1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دجال مدینہ کے مشرق میں کسی جزیرے میں قید ہے کیا یہ حدیث صحیح ہے

'تحقیق حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از وجاہت, ‏فروری 24، 2017۔

  1. ‏مارچ 07، 2017 #51
    مظاہر امیر

    مظاہر امیر مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جولائی 15، 2016
    پیغامات:
    1,272
    موصول شکریہ جات:
    362
    تمغے کے پوائنٹ:
    176

    آپ نے خود ہی اپنے سوال کا جواب دے دیا ۔
    أبواسحاق کا قول یا شرح حدیث ہے ؟
     
  2. ‏مارچ 07، 2017 #52
    وجاہت

    وجاہت رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مئی 03، 2016
    پیغامات:
    421
    موصول شکریہ جات:
    41
    تمغے کے پوائنٹ:
    45


    اس اقتباس میں جو متن ہے القسطلاني کی کتاب إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري کا ہے جس میں ابن حجر کی بات پیش کی گئی ہے
    =========

    وقال ابن العربي: سمعت من يقول إن الذي يقتله الدجال هو الخضر وهذه دعوى لا برهان لها. قال الحافظ ابن حجر: قد يتمسك من قاله بما أخرجه ابن حبان في صحيحه من حديث أبي عبيدة بن الجراح رفعه في ذكر الدجال لعله يدركه بعض من رآني أو سمع كلامي الحديث ويعكر عليه قوله في رواية لمسلم شاب ممتلئ شبابًا ويمكن أن يجُاب بأن من جملة خصائص الخضر أن لا يزال شابًّا ويحتاج إلى دليل


    ابن العربی نے کہا میں نے سنا جس نے کہا کہ یہ شخص جس کو دجال قتل نہ کر سکے گا خضر
    ہوں گے اور اس دعوی کی کوئی برہان نہیں ہے اور ابن حجر نے کہا بلا شبہ اس میں تمسک کیا ہے اس پر جو ابن حبان نے صحیح میں حدیث ابو عبیدہ بن الجراح تخریج کی ہے جس میں ذکر دجال ہے کہ ہو سکتا ہے بعض اس کو پائیں جنہوں نے نے مجھ کو دیکھا یا کلام سنا الحدیث
    اور روایت میں آ رہا ہے ایک مسلم جوان جوانی سے بھر پور اور ممکن ہے اس کا جواب دیا ہو کہ یہ خصائص خضر کے ہیں کہ ان کی جوانی کو زوال نہیں ہے لیکن اس پر دلیل درکار ہے

    صحیح ابن حبان کی ایک روایت ہے


    صحیح ابن حبان کی روایت ہے

    أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ
    عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: “إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَ قَوْمَهُ الدَّجَّالَ، وَإِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ”، قَالَ: فَوَصَفَهُ لَنَا، وَقَالَ: “لَعَلَّهُ أَنْ يُدْرِكَهُ بَعْضُ مَنْ رَآنِي، أَوْ سَمِعَ كَلَامِي”، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلُوبُنَا يَوْمَئِذٍ مثلها اليوم؟ فقال: “أو خير


    أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو کہتے سنا کہ بے شک مجھ سے پہلے کوئی نبی نہیں گزرا الا یہ کہ اس نے اپنی قوم کو دجال سے ڈرایا اور میں تم کو ڈراتا ہوں -… ہو سکتا ہے اس کو بعض پائیں جنہوں نے مجھ کو دیکھا یا میرا کلام سنا


    یعنی اقتباس میں یہ بات کہی گئی ہے کہ ممکن ہے محدثین نے اس رائے کا استخراج اس طرح کیا ہو کہ صحیح ابن حبان کی اوپر والی حدیث کے مطابق ان کے نزدیک خضر نے نبی صلی الله علیہ وسلم کا کلام سنا اور پھر ان کی ملاقات دجال سے ہوئی کیونکہ خضر علیہ السلام کی جوانی کو زوال نہیں ہے – اس رائے کو ابن حجر نے رد کیا ہے کہ خضر کی جوانی کو زوال نہیں پر دلیل نہیں ہے لیکن انہوں نے اس بات کو رد نہیں کیا کہ محدثین یا سلف نے ایسا کوئی موقف نہیں رکھا تھا

    ابن تیمیہ رحمہ الله مجموع الفتاوى ج ٤ ص ٢٢٩ میں خضر کی زندگی پر کہتے ہیں جب سوال ہوا

    هَلْ هُوَ حَيٌّ إلَى الْآنَ وَإِنْ كَانَ حَيًّا فَمَا تَقُولُونَ فِيمَا رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ” {لَوْ كَانَ حَيًّا لَزَارَنِي} ” هَلْ هَذَا الْحَدِيثُ صَحِيحٌ أَمْ لَا؟


    ابن تیمیہ رحمہ الله نے جواب دیا

    وَأَمَّا حَيَاتُهُ: فَهُوَ حَيٌّ. وَالْحَدِيثُ الْمَذْكُورُ لَا أَصْلَ لَهُ وَلَا يُعْرَفُ لَهُ إسْنَادٌ بَلْ الْمَرْوِيُّ فِي مُسْنَدِ الشَّافِعِيِّ وَغَيْرِهِ: أَنَّهُ اجْتَمَعَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ قَالَ إنَّهُ لَمْ يَجْتَمِعْ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدْ قَالَ مَا لَا عِلْمَ لَهُ بِهِ فَإِنَّهُ مِنْ الْعِلْمِ الَّذِي لَا يُحَاطُ بِهِ. وَمَنْ احْتَجَّ عَلَى وَفَاتِهِ بِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ” {أَرَأَيْتُكُمْ لَيْلَتَكُمْ هَذِهِ فَإِنَّهُ عَلَى رَأْسِ مِائَةِ سَنَةٍ لَا يَبْقَى عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ مِمَّنْ هُوَ عَلَيْهَا الْيَوْمَ أَحَدٌ} ” فَلَا حُجَّةَ فِيهِ فَإِنَّهُ يُمْكِنُ أَنْ يَكُونَ الْخَضِرُ إذْ ذَاكَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ. وَلِأَنَّ الدَّجَّالَ – وَكَذَلِكَ الْجَسَّاسَةُ – الصَّحِيحُ أَنَّهُ كَانَ حَيًّا مَوْجُودًا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بَاقٍ إلَى الْيَوْمِ لَمْ يَخْرُجْ وَكَانَ فِي جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ. فَمَا كَانَ مِنْ الْجَوَابِ عَنْهُ كَانَ هُوَ الْجَوَابَ عَنْ الْخَضِرِ وَهُوَ أَنْ يَكُونَ لَفْظُ الْأَرْضِ لَمْ يَدْخُلْ فِي هَذَا الْخَبَرِ أَوْ يَكُونُ أَرَادَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْآدَمِيِّينَ الْمَعْرُوفِينَ وَأَمَّا مَنْ خَرَجَ عَنْ الْعَادَةِ فَلَمْ يَدْخُلْ فِي الْعُمُومِ



    لیکن ابن قیم رحمہ الله نے المنار المنيف میں لکھا ہے

    وَسُئِلَ عَنْهُ شَيْخُ الإِسْلامِ ابْنُ تَيْمِيَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ فَقَالَ: “لَوْ كَانَ الْخَضِرُ حَيًّا لَوَجِبَ عَلَيْهِ أَنْ يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُجَاهِدُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَيَتَعَلَّمُ مِنْهُ وَقَدْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ: “اللَّهُمَّ إِنْ تُهْلَكْ هَذِهِ الْعِصَابَةُ لا تُعْبَدْ فِي الأَرْضِ” وكانوا ثلاث مئة وَثَلاثَةِ عَشَرَ رَجُلا مَعْرُوفِينَ بِأَسْمَائِهِمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ فَأَيْنَ كَانَ الْخَضِرُ حِينَئِذٍ؟


    یہ تضاد رائے کب ہوا ؟ واضح نہیں ہے
     
  3. ‏مارچ 07، 2017 #53
    وجاہت

    وجاہت رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مئی 03، 2016
    پیغامات:
    421
    موصول شکریہ جات:
    41
    تمغے کے پوائنٹ:
    45

    اوپر بھی پڑھیں -

    هو أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن سفيان النيسابوري1، ولم تذكر المصادر سنةَ ولادته، ويظهر أنَّها كانت في النصف الأول من القرن الثالث؛ لأنَّ الإمام مسلماً رحمه الله فرغ من كتابة الصحيح سنة خمسين ومائتين، كما ذكر العراقي2، ثم أخذ يمليه على الناس حتى فرغ من ذلك لعشر خلون من رمضان سنة سبع وخمسين ومائتين، كما نصَّ على ذلك ابن سفيان3، وعاش ابن سفيان بعد ذلك حتى أول القرن الرابع كما سيأتي.

    امام مسلم المتوفی ٢٦١ ھ نے ابو اسحاق کو صحیح املا کرائی سن ٢٥٧ ہجری رمضان تک
     
  4. ‏مارچ 10، 2017 #54
    وجاہت

    وجاہت رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مئی 03، 2016
    پیغامات:
    421
    موصول شکریہ جات:
    41
    تمغے کے پوائنٹ:
    45

    جس حدیث پر ہی سوال ہو اس کو ثابت ماننے کے لئے اسی کو دلیل نہیں بنایا جا سکتا ہے

    حدیث جساسہ مضطرب المتن ہے منفرد ہے اور دجال کو دیو قامت اور بالوں سے بھرا ہوا قرار دیتی ہے یہاں تک کہ اس کے بال زمیں و آسمان کے درمیان ہیں
    اس کا جاسوس ایک عورت نما جانور بتاتی ہے
    یہ کس طرح باقی احادیث کے مطابق ہے؟

    دجال ایک انسان ہے نہ کہ کوئی جانور
     
  5. ‏مارچ 10، 2017 #55
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,650
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    آپ نے علم الحدیث پڑھا بھی ہے؟ یا اپنی اٹکل سے نئے نئے قواعد گھڑے جاتے ہیں!
     
  6. ‏مارچ 11، 2017 #56
    وجاہت

    وجاہت رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مئی 03، 2016
    پیغامات:
    421
    موصول شکریہ جات:
    41
    تمغے کے پوائنٹ:
    45


    حدیث جساسہ مضطرب المتن ہے منفرد ہے اور دجال کو دیو قامت اور بالوں سے بھرا ہوا قرار دیتی ہے یہاں تک کہ اس کے بال زمیں و آسمان کے درمیان ہیں
    اس کا جاسوس ایک عورت نما جانور بتاتی ہے
    یہ کس طرح باقی احادیث کے مطابق ہے؟

    دجال ایک انسان ہے نہ کہ کوئی جانور
     
  7. ‏مارچ 11، 2017 #57
    وجاہت

    وجاہت رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مئی 03، 2016
    پیغامات:
    421
    موصول شکریہ جات:
    41
    تمغے کے پوائنٹ:
    45

    4325 . حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ, أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، ثُمَّ خَرَجَ، فَقَالَ: >إِنَّهُ حَبَسَنِي حَدِيثٌ كَانَ يُحَدِّثُنِيهِ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ، عَنْ رَجُلٍ كَانَ فِي جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ, فَإِذَا أَنَا بِامْرَأَةٍ تَجُرُّ شَعْرَهَا، قَالَ: مَا أَنْتِ؟ قَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ، اذْهَبْ إِلَى ذَلِكَ الْقَصْر،ِ فَأَتَيْتُهُ، فَإِذَا رَجُلٌ يَجُرُّ شَعْرَهُ، مُسَلْسَلٌ فِي الْأَغْلَالِ، يَنْزُو فِيمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَقُلْتُ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا الدَّجَّالُ, خَرَجَ نَبِيُّ الْأُمِّيِّينَ بَعْدُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: أَطَاعُوهُ أَمْ عَصَوْهُ؟ قُلْتُ: بَلْ أَطَاعُوهُ، قَالَ ذَاكَ خَيْرٌ لَهُمْ<.
    حکم : صحیح

    سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں تاخیر فرما دی ۔ پھر تشریف لائے اور فرمایا ” مجھے تمیم داری کی باتوں نے روک لیا تھا ۔ وہ بیان کر رہے تھے کہ سمندری جزیروں میں سے ایک جزیرے میں ایک آدمی تھا ‘ اور
    میں نے ایک عورت کو دیکھا جو اپنے بال کھینچ رہی تھی ۔ پوچھا کہ تو کون ہے ؟ اس نے کہا : ” جساسہ ہوں ‘ اس محل میں چلے جاؤ ‘ میں وہاں گیا تو اس میں ایک آدمی کو دیکھا جو اپنے بال کھینچ رہا تھا اور زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا اور اوپر نیچے اچھل رہا تھا ۔ میں نے کہا : تم کون ہو ؟ اس نے کہا : میں دجال ہوں ۔ کیا عربوں کا نبی آ گیا ہے ؟ میں نے کہا : ہاں ۔ اس نے کہا : کیا ان لوگوں نے اس کی اطاعت کی ہے یا نافرمانی ؟ میں نے کہا : نہیں بلکہ اطاعت کی ہے ۔ اس نے کہا : یہ ان کے لیے بہتر ہے ۔ “

    اب اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جساسہ ایک عورت ہے اور اس کے بعد والی روایت میں ہے کہ وہ ایک دابہ ہے دونوں روایتیں متعارض ہیں


    4326 . حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ حُسَيْنًا الْمُعَلِّمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ شَرَاحِيلَ الشَّعْبِيُّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ مُنَادِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَادِي, أَنِ: الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ، فَخَرَجْتُ، فَصَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا، قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ, جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَضْحَكُ، قَالَ: >لِيَلْزَمْ كُلُّ إِنْسَانٍ مُصَلَّاهُ< ،ثُمَّ قَالَ: >هَلْ تَدْرُونَ لِمَ جَمَعْتُكُمْ؟<، قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: >إِنِّي مَا جَمَعْتُكُمْ لِرَهْبَةٍ وَلَا رَغْبَةٍ، وَلَكِنْ جَمَعْتُكُمْ أَنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ كَانَ رَجُلًا نَصْرَانِيًّا فَجَاءَ فَبَايَعَ، وَأَسْلَمَ، وَحَدَّثَنِي حَدِيثًا وَافَقَ الَّذِي حَدَّثْتُكُمْ عَنِ الدَّجَّالِ! حَدَّثَنِي: أَنَّهُ رَكِبَ فِي سَفِينَةٍ بَحْرِيَّةٍ مَعَ ثَلَاثِينَ رَجُلًا مِنْ لَخْمٍ وَجُذَامٍ، فَلَعِبَ بِهِمُ الْمَوْجُ شَهْرًا فِي الْبَحْرِ، وَأَرْفَئُوا إِلَى جَزِيرَةٍ حِينَ مَغْرِبِ الشَّمْسِ، فَجَلَسُوا فِي أَقْرُبِ السَّفِينَةِ، فَدَخَلُوا الْجَزِيرَةَ، فَلَقِيَتْهُمْ دَابَّةٌ أَهْلَبُ كَثِيرَةُ الشَّعْرِ، قَالُوا: وَيْلَكِ! مَا أَنْتِ؟ قَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ, انْطَلِقُوا إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فِي هَذَا الدَّيْرَ, فَإِنَّهُ إِلَى خَبَرِكُمْ بِالْأَشْوَاقِ، قَالَ: لَمَّا سَمَّتْ لَنَا رَجُلًا فَرِقْنَا مِنْهَا أَنْ تَكُونَ شَيْطَانَةً، فَانْطَلَقْنَا سِرَاعًا، حَتَّى دَخَلْنَا الدَّيْرَ، فَإِذَا فِيهِ أَعْظَمُ إِنْسَانٍ رَأَيْنَاهُ قَطُّ خَلْقًا، وَأَشَدُّهُ وَثَاقًا, مَجْمُوعَةٌ يَدَاهُ إِلَى عُنُقِهِ<... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَسَأَلَهُمْ، عَنْ نَخْلِ بَيْسَانَ, وَعَنْ عَيْنِ زُغَرَ، وَعَنِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ؟ قَالَ: إِنِّي أَنَا الْمَسِيحُ, وَإِنَّهُ يُوشَكُ أَنْ يُؤْذَنَ لِي فِي الْخُرُوجِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >وَإِنَّهُ فِي بَحْرِ الشَّامِ- أَوْ بَحْرِ الْيَمَنِ- لَا بَلْ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مَا هُوَ!< مَرَّتَيْنِ، وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ. قَالَتْ: حَفِظْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ... وَسَاقَ الْحَدِيثَ.

    حکم : صحیح

    سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اعلان کرنے والے کو منادی کرتے ہوئے سنا کہ نماز کے لیے جمع ہو جاؤ ۔ تو میں بھی چلی آئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو گئے تو منبر پر تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس رہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ہر شخص اپنی جگہ پر بیٹھا رہے ۔ “ پھر فرمایا ” کیا جانتے ہو میں نے تمہیں کیوں جمع کیا ہے “ انہوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” میں نے تمہیں ڈرانے یا خوشخبری سنانے کے لیے جمع نہیں کیا ہے ۔ میں نے تمہیں اس لیے جمع کیا ہے کہ تمیم داری عیسائی تھا ، میرے ہاں آیا ، بیعت کی اور اسلام قبول کیا اور اس نے مجھے ایک بات بیان کی ہے جو میری بات کی تائید میں ہے جو میں نے تمہیں دجال کے متعلق کہی ہے ۔ اس نے مجھے بتایا ہے کہ وہ ایک جہاز میں سوار ہوا ، اس کے ساتھ قبیلہ لخم اور جذام کے تیس آدمی تھے ۔ جہاز کو طوفانی موجوں نے آ لیا جو انہیں ایک مہینہ تک پریشان کیے رہیں ۔ اور وہ سورج غروب ہونے کے وقت ایک جزیرے کے پاس پہنچے اور ایک چھوٹی کشتی میں سوار ہو کر جزیرے میں جا اترے ۔ تو انہیں
    ایک جانور ملا جس کی دم بھاری اور جسم پر بہت بال تھے ۔ انہوں نے کہا : کمبخت ! تو کون ہے ؟ اس نے کہا : میں جساسہ ہوں ۔ اس گرجے میں ایک آدمی ہے اس کے پاس جاؤ ، وہ تمہاری خبروں کا بہت مشتاق ہے ۔ جب اس نے ہمارے سامنے آدمی کا نام لیا تو ہم اس سے ڈر گئے کہ کہیں شیطان نہ ہو ۔ ہم جلدی سے چلے اور اس گرجے میں داخل ہوئے تو ایک بہت بڑا انسان دیکھا ، اس قدر بڑا انسان ہم نے کبھی نہیں دیکھا تھا جسے بڑی سختی سے باندھا گیا تھا اور اس کے ہاتھ گردن کے ساتھ بندھے ہوئے تھے ۔ “ اور حدیث بیان کی ، اس نے ان سے ( شام کے ) نخلستان بیسان ، چشمہ زغر اور نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھا ۔ اور کہا کہ میں ہی مسیح ( دجال ) ہوں ۔ عنقریب مجھے نکلنے کی اجازت مل جائے گی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” دجال شام یا یمن کے سمندر میں ہے ، نہیں بلکہ مشرق کی طرف میں ہے “ دو بار فرمایا ۔ آپ نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ فرمایا ۔ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد کی ہے ، اور بقیہ حدیث بیان کی ۔


    @ابن داود بھائی کیا دجال کے پاس دو جساسہ ہیں - ایک دابہ اور دوسری عورت

    حدیث جساسہ مضطرب المتن ہے منفرد ہے اور دجال کو دیو قامت اور بالوں سے بھرا ہوا قرار دیتی ہے یہاں تک کہ اس کے بال زمیں و آسمان کے درمیان ہیں
    اس کا جاسوس ایک عورت نما جانور بتاتی ہے
    یہ کس طرح باقی احادیث کے مطابق ہے؟


    دجال ایک انسان ہے نہ کہ کوئی جانور
     
  8. ‏مارچ 11، 2017 #58
    T.K.H

    T.K.H مشہور رکن
    جگہ:
    یہی دنیا اور بھلا کہاں سے ؟
    شمولیت:
    ‏مارچ 05، 2013
    پیغامات:
    1,097
    موصول شکریہ جات:
    318
    تمغے کے پوائنٹ:
    156

    جساسہ والی روایت کو مضطرب المتن قرار دینے کے لیے پہلے اس کے تمام طرق کو جمع کیا جائے اور پھر تحقیقی نظر ڈال کر کوئی فیصلہ کیا جائے۔
     
  9. ‏مارچ 11، 2017 #59
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,650
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    سوال کیا گیا:
    جواب دیا گیا:
    اسے کہتے ہیں سوال گندم جواب چنا!
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • تکرار تکرار x 1
    • لسٹ
  10. ‏مارچ 27، 2017 #60
    وجاہت

    وجاہت رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مئی 03، 2016
    پیغامات:
    421
    موصول شکریہ جات:
    41
    تمغے کے پوائنٹ:
    45

    @ابن داود بھائی کیا کہیں گے آپ یہاں -
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں