1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جمہوریت ایک دینِ جدید

'جمہوریت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمدسمیرخان, ‏مارچ 23، 2013۔

  1. ‏اپریل 09، 2013 #41
    محمدسمیرخان

    محمدسمیرخان مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 07، 2013
    پیغامات:
    453
    موصول شکریہ جات:
    915
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    یوسف علیہ السلام کی تبلیغ کے نتیجے میں جب بادشاہ مسلمان ہوگیا تو مزید بحث فضول ہے۔آپ نے خود ہی بیان کردیا کہ شیخ صلاح الدین یوسف نے بادشاہ کو مسلمان قرار دیا ہے۔پس ثابت ہوا کہ مسلمان حکمران کے دیئے ہوئے عہدے کو قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔اگر آج بھی یہ طاغوتی حکمران اللہ کی شریعت کو حاکم مان لیں اور اس کا مکمل نفاذ کردیں تو ان کی حکومت میں شامل ہونا کوئی برائی کی بات نہیں ہے۔
     
  2. ‏اپریل 10، 2013 #42
    محمد عاصم

    محمد عاصم مشہور رکن
    جگہ:
    گجرات
    شمولیت:
    ‏مئی 10، 2011
    پیغامات:
    236
    موصول شکریہ جات:
    999
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    بھائی آپ نے الزام تو لگا دیئے مگر اپنے موقف پر ایک بھی دلیل دینے سے قاصر رہے دوسروں پر الزام لگانا آسان اور ان کو ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے آپ کے استدال کو میں قرآن کی آیات سے ہی غلط ثابت کرونگا ان شاءاللہ
    آپ نے لکھا ہے کہ
    اب میں قرآن کے ہی الفاظ پیش کرنے لگا ہوں جس میں اس مانگنے کی وضاحت ہو جائے گی ان شاءاللہ
    وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِيْ بِهٖٓ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِيْ ۚ فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِيْنٌ اَمِيْنٌ 54؀
    بادشاہ نے کہا انہیں میرے پاس لائو ’’ تاکہ میں ان کو اپنے لیے مخصوص کر لوں۔‘‘ جب یوسف نے اس سے گفتگو کی تو اس نے کہا ’’ اب آپ ہمارے ہاں قدر و منزلت رکھتے ہیں اور آپ کی امانت پر پورا بھروسا ہے۔‘‘ (54)
    اس آیت سے بات واضح ہو رہی ہے کہ بادشاہ کا اپنا بھی ارادہ تھا کہ یوسف علیہ السلام کو اپنے لیئے خاص کرلوں، اور پھر یوسف علیہ السلام سے کہا کہ اب آپ ہمارے ہاں قدر و منزلت رکھتے ہیں اور آپ کی امانت پر پورا بھروسا ہے۔۔۔ اب اس ساری پوزیشن کو دیکھتے ہوئے یوسف علیہ السلام نے کہا کہ
    قَالَ اجْعَلْنِيْ عَلٰي خَزَاۗىِٕنِ الْاَرْضِ ۚ اِنِّىْ حَفِيْظٌ عَلِيْمٌ 55؀
    یوسف علیہ السلام نے کہا ، ’’ ملک کے خزانے میرے سپرد کیجیے ، میں حفاظت کرنے والا بھی ہوں اور علم بھی رکھتا ہوں۔‘‘ (55)
    اگر آپ اس آیت سے یہ مراد لیتے ہیں کہ آپ نے صرف وزارتِ خزانہ مانگی تھی تو یہ آپ غلط سمجھ رہے ہیں آگے کی آیات بھی پڑھ لیں اور پھر خود انصاف کریں کہ اس سے مراد صرف وزارتِ خزانہ ہے؟؟؟
    وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ فِي الْاَرْضِ ۚ يَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَاۗءُ ۭ
    اسی طرح ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو ملک کا قبضہ دے دیا کہ وہ جہاں کہیں چاہے رہے سہے
    اور اس طرح ہم نے یوسف کو اقتدار سے نواز دیا اس سرزمین میں، اس میں آپ جہاں چاہیں رہیں سہیں
    اور یوں قدرت دی ہم نے یوسف کو اس زمین میں جگہ پکڑتا تھا اس میں جہاں چاہتا
    اس طرح ہم نے یوسف کو سر زمین (مصر) میں اقتدار بخشا کہ اس میں جہاں چاہے رہے سہے
    اور ہم نے اس طور پر یوسف کو اس ملک میں بااختیار بنا دیا کہ اس میں جہاں چاہے رہے
    اس طرح ہم نے اس سر زمین میں یوسف کے لیے اقتدار کی راہ ہموار کی ۔ وہ مختار تھا کہ اس میں جہاں چاہے اپنی جگہ بنائے
    اور یوں ہی ہم نے یوسف کو اس ملک پر قدرت بخشی اس میں جہاں چاہے رہے
    اس طرح ہم نے یوسف کو اس سرزمین میں اقتدار عطا کیا، وہ جہاں چاہتے رہتے
    اور اس طرح ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو ملک (مصر) میں اقتدار بخشا (تاکہ) اس میں جہاں چاہیں رہیں
    اور اسی طرح ہم نے اس سرزمین میں یوسف کو اقتدار عطا فرمایا، اس میں سے جہاں چاہتا جگہ پکڑتا تھا۔
    اور اس طرح ہم نے یوسف کو زمین میں اختیار دے دیا کہ وہ جہاں چاہیں رہیں
    لو بھائی یہ گیاراں علماء کے تراجم آپ کے سامنے ہیں ان میں سے ایک بھی آپ کے موقف کی تائید نہیں کر رہا کیا یہ سب غلط اور آپ ٹھیک ہیں؟؟؟ آپ اس آیت کا کیا ترجمہ کریں گے؟؟؟
    اسی سورہ میں آگے چل کر اللہ کے ارشادات ہیں کہ
    قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَلِمَنْ جَاۗءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِيْرٍ وَّاَنَا بِهٖ زَعِيْمٌ 72؀
    انہوں نے کہا ہمیں بادشاہ کا کٹورا نہیں ملتا جو اسے لا ئے گا ایک اونٹ بھر کا غلہ پائے گا اور میں اس کا ضامن ہوں
    قَالُوْا يٰٓاَيُّهَا الْعَزِيْزُ اِنَّ لَهٗٓ اَبًا شَيْخًا كَبِيْرًا
    انہوں نے کہا اے عزیز مصر! اس کے والد بہت بڑی عمر کے بالکل بوڑھے شخص ہیں
    فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَيْهِ قَالُوْا يٰٓاَيُّهَا الْعَزِيْزُ مَسَّنَا وَاَهْلَنَا الضُّرُّ
    پھر جب یہ لوگ یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو کہنے لگے کہ اے عزیز! ہم کو اور ہمارے خاندان کو دکھ پہنچا ہے 88
    وَرَفَعَ اَبَوَيْهِ عَلَي الْعَرْشِ وَخَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا ۚ
    اور اپنے تخت پر اپنے ماں باپ کو اونچا بٹھایا اور سب اسکے سامنے سجدے میں گر گئے 100
    رَبِّ قَدْ اٰتَيْتَنِيْ مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِيْ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ ۚ
    اے میرے پروردگار! تو نے مجھے ملک عطا فرمایا اور تو نے مجھے خواب کی تعبیر سکھلائی 101

    لو بھائی اللہ نے تو یوسف علیہ السلام کو بادشاہ کہا عزیز مصر کہا اور یوسف علیہ السلام نے خود کہا کہ اللہ تو نے مجھے ملک عطاء کیا، اور آپ ان کو وزارتِ خزانہ کا امیر بنا رہے ہیں!!!
    آپ ان آیات کی کیا تاویلات پیش کرنا چاہتے ہیں؟؟؟ جو آیات واضح نص ہیں ان کا آپ کیسے توڑ مروڑ کرتے ہیں ہمیں بھی بتائیں؟؟ مجھ پر تو الزامات کا دفتر لگا دیا اب یہ آپ پر لازم ہے کہ ان قرآنی نصوص کا رد کریں یا اپنے موقف کو قرآن کے مطابق بنائیں جزاک اللہ خیراً
    آپ کی باقی باتوں کا جواب کل لکھونگا ان شاءاللہ
     
  3. ‏اپریل 10، 2013 #43
    کیلانی

    کیلانی مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 24، 2013
    پیغامات:
    347
    موصول شکریہ جات:
    1,101
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    ماشااللہ آپ دوسروں کا مؤقف خوب سمجھ لیتے ہیں جس وجہ سے ان کی کلام کے اندر دلائل نظر نہیں آتے میراخیال ہے مسلےکی خرابی اسی جہ سے پیداہوئی ہےکہ آپ نے اپنی بنائے استدلال اردوتراجم کو ٹھرایاہے۔محترم بھائی جان یہ جو آپ نے لفظ مکنا کےاتنےسارےترجمے پیش کئے ہیں۔ ٹھیک ہےکہ ان میں اقتدار واختیار کےالفاظ آئے اب آپ ہی بتائیں کیاوزیر خزانہ صاحب اقتدار واختیار نہیں ہوتا؟ امام راغب فرماتے ہیں
    مكن : المكان عند أهل اللغة الموضع الحاوي للشيء ، وعند بعض المتكلمين أنه عرض وهو اجتماع جسمين حاو ومحوي وذلك أن يكون سطح الجسم الحاوي محيطا بالمحوي ، فالمكان عندهم هو المناسبة بين هذين الجسمين ، قال { مكانا سوى } - { وإذا ألقوا منها مكانا ضيقا } ويقال : مكنته ومكنت له فتمكن ، قال { ولقد مكناكم في الأرض } - { ولقد مكناهم فيما إن مكناكم فيه } - { أو لم نمكن لهم } - { ونمكن لهم في الأرض } - { وليمكنن لهم دينهم الذي ارتضى لهم } وقال { في قرار مكين } وأمكنت فلانا من فلان ، ويقال : مكان ومكانة ، قال تعالى { اعملوا على مكانتكم } وقرئ / < على مكاناتكم > / وقوله { ذي قوة عند ذي العرش مكين } أي متمكن ذي قدر ومنزلة . ومكنات الطير ومكناتها مقاره ، والمكن بيض الضب وبيض مكنون . قال الخليل : المكان مفعل من الكون ولكثرته في الكلام أجري مجرى فعال فقيل : تمكن وتمسكن نحو تمنزل . اس ساری عبارت کاخلاصہ یہ ہےکہ مکان کا لفظ دو معانی کے لئے بولاجاتاہےایک جگہ کے لئے اوردوسراکسی بھی مقام مرتبہ کیلے یعنی کسی بھی انتظامی عہدے پر فائض ہونےکے بعد اپنے امور پر جب گڑفت اچہی طرح مضبوط ہوجائے تو اسے تمکین کہتے ہیں۔توحضرت یوسف بھی وزیر خزانہ بنے امام رازی اس کی تفسیر یہ فرماتے ہیں أي كما أنعمنا عليه بالسلامة من الجب مكناه بأن عطفنا عليه قلب العزيز کہ جس طرح ہم نے یوسف پر یہ احسان کیا کہ اسے کنوے سے محفوظ نکالا اسی طرح ہم نے اسے مصر میں ایک مقام ومرتبہ دیا وہاں کےبادشاہ کےدل کو اس پرنرم کرکے ۔
     
  4. ‏اپریل 10، 2013 #44
    ابو مالک

    ابو مالک رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 05، 2012
    پیغامات:
    115
    موصول شکریہ جات:
    453
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    آپ نے دعویٰ کیا تھا کہ حافظ صلاح الدین صاحب نے اس بات کو راجح قرار دیا ہے کہ بادشاہ مسلمان ہوگیا تھا، جس پر میں نے عرض کیا تھا کہ اسے حافظ صاحب نے راجح قرار نہیں دیا بلکہ بعض کے حوالے سے ایک قول بیان کیا ہے۔
    میں نے آپ سے مطالبہ کیا تھا کہ آپ اپنے دعوے کا حوالہ پیش کریں جو افسوس کہ آپ پیش نہیں کر سکے۔

    دوسروں کی عبارت سے من مانے مفہوم نکالنے میں شائد کوئی آپ کا ثانی نہیں۔ یا شائد آپ نے میری پوسٹ پڑھنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی۔

    دوبارہ پڑھ لیجئے!
    تو سیدنا یوسف علیہ السلام بعض مصلحتوں کی بناء پر کافر حکومت میں کیوں شامل ہوئے؟ یہی تو سوال ہے!
     
  5. ‏اپریل 11، 2013 #45
    محمد عاصم

    محمد عاصم مشہور رکن
    جگہ:
    گجرات
    شمولیت:
    ‏مئی 10، 2011
    پیغامات:
    236
    موصول شکریہ جات:
    999
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    بھائی جان کیا ہم ایک دوسرے پر الزامات لگائے بنا بات نہیں کرسکتے؟؟؟ آپ نے پہلے جو لکھا سو لکھا اب پھر وہی لہجا، کیا اس طرح ہم دوسرے کو لوگوں کی نظروں میں گرا کر اپنا مقام و مرتبہ بڑھانا چاتے ہیں؟؟؟
    آپ لوگ عالم ہو گے مفتی ہو گے مگر میری نظروں میں آپ لوگوں کی قدر تب بنے گی جب آپ لوگ اپنے قیاس و اجتہاد کی دلیل قرآن و حدیث سے پیش نہیں کردیتے یوں دوسرے پر الزامات لگانے سے کچھ حاصل نہ ہوگا جو آپ اسی روش کو اپنائے ہوئے ہیں۔
    آپ نے دوسرے مراسلے میں لکھا ہے کہ
    اور حقیقت یہ ہے کہ آپ نے مجھے اپنے مؤقف کی کوئی دلیل پیش ہی نہیں کی، میں آپ کا اعتراض مکمل متن کے ساتھ پیش کر دیتا ہوں اور آپ مجھے بتائیں کہاں دلیل دی ہے جو مجھے نظر نہیں آئی؟
    اس ساری تحریر میں آپ کا فہم تو ہے مگر قرآن و حدیث سے دلیل نظر نہیں آ رہی پھر بھی آپ کا یہ کہنا کہ
    چلو میں ان پڑھ سہی عربی سے ناوقف سہی تو مجھے اپنے بارے بتائیں کہ آپ نے عربی زبان پڑھ سیکھ کر کونسا تیر مارا ہے؟ اور کیا عربی سیکھ لینے سے انسان صحیح العقیدہ بن جاتا ہے اگر ایسا ہی ہے تو جو عربی لوگ شیعہ ہیں ان کے کفر کی کیا وجہ بنی؟؟؟ دوسرے کو اپنے سے علم میں کمتر سمجھنے سے پہلے اس کے دلائل کا رَد تو کر دیتے بھائی جان آپ نے صرف لفظ مکنا کے کئی ایک مفاہیم سامنے لائے ہیں جو کہ بالکل ٹھیک ہیں اس میں کوئی بحث نہیں ہے مگر جو باقی آیات پیش کی ہیں جن میں بادشاہ اور عزیز مصر کا ذکر ہے مثلاً
    قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَلِمَنْ جَاۗءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِيْرٍ وَّاَنَا بِهٖ زَعِيْمٌ 72؀
    انہوں نے کہا ہمیں بادشاہ کا کٹورا نہیں ملتا جو اسے لا ئے گا ایک اونٹ بھر کا غلہ پائے گا اور میں اس کا ضامن ہوں
    قَالُوْا يٰٓاَيُّهَا الْعَزِيْزُ اِنَّ لَهٗٓ اَبًا شَيْخًا كَبِيْرًا
    انہوں نے کہا اے عزیز مصر! اس کے والد بہت بڑی عمر کے بالکل بوڑھے شخص ہیں
    فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَيْهِ قَالُوْا يٰٓاَيُّهَا الْعَزِيْزُ مَسَّنَا وَاَهْلَنَا الضُّرُّ
    پھر جب یہ لوگ یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو کہنے لگے کہ اے عزیز! ہم کو اور ہمارے خاندان کو دکھ پہنچا ہے 88
    وَرَفَعَ اَبَوَيْهِ عَلَي الْعَرْشِ وَخَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا ۚ
    اور اپنے تخت پر اپنے ماں باپ کو اونچا بٹھایا اور سب اسکے سامنے سجدے میں گر گئے 100
    رَبِّ قَدْ اٰتَيْتَنِيْ مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِيْ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ ۚ
    اے میرے پروردگار! تو نے مجھے ملک عطا فرمایا اور تو نے مجھے خواب کی تعبیر سکھلائی 101
    ان کا کوئی جواب نہیں دیا آپ نے ایسا کیوں؟؟؟
    اور آپ کو بتاتا چلوں کہ میں ابو عمر الکویتی حفظہ اللہ کے ساتھ کافی وقت گزار چکا ہوں انہوں نے ایک کتاب میراث الانبیاء کے نام سے بھی لکھی ہے میں نے طاغوت اور جمہوریت کا رَد، اور توحید کے مسائل ان عربوں سے ہی سیکھے ہیں الحمدللہ۔
     
  6. ‏اپریل 12، 2013 #46
    محمد عاصم

    محمد عاصم مشہور رکن
    جگہ:
    گجرات
    شمولیت:
    ‏مئی 10، 2011
    پیغامات:
    236
    موصول شکریہ جات:
    999
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    بھائی جان آپ نے کچھ ایسی باتیں کی ہیں جو مجھ نا سمجھ کی سمجھ میں نہیں آ رہی ہیں اور جو میں ان کو سمجھ سکا ہوں اس کے مطابق آپ کی باتیں یہ ثابت کرتیں ہیں کہ آپ اسلام کے اہم پہلو یعنی اسلام بطورِ نظام حیات کےبارے غلط فہمیوں میں مبتلا ہیں آپ کی نظر میں نظام کوئی بھی ہو اس میں شمولیت اختیار کی جاسکتی ہے اسلام کے نظام حیات کو پس پشت ڈال کر، جبکہ میں سمجھتا ہوں کہ اسلام صرف نماز روزہ حج زکوۃ کا ہی نام نہیں ہے بلکہ ان عبادات کے ساتھ ساتھ اسلامی نظام کو اپنانا بھی اتنا ہی ضروری اور فرض ہے جتنا کہ یہ سب عبادات جس طرح ان عبادات سے صرفِ نظر سے اللہ کی ناراضگی ملتی ہے اسی طرح اسلامی نظام سے روگردانی پر اللہ کی ناراضگی ملتی ہے کیونکہ صرف اور صرف اسلامی نظام حیات ہی ایسا نظام ہے جو ہر معاملے میں رہنمائی فراہم کرئے معیشت، معاشرت کو چلائے، عدل و مساوات فراہم کرئے، ایسا ہر گز نہیں ہے کہ ہم نماز تو اللہ کے لیئے پڑھیں مگر اپنے تنازعات میں حاکم کسی غیراللہ کے آئین کو بنائیں، ہم حج تو اللہ کے لیئے ادا کریں مگر حقِ وفاداری کسی طاغوتی آئین کے لیئے ٹھہرائیں، ہم روزہ تو اللہ کے لیئے رکھیں مگر نظامِ حیات کافروں کا بنایا اپنائیں بھائی ایسا ہرگز ہر گز جائز نہیں ہے اسلام مکمل ہی اس وقت ہوتا ہے جب ہم اس کے نظام حیات کے ساتھ اس کو اپنائیں۔
    جب جنات ، انسان ، زمین اور سب کائناتیں اللہ نے تخلیق کی ہیں تو یہ حق بھی اللہ کا ہی ہے کہ اس کا نازل کردہ نظام اس دنیا میں رائج ہو۔
    روس اپنا نظام اشتراکیت طاقت کے زور پر قائم کر نا چاہتا ہےاور امریکہ اپنا نظام جمہوریت طاقت کے زور پر قائم کرنا چاہتا ہے اور وہ عراق، افغانستان، مصر، تیونس اور لیبیا میں طاقت کے زریعے جمہوریت کو قائم بھی کر چکا ہے اب مزید آگے نظر رکھے ہوئے ہے، تو سمجھ نہیں آتی کہ مسلمان کیوں کافروں کے نظام کو نافذ کرنا چاہتے ہیں؟؟؟ اسلامی نظام کو آخر کیوں نافذ نہیں کرنا چاہتے؟؟؟ اگر اسلامی نظام کی مخالفت اور کافرانہ نظام کو مصلحتاً اپنانے والے جاہل لوگ ہوتے تو دکھ کی بات نہیں تھی مگر بھائی جان یہاں تو قرآن و حدیث کا دعویٰ کرنے والے بھی کافروں کے نظام کو اپنانے کے لیئے تاویلوں مصلحتوں کا سہارا لے رہے ہیں ان کے کرنے کا کام تو یہ تھا کہ یہ لوگ مسلمانوں میں خلافت کے احیاء کی جدوجہد کرتے مگر افسوس کہ انہوں نے کافروں کے نظام کو ہی اسلامی بنانے کی فکر کی اور اسی کی دعوت و تبلیغ میں ابھی تک مگن ہیں،
    ہم کو اللہ سے ڈر جانا چاہیے ایک تو ہم اللہ کے نازل کردہ نظام کو قائم نہیں کر رہے دوسرا جرم یہ کہ ہم کافروں کے نظام کو نافذ کرنے والوں میں شامل ہیں تیسرا جرم کافروں کے نظام کو اسلام کا ہی نظام کہنے لگے ہیں چوتھا جرم خود تو اس گناہ میں مبتلا ہیں ہی ساتھ لوگوں کو بھی اس میں مبتلا کر رہے ہیں، کل قیامت کے دن ہم اللہ کو کیا جواب دیں گے؟؟؟ اگر ایک مسلم خلافت کے احیاء کی اپنی سی کوشش کرتا ہے مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہوتا کل قیامت کے دن وہ کہہ سکتا ہے کہ یا اللہ میں نے اپنی استطاعت بھر کوشش کی، مگر جو کافروں کے نظام کو ہی اسلامی کہنے والا ہوگا وہ کیا جواب دے گا؟؟؟
    هُوَ الَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّهٖ ۭ وَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًا 28؀ۭ الفتح آیت نمبر 28
    هُوَ الَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّهٖ ۙ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ Ḍ۝ۧ الصف آیت 9
    ان دو آیات میں حکم دیا گیا کہ اس دین کو باقی تمام ادیان پر نافذ، غالب کرنے کے لیئے نازل کیا گیا ہے
    اب کوئی بھائی بتائے گا کہ اس دین کو کیسے باطل ادیان پر غالب کیا جائے گا؟؟؟
    نمبر1۔ دینا میں جتنے بھی ادیان ہیں ان کو ماننے والے سبھی لوگوں کو زبردستی مسلمان بنا کر؟
    نمبر 2۔ سب انسانوں کو نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ کا پابند بناکر؟؟؟
    نمبر 3۔ دنیا میں بسنے والے سبھی مذاہب کے لوگوں کو حق دے کر کہ وہ اپنے دین کے مطابق عمل کریں مگر نظام حیات جو اللہ نے دیا ہے کے تحت رہیں، مغلوب ہو کر، جزیہ دے کر ؟؟؟
    جو ہمیں سلف صالحین سے ملتا ہے وہ یہی طریقہ ہے کہ کسی کو بھی زبردستی مسلمان نہیں کیا گیا سب مذاہب والوں کو آزادی تھی اپنے دین پر عمل کرنے کی مگر مغلوب بن کر نہ کہ حاکم بن کر۔
    آج معاملہ الٹ ہے مسلمان مغلوب ہیں اور کافر غالب وجہ یہی ہے کہ اسلام کا نظام نہیں رہا امت کو متحد رکھنے والا خلیفہ ہی نہیں رہا، کہاں لاکھوں کلومیٹر میں پھیلی خلافت کا ایک ہی نظام اور کہاں اب اسی خلافت کے رقبہ میں درجنوں چھوٹی چھوٹی ریاستیں جن پر مفاد پرست، اسلام دشمن نامنہاد مسلمان حکمرانی کر رہے ہیں، اتحاد نام کی کوئی چیز بھی ان میں نہیں ہے ہاں اتحادی ہیں تو کافروں کے مسلمانوں کی جان کے دشمن، حال ہی میں مالی میں اسلام پسندوں نے چھوٹے سے علاقے میں اسلامی قوانین نافذ کیے تو انہی نامنہاد مسلمان حکمرانوں نے کافروں کے ساتھ مل کر اسلامی قوانین نافذ کرنے والوں کا قتل عام کیا اور دوبارہ وہاں کافروں کے قوانین نافذ کر دیئے گے ان سب واقعات کو دیکھ کر بھی مسلمان علماء جمہوری کفریہ نظام کو سپوٹ کریں تو بتائیں عام آدمی کا کیا حال ہوگا؟؟؟
    آج کافر قومیں مسلمانوں کا قتل عام کر رہی ہیں ہر روز سینکڑوں مسلمان قتل ہو رہے ہیں کسی کو کوئی درد محسوس نہیں ہوتا سبھی اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہیں مگر ایک وقت تھا جب خلافت قائم تھی امت مسلمہ کا سر خلیفہ موجود تھا اس نے ایک مظلوم مسلمان عورت کی پکار پر ہندوستان پر حملہ کر دیا تھا اور آج ایک دردِ دل رکھنے والا مسلمان صرف خون کے آنسو رو سکتا ہے مگر مظلوم مسلمانوں کی مدد نہیں کرسکتا کیونکہ جس اتھارٹی نے مظلوموں کی مدد کرنے کا بندوبست کرنا تھا وہ اتھارٹی کافروں نے ختم کردی ہوئی ہے اور اس اتھارٹی پر اپنے ایجنٹ بٹھا دیئے ہیں جو کافروں کے ہمدرد ہیں اور مسلمانوں کے جانی دشمن مثالیں لکھنے لگوں تو کئی صفحات لکھے جاسکتے ہیں یہ ظلم کی داستانیں ہیں ان کو لکھنے اور پڑھنے کے لیئے بھی پتھر کا دل چاہیئے، آجکل کی تازہ قتل گاہیں برما، بنگلادیش، بھارت، پاکستان، افغانستان، شام، فلسطین، عراق، افریقہ کے ممالک، میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر مسلمانوں کے پاس آج بھی خلافت کا نظام ہوتا تو کافروں کی کیا مجال کہ کسی ایک بھی مسلمان کو ناحق قتل کرسکتے کیونکہ امتِ مسلمہ کا سر خلیفہ موجود ہوتا جس نے مظلوموں کا ساتھ دینا تھا، کافروں کو قتل کرنا تھا، مگر آج کے حکمران !!!اللہ ہم کو ان ایجنٹوں سے نجات دے یہ کافروں کے محافظ اور مسلمانوں کے قاتل ہیں۔
    کیلانی بھائی آپ نے لکھا ہے کہ
    اگر یہ ایسا ہی ہے تو ان آیات کا کیا مقصد؟؟؟
    ۭوَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ 44؀
    ۭ وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ 45؀
    وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ 47؀المائدہ
    بقول آپ کے کہ نظام اور قانون کی بذات خود کوئی حیثیت نہیں،
    تو اللہ ایسے لوگوں کو کافر، ظالم اور فاسق کیوں کہہ رہا ہے جو اللہ کے قوانین کے مطابق فیصلے نہیں کرتے؟؟؟
    آپ نے لکھا ہے کہ
    اگر یہی دین کا اصل مقصد ہے تو یہ مقصد تو یہود و نصاریٰ بھی پورا کر رہے ہیں اللہ کا ارشاد ہے کہ
    وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ يُذْكَرُ فِيْهَا اسْمُ اللّٰهِ كَثِيْرًا
    اور اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا رہتا تو (راہبوں کے) صومعہ اور (عیسائیوں کے) گرجے اور یہودیوں کے عبادت خانے اور مسلمانوں کی مسجدیں جن میں اللہ کا بہت سا ذکر کیا جاتا ہے ویران ہو چکی ہوتیں ۔۔۔۔الحج آیت 40
    اس آیت سے پتا چلتا ہے کہ اللہ کی عبادت تو دوسرے مذاہب والے بھی کرتے ہیں تو اصل مقصد صرف نماز، روزہ، حج اور زکوۃ ہی نہیں ہے بلکہ ان کے ساتھ اللہ کا دیا نظام بھی قائم کرنا ہے تبھی دین مکمل ہوگا کیونکہ جب اللہ کے نبی ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی
    اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا ۭ
    آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کردیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کردیں اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا۔ المائدہ آیت 3
    اس آیت میں اسلام کو بطورِ دین کہا گیا ہے بطور مذہب نہیں،مذہب چند عبادات کے طریقوں کو کہتے ہیں اور دین مکمل نظام حیات ہوتا ہے اور جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس وقت اسلام بطورِ نظام حیات نافذ تھا، نماز روزہ حج اور زکوٰۃ کے ساتھ ساتھ نظام خلافت بھی قائم تھا اگر آج ہم نظام حیات اسلام کا نہ اپنائیں اور صرف عبادات ہی کرتے رہیں تو کیا ایسا دین اللہ ہم سے قبول فرمائے گا؟؟؟ بلکہ اسلام کے نظام حیات کے مقابل ہم کافروں کے نظام حیات کو اپنائیں تو بتائیں اللہ کیسے ہمارا دین قبول فرمائے گا جبکہ اللہ نے صاف فرما دیا ہے کہ
    وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ ۚ وَھُوَ فِي الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ 85؀
    اور جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کا طالب ہوگا وہ اس سے ہرگر قبول نہیں کیا جائیگا اور ایسا شخص آخرت میں نقصان اٹھانیوالوں میں ہوگا۔ آلِ عمران آیت 85
    یہاں ایک اور چھوٹا سا مسئلہ بھی بیان کردوں کہ زکوٰۃ صرف بیت المال میں جمع کروائی جاتی تھی یہ کام خلیفہ کا تھا کہ اس کو اللہ کی مقرر کی ہوئی جگہوں پر خرچ کرئے اگر خلافت کا نظام نہیں تو زکوۃ شرعی طریقے کے مطابق ادا کی ہی نہیں جاسکتی، عبادات کا جو سنت طریقہ ہے صرف اسی طریقہ سے عبادات کی جائے تو قبول ہوتی ہے جیسے ہم لوگ نماز، روزہ اور حج میں سنت کو مقدم رکھتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ زکوٰۃ کے معاملے میں ہم لوگ سنت کو پسِ پشت ڈال رہے ہیں اور وہ بھی ایک لمبے عرصہ سے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ تو بھائی جان اس سے بھی یہ بات واضح ہوئی کہ دین پر مکمل عمل تب ہی ممکن ہوگا جب ہم خلافت کو قائم کرلیں گے، ایک خطرناک پہلو اور بھی ہے خلیفہ نہ ہو تو۔
    نبی ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ
    وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً
    اور جو اس حال میں مرا کہ اسکی گردن میں (خلیفہ کی) بیعت نہ تھی وہ جاہلیت کی موت مرا۔ صحیح مسلم
    یعنی جس کسی نے خلیفہ کی بیعت نہ کی اور اسی حالت میں مر جائے تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی۔
    اب میں اہل علم سے یہ پوچھتا ہوں کہ کیا یہ حدیث اور اس سے ملتی جلتی درجنوں احادیث موضوع ہیں جو ان پر عمل نہیں کیا جاتا چاہیئے تو یہ تھا کہ اہل علم لوگ اس مسئلے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے خلیفہ کے تقرر کی کوشش کرتے مگر اس کے خلاف عمل کیا گیا کہ عوام کو کافروں کے ہی نظام پر تاویلات پیش کرکے مطمئن کرنے کی کوشش کی گئی کیا یہ اہل علم لوگ کل قیامت کے دن اللہ کے حضور سر خرو ہوسکیں گے؟ ہمیں کم علم، نااہل کہہ کر جان چھڑا لیں گے اللہ کو کیا جواب دیں گے؟؟؟ میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت سب سے اہم اور بنیادی کام خلافت کے نظام کو قائم کرنا ہے اس کام کو پس پشت ڈالنا اللہ کی ناراضگی مول لینا ہے، اس وقت جو مسلمانوں کا قتل عام جاری ہے یہ اللہ کی طرف سے ایک عذاب کی صورت بھی ہوسکتا ہے اس لیے اگر اللہ کے عذاب سے بچنا چاہتے ہیں تو متحد ہو جائیں اختلافی مسائل میں قرآن و صحیح حدیث کو حاکم بنائیں جو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہو وہ لے لیں باقی کو چھوڑ دیں،کافروں کو جو یہ ہمت ملی ہے ہمیں قتل کرنے کی اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم متحد نہیں ہیں علاقوں، قوموں اور مسلکی گروہوں میں بٹے ہیں مگر آج کا کافر متحد ہے، ہندو، سکھ، عیسائی اور یہودی یہ مختلف مذاہب کے ماننے والے مگر اس کے باوجود سب مل جل کر مسلمانوں کو قتل کر رہے ہیں اور ایک ہم ہیں کہ ایک اللہ کو مانتے ہیں، ایک ہی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے والے، ایک ہی کتاب کے پیروکار آپس میں متحد نہیں ہیں تو ایسی صورت میں اللہ کی مدد و نصرت کیسے آئے گی؟؟؟
    اگر ہم آج بھی ایسے شخص کے ہاتھ پر بیعت کرلیں جو اس کا اہل ہو اور پھر اس خلیفہ کے ہاتھ مضبوط کریں پھر سے مقبوضہ علاقے خلافت میں داخل کرکے وہی نقشہ بنالیں جو کبھی اسلام کی شان ہوا کرتا تھا [​IMG]
    پھر میں دیکھونگا کیسے کافر مسلمانوں کا قتل عام کرتے ہیں؟؟؟
     
  7. ‏اپریل 12، 2013 #47
    محمد عاصم

    محمد عاصم مشہور رکن
    جگہ:
    گجرات
    شمولیت:
    ‏مئی 10، 2011
    پیغامات:
    236
    موصول شکریہ جات:
    999
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    اور یہ بھی دیکھیں بنگلادیش میں جمہوریت پسند نامنہاد مسلمان حکمران کس طرح اسلام کا نام لینے والوں کو قتل کر رہے ہیں [video]http://www.facebook.com/photo.php?v=434459969977743&set=vb.131796530244090&type=2&theater[/video] جمہوری نظام ایک شیطانی نظام ہے، ایک درندہ صفت اور سفاک نظام ہے مگر اس کو اسلامی بناکر پیش کیا جارہا ہے!!!!
    [​IMG]
    اور ہمارے مصلحت پسند اہل علم لوگ اللہ جانے کب اس کفریہ نظام کے خلاف ہوں گے اور اسلامی نظام حیات کو قائم کرنے کی کوشش کرئیں گے؟؟؟
     
  8. ‏اپریل 12، 2013 #48
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437


    یوسف علیہ السلام پر کون سی آسمانی کتاب نازل ہوئی تھی؟؟؟۔۔۔
     
  9. ‏اپریل 12، 2013 #49
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    پہلے ہم اس بات کا تعین تو کرلیں کے ہم کس نظام کے متحمل ہیں۔۔۔
    اگر اسلام نے مسلمانوں کو خلافت کا نظام دیا ہے تو پھر آپ کو اور ہمیں ہر اُس نظام کے خلاف زبان دراز کرنی ہوگی۔۔۔
    جو مختلف اسلامی ممالک میں رائج ہیں۔۔۔ اب یہاں سب سے پیچیدہ مسئلہ جو ہمارے سامنے ہے وہ ہے خلافت کا مرکز۔۔۔
    اور وہ ہے سرزمین حرمین۔۔۔ تو پھر ایک کام کرتے ہیں ٹیم تیار کرتے ہیں۔۔۔ اُن تمام افراد کی اور عمرہ ویزہ لگوا کر چلتے ہیں۔۔۔
    وہاں جاکر جو موجودہ نظام رائج ہے اس نظام کا خلاف اسلام ہونا وہاں کے حکمرانوں سے ملاقات کرتے ہیں۔۔۔ پھر بتاتے ہیں۔۔۔
    انہیں سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔کے تم نے ڈالر کو تین پچھتر پر روک رکھا ہے اور ہمارا دیوالیہ نکل گیا ہے۔۔۔
    سو سے اوپر جارہا ہے۔۔۔ مان گئے تو خلافت کے لئے خلیفہ کا تعین اس پر ہمیں ایک لائحہ عمل طے کرنا ہوگا۔۔۔
    اور وہ ہوجانے کے بعد ہر وہ علاقہ جہاں پر مسلمان آباد ہیں وہاں پر گورنر کے تعین کا طریقہ کار۔۔۔ وہ بھی سوچنا ہے۔۔۔
    ایک کوشش کرلیتے ہیں۔۔۔ بچ گئے تو غازی ورنہ غازی کی ضد تو ہمیں پتہ ہی ہے۔۔۔
    اور تدفین کھلا سمندر۔۔۔ اس کے بعد کچھ دن ذکر ہوگا۔۔۔ پھر الیکشن کی گھما گھمی اور سب بھول جائیں گے۔۔۔
    لوگ روٹی کپڑا اور مکان بجلی، گیس، نوکری، علاج کی سہولت اس کے حصول میں پڑ جائیں اور ہماری اولادیں چھپتی پھریں گی۔۔۔
     
  10. ‏اپریل 12، 2013 #50
    فیض اللہ

    فیض اللہ رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 25، 2013
    پیغامات:
    94
    موصول شکریہ جات:
    223
    تمغے کے پوائنٹ:
    32

    کنعان صاحب اور حرب بن شداد صاحب کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اسلامی مسائل کا حل مینیجمنٹ اور فنانس کے اصولوں سے کرنا چاہتے ہیں
    اللہ کے بندو اسلامی مسائل کا حل قران و سنت میں ہے نہ کہ مینیجمنٹ اور فنانس کے اصولوں میں
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں