- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
43- بَاب بَيْعَةِ النِّسَاء
۴۳- باب: عورتوں کی بیعت کا بیان ۱؎
وضاحت۱؎: جس کا ذکر قرآن میں ہے: {إِذَا جَائكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ} [سورة الممتحنة: ۱۲]۴۳- باب: عورتوں کی بیعت کا بیان ۱؎
2874- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ؛ أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ قَالَ: سَمِعْتُ أُمَيْمَةَ بِنْتَ رُقَيْقَةَ تَقُولُ: جِئْتُ النَّبِيَّ ﷺ فِي نِسْوَةٍ نُبَايِعُهُ، فَقَالَ لَنَا : " فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ، إِنِّي لا أُصَافِحُ النِّسَاءَ "۔
* تخريج: ت/السیر ۳۷ (۱۰۹۷)، ن/البیعۃ ۱۸( ۴۱۸۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۷۸۱)، وقد أخرجہ: ط/البیعۃ ۱ (۲) حم (۵/۳۲۳، ۶/۳۵۷) (صحیح)
۲۸۷۴- امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں کچھ عورتوں کے ہمراہ نبی اکرم ﷺ کے پاس بیعت کرنے آئی، تو آپ نے ہم سے فرمایا: (امام کی بات سنو اور مانو) ''جہاں تک تمہارے اندر طاقت و قوت ہو، میں عورتوں سے ہاتھ نہیں ملاتا''۱؎۔
وضاحت۱؎: جب نبی معصوم ﷺ نے غیر عورتوں سے ہاتھ نہیں ملایا تو پیروں اور مرشدوں کے لیے کیونکر جائز ہو گا کہ وہ غیر عورتوں سے ہاتھ ملائیں یا محرم کی طرح بے حجاب ہو کر ان سے خلوت کریں، اور جو کوئی پیر اس زمانہ میں ایسی حرکت کرتا ہے، تو یقین جان لیں کہ وہ شیطان کا مرید ہے۔
2875- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ ﷺ قَالَتْ: كَانَتِ الْمُؤْمِنَاتُ إِذَا هَاجَرْنَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ يُمْتَحَنَّ بِقَوْلِ اللَّهِ: { يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ} إِلَى آخِرِ الآيَةِ: قَالَتْ عَائِشَةُ: فَمَنْ أَقَرَّ بِهَا مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ، فَقَدْ أَقَرَّ بِالْمِحْنَةِ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: إِذَا أَقْرَرْنَ بِذَلِكَ مِنْ قَوْلِهِنَّ، قَالَ لَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ " انْطَلِقْنَ، فَقَدْ بَايَعْتُكُنَّ " لا، وَاللَّهِ ! مَا مَسَّتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ، غَيْرَ أَنَّهُ يُبَايِعُهُنَّ بِالْكَلامِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَاللَّهِ! مَا أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَلَى النِّسَاءِ إِلا مَا أَمَرَهُ اللَّهُ، وَلا مَسَّتْ كَفُّ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ كَفَّ امْرَأَةٍ قَطُّ، وَكَانَ يَقُولُ لَهُنَّ، إِذَا أَخَذَ عَلَيْهِنَّ: " قَدْ بَايَعْتُكُنَّ " كَلامًا۔
* تخريج: خ/الطلاق ۲۰ (۵۲۸۸ تعلیقاً)، م/الإمارۃ ۲۱ (۱۸۶۶)، ت/تفسیرالقرآن ۶۰(۲) (۳۳۰۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۶۹۷) (صحیح)
۲۸۷۵- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مومن عورتیں نبی اکرم ﷺ کے پاس ہجرت کر کے آتیں تو اللہ تعالی کے فرمان: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَائكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَن لا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلا يَسْرِقْنَ وَلا يَزْنِينَ وَلا يَقْتُلْنَ أَوْلادَهُنَّ وَلا يَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ يَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ وَأَرْجُلِهِنَّ وَلا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ فَبَايِعْهُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ} [سورة الممتحنة: ۱۲] اے نبی! جب مسلمان عورتیں آپ سے ان باتوں پر بیعت کرنے آئیں کہ اللہ تعالی کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گی چوری نہ کریں گی، زنا کاری نہ کریں گی، اپنی اولاد کو نہ مار ڈالیں گی، اور کوئی ایسا بہتان نہ باندھیں گی، جو خود اپنے ہاتھوں پیروں کے سامنے گھڑ لیں اور کسی نیک کام میں تیری بے حکمی نہ کریں گی، تو آپ ان سے بیعت کر لیا کریں اور ان کے لئے اللہ تعالی سے مغفرت طلب کریں بیشک اللہ تعالی بخشنے اور معاف کرنے والا ہے) کی رو سے ان کا امتحان لیا جاتا، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مومن عورتوں میں سے جو اس آیت کے مطابق اقرار کرتی وہ امتحان میں پوری اتر جاتی، عورتیں اپنی زبان سے جب اس کا اقرار کر لیتیں تو رسول اللہ ﷺ فرماتے: ''جائو میں نے تم سے بیعت لے لی ہے'' اللہ کی قسم، رسول اللہﷺ کا ہاتھ ہرگز کسی عورت کے ہاتھ سے کبھی نہیں لگا، جب آپ ﷺ ان عورتوں سے بیعت لیتے تو صرف زبان سے اتنا کہتے: ''میں نے تم سے بیعت لے لی'' عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اللہ کی قسم رسول اللہ ﷺ نے عورتوں سے صرف وہی عہد لیا جس کا حکم آپ کو اللہ تعالی نے دیا تھا، رسول اللہ ﷺ کی مبارک ہتھیلی نے کبھی کسی (نامحرم) عورت کی ہتھیلی کو مس نہ کیا، آپ ان سے عہد لیتے وقت یہ فرماتے: ''میں نے تم سے بیعت لے لی'' صرف زبانی یہ کہتے۔