1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا یزید بن معاویہ رحمہ اللہ کی بیعت پررضامندی کا ثبوت مع تحقیق سند

'تاریخی روایات' میں موضوعات آغاز کردہ از کفایت اللہ, ‏مئی 23، 2012۔

موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
  1. ‏مئی 23، 2012 #1
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,901
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    امام أحمد بن يحيى، البَلَاذُري (المتوفى 279) نے کہا:
    حدثنا سعدويه، حدثنا عباد بْن العوام، حَدَّثَنِي حصین، حَدَّثَنِي هلال بن إساف قال:أمر ابن زياد فأخذ مَا بين واقصة، إِلَى طريق الشَّام إِلَى طريق الْبَصْرَة، فلا يترك أحد يلج وَلا يخرج، فانطلق الْحُسَيْن: يسير نحو طريق الشَّام يريد يزيد بْن مُعَاوِيَة فتلقته الخيول فنزل كربلاء، وَكَانَ فيمن بعث إِلَيْهِ عمر ابن سعد بن أبي وقاص، وشمر ابن ذي الجوشن، وحصين بْن نمير، فناشدهم الْحُسَيْن أن يسيروه إِلَى يزيد فيضع يده فِي يده فأبوا إِلا حكم ابْن زياد.[أنساب الأشراف للبلاذري: 3/ 173 واسنادہ صحیح]۔

    عبیداللہ بن زیاد نے حکم دیا کہ واقصہ اورشام وبصرہ کے بیچ پہرہ لگادیا جائے اورکسی کو بھی آنے جانے سے روک دیا جائے، چنانچہ حسین رضی اللہ عنہ یزیدبن معاویہ سے ملنے کے لئے شام کی طرف چل پڑے ، پھر راستہ میں گھوڑسواروں نے انہیں روک لیا اوروہ کربلا میں رک گئے ، ان گھوڑ سواروں میں عمربن سعدبن بی وقاص ، شمربن ذی الجوشن اورحصین بن نمیرتھے ، حسین رضی اللہ عنہ نے ان سے التجاکی کہ انہیں یزیدبن معاویہ کے پاس لے چلیں تاکہ وہ یزید کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دیں ، اس پر ان لوگوں نے کہا کہ ہم عبیداللہ بن زیاد کی اجازت کے بغیرایسا نہیں کرسکتے۔

    اس روایت سے درج ذیل باتیں معلوم ہوئیں:
    • حسین رضی اللہ عنہ ، یزید کی بیعت پررضامند تھے اور باقاعدہ اسے عملی شکل دینے پربھی آمادہ تھے۔
    • حسین رضی اللہ عنہ کا سفرکوفہ جہاد کی نیت سے نہیں تھا ورنہ وہ کبھی بھی دشمن کے ہاتھ میں ہاتھ دینے پرآمادہ نہ ہوتے ۔
    • حسین رضی اللہ عنہ کو یزید بن معاویہ سے ہمدردی ہی کہ امید تھی ورنہ وہ اہل کوفہ کی غداری دیکھ کر یزید کی طرف رخ نہ کرتے۔

    اس روایت سے یہ قطعا نہیں ثابت ہوتا کہ حسین رضی اللہ عنہ کے اس مطالبہ کو عبیداللہ بن زیاد نے پورا نہیں کیا کیونکہ اس روایت میں عبیداللہ بن زیاد کے جواب کا ذکر نہیں ہے ۔


    یہ روایت بالکل صحیح ہے بلکہ صحیح مسلم کی شرط پرصحیح ہے ۔
    اس کے سارے رجال بخاری ومسلم سمیت سنن اربعہ کے رجال میں ہیں ، البتہ ہلال بن یساف کی روایت بخاری میں تعلیقا ہے اگرامام بخاری رحمہ اللہ نے ان سے بھی اصول میں روایت کیا ہوتا تو یہ روایت بخاری ومسلم دونوں کے شرط پرصحیح ہوتی ، پھر بھی یہ روایت مسلم کی شرط پرصحیح ہے۔
    تفصیل ملاحظ ہو:

    أبو الحسن هلال بن إساف الكوفى۔
    آپ صحیحین سمیت کتبہ ستہ کے راوی ہیں البتہ بخاری میں ان کی روایت تعلیقا ہے۔
    آپ نے حسین ہی نہیں بلکہ ان کے والدعلی رضی اللہ عنہ علی رضی اللہ عنہ کا دور بھی پایا ہے اورکوفہ کے رہنے والے بھی تھے۔
    امام ابن حبان رحمه الله (المتوفى354)نے کہا:
    هلال بن يساف مولى أشجع كنيته أبو الحسن من أهل الكوفة أدرك عليا[الثقات لابن حبان: 5/ 503]۔
    امام مزي رحمه الله (المتوفى742)نے کہا:
    هلال بن يَِسَاف ، ويُقال : ابن إساف ، الاشجعي ، مولاهم ، أبو الحسن الكوفي ، أدرك علي بن أَبي طالب.[تهذيب الكمال للمزي: 30/ 353]۔

    آپ پرکسی بھی محدث نے جرح نہیں کہ ہے بلکہ:

    امام ابن سعد رحمه الله (المتوفى230)نے کا:
    وَكَانَ ثِقَةً كثير الحديث[الطبقات الكبرى لابن سعد، ط العلمية: 6/ 300]۔

    امام ابن معين رحمه الله (المتوفى233)نے کہا:
    ثقة [الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 9/ 72 وسندہ صحیح]۔

    امام عجلى رحمه الله (المتوفى261)نے کہا:
    هلال بن يساف : "كوفي"، تابعي، ثقة.[تاريخ الثقات للعجلي: ص: 460]۔

    امام ابن حبان رحمه الله (المتوفى354)نے کہا:
    هلال بن يساف مولى أشجع كنيته أبو الحسن من أهل الكوفة أدرك عليا[الثقات لابن حبان: 5/ 503]۔

    امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748)نے کہا:
    ثقة[الكاشف للذهبي: 2/ 343]۔

    حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852)نےکہا:
    ثقة[تقريب التهذيب لابن حجر: 1/ 490]۔

    أبو الهذيل حصين بن عبد الرحمن السلمى ، الكوفى
    آپ صحیحین سمیت کتب ستہ کے روای ہیں۔

    امام ابن معين رحمه الله (المتوفى233)نے کہا:
    حصين بن عبد الرحمن ثقة [الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 3/ 193]۔

    امام أحمد بن حنبل رحمه الله (المتوفى241)نے کہا:
    حُصَيْن بن عبد الرَّحْمَن أَبُو الْهُذيْل السّلمِيّ الثِّقَة الْمَأْمُون من كبار أَصْحَاب الحَدِيث[العلل ومعرفة الرجال لأحمد رواية ابنه عبد الله 1/ 235]۔

    امام عجلى رحمه الله (المتوفى261)نے کہا:
    كوفى ثِقَة ثَبت فِي الحَدِيث[معرفة الثقات للعجلي: 1/ 305]۔

    امام أبو زرعة الرازي رحمه الله (المتوفى:264)نے کہا:
    ثقة ،يحتج بحديثه[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 3/ 193 وسندہ صحیح]۔

    امام ابن الكيال رحمه الله (المتوفى929)نے کہا:
    أحد الثقات الأثبات احتج به الشيخان[الكواكب النيرات: ص: 132]۔

    امام فسوي رحمه الله (المتوفى277)نے کہا:
    حصين بن عبد الرحمن متقن ثقة كوفي[المعرفة والتاريخ للفسوي: 3/ 93]۔

    تنبیہ بلیغ:
    بعض لوگوں نے حصین کے بارے میں یہ کہا ہے کہ وہ اخیر میں مختلط ہوگئے تھے ۔
    عرض ہے کہ :
    اولا:
    کچھ اہل علم نے اس اختلاط کی تردید کی ہے۔
    ثانیا:
    کچھ اہل علم نے کہا کہ اخیرمیں ان کا صرف حافظ متغیرہوا تھا لیکن اس کے باوجود وہ ثقہ ہی تھے۔
    رابعا:
    زیرتحقیق روایت کو حصین سے عباد بن العوام نے نقل کیا ہے اورحصین سے ان کا سماع قدیم ہے۔
    تفصیل کے لئے دیکھئے :حصين بن عبد الرحمن السلمى ورواياته في الصحيحين لاسماعیل رضوان: ص ٥ تا ١٠۔


    أبو سهل، عباد بن العوام الواسطى ۔
    آپ صحیحین سمیت کتب ستہ کے روای ہیں۔

    امام ابن معين رحمه الله (المتوفى233):
    ثقة [تاريخ ابن معين - رواية الدوري: 4/ 208]۔

    امام علي بن المديني رحمه الله (المتوفى 234)نے کہا:
    كان عَبَّاد ثقة ثَبْتٌاً [سؤالات محمد بن عثمان لعلي بن المديني: 62]۔

    امام عجلى رحمه الله (المتوفى261)نے کہا:
    عباد بن العوام "واسطي" ثقة[تاريخ الثقات للعجلي: ص: 247]۔

    امام أبو حاتم الرازي رحمه الله (المتوفى277):
    ثقة [الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 6/ 83]۔

    امام بزار رحمه الله (المتوفى292)نے کہا:
    عباد بن العوام واسطي ثقة[مسند البزار : 2/ 175]۔

    امام ابن حبان رحمه الله (المتوفى354)نے ثقات میں ذکرکیا:
    عباد بن العوام[الثقات لابن حبان: 7/ 162]۔

    حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852)نے کہا:
    ثقة[تقريب التهذيب لابن حجر: 1/ 205]۔

    أبو عثمان، سعيد بن سليمان الضبى، الواسطى(سعدويه)۔
    آپ صحیحین سمیت کتب ستہ کے روای ہیں۔

    امام ابن سعد رحمه الله (المتوفى:230)نے کہا:
    كَانَ ثِقَةً كَثِيرَ الْحَدِيثِ[الطبقات الكبرى ط دار صادر 7/ 340]۔

    امام عجلى رحمه الله (المتوفى261)نے کہا:
    سعيد بن سليمان ويعرف بسعدويه: "واسطي" ثقة[تاريخ الثقات للعجلي: ص: 185]

    امام أبو حاتم الرازي رحمه الله (المتوفى277)نے کہا:
    ثقة مأمون[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 4/ 26]۔

    امام ابن حبان رحمه الله (المتوفى354)نے کہا:
    سعيد بن سليمان بن كنانة الواسطي كنيته أبو عثمان سكن بغداد وهو الذي يعرف بسعدويه[الثقات لابن حبان: 8/ 267]۔

    حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852)نے کہا:
    ثقة حافظ[تقريب التهذيب لابن حجر: 1/ 153]۔


    معلوم ہوا کہ مذکورہ روایت بالکل صحیح ہے۔

    تنبیہ


    امام ابن جرير الطبري رحمه الله (المتوفى310)نے کہا:
    قال أبو مخنف فأما عبدالرحمن بن جندب فحدثني عن عقبة بن سمعان قال صحبت حسينا فخرجت معه من المدينة إلى مكة ومن مكة إلى العراق ولم أفارقه حتى قتل وليس من مخاطبته الناس كلمة بالمدينة ولا بمكة ولا في الطريق ولا بالعراق ولا في عسكر إلى يوم مقتله إلا وقد سمعتها ألا والله ما أعطاهم ما يتذاكر الناس وما يزعمون من أن يضع يده في يد يزيد بن معاوية ولا أن يسيروه إلى ثغر من ثغور المسلمين ولكنه قال دعوني فلأذهب في هذه الارض العريضة حتى ننظر ما يصير امر الناس [الطبري 3/ 312 ، ونقلہ ابن الاثیرفی الكامل في التاريخ 2/ 167 بقولہ :وقد روي عن عقبة بن سمعان فذکرہ۔۔۔۔۔۔ ]۔

    یہ روایت سراسرجھوٹ ہے اس کی سندکا ہرراوی معیوب ہے، قدرے تفصیل ملاحظہ ہو:


    عقبة بن سمعان
    یہ مجہول راوی ہے کسی بھی کتاب میں اس کی تعدیل یا توثیق نہیں ملتی ۔

    عبدالرحمن بن جندب
    یہ بھی مجہول راوی ہے کسی بھی کتاب میں اس کی تعدیل یا توثیق نہیں ملتی ۔

    ابو مخنف

    یہ لوط بن یحیی ابو مخنف الغامدي شیعہ و کذاب ہے۔

    امام أبو حاتم الرازي رحمه الله (المتوفى277)نے کہا:
    متروك الحديث [الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 7/ 182]۔

    امام ابن معين رحمه الله (المتوفى327)نے کہا:
    أبو مخنف وأبو مريم وعمرو بن شمر ليسوا هم بشيء قلت ليحيى هم مثل عمرو بن شمر قال هم شر من عمرو بن شمر [تاريخ ابن معين - رواية الدوري: 3/ 439]۔

    امام ابن عدي رحمه الله (المتوفى365)نے کہا:
    شيعى محترق صاحب أخبارهم[الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي: 7/ 241]۔

    اسماعيل الأصبهاني، الملقب بقوام السنة (المتوفى: 535)نے کہا:
    فَأَما مَا رَوَاهُ أَبُو مخنف وَغَيره من الروافض فَلَا اعْتِمَاد بروايتهم[الحجة في بيان المحجة لقوام السنہ: 2/ 568]۔

    امام ابن الجوزي رحمه الله (المتوفى:597)نے کہا:
    وفى حَدِيث ابْن عَبَّاس أَبُو صَالح الْكَلْبِيّ وَأَبُو مخنف وَكلهمْ كذابون.[الموضوعات لابن الجوزي 1/ 406]۔

    شيخ الاسلام ابن تيمية رحمه الله (المتوفى728)نے کہا:
    لوط بن يحيى وهشام بن محمد بن السائب وأمثالهما من المعروفين بالكذب[منهاج السنة النبوية لابن تیمیہ: 1/ 59]۔

    امام ذهبي رحمه الله (المتوفى:748)نے کہا:
    لوط بن يحيى، أبو مخنف، أخباري تالف، لا يوثق به[ميزان الاعتدال للذهبي: 3/ 419]۔

    دوسرے مقام پرکہا:
    أبو مخنف.اسمه لوط بن يحيى.هالك.[ميزان الاعتدال للذهبي: 4/ 571]۔

    امام ابن العراق الكناني رحمه الله (المتوفى963)نے کہا:
    لوط بن يحيى أبو مخنف كذاب تالف [تنزيه الشريعة المرفوعة 1/ 98]۔
     
  2. ‏مئی 23، 2012 #2
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    جزاکم اللہ خیرا کفایت اللہ بھائی جان۔۔۔
     
  3. ‏مئی 23، 2012 #3
    محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2011
    پیغامات:
    1,957
    موصول شکریہ جات:
    5,774
    تمغے کے پوائنٹ:
    354

    جزاک اللہ خیرا شیخ محترم
    اس بات کو ایک شیعہ عالم جسٹس ایم اے مشتہی اپنی کتاب میں تسلیم کر چکا ہے. بلکہ دلائل کے ساتھ ثابت بھی کر چکا ہے.
     
    • شکریہ شکریہ x 11
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  4. ‏مئی 23، 2012 #4
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,901
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    بھائی اس کا حوالہ دے دیں اورممکن ہو تو کوئی دوسرا تھریڈ شروع کرکے اس کی تحقیق نقل کردیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 11
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  5. ‏مئی 24، 2012 #5
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,799
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا کفایت اللہ صاحب
     
  6. ‏مئی 29، 2012 #6
    ابن خلیل

    ابن خلیل سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 03، 2011
    پیغامات:
    1,383
    موصول شکریہ جات:
    6,746
    تمغے کے پوائنٹ:
    332

    جزاکم اللہ خيرا واحسن الجزاء في الدنيا و الآخر
     
  7. ‏جون 04، 2012 #7
    نوید عثمان

    نوید عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 24، 2012
    پیغامات:
    181
    موصول شکریہ جات:
    119
    تمغے کے پوائنٹ:
    53

    بلاذری کی کسی مستند عالم نے توثیق کی ہے تو حوالہ بیان فرمائیں۔ وہ تو خود ناصبی تھا
     
  8. ‏جون 04، 2012 #8
    باذوق

    باذوق رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏فروری 16، 2011
    پیغامات:
    888
    موصول شکریہ جات:
    3,984
    تمغے کے پوائنٹ:
    289

    دعویٰ تو آپ کا بھی یہ ہے کہ : بلاذری ناصبی تھا !
    تو اس دعویٰ کا ، حضور! پہلے ثبوت تو عنایت فرمائیں ۔۔۔
     
  9. ‏جون 05، 2012 #9
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,901
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    امام بلاذری رحمہ اللہ بلاشک وشبہ ثقہ ہیں ، ثبوت ملاحظہ فرمائیں:

    امام صفدي رحمه الله (المتوفى764)نے کہا:
    وكان أحمد بن يحيى بن جابر عالماً فاضلاً شاعراً راوية نسّابة متقناً [الوافي بالوفيات 3/ 104]۔

    فائدہ:
    امام بلاذری رحمہ اللہ کو امام صفدی نے متقن کہا ہے اورامام ابن الصلاح فرماتے ہیں:
    الأولى : قال ( ابن أبي حاتم ) : إذا قيل للواحد إنه ( ثقة أو : متقن ) فهو ممن يحتج بحديثه ،) . [مقدمة ابن الصلاح ص: 61]۔

    امام ذهبي رحمه الله (المتوفى:748)نے کہا:
    فاما الكبير فإنه احمد بن يحيى صاحب التاريخ المشهور من طبقة أبي داود السجستاني حافظ اخباري علامة[تذكرة الحفاظ للذهبي: 3/ 892]۔

    حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے ان کی مروایات کی تحسین کی ہے مثلا ایک جگہ کہا:

    حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852)نے کہا:
    وروى البلاذري بإسناد لا بأس به أن حفص بن أبي العاص كان يحضر طعام عمر الحديث[الإصابة لابن حجر: 2/ 98]۔
    یادرہے کہ حافظ ابن حجررحمہ اللہ کہ مستدل روایت امام بلاذری کی کتاب أنساب الأشراف ہی میں ہے چنانچہ امام بلاذری نے کہا:
    حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الزَّاهِدُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ يُونُسَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ أَنَّ حَفْصَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيَّ كَانَ يُحْضِرُ طَعَامَ عُمَرَ فَلا يَأْكُلُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: مَا يَمْنَعُكَ مِنْ طَعَامِنَا؟ فَقَالَ: إِنَّ طَعَامَ۔۔۔۔۔۔۔۔۔[أنساب الأشراف للبلاذري: 10/ 318]۔

    اسی طرح امام حاکم رحمہ اللہ نے بھی امام بلازری کی سند سے ایک روایت نقل کرکے اسے صحیح قراردیا۔
    امام حاكم رحمه الله (المتوفى405)نے کہا:
    أخبرنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي ثنا أحمد بن يحيى ثنا محمد بن الصباح ثنا إسماعيل بن زكريا عن عثمان بن الأسود قال : جاء رجل إلى ابن عباس فقال : من أين جئت ؟ فقال : شربت من زمزم فقال له ابن عباس : أشربت منها كما ينبغي ؟ قال : و كيف ذاك يا أبا عباس ؟ قال : إذا شربت منها فاستقبل القبلة و اذكر اسم الله و تنفس ثلاثا و تضلع منها فإذا فرغت منها فاحمد الله فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : آية بيننا و بين المنافقين انهم لا يتضلعون من زمزم هذا حديث صحيح على شرط الشيخين و لم يخرجاه إن كان عثمان بن الأسود سمع من ابن عباس [المستدرك للحاكم: 1/ 645]۔

    اورکسی روای کی روایت کی تصحیح یا تحسین اس راوی کی توثیق ہوتی ہے۔

    امام ابن الملقن فرماتے ہیں:
    وَقَالَ غَيره: فِيهِ جَهَالَة، مَا رَوَى عَنهُ سُوَى ابْن خُنَيْس. وَجزم بِهَذَا الذَّهَبِيّ فِي «الْمُغنِي» فَقَالَ: لَا يعرف لَكِن صحّح الْحَاكِم حَدِيثه - كَمَا ترَى - وَكَذَا ابْن حبَان، وَهُوَ مُؤذن بمعرفته وثقته.[البدر المنير لابن الملقن: 4/ 269]۔

    امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748)فرماتے ہیں:
    الثقة: من وثَّقَه كثيرٌ ولم يُضعَّف. ودُونَه: من لم يُوثق ولا ضُعِّف. فإن حُرِّج حديثُ هذا في ((الصحيحين))، فهو مُوَثَّق بذلك، وإن صَحَّح له مثلُ الترمذيِّ وابنِ خزيمة فجيِّدُ أيضاً، وإن صَحَّحَ له كالدارقطنيِّ والحاكم، فأقلُّ أحوالهِ: حُسْنُ حديثه. [الموقظة في علم مصطلح الحديث للذهبي: ص: 17،]۔

    حافظ ابن حجررحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    قلت صحح ابن خزيمة حديثه ومقتضاه أن يكون عنده من الثقات [تعجيل المنفعة ص: 248]۔

    اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ امام بلاذری رحمہ اللہ ثقہ ہیں۔

    نوٹ:
    امام بلاذری رحمہ اللہ کو ناصبی کہنا سراسر بہتان ہے، کیونکہ اس کا کوئی ثبوت نہیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 11
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  10. ‏جون 05، 2012 #10
    نوید عثمان

    نوید عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 24، 2012
    پیغامات:
    181
    موصول شکریہ جات:
    119
    تمغے کے پوائنٹ:
    53

    آپ بلاذری کی یزید کے بارے میں بیان کردہ روایت سے تو متفق ہیں کیا آپ نیچے دئیے گئے بلاذری کے بیان سے بھی متفق ہیں۔۔۔
    بلاذرى لكھتے ہيںجب عثمان نے معاويہ كو خط بھيجا اور اس سے مدد مانگى تو معاويہ نے يزيدابن اسد قسرى كى سر براہى ميں چھوٹى سى فوج مدينہ كى جانب روانہ كى ، اور يزيد بن اسد قسرى كو كہا كہ جس وقت تم سر زمين ذا خشب پر پہونچنا تو اسى مقام پر پڑائو ڈالدينا اور اسكے اگے نہ بڑھنا ، كبھى اپنے ذہن ميں بھى نہ لانا كہ ہم پائے تخت اسلامى كے حوادث و واقعات سے باخبر نہيں ہيں اور معاويہ كى عدم موجودگى ميں تمام چيزيں ڈھكى چھپى ہيں ، درانحاليكہ ہم با خبر بھى ہيں اور موجود بھى ؟ لشكر اپنے سربراہ كے ساتھ مدينہ كى طرف روانہ ہوا ، جب مقام ذاحشب پر پہونچا تو يہيں پر ٹھر گيا ، اور اس قدر دير لگائي كہ عثمان لوگوں كے ہاتھوں سے مار ڈالے گئے ، جب پانى نيزے سے اتر گيا اور فتنہ و اشوب فرو ہوگئے تو معاويہ نے يزيد بن اسد كو لشكر كے ہمراہ واپس بلواليا _تيسرى صدى كا معتبر مورخ بلاذرى كا كہنا ہے كہ ، معاويہ نے بغير سوچے سمجھے ايسا نہيں كيا تھا وہ چاہتا تھا كہ عثمان اس حادثہ ميں مار ڈالے جائيں ، پھر اسكے بعد اپنے كو بھتيجے كى حيثيت سے خلافت و حكومت كا حقدار ثابت كر دے (1)
    [HR][/HR]1_ شرح النہج ص 58​


     
لوڈ کرتے ہوئے...
موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں