1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حسین خوشبو تھے ...اور خوشبو لٹ گئی ...( رضی اللہ عنہ)

'تاریخ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏اکتوبر 14، 2016۔

موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
  1. ‏اکتوبر 14، 2016 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,869
    موصول شکریہ جات:
    6,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    news-1431357078-1870_large.jpg


    حسین خوشبو تھے ...اور خوشبو لٹ گئی ...( رضی اللہ عنہ)

    ...
    وہ سب اپنے اپنے زمانے کےنبی تھے ، محض اپنے زمانے کے اور اپنی قوم کے نبی - لیکن اب کے اللہ نے ان کو بھیجا اور انہی ہاتھ اپنا سندیسہ بھیجا کہ اب کوئی نہیں آئے گا ، اور اب یہ جو آ گئے ہیں تو جبرائیل بھی نہیں آئے گا
    ایک روز بے برگ و باہ پہاڑ کے پہلو میں غار میں جبرائیل اترے ، تنہائ میں مصروف فکر عبدالمطلب کے فرزند چونک پڑے ، کچھ ڈر سے گئے ، پہلی وحی کا نزول تھا

    ..... "اقراء" ......

    اور یہ ہی اعلان تھا کہ اب آسمان سے روح القدس ، جبرائیل ، فرشتوں کے سردار کسی پر وحی لے کر نہیں اتریں گے

    رب نے موتیوں کی ، اور جواہرات کی اس لڑی کا امام مقرر کر دیا کہ مقتدی پھلے سے آچکے تھے ، یہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تھے - سردار مکہ کے یتیم پوتے ، لیکن ازل تا ابد انسانیت کے فخر اور سب سے افضل

    اک روز ساتھی کے ساتھ مدینے کے راستے میں نکلے ، بچے کھیل رہے تھے ، اک بچہ کچھ الگ سا تھا ، زیادہ پیارا، زیادہ "سوہنا " .... نبی کے قدم ٹھہر گئے ، بچہ بھی کھل اٹھا ، آپ آگے بڑھے کہ بچے کو پکڑ لیں ، بچہ آگے کو بھاگا ، کھیل ہی کھیل میں "پکڑن پکڑائ" شروع ہو گئی ...اور جب یہ کھیل نانا اور نواسے کا ہو تو تو دیر تک نواسہ ہی جیتتا ہے - جانتے ہیں کیوں ؟ ...نانا کا جی کب چاہتا ہے کہ نواسہ ہارے ..... پھر نواسہ نانا کو چمٹ گیا ، ساتھی روایت کرتا ہے کہ نانا نے ایک ہاتھ نواسے کی ٹھوڑی کے نیچے رکھا ، چوما اور پھر صاحب وحی نے کہا کہ جو اپنی مرضی سے نہیں بولتے :

    "حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں ، یا اللہ تو اس سے محبت کر جو حسین سے محبت کرتا ہے ، حسین نواسوں میں سے ایک نواسہ ہے "
    اور پھر ان سے یوں محبت ہوئی کہ مثال نہ ملی ، اس روز بہت مصروف تھے جناب عمر رضی اللہ عنہ کہ حسین چلے آئے ، مصروفیت دیکھ کر جو پلٹے تو امیرالمومنین کو خبر ہو گئی "حسین بیٹا کیوں واپس چل دئیے؟"
    سید نے کہا "آپ مصروف جو تھے"

    "ہمارے سر پر عزت کا جو تاج ہے وہ اللہ کے فضل کے بعد خاندان نبوت کی برکت سے ہی تو ہے"...

    .یہی تو وجہ تھی کہ جب مجوس کا دیس ایران فتح ہوا تو وہاں کی شہزادی قید ہو کر کے آئ تو سیدنا عمر نے اس شہزادی کے لیے مدینے کے شاہزادے کو کہا اور ان کے نکاح میں دے دی ..

    اور حسن و حسین ، کریم ابن کریم تھے نجیب ابن نجیب تھے ، اصحاب رسول سے ملنے والے اس محبت کا ، پیار کا بدلہ اس روز دیا کہ جب باغی مدینے پر چڑھ دوڑے ، خلیفہ کے گھر کا محاصرہ کر لیا - سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے مگر سختی سے اپنے ساتھیوں کو مقابلے میں اترنے سے روک دیا - مگر حسین نہ رہ سکے تھے کس کے نواسے کہ جو بہادری کا استعارہ تھے - تلوار حمائل کی ، اور سیدنا عثمان ، کہ جو ان کے خالو تھے ، کی چوکھٹ سے آن لگے

    جگ تے توں جیویں
    تے تیری آس تے میں جیواں

    جب تک سیدنا حسین اپنوں میں رہے ، مامون رہے ، مدینے میں رہے سر کا تاج تھے ، مکے میں گئے ماتھے کا جھومر ٹہرے ....حجاز کی رونق تھے اہل حجاز کی جان تھے-

    لیکن ...... فرشتہ تو بہت پہلے آ گیا تھا ، صاحب وحی اس روز اشک بار تھے ، ایک ساتھی جو پاس آیا تو آنسو دیکھ کے تڑپ اٹھا ، پیغام بر آئے تھے ،خبر دے کر گئے کہ فرات کے کنارے خوشبو لٹ جائے گی ، حسین شیہد ہو جائیں گے .... کہا بھی یہی تھا نا کہ

    "حسن و حسین دنیا میں میری خوشبو ہے "

    سیدنا حسین عراقیوں میں چلے آئے ، کوفے کی بےوفا مٹی نے ان سے بھلا کیا وفا کرنا تھی .... ایک روز ایک کوفی عبداللہ بن عمر ( رضی اللہ عنہ) سے سوال کر بیٹھا کہ حالت احرام میں مچھر کو اگر مار لیا .....؟ بے ساختہ کہہ اٹھے کہ

    "عراقیوں نے حسین کے خون کو بہا لیا اور مچھر کی فکر میں ہیں " -
    کوفہ آ گیا ، خطوں کی بوریاں کھل گئیں ، لیکن کوفی سب بھاگ گئے ، صاف مکر گئے ، سید کے لیے تکلیف دہ معاملہ ہو گیا ، امیر معا ویہ رضی اللہ عنہ نے اک بار ان کو خط لکھا تھا ، ذھبی نے اپنی تاریخ میں نقل کیا ہے کہ امیر ( رضی اللہ عنہ) نے لکھا تھے :

    "حسین ! ان عراقیوں کو آپ آزما چکے ، یہ وہی تو ہیں جنہوں نے آپ کے والد ، اور بھائی کے ساتھ بھی دھوکہ کیا تھا "
    اور جب سید بادشاہ کوفے کے جوار میں پہنچے تو ان کو معلوم ہو گیا کہ امیر کی بات سچ ہو گئی ... ان کے ساتھ اہل عراق نے دھوکہ کیا ، ان کو اس روز سیدنا علی کی بات یاد آئ ہو گی کہ معاویہ تیرے ساتھ کھرے میرے کھوٹے ہیں .... کرب وبلا میں اک ہنگام تھا اور ایسے میں سیدنا حسین نے تقریر کی ، مقتل حسین کا شیعہ مصنف روایت کرتا ہے کہ سید نے فرمایا:

    " ہم تمھاری مدد کو آئے ، تم نے ہم پر تلواریں سونت لیں ، تمہارا ناس ہو ، تم اس امت کے طاغوت ، حق سے منحرف ، کتاب اللہ کو پھینکنے والے ، سنتوں کو مٹانے والے اور پیغمبروں کی اولادوں کو قتل کرنے والے ہو "

    ....سید عرب ، جگرگوشہ رسول نے اپنے قاتلوں کی امت کو خبر کر دی.....کہ جنہوں نے پیغمبروں کی اولاد کو قتل کرنا تھا........

    سورج چمک رہا تھا ، تلوار چل رہی تھی نہ جانے کس کی چمک زیادہ تھی ......تلوار اٹھی ، جھکی ، چلی .............اور خوشبو لٹ گئی


    ...................ابوبکرقدوسی
     
  2. ‏اکتوبر 29، 2016 #2
    abdullah786

    abdullah786 رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 24، 2015
    پیغامات:
    428
    موصول شکریہ جات:
    23
    تمغے کے پوائنٹ:
    46

    محترم ،
    ماشاء الله اپ قلم سے واقعی پھول جھڑے ہیں جیسے اپ نے شان حسین رضی الله عنہ کی بیان کی ہے مگر میرے بھائی کی ایک توجہ طلب بات جو مجھے محسوس ہوئیاس کی جانب توجہ مقصود ہے کہ جن کو اپ کھوٹے فرما رہے ہے ان میں بڑے جلیل قدر صحابی تھے
    (١) عمار بن یاسر رضی الله عنہما
    (٢) ابن عباس رضی الله عنہما
    (٣) سلیمان بن صرد رضی الله عنہ
    اگر اپ کا اشارہ اہل عراق کی جانب ہے تو اس کو () سے خاص کر دیتے
    اور آخری بات کہ یہ صرف تاریخ کے رطب و یابس ہیں کہ اہل عراق کے ان لوگوں نے دھوکہ کیا جو حسین رضی الله عنہ کے ساتھ تھے تاریخ روایات سے ہٹ کے کتب احادیث میں جو روایات موجود ہیں وہ یہ بتاتی ہے کہ اہل عراق میں جو یزید یا ابن زیاد کے ساتھ تھے یہ ان کا کام ہے نہ کہ جنہوں نے ان کو بلایا تھا اور ابن عمر رضی الله عنہ کی روایت میں بھی یہی اشارہ ہے واللہ اعلم
     
  3. ‏اکتوبر 29، 2016 #3
    abdullah786

    abdullah786 رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 24، 2015
    پیغامات:
    428
    موصول شکریہ جات:
    23
    تمغے کے پوائنٹ:
    46

    محترم ،
    ماشاء الله اپ قلم سے واقعی پھول جھڑے ہیں جیسے اپ نے شان حسین رضی الله عنہ کی بیان کی ہے مگر میرے بھائی کی ایک توجہ طلب بات جو مجھے محسوس ہوئیاس کی جانب توجہ مقصود ہے کہ جن کو اپ کھوٹے فرما رہے ہے ان میں بڑے جلیل قدر صحابی تھے
    (١) عمار بن یاسر رضی الله عنہما
    (٢) ابن عباس رضی الله عنہما
    (٣) سلیمان بن صرد رضی الله عنہ
    اگر اپ کا اشارہ اہل عراق کی جانب ہے تو اس کو () سے خاص کر دیتے
    اور آخری بات کہ یہ صرف تاریخ کے رطب و یابس ہیں کہ اہل عراق کے ان لوگوں نے دھوکہ کیا جو حسین رضی الله عنہ کے ساتھ تھے تاریخ روایات سے ہٹ کے کتب احادیث میں جو روایات موجود ہیں وہ یہ بتاتی ہے کہ اہل عراق میں جو یزید یا ابن زیاد کے ساتھ تھے یہ ان کا کام ہے نہ کہ جنہوں نے ان کو بلایا تھا اور ابن عمر رضی الله عنہ کی روایت میں بھی یہی اشارہ ہے واللہ اعلم
     
  4. ‏نومبر 15، 2016 #4
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,208
    موصول شکریہ جات:
    8,203
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    اس طرح کے ملتے جلتے موضوعات پر فورم پر دونوں طرف سے اتنا لکھا جا چکا ہے ، اور اس تکرار کے ساتھ لکھا جا چکا ہے کہ شاید کچھ نئی بات سامنے نہ آئے ، لہذا کم از کم اس فورم کی حد تک اس موضوع پر بات بالکل نہ کریں ، اور جتنے بھی احباب اس قسم کی بحثوں میں شریک رہے ، میری ان سے گزارش ہے کہ دیگر اہم اور مفید موضوعات میں بھی اپنا حصہ ڈالیں ، لوگوں اور بھی بہت سارے مسائل کی حاجت ہے ، چاروں طرف اسلامی تاریخ کے متنازعہ مسائل کو بکھیرنے کی بجائے ، عوام کو پیش آمدہ مسائل کے حل کی طرف توجہ کریں ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...
موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں