1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حقيقت اجماع

'مصادر شریعت' میں موضوعات آغاز کردہ از sufi, ‏اگست 07، 2012۔

  1. ‏اگست 09، 2012 #11
    رفیق طاھر

    رفیق طاھر رکن مجلس شوریٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    ارض اللہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2011
    پیغامات:
    790
    موصول شکریہ جات:
    3,974
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    لغت سے معانی ومفاہیم کا اخذ یعنی نص کی عبارۃ ‘ اشارہ‘ اقتضاء‘ وغیرہ کو کیسے سمجھا جاتا ہے یہ اس کا محل نہیں کیونکہ موضوع صرف اجماع سے متعلق ہے ۔


    اس آیت سے حجیت اجماع کیوں ثابت نہیں ہوتی اس بات کی وضاحت بھی میں نے وہیں پر کی ہوئی ہے ۔
    میں نے لکھا ہے :
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  2. ‏اگست 09، 2012 #12
    رفیق طاھر

    رفیق طاھر رکن مجلس شوریٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    ارض اللہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2011
    پیغامات:
    790
    موصول شکریہ جات:
    3,974
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    یہ بات درست ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو اس بات کی سمجھ نہیں آئی لیکن بعد میں ابو بکر رضی اللہ عنہ کے سمجھانے سے سمجھ آگئی ‘ تو اس میں کوئی حرج نہیں ‘ کیونکہ ہر بات ہر وقت ہر کسی کو سمجھ نہیں آیا کرتی ۔ لیکن بہر حال سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کا یہ فیصلہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ان سے اتفاق ایک دلیل یعنی کتاب وسنت کی بناء پر تھا ۔
    اور جس چیز پر کتاب وسنت سے دلیل موجود ہو وہاں کسی قسم کے اجماع کی ضرورت نہیں رہتی کیا آپ دیکھتے نہیں ہیں کہ رکوع میں ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھنے کے بارہ صحابہ کرام کا اجماع نہیں تھا لیکن پھر بھی یہ عمل درست ہے !

    رہی بات کہ مصحف عثمانی میں قرآن کو محصور سمجھنا صحابہ کا اجماع تو یہ دعوى بالکل باطل ہے ۔ کیونکہ صحابہ نے مصحف عثمانی میں قرآن کو محصور نہیں سمجھا بلکہ باقی تمام تر قراءات کو برحق مانا ہے اور صحابہ وتابعین وتبع تابعین قراءت حفص میں موجود آیات قرآنیہ کی دیگر قراءات کی مدد سے تفسیر و توضیح کرتے رہے ہیں ۔ اسکی مثالیں صحیح بخاری کتاب التفسیر میں دیکھی جاسکتی ہیں ۔
     
  3. ‏اگست 09، 2012 #13
    رفیق طاھر

    رفیق طاھر رکن مجلس شوریٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    ارض اللہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2011
    پیغامات:
    790
    موصول شکریہ جات:
    3,974
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    نہیں کسی بھی اجماعی مسئلہ(یاد رہے کہ آج تک نام نہاد اجماع ہوا ہی نہیں ہے ) کی دلیل کی بنیاد پر مخالفت اسے اجماع على الضلالہ قرار نہیں دیتی ہاں اجماع على الخطأ قرار دیتی ہے !
    جیسا کہ بدر کے قیدیوں کے بارہ میں ہوا !!!
     
  4. ‏اگست 10، 2012 #14
    ھارون عبداللہ

    ھارون عبداللہ رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 08، 2012
    پیغامات:
    115
    موصول شکریہ جات:
    514
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    واضح ہو کہ صحابہ کرام کا اجماع ، زکوہ کے مسئلے پر قران وحدیث کے مطلب و معنی پر تھا- اس مسئلہ مین قرآن کریم اور حدیث کے معنی کو یقینی بنانے والی چیز صحابہ کا اجماع ہے- جسکا خلاف درست نہین ہے۔ شرعی معنی کو یقینی بنانا ہی اجماع صحابہ کی دلیل ہے -
    علماء نے قرآن کےلے رسم عثمانی کی شرط بیان کی ہے ۔ ایسی قراءت جو قرآن ہو اور رسم عثمانی کے موافق نہ ہو، بیان کیجئے؟؟
    صحابہ وتابعین کی تفیسر اگر شاذ قراءت سے ہے تو علماء نے اسے درست کہا ہے ۔ مگر شاذ قراءت ،قرآن نہین ہوتی-
    صحابہ کرام کے اجماع کی چند مثالین، جنکی بنیاد نص نہین ہے ۔
    ١- حضرت ابوبکر و عمر و عثمان کی خلافت پراجماع -
    ٢- حضرت عمر کا تین طلاق کو نافذ کرنا-
    ٣- صحابہ کا جمعہ کی دوسری آذان پر اجماع-
    واللہ اعلم
    والسلام
     
  5. ‏اگست 10، 2012 #15
    رفیق طاھر

    رفیق طاھر رکن مجلس شوریٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    ارض اللہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2011
    پیغامات:
    790
    موصول شکریہ جات:
    3,974
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    مانعین زکاۃ کے خلاف قتال روا رکھنا نص قرآنی میں مذکور ہے " فإن تابوا وأقاموا الصلاۃ وآتوا الزکاۃ فخلوا سبیلھم" لہذا اسے اجماع قرار دینا اجماع کی تعریف کے خلاف ہے ۔
    آپ روایت ورش والا مصحف اٹھالیں ‘ جوکہ روایت نافع سے نہایت قریب تر ہے لیکن اسکی رسم ‘ نقاط وغیرہ وغیرہ کا اختلاف نظر آجائے گا ۔
    خبردار ! قراء جن روایات کو عموما شاذ کہتے ہیں ان میں سے بہت سی شاذ نہیں ہوتیں ! ‘ ہاں اصول محدثین کے مطابق جو قراءت شاذ ہوگی وہ قرآن قرار نہیں پائے گی ۔ فافہم !
    ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت پر تو سنت نبویہ سے بہت سے دلائل موجود ہیں ۔ اور عمر وعثمان وحیدر رضی اللہ عنہم کی خلافت پر مجتمع ہونا بھی حدیث میں مذکور حکم کی بناء پر ہے ۔
    تین طلاق کو نافذ کرنے پر اجماع نہیں ہوا ۔ اور اگر فرض محال مان بھی لیں تو بھی حجت نہیں کیونکہ سنت نبویہ کے خلاف ہے ۔
    جمعہ کی تیسری آذان پر بھی اجماع نہیں ہوا ‘ بلکہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ تو اسے بدعت کہتے تھے !!!
     
  6. ‏اگست 10، 2012 #16
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,483
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

  7. ‏اگست 12، 2012 #17
    ھارون عبداللہ

    ھارون عبداللہ رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 08، 2012
    پیغامات:
    115
    موصول شکریہ جات:
    514
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    واضح ہو کہ علماء کے نزدیک " نص" کا مطلب ہے ، ایسی آیت یا حدیث جسکا مطلب ومعنی بالکل واضح ہو، اور اس آیت یا حدیث کا کؤی اور معنی کرنا نا ممکن ہو ، جیسے روزہ کی فرضیت یا جیسے اسلام کے پانچ ارکان - یہی وجہ ہے کہ جہان "نص" موجود ہو وہان اجتھاد نہین ہوتا - اور جہان اجتہاد ہو ، وہان لازما نص موجود نہ ہوگی۔

    جس آیت سے ، زکوہ کے مسئلہ مین مسمانون کے خلاف جہاد کی دلیل لی جاتی ہے (سورہ توبہ،آیت#٥) صحابہ کے نزدیک اسکا مطلب واضح نہ تھا ۔ اس کی دلیل حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی گفتگو ہے (صحیح بخاری،حدیث#١٣٩٩) ۔
    معلوم ہوا کہ جس آیت سے مسمانون کے خلاف جہاد کی دلیل لی جاتی ہے ، اسے " نص" کہنا محل نظر ہے - کیونکہ اس مسئلہ مین صحابہ نے اجتہاد کیا - اور اجتہاد وہین ہوتا ہے ، جہان " نص" موجود نہ ہو۔
    معلوم ہوا کہ یہ صحابہ کا اجتہاد تھا- اور اسی اجتہاد پر انھون نے اجماع کیا- لہذا محترم رفیق طاھر کا اسے اجماع کی تعریف کے خلاف کہنا ،درست نہین ہے۔
    روایت حفص اور روایت ورش ، دونون متواتر اور مشہور قراءآت ہین - اور دونون رسم عثمانی کے مطابق ہین- کوی بھی قراءت جسکا رسم ، حضرت عثمان کے ٧ مصحفون کے مطابق ہو ، اسے رسم عثمانی مین شامل سمجھا جاے گا۔ نقاط رسم عثمانی مین شامل نہین ہین۔
    علم قراءت مین شاذ کی تعریف ، علم حدیث کی شاذ سے مختلف ہے- علم قراءت مین شاذ مین مندرجہ ذیل شرطون کی کمی ہوتی ہے ۔
    ١۔ سندا ثابت ہونا۔
    ٢۔ رسم عثمانی کے مطابق ہونا-
    ٣۔ لغت عرب کے موافق ہونا۔
    حضرت ابوبکر کی خلافت پر کوی نص موجود نہین ہے- اسکی دلیل حضرت ابوبکر کو خلیفہ منتخب کرنے سے پہلے صحابہ کا اختلاف ہے ۔ حتی کے حضرت عباس نے حضرت علی سے بیعت کا بھی کہا- مگر حضرت علی نے منع فرما دیا-(فتح الباری)
    اسی طرح حضرت عمر کا خلیفہ کلیے ٦ رکنی کمیٹی بنانا ، یہ ظاہر کرتا ہے کہ خلیفہ کی حدیث مین کوی صراحت نہ تھی-
    طلاق ثلاثہ کے نفاذ کو سنت نبویہ کے خلاف کہنا ، خود خلاف سنت ہے- کیونکہ اللہ تعالی نے صحابہ کے ایمان کو معیار بنایا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خلفاء راشدین کی اقتداء کا حکم دیا ہے-
    حضرت ابن عمر کا جمعہ کی دوسری آذان کو بدعت کہنا ،کچھ حیثیت نہین رکھتا- کیونکہ جس طرف خلفاءراشدین اور صحابہ ہون، وہان کسی ایک صحابی کی مخالفت کچھ اثر نہین رکھتی-
    اور اس مخالفت سے اجماع صحابہ پر بھی کوی اثر نہین پڑتا - اسکی دلیل یہ ہے کہ حضرت ابن عباس "معوذتین" کو اپنے مصحف مین لکھا نہ کرتے تھے-( تفسیر ابن کثیر)
    جبکہ خلفاء راشدین اور باقی تمام صحابہ " معوذتین " کو مصحف مین لکھا کرتے تھے -
    معلوم ہوا کہ کسی ایک صحابی کی مخالفت ، اجماع صحا بہ کو متاثر نہین کرتی ہے -
    واللہ اعلم
    والسلام
     
  8. ‏اگست 12، 2012 #18
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,268
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    ارشادِ نبوی ہے:
    "إِنَّ اللَّهَ لَايَجْمَعُ أُمَّتِي أَوْقَالَ أُمَّةَ مُحَمَّدٍﷺ عَلَى ضَلَالَةٍ وَيَدُ اللَّهِ مَعَ الْجَمَاعَةِ"۔
    (ترمذی، كِتَاب الْفِتَنِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِﷺ ، بَاب مَا جَاءَ فِي لُزُومِ الْجَمَاعَةِ، حدیث نمبر:۲۰۹۳، شاملہ، موقع الإسلام)

    میری امت کسی گمراہی پر متفق نہیں ہوگی یاآپﷺ نے فرمایا کہ اللہ میری امت کو کسی گمراہی پر متفق نہیں کرےگا (بلکہ اتفاق واجتماعیت کی وجہ سے اللہ کی نصرت وتائید آتی رہے گی)۔

    اجماع کے حق میں عموماً اس حدیث کو پیش کیا جاتا ہے۔ اس پر کوئی تبصرہ؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں