1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جشن عید میلاد النبی جیسی بدعات کو اچھا سمجھنے والے کا رد

'بدعی عقائد' میں موضوعات آغاز کردہ از Aamir, ‏اپریل 17، 2012۔

  1. ‏ستمبر 03، 2012 #11
    وقاص خان

    وقاص خان مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 14، 2012
    پیغامات:
    27
    موصول شکریہ جات:
    109
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    یہ تھریڈ مزعومہ عید میلاد کے متعلق ہے جو 12 ربیع الاول کو منائی جاتی ہے، لہٰذا آپ کی پوسٹ سے اس کے علاوہ اور کوئی نتیجہ اخذ ہی نہیں کیا جا سکتا۔
    یعنی 12، ربیع الاول کو جس طریقے سے منائی جاتی ہے ویسے منانا غلط ہے؟
    ویسے میں نے نہیں دیکھا کہ صرف 12، ربیع الاول کو میلاد کا اہتمام ہوتا ہے۔ پورے ماہ میں مختلف دنوں میں مختلف لوگ اپنے اپنے گھر میں اس کا اہتمام کرتے ہیں۔
    خوشی کا اظہار بدعات کے ذریعے بدعت ہی ہوتا ہے۔
    بلکل صحیح
    بہرحال!
    نبی کریمﷺ نے مسلمانوں کیلئے اللہ کے حکم سے دو عیدیں مقرر کی ہیں۔ 12 ربیع الاول کو تیسری عید کے طور پر منانا بدعت ہے، جس میں نبی کریمﷺ سے محبت کے نام پر آپﷺ ہی کے احکامات کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔

    حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت" الیوم اکملت لکم دینکم" ۔ تلاوت فرمائی ۔ تو ایک یہودی نے کہا : اگر یہ آیت ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید مناتے ۔ اس پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : یہ آیت نازل ہی اسی دن ہوئی جس دن دو عیدیں تھیں ۔(یوم جمعہ اور یوم عرفہ ) مشکوٰۃ شریف صفحہ 121 ۔ مرقات شرح مشکوۃ میں اس حدیث کے تحت طبرانی وغیرہ کے حوالہ سے بالکل یہی سوال و جواب حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے ، مقام غور ہے کہ دونوں جلیل القدر صحابہ نے یہ نہیں فرمایا ، کہ اسلام میں صرف عید الفطر اور عید الاضحی مقرر ہیں اور ہمارے لئے کوئی تیسری عید منانا بدعت و ممنوع ہے۔
    نبی کریمﷺ فداہ اَبی واُمی کی دُنیا میں ایک ہی مرتبہ ’عام الفیل‘ میں تشریف آوری ہوئی ہے، اور میرے نزدیک جسے اس بات کی خوشی نہ ہو، اس کا ایمان ہی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
    خوشی ہوئی یہ جان کر کہ آپ اس موقع کو خوشی مان رہے ہیں۔
    لیکن دین اسلام میں ہمارے لئے مکمل ضابطۂ حیات ہے، خوشی وغمی کے اظہار کے طریقے بھی ہمیں سکھائے گئے ہیں۔ خوشی میں فخر ومباہات وبدعات اور غمی میں نوحہ وبین وگریبان چاک کرنا وغیرہ غیر شرعی اُمور سے ہمیں روکا گیا ہے۔
    سو فی صد متفق۔ جس طریقے سے اس موقع کو منانے کا رواج عام ہوچکا ہے وہ سب ہمارے مذہب کے منافی ہے۔ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب فرمان ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔
    حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سوموار کا روزہ رکھنے کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا : فیہ ولدت وفیہ انزل علیہ ۔ یعنی اسی دن میری پیدائش ہوئی اور اسی دن مجھ پر قرآن نازل کیا گیا۔ (مشکوۃ شریف صفحہ 179 )
    یعنی فضول اسراف کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
    جزاک اللہ خیر۔
     
  2. ‏ستمبر 03، 2012 #12
    وقاص خان

    وقاص خان مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 14، 2012
    پیغامات:
    27
    موصول شکریہ جات:
    109
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    آپ کی یہ پوسٹ اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ جو بدعات میں پڑے ہوئے ہیں وہ عبادات کی طرف دھیان نہیں دیتے۔ جبکہ میں نے ان کو بھی دیکھا ہے جو بدعات کے رد پر مبنی کتب لوگوں میں تقسیم کرتے پھرتے ہیں مگر مسجد کا رخ نہیں کرتے۔
    نصیحت غیر جانبدارانہ انداز میں کی جائے تو زیادہ اچھی لگتی ہے۔ ورنہ طنز لگتی ہے۔
     
  3. ‏ستمبر 03، 2012 #13
    آصف نور

    آصف نور مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 20، 2012
    پیغامات:
    19
    موصول شکریہ جات:
    48
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    بھائی جان
    میں نے نہ نصیحت کی ہے اور نہ ہی طنز،
    میں نے ان بدعات کے نتائج میں سے ایک نتیجے کی طرف نشاندہی کی ہے جس کا ایک اثر دینی علوم میں کمزور طبقہ کے ذہن و فکر پر پڑتا ہے۔
    میرا اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ عام طور پر جو لوگ یا طبقہ دینی تعلیمات سے دور ہوتا ہے وہ ایسی بدعات کے زیر اثر آجاتا ہے اور بنیادی تعلیمات اور فرائض کی اہمیت ان کے قلوب میں کمزور پڑ جاتی ہے او اور بدعات میں ظاہری عشق ومحبت کی چاشنی ان کے لئے نجات دہندہ بن جاتی ہے۔ اور وہ اسی خوش فہمی میں مبتلہ ہوجاتے ہیں کہ یہی تو وہ عشق اور محبت ہے جو فلاح کی ضمانت ہے۔
    ہاں آپ کی بات سر آنکھوں پر ایسے لوگ بھی ہیں جو کتابیں بھی لکھتے ہیں، درس بھی دیتے ہیں، دوسروں کو نصیحت بھی کرتے ہیں، بحث و مباحثہ میں بڑے علامہ بھی بنتے ہیں لیکن ان کی عملی زندگی میں ان تعلیمات اور دین پر عمل نظر نہیں آتا، لیکن میرے بھائی میں نے یہاں اس موضوع پر بات ہی نہیں کی۔
     
  4. ‏ستمبر 08، 2012 #14
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,176
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    میں نے پہلے بھی عرض کیا ہے کہ اصل مسئلہ خوشی کے اظہار کا ہے!!

    کیا 12 ربیع الاول کے علاوہ دیگر ایام میں بھی نبی کریمﷺ کے پیدا ہونے کی خوشی میں اس طرح کا اجتماع واہتمام نبی کریمﷺ یا سلف صالحین﷭ سے ثابت ہے؟؟؟

    اگر نہیں تو پھر اسے نیکی اور عبادت کیوں سمجھا جاتا ہے؟ کیا یہ بدعت نہیں؟
    ہمارا دین مکمل ہوچکا ہے، اب اس میں کسی نیکی وعبادت کے اضافے کی ضرورت نہیں۔ امام مالک﷫ فرماتے ہیں:
    من ابتدع في الاسلام بدعة يراها حسنة فقد زعم أن محمدا ﷺ خان الرسالة، لأن الله يقول ﴿ اليوم أكملت لكم دينكم ﴾ فما لم يكن يومئذ دينا فلا يكون اليوم دينا ... الاعتصام للشاطبى: 1 / 49 (دار النشر: المكتبة التجارية الكبرى - مصر)
    کہ جس شخص نے اسلام میں کوئی بدعت جاری کی اور وہ اسے نیکی سمجھتا ہے تو گویا اس نے یہ گمان کیا کہ نبی کریمﷺ نے رسالت پہنچانے میں خیانت کی ہے (العیاذ باللہ!) ، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ اليوم أكملت لكم دينكم ﴾ تو جو شے اس وقت دین نہیں تھی وہ آج بھی دین نہیں ہو سکتی۔

    میرے بھائی! آپ اپنا موقف بیان کریں کہ جب نبی کریمﷺ نے مسلمانوں کیلئے سال میں دو عیدیں مقرر کیں تو کیا آپ کے نزدیک سال میں دو سے زیادہ عیدیں منائی جا سکتی ہیں؟

    جہاں تک درج بالا حدیث مبارکہ کا تعلق ہے تو آپ فتح الباری میں اس کی تشریح دیکھ لیں۔ امام ابن حجر﷫ نے وضاحت فرمائی ہے کہ آیت کریمہ ﴿ اليوم أكملت لكم دينكم ﴾ 9 اور 10 ذی الحجۃ کی درمیانی رات جو جمعہ کی بھی رات تھی، کو نازل ہوئی تھی۔ اور یہ عید الاضحیٰ کی رات ہے، لہٰذا عید ہے۔ جبکہ جمعہ کا دن ہفتے کا سب سے افضل دن ہے، اور عید کا دن ہے کہ جس میں اچھے کپڑے پہن کر، غسل کرکے جمعہ ادا کیا جاتا ہے۔ احادیث مبارکہ میں اسے بھی عید قرار دیا گیا ہے لہٰذا یہ ہفتہ وار عید کا دن ہے۔ سال میں مسلمانوں کیلئے دو عیدیں ہی ہیں۔

    بھائی! یہی تو ہمارا کہنا ہے کہ حدیث مبارکہ کے مطابق اس خوشی میں ہر سوموار کو روزہ رکھا جائے۔ پھر اس سے قطع نظر نبی کریمﷺ اور صحابہ کرام﷢ کے طریقے کے خلاف میلاد کیوں منائے جاتے ہیں؟؟؟

    اللہ تعالیٰ ہماری اصلاح فرمائیں!
     
  5. ‏ستمبر 08، 2012 #15
    وقاص خان

    وقاص خان مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 14، 2012
    پیغامات:
    27
    موصول شکریہ جات:
    109
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم پیدائش کو (چاہے وہ جو بھی ہے) عید کا دن کہنے کا مفہوم وہ نہیں ہے جو آپ سمجھتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو عیدوں کے بارے میں فرمایا ہے جن میں باقاعدہ عید نماز پڑھی جاتی ہے۔ عید کا مفہوم سمجھے بغیر اس لفظ "عید" کو ان عیدوں سے مشابہت کیسے دی جاسکتی ہے۔
    قال عیسی ابن مریم اللهم ربنا انزل علینا مائدة من السماء تکون لناعیدا لاولنا و آخرنا و آیة منک و ارزقنا و انت خیر (ا الرازقین
    عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نے دعا کی، اے معبود برحق، اے ہمارے پروردگار! تو ہم پر آسمان سے کھانے بھرا خوان نازل کر جو ہمارے لئےاور ہمارے اگلے پچھلوں کیلئے عید(خوشی) ہوجائے اور تیری ایک خاص نشانی بن جائے۔ اے اللہ تو ہمیں روزی دے اور تو بہتریں روزی رساں ہے۔(المائدہ۔١١٤)
    یہاں عید کا مطلب عید الفطر یا عید الضحیٰ نہیں بلکہ خوشی ہے۔ اسی طرح جب کوئی عید میلاد النبی کہتا ہے تو اس کا مطلب ہے "نبیﷺ کی پیدائش کی خوشی "
    اب سوال یہ ہے کہ اس کو منانا چاہئے یا نہیں۔
    قل بفضل الله وبرحمته فبذلك فليفرحوا هو خير مما يجمعون
    کہہ دیجیئے کہ اللہ کا فضل اور رحمت ہی ایسی چیز ہے جس پر خوشی منانی چاہئے۔ یہ اس سے بہت بہتر ہے جو وہ جمع کر رہے ہیں۔(یونس۔٥٨)
    اس کا ترجمہ مختلف مفسرین نے مختلف انداز سے کیا ہے۔ لیکن لب لباب یہی ہے "فلیفرحوا"
    تشریح میں بھی سب نے اپنے اپنے عقائد کے مطابق اس کا مطلب لیا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت بھی داخل ہیں۔ یعنی اللہ کے فضل سے مراد "قرآن" اور رحمت سے مراد "دین اسلام" وغیرہ
    اب بات یہ ہے کہ کوئی اس خوشی کو عبادت کے ذریعے مناتا ہے تو کوئی اس طریقے سے مناتا ہے جس کی دین میں کوئی گنجائش نہیں۔اس کو "بدعت" کہا جائے گا۔ قرآن اور دین اسلام آنے پر جس خوشی کو منانے کا حکم ہے وہ کس شکل میں ہے اور اس پر کون عمل کرتاہے؟ قرآن اور دین اسلام ہمیں نبیﷺ کے توسط سے ملا ہے، اور کون مسلمان نہیں جانتا کہ فضل اور رحمت سے مراد جو بھی ہے وہ آپﷺ کے صدقے ہے )
    بدعت کے حوالے سے ابھی میں بات نہیں کرونگا کہ وہ موضوع اور ہے۔
    اب رہا آپ کا یہ سوال کہ اس طرح کا اجتماع واہتمام نبی کریمﷺ یا سلف صالحین﷭ سے ثابت ہے؟
    [MENTION]
    امام ابن حجر مکی علیہ الرحمۃ نے امام فخر الدین رازی ( صاحب تفسیر کبیر) نے نقل فرمایا کہ جس شخص نے میلاد شریف کا انعقاد کیا اگرچہ عدم گنجائش کے باعث صرف نمک یا گندم یا ایسی ہی کسی چیز سے زیادہ تبرک کا اہتمام نہ کرسکا ۔ برکت ِ نبوی ﷺسے ایسا شخص نہ محتاج ہوگا نہ اس کا ہاتھ خالی رہے گا ۔ (النعمۃ الکبرٰی صفحہ 9 )
    جلیل القدر آئمہ محدثین نے نقل کیا ہے کہ ابولہب نے اپنی لونڈی ثوبیہ سے میلاد النبی ﷺ کی خوشخبری سن کر اسے آزاد کردیا ، جس کے صلہ میں بروز پیر اس کے عذاب میں تخفیف ہوتی ہے اور انگلی سے پانی چوسنا میسر آتا ہے۔ ( بخاری جلد 3 صفحہ 243 )
    [/MENTION]
    خیر، حوالاجات تو بہت ہیں۔ اس کے رد میں آپ کے پاس بھی بہت دلائل ہونگے، اس لئے ایسی بحث کا کوئی فائدہ جس کا کوئی نتیجہ نا ہو۔میں نے ایسی تقریبات کا نہ اہتمام کیا ہے اور نہ کبھی شریک ہونے کا موقع ملا ہے لیکن غلط اس لئے نہیں سمجھتا کہ معاملہ نبی ﷺ کی ذات اقدس ہے، نادانستگی میں کچھ غلط بات نکل گئی تو پکڑ میں نہ آجائے۔
    جب بھی ماہ ربیع الاول شروع ہوتا ہے تو ایک جماعت اس معاملے کو بہت زور و شور سے اچھالتی ہے کہ بدعت ہے وغیرہ۔ میں سوچے بنا نہیں رہتا کہ یا اللہ، اتنے معاملات ہیں جن میں کون شرعی احکامات کی پیروی کر رہا ہے مثلاََ شادی بیاہ، ولیمہ جیسی تقریبات کو ہی لے لیں جہاں ہمارے نہ چاہتے ہوئے بھی شرکت مجبوری ہوتی ہے۔ یہاں تک حکم ہے کہ وہ ولیمہ ولیمہ ہی نہیں جس میں غرباء ومساکین کو کھانا نہ کھلایا جائے۔ کون اس پر عمل کرتا ہے۔ مسکینوں کیلئے الگ سے نگران رکھے جاتے ہیں کہ کوئی اندر نہ آنے پائے۔ اس کا مطلب تو یہی لیا جائے نا کہ ولیمہ ہوا ہی نہیں۔ صرف نبی ﷺ کی ذات اقدس اور ان کی ولادت پر خوشی منانے پر اعتراض چہ معنی دارد۔
     
  6. ‏ستمبر 08، 2012 #16
    ھارون عبداللہ

    ھارون عبداللہ رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 08، 2012
    پیغامات:
    115
    موصول شکریہ جات:
    514
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    وقاص خان نے ، جو دلائل میلادالنبی پر دیے ہیں ، وہ درست نہیں ہیں ، وجوہات درج ذیل ہیں۔

    ١۔عربی میں "عید"، خالی خوشی کو نہیں کہتے بلکہ ایسا دن جو خوشی کا ہو ، اور باربار لوٹ کر آئے اسے "عید " کہتے ہیں ، جیسے عیدالفطر، عیدالاضحی ۔

    ٢۔وقاص نے جوآیت سورہ مائدہ #١١٤ دلیل کے طور پر ، بیان کی ہے ، وہ عید میلاد پر دلیل نہیں بنتی ۔ وجوہات ذیل ہیں ۔

    ١۔ حضرت عیسی علیہ السلام ، اسکو خوشی بنانا چاہتے ہیں ، لہذا جس خوشی کو ایک "نبی" خوشی بنانا چاہے ، اس خوشی کے دینی وشرعی ہونے میں کوی شک نہیں ہے ۔
    ٢۔ اس خوشی کو (( آیہ منک)) کہا گیا ہے ، اور اس آیت یعنی نشانی کے دینی ہونے میں کوئ شک نہیں ہے ۔
    ٣۔ سب سے بڑی بات ، اس نشانی کے نہ ماننے والوں کے لیے ، سخت عذاب کی وعید ہے ، اور عذاب کی وعید ، دین میں ہی ہوتی ہے ، دنیاوی خوشی میں نہیں ہوتی۔( اگلی آیت دیکھیے)

    معلوم ہوا کہ عیسی علیہ السلام والی "عید" شرعی ہی ہو سکتی ہے ، دنیاوی نہیں۔

    ٣۔ (( فلیفرحوا)) کا مطلب ، خوشی منانا نہیں ہوتا ، بلکہ خوش ہونا ہوتا ہے ۔ اور خوشی کے لیے اسکا منانا ضروری نہیں ہوتا۔

    ٤۔ مفسرین نے اپنے اپنے مطلب کی تفسیر نہیں کی ہے ، بلکہ قرآن ، ایمان ، اسلام ،ہی تفسیر کی ہے ۔ دیکھیے تفسیر ابن کثیر، طبری ، بغوی وغیرہ۔

    ٥۔ دینی خوشی ،جب منائ جاتی ہے ، تو وہ دینی ہی ہوتی ہے ، بتائیے آپ خوشی ، محمد رسول اللہ کی منائے گے کہ صرف محمد بن عبداللہ کی ؟ اگر آپ خوشی محمد رسول اللہ کی منائے گے ، تو اس کے دینی ہونے میں کیا شک ہے ؟؟
     
  7. ‏ستمبر 08، 2012 #17
    وقاص خان

    وقاص خان مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 14، 2012
    پیغامات:
    27
    موصول شکریہ جات:
    109
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    ھارون صاحب! بات ہے صرف نکتہ نظر کو سمجھنے کی۔ میں نے عیسی علیہ السلام والی دلیل ملاد النبی کی دلیل میں نہیں دی بلکہ عید کیلئے استعمال ہونے والے لفظ پر دی ہے۔ عید کیلئے مزید جو آپ نے وضاحت کی ہے بعض باتیں صر ف سمجھنے کیلئے بھی ہوتی ہے، وضاحت کیلئے تفصیل بہت لمبی ہوجاتی ہے۔
    (( فلیفرحوا)) کا مطلب ، خوشی منانا نہیں ہوتا ، بلکہ خوش ہونا ہوتا ہے ۔ اور خوشی کے لیے اسکا منانا ضروری نہیں ہوتا۔
    میں خود بھی عربی زبان سے واقف ہوں اور اس کے تمام رموز سے آشنا ہوں۔ اس کے باوجود میں نے مزید تصدیق کے طور پر تفاسیر سے رجوع کرنا ضروری سمجھا۔ میرے پاس مجموعہ تفاسیر ہے۔ ان میں کسی نے "خوشی منانی چاہئے" کسی میں" خوشی مناؤ" ہے۔ زیادہ تر "خوشی منانی چاہئے" ہے ابن کثیر میں "شادمانی منانی چاہئے" ترجمہ ہے۔ ( ١١۔پارہ۔ صفحہ نمبر ٥٦٢ ) آپ اگر اس بات پر بضد ہیں کہ "ضروری نہیں ہے" تو کسی کا کسی پر زور نہیں ہے۔ میں نے جو کچھ کہنا تھا وہ میں اپنے سابقہ مراسلے میں کہہ چکا ہوں مزید اگر کچھ کہا تو اس میں معاملہ خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ سو معذرت چاہتا ہوں۔
     
  8. ‏ستمبر 09، 2012 #18
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    عزیز معاملہ خراب ہونے کا کیا معنی ومطلب ومفہوم۔؟۔اخلاق کےدائرہ میں رہتے ہوئے بادلائل گفتکو کے ذریعے اپنا موقف پیش کریں۔معاملہ کبھی خراب ہوگا ہی نہیں۔معاملہ جبھی خراب ہوتا ہے جب اخلاق کی دائروں کو کراس کرکے دلائل کو نظر انداز کردیاجاتا ہے۔آپ ان دونوں باتوں کو مد نظر رکھتےہوئے گفتگو جاری رکھیں ان شاءاللہ ہم لوگ بھی آپ کے دلائل ونقاط کے رد کے ساتھ اس مسئلہ پر صحیح طرح روشنی ڈالنے کی کوشش کریں گے۔ان شاءاللہ
     
  9. ‏ستمبر 09، 2012 #19
    وقاص خان

    وقاص خان مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 14، 2012
    پیغامات:
    27
    موصول شکریہ جات:
    109
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    قرآن میں اللہ پاک فرمارہے ہیں کہ "يا أيها الذين آمنوا لا ترفعوا أصواتكم فوق صوت النبي ولا تجهروا له بالقول كجهر بعضكم لبعض أن تحبط أعمالكم وأنتم لا تشعرون"
    ترجمہ: اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند نہ کرو۔ اور نہ زور سے ان سے بات کیا کرو جیسا کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے بات کرتے ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال اکارت ہوجائیں اور تمیں خبر بھی نہ ہو۔(الحجرات۔٢)
    اس آیت مبارکہ میں ہمیں نبیﷺ کے آداب کی تعلیم دی جارہی ہے۔عام آدمی کی گفتگو کے بارے میں اور نبیﷺ کے بارے میں گفتگو میں نمایاں فرق ہونا چاہیئے۔ بے شک مخاطب وہ لوگ ہیں جو نبی ﷺ کی مجلس میں موجود ہوا کرتے تھے۔ مگر بعد کے لوگوں کیلئے بھی یہ ادب ملحوظ رکھنے کا حکم ہے۔ اور پھر آگے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جو ایسا کرے گا اس کے تمام اعمال ضائع ہوجائیں گے (یہ پوائنٹ نوٹ کرنے کا ہے) اور اسے خبر بھی نہیں ہوگی۔
    ہم قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کی بات کرتے ہیں مگر ایسی بے تحاشہ آیات ہیں جو ہم سرسری لیتے ہیں۔ اس میں پوشیدہ حکمت تک نہیں پہنچ سکتے۔ آخر اس میں کیا حکمت ہوگی کہ تمہارے اعمال اکارت ہوجائیں اور تمیں خبر بھی نہ ہو۔ وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے کہ جس کو خبر ہوجائے اور اللہ اس کو ہدایت دیدے تو وہ توبہ کرلیتا ہے۔ مگر جس کو خبر ہی نہ ہووہ توبہ کس بات کی کرے گا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی اس سے ناراضگی اس حد تک ہوجاتی ہے اس کو اس کی غلطی کا احساس بھی نہیں ہونے دیتا کہ کہیں یہ توبہ نہ کرلے۔
    آپ ا س آیت کو میلاد النبیﷺ کی دلیل میں نہ لیجیے گا۔ میں اپنی سیکنڈ لاسٹ تھریڈ میں اس بات کی وضاحت کرگیا تھا کہ "میں نے ایسی تقریبات کا نہ اہتمام کیا ہے اور نہ کبھی شریک ہونے کا موقع ملا ہے لیکن غلط اس لئے نہیں سمجھتا کہ معاملہ نبی ﷺ کی ذات اقدس ہے۔" کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے اعمال اکارت ہوجائیں اور ہمیں خبر بھی نہ ہو۔
    شریک اس لئے نہیں ہوتا کہ ضروری نہیں ہے۔ بقول ایک جماعت کے "ثواب" ہے تو بقول دوسری جماعت کے" گناہ" ہے۔ اسلئے جو شکوک و شبہات ذہن میں جنم لے چکے ہیں اس کا ایک حل یہی ہے کہ اگر ثواب ہے بھی تو اس کو نہ کرنے سے جواب طلبی نہیں ہوگی۔
    اس کے علاوہ دیگر بدعات کی طرف توجہ دلانے کا مقصد بھی یہی تھا کہ ہم اس طرح کے اختلافات میں پڑ کر جن کا حاصل وصول کچھ نہیں خود اپنا اعمال نامہ خراب کررہے ہیں۔
    اب اس کے علاوہ کچھ کہنا چاہتا ہوں اگر آپ سب دوست، بھائی کھلے ذہن کا مظاہرہ کریں تو یقین کریں یہ ہمارے لئے ہی فائدہ ہے۔ وہ یہ ہے کہ میں یہاں کی بات نہیں کررہا بلکہ میں نے ہر فارم پر یہ بات نوٹ کی ہے کہ کچھ لوگ تھریڈ اس لئے نہیں پڑھتے کہ ان کی معلومات میں اضافہ ہو بلکہ اس لئے پڑھتے ہیں کہ اس میں خامیاں تلاش کریں، اور پھر ایسی شدت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ پھر وہاں ایک جنگ کا سا سماں بندھ جاتا ہے۔ فتویٰ جاری کرنے والے کیلئے علمی قابلیت کا ایک پیمانہ مقرر کیا گیا ہے۔اگر اس میں وہ شرائطی اوصاف ہیں تو اس کا کہا قابل قبول ہے ورنہ نہیں۔ اس دور کے فتویٰ دینے والے بھی ان اوصاف پر پورے نہیں اترتے۔ آج ہم اگر گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں تو اس میں سب سے بڑا ہاتھ انہیں کاہے۔ ورنہ ان پوائنٹس کی طرف توجہ اس سنہرے دور میں کیوں نہیں دی گئی جس پر آج ہم جھگڑا کر رہے ہیں۔ جس فارم پر جا کر دیکھو، مخالف مسلک یا فرقے والوں کو گمراہ اور جہنمی اور خود کو حق پر کہہ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں صاف صاف بیان کررہے ہیں کہ : جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو اللہ جنتوں میں جس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں داخل فرمائیں گے۔
    یہ اور اس طرح کی بیشمار آیات قرآن پاک میں موجود ہیں، جن میں مومنین صالحین کی مغفرت اور فلاح کا وعدہ کیا گیا ہے۔ جو شخص دین کی مبادیات پر ایمان رکھتا ہو اور ارکان اسلام پر عمل پیرا ہو وہ دین کے فروعات میں دیگر مسلمانوں سے اختلاف رائے رکھنے کے باوجود مومن و مسلم ہی رہتا ہے ایمان سے خارج نہیں ہوتا ہے دین کا فہم نہ تو سب کو یکساں عطا کیا گیا ہے اور نہ ہی اللہ تعالٰی نے تمام انسانوں کی ذہنی صلاحیتیں اور طبائع ایک جیسے رکھے ہیں بہرحال یہ طے شدہ بات ہے کہ فروعی اختلافات میں قلت فہم کی بنا پر دو فریقوں میں ایک یقینی طور پرغلطی پر ہوگا۔ جب اللہ تعالٰی اپنے بندوں سے ایمان وعمل صالح کے مطالبہ کو پورا کرنے کے بعد ان کے تمام گناہوں اور کوتاہیوں کو معاف کرنے کا اعلان عام کر رہے ہیں تو دوسروں کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے صاحب ایمان بھائیوں کو محض فروعی اختلاف کی بنا پر جہنم رسید کر دیں۔
    میری یہ تھریڈ محض آپس میں اخوت و یک جہتی کی نصیحت پر مبنی ہے۔ برائے مہربانی اس کو کسی اور رنگ میں نہ لیا جائے۔ والسلام
     
  10. ‏ستمبر 11، 2012 #20
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,176
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    آپ نے بہت اچھی بات کی طرف توجہ دلائی، جزاکم اللہ خیرا!

    میرے بھائی! اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے اور نبی کریمﷺ سے آگے بڑھنے سے اور اپنی آوازیں نبی کریمﷺ کی مبارک آواز سے زیادہ بلند کرنے سے روکا ہے۔ جس سے مراد یہ ہے کہ دین کے معاملے میں (نصوص کے بالمقابل) عقل اور ذاتی رائے وغیرہ کو استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ اسی طرح جس معاملے اللہ تعالیٰ اور نبی کریمﷺ کا حکم واضح موجود ہو وہاں انہیں چھوڑ کر قیاسات اور اِدھر اُدھر کی تاویلات میں پڑنا در اصل اپنی آوازیں نبی کریمﷺ کی آواز سے زیادہ بلند کرنے کے مترادف ہے۔

    اس معاملے میں احتیاط ملحوظِ خاطر نہ رکھنے سے تمام اعمال باطل ہو جانے کا اندیشہ ہے۔ ایک اور جگہ فرمانِ باری ہے:
    ﴿ يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا أَطيعُوا اللَّـهَ وَأَطيعُوا الرَّ‌سولَ وَلا تُبطِلوا أَعمـٰلَكُم ٣٣ ﴾ ۔۔۔ سورة محمد
    اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کا کہا مانو اور (ان کی نافرمانی کرکے) اپنے اعمال کو غارت نہ کرو۔ (33)

    مجھے اس بات پر حیرانگی ہوئی کہ آپ نے فرمایا:
    آپ میلاد منانے کو غلط اس لئے نہیں سمجھتے کہ معاملہ نبی کریمﷺ کی ذاتِ مبارکہ کا ہے، کیونکہ ایسا نہ ہو کہ اعمال اکارت ہوجائیں اور ہمیں خبر نہ بھی ہو۔
    تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ میلاد (ایک بدعت) منانے کو صحیح سمجھنے (یا غلط نہ سمجھنے) سے ہمارے اعمال اکارت نہیں ہوں گے؟ کیونکہ معاملہ نبی کریمﷺ کی ذات کا ہے!

    میرے بھائی! آپ کی کوٹ کی گئی درج بالا سورۃ الحجرات کی آیات کا یہ مفہوم لینا (کہ نبی کریمﷺ کی ذاتِ مبارکہ کے متعلق کوئی بات مثبت یا منفی کرنی ہی نہیں چاہئے کہ کہیں ہمارے اعمال ضائع نہ جائیں) میرے نزدیک صحیح نہیں ہے۔

    یہ تفویض ہے (یعنی اپنی کوئی رائے نہ رکھنا اور معاملہ اللہ پر چھوڑ دینا) جو صحیح وصریح نصوص کی موجودگی میں جائز نہیں، البتہ جس مسئلے میں واضح نصوص موجود نہ ہوں، ان کے بارے میں آپ والا یہ رویّہ رکھا جا سکتا ہے۔

    مثال کے طور پر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سات مقامات پر صراحتاً فرمایا ہے کہ وہ عرشِ معلّیٰ پر مستوی ہیں۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ کی ’صفتِ علوّ ‘ پر قرآن وحدیث کے سینکڑوں دلائل موجود ہیں۔
    اگر کوئی اللہ تعالیٰ کی صفتِ علو کے متعلق کوئی ٹھوس رائے رکھنے کی بجائے یہی تفویض کا عقیدہ اپنا لے کہ معلوم نہیں اللہ تعالیٰ بلند ہیں یا نہیں؟ عرشِ معلّیٰ پر مستوی ہیں یا نہیں؟ تو ناجائز اور حرام ہوگا!

    بالکل اسی طرح نبی کریمﷺ کے نور یا بشر ہونے سے متعلق کتاب وسنت کے سینکڑوں صحیح وصریح دلائل موجود ہیں کہ نبی کریمﷺ افضل البشر ہیں، ان پر وحی نازل ہوتی ہے۔ اگر اس کے باوجود کوئی شخص یہ کہے کہ چونکہ معاملہ نبی کریمﷺ کی ذات کا ہے لہٰذا میں اس میں اس لئے کوئی رائے نہیں رکھتا کہ کہیں میرے اعمال ضائع نہ جائیں۔ تو یہ غلط ہوگا۔ اسے اس بارے میں لازماً وہ عقیدہ اپنانا ہوگا جو کتاب وسنت سے ثابت ہے۔

    یہی معاملہ نبی کریمﷺ کے میلاد منانے کا ہے! اگر نبی کریمﷺ کی پیدائش کی خوشی میں مبینہ میلاد منانا ایک نیکی اور نبی کریمﷺ سے محبت کی دلیل ہے، تو پھر نبی کریمﷺ نے اپنی 23 سالہ مبارک نبوی زندگی میں یہ کیوں نہ منایا اور کیوں منانے کا حکم نہیں دیا؟ کیا صحابہ کرام﷢ کو نبی کریمﷺ سے محبت نہیں تھی؟ پھر انہوں نے اس طرح میلاد کیوں نہ منانا، تابعین عظام اور ائمہ کرام﷭ نے اس طرح محبت کا اظہار کیوں نہ کیا؟؟

    لہٰذا میرے بھائی! اس بارے میں آپ کو لازماً کوئی نہ کوئی موقف دلیل کی بنا پر اپنانا ہوگا، ورنہ معاملہ نبی کریمﷺ کی ذات بابرکات کا ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمیں اعمال ضائع ہوجائیں اور ہمیں معلوم بھی نہ ہو۔

    اللہ تعالیٰ ہماری اصلاح فرمائیں!
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں