1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تقلید شخصی کی ایک دلیل: عجیب دو رخی

'حنفی' میں موضوعات آغاز کردہ از راجا, ‏جولائی 10، 2014۔

  1. ‏جولائی 10، 2014 #1
    راجا

    راجا سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 19، 2011
    پیغامات:
    734
    موصول شکریہ جات:
    2,555
    تمغے کے پوائنٹ:
    211

    تقلید ناسدید میں یوں تو مقلدین کے اپنے اندر ہی بہت سا اختلاف ہے۔تقلید کی تعریف سے لے کر عقائد میں تقلید کرنے یا نہ کرنے تک بہت سارے مسائل اسی اختلاف کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔

    خیر، یہ دھاگا ایک خاص قسم کے اختلاف کو ہائی لائٹ کرنے کے لئے بنایا ہے۔ حال ہی میں محترم اشماریہ صاحب نے تقی عثمانی صاحب کی "تقلید کی شرعی حیثیت" کتاب پڑھنے کو کہا تو اس موضوع پر کچھ دیگر تحریریں بھی نظر سے گزریں۔

    تقلید شخصی کی سب سے بڑی عقلی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ نفسانی خواہشات سے چھٹکارا پانے کے لئے تقلید مطلق کے بجائے تقلید شخصی ضروری ہے۔ دوسری جانب ہم دیکھتے ہیں کہ خود اصحاب ترجیح نے یا علمائے احناف نے مختلف مسائل میں نفسانی خواہشات اور تن آسانی کی خاطر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے مسلک سے روگردانی کی، جس میں مشہور عام گم شدہ شوہر کے لئے بیوی کے انتظار کی مدت کا مسئلہ ہے، جس میں امام مالک کے قول پر فتویٰ دیا جاتا ہے، اس کا مقصد سوائے تن آسانی کے اور کچھ نہیں۔۔

    خیر، فی الحال یہاں ایک اور معاملہ پر توجہ کریں کہ سرفراز خان صفدر نے لکھا ہے:

    "۔۔۔اور ان علاقوں میں احناف اور فقہ حنفی ہی کی کثرت ہے۔ ظاہر امر ہے کہ اگر ان علاقوں میں کوئی ایسا مسئلہ پیش آ جائے جو منصوص نہیں تو حضرت امام ابو حنیفہ ؒ کی فقہ سے اگر کوئی شخص اکڑ کر گردن نکالتا ہے تو دوسرے ائمہ کرام ؒ کی فقہ تو وہاں ہے نہیں، اس کا نتیجہ اس کے سوا اور کیا ہوگا کہ وہ من مانی کاروائی کر کے شریعت کے پٹے ہی کو گردن سے اتار پھینکے گا۔ اور اسلام ہی کو خیرباد کہہ دے گا ایسے شخص کے لیے اگر حضرت امام ابو حنیفہ ؒ کی تقلید واجب نہ ہو تو اس کا اسلام کیسے محفوظ رہے گا۔؟ اور اپنے مقام پر ثابت ہے کہ لاعلمی کے وقت ایسے جاہل کا اہل علم کی طرف رجوع کرنا نص قرآنی سے واجب ہے۔۔" (الکلام المفید ص 177)

    گویا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی تقلید برصغیر پاک و ہند میں اس لئے واجب کا درجہ رکھتی ہے کیونکہ یہاں احناف اور فقہ حنفی ہی کی کثرت ہے۔ اور ایسے ماحول میں امام صاحب کی تقلید شخصی سے باہر ہونا، گویا اسلام سے ہی باہر ہونا ہے۔

    یہ تو تھا اردو دان حضرات کو حنفی بنانے اور بنائے رکھنے کا اکسیر نسخہ۔

    اب دیکھئے جب کسی کا ماحول بدل جائے تو اس کے لئے کیا فتویٰ ہے۔ اشماریہ صاحب کی پسند فرمودہ ویب سائٹ سے فتویٰ ملاحظہ ہو:


    لنک: http://banuri.edu.pk/ur/node/1419
    سوال
    السلام علیکم !
    1۔ اگرکوئی شخص مستقل طورپرایسی جگہ رہائش اختیارکرلےجہاں أئمہ اربعہ میں سےکسی اورکی تقلید ہوتی ہوتوکیااسےاپنی فقہ چھوڑکروہ اختیارکرلینی چاہئے؟ جیسے شافعی فقہ وغیرہ۔
    2۔۔۔۔۔
    سائلہ : اجالہ

    جواب
    1۔۔ امام کی تقلید کررہاہےاسی پرکاربندرہے اس کو چھوڑنا جائزنہیں۔
    2۔۔۔۔

    فقط واللہ اعلم۔

    دارالافتاء
    جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی

    وہ مشہور کہاوت تو سنی ہوگی۔۔۔چٹ بھی میری اور پٹ بھی میری۔۔!
     
  2. ‏جولائی 10، 2014 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    حنفی علماء کس طرح لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں

    کیا اسلام چار ائمہ تک ہی محدود ہے؟

    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG] [​IMG]

    ائمہ اربعہ ہی کی تقلید کرنا کوئی امر عقلی یا شرعی نہیں ہے بلکہ اتفاقی ہے، مشیتِ خداوندی سے ان چار مذاہب کے سوا اور جتنے مذاہب تھے سب مندرس ہوگئے کیوں کہ دس بیس پچاس یا سو مسائل اگر کچھ مجتہدین سے منقول ہیں تو وہ مستقل مذہب نہیں بن سکتے اور اگر ان سو پچاس مسائل میں ان کی تقلید بھی کرلی تو دیگر مسائل میں کیا کریں گے، جب چاروں مذاہب کے علاوہ کل مذاہب کالعدم قرار پائے تو تقلید ان چاروں مذاہب میں منحصر ہوگئی۔ آپ مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ کی تصنیف "تقلید کی شرعی حیثیت" نیز حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہ کی تالیف "اجتہاد وتقلید کا آخر فیصلہ" کتابیں منگواکر خوب اچھی طرح مطالعہ کرلیں

    (انشاء اللہ نفع ہوگا)۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏جولائی 10، 2014 #3
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    @اشماریہ بھائی اور @محمد باقر بھائی سے وضاحت مطلوب ہے -
     
  4. ‏اگست 12، 2014 #4
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    کیا کہنے راجا صاحب کے۔ راجا ہیں جو چاہے کریں۔

    سرفراز خان صفدر صاحب کی عبارت کا تو رد کیا نہیں۔ لہذا اس کو جانے دیجیے۔

    بنوری ٹاؤن کی یہ ویب سائٹ میری پسند فرمودہ کیسے ہے؟ اگر میں نے کسی جگہ کسی مسئلہ میں ان سے اتفاق ہونے کی وجہ سے ان کا لنک دیا ہے تو یہ سائٹ میری پسند فرمودہ ہو گئی؟
    مجھے ان کے اس فتوے سے اتفاق نہیں ہے۔
    اور دلیل آپ ان سے مانگ سکتے ہیں۔ جو جواب آئے وہ مجھے بھی بتا دیجیے گا۔
    لکھا ہوا ہے:۔
    نوٹ : تفصیلی ،مدلل اور باحوالہ فتویٰ کے لیے تحریری سوالنامہ جامعہ کے پتہ پر بھیج کرجواب حاصل کر سکتے ہیں
     
  5. ‏اگست 12، 2014 #5
    راجا

    راجا سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 19، 2011
    پیغامات:
    734
    موصول شکریہ جات:
    2,555
    تمغے کے پوائنٹ:
    211

    ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا۔۔!
    آئینہ دکھایا ہے جناب۔ لینے کے باٹ اور ، دینے کے باٹ اور۔ دوسرے الفاظ میں اسے منافقت کہا جا سکتا ہے ۔
    آپ کا فتوے سے اتفاق نہ کرنا، آپ کے علماء کی اس دو رخے پن کو چھپا نہیں سکتا۔ نہ حنفی دیوبندی مسلک میں آپ کی پرکاہ کے برابر کوئی حیثیت ہے کہ آپ کا اتفاق نہ کرنا ، عوام الناس پر کوئی اثر ڈال سکتا ۔
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  6. ‏اگست 13، 2014 #6
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    آپ راجا صاحب سے فارغ ہو جائیں تو مولانا سرفراز خان صفدر کی عبارت کو بھی دیکھ لیتے ہیں۔ اسی تھریڈ میں یا نئے تھریڈ میں!!!
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏اگست 14، 2014 #7
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    پھر ادھر ادھر کی باتیں؟؟؟
    اوپر میرا حوالہ دیا ہے کہ اشماریہ صاحب نے فلاں بات کی۔
    اب میں اس فتوے سے متفق نہیں ہوں۔ آپ کو کیا مسئلہ ہے اس میں۔
    تحقیق کے "داعیوں" اور تقلید کے "منکروں" کو تحقیق کا بہت شوق ہے تو لکھیں نا خط اور تفصیلی فتوی لے کر دیکھیں۔
     
  8. ‏اگست 14، 2014 #8
    راجا

    راجا سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 19، 2011
    پیغامات:
    734
    موصول شکریہ جات:
    2,555
    تمغے کے پوائنٹ:
    211

    ادھر ادھر کی باتیں نہیں ہیں جناب۔
    آپ واضح طور پر ارشاد فرمائیے کہ یہ جو دو عبارات اوپر پیش کی گئی ہیں، یہ دوغلے پن اور منافقت کو ظاہر کرتی ہیں یا نہیں؟
    آپ سے کس نے پوچھا ہے کہ آپ کس سے متفق ہیں اور کس سے نہیں۔ ۔آپ کہئے کہ ہاں واقعی یہ دیوبندی علماء کی منافقت ہے اور لینے دینے کا پیمانہ الگ ہونے کا شاخسانہ ہے۔ لیکن میں فلاں بات سے متفق ہوں اور فلاں سے نہیں۔ تو یہ ہوگا پورا جواب۔
    اور اگر آپ نہ دیوبندیوں کی منافقت کی تائید کریں، نہ تردید تو یہ آپ کی منافقت ہے۔۔یہی چیز کہیں اہلحدیث کی سامنے آ جاتی تو آپ کا غیض و غضب دیکھنے لائق ہوتا۔ اور اپنے اکابرین لپیٹ میں ہیں، تو ممیا رہے ہیں فقط۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  9. ‏اگست 14، 2014 #9
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    طرفین سے درخواست ہے کہ طعن وتشنیع سے گریز کریں! حتیٰ الامکان الفاظ نرم رکھیں! جزاکم اللہ خیرا!
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  10. ‏اگست 14، 2014 #10
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    منافقت کی تعریف کیجیے اور ثابت کیجیے کہ یہ منافقت ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں