1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو خط لکھنے والے صحابی ؟

'تاریخی روایات' میں موضوعات آغاز کردہ از عامر عدنان, ‏ستمبر 10، 2019۔

  1. ‏ستمبر 10، 2019 #1
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    858
    موصول شکریہ جات:
    240
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    فیس بک پر ایک پوسٹ ملی جو یہاں نقل کر دیتا ہوں ۔ اہل علم سے گزارش ہے اپنے مفید تبصروں سے نوازیں۔

    اکثر اوقات ناصبی یزیدی کہتے ہیں، سیدنا حسین کو بلانے والے کوفی غدار تھے، انہوں نے ہی امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا، فلحال خط لکھنے والوں میں ایک شخص ملے ہیں، امید ہے، یزیدی و ناصبی بھائی اب ان کو غدار دھوکہ باز ضرور کہیں گے.

    ان کا ہستی کا نام سیدنا سلمان بن صرد الخزاعی ہے، یہ صحابی ہیں، انہوں نے ہی خط لکھ کر امام حسین کو بلایا تھا، ان کا ذکر ان کتابوں میں موجود ہے جو جو اصحاب رسول پر لکھی گئی ہیں.

    اس قول کی سند یونس بن ابی اسحاق تک صحیح ہے.
    FB_IMG_1568062953156.jpg
    FB_IMG_1568088664363.jpg
     
  2. ‏ستمبر 10، 2019 #2
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,986
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    و علیکم السلام و رحمت الله وبرکاتہ

    سلیمان بن صرد رضی الله عنہ کا حسین رضی الله عنہ کو کوفہ سے خط لکھنا. طبری کی روایت ابو مخنف لوط بن یحییٰ کذاب کی مرویات میں سے ہے- جبکہ اس کی بیان کردہ روایات اکثر و بیشتر محققین کے نزیک باطل ہیں -

    ابن الجوزی حنبلی نے بھی "الرد المتعصب العنید" میں اس کی سند میں مرکزی راوی یونس بن ابی اسحاق کا ذکر کیا ہے اور اس کو صحیح کہا ہے- لیکن سند منقطع ہے- یونس بن ابی اسحاق نے شہادت حسین رضی الله عنہ کا زمانہ نہیں پایا- لہذا سلیمان بن صرد کا حسین کو کوفہ سے خط لکھنا ثابت نہیں ہوتا - اور نہ ہی سلیمان بن صرد کا "توّابین" کے گروہ سے تعلق تھا - جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ بعد میں انہوں نے اپنے اس عمل سے توبہ کرلی تھی اور پھر "توّابین" گروہ کی بنیاد رکھی- (واللہ اعلم)

    مزید تفصیل کے لئے کفایت الله سنابلی صاحب کا یہ لنک دیکھئے -

    http://forum.mohaddis.com/threads/سلیمان-بن-صرد-رضی-اللہ-عنہ-کا-یہ-عمل-صحیح-سند-سے-ثات-ہے-یا-نہیں؟.36163/
     
    • زبردست زبردست x 3
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏ستمبر 12، 2019 #3
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    858
    موصول شکریہ جات:
    240
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    جزاکم اللہ خیرا

    محترم بھائی اس متعلق کوئی دلیل ہو تو عنایت فرمائیں ۔ جزاکم اللہ خیرا
     
  4. ‏ستمبر 12، 2019 #4
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    858
    موصول شکریہ جات:
    240
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    ایک بھائی کا اقتباس
    بعض شہادتوں سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ غالباََ انہوں نے زمانہ پایا ہے۔ جس کے دلائل و قرائن پیش ہیں:
    یونس بن ابی اسحاق رحمہ اللہ کی ایک روایت حضرتِ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے اور موجود ہے۔ چنانچہ، امام ابو بکر الخطیبؒ (المتوفیٰ: ۴۶۳ھ) روایت کرتے ہیں:
    أخبرني أبو عبد الله محمدبن عبد الواحد، قال: أخبرنا محمد بنإسماعيل الوراق، قال: حدثنا يحيى بن محمدبن صاعد، قال: حدثنا خلاد بن أسلم ورجاءبن المرجى السمرقندي، قالا: أخبرنا النضر بن شميل، قال: حدثنا یونس بن أبي إسحاق، عن زيد بن أرقم ۔۔۔۔۔۔۔
    [تاریخ بغداد ط بشار، جلد ۹، صفحہ نمبر ۳۹۹]
    اس روایت کو امام الذہبی رحمہ اللہ نے سیر اعلام النبلاء میں روایت کیا، وہ فرماتے ہیں:
    هذا حديث حسن ، أخرجه أبو داود من حديث يونس بن أبي إسحاق
    ترجمہ: یہ حدیث حسن ہے، اسے ابو داؤد نے یونس بن ابی اسحاق کی حدیث میں بیان کیا ہے۔
    [سیر اعلام النبلاء ط الرسالہ، جلد ۸، صفحہ نمبر ۸۲]
    اس روایت کو الدکتور بشاد عواد المعروف نے 'حسن' قرار دیا ہے۔ [تاریخ بغداد ط بشار، جلد ۹، صفحہ نمبر ۳۹۹]
    حضرتِ زید بن الارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات سن ۶۲ھ یا سن ۶۳ھ وغیرہ میں ہوئی جبکہ شہادتِ حسینؓ کا واقعہ ۶۱ھ کا ہے۔ ادراک نہ صرف ممکن بلکہ غالب ہے۔
     
  5. ‏ستمبر 16، 2019 #5
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,986
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    امام الذہبی رحمہ اللہ سے ابو داؤد کی روایت کی تخلیص میں غلطی ہوئی ہے- جس میں کہا ہے کہ "هذا حديث حسن"

    ابو داؤد کی روایت میں یونس بن ابی اسحاق کے والد ابو اسحاق (المتوفی ١٢٧ ھ) کا واسطہ ہے - طبقات الکبریٰ از ابن سعد میں یونس بن ابو اسحاق کی وفات ١٥٢ ہجری لکھی ہے -صحابی رسول زید بن ارقم رضی الله عنہ کی سن وفات ٦٣ یا ٦٥ ہجری کے لگ بھگ ہے- اگر یونس بن ابی اسحاق کی عمر ٩٠ سال تسلیم کی جائے تو زید بن ارقم کی وفات کے وقت وہ کمسن بچہ تھا -

    عن يونسَ بن أبي إسحاقَ، عن أبيه عن زيد بن أرقمَ،
    (سنن ابو داود)-


    روایت میں یونس بن ابی اسحاق کے والد ابو اسحاق کا واسطہ ہے

    یونس بن ابی اسحاق کا براہ راست سماع زید بن ارقم سے ثابت نہیں ہے- نہ ہی انہوں نے حسین رضی الله عنہ کی شہادت کا زمانہ پایا -

    لہذا ابن الجوزی رحم الله کی تحقیق ناقص ہے- سلیمان بن صرد سے متعلق یونس بن ابی اسحاق کی روایت منقطع ہے - تاریخ و حدیث کی کتب میں یونس کے والد سے سلیمان بن صرد کی بھی کوئی روایت براہ راست منقول نہیں -(واللہ اعلم)-

    یاد رہے کہ امیر المومنین یزید بن معاویہ رحم الله کی تنقیص میں ابن الجوزی حنبلی کی تحاریر جذباتیت سے پر ہیں- اور ان میں حقائق پر مبنی روایات انتہائی مفقود (نہ ہونے کے برابر) ہیں- اس لئے یزید کے مخالفین اچھل اچھل کر ابن الجوزی کے حوالے دیتے ہیں - اس کے برعکس دوسرے آئمہ حنابلہ جیسے امام ابن تیمیہ ، ابن قیم، ابن ابی یعلی- امام ابن کثیر رحم الله وغیرہ کی راے یزید بن معاویہ و کربلا سے متعلق ہمیشہ متعدل رہی ہے-

    ویسے بھی ایک صحابی رسول (سلیمان بن صرد) سے یہ بعید کرنا کہ وہ حسین کو خلافت یزید بن معاویہ کے خلاف اکسا کر ان کو کوفہ آنے کی دعوت دینگے اور پھر آخری لمحوں میں ان کا ساتھ چھوڑ کر فرار ہو جایئں گے-یہ ان کی عظمت کی توہین ہے- صحابہ کی تنقیص کے یہ رافضی کارنامے ہیں-

    نبی کریم صل الله علیہ و آ له وسلم کا تو واضح فرمان ہے کہ ایک مومن اپنے دوسرے مومن بھائی کو مصیبت میں کبھی اکیلا نہیں چھوڑتا- (متفق علیہ) -

    تمام اصحاب رسول مومن ہیں
     
    Last edited: ‏ستمبر 16، 2019
    • پسند پسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  6. ‏ستمبر 20، 2019 #6
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    858
    موصول شکریہ جات:
    240
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    جزاکم اللہ خیرا
    محترم بھائی یہاں شاید آپ کو غلطی لگی ہے ۔ کیونکہ ابو اسحاق کی روایت سلیمان بن صرد سے صحیح بخاری میں بھی موجود ہے :
    صحيح البخاري - كتاب الغسل - باب من أفاض على رأسه ثلاثا بَابُ مَنْ أَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا
    254 - حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَّا أَنَا ، فَأُفِيضُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثًا . وَأَشَارَ بِيَدَيْهِ كِلْتَيْهِمَا
     
  7. ‏ستمبر 25، 2019 #7
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,986
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    جزاک الله محترم -

    تصیح کرنے کا شکریہ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں