1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ترک حج کی سزا میں ایک حدیث کی تحقیق

'علوم حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارسلان الزبیری, ‏اگست 22، 2017۔

  1. ‏اگست 22، 2017 #1
    محمد ارسلان الزبیری

    محمد ارسلان الزبیری مبتدی
    جگہ:
    چک نمبر 85 شمالی ڈاک خانہ خاص تحصیل وضلع سرگودھا
    شمولیت:
    ‏مئی 31، 2017
    پیغامات:
    21
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    17

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    [FONT=Arial, sans-serif]ترک حج کی سزا میں ایک حدیث کی تحقیق[/FONT]
    تحریر : ابو نعمان محمد ارسلان الزبیری
    اس میں کوئی شک نہیں کہ حج ارکان اسلام میں سے ہے۔ اس کا منکر کافر اور اسے استطاعت کے باوجود ترک کرنے والا فاسق وفاجر ہے، لیکن اس سلسلے میں بعض لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب ایک حدیث بیان کرتے ہیں، اس کی استنادی حیثیت کیا ہے؟ ملاحظہ ہو!
    سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

    مَنْ مَلَكَ زَادًا وَرَاحِلَةً تُبَلِّغُهُ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ وَلَمْ يَحُجَّ فَلَا عَلَيْهِ أَنْ يَمُوتَ يَهُودِيًّا، أَوْ نَصْرَانِيًّا، وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ: {وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ البَيْتِ مَنْ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا} [آل عمران: 97]
    "جس کے پاس مالی وسائل یا سواری موجود ہو، جس کے لیے ذریعے وہ بیت اللہ تک پہنچ سکتا ہے، لیکن پھر بھی حج نہ کرے، تو یہ اس پر ہے کہ وہ یہودی ہو کر مرے یا عیسائی ہو کر، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں صاف اعلان فرمایا ہے : "اور ان لوگوں پر جو بیت اللہ تک کے وسائل کی طاقت رکھتے ہیں، بیت اللہ کا حج فرض ہے۔(آل عمران : 97)"
    (سنن الترمذی : 812، مسند البزار : 86، شعب الایمان للبیھقی : 3692)
    تبصرہ :
    اس حدیث کی سند سخت ضعیف ہے۔ کیوں کہ
    1۔ اس کا راوی الحارث بن عبد اللہ الاعور سخت ضعیف ہے۔
    2۔ہلال بن عبد اللہ الباہلی متروک الحدیث ہے۔
    3۔ ابو اسحاق السبیعی مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔
    نیز خود امام ترمذی رحمہ اللہ اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں :

    «هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الوَجْهِ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ، وَهِلَالُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَجْهُولٌ، وَالحَارِثُ يُضَعَّفُ فِي الحَدِيثِ»
    "یہ حدیث غریب ہے۔ ہمارے علم میں اس کی یہی سند ہے۔ اس کی سند میں کلام ہے۔ ہلال بن عبد اللہ مجہول اور حارث ضعیف الحدیث ہے۔"
    نوٹ :
    ہلال بن عبد اللہ الباہلی کو امام بخاری نے منکر الحدیث، امام حاکم نے لیس بالقوی عندہم "محدثین کے ہاں قوی نہیں تھا" اور امام عقیلی رحمہم اللہ نے لا یتابع علی حدیثہ " اس کی حدیث کی متابعت نہیں کی گئی" کہا ہے۔
    ثابت ہوا کہ مذکورہ روایت سخت ضعیف ہے۔ دین باسند صحیح روایات کا نام ہے۔ لہذا صحیح ثابت روایات پر اکتفا کیا جائے۔
     
  2. ‏اگست 23، 2017 #2
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,767
    موصول شکریہ جات:
    6,558
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    محترم شیخ!
    آپ نے اوپر والی تحقیق
    "تحقیق حدیث سے متعلق سوالات وجوابات"
    کے زمرے میں ارسال کر دی تھی، جہاں پر صرف سوالات کرنے کی اجازت ہے اور جوابات فورم کے مقرر کردہ علماء کرام دیتے ہیں...اس لیے اسے یہاں پر منتقل کر دیا گیا ہے..
    مزید یہ کہ پہلے والے زمرے میں صارف کی جانب سے صرف ایک ہی پوسٹ کی جاسکتی ہے اُس کے بعد مزید پوسٹ کرنے کا اختیار بھی نہیں رہتا..
     
  3. ‏اگست 23، 2017 #3
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,683
    موصول شکریہ جات:
    733
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

  4. ‏اگست 23، 2017 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,708
    موصول شکریہ جات:
    2,252
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    مرفوعاً تو یہ روایت واقعی ضعیف ہے ،
    لیکن یہی بات سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے قول سے باسناد صحیح ثآبت ہے ، علامہ ابن کثیر اپنی تفسیر میں نقل کرتے ہیں کہ :
    وقد روى أبو بكر الإسماعيلي الحافظ من حديث [أبي] عمرو الأوزاعي، حدثني إسماعيل بن عبيد الله بن أبي المهاجر، حدثني عبد الرحمن بن غنم أنه سمع عمر بن الخطاب يقول: من أطاق الحج فلم يحج، فسواء عليه يهوديا مات أو نصرانيا.
    وهذا إسناد صحيح إلى عمر رضي الله عنه،(ورواه ابن أبي شيبة وسعيد بن منصور كما في الدر المنثور (2/275)

    یعنی : سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں طاقت ہونے کے باوجود حج نہ کرنے والا یہودی ہو کر مرے گا یا نصرانی ہو کر،)
    امام ابن کثیر فرماتے ہیں : اس کی سند بالکل صحیح ہے
     
    • علمی علمی x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں