1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

خلیفۂ راشد (امیر المومنین)عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بیس رکعات تراویح

'تقابل مسالک' میں موضوعات آغاز کردہ از lovelyalltime, ‏جولائی 17، 2014۔

  1. ‏جولائی 17، 2014 #1
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    خلیفۂ راشد (امیر المومنین)عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بیس رکعات تراویح (باسند صحیح متصل) قطعاً ثابت نہیں ہیں۔ مخالفین جو کچھ پیش کرتے ہیں وہ یا تو منقطع ہے یا اس میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا (قولاً، فعلاً، یا تقریراً) ذکر ہی نہیں ہے۔ لہٰذا ایسی ضعیف و غیر متعلق روایات اور نامعلوم لوگوں کے سخت اختلافی عمل کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے صحیح متصل اور ثابت حکم (گیارہ رکعات) کے خلاف پیش کرنا انتہائی ناپسندیدہ حرکت ہے۔

    (تعداد رکعات قیام رمضان کا تحقیقی جائزہ ، از:محدث زبیر علی زئی رحمہ اللہ: ص 36)


    baas rakat sabit nahin.png
     
  2. ‏جولائی 17، 2014 #2
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436




    8 rakat sabit haian.png



    اس فاروقی حکم کی سند بالکل صحیح ہے:

    دلیل1: اس کے تمام راوی زبردست قسم کے ثقہ ہیں۔

    دلیل2: اس سند کے کسی راوی پر کوئی جرح نہیں ہے۔

    دلیل3:اسی سند کے ساتھ ایک روایت صحیح بخآری کتاب الحج میں بھی موجود ہے۔ (ح 1858)

    دلیل4: شاہ ولی اللہ الدہلوی نے "اہل الحدیث" سے نقل کیا ہے کہ موطأ کی تمام احادیث صحیح ہیں۔ (حجة اللہ البالغہ:241/2)

    دلیل5:طحاوی حنفی نے "لھٰذا یدل" کہہ کر یہ اثر بطور حجت پیش کیا ہے۔ (معانی الآثار:193/1)

    دلیل6: ضیاء المقدسی نے المختارہ میں یہ اثر لا کر اپنے نزدیک اس کا صحیح ہونا ثابت کردیا ہے۔ (دیکھئے اختصار علوم الحدیث ص 77)

    دلیل7:امام ترمذی نے اس جیسی ایک سند کے بارے میں کہا: "حسن صحیح"(926)

    دلیل8: اس روایت کو متقدمین میں سے کسی ایک محدث نے بھی ضعیف نہیں کہا۔

    دلیل9:علامہ باجی نے اس اثر کو تسلیم کیا ہے۔ (موطأ بشرح الزرقانی:238/1ح 249)

    دلیل10:مشہور غیر اہل الحدیث محمد بن علی النیموی نے اس روایت کے بارے میں کہا: "و إسنادہ صحیح" (آثآر السنن ص 250) اور اس کی سند صحیح ہے۔
    (لہٰذا بعض متعصب لوگوں کا پندرہویں صدی میں اسے مضطرب کہنا باطل اور بے بنیاد ہے۔)
     
  3. ‏جنوری 10، 2016 #3
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    محترم! اس کا عربی متن اور ترجمہ تحریر فرمادیں۔ اور یاد رکھیں کہ آپ لوگوں کی دلیل صرف ”صحیح حدیث“ ہی ہے اس سے انحراف کر کے دھوکہ دہی کے موجب نہ بنیں۔
     
  4. ‏جنوری 10، 2016 #4
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    چلئے، دیکھ لیتے ہیں کہ آپ عربی متن اور ترجمہ دیکھ لینے کے بعد ، کیا ارشاد فرماتے ہیں:

    مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّهُ قَالَ: أَمَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ وَتَمِيمًا الدَّارِيَّ أَنْ يَقُومَا لِلنَّاسِ بِإِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً ‘‘
    کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب اور جناب تمیم داری رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو (وتروں سمیت ) گیارہ رکعت پڑھائیں ‘‘

    اس حدیث کی صحت اوپر ثابت کی جا چکی ہے۔
    اب آپ فقط اس حدیث کے تعلق سے ارشاد فرمائیں کہ کیا اعتراضات ہیں۔
     
  5. ‏جنوری 10، 2016 #5
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    محترم! اس میں آپ کا آٹھ والا عدد کہاں ہے؟
     
  6. ‏جنوری 10، 2016 #6
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    اس میں آٹھ کا عدد احناف کے امام أبو جعفر المعروف بالطحاوي (المتوفى: 321 ھ) نے شرح معانی الآثار میں ثابت فرمایا ہے :
    آنکھیں کھول کر پڑھیں :
    قال الامام الطحاوی رحمہ اللہ :
    حدثنا أبو بكرة , قال: ثنا روح بن عبادة , قال: ثنا مالك , عن محمد بن يوسف , عن السائب بن يزيد , قال: أمر عمر بن الخطاب أبي بن كعب وتميما الداري أن يقوما للناس بإحدى عشرة ركعة. قال: «فكان القارئ يقرأ بالمئين حتى يعتمد على العصا من طول القيام , وما كنا ننصرف إلا في فروع الفجر»
    فهذا يدل على أنهم كانوا يوترون بثلاث؛

    سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب اور جناب تمیم داری رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو گیارہ رکعت پڑھائیں ‘‘
    تو حسب حکم قاری (تراویح کی نماز پڑھاتا ) اور سو سو آیتیں ایک رکعت میں پڑھتا، یہاں تک (طویل قیام کے سبب ) ہم عصا کاسہارا لیتے تھے ،اور صبح کے قریب نماز سے فارغ ہوتے ‘‘

    امام طحاوی یہ حدیث لکھ کر فرماتے ہیں :یہ روایت اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کرام تین رکعت وتر پڑھتے تھے ،،
    ان کی اس وضاحت سے ثابت ہوا کہ گیارہ میں سے آٹھ رکعت تراویح ہوتی تھیں،
     
    Last edited: ‏جنوری 11، 2016
    • زبردست زبردست x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  7. ‏جنوری 10، 2016 #7
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    مشہور دیوبندی عالم محمد بن علی نیموی اپنی کتاب ’’ آثار السنن ‘‘ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی اسی روایت سے آٹھ تراویح کا عدد ثابت کرتے ہیں :

    ثمان ركعات تراويح.jpg
     
  8. ‏جنوری 10، 2016 #8
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    ثمان ركعات تراويح.gif
    ثمان ركعات تراويح.gif
    اس کو علامہ نیموی مقلد صاحب نے ’’ اسنادہ‘ صحیح ‘‘ فرمایا ہے ،اس میں اگر کوئی دھوکہ دہی ہے تو نیموی صاحب کی ہی ہے ،
     
    Last edited: ‏جنوری 10، 2016
  9. ‏جنوری 10، 2016 #9
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    محترم! میں نے سند پر اعتراض نہیں کیا تھا میں نے کہا تھا؛
     
  10. ‏جنوری 10، 2016 #10
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,357
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    آپ نے پھر کیوں کہا؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں