ کے دوران اور بڑی بیٹی قضائے الہی سے انتقال کرگئی ہے. باقی بحمداللہ بقید حیات ہیں. آپ کے ایک فرزند رشید حافظ محمد عمران عریف بن شیخ مولانا محمد عبداللہ مستند عالم اور باخبر جماعتی رہنماء ہیں. جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ میں تدریسی خدمات کے ساتھ ساتھ مرکزی جمعیت اہل حدیث سٹی گوجرانوالہ کے ناظم اعلی کی ذمہ داریاں بطریق احسن نبھارہے ہیں.
    سفر آخرت :-
    دسمبر 1997 بروز جمعۃ المبارک صبح نماز کےلیے اٹھے سخت سردی تھی اور ہر طرف دھند چھائی ہوئی تھی. جامعہ محمدیہ کے برآمدے میں وضوء کررہے تھے کہ اچانک لڑکھڑا کر گر پڑے طلبہ اور چوکیدار نے اٹھا کر بستر پر لٹایا آپ کے بیٹے میاں مجیب الرحمن کو فون کیا. جناح ہسپتال لےجایا گیا تقریباً پندرہ دن کے بعد جب گھر آئے تو سارا جسم ٹھیک تھا مگر وہ زبان جو ہر وقت قال اللہ و قال الرسول کے احکامات سناتی تھی وہ زبان جو حق بیان کرتی تھی اور باطل کو للکارتی تھی. وہ زبان جس نے مسلک اہل حدیث بیان کرنے میں کبھی بخل سے کام نہ لیا وہ زبان جو حق و صداقت کی ترجمان تھی وہ بے حد کمزور ہوچکی تھی.
    آخر کار وہ وقت 28 اپریل 2001 کی صبح آپہنچا جس سے کسی کو مفر نہیں. صبح کے چھ بجے یہ خبر اہل حدیث پر بجلی بن کر گری کہ علم و عمل کا آفتاب غروب ہوگیا ہے جس نے اللہ کے فضل و کرم سے زندگی میں کسی سے ہار نہیں مانی آج وہ تقدیر سے ہار چکا ہے اور اس نے اپنے رب کے حکم پر سر تسلیم خم کرلیا ہے. آپ کا یہ آخری سفر بھی دیدنی تھا جب جنازہ اٹھایا گیا تو ہزاروں لوگوں کی ہچکیاں بندھ گئیں. شیرانوالہ باغ کھچا کھچ بھر چکا تھا اور تنگی داماں کا شکوہ کررہا تھا بلاشبہ یہ گوجرانوالہ کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا.
    نماز جنازہ سے قبل علامہ پروفیسر ساجد میر صاحب نے جو چند کلمات کہے وہ اپنے اندر ہزار داستان سمیٹے ہوئے تھے. پروفیسر ساجد میر صاحب حفظہ اللہ نے نہایت الحاح و زاری سے نماز جنازہ پڑھائی آپ کی آواز غم انگیز اور رندھی ہوئی تھی دور و نزدیک سے سسکیوں کی آوازیں آرہی تھیں. مولانا محمد رفیق سلفی صاحب نے قبر پر رقت آمیز لہجے میں دعا کی اس طرح سے اس عظیم انسان کا معہد سے لحد تک کا 81سالہ سفر ختم ہوا.
    آہ! شیخ الاسلام مولانا ثناءاللہ امرتسری کی حاضر جوابی, محدث زماں حافظ محمد گوندلوی کی حدیث دانی, حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفی کی دور اندیشی, حضرت علامہ احسان الہی ظہیر شہید کی نکتہ آفرینی کے مختلف روپ اس شخصیت میں مل جاتے تھے.
    " وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے " لیکن بات یہیں آکر ٹہرتی ہے کہ
    اے اللہ کریم ہم تیری رضا پر راضی ہیں.
    اناللہ وانا الیہ راجعون
     
  4. ‏نومبر 03، 2017 #14
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,770
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    تذکرہ اسلاف ( 13 )
    جمع و ترتیب : عبدالرحمن ثاقب

    علامہ عبدالعزیز حنیف رحمة الله عليه


    علامہ عبدالعزیز حنیف شاہ محمد کے گھر 1940 کو کھنیتر جموں کشمیر میں پیدا ہوئے. 1947 کو ہجرت کرکے ضلع باغ آزاد کشمیر کے گاؤں سیری پنیالی میں رہائش اختیار کی.
    تعلیم :-
    علامہ عبدالعزیز حنیف نے جب کچھ ہوش سنبھالا تو آپ کے والد محترم نے آپ کو مقامی اسکول میں داخل کرادیا. جب پانچویں جماعت کو پہنچے تو آپ کی والدہ محترمہ وفات پاگئیں جس کا آپ کو انتہائی صدمہ پہنچا اور آپ نے پڑھنے لکھنے کا سلسلہ ختم کردیا جبکہ آپ کے والد گرامی کی خواہش تھی کہ بیٹا آگے تعلیم حاصل کرے لیکن آپ کا اس طرف کوئی دھیان نہ تھا ڈیڑھ سال کا عرصہ اسی طرح سے گذر گیا. پھر ذہن نے یکا یک پلٹا کھایا اور تعلیم کی طرف راغب ہوگئے.
    1959 میں دینی تعلیم کے حصول کےلیے راوالپنڈی آئے اور مولانا حافظ محمد اسماعیل ذبیح رحمۃ اللہ علیہ کے قائم کردہ تدریس القرآن والحدیث میں زیر تعلیم رہ کر تین سالہ درس نظامی کی ابتدائی کتب پڑھیں اور حافظ محمد اسماعیل ذبیح سے بھر پور استفادہ کیا پھر حالات ایسے پیدا ہوئے کہ مدرسہ بند ہوگیا اور جو طلبہ اس مدرسہ میں تعلیم حاصل کرتے تھے انہیں مختلف مدارس میں بھیج دیا گیا. علامہ عبدالعزیز حنیف رحمہ اللہ اپنے چند رفقاء سمیت حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفی صاحب رحمہ اللہ کی خدمت میں مدرسہ محمدیہ گوجرانوالہ آگئے اور مولانا محمد اسماعیل سلفی صاحب کی خدمت عالیہ میں رہ کر درس نظامی کی بقیہ کتب کی تکمیل کی. اور سند فراغت حاصل کی. مدرسہ محمدیہ چوک نیائیں گوجرانوالہ سے تحصیل علم کے بعد علامہ عبدالعزیز حنیف نے کی طرف شدرحال کیا ان دنوں کراچی میں علامہ محمد یوسف کلکتوی رحمۃ اللہ علیہ کا حلقہ درس قائم تھا اور ان کا بڑا شہرہ تھا. انہوں نے گھر ہی میں ایک مدرسہ جاری کر رکھا تھا اور وہ تمام طلبہ کے اخراجات برداشت کرتے تھے طلبہ کے ساتھ علامہ محمد یوسف کلکتوی کا رویہ بے حد شفقت و محبت کا تھا. اس مدرسہ سے علامہ عبدالعزیز حنیف نے حدیث میں تخصص کیا اور کراچی یونیورسٹی سے عربی فاضل کا امتحان پاس کیا. 1966 میں تعلیم سے فارغ ہو کر, کراچی میں ہی درس و تدریس کا کام شروع خردیا.
    کراچی سے اسلام آباد آمد :-
    مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے ناظم اعلی میاں فضل حق مرحوم تھے ایک مرتبہ وہ کراچی گئے اور مولانا عبدالعزیز حنیف سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے آپ سے کہا کہ اسلام آباد میں جماعت کا نظم بالکل ابتدائی ہے آپ وہاں چلے جائین اور جماعتی کام کریں.
    علامہ عبدالعزیز کو اس وقت اسلام آباد کے بارے کچھ علم نہ تھا انہوں نے سوچا کہ پورے پاکستان سے میاں صاحب نے اسلام آباد کے لیے ان کا انتخاب کیا ہے تو اس پر عمل ہونا چاہئے چنانچہ آپ کراچی کی سکونت ترک کرکے 2 اکتوبر 1972 کو اسلام آباد آگئے. اس وقت اسلام آباد میں اہل حدیث کی کوئی مسجد نہ تھی. مولانا عبدالعزیز حنیف صاحب ایک چھوٹے سے سرکاری کوارٹر میں نمازیں پڑھتے اور وہیں نماز جمعہ ادا کرتے. وہی کوارٹر آپ کی قیام گاہ تھا اور یہی آپ کے درس و تدریس کا مرکز اور یہیں آپ کی میٹنگیں اور جلسے ہوتے تھے. اس چھوٹے سے کوارٹر سے علامہ عبدالعزیز حنیف نے اسلام آباد میں جماعت اہل حدیث کی تبلیغ کا آغاز کیا. آپ کے احباب جمع ہوتے اور آئندہ کےلیے کام کے منصوبے بناتے. اسے ہم آپ کا محمدود سے پیمانے کا " اسلام آبادی دار ارقم " قرار دے سکتے ہیں.
    پھر ایک وقت آیا کہ آب پارہ میں اہل حدیث کی مرکزی جامع مسجد تعمیر ہوئی جو کہ اسلام آباد میں اہل حدیث کی پہلی مسجد تھی. علامہ عبدالعزیز نے اس مسجد کی خطابت کی ذمہ داری سنبھالی اور یہ ذمہ داری تا دم واپسی سنبھالتے رہے.
    آپ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں اہل حدیث کے پہلے خطیب اور اس مسلک کے اولین مبلغ تھے. آپ کی متحمل مزاجی اور سلامت روی کو داد دینی چاہیے کہ آپ نے تقریباً 44 سال یہ خدمت سرانجام دیتے رہے. آپ نے بھر پور جوانی کےزمانے میں یہاں کام شروع کیا تھا اسی اثناء میں آپ کی زندگی کئی ادوار سے گذری اور حالات کی رفتار میں بےشمار تبدیلیاں آئیں لیکن آپ اپنی جگہ قائم اور تبلیغ حق میں مصروف رہے.
    نظامت اعلی کی ذمہ داری :-
    علامہ عبدالعزیز حنیف رحمہ اللہ سے پہلے مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے ناظم اعلی محترم میان محمد جمیل صاحب ایم اے ( حفظہ اللہ) تھے انہوں نے بعض وجوہ کی بناء پر اس ذمہ داری سے 26 جون 2002 کو استعفی دیدیا تو امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث علامہ پروفیسر سینیٹر ساجد میر صاحب حفظہ اللہ نے اپنے رفقاء سے مشورہ کرکے علامہ عبدالعزیز حنیف صاحب کو قائمقام ناظم اعلی مقرر کردیا. بعد ازاں 4اگست 2002 کو آپ کو مرکزی جمعیت اہل حدیث کی مجلس شوری کے اجلاس میں باقاعدہ طور پر ناظم اعلی منتخب کرلیا گیا. آپ نے اپنے دور نظامت میں جماعت امور اور مسائل کے سلسلہ میں بڑا اہم کردار ادا کیا جو کہ جماعتی تاریخ میں اہم کردار کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا. ملک بھر کے تنظیمی اور تبلیغی دورے کیے باوجود بڑھاپے کے آپ پروگراموں میں شرکت فرماتے رہے. راقم الحروف کو بھی سندھ کے ایک سفر میں رفیق سفر بننے کا موقع ملا تھا جب 13 اکتوبر 2003 کومدرسہ دارالقرآن والحدیث بھریاروڈ ضلع نوشہروفیروز کے اگلے روز میرپورخاص میں ایک تنظیمی اجلاس اور رات کو سموں گوٹھ کنری کے جلسہ میں شریک ہوئے تھے.
    جب جماعت کی مجلس شوری نے محسن جماعت ڈاکٹر حافظ عبدالکریم صاحب حفظہ اللہ کو ناظم اعلی منتخب کرلیا تو علامہ عبدالعزیز حنیف کو سینیر نائب امیر بنادیا گیا.
    مرکزی قائدین امیر محترم اور ناظم اعلی کی عدیم الفرصتی کے موقعوں پر اسلام آباد کے اعلی سطحی اجلاسوں میں ان کی نمائندگی فرماتے تھے. نیز آپ اسلامی نظریاتی کاونسل آزاد کشمیر کے رکن بھی رہے اس لحاظ سے بھی آپ کی خدمات اور وہاں اسلامائزیشن کے سلسلہ کی سرگرمیاں ہمیشہ یاد رکھی رہیں گی.
    جماعتی اتحاد میں کردار :-
    1990 میں جب جماعتی اتحاد کی بات چلی تو مولانا عبدالعزیز حنیف اپنے رفقاء ناظم اعلی میاں فضل حق, صوفی احمد دین, مولانا محمد یوسف اورمولانا سید حبیب الرحمن شاہ بخاری پیش پیش تھے باہمی رضامندی سے دونوں جماعتوں کا مشترکہ نام متحدہ جمعیت اہل حدیث تجویز ہوا اور تمام اکابر علماء ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے. علامہ عبدالعزیز کے حسن عمل اور جماعتی سرگرمیوں کے پیش نظر انہیں بڑی اہمیت دی گئی. آپ میاں فضل حق مرحوم کے خاص رفقاء میں سے تھے بلکہ حقیقت یہ تھی کہ آپ اس سلسلہ ذھبیہ کی خوب صورت کڑی تھے.
    سیاست کے بارے نقطہ نظر :-
    علامہ عبدالعزیز حنیف رحمہ اللہ کا کہنا تھا کہ اہل حدیث افراد کو سیاست میں ضرور آنا چاہئے یہ لوگ اسمبلی میں جائیں گے تو وہاں ملک کی بقا, بہتری اور دین اسلام کے نفاذ کی بات کریں گے. اور اگر یہ لوگ حجرہ نشین ہو کر بیٹھ گئے تو پھر ظاہر ہے کہ دوسرے لوگوں کو آگے آنے کا موقع ملے گا. اسلام نے ہمیں جو تعلیم دی ہے اس کی روشنی میں ہمیں چاہیے کہ ہم ملکی سیاست میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں. امیر محترم پروفیسر ساجد میر صاحب حفظہ اللہ اور سابقہ علماء مولانا سید داؤد غزنوی, مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمت اللہ علیہما اور دیگر علماء کی سیاسی خدمات دیکھ لین انہوں نے کس عزم و ہمت سے سیاست میں حماعت کا نام روشن کیا.
    شخصیت :-
    علامہ عبدالعزیز حنیف صاحب علم و عمل اور خطابت و نجابت کے نفیس انسان تھے. علمی وقار, متانت اور فہم و فراست جیسی وافر صلاحیتوں سے اللہ نے آپ کو نوازا تھا. پہاڑی سرحدی علاقوں ایبٹ آباد, توحید آباد اور گلیات میں مساجد و مدارس کی آبادکاری اور رونقیں جو آج نظر آتی ہیں ان کے قیام و اساس میں آپ میاں فضل حق مرحوم کے دست و بازو تھے.
    اولاد :-
    اللہ تعالی نے علامہ عبدالعزیز حنیف رحمہ اللہ کو دو بیٹے اور چار بیٹیاں عطاء کیں. بڑے بیٹے ڈاکٹر عزیزالرحمن انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی فیکلٹی آف شریعہ اینڈ لاء میں پروفیسر ہیں جبکہ حافظ ابوبکر صدیق مرکزی جامع مسجد اہل حدیث کے خطیب اور مکتب الدعوہ کے ریسرچ اسکالر ہیں.
    وفات :-
    علامہ عبدالعزیز حنیف رحمۃ اللہ علیہ 9 ستمبر 2016 کو اپنی مسجد میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمارہے تھے کہ دل کا اٹیک ہوا. طبی امداد کےلیے فورا ہسپتال لےجایا گیا لیکن جانبر نہ ہوسکے اور وقت مقررہ آن پہنچا اور آپ نے اپنی جان جان آفریں کے سپرد کردی.
    اناللہ وانا الیہ راجعون
    اس وقت آپ کی عمر 75 برس تھی. آپ کی وفات کی خبر چند ساعتوں میں ملک بھر میں پھیل گئی اگلے روز گیارہ بجے دن علامہ پروفیسر ساجد میر صاحب امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی جس میں تمام شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے اور جماعتی رفقاء و احباب اور ملک کے اطراف و اکناف سے ممتاز علماء و کارکنان نے شرکت کی.
    اللهم اغفر له وارحمه وعافه واعف عنه
     
  5. ‏فروری 02، 2018 #15
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,770
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    تذکرہ اسلاف ( 14 )
    جمع و ترتیب : عبدالرحمن ثاقب

    مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمة الله عليه


    مولانا محمد اسماعیل سلفی مولانا محمد ابراہیم کے گھر 1895 کو گوجرانوالہ کے گاؤں دھونیکے میں پیدا ہوئے. مولانا محمد ابراہیم ایک سلفی عالم دین اور طبیب حاذق تھے اور فن کتابت کے ماہر تھے جامع ترمذی کی مشہور شرح تحفة الاحوذی مولفہ مولانا عبدالرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ کی کتابت بھی مولانا محمد ابراہیم نے کی تھی. مولانا محمد ابراہیم کے ہان اولاد نہ تھی استاد پنجاب مولانا عبدالمنان محدث وزیرآبادی رحمۃ اللہ علیہ جو کہ آپ کے استاد تھے سے دعا کروائی جب اللہ نے بیٹا عطا کیا تو مولانا محمد ابراہیم نے اپنے استادمحترم مولانا عبدالمنان وزیرآبادی سے بیٹے کا نام رکھنے کا پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ابراہیم کے بیٹے کا نام اسماعیل ہی ہونا چاہئے۔
    تعلیم :-
    مولانا محمد اسماعیل سلفی نے ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم سے حاصل کی اور اپنے گھریلو ماحول میں ایک عالم باعمل مولانا عمرالدین وزیرآبادی سے استفادہ کیا. اور آپ نے چھوٹی عمر میں نحو و صرف کی ابتدائی کتب پر عبور حاصل کرلیا. اور نحو و صرف کی ابتدائی کتب کے ساتھ گلستان, بوستان اور دیگر کتب بھی پڑھیں. ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے مولانا عبدالمنان محدث وزیرآبادی کی خدمت میں باقاعدہ زانو تلمذ تہہ کیے. استاذ موصوف نے تعلیم کے ساتھ آپ کی تربیت پر بھی خصوصی توجہ فرمائی. آپ نے استاد پنجاب سے مکمل صحاح ستہ, اصول حدیث میں نخبۃ الفکر اور تفسیر جلالین پڑھی. حضرت مولانا عبدالمنان وزیرآبادی نے بکمال مہربانی و تلطف مولانا محمد اسماعیل سلفی صاحب کو روایت کی اجازت دی اور سند بھی عطاء فرمائی. یہ سند آپ کو 1333ھ میں دی گئی. اس کے بعد آپ دلی تشریف لے گئے اور پھاٹک حبش خان میں مدرسہ نذیریہ میں قیام کیا. یہ مدرسہ شیخ الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی کی یادگار تھا یہاں آپ نے شیخ الحدیث مولانا عبدالجبار عمرپوری رحمۃ اللہ علیہ اور بعض دیگر مشائخ کرام سے علمی جواہر اکٹھے کیے۔
    ان دنوں امرتسر میں علوم و فنون کا چرچا تھا اکابرین خاندان غزنویہ علوم و فنون کا مرکز بن چکے تھے. مدرسہ غزنویہ میں آپ نے مولانا عبدالغفور غزنوی اور حضرت مولانا عبدالرحیم غزنوی سے استفادہ کیا. آپ نے اس دوران وہاں مولانا مفتی محمد حسن رحمہ اللہ ( بانی جامعہ اشرفیہ لاہور) سے فنون کی کتابیں پڑھیں. اس کے بعد علمی تشنگی کی سیرابی کےلیے سیالکوٹ کا رخت سفر باندھا وہاں حضرت علامہ محمد ابراہیم میر سیالکوٹی کا چرچا تھا. مولانا سلفی نے ان سے بھی کسب فیض کیا. حضرت علامہ ابراہیم میر سیالکوٹی رحمہ اللہ مولانا سلفی کے والد کے ہم نام تھے انہوں نے مولانا سلفی کی ذہانت و فطانت کو آن واحد میں پہچان لیا اور اپنا روحانی بیٹا قرار دیا. علامہ میر سیالکوٹی نے اپنی عظیم الشان لائبریری مولانا محمد اسماعیل سلفی کی تحویل میں دیدی. اس طرح مولانا مرحوم کو قدیم تفاسیر اور نادر علمی کتابوں سے استفادہ کا موقع حاصل ہوا۔
    گوجرانوالہ آمد :-
    گوجرانوالہ میں اس وقت تین مساجد تھیں اور جماعت قلیل تھی. 1921 میں جماعت کے احباب وفد کی شکل میں علامہ محمد ابراہیم میر سیالکوٹی کے پاس گئے اور گوجرانوالہ کے لیے مولانا محمد اسماعیل سلفی کا مطالبہ کیا اور یہ مولانا سلفی صاحب کے عنفوان کا زمانہ تھا. علامہ سیالکوٹی رحمہ اللہ نے وفد کا مطالبہ مان لیا اور مولانامحمد اسماعیل سلفی کو ہمراہ لے کر بنفس نفیس گوجرانوالہ تشریف لائے. اور احباب جماعت سے کہا کہ میں تمہیں ایک ہیرا اور لعل دے رہا ہوں اس کی حفاظت کرنا اور اسے ضایع نہ کرنا. اس کے بعد آپ نے شہر گوجرانوالہ کو ایسا وطن بنایا کہ اس شہر میں منبر و محراب کو چار چاند لگادیے. کئی انقلاب آئے مگر آپ اپنے جادہ مستقیم پر رواں دواں رہے. آپ کے پائے عظیمت میں کبھی بھی لغزش نہ آئی. مقام و مرتبہ کی چاہت اور دولت کی طلب آپ کو اپنے مقام سے نہ ہلا سکی.
    آپ نے جامع مسجد اہل حدیث میں مدرسہ محمدیہ کی بنیاد رکھی یہ مدرسہ نہ صرف گوجرانوالہ اور اس کے مضافات بلکہ پاکستان کے تمام علاقوں کوعلوم اسلامیہ اور عربی ادب سے سیراب کرتا ہے اس مدرسہ میں موصوف نہ صرف خود پڑھاتے رہے بلکہ وقت کے بہترین اساتذہ متعین فرماتے رہے ملک کے بڑے بڑے فاضل یگانہ لوگ اس مدرسہ محمدیہ کے فارغ التحصیل ہیں. آپ کے تلامذہ کی فہرست طویل ہے تاہم مشہور تلامذہ یہ ہیں :
    مولانا محمد حنیف ندوی
    حکیم عبداللہ نصر سوہدروی
    مولانا محمد اسحاق بھٹی
    مولانا حکیم محمود سلفی
    اور مولانا خالد گھرجاکھی
    مولانا محمد اسماعیل سلفی کو تدریس کا خاص ملکہ حاصل تھا اور مسئلہ کی وضاحت پر بڑے دلنشین انداز میں فرماتے تھے. اسی شہرت کی بناء پر جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے وائس چانسلر مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز بن باز رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو دعوت دی کہ آپ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں حدیث پڑھائیں لیکن آپ نے منظور نہ کی. گوجرانوالہ اور پاکستان کو ترجیح دی اور آپ نے اپنی جگہ استاذالعلماء حضرت العلام حافظ محمد محدث گوندلوی رحمۃ اللہ علیہ کو بھیج دیا جنہوں نے دو سال تک جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں پڑھایا .
    تصانیف :-
    ہمارے ممدوح مولانا محمد اسماعیل سلفی ایک کامیاب اور بلند پایہ مصنف بھی تھے. تفسیر قرآن مجید کے بعد آپ کا پسندیدہ موضوع حدیث, حجیت حدیث, تدوین حدیث اور محدثین کرام کے کارنامے تھا .اسی بنا پر آپ کو محدثین کرام اور مسلک اہل حدیث سے محبت اور شیفتگی تھی جس کا بین ثبوت آپ کی تصنیفات ہیں. آپ کو انشا پردازی کے ساتھ ساتھ عربی زبان اور اس کے لب و لہجہ پر بھی پوراعبور حاصل تھا. اس کی لطافتوں, نزاکتوں کو بھی خوب سمجھتے تھے. آپ کی تصانیف درج ذیل ہیں
    ⏹اسلامی حکومت کا مختصر خاکہ
    ⏹ مسئلہ حیات النبی صلی اللہ علیہ و سلم
    ⏹ جماعت اسلامی کا نظریہ حدیث
    ⏹ تحریک آزادی فکر
    ⏹ حدیث کی تشریعی حیثیت
    ⏹ مقام حدیث قرآن کی روشنی میں
    ⏹ مسئلہ زیارت القبور
    ⏹ سبعہ معلقہ کا مکمل ترجمہ مع حل لغات اور اس کا پر مغز مقدمہ
    ⏹ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی نماز
    ⏹ مشکوۃ المصابیح کا ترجمہ و تشریح
    جماعتی زندگی :-
    مولانا محمد اسماعیل سلفی نے جماعت اہل حدیث کو منظم اور فعال بنانے کے لیے گرانقدر خدمات سرانجام دی ہیں. ابتداء سے ہی آپ آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس سے وابستہ رہے اور مجلس عاملہ کے رکن تھے. قیام پاکستان کے بعد جب آل انڈیا کانفرنس کا سلسلہ منقطع ہوگیا تو مولانا سید محمد داود غزنوی, مولانا محمد حنیف ندوی,مولانا محمد اسماعیل سلفی, مولانا عطاءاللہ حنیف اور دیگر علماء کرام نے جماعت اہل حدیث کو منظم اور فعال بنانے کی کوشش کی. چنانچہ مولانا سید داود غزنوی کی دعوت پر 24 جولائی 1948 کو دارالعلوم تقویۃ الاسلام لاہور میں علماء کرام کا ایک اجلاس مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی کی صدارت میں ہوا اور اس اجلاس میں مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کو قائم کیا گیا اور اس موقع پر تین عہدیدار متفقہ طورپر منتخب کیے گئے :
    صدر : مولانا سید محمد داود غزنوی
    ناظم : پروفیسر عبدالقیوم
    ناظم مالیات : میاں عبدالمجید
    مئی 1949 میں پروفیسر عبدالقیوم صاحب نے نظامت اعلی سے استعفی دے دیا کیونکہ وہ سرکاری ملازم تھے اور ان کی جگہ مولانا عطاءاللہ حنیف کو عارضی طور پر ناظم اعلی مقرر کیا گیا. مستقل ناظم اعلی مولانا محمد اسماعیل سلفی کو بنایا گیا لیکن وہ اس وقت گوجرانوالہ کی میونسپل حدود میں نظر بند تھے. ستمبر1949 میں مولانا محمد اسماعیل سلفی صاحب سے پابندی اٹھالی گئی تو آپ حج بیت اللہ کےلیے تشریف لے گئے نومبر 1949 میں حرمین شریفین کے سفر سے واپس آئے تو نظامت اعلی کی ذمہ داریاں ادا کرنا شروع کردیں. آپ نے اپنے دور نظامت میں جماعت کو منظم کرنے کے لیے جو کوشش کی وہ قابل تحسین ہے اور آپ نے جماعت کی تنظیم کے لیے گاؤں, دیہات, قصبات اور شہروں میں گئے لوگوں کو جماعت کی لڑی میں پرویا اور مقامی نظم قائم کیے.
    16 دسمبر 1963 کو مولانا سید محمد داود غزنوی فوت ہوگئے تو مولانا محمد اسماعیل سلفی صاحب کو مرکزی جمعیت اہل حدیث کا امیر مقرر کردیا گیا اور پروفیسر سید ابوبکر غزنوی کو ناظم اعلی بنایا گیا. کچھ عرصہ بعد پروفیسر ابوبکر سید ابوبکر غزنوی نے ناظم اعلی کے عہدے سے استعفی دے دیا مگر مولانا محمد اسماعیل سلفی اپنے انتقال 20 فروری 1968 یعنی تادم واپسیں امیر رہے. مرکزی جمعیت اہل حدیث کے فروغ و استحکام میں آپ نے اپنی ہڈیوں کا تیل مہیا کیا. جامعہ سلفیہ مولانا محمد حنیف ندوی کا تخیل تھا لیکن اس کی تعمیر و ترقی میں مولانا سلفی صاحب کی مخلصانہ مساعی سنہرے حروف سے لکھی جائیں گی.
    قومی و مسلکی خدمات :-
    جماعت اہل حدیث کی کسی بھی قسم کی مذہبی و سیاسی سرگرمی میں مولانا محمد اسماعیل سلفی بدستور ایک اہم عنصر کی حیثیت سے شامل رہے. نئی جوانی میں سعی و ہمت کا یہ حال تھا کہ 1924 میں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس کا سالانہ اجلاس گوجرانوالہ میں کر ڈالا جس کے صدر استقبالیہ مولانا حافظ محمد محدث گوندلوی صاحب تھے. جماعت کو منظم کرنے کی دھن آپ پر سوار تھی انجمن اہل حدیث پنجاب کا قیام عمل میں آیا تو اس میں مولانا محمد اسماعیل سلفی کا بہت عمل دخل تھا. 1931 میں شاھ محمد شریف گھڑیالوی کی سربراہی میں جمعیت تنظیم اہل حدیث پنجاب وجود میں آئی تو اس کے روح رواں آپ ہی تھے. جبکہ ناظم اعلی مولانا قاضی عبدالرحیم تھے. 1946 میں اہل حدیث کانفرنس دہلی میں بلائی گئی تو آپ اس کے جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے.
    قیام پاکستان کے بعد جہاں تک مغربی پاکستان کی مرکزی جمعیت اہل حدیث کا تعلق ہے یہ مولانا محمد اسماعیل سلفی کی مساعی و شبانہ روز محنت و ہمت کی رہین منت ہے. مولانا سید محمد داود غزنوی رحمہ اللہ کو ملکی سیاست کی دلدل سے نکال کر جماعت کی سربراہی کےلیے آپ نے ہی آمادہ کیا تھا اور پھر آخر تک موصوف کا ساتھ نبھایا.
    پاکستان میں اسلامی نظام کے قیام کے مطالبے میں ہر قدم پر مولانا غزنوی کے ساتھ جماعت کی نمائندگی کی چنانچہ اس کمیٹی کے آپ بھی رکن تھے جو 1952 میں اسلامی آئین کی تکمیل کےلیے بنائی گئی تھی. 1953 کی تاریخی تحریک ختم نبوت کے دوران مجلس عمل تحفظ ختم نبوت میں مرکزی جمعیت اہل حدیث کے تین نمائندے تھے.
    1⃣ مولانا سید محمد داود غزنوی
    2⃣ مولانا محمد اسماعیل سلفی
    3⃣ مولانا عطاءاللہ حنیف
    تاہم اس سلسلے میں قید و بند کی سعادت مولانا محمد اسماعیل سلفی صاحب کے حصے میں آئی. اور آپ کو گرفتار کرکے سینٹرل جیل گوجرانوالہ میں قید کیا گیا.
    تابندہ روایات کی حامل اہل حدیث کانفرنسیں :-
    مولانا محمد اسماعیل سلفی نے ملک بھر کے حاملین کتاب و سنت کو ایک جگہ جمع کرنے کےلیے آل پاکستان اہل حدیث کانفرنسوں کے اجراء کی تحریک پیش کی. اس کا مقصد یہ تھا کہ ملک بھر کے اہل حدیث احباب ایک دوسرے سے واقفیت حاصل کرین اور ایک دوسرے کے مسائل کو سمجھیں اور ایک دوسرے کی معاونت و مساعدت کریں. چنانچہ آپ کی حیات مستعار میں آپ کی تگ و دو سے 9 کانفرنسیں منعقد ہوچکی تھیں.
    1⃣ پہلی کانفرنس لاہور 27,28,29 مارچ 1949.
    صدارت حضرت علامہ محمد ابراہیم میر سیالکوٹی
    صدرمجلس استقبالیہ : مولانا محمد حنیف ندوی
    2⃣ دوسری کانفرنس ملتان 2,3,4.فروری 1954
    صدارت : مولانا محمد علی قصوری
    صدر مجلس استقبالیہ : مولانا محمد اسحاق چیمہ
    3⃣ تیسری کانفرنس فیصل آباد یکم و دو اپریل 1955
    صدارت : مولانا محمد اسماعیل غزنوی
    صدر مجلس استقبالیہ : مولانا محمد صدیق لائلپوری
    4⃣ چوتھی کانفرنس گوجرانوالہ. اکتوبر 1956
    صدارت : علامہ خلیل عرب
    صدر مجلس استقبالیہ : حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفی
    5⃣ پانچویں کانفرنس سرگودھا 14,15,16اپریل 1958
    صدارت : حضرت مولانا سید محمد داود غزنوی
    صدر مجلس استقبالیہ : مولانا محمد رضاءاللہ ثنائی
    6⃣ چھٹی کانفرنس بمقام جامعہ سلفیہ فیصل آباد 20,21,22 مارچ 1961
    صدارت : حاجی محمد یعقوب مالک فضل ربی ریڈیو کمپنی حیدرآباد
    صدرمجلس استقبالیہ : مولانا محمد صدیق
    7⃣ ساتویں کانفرنس لاہور 2,3,4 نومبر 1962
    صدارت : خان بہادر مولوی عبدالعزیز سابق چیف جسٹس ریاست فرید کوٹ
    صدر مجلس استقبالیہ : حاجی محمد اسحاق حنیف
    8⃣ آٹھویں کانفرنس سیالکوٹ 2,3,4 اپریل 1965
    صدارت : حضرت مولانا محی الدین قصوری
    صدر مجلس استقبالیہ : الحاج شیخ محمد شفیع سیٹھی
    9⃣ نویں کانفرنس لاہور نومبر 1967
    صدارت : علامہ سید محب اللہ شاہ راشدی پیر آف جھنڈا
    صدر مجلس استقبالیہ : مولانا محمد حنیف ندوی
    وفات :-
    برصغیر پاک و ہند کے عظیم رہنماء اور فضل و کمال میں یگانہ روزگار علمی شخصیت 20 فروری 1968 کو صبح کے وقت اپنے خالق حقیقی سے جاملے. اگلے روز آپ کا جنازہ اٹھایا گیا اور گوجرانوالہ اسٹیڈیم لےجایا گیا اسٹیڈیم میں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی بلکہ جی ٹی روڈ اور سیالکوٹ روڈ دونوں ہی بند ہوچکے تھے. جنازہ گھر سے روانہ ہوا اور لوگ ابھی تک پیدل چل رہے تھے جبکہ جنازہ اسٹیڈیم میں پہنچ چکا تھا. قریبا میل لمبا جنازہ تھا. جنازے پر ایک آدمی نے یوں تبصرہ کیا " جینا بھی ان لوگوں کا اور مرنا بھی ان لوگوں کا ہم تو نکمی موت مرتے ہیں "
    نماز جنازہ مولانا حافظ محمد یوسف گھکڑوی نے نہایت الحاح و زاری سے پڑھائی .تمام مکاتب فکر کے علماء سیاسی و فلاحی تنظیموں کے رہنماء شریک ہوئے اور ہر آنکھ نم تھی.
    اللهم اغفر له وارحمه وعافه واعف عنه .
    اللهم ادخله الجنة الفردوس
     
لوڈ کرتے ہوئے...
موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں