1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی حیا پر کیا یہ واقعہ درست ہے؟؟

'تاریخی روایات' میں موضوعات آغاز کردہ از Dua, ‏مئی 03، 2014۔

  1. ‏مئی 04، 2014 #11
    محمد وقاص گل

    محمد وقاص گل سینئر رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏اپریل 23، 2013
    پیغامات:
    1,037
    موصول شکریہ جات:
    1,678
    تمغے کے پوائنٹ:
    310

    واللہ اعلم میں نے بھی یہی سوال کیا تھا شیخ سے۔۔۔۔لیکن انہوں نے بھی یہی کہا کہ حکم کیلئے سند دیکھی جاتی ہے اور وہ ضعیف ہے

    سوال و جواب کا ایک سلسلہ شروع ہوا تھا اس میں اسکا ذکر ہوا تھا
     
  2. ‏مئی 06، 2014 #12
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463


    معذرت مجھے یاد نہیں تھا۔آپ وہ تحقیق بھی ضرور لگائیں۔
    جزاک اللہ خیرا۔
     
  3. ‏مئی 06، 2014 #13
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    یا شیخ، سند میں تین نہیں ایک ہی راویہ سبب ضعف ہیں۔
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  4. ‏مئی 06، 2014 #14
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    بلکہ مجھے تو لگتا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے، واللہ اعلم۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  5. ‏مئی 06، 2014 #15
    محمد وقاص گل

    محمد وقاص گل سینئر رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏اپریل 23، 2013
    پیغامات:
    1,037
    موصول شکریہ جات:
    1,678
    تمغے کے پوائنٹ:
    310

    وہ کیسے جی؟؟
     
  6. ‏مئی 08، 2014 #16
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    یہ تین راوی تین مختلف طبقات کے نہیں ہیں بلکہ محمد بن موسی نے پہلے اسے عون عن امہ (ام جعفر) سے روایت کیا، پھر عمارۃ عن ام جعفر سے نقل کیا۔ الغرض عون اور عمارہ اس روایت کو ام جعفر سے روایت کرنے میں ایک دوسرے کے متابع ہیں۔ اور اگر دونوں کو مقبول بھی تسلیم کیا جائے تو ایک مقبول کی روایت دوسرے مقبول سے مل کر حسن ہو گئی۔ لیکن ویسے بھی عون بن محمد کم از کم حسن الحدیث ہیں کیونکہ علماء نے ان سے حجت پکڑی ہے اور ان کی احادیث کی تصحیح کی ہے۔
    جہاں تک تعلق ہے ام جعفر کا تو آپ کبار تابعیات میں سے ہیں، اوپر سے اہل بیت میں سے ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بہو ہیں۔ ان کی عدالت پر سوال اٹھانے کا سوال تو پیدا نہیں ہوتا اور ان کے متعلق بعض محدثین کی تحسین بھی ملی ہے میرے خیال سے غیر مرفوع حدیث میں ان کی روایت قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اسی لئے ابن حجر نے بھی انہیں مقبولہ کہنے کے باوجود اس روایت کو حسن کہا ہے۔ باقی علماء بہتر بتا سکتے ہیں۔
    واللہ اعلم۔
     
    • علمی علمی x 2
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  7. ‏مئی 08، 2014 #17
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    ذہبی کے بقول، "الإِمَامُ، الحَافِظُ، النَّاقِدُ" الجورقانی رحمہ اللہ اس حدیث کے متعلق فرماتے ہیں: "هَذَا حَدِيثٌ مَشْهُورٌ حَسَنٌ" (الاباطیل والمناکیر: ج 2 ص 82)
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  8. ‏مئی 08، 2014 #18
    محمد وقاص گل

    محمد وقاص گل سینئر رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏اپریل 23، 2013
    پیغامات:
    1,037
    موصول شکریہ جات:
    1,678
    تمغے کے پوائنٹ:
    310

    [quote="رضا میاں, post: 179289, member: 53"]یہ تین راوی تین مختلف طبقات کے نہیں ہیں بلکہ محمد بن موسی نے پہلے اسے عون عن امہ (ام جعفر) سے روایت کیا، پھر عمارۃ عن ام جعفر سے نقل کیا۔ الغرض عون اور عمارہ اس روایت کو ام جعفر سے روایت کرنے میں ایک دوسرے کے متابع ہیں۔ اور اگر دونوں کو مقبول بھی تسلیم کیا جائے تو ایک مقبول کی روایت دوسرے مقبول سے مل کر حسن ہو گئی۔ لیکن ویسے بھی عون بن محمد کم از کم حسن الحدیث ہیں کیونکہ علماء نے ان سے حجت پکڑی ہے اور ان کی احادیث کی تصحیح کی ہے۔
    جہاں تک تعلق ہے ام جعفر کا تو آپ کبار تابعیات میں سے ہیں، اوپر سے اہل بیت میں سے ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بہو ہیں۔ ان کی عدالت پر سوال اٹھانے کا سوال تو پیدا نہیں ہوتا اور ان کے متعلق بعض محدثین کی تحسین بھی ملی ہے میرے خیال سے غیر مرفوع حدیث میں ان کی روایت قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اسی لئے ابن حجر نے بھی انہیں مقبولہ کہنے کے باوجود اس روایت کو حسن کہا ہے۔ باقی علماء بہتر بتا سکتے ہیں۔
    واللہ اعلم۔[/quote]


    جزاک اللہ خیرا ۔ اس بات کی طرف میں نے توجہ نہیں دی۔۔۔

    جس انداز سے آپ نے یہاں عون کی روایت کو حسن کہا اسی انداز سے آپ نے ایک دوسری جگہ ایک روایت کو قبول نہیں کیا؟؟؟؟؟؟
    یہ آخری بات بھی سمجھ سے باہر ہے بھائی۔۔۔ مطلق شرائط جو آپ نے بیان کیں انکی وجہ سے راوی کا ثقہ یا صحیح ہونا یہ عجیب ہے کیوں کہ اس دور کے بہت سے روات ایسے ہیں جنکی توثیق نہیں ملتی اور بعض ضعیف بھی ہیں۔۔۔۔
    ہاں یہ الگ بات ہے انکے بارے میں ہمارا حسن ظن ہے لیکن روایات کا معاملہ ایسا ہے جس میں ہر ایک راوی چاہے وہ امام زہری ہی کیوں نہ ہوں انکو پرکھا جائے گا۔۔اور پرکھا گیا ہے۔
    مسئلہ قصے کے ثبوت میں ہے کہ آیا یہ قصہ صحیح بھی ہے یا نہیں۔۔۔ اور اسکا تعلق بھی اہل بیت سے اسکو بھی آپ اپنے ذہن سے مت نکالیں کیونکہ اہل بیت کی طرف بہت سے ایسے قصے مشہور جن سب کو پھر ماننا پڑے گا آپکو۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  9. ‏اگست 06، 2014 #19
    محمد وقاص گل

    محمد وقاص گل سینئر رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏اپریل 23، 2013
    پیغامات:
    1,037
    موصول شکریہ جات:
    1,678
    تمغے کے پوائنٹ:
    310

  10. ‏اکتوبر 23، 2015 #20
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436


    تاریخ مدینہ میں یہ قول ہے

    حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ قَالَ: حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ قَالَ: ” كَمِدَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بَعْدَ وَفَاةِ أَبِيهَا سَبْعِينَ بَيْنَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فَقَالَتْ: إِنِّي لَأَسْتَحِي مِنْ جَلَالَةِ جِسْمِي إِذَا أُخْرِجْتُ عَلَى الرِّجَالِ غَدًا – وَكَانُوا يَحْمِلُونَ الرِّجَالَ كَمَا يَحْمِلُونَ النِّسَاءَ – فَقَالَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ، أَوْ أ ُمُّ سَلَمَةَ: إِنِّي رَأَيْتُ شَيْئًا يُصْنَعُ بِالْحَبَشَةِ، فَصَنَعَتِ النَّعْشَ، فَاتُّخِذَ بَعْدَ ذَلِكَ سُنَّةً ”


    یہ يَزِيْدَ بنِ الشِّخِّيْرِ کا قول ہے جو بہت بعد کے ہیں
    ایسا کسی حدیث میں دور نبوی کے لئے نہیں اتا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں