1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ریاست مدینہ منورہ سعودی عرب کی طرز پر

'تازہ مضامین' میں موضوعات آغاز کردہ از خضر حیات, ‏دسمبر 11، 2018۔

  1. ‏دسمبر 11، 2018 #1
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,334
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    ریاست مدینہ منورہ سعودی عرب کی طرز پر

    وطن عزیز میں خطبا حضرات کو حکومتی تقریر کا پابند کرنے کا موضوع گرم ہے۔ اس کے حق میں تحریک چلانے والے عام طور پر وہ لوگ ہیں جنہیں میں ’انصافی شاہین‘ کہتا ہوں، جن کے بارےمیں اقبال اگر موجود ہوتا تو ضرور کہتا کہ
    سبق پھر پڑھ ضلالت کا رذالت کا شقاوت کا
    لیا جائے گا تجھ سے کام کافر کی وکالت کا
    ان لوگوں کو سعودیہ اور اس کے نظام سے کتنی دلچسپی ہے، یہ تو سب دنیا جانتی ہے۔ لیکن بہرصورت اب انہیں سعودیہ کا خطبہ جمعہ کا نظام یاد آرہا ہے، کہہ رہے ہیں کہ وہاں خطیب حکومت کی طرف سے لکھی لکھائی تقریر کرتے ہیں۔
    سعودیہ میں خطبہ جمعہ کا جو نظام ہے، وہ پاکستان سے مختلف ہے، لیکن بہرصورت وہاں حکومتی تقریر کی پابندی کا کوئی تصور نہیں ہے۔
    کچھ اہل علم اور خطبا کے تجربات و مشاہدات:
    پاکستان سے کئی ایک اہل علم، علماء و خطباء سعودیہ میں دعوتی میدان میں مصروف عمل ہیں، آپ ان سے معلومات لیں تو حقیقت حال بالکل واضح ہوجائے گی، ایک جگہ پر کسی صاحب نے اس حوالے سوال کیا کہ کیا واقعتا سعودی عرب میں حکومت کی طرف سے تقریر لکھ کر دی جاتی ہے؟
    اس سوال کے جواب میں کئی ایک لوگوں نے اپنے تجربات و مشاہدات بیان کیے، جنہیں یہاں نقل کرتا ہوں:
    ’’جى ایسا ہرگز نہیں ہے،میں ذاتی طور پر کئی خطباء کو جانتا ہوں،ہر خطيب اپنے طور پر نیٹ سرچ کرتا ہے جو خطبہ پسند آتا ہے اسے پرنٹ کرکے پیش کرتا ہے،کچھ تو اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا خطبہ لے کر منبر پر تشریف لاتے ہیں،ہاں اگر کوئی خاص مہم ہو جیسے کوئی تكفيري منهج پر دہشت گردی کی کوئی واردات ہو یا اور اس جیسا كوئى اورواقعہ ہو توحكومت كى طرف سے اس کی مذمت پر خطبہ دینے کا حکم آئے تو پھر اسى موضوع پر خطبہ ہوتا ہے۔‘‘
    ایک اور صاحب کہتے ہیں:
    ’’یہ بات بالکل بےبنیاد ہے۔ گزشتہ رمضان کے 4 جمعے اور محرم کا ایک جمعہ اپنے ایک استاد کی جگہ ان کی مصروفیت کی وجہ سے پڑھانے کا اتفاق ہوا تھا اور مسجد بھی وزارہ کے تحت اور اکثر سعودی تھے
    لیکن موضوع اپنی مرضی کا تھا۔‘‘
    عرصہ دراز سے جدہ میں مقیم ایک عالم دین لکھتے ہیں:
    ’’الحمد للہ جدہ میں تقریبا 28 مساجد میں جمعیة اہل الحدیث مرکزیہ کے زیر اہتمام اردو زبان میں خطبات جمعہ ھو رہے ہیں۔ میں خود بھی ربع صدی سے جدہ میں معروف خطیبوں کا بااجازت وزارۃ داخلیہ بموافقة وزاۃ شئون اسلامیة خطبات کا ترجمة کر رھا ہوں۔ بلکہ بہت سے خطیبوں کو موضوع اور مواد بھی فراہم کیا ھے، حکومت کی طرف تقریر آنے کا کوئی سلسلہ نہیں ہے۔ ہاں اہم مواقع پر بعض دفعہ کسی خاص موضوع پر تقریر کرنے کا کہا جاتا ہے۔‘‘
    مدینہ منورہ مین عرصہ دراز سے مقیم رہنے والے ایک عالم دین لکھتے ہیں:
    ’’یہ بات غلط ہے کہ سعودیہ میں حکومت کی طرف سے خطبہ ملتا ہے۔ میں نے خود کئی مرتبہ مدینہ میں ائرپورٹ روڈ پر خطبہ دیا ہے اور خود لکھ کر لے جاتا تھا کبھی کہیں سے کوئی ایسی پابندی نہیں تھی۔‘‘
    ایک اور خطیب لکھتے ہیں:
    ’’یہ خبر بلکل بے بنیاد هے، خطبہ جمعہ هو یا دوسرے پروگرام اکثر مشایخ عنوان کے متعلق نوٹس تیار کرکے سامنے رکھتے هیں، بعض مشایخ موبائل سے پڑھ کر خطبہ دیتے۔
    الحمدللہ میں کئی سالوں سے جمعہ کاخطبہ دیتا هوں نہ کوئی سرکاری ورقہ هوتاهے نہ اپنی طرف سے کوئی ورقہ۔
    حکومت کو جب ضرورت هوتو وہ صرف ایک میسج چھوڑ دیتے هیں کہ اس عنوان پر بولا جائے جیسے گذشتہ 15ستمبر کاجمعہ تقریبا پوری مملکت میں ایک هی عنوان پر دیا گیا۔‘‘
    ایک اور عالم دین اپنا مشاہدہ یوں بیان کرتے ہیں:
    حرمین شریفین، مسجد قبلتین، مسجد وطنیہ بریدہ، ان سب کے بارے میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ سب خود لکھ کر لاتے ہیں، حکومت کی جانب سے لکھا ہوا نہیں ملتا۔ بلکہ لکھا ہوا ہونا بھی ضروری نہیں ہے؛ کیونکہ مسجد قبلتین کے ایک خطیب عبد الرزاق البدر لکھ کر لاتے ہی نہیں زبانی خطبہ دیتے ہیں۔ ایسے مسجد عائشہ الراجحی مکہ میں ایک بار جمعہ ادا کرنے کا موقع ملا تو انہوں نے بھی زبانی خطبہ دیا تھا لکھا ہوا تھا ہی نہیں۔‘‘
    یہ سب ان لوگوں کے تجربات و مشاہدات ہیں، جو عرصہ دراز سے سعودی عرب میں دعوتی میدان میں مصروف عمل ہیں، اسی طرح وقتا فوقتا سعودی عرب آنے والے پاکستانی اہل علم اور مشایخ کا بھی یہی تجربہ تھا کہ ہم اردو کمیونٹی میں تقاریر اور خطبات جمعہ میں اپنے مرضی کے موضوعات اور مسائل بیان کرتے ہیں، حکومتی تقریر والی بات کا کوئی وجود نہیں ہے۔
    اس مسئلےکو دیکھنے کا ایک اور انداز:
    سعودی عرب میں سوشل میڈیا وغیرہ کا استعمال پاکستان کی نسبت بہت زیادہ ہے، یہاں تقریر و تحریر کی ترویج و تشہیر کا نظام ہم سے کافی بہتر ہے، سعودیہ میں درجنوں علماء ہیں، جن کے خطبات لائیو نشر ہوتے ہیں، ان کو سن لیں، ہر ایک کا اپنا مضمون اور بیان کرنے کا اپنا انداز ہوگا، اگر تقریر حکومت کی طرف سے ہو، تو الگ الگ خطبے ہونے کا کیا مطلب؟
    اور تو اور آپ حرمین شریفین یعنی مسجد حرام اور مسجد نبوی میں ہونے والے ایک ہی جمعے کے دو خطبات کو آپس میں ملا کر دیکھ لیں، ایک دوسرے سے مختلف ہوں گے۔ ہر خطیب کی صلاحیت، انداز ، اتار چڑھاؤ، فصاحت و بلاغت اور دلچسپیاں ان کے خطبات سے واضح ہوں گی، اگر حکومت کی طرف سے لکھی لکھائی تقاریر ہوتی ہوں تو یہ اختلاف کیوں؟
    ایک صاحب لکھتے ہیں:
    ’’یہ جو سعودی عرب کے بارے میں مشہور ہے کہ یہاں خطبہ گورنمنٹ کی طرف سے لکھا ہوا ملتا ہے یہ بالکل غلط ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ مختلف مساجد میں مختلف موضوعات بیان کیے جاتے ہیں حتیٰ کہ حرمین شریفین کے اندر مکہ اور مدینہ میں ایک موضوع نہیں ہوتا مسجد قباء اور دیگر مساجد میں خطبہ جمعہ کے عناوین مختلف ہوتے ہیں اور خطیب خود لکھ کے لاتا ہے دراصل یہاں خطیب حضرات لکھ کر خطبہ دیتے ہیں چند خطیب ایسے ہیں جو لکھے بغیر خطبہ دیتے میں نے کئی مساجد میں خطبہ جمعہ کا ترجمہ جمعہ کے بعد کیا ہے تو بعض دفع خطیب وہ لکھا ہوا جمعہ پکڑا دیتا ہے تاکہ ترجمہ میں مدد لی جاسکے تو وہ اس کے اپنے ہاتھ کا لکھا ہوتا ہے۔‘‘
    بلکہ آپ کو کئی ایسے خطبات اور تقاریر بھي ملیں گی، کہ جن کی وجہ سے خطباء کو پابندی کا سامنا کرنا پڑأ، اگر خطبہ حکومت کی طرف سے ہو تو پھر حکومت اپںا ہی خطبہ پڑھنے والے پر پابندی کیوں لگائے گی؟
    حکومت اپنی ہی تیار کردہ تقریر کو بین کس منطق سے کرے گی؟
    غلط فہمی کا سبب کیا ہے؟
    جب صورت حال یہ ہے تو پھر سعودی عرب کے متعلق یہ غلط فہمی کیوں پھیلی کہ یہاں حکومت کی طرف سے لکھی لکھائی تقریر کی جاتی ہے؟
    میں جب سعودیہ میں آیا تو ایک حد تک میرے ذہن میں بھی یہ تاثر موجود تھا، اور اس تاثر کو مزید تقویت ملی، جب مسجد نبوی و مسجد حرام میں خطباء کو ہاتھ میں ورقے تھأم کر تقریریں کرتے دیکھا۔ جامعہ اسلامیہ اور ارد گرد کی مساجد میں بھی یہی رواج نظر آیا، عموما خطبا ہاتھ میں ورقہ تھأم کر تقریر کیا کرتے تھے، بلکہ بعض مساجد میں خطباء تو اس قدر ورقے کے عادی تھے، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہنے سے پہلے ورقہ کھول لیتے، اور وآخر دعوانا... کہنے کے بعد ورقے سے نظر ہٹاتے۔ بڑی حیرانی ہوتی کہ انہیں السلام علیکم بھی ورقے کے بغیر کہنا نہیں آتا۔
    بلکہ ہمیں ایک دفعہ ایک استاد محترم نے لطیفہ بھی سنایا کہ ایک خطیب جمعے کی تیاری کرکے ورقہ جیکٹ میں ڈال کر لے گیا، مسجد میں جاکر وضو کرنے کےلیے جب جیکٹ اتاری تو ایک شرارتی نے چپکے سے ورقہ نکال لیا، خطیب صاحب ورقہ پر اعتماد کرتے ہوئے منبر پڑ چڑھ گئے، خطبہ مسنونہ پڑھتے ہوئے جب ورقہ کے لیے جب میں ہاتھ ڈالا تو پیشانی سے پسینہ اترنے لگا، جیسے تیسے کرکے خطبہ ختم کیا،، اگلی مرتبہ پھر اسی شرارتی کے ہتھے چڑھ گئے، تیسری مرتبہ انہوں ںے خطبہ کی دو کاپیاں کروالیں، شرارتی شرارت کرکے خطیب صاحب کی بوکھلاہٹ اور گھبراہٹ سے محظوظ ہونے کے لیے منتظر بیٹھا تھا، کہ خطیب صاحب نے فاتحانہ انداز میں دوسری جیب سے ورقہ نکالا، اور دھواں دھار خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔
    بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ یہاں خطبہ لکھ کر لانے کا رواج ہے، گو فی البدیہہ خطبہ یا تقریر کرنے والے اہل علم اور خطبا بھي موجود ہیں۔
    اور یہ صرف خطبہ ہی نہیں، یہاں بہت ساری تقاریب میں شرکت کی، وزیر مشیر، بادشاہ، مدیر الجامعہ وغیرہ سب لوگ جو بھی کچھ کہنا چاہتے ہیں، عموما ایک ورقے پر لکھ کر( یا اپنے سیکرٹری سے لکھوا کر) ساتھ لائے ہوتے ہیں۔ اور یہ رواج صرف سعودیہ میں ہی نہیں، بلکہ اور کئی جگہ پر اس کی مثالیں موجود ہیں۔ عمران خان صاحب بلا ورقہ تقریر کرتے ہیں، ورنہ اکثریت پہلے سے تیار شدہ بیان پڑھتےہیں۔
    البتہ ہمارے ہاں عام طور پر خطبا کا انداز ورقہ دیکھ کر تقریر پڑھنے کا نہیں ہوتا، تو سعودیہ کے ورقے والے خطبا دیکھ کر ہماری نظر میں پہلا تصور یہی آتا ہے کہ شاید یہ حکومت کی بھیجی ہوئی تقریر سنائی جارہی ہے۔
    حرمین میں ورقے والی تقریر پڑھنے کی ایک مجبوری یہ بھي ہے کہ یہاں کا خطبہ جمعہ ساتھ ساتھ مختلف زبانوں میں ترجمہ بھی ہوتا ہے، جن لوگوں نے ترجمہ کرنا ہوتا ہے، خطیب صاحب پہلے سے خطبہ لکھ کر مترجمین تک پہنچادیتے ہیں، تاکہ ساتھ ساتھ ترجمہ کرنے میں زیادہ مشکل اور پریشانی نہ ہو۔
    سعودی عرب میں لکھی ہوئی تقریر نہیں ہوتی لیکن:
    چونکہ سعودیہ عرب ایک اسلام پسند ملک ہے، اور اس میں کتاب وسنت اور اس کے احکامات کو باقاعدہ طور پر حکومتی سطح پر پروموٹ کیا جاتا تھا، جس طرح ہمارے ہاں داخلہ خارجہ، مالی وزارتیں ہیں، یہاں اوقاف اور اسلامی امور باقاعدہ ایک باصلاحیت وزیر کے تحت ہوتے ہیں، اس لیے انہوں نے لوگوں کو اپںا دیندار ہونا ثابت کیا ہے، اور لوگوں کے دینی جذبات کی تسکین کا بھرپور انتظام بھی کیے رکھا ہے، اس لیے لوگ دینی معاملات میں بھی ان پر بھرپور اعتماد کرتے ہیں، تمام مساجد، دینی جامعات، مدارس وغیرہ براہ راست حکومت کی کفالت میں ہیں، اور حکومت اس پر ٹھیک ٹھاک خرچہ کرتی ہے، یہاں خطیب یا امام مسجد ہونا تو بڑی بات، خالی مؤذن کے لیے بھی مناسب سہولیات ہیں۔
    دینی معاملات میں پابندیاں لگانے یا اٹھانے والے وقت کے بڑے بڑے علماء ہوا کرتے تھے، کافرانہ نظام کے دلدادہ لوگ نہیں تھے، یوں آج تک یہاں مساجد و مدارس کو جن باتوں کا پابند کیا جاتا ہے، عموما لوگ اس پابندی کا احترام کرتے ہیں۔ اوراب نظام میں کچھ تبدیلی کی وجہ سے مخالفتیں ہونا شروع ہوئی بھی ہیں، تو بھي اب تک اکثریت ایسے لوگوں کی ہے، جو حکومتی پالیسیوں پر آنکھ بند کرکے اعتماد کرنے والے ہیں۔
    اور یہاں خطبا و واعظمین کو گو لکھی لکھائی تقریریریں نہیں ملتیں، لیکن پھر بھی حکومت وقت کی مخالفت کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اور اسے فتنہ پروری اور ناسمجھی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ کئی لوگ جنہوں نے منبر و محراب اور قلم و لسان کو بے دریغ استعمال کیا، آج پابندیوں کا شکار ہیں۔
    رياست مدینہ منورہ درست سمت گامزن ہے؟
    پاکستان اگر ریاست مدینہ منورہ کی طرز پر بننے جارہی ہے تو سعودیہ کی نگرانی اور سختی کی بجائے اس کی طرف سے دینی طبقے کو دی جانے والی سہولیات پر بھی غور کرے، مدارس و مساجد کا خرچ اٹھائے، خطیب، امام، مؤذن، شیخ الحدیث وغیرہ کو باقاعدہ گریڈ سسٹم کے تحت تنخواہ دی جائے، تو شاید پابندی لگاتے وقت آپ کے حمایتی بھی ہوں گے، ورنہ اس کا کوئی بھی مثبت نتیجہ نہیں نکلے گا۔
    یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، آپ کا دعوی اسے ریاست مدینہ بنانے کا ہے، لیکن ہر آنے والے دن میں یہاں اسلام پسندوں پر ہی سختیاں ہورہی ہیں۔ جبکہ پارلیمنٹ جیسا حکومتی منبر ہو یا پھر میڈیا جیسا ایک عام فورم ہر جگہ پر پابندی اور قواعد و ضوابط نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔
    کون سی اسلام مخالف سرگرمی ہے جو اس ’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘ میں نہیں ہوتی؟ اس پر پابندی کس نے لگانی ہے؟
    جو حکومت اپنے حکومتی سیٹ اپ میں موجود چند سو افراد کے لیے دینی رہنمائی کا خاطر خواہ بندوبست نہیں کرسکتی، وہ سارے پاکستان کو اپنی تقریر کا پابند کیسے بنائے گی؟
    تختہ حکومت پر براجمان یا اس کے امیدواران کی آئے دن کی تقریریں ان کے دینی مزاج کا مذاق اڑاتی ہوئی نظر آتی ہیں۔
    تھوک کے حساب سے آنے والی تقریروں اور بیانات میں قرآن اور سنت نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی، اگر ہمت کرلیں، توکوئی سورہ اخلاص میں الجھ جاتا ہے، کسی کو خاتم النبیین کے ہجے پھنس جاتے ہیں، یہ بسم اللہ، کلمہ شہادت اور سورہ فاتحہ پڑھتے ہیں، تو یوں محسوس ہوتاہے، جیسے خلیجی ممالک میں کوئی اجنبی عربی بولنے پر مجبور کردیا گیاہے۔
    جس ملک کی پارلیمنٹ میں اسرائیل کے حق میں تقریریں ہوں، اُس ملک کی مساجد و مدارس میں پابندی کی بات کرنے والوں کونئے پرانے پاکستان کے چکر میں الجھنے کی بجائے اپنے لیے ایک عدد نیا ضمیر اوردماغ تلاش کرنے کی ضرورت ہے، جو اسلام کے نام پر معرض وجود میں آنے والے پاکستان اور ریاست مدینہ منورہ کے لیے سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
     
    Last edited: ‏دسمبر 11، 2018
    • پسند پسند x 4
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  2. ‏دسمبر 11، 2018 #2
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    730
    موصول شکریہ جات:
    115
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    محترم
    کیا علماء کو پاکستان کی طرح یہ اجازت ہے کہ وہ حکومت وقت کی پالیسیوں خلاف اپنے خطبات میں بول سکیں ۔
    جیسا کہ موجودہ حاکم نے کچھ فیصلے جدت پسندی کے تحت کیے ہیں ۔ کیا اس پر وہاں کے علماء نے اس بات پر ان کی مخالفت کی ہے۔
     
  3. ‏دسمبر 14، 2018 #3
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,334
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    بالکل اجازت نہیں ہے۔
    حکومت مخالف بولنے کا رجحان بھی بہت کم ہے۔
    جو بولتے ہیں، پابندی کا شکار ہوجاتے ہیں۔
    اس بات کا تحریر میں ذکر ہے۔
     
  4. ‏دسمبر 14، 2018 #4
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    730
    موصول شکریہ جات:
    115
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    محترم خضر حیات صاحب
    جب حکومت کی غیر اسلامی پالیسیوں پر بھی نہیں بول سکتے تو پھر کون سی آزادی ہے۔
     
  5. ‏دسمبر 15، 2018 #5
    عبدالمنان

    عبدالمنان مشہور رکن
    جگہ:
    گلبرگہ، ہندوستان
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2015
    پیغامات:
    735
    موصول شکریہ جات:
    164
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    حکومت کی غیر اسلامی پالیسیوں پر منبر و محراب سے عوام کے سامنے بولنا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے،، اور حکومت کی برائی عوام کے سامنے بیان کرنے کا کیا فائدہ؟؟ حکومت کی غیر اسلامی پالیسیوں کو حکومت کے ذمدار لوگوں کے سامنے بیان کرنے کا فائدہ ہے۔ اور یہی سنت اور سلف صالحین کا منہج ہے۔
     
  6. ‏دسمبر 15، 2018 #6
    عبدالمنان

    عبدالمنان مشہور رکن
    جگہ:
    گلبرگہ، ہندوستان
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2015
    پیغامات:
    735
    موصول شکریہ جات:
    164
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    قال ابن أبي عاصم (باب كيف نصيحة الرعية للولاة) ثم أخرج بسنده عن شريح بن عبيد قال: قال عياض بن غنم لهشام بن حكيم: ألم تسمع بقول رسول الله صلى الله عليه وسلم ((من أراد أن ينصح لذي سلطان فلا يبده علانية، ولكن يأخذ بيده فيخلو به فإن قبل منه وإلا كان قد أدى ما عليه))
    رواه أحمد (٣/ ٤٠٣) (١٥٣٦٩)، وابن أبي عاصم في ((السنة)) (٣/ ١٠٢) (٩١٠)، والطبراني في ((مسند الشاميين)) (٢/ ٩٤) (٩٧٧). قال الهيثمي في ((مجمع الزوائد)) (٥/ ٢٣٢): رواه أحمد ورجاله ثقات، إلا أني لم أجد لشريح من عياض وهشام سماعاً وإن كان تابعياً، وصححه الألباني في ((تخريج كتاب السنة)).
     
  7. ‏دسمبر 15، 2018 #7
    عبدالمنان

    عبدالمنان مشہور رکن
    جگہ:
    گلبرگہ، ہندوستان
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2015
    پیغامات:
    735
    موصول شکریہ جات:
    164
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    صحيح البخاري (٣٢٦٧)
    اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے کسی نے کہا کہ اگر آپ فلاں صاحب ( عثمان رضی اللہ عنہ ) کے یہاں جا کر ان سے گفتگو کرو تو اچھا ہے ( تاکہ وہ یہ فساد دبانے کی تدبیر کریں ) انہوں نے کہا کیا تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ میں ان سے تم کو سنا کر ( تمہارے سامنے ہی ) بات کرتا ہوں، میں تنہائی میں ان سے گفتگو کرتا ہوں اس طرح پر کہ فساد کا دروازہ نہیں کھولتا، میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ سب سے پہلے میں فساد کا دروازہ کھولوں اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سننے کے بعد یہ بھی نہیں کہتا کہ جو شخص میرے اوپر سردار ہو وہ سب لوگوں میں بہتر ہے۔ لوگوں نے پوچھا کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حدیث سنی ہے وہ کیا ہے؟ اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے یہ فرماتے سنا تھا کہ قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا اور جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ آگ میں اس کی آنتیں باہر نکل آئیں گی اور وہ شخص اس طرح چکر لگانے لگے گا جیسے گدھا اپنی چکی پر گردش کیا کرتا ہے۔ جہنم میں ڈالے جانے والے اس کے قریب آ کر جمع ہو جائیں گے اور اس سے کہیں گے، اے فلاں! آج یہ تمہاری کیا حالت ہے؟ کیا تم ہمیں اچھے کام کرنے کے لیے نہیں کہتے تھے، اور کیا تم برے کاموں سے ہمیں منع نہیں کیا کرتے تھے؟ وہ شخص کہے گا جی ہاں، میں تمہیں تو اچھے کاموں کا حکم دیتا تھا لیکن خود نہیں کرتا تھا۔ برے کاموں سے تمہیں منع بھی کرتا تھا، لیکن میں اسے خود کیا کرتا تھا۔
    صحيح مسلم (٢٩٨٩).
    اسامہ بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی کہا : کہ ان سے کہاگیا : تم کیوں حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جاکر بات نہیں کرتے ؟ ( کہ وہ لوگوں کی مخالفت کا ازالہ کریں ) تو انھوں نے کہا : کیا تم سمجھتے ہو کہ میں تمھیں نہیں سنواتا تو میں ان سے بات نہیں کرتا؟اللہ کی قسم!میں نے ان سے بات کی جو میرے اور ان کے درمیان تھی اس کے بغیرکہ میں کسی ایسی بات کا آغاز کروں جس میں سب سے پہلے دروازہ کھولنے والا میں بنوں ۔ میں کسی سے جو مجھ پر امیر ہویہ نہیں کہتا کہ وہ سب انسانوں میں سے بہتر ہے ۔ اس بات کے بعد جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی ، آپ فرما رہے تھے ۔ قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا اور آگ میں پھینک دیا جا ئے گا ، اس کے پیٹ کی انتڑیاں باہر نکل پڑیں گی ۔ وہ ان کے گرد اس طرح چکر لگائے گا جس طرح گدھا چکی کے گرد لگاتا ہے ۔ اہل جہنم اس کے پاس جمع ہو جا ئیں گے اور اس سے کہیں گے فلاں!تمھارے ساتھ کیاہوا؟کیا تو نیکیوں کی تلقین اور برائیوں سے منع نہیں کیا کرتا تھا؟ وہ کہے گا ایسا ہی تھا ، میں نیکیوں کا حکم دیتا تھا خود ( نیکی کے کام ) نہیں کرتا تھا اور برائیوں سے روکتا تھا اور خود ان کا ارتکاب کرتا تھا ۔
     
  8. ‏دسمبر 15، 2018 #8
    عبدالمنان

    عبدالمنان مشہور رکن
    جگہ:
    گلبرگہ، ہندوستان
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2015
    پیغامات:
    735
    موصول شکریہ جات:
    164
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    اوپر کی احادیث سے معلوم ہوا کہ جو لوگ حکومتِ وقت کی پالیسیوں کے خلاف اپنے خطبات میں بولتے ہیں وہ اسلام کے خلاف کام کر رہے ہیں اور فتنہ پھیلانا چاہتے ہیں۔

    ایسے لوگ چاہے پاکستان میں ہوں یا سعودی عرب میں، ایسے لوگوں کو اس کام سے رک جانا چاہیے۔

    ہم لوگ جمہوری ملکوں میں رہنے کی وجہ سے اصل اسلامی تعلیمات کو جانتے ہی نہیں ہیں اور حکمرانوں کے خلاف عوام کے سامنے بولنے کو اسلام کے عین مطابق سمجھتے ہیں اور اسلام اور مسلمانوں کی خدمت مانتے ہیں۔ حالانکہ یہ فتنے کا سبب بنتا ہے۔

    اللّٰہ تعالیٰ ہمیں دین کی صحیح سمجھ دے، آمین
     
  9. ‏دسمبر 16، 2018 #9
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    730
    موصول شکریہ جات:
    115
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    محترم عبدالمنان صاحب
    یہ احادیث اس وقت لاگو ہوں گی جب اسلامی خلافت کا نظام ہو۔ جمہوری حکومت پر اس سے دلیل نہیں ہوسکتی۔اور میں نے حکومت وقت کی غلط پالیسیوں کی بات تھی ۔ اگر آپ کی بات درست تسلیم کی جائے تو آسیہ کے خلاف جس جس نے بولا اس نے غیر شرعی کام کیا۔کشمیر جو جدو جہد ہورہی وہ بھی غیر شرعی ہوگی۔
    کیونکہ وہاں پر لوگوں کو عبادت سے تو نہیں روکا جارہا ہے ۔اسلامی احکام میں آزاد ہیں ۔کشمیر کی وزارت اعلی پر ہمیشہ مسلمان حاکم ہی ہوتا ہے ۔ تو اس بارے میں آپ کیا کہیں گے۔کہ کشمیری شہید نہیں ہورہے بلکہ حاکم کے خلاف بغاوت کر کے خلاف شرعی کام کے مرتکب ہورہے ہیں۔
     
  10. ‏دسمبر 17، 2018 #10
    عبدالمنان

    عبدالمنان مشہور رکن
    جگہ:
    گلبرگہ، ہندوستان
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2015
    پیغامات:
    735
    موصول شکریہ جات:
    164
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    اسلامی خلافت سے آپ کی کیا مراد ہے؟
    اس اسلامی خلافت کی کیا خصوصیات ہونی چاہیے کہ یہ احادیث اس پر لاگو کی جا سکیں؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں