• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَ‌بِّكَ الْعَظِيمِ ﴿٥٢﴾
پس تو اپنے رب عظیم کی پاکی بیان کر۔ (١)
٥٢۔١ جس نے قرآن کریم جیسی عظیم کتاب نازل فرمائی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة المعارج

(سورہ معارج مکی ہے اور اس میں چوالیس آیتیں اور دو رکوع ہیں۔)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ ﴿١﴾
ایک سوال کرنے والے نے (١) اس عذاب کا سوال کیا جو واضح ہونے والا ہے۔
١۔١ کہتے ہیں یہ نضر بن حارث تھا یا ابو جہل تھا جس نے کہا تھا، ﴿اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ﴾ (الأنفال: ۳۲) چنانچہ یہ شخص جنگ بدر میں مارا گیا۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ جنہوں نے اپنی قوم کے لیے بد دعا کی تھی اور اس کے نتیجے میں اہل مکہ پر قحط سالی مسلط کی گئی تھی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لِّلْكَافِرِ‌ينَ لَيْسَ لَهُ دَافِعٌ ﴿٢﴾
کافروں پر، جسے کوئی ہٹانے والا نہیں۔

مِّنَ اللَّـهِ ذِي الْمَعَارِ‌جِ ﴿٣﴾
اس اللہ کی طرف سے جو سیڑھیوں والا ہے۔ (١)
٣۔١ یا درجات والا، بلندیوں والا ہے، جس کی طرف فرشتے چڑھتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
تَعْرُ‌جُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّ‌وحُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُ‌هُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ ﴿٤﴾
جس کی طرف فرشتے اور روح چڑھتے ہیں (١) ایک دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے۔ (٢)
٤۔١ روح سے مراد حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں، ان کی عظمت شان کے پیش نظر ان کا الگ خصوصی ذکر کیا گیا ہے، ورنہ فرشتوں میں وہ بھی شامل ہیں۔ یا روح سے مراد انسانی روحیں ہیں جو مرنے کے بعد آسمان پر لے جاتی ہیں۔ جیسا کہ بعض روایات میں ہے۔
٤۔٢ اس یوم کی تعیین میں بہت اختلاف ہے، جیسا کہ الم سجدہ کے آغاز میں ہم بیان کر آئے ہیں۔ یہاں امام ابن کثیر نے چار اقوال نقل فرمائے ہیں۔ پہلا قول ہے کہ اس سے وہ مسافت مراد ہے جو عرش عظیم سے اسفل سافلین (زمین کے ساتویں طبقے) تک ہے۔ یہ مسافت پچاس ہزار سال میں طے ہونے والی ہے۔ دوسرا قول ہے کہ یہ دنیا کی کل مدت ہے۔ ابتدائے آفرینش سے وقوع قیامت تک، اس میں سے کتنی مدت گزر گئی اور کتنی باقی ہے، اسے صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ تیسرا قول ہے کہ یہ دنیا و آخرت کے درمیان فاصلہ ہے۔ چوتھا قول یہ ہے کہ یہ قیامت کے دن کی مقدار ہے۔ یعنی کافروں پر یہ یوم حساب پچاس ہزار سال کی طرح بھاری ہو گا۔ لیکن مومن کے لیے دنیا میں ایک فرض نماز پڑھنے سے بھی مختصر ہو گا۔ (مسند احمد ۳/ ۷۵) امام ابن کثیر نے اسی قول کو ترجیح دی ہے کیوں کہ احادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ چنانچہ ایک حدیث میں زکوٰۃ ادا نہ کرنے والے کو قیامت والے دن جو عذاب دیا جائے گا اس کی تفصیل بیان فرماتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِى يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ]۔ (صحیح مسلم، کتاب الزکوٰۃ، باب اثم مانع الزکوٰۃ) ”یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرمائے گا، ایسے دن میں، جس کی مدت تمہاری گنتی کے مطابق پچاس ہزار سال ہو گی“۔ اس تفسیر کی رو سے فِي يَوْمٍ کا تعلق عذاب سے ہو گا، یعنی وہ واقع ہونے والا عذاب قیامت والے دن ہو گا جو کافروں پر پچاس ہزار سال کی طرح بھاری ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَاصْبِرْ‌ صَبْرً‌ا جَمِيلًا ﴿٥﴾
پس تو اچھی طرح صبر کر۔

إِنَّهُمْ يَرَ‌وْنَهُ بَعِيدًا ﴿٦﴾
بیشک یہ اس (عذاب) کو دور سمجھ رہے ہیں۔

وَنَرَ‌اهُ قَرِ‌يبًا ﴿٧﴾
اور ہم اسے قریب ہی دیکھتے ہیں۔ (١)
٧۔١ دور سے مراد ناممکن اور قریب سے اس کا یقینی واقع ہونا ہے۔ یعنی کافر قیامت کو ناممکن سمجھتے ہیں اور مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ وہ ضرور آکر رہے گی۔ اس لیے کہ ’’کل ما ھو آت فھو قریب" ہر آنے والی چیز قریب ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَوْمَ تَكُونُ السَّمَاءُ كَالْمُهْلِ ﴿٨﴾
جس دن آسمان مثل تیل کی تلچھٹ کے ہو جائے گا۔

وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ ﴿٩﴾
اور پہاڑ مثل رنگین اون کے ہو جائیں گے۔ (١)
٩۔١ یعنی دھنی ہوئی روئی کی طرح، جیسے سورہ القارعۃ میں ہے۔ ﴿كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوشِ﴾
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَا يَسْأَلُ حَمِيمٌ حَمِيمًا ﴿١٠﴾
اور کوئی دوست کسی دوست کو نہ پوچھے گا۔

يُبَصَّرُ‌ونَهُمْ ۚ يَوَدُّ الْمُجْرِ‌مُ لَوْ يَفْتَدِي مِنْ عَذَابِ يَوْمِئِذٍ بِبَنِيهِ ﴿١١﴾
(حالانکہ) ایک دوسرے کو دکھا دیئے جائیں (۱) گے، گناہ گار اس دن کے عذاب کے بدلے فدیے میں اپنے بیٹوں کو۔
١١۔١ لیکن سب کو اپنی اپنی پڑی ہو گی، اس لیے تعارف اور شناخت کے باوجود ایک دوسرے کو نہیں پوچھیں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَصَاحِبَتِهِ وَأَخِيهِ ﴿١٢﴾
اپنی بیوی کو اور اپنے بھائی کو۔

وَفَصِيلَتِهِ الَّتِي تُؤْوِيهِ ﴿١٣﴾
اپنے کنبے کو جو اسے پناہ دیتا تھا۔

وَمَن فِي الْأَرْ‌ضِ جَمِيعًا ثُمَّ يُنجِيهِ ﴿١٤﴾
اور روئے زمین کے سب لوگوں کو دینا چاہے گا تاکہ یہ اسے نجات دلا دے۔ (١)
١٤۔١ یعنی اولاد، بیوی، بھائی اور خاندان یہ ساری چیزیں انسان کو نہایت عزیز ہوتی ہیں، لیکن قیامت والے دن مجرم چاہے گا کہ اس سے فدیے میں یہ عزیز چیزیں قبول کر لی جائیں اور اسے چھوڑ دیا جائے۔ فصيلةٌ، خاندان کو کہتے ہیں، کیوں کہ وہ قبیلے سے جدا ہوتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
كَلَّا ۖ إِنَّهَا لَظَىٰ ﴿١٥﴾
(مگر) یہ ہرگز نہ ہو گا، یقیناً وہ شعلے والی (آگ) ہے۔ (١)
١٥۔١ یعنی وہ جہنم۔ یہ اس کی شدت حرارت کا بیان ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
نَزَّاعَةً لِّلشَّوَىٰ ﴿١٦﴾
جو منہ اور سر کی کھال کھینچ لانے والی ہے۔ (١)
١٦۔١ یعنی گوشت اور کھال کو جلا کر رکھ دے گی۔ انسان صرف ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ جائے گا۔
 
Top