1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حالت قومہ میں ہاتھ کھلے رکھنے اور باندھنے کے متعلق وضاحت

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از Dua, ‏مئی 21، 2014۔

  1. ‏مئی 21، 2018 #11
    اللہ کا بندہ

    اللہ کا بندہ مبتدی
    شمولیت:
    ‏اپریل 11، 2018
    پیغامات:
    8
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    4

    دائمی فتوی کمیٹی کے علمائے کرام کا کہنا ہے:
    "نماز میں ہاتھ باندھنے کا طریقہ یہ ہے کہ: دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہاتھ پر رکھا جائے، جبکہ "سدل" یہ ہے کہ ہاتھوں کو پہلوؤں کی طرف لٹکا دیا جائے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں قراءت کے وقت اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا ، اور اسی طرح رکوع سے اٹھنے کے بعد قومہ کی حالت میں بھی اسی طرح ہاتھ باندھے، اس عمل نبوی کو احمد، اور مسلم نے وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں:
    "انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتدائے نماز میں تکبیر کیساتھ رفع الیدین کرتے ہوئے دیکھا، پھر آپ نے اپنا کپڑا [اوپر لی ہوئی چادر وغیرہ]سمیٹ کر اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا، اور جس وقت رکوع میں جانے لگے تو کپڑے کے اندر سے ہاتھ باہر نکال کر رفع الیدین کیساتھ تکبیر کہی ، اور رکوع میں چلے گئے، پھر جب "سمع اللہ لمن حمدہ" کہا تو پھر رفع الیدین کیا، اور جب آپ سجدے میں گئے تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان سجدہ فرمایا"
    اور احمد و ابو داود کی حدیث میں الفاظ یوں ہیں: "آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کی ہتھیلی، پَہُنچَا[ہتھیلی اور کلائی کا درمیانی جوڑ]، کلائی پر رکھا"
    اور ابو حازم سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ: "لوگوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ ہر شخص نماز میں اپنا دایاں ہاتھ بائیں بازو پر رکھے" ابو حازم یہ بیان کرنے کے بعد کہتے ہیں: مجھے اس عمل کے بارے میں یہی علم ہے کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ہے" احمد ، بخاری

    نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی حدیث میں یہ ثابت نہیں ہے کہ انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں کو نماز میں قیام کے دوران نیچے لٹکایا ہو"
    "فتاوى اللجنة الدائمة" (6/365، 366)
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں