• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُم مَّيِّتُونَ ﴿٣٠﴾
یقیناً خود آپ کو بھی موت آئے گی اور یہ سب بھی مرنے والے ہیں۔

ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِندَ رَ‌بِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ ﴿٣١﴾
پھر تم سب کے سب قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے جھگڑو گے۔ (١)
٣١۔١ یعنی اے پیغمبر ﷺ آپ بھی اور آپ کے مخالف بھی، سب موت سے ہم کنار ہو کر اس دنیا سے ہمارے پاس آخرت میں آئیں گے۔ دنیا میں تو توحید اور شرک کا فیصلہ تمہارے درمیان نہیں ہو سکا اور تم اس بارے میں جھگڑتے ہی رہے۔ لیکن یہاں میں اس کا فیصلہ کروں گا اور مخلص موحدین کو جنت میں اور مشرکین و جاحدین اور مکذبین کو جہنم میں داخل کروں گا۔ اس آیت سے بھی وفات النبی ﷺ کا اثبات ہوتا ہے، جس طرح کہ سورۃ آل عمران کی آیت ۱۴۴ سے بھی ہوتا ہے اور انہی آیات سے استدلال کرتے ہوئے حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ نے بھی لوگوں میں آپ ﷺ کی موت کا تحقق فرمایا تھا۔ اس لیے نبی ﷺ کی بابت یہ عقیدہ رکھنا کہ آپ کو برزخ میں بالکل اسی طرح زندگی حاصل ہے جس طرح دنیا میں حاصل تھی، قرآن کی نصوص کے خلاف ہے۔ آپ ﷺ پر بھی دیگر انسانوں ہی کی طرح موت طاری ہوئی، اسی لیے آپ کو دفن کیا گیا، قبر میں آپ کو برزخی زندگی تو یقیناً حاصل ہے، جس کی کیفیت کا ہمیں علم نہیں، لیکن دوبارہ قبر میں آپ کو دنیاوی زندگی عطا نہیں کی گئی۔ ﷺ
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
پارہ 24
فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَذَبَ عَلَى اللَّـهِ وَكَذَّبَ بِالصِّدْقِ إِذْ جَاءَهُ ۚ أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكَافِرِ‌ينَ ﴿٣٢﴾
اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولے؟ (١) اور سچا دین جب اس کے پاس آئے تو اسے جھوٹا بتائے؟ (٢) کیا ایسے کفار کے لیے جہنم ٹھکانا نہیں ہے؟
٣٢۔١ یعنی دعویٰ کرے کہ اللہ کی اولاد ہے یا اس کا شریک ہے یا اس کی بیوی ہے درآں حالیکہ وہ ان سب چیزوں سے پاک ہے۔
٢٣۔٢ جس میں توحید ہے، احکام و فرائض ہیں، عقیدۂ بعث و نشور ہے، محرمات سے اجتناب ہے، مومنین کے لیے خوش خبری اور کافروں کے لیے وعیدیں ہیں۔ یہ دین و شریعت جو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ لے کر آئے، اسے وہ جھوٹا بتلائے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالَّذِي جَاءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهِ ۙ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ ﴿٣٣﴾
اور جو سچے دین کو لائے (١) اور جس نے اس کی تصدیق کی (۲) یہی لوگ پارسا ہیں۔
٣٣۔١ اس سے پیغمبر اسلام حضرت محمد رسول اللہ ﷺ مراد ہیں جو سچا دین لے کر آئے۔ بعض کے نزدیک یہ عام ہے اور اس سے ہر وہ شخص مراد ہے جو توحید کی دعوت دیتا اور اللہ کی شریعت کی طرف لوگوں کی رہنمائی کرتا ہے۔
٣٣۔۲ بعض اس سے حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ مراد لیتے ہیں، جنہوں نے سب سے پہلے رسول ﷺ کی تصدیق کی اور ان پر ایمان لائے۔ بعض نے اسے بھی عام رکھا ہے، جس میں سب مومن شامل ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر ایمان رکھتے ہیں اور آپ کو سچا مانتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لَهُم مَّا يَشَاءُونَ عِندَ رَ‌بِّهِمْ ۚ ذَٰلِكَ جَزَاءُ الْمُحْسِنِينَ ﴿٣٤﴾
ان کے لیے ان کے رب کے پاس (ہر) وہ چیز ہے جو یہ چاہیں، (١) نیک لوگوں کا یہی بدلہ ہے۔ (۲)
٣٤۔١ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے گناہ بھی معاف فرما دے گا، ان کے درجے بھی بلند فرمائے گا، کیونکہ ہر مسلمان کی اللہ سے یہی خواہش ہوتی ہے علاوہ ازیں جنت میں جانے کے بعد ہر مطلوب چیز بھی ملے گی۔
٣٤۔‎٢ محسنین کا ایک مفہوم تو یہ ہے جو نیکیاں کرنے والے ہیں، دوسرا وہ جو اخلاص کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتے ہیں، جیسے حدیث میں "احسان" کی تعریف کی گئی ہے [أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ] "تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اگر یہ تصور ممکن نہ ہو تو یہ ضرور ذہن میں رہے کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے“ تیسرا جو لوگوں کو ساتھ حسن سلوک اور اچھا برتاؤ کرتے ہیں چوتھا ہر نیک عمل کو اچھے طریقے سے خشوع و خضوع سے اور سنت نبوی ﷺ کے مطابق کرتے ہیں۔ کثرت کے بجائے اس میں ”حسن“ کا خیال رکھتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لِيُكَفِّرَ‌ اللَّـهُ عَنْهُمْ أَسْوَأَ الَّذِي عَمِلُوا وَيَجْزِيَهُمْ أَجْرَ‌هُم بِأَحْسَنِ الَّذِي كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿٣٥﴾
تاکہ اللہ تعالیٰ ان سے ان کے برے عملوں کو دور کر دے اور جو نیک کام انہوں نے کیے ہیں ان کا اچھا بدلہ عطا فرمائے۔

أَلَيْسَ اللَّـهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ ۖ وَيُخَوِّفُونَكَ بِالَّذِينَ مِن دُونِهِ ۚ وَمَن يُضْلِلِ اللَّـهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ ﴿٣٦﴾
کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں؟ (١) یہ لوگ آپ کو اللہ کے سوا اوروں سے ڈرا رہے ہیں اور جسے اللہ گمراہ کر دے اس کی رہنمائی کرنے والا کوئی نہیں۔ (٢)
٣٦۔١ اس سے مراد نبی کریم ہیں۔ بعض کے نزدیک یہ عام ہے، تمام انبیاء علیہم السلام اور مومنین اس میں شامل ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ آپ کو غیر اللہ سے ڈراتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ جب آپ کاحامی و ناصر ہو تو آپ کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ وہ ان سب کے مقابلے میں آپ کو کافی ہے۔
٣٦۔٢ جو اس گمراہی سے نکال کر ہدایت کے راستے پر لگا دے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَن يَهْدِ اللَّـهُ فَمَا لَهُ مِن مُّضِلٍّ ۗ أَلَيْسَ اللَّـهُ بِعَزِيزٍ ذِي انتِقَامٍ ﴿٣٧﴾
اور جسے وہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں (١) کیا اللہ تعالیٰ غالب اور بدلہ لینے والا نہیں ہے؟ (٢)
٣٧۔١ جو اس کو ہدایت سے نکال کر گمراہی کے گڑھے میں ڈال دے۔ یعنی ہدایت اور گمراہی اللہ کے ہاتھ میں ہے، جس کو چاہے گمراہ کر دے اور جس کو چاہے ہدایت سے نوازے۔
٣٧۔٢ کیوں نہیں، یقیناً ہے۔ اس لیے کہ اگر یہ لوگ کفر و عناد سے باز نہ آئے تو یقناً وہ اپنے دوستوں کی جماعت میں ان سے انتقام لے گا اور انہیں عبرت ناک انجام سے دوچار کرے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ ۚ قُلْ أَفَرَ‌أَيْتُم مَّا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ إِنْ أَرَ‌ادَنِيَ اللَّـهُ بِضُرٍّ‌ هَلْ هُنَّ كَاشِفَاتُ ضُرِّ‌هِ أَوْ أَرَ‌ادَنِي بِرَ‌حْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكَاتُ رَ‌حْمَتِهِ ۚ قُلْ حَسْبِيَ اللَّـهُ ۖ عَلَيْهِ يَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُونَ ﴿٣٨﴾
اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یقیناً وہ یہی جواب دیں گے کہ اللہ نے۔ آپ ان سے کہئے کہ اچھا یہ تو بتاؤ جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اگر اللہ تعالیٰ مجھے نقصان پہنچانا چاہے تو کیا یہ اس کے نقصان کو ہٹا سکتے ہیں؟ یا اللہ تعالیٰ مجھ پر مہربانی کا ارادہ کرے تو کیا یہ اس کی مہربانی کو روک سکتے ہیں؟ آپ کہہ دیں کہ اللہ مجھے کافی ہے، (١) توکل کرنے والے اسی پر توکل کرتے ہیں۔ (٢)
٣٨۔١ بعض کہتے ہیں کہ جب نبی ﷺ نے مذکورہ سوال ان کے سامنے پیش کیا، تو انہوں نے کہا واقعی وہ اللہ کی تقدیر کو نہیں ٹال سکتے، البتہ وہ سفارش کریں گے، جس پر یہ ٹکڑا نازل ہوا کہ مجھے تو میرے معاملات میں اللہ ہی کافی ہے۔
٣٨۔٢ جب سب کچھ اسی کے اختیار میں ہے تو پھر دوسروں پر بھروسہ کرنے کا کیا فائدہ؟ اس لیے اہل ایمان صرف اس پر توکل کرتے ہیں، اس کے سوا کسی پر ان کا اعتماد نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُلْ يَا قَوْمِ اعْمَلُوا عَلَىٰ مَكَانَتِكُمْ إِنِّي عَامِلٌ ۖ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ ﴿٣٩﴾
کہہ دیجئے کہ اے میری قوم! تم اپنی جگہ پر عمل کیے جاؤ میں بھی عمل کر رہا ہوں، (١) ابھی ابھی تم جان لو گے۔
٣٩۔١ یعنی اگر تم میری اس دعوت توحید کو قبول نہیں کرتے جس کے ساتھ اللہ نے مجھے بھیجا ہے، توٹھیک ہے، تمہاری مرضی، تم اپنی اس حالت پر قائم رہو جس پر تم ہو، میں اس حالت پر رہتا ہوں جس پر مجھے اللہ نے رکھا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مَن يَأْتِيهِ عَذَابٌ يُخْزِيهِ وَيَحِلُّ عَلَيْهِ عَذَابٌ مُّقِيمٌ ﴿٤٠﴾
کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے (۱) اور کس پر دائمی مار اور ہمیشگی کی سزا ہوتی ہے۔ (۲)
٤٠۔١ جس سے واضح ہو جائے گا کہ حق پر کون ہے اور باطل پر کون؟ اس سے مراد دنیا کا عذاب ہے جیسا کہ جنگ بدر میں ہوا۔ کافروں کے ستر آدمی قتل اور ستر ہی آدمی قید ہوئے۔ حتیٰ کہ فتح مکہ کے بعد غلبہ و تمکن بھی مسلمانوں کو حاصل ہو گیا، جس کے بعد کافروں کے لیے سوائے ذلت و رسوائی کے کچھ باقی نہ رہا۔
٤۔۲ اس سے مراد عذاب جہنم ہے جس میں کافر ہمیشہ مبتلا رہیں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ ۖ فَمَنِ اهْتَدَىٰ فَلِنَفْسِهِ ۖ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۖ وَمَا أَنتَ عَلَيْهِم بِوَكِيلٍ ﴿٤١﴾
آپ پر ہم نے حق کے ساتھ یہ کتاب لوگوں کے لیے نازل فرمائی ہے، پس جو شخص راہ راست پر آجائے اس کے اپنے لیے نفع ہے اور جو گمراہ ہو جائے اس کی گمراہی کا (وبال) اسی پر ہے، آپ ان کے ذمہ دار نہیں۔ (١)
٤١۔١ نبی ﷺ کو اہل مکہ کا کفر پر اصرار بڑا گراں گزرتا تھا، اس میں آپ ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ ﷺ کا کام صرف اس کتاب کو بیان کر دینا ہے جو ہم نے آپ ﷺ پر نازل کی ہے، ان کی ہدایت کے آپ ﷺ مکلف نہیں ہیں۔ اگر وہ ہدایت کا راستہ اپنا لیں گے تو اس میں انہی کا فائدہ ہے اور اگر ایسا نہیں کریں گے تو خود ہی نقصان اٹھائیں گے۔ وکیل کے معنی مکلف اور ذمےدار کے ہیں۔ یعنی آپ ﷺ ان کی ہدایت کے ذمے دار نہیں ہیں۔ اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ اپنی ایک قدرت بالغہ اور صنعت عجیبہ کا تذکرہ فرما رہا ہے جس کا مشاہدہ ہر روز انسان کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب وہ سو جاتا ہے تو اس کی روح اللہ کے حکم سے گویا نکل جاتی ہے، کیونکہ اس کے احساس و ادراک کی قوت ختم ہو جاتی ہے۔ اور جب وہ بیدار ہوتا ہے تو روح اس میں گویا دوبارہ بھیج دی جاتی ہے، جس سے اس کے حواس بحال ہو جاتے ہیں۔ البتہ جس کی زندگی کے دن پورے ہو چکے ہوتے ہیں، اس کی روح واپس نہیں آتی اور وہ موت سے ہمکنار ہو جاتا ہے۔ اس کو بعض مفسرین نے وفات کبریٰ اور وفات صغریٰ سے بھی تعبیر کیا ہے۔
 
Top