1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سانحہ کربلا اور غزوۂ قسطنطنیہ کی امارت کا مسئلہ

'تقابل مسالک' میں موضوعات آغاز کردہ از کلیم حیدر, ‏دسمبر 13، 2011۔

  1. ‏دسمبر 13، 2011 #11
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    10۔ابن زیاد کے نام یزید کا حکم نامہ
    جب حضرت حسینؓ کی کوفہ روانگی کا علم یزید کو پہنچا تو اس نے عبیداللہ بن زیاد کو لکھا:
    بلکہ ناسخ التواریخ کے مؤلف نے لکھا ہے کہ ایک خط مروان کی طرف سے بھی ابن زیاد کو موصول ہوا جس میں مرقوم تھا کہ
     
  2. ‏دسمبر 13، 2011 #12
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    11۔اہل کوفہ کے نام حضرت حسینؓ کا خط
    حضرت حسینؓ ۱۱ ؍ذوالحجہ ۶۰ھ کو مکہ مکرمہ سے روانہ ہوئے جب آپ بارہ منزلیں طے کرکے مقام الحاجر پہنچے تو آپؓ نے قیس بن مسہر صیداوی کے ہاتھ یہ خط روانہ کیا کہ
     
  3. ‏دسمبر 13، 2011 #13
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    12۔ شہادت ِمسلم کی خبر حضرت حسینؓ کو ملی تو برادرانِ مسلم جوشِ انتقام میں آگئے
    جب آپ اکیس منازل طے کرکے یکم محرم الحرام ۶۱ھ؁ کو زُبالۃ کے مقام پر پہنچے تو آپ کو عمر بن سعد اور محمد بن اشعث کا پیغام ملا کہ حضرت مسلم شہید ہوچکے ہیں، آپ واپس لوٹ جائیں۔ (اخبار الطوال ص۳۱۰) … مرزا محمد تقی سپہرکاشانی رقم طراز ہیں کہ
    طبری ؒنے لکھا ہے کہ
    اور البدایہ والنھایہ میں ہے کہ
    خلاصۃ المصائب کے مصنف نے لکھا ہے کہ حضرت حسینؓ نے ایک مبسوط خطبہ ارشاد فرمایا جس کے آخری الفاظ یہ ہیں کہ
    اور خود بھی حضرت حسین ؓ نے واپسی کا ارادہ کر لیا جیساکہ ایک شیعہ مؤرخ نے رقم کیا ہے کہ
    مگر بُر ا ہو اُن حواریوں کا جو حضرت حسینؓ پر ظاہراً جان قربان کرنے کے مدعی تھے مگر باطنا ًوہ حضرت حسینؓ کے خون کے پیاسے تھے، اس ارادہ کی تبدیلی پر انہوں نے کہا کہ
    حضرت حسینؓ نے اَپنے سفر کا پھر آغاز کیا جب آپ قادسیہ کے قریب پہنچے تو حر بن یزید تمیمی سے ملاقات ہوئی تو حرُ بن یزید نے پوچھا :کہاں کا ارادہ ہے؟
    تو آپؓ نے فرمایا:’’اس (کوفہ) شہر کو جارہا ہوں‘‘
    تو حرُ نے کہا:
    تو آپؓ نے فرمایا: تمہارے بعد ہمیں بھی زندگی کا کوئی لطف نہیں‘‘ یہ کہہ کر آپ آگے بڑھے تو ابن زیاد کے لشکر کا ہراول دستہ سامنے آگیا تو آپ کربلا کی طرف پلٹ گئے۔ (طبری ص۶؍۲۲۰)
     
  4. ‏دسمبر 13، 2011 #14
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    13۔ کوفہ کی بجائے شام کی طرف روانگی اور مقامِ کربلا پر رکاوٹ
    عمدۃ الطالب کے مؤلف نے لکھا ہے کہ
    حضرت حسینؓ نے واپس لوٹ جانے کا ارادہ کیا مگر فرزندانِ عقیل مانع ہوئے جب کوفہ کے قریب گئے تو حر بن یزید الریاحی سے مڈ بھیڑ ہوئی۔ اس نے کوفہ لے جانے کا ارادہ کیا تو آپ نے منع کیا اور ملک شام کی طرف مڑ گئے تاکہ یزید بن معاویہ کے پاس چلے جائیں لیکن جب آپ کربلا پہنچے تو آگے بڑھنے سے روک دیا گیا اور کوفہ لے جانے اور ابن زیاد کا حکم ماننے کے لئے کہا گیا تو آپ نے اس سے انکار کردیا اور ملک شام جانا پسند کیا (عمدۃ الطالب، طبع اول، لکھنؤ، ص۱۷۹) جب آپ کو مقام کربلا پر روکا گیا تو آپ نے کوفہ کے گورنر کے افسروں کے سامنے تین شرطیں پیش کیں:
    شریف المرتضی المتوفی ۴۴۶ھ؁ رقم فرماتے ہیں کہ
    نیز الإمامۃ والسیاسۃکے مؤلف نے بھی ’’أن أضع یدي فی ید یزید‘‘ کا تذکرہ کیا ہے۔ مزید تفصیل کے لئے البدایہ ص۸؍۱۷۰، طبری طبع بیروت ۳؍۲۳۵، اصابہ طبع مصر ص۱؍۳۳۴، ابن اثیر طبع بیروت ص۳؍۲۸۳، مختصر تاریخ دمشق لابن عساکر ص۳۲۵، جلد۴ و ص۳۳۷، جلد ۴ ملاحظہ فرمائیں ۔
     
  5. ‏دسمبر 13، 2011 #15
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    14۔حضرت حسینؓ کا اپنے موقف سے رجوع
    حضرت حسینؓ کی تیسری شرط کی منظوری سے متعلق جو تحریر امیر لشکر حضرت عمر بن سعد نے گورنر ِکوفہ کو ارسال کی تھی ،ناسخ التواریخ کے مؤلف نے اس کا اِن الفاظ میں تذکرہ کیا ہے کہ
    بہرحال حضرت حسینؓ کی پاکیزگی ،سرشت اور طہارت ِطینت تھی کہ انہوں نے اپنے مؤقف سے رجوع کر لیا ۔یہ وہ چیز تھی جو اکابر علما اور عقلا کے نزدیک حضرت حسینؓ کو ان احادیث کی زد سے بچا لے گئی جن احادیث میں امارت ِقائمہ میں خروج کرنے والے کو واجب ُالقتل قرار دیا گیا ہے، چنانچہ امام ابن تیمیہ ؒرقم فرماتے ہیں کہ
    نیز طبری ؒنے زہیر بن قیس کے اس وقت کے الفاظ نقل کئے ہیں جس وقت ان کا راستہ روکا جارہا تھا اور ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جارہا تھا کہ
     
  6. ‏دسمبر 13، 2011 #16
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    15۔جملہ معترضہ
    یہی تیسری بات ہی مبنی بر حقیقت تھی کیونکہ حضرت حسین ؓ نے جن اَمیروں کے سہارے کوفہ کا سفر اختیار کیا تھا وہ اُمیدیں ایک ایک کر کے دم توڑ چکی تھیں اورآپ کی فہم وفراست جو کوفیوں کے خطوط کی بھر مار میں دَب کر رہ گئی تھی، تبدیلی حالات سے اب پھر اُبھر کے سامنے آچکی تھی ، مگر گیا وقت ہاتھ آتا نہیں ۔
    دَراصل فوج کامطالبہ ہتھیاروں کی سپردگی کااس بنا پر تھا کہ آپ کو بحفاظت دمشق پہنچایا جائے اور آئینی تقاضہ بھی یہی تھا مگر آپ کو بھی اس بات کا اندیشہ تھا کہ مکہ سے جو کوفی ہمراہ آئے ہیں وہ کوئی نقصان نہ پہنچائیں کیونکہ آپ وہ خطوط یزید کے سامنے پیش کرنا چاہتے تھے۔ اور حقیقت بھی یہی تھی کہ اگر وہ خطوط یزید کے سامنے پیش کیے جاتے تو یہ خطوط بھیجنے والے مجرم گردانے جاتے ۔یہی تکرار بلآخر جنگ وجدل کی صورت اختیار کر گئی اورکوفیوں کی یہی گستاخی حضرت حسین ؓ کا ہاتھ تلوار کے قبضے تک پہنچنے کا سبب بنی ۔کوفی بدکردار حضرت حسین ؓ کے مقام سے کب آشنا تھے ،انہوں نے ہلہ بول دیا اور حضرت حسین ؓ بمعہ چنداقربا شہید کر دیئے گئے …انا للہ وانا الیہ راجعون
     
  7. ‏دسمبر 13، 2011 #17
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    16۔شہادت ِحسین ؓ کا یزید پر اثر اورقاتل سے سلوک
    شہادت ِحسینؓ کی خبر جب یزید تک پہنچی تو اسے بڑا دکھ ہوا ۔راوی کا بیان ہے کہ ’’بیدہ مندیل یمسح دموعہ‘‘ اُس کے ہاتھ میں رومال تھا جس سے وہ اپنے آنسو پونچھتا تھا، (مزید تفصیل کے لیے خلاصۃ المصائب ص ۲۹۲ تا ۲۹۴ دیکھئے) اور جب شمر حضرت حسین ؓ کا سر مبارک دربار ِیزید میں پیش کرتا او ریہ رجز پڑھتا ہے کہ
    تو یزید انتہائی غصے کی حالت میں کہتا ہے …
    بلکہ ناسخ التواریخ میں ہے کہ یزید نے شمر کو کہا کہ ’’میری طرف سے تجھے کوئی انعام نہیں ملے گا ‘‘یہ سن کر شمر خائب وخاسر واپس ہوا اور اسی طرح وہ دین ودنیا سے بے نصیب رہا (ناسخ التواریخ ص ۲۶۹) نیز اسی کتاب کے ص ۲۷۸ پر ہے کہ یزید نے کہا :
    ’’خدا اس کوغارت کرے جس نے حسین ؓ کو قتل کیا ‘‘
    طراز مذہب مظفری میں ہے کہ یزید نے کہا کہ ’’خدا ابن زیاد کو غارت کرے اس نے حسین کو قتل کیا اور مجھے دونوں جہاں میں رسوا کیا۔‘‘( ص ۴۵۶)
     
  8. ‏دسمبر 13، 2011 #18
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    17۔شہاد تِ حسین ؓ کے بعد محمد بن حنفیہ ؒ کی یزید سے ملاقات
    واقعہ ٔشہادت ِحسین ؓ کے عرصہ بعد جب حضرت محمد بن حنفیہ دمشق تشریف لائے تو یزید نے ان کے ساتھ اسی طرح اظہار ِتاسف کیا اورتعزیت کی ۔راوی کا بیان ہے کہ پھر یزید نے محمد بن حنفیہ ؒکو ملاقات کے لیے بلایا اوراپنے پاس بٹھا کر ان سے کہا کہ
     
  9. ‏دسمبر 13، 2011 #19
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    18۔واقعہ کر بلااور حجۃ الاسلام امام غزالی ؒ (۵۰۵ھ)
    جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ یزید نے قتل حسین کا حکم دیا تھا، یا اس پررضامندی کا اظہار کیا تھا، وہ شخص پرلے درجہ کا احمق ہے ۔اکابر ،وزراء اور سلاطین میں سے جو جو اپنے اپنے زمانہ میں قتل ہوئے اگر کوئی شخص ان کی یہ حقیقت معلوم کرنا چاہے کہ قتل کا حکم کس نے دیا تھا؟ کون اس پر راضی تھا ؟ اور کس نے اس کو ناپسند کیا ؟ تو وہ ا س پر قادر نہ ہو گا کہ اس کی تہہ تک پہنچ سکے اگرچہ یہ قتل اس کے پڑوس میںاس کے زمانہ میں، اور اس کی موجودگی میں ہی کیوں نہ ہوا ہو تو اس واقعہ تک کیونکر رسائی ہو سکتی ہے جو دور دراز شہروں ،اور قدیم میں گزرا ہو پس کیونکر اس واقعہ کی حقیقت کا پتہ چل سکتا ہے جس پر چار سو برس کی طویل مدت ،بعید مقام میں گزرہو چکی ہو۔
    آپ ابو حامد الغزالی ؒ ۵۰۵؁ء کے آخری فقرہ فھذا الامر لایعلم حقیقتہ أصلا پر غور فرمائیں جو انہوں نے آج سے نو سوبرس پہلے سپرد ِقلم کیا تھا ، جب کہ اس وقت بھی واقعہ کی صورت ِکا ذبہ کی تصویر کشی کے لیے وضعی روایات کا انبار موجود تھا ۔
     
  10. ‏دسمبر 13، 2011 #20
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    18۔واقعہ کر بلا سے متعلق ایک شیعہ مؤرخ کے تاثرات
    واقعہ کربلا سے متعلق ایک مشہور شیعہ مؤرخ جناب شاکر حسین امر وہی کے تاثرات بھی ملاحظہ فرمائیں…فرماتے ہیں کہ
    ’’ صدہا باتیں طبع زاد تراشی گئیں۔ واقعات کی تدوین عرصہ دارز کے بعد ہوئی۔ رفتہ رفتہ اختلافات کی اس قدر کثر ت ہو گئی کہ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کوسچ سے علیحدہ کرنا مشکل ہو گیا ابو مِخْنَفْ لوط بن یحییٰ ازدی کربلا میں خود موجود نہ تھا، اس لیے یہ سب واقعات انہوں نے سماعی لکھے ہیں لہٰذا مقتل ابو مِخْنَفْ پر پورا وثوق نہیں۔ پھر لطف یہ کہ مقتل ابو مِخْنَفْ کے متعدد نسخے پائے جاتے ہیں جو ایک دوسرے سے مختلف البیان ہیں اوران سے صاف پایا جاتا ہے کہ خود ابو مخنف واقعات کو جمع کرنے والا نہیں بلکہ کسی اورشخص نے ا ن کے بیان کردہ سماعی واقعات کو قلمبند کیا ہے ـ ۔ مختصر یہ کہ شہادت ِامام حسین ؓ کے متعلق تمام واقعات ابتدا سے انتہا تک اس قدر اختلاف سے پرہیں کہ اگر ان کو فرداً فردا ًبیان کیا جائے تو کئی ضخیم دفتر فراہم ہوجائیں …اکثر واقعات مثلاً:
    دوسرے مقام پر رقم فرماتے ہیں کہ:
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں