1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

رفع الیدین کی مختلف احادیث سے اصول انتخاب کیا ہے؟

'نماز کا طریقہ کار' میں موضوعات آغاز کردہ از جی مرشد جی, ‏جنوری 17، 2018۔

  1. ‏جنوری 17، 2018 #1
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    551
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    صحیح بخاری میں ہی دو طرح کی احادیث ہیں جن میں سے ایک میں رفع الیدین کے تین مواضع بیان ہوئے ہیں اور ایک میں چار۔
    ان میں سے کس حدیث پر عمل کیا جائے اور کیوں؟
    کیا دونوں پر عمل کیا جائے کہ کبھی چار جگہ رفع الیدین کی جائے اور کبھی تین جگہ؟
     
  2. ‏جنوری 17، 2018 #2
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    551
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    ان احادیث میں تین جگہ رفع الیدین ہے
    صحيح البخاري (1 / 148):
    735 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ: " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَةَ، وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ أَيْضًا، وَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الحَمْدُ، وَكَانَ لاَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ "


    صحيح البخاري (1 / 148):
    737 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الوَاسِطِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، أَنَّهُ رَأَى مَالِكَ بْنَ الحُوَيْرِثِ «إِذَا صَلَّى كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَ يَدَيْهِ» ، وَحَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ هَكَذَا


    ان احادیث میں چار مقامات کا ذکر ہے
    صحيح البخاري (1 / 148):
    739 - حَدَّثَنَا عَيَّاشٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ " إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلاَةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ "، وَرَفَعَ ذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَاهُ ابْنُ طَهْمَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ مُخْتَصَرًا

    لطف کی بات یہ کہ دونوں طرح کی احادیث ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہیں۔
     
  3. ‏جنوری 17، 2018 #3
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,284
    موصول شکریہ جات:
    2,643
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    @اشماریہ بھائی کیا یہ بہتر نہیں ہوگاکہ آپ ان صاحب کواس کا جواب دیں!
    کیا فقہ حنفی میں ایسے کوئی اصول پائے جاتے ہیں، جس کا صاحب نے ذکر کیا ہے؟
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  4. ‏جنوری 17، 2018 #4
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,077
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    تمام احادیث کو جمع کر کے عمل کیا جائے گا. اب اپنی اتحاد کی آڑ میں قرآن و حدیث سے کھلواڑ کرنا بند کریں.
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  5. ‏جنوری 17، 2018 #5
    difa-e- hadis

    difa-e- hadis رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2017
    پیغامات:
    287
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    60

    موصوف اگر آپ تھوڑی سی عقل بھی استعمال کر لیں تو آپ کو شاید معلوم ہو جائے کہ یہ احادیث ان دو مواقع کے لئے بیان ہوئی ہیں ایک جب دو رکعت پڑھی جائے اور جب دو رکعت سے ذیادہ پڑھی جائے ہم تو دونوں پر عمل کرتے ہیں جب دو رکعت پڑھتے ہیں تو اوپر والی احادیث اور جب تین یا چار رکعت پڑھتے ہیں تو نیچے والی احادیث آپ کا آپ ہی جانو۔
     
  6. ‏جنوری 17، 2018 #6
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    551
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    وہی تو پوچھا کہ کس طرح؟
    جس طرح میں نے لکھا ویسے یا کسی اور طرح؟

    قرآن و حدیث کی تفہیم آپ کے نزدیک اس سے کھلواڑ کیسے ہوگیا؟
    اس کا مطلب تمام مفسرین قرآن سے کھلواڑ کرتے رہے اور شارحین حدیث احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے؟
    بے عقلی کی باتیں اہل حدیث کہلانے والوں کو زیبا نہیں۔
     
  7. ‏جنوری 17، 2018 #7
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    551
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    بات فقہ حنفی کی نہیں یہ اہل حدیث حضرات سے پوچھا ہے۔
    احناف تو تکبیر تحریمہ کے سوا رفع اکیدین کرتے ہی نہیں۔
    احناف کو یا تو تمام احادیث کا مخالف قرار دیں یا یہ کہیں کہ انہوں نے احادیث کے مجموعی تأثر کے تحت ایسا کیا ہے۔
     
  8. ‏جنوری 17، 2018 #8
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
    کون سے اصول ذکر کیے ہیں؟
     
  9. ‏جنوری 17، 2018 #9
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,284
    موصول شکریہ جات:
    2,643
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    صاحب نے اصول انتخاب یوں بیان فرمائے ہیں:
    یا
    یعنی کہ ان میں بیک وقت ایک پر ہی عمل پیرا ہوا جاسکتا ہے!
    کہ چار مقام پر رفع الیدین کرنے سے ان چار میں سے تین مقام کی رفع الیدین والی حدیث پر عمل نہ ہوگا!
     
  10. ‏جنوری 17، 2018 #10
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,077
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    اس موضوع کے متعلق تمام صحیح احادیث کو جمع کریں پھر نتیجہ نکالیں.
    مزید زیادۃ الثقہ کے متعلق بھی معلومات حاصل کریں.
    صحیح احادیث سے پہلو تہی اور باطل تاویلات قرآن و حدیث کی تفہیم ہرگز نہیں.
    تو شارحین کے اقوال نقل کروں؟؟؟ مانیں گے؟؟؟
    مزید یہ کہ کہیں کی بات کہیں فٹ کرنا دانشمندی نہیں.
    میں نے عقلمندی کا مظاہرہ کیا تھا یہ الگ بات ہے کہ بے عقلوں کو عقل مندی بھی بے عقلی نظر آتی ہے.
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں