• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حنفیوں کے لیے لمحہ فکریہ

گڈمسلم

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 10، 2011
پیغامات
1,407
ری ایکشن اسکور
4,912
پوائنٹ
292
گڈ مسلم صاحب آپکو معلوم ہی ہوگا بلکہ اگر آپ پرانے مخطوطات کا مطالعہ کریں تو اس میں حرکات موجود نہیں ہوتیں۔
آپ میری اس بات سے اتفاق رکھتے ہیں یا اگر کوئی اعتراض ہے واضح فرمادیں
جی مجھے آپ کی اس بات سے کوئی اعتراض نہیں۔۔۔

محترم بھائی اگر آپ اس قول کے حوالے سے بات کرنا چاہتے ہیں تو
1۔ قول باسند صحیح ثابت ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو مانیں اور اگر نہیں تو سند پر بحث کریں۔
2۔ اگر قول باسند صحیح ثابت ہے تو پھر بات ہوگی کہ قول کا درست مطلب ومحل کیا ہے؟ اور یہ قول کیوں بولا گیا۔
 
شمولیت
اپریل 06، 2013
پیغامات
138
ری ایکشن اسکور
346
پوائنٹ
90
جی مجھے آپ کی اس بات سے کوئی اعتراض نہیں۔۔۔

محترم بھائی اگر آپ اس قول کے حوالے سے بات کرنا چاہتے ہیں تو
1۔ قول باسند صحیح ثابت ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو مانیں اور اگر نہیں تو سند پر بحث کریں۔
2۔ اگر قول باسند صحیح ثابت ہے تو پھر بات ہوگی کہ قول کا درست مطلب ومحل کیا ہے؟ اور یہ قول کیوں بولا گیا۔
جی یہ مجھ پڑ چھوڑدیجئے میں آخر تک ساری بات آپ سے کرونگا۔
جب ہماری یہ بات ثابت ہوگئی کہ مخطوطات حرکات سے عاری ہوتے تھے اب آگے چلتے ہیں

بحث جاري هے
 
شمولیت
اپریل 06، 2013
پیغامات
138
ری ایکشن اسکور
346
پوائنٹ
90
میری ادنی تحقیق کے مطابق یہ بات کچھ اسطرح ہے
لفظ حدیث کلام عرب میں (بات) کے مترادف ہے اسی لئے حضور صلي اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال کو سنت کہا جاتا ہے۔ کیونکہ لفظ حدیث عام ہے اور آثار صحابہ اور انکے اقوال کو بھی شامل ہے۔
اسی طرح لغت کے اندر بات کرنے کو (تحدث) کہا جاتا ہے۔ اور سنت رسول صلي اللہ علیہ وسلم کو بھی حدیث اس لئے کہا جاتا ہیکہ اسکا تحدث ہوتا ہے یا وہ حضور صلي اللہ علیہ وسلم کی باتیں ہیں
لغت عرب کے اندر یحدث اور یتحدث دونوں معنوں میں مستعمل ہے یعنی اگر کسی کے بارے میں یحدث کا لفظ استعمال ہو تو اس سے یہ ہرگز مراد نہیں کہ وہ لازمی طور پر حضور صلي اللہ علیہ وسلم کی احادیث پاک بیان کررہا ہے
پہلی مثال
زمانہ جاہلیت کا یہ قصہ ملاحظہ فرمائے جہاں لفظ (یحدث) ہم کلامی کے معنی میں مستعمل ہے
أسواق العرب في الجاهلية والإسلام (ص: 258)
"لما استوى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وبلغ أشده وليس له كثير مال، استأجرته خديجة إلى سوق حباشة وهي سوق بتهامة واستأجرت معه رجلا آخر من قريش, وكان من قول الرسول وهو يحدث عن هذه التاجرة الكبيرة: "ما رأيت من صاحبة أجير خيرا من خديجة، ما كنا نرجع أنا وصاحبي إلا وجدنا عندها تحفة من طعام تخبئه لنا"

ترجمہ جب حضور پاک صلي اللہ علیہ وسلم جوان ہوگئے تو حضرت خدیجہ نے انہیں اور انکے ساتھ کسی دوسرے شخص کو اپنا مال تجارت بیچنے کی مہم سپرد کی’ جس شخص کے ہاتھوں انہوں نے یہ پیغام ارسال کیا وہ حضرت خدیجہ کی تعریف میں یوں ہم کلام ہوئے
ظاہر ہیکہ اس زمانے میں حدیث پاک کا تصور ہی نہیں تھا اور یہ لفظ ہم کلام ہونے کے معنی میں مستعمل تھا
دوسری مثال
غزوہ بدر کے قصہ میں لفظ (یحدث) ہم کلامی کے معنی میں مستعمل ہے
تاريخ الإسلام ت بشار (1/ 65)
ونزل رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَدْنَى شَيْءٍ مِنْ بَدْرٍ. ثُمَّ بَعَثَ عَلِيًّا وَالزُّبَيْرَ وَجَمَاعَةً يَكْشِفُونَ الْخَبَرَ. فَوَجَدُوا وَارِدَ قُرَيْشٍ عِنْدَ الْقَلِيبِ، فَوَجَدُوا غُلامَيْنِ فَأَخَذُوهُمَا فَسَأَلُوهُمَا عَنِ الْعِيرِ، فَطَفِقَا يُحَدِّثَانِهِمْ عَنْ قُرَيْشٍ، فَضَرَبُوهُمَا.

یعنی وہ دونوں قریش کے بارے میں انہیں بتانے لگے
تیسری مثال
غزوہ بدر کا دوسرا قصہ یہاں پر بھی لفظ یحدث ہم کلامی کے معنی میں مستعمل ہے
تاريخ الإسلام ت بشار (1/ 66)
فنزل المشركون وتعبؤوا لِلْقِتَالِ، وَمَعَهُمْ إِبْلِيسُ فِي صُورَةِ سُرَاقَةَ الْمُدْلِجِيِّ يُحَدِّثُهُمْ أَنَّ بَنِي كِنَانَةَ وَرَاءَهُ قَدْ أَقْبَلُوا لِنَصْرِهِمْ.

یعنی ابلیس سراقۃ المدلجی کی صورت میں سامنے آیا اور انہیں یہ وسوسہ ڈالنے لگا بنو کنانہ تمہاری مدد کو آپہونچیں ہیں
چوتھی مثال
امام ابو حنیفۃ رحمۃ اللہ علیہ سے ایک دوسرا بھی مقولہ بھی مشہور ہے اور وہ یہ ہے
الجرح والتعديل لابن أبي حاتم (8/ 450)
عن أبي عبد الرحمن المقرئ قال: كان أبو حنيفة يحدثنا فإذا فرغ من الحديث قال: هذا الذى سمعتم كله ريح وباطل

یعنی حضرت مقری فرماتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ ہم سے ہم کلام ہوتے تھے جب آپکی بات مکمل ہوجاتی تو فرماتے کہ میں نے اب تک جتنی بھی باتیں کیں سب بے وزنی ہیں

در حقیقت قصہ یوں ہیکہ امام ابو حنیفہ اپنی مجلس میں جب اپنے طلباء سے ہم کلام ہوتے اور کوئی نیا مسئلہ درپیش ہوتا تو سب سے پہلے وہ سب سے کمزور ترین قول کو لاتے تھے اور اس قول کو ہر ممکن دلیل سے ثابت فرماتے تھے۔ جب طلباء اس بات کے قائل ہوجاتے تو ان سے فرماتے تھے کہ میں جتنی بھی باتیں کیں سب بے وزنی ہیں۔ آپکا مقصد یہ ہوتا تھاکہ یہ قول اور اسکی تمام دلیلیں غلط ہیں اور اب تک جتنی بھی باتیں میں نے کیں اور تم لوگ اسکے قائل ہوگئے وہ سب کمزور باتیں تھیں۔ اسکے بعد اصل مسئلہ پر روشنی ڈالتے تھے۔
مگر بعض ساتھیوں کو یہاں پر بھی غلط فہمی ہوگئی اور انہوں نے (یحدثنا) کا ترجمہ حدیث رسول صلي اللہ علیہ وسلم سے کردیا’ حالانکہ یہ بات غلط ہے کیونکہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ سے محض حدیث کی مجلس ثابت ہی نہیں بلکہ آپکی مجالس میں نصوص قرآن وسنت اور اسکے معنی سمجھنے اور سمجھانے پر بحث ہوا کرتی تھی اور آپکا مقصد یہ ہوتا تھا کہ اس مسئلہ کو ثابت کرنے کیلئے میں نے جتنے بھی دلائل دئیے ان سے اس مسئلہ کی دلیل نہیں نکلتی۔
ان تمام جگہوں پر لفظ (یحدث) ہم کلامی کے معنی میں مستعمل ہے نہ کہ احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کرنے کےمعنی میں
اور میرا ظن غالب یہی ہیکہ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کا مذکورہ قول بھی ہم کلامی کے معنی میں ہے جسکی وجہ علت ہم نے بیان کردی۔
اگر ہم نے یہی معنی لیا تو اس عبارت کا ترجمہ یوں ہوگا
عامۃ ما ٲحدثکم بہ خطٲ
ترجمہ یعنی میں اپنے درس میں جان بوجھ اکثر غلط دلیلیں بیان کرتا ہوں
مقصد یعنی غلط دلیلیں دے کر تمہاری فقاہت کا امتحان بھی لیتا ہوں اور تمہیں فقاہت سکھانا بھی مقصود ہوتا ہے۔
یہ صرف ایک تحقیق ہے جسکا صحیح اور غلط ہونا دلائل ظنیہ پر مبنی ہے کوئی اس سے غلط مطلب نہ نکالے۔
 

حرب بن شداد

سینئر رکن
شمولیت
مئی 13، 2012
پیغامات
2,149
ری ایکشن اسکور
6,345
پوائنٹ
437
اور میرا ظن غالب یہی ہیکہ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کا مذکورہ قول بھی ہم کلامی کے معنی میں ہے جسکی وجہ علت ہم نے بیان کردی۔یہ صرف ایک تحقیق ہے جسکا صحیح اور غلط ہونا دلائل ظنیہ پر مبنی ہے کوئی اس سے غلط مطلب نہ نکالے۔
ابوعبدالرحمٰن عبداللہ بن یزید المقری کو سنا انہوں نے فرمایا کہ میں نے ابوحنیفہ رحمہ اللہ کو یہ کہتے سنا کہ اکثر وہ باتیں جو میں تمہیں بیان کرتا ہوں غلط ہوتی ہیں۔
امام ابوحنیفہؒ کے شاگرد تھے؟؟؟۔۔۔
اگر تھے تو اس سلسلے میں تھوڑی معلومات ہمارے ساتھ شیئر کیجئے۔۔۔
اور اگر نہیں تھے تو امام ترمذیؒ ایک شاگرد کا فرمان بلاتحقیق کیسے پیش کرسکتے ہیں؟؟؟۔۔۔

قول بھی ہم کلامی کے معنی میں ہے۔۔۔
لیکن کیا یہ ضروری ہے کہ وجہ علت وہی ہو جو آپ نے بیان کی ہے؟؟؟۔۔۔

یہ صرف ایک تحقیق ہے جسکا صحیح اور غلط ہونا دلائل ظنیہ پر مبنی ہے
اس پر بات اس ہی وقت صحیح سمت میں ہوگی جب یہ معلوم ہوجائے کہ امام ترمذی نے جن سے یہ بات سنی وہ امام صاحبؒ کے شاگرد تھے۔۔۔
 
شمولیت
اپریل 06، 2013
پیغامات
138
ری ایکشن اسکور
346
پوائنٹ
90
امام ابوحنیفہؒ کے شاگرد تھے؟؟؟۔۔۔
اگر تھے تو اس سلسلے میں تھوڑی معلومات ہمارے ساتھ شیئر کیجئے۔۔۔
اور اگر نہیں تھے تو امام ترمذیؒ ایک شاگرد کا فرمان بلاتحقیق کیسے پیش کرسکتے ہیں؟؟؟۔۔۔

قول بھی ہم کلامی کے معنی میں ہے۔۔۔
لیکن کیا یہ ضروری ہے کہ وجہ علت وہی ہو جو آپ نے بیان کی ہے؟؟؟۔۔۔


اس پر بات اس ہی وقت صحیح سمت میں ہوگی جب یہ معلوم ہوجائے کہ امام ترمذی نے جن سے یہ بات سنی وہ امام صاحبؒ کے شاگرد تھے۔۔۔
حرب بن شداد بھائی حضرت مقرئ امام ابو حنیفہ کے شاگردوں میں سے تھے تحقیق کے لئے تہذیب الکمال میں انکا ترجمہ دیکھا جاسکتا ہے امام مزی رحمۃ اللہ علیہ نے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا تذکرہ انکے مشایخ میں کیا ہے
 
شمولیت
اپریل 06، 2013
پیغامات
138
ری ایکشن اسکور
346
پوائنٹ
90
امام ابوحنیفہؒ کے شاگرد تھے؟؟؟۔۔۔
اگر تھے تو اس سلسلے میں تھوڑی معلومات ہمارے ساتھ شیئر کیجئے۔۔۔
اور اگر نہیں تھے تو امام ترمذیؒ ایک شاگرد کا فرمان بلاتحقیق کیسے پیش کرسکتے ہیں؟؟؟۔۔۔
قول بھی ہم کلامی کے معنی میں ہے۔۔۔
لیکن کیا یہ ضروری ہے کہ وجہ علت وہی ہو جو آپ نے بیان کی ہے؟؟؟۔۔۔
اس پر بات اس ہی وقت صحیح سمت میں ہوگی جب یہ معلوم ہوجائے کہ امام ترمذی نے جن سے یہ بات سنی وہ امام صاحبؒ کے شاگرد تھے۔۔۔
رہا امام ترمذی کا نقل کرنا تو وہ بھی انسان ہیں دوسرے انہوں نے فقط نقل کردیا ہے معنی بیان نہیں کیا نہ ہی انہوں نے کوئی ایسا باب قائم کیا جس سے امام ابو حنیفہ پر کوئی جرح مقصود ہو
 

عابدالرحمٰن

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 18، 2012
پیغامات
1,124
ری ایکشن اسکور
3,234
پوائنٹ
240
السلام علیکم
مجھے مخل تو نہیں ہونا چاہئے لیکن چونکہ اس تھریڈ میں میری بھی مشارکت تھی اس لیے قدرے عرض ہے کہ ملاخظہ فرمائیں کہ : ملتقی الحدیث پر امام اعظم ابوحنیفہؒ کے بارے میں متقدمین اور متاخرین کی کیا آراء ہیں۔ ملاحظہ ہو یہ لنک
دَقَائقُ مَعدُودَة فِي حَالِ النُّعمَانِ أَبِي حَنِيفَةَ - ملتقى أهل الحديث

لقد زان البلاد ومن عليها .. إمام المسلمين أبو حنيفة
فرحمة ربنا أبداً عليه .. مدى الأيام ما قُرِئت الصحيفة
اللهم اغفر لي اللهم اغفر لي
 

گڈمسلم

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 10، 2011
پیغامات
1,407
ری ایکشن اسکور
4,912
پوائنٹ
292
لفظ حدیث بارے آپ کی تحقیق پر لکھنے کے بجائے موضوع پر ہی بات کرنا درست ہے۔

در حقیقت قصہ یوں ہیکہ امام ابو حنیفہ اپنی مجلس میں جب اپنے طلباء سے ہم کلام ہوتے اور کوئی نیا مسئلہ درپیش ہوتا تو سب سے پہلے وہ سب سے کمزور ترین قول کو لاتے تھے اور اس قول کو ہر ممکن دلیل سے ثابت فرماتے تھے۔ جب طلباء اس بات کے قائل ہوجاتے تو ان سے فرماتے تھے کہ میں جتنی بھی باتیں کیں سب بے وزنی ہیں۔ آپکا مقصد یہ ہوتا تھاکہ یہ قول اور اسکی تمام دلیلیں غلط ہیں اور اب تک جتنی بھی باتیں میں نے کیں اور تم لوگ اسکے قائل ہوگئے وہ سب کمزور باتیں تھیں۔ اسکے بعد اصل مسئلہ پر روشنی ڈالتے تھے۔
کوئی مثال ؟ ۔۔۔
مگر بعض ساتھیوں کو یہاں پر بھی غلط فہمی ہوگئی اور انہوں نے (یحدثنا) کا ترجمہ حدیث رسول صلي اللہ علیہ وسلم سے کردیا حالانکہ یہ بات غلط ہے
میرے خیال میں یعقوب بھائی آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ جس ترجمہ کو آپ غلط کہہ رہے ہیں۔ وہ ترجمہ پہلی پوسٹ میں سرے سے ہے ہی نہیں۔ گرافکس میں موجود قول کو یہاں دوبارہ پیش کیا جارہا ہے
" سمعت محمود بن غيلان قال سمعت المقري يقول سمعت ابا حنيفة: عامة ما أحدثكم خطاء " (علل الترمذی الکبیر ص388)
امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے محمود بن غیلان کو سنا وہ کہہ رہے تھےکہ میں نے ابو عبدالرحمٰن عبداللہ بن یزید المقری کو سنا انہوں نے فرمایا کہ میں نے ابوحنیفہ کو یہ کہتے سنا ’اکثر وہ باتیں جو میں تمہیں بیان کرتا ہوں غلط ہوتی ہیں ‘
اب آپ ہمیں بتائیں کہ اس میں آپ والا ترجمہ کہاں کیا گیا ہے۔۔ ہاں اگر آپ کا اشارہ اسی قبیل سے کسی اور پوسٹ کی طرف سے تو اس طرف بھی رہنمائی فرمادیں۔
کیونکہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ سے محض حدیث کی مجلس ثابت ہی نہیں بلکہ آپکی مجالس میں نصوص قرآن وسنت اور اسکے معنی سمجھنے اور سمجھانے پر بحث ہوا کرتی تھی اور آپکا مقصد یہ ہوتا تھا کہ اس مسئلہ کو ثابت کرنے کیلئے میں نے جتنے بھی دلائل دئیے ان سے اس مسئلہ کی دلیل نہیں نکلتی۔
مثال ؟
ان تمام جگہوں پر لفظ (یحدث) ہم کلامی کے معنی میں مستعمل ہے نہ کہ احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کرنے کےمعنی میں
جب آپ والا معنیٰ کیا ہی نہیں گیا تو آپ کہہ بھی نہیں سکتے۔
اگر ہم نے یہی معنی لیا تو اس عبارت کا ترجمہ یوں ہوگا
عامۃ ما ٲحدثکم بہ خطٲ
ترجمہ یعنی میں اپنے درس میں جان بوجھ اکثر غلط دلیلیں بیان کرتا ہوں
مقصد یعنی غلط دلیلیں دے کر تمہاری فقاہت کا امتحان بھی لیتا ہوں اور تمہیں فقاہت سکھانا بھی مقصود ہوتا ہے۔
اور ہماری طرف سے ترجمہ یوں کیا گیا ہے۔۔۔’اکثر وہ باتیں جو میں تمہیں بیان کرتا ہوں غلط ہوتی ہیں ‘۔۔آپ نے یعنی سے جو مزید باتوں کو ترجمہ میں ذکر کیا ہے۔یا وضاحت کی ہے ان کے شواہد پیش کرسکتے ہیں ؟
یہ صرف ایک تحقیق ہے جسکا صحیح اور غلط ہونا دلائل ظنیہ پر مبنی ہے کوئی اس سے غلط مطلب نہ نکالے۔
جزاکم اللہ خیرا
اگر اس طرح کی تحقیق اختلافی مسائل میں کی جاتی اور پھر تقلید سے جان چھڑا کر صرف راجح پر ہی عمل کیا جاتا تو بہت فائدہ ہوتا۔۔۔
 

حرب بن شداد

سینئر رکن
شمولیت
مئی 13، 2012
پیغامات
2,149
ری ایکشن اسکور
6,345
پوائنٹ
437
حرب بن شداد بھائی حضرت مقرئ امام ابو حنیفہ کے شاگردوں میں سے تھے تحقیق کے لئے تہذیب الکمال میں انکا ترجمہ دیکھا جاسکتا ہے امام مزی رحمۃ اللہ علیہ نے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا تذکرہ انکے مشایخ میں کیا ہے
محمد یعقوب بھائی!۔۔۔
وہ عبارت یہاں پیش کرسکتے ہیں اردو ترجمے کے ساتھ۔۔۔
تاکہ درست بات جو ہے وہ سمجھی جائے اور اگر کوئی غلط فہمی ہوئی ہے اسے دور کیا جاسکتے۔۔۔
 

حرب بن شداد

سینئر رکن
شمولیت
مئی 13، 2012
پیغامات
2,149
ری ایکشن اسکور
6,345
پوائنٹ
437
رہا امام ترمذی کا نقل کرنا تو وہ بھی انسان ہیں دوسرے انہوں نے فقط نقل کردیا ہے معنی بیان نہیں کیا نہ ہی انہوں نے کوئی ایسا باب قائم کیا جس سے امام ابو حنیفہ پر کوئی جرح مقصود ہو
تو اس طرح سے انسان تو امام صاحبؒ، اُن کے شاگرؒ بھی ہیں چلیں۔۔۔
شکریہ۔۔۔ مفید معلومات باہم پہنچانے کا۔۔۔
جزاکم اللہ خیرا۔۔۔
 
Top