• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شاباش نوجوانو!!!

شمولیت
نومبر 23، 2011
پیغامات
493
ری ایکشن اسکور
2,479
پوائنٹ
26
شاباش نوجوانو۔۔۔۔۔
میڈیا کی دشمنی میں ظالمان کو گرین سگنلز دو۔۔۔
کہ تم ہماری اور مائین ، بہنیں بیٹیاں مار لو، ،۔،،، ہم اس پر بھی امریکہ کو گالیاں دیں گے۔۔۔ لاحول ولا قوۃ الا باللہ
یہ وقت قاتلوں کی مذمت کا ہے، مگر زور میڈیا پر۔حیرت ہے ۔۔۔

جناب سوال یہ ہے ! عافیہ صدیقی پاکستان کی بیٹی ہے __ ملالہ یوسف زئی کیا انڈیا کی بیٹی ہے؟ دہشت گرد ظالمان کو بچانے کی عادت جائے گی نہیں آپ کی!!
افسوس تو یہ ہے محترم کہ ڈرون کا بہانہ بنانے والے یہ کیوں نہیں سوچتے کہ ڈرون امریکہ مارتا ہے اور تب بھی مسلمان مرتے ہیں اور دوسری طرف تحریک ظالمنان بھی مسلمان کو ہی مارتا ہے یہ ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں

کونسے اسلام نے اجازت دی ھے کہ آپ کسی نہتے اور بچے پر حملہ کرکے اسے مار دو۔ کہاں لکھا ھے کونسی حدیث ھے کونسی آیت ھے۔۔
بات ملالہ کی نہیں بلکہ بات یہ ھے کہ کونسے اسلام نے اجازت دی ھے کہ آپ کسی نہتے اور بچے پر حملہ کرکے اسے مار دو۔ کہاں لکھا ھے کونسی حدیث ھے کونسی آیت ھے

اسلام اور سنت رسول یہ نہیں بلکہ آپ کسی بچے بوڑھے اور یہاں تک کہ جوان جس نے بہت سے اصحاب کو بھی شھید کیا ھو اگر وہ اپنے ہتھیار جنگ میں گرا دیتا تو اسے قتل کی اجازت نہ دیتے۔ اور کسی عورت پر ہتھیار تو عرب کے جاہل لوگ بھی نہیں اٹھاتے تھے یہ طالبان تو شیطان کو بھی مات دینے پر آ گئے ھیں

تحریک طالبان کے ہمائیتیو ! کیا ایک "کلمہ گو" عورت " بچی " " نہتی " پر قاتلانہ حملہ کو نبی کی شریعت سے ثابت کر سکتے ہو ؟ نہیں ہرگز نہیں میرے نبی نے تو کفار کے بچوں ، عورتوں ،بوڑھوں پر بھی حملے سے منع کیا ۔ کیا یہ طالبان مسلمان ہیں ؟ یا کچھ اور
کسی عورت پر ہتھیار تو عرب کے جاہل لوگ بھی نہیں اٹھاتے تھے یہ طالبان تو شیطان کو بھی مات دینے پر آ گئے ھیں
 

طارق بن زیاد

مشہور رکن
شمولیت
اگست 04، 2011
پیغامات
324
ری ایکشن اسکور
1,719
پوائنٹ
139
السلام علیکم عبداللہ بھائی
آپکی تحریر پڑھکر کل والی ڈیجیٹل آوٹ رینج ٹیم کی تحریر یاد آگئی۔بہت مشابہت ہے دو تحریروں میں اور ایک ہی بات مشترک بھی۔
میں نہ طالبان کو جانتا ہوں اور نہ ان کی حمایت میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں۔
جب سے یہ واقعہ رونما ہوا ہے ۔تب سے میں اس پر نظر رکھا ہوا ہوں۔اور بعد اس کے اس نتیجہ پر پہونچنے پر مجبور ہوا ہوں کہ یہ امریکہ کی اور ایک نہایت کامیاب چال ہے جس میں ہمارے طبقہ کے چند با شعور افراد بھی دھوکہ کھا چکے ہیں۔
وہ کیا ایسی بات ہے جو مجھے یہ کہنے پر مجبور کررہی ہے کہ یہ امریکہ کی چال ہے۔ کہتے ہیں لوگ کہ دال میں کچھ تو کالا ہے لیکن میری نظر میں ساری دال ہی کالی ہے۔
ڈرون حملوں کے بارے میں ساری دنیا جانتی ہے کہ ان حملوں میں کتنے بے قصور شہری ہلاک ہوگئے۔یہاں ایک بات ہمیں یہ سونچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیوں یہ نام نہاد میڈیا اس بارے میں آواز نہیں اٹھاتا؟

لیکن آپ کے قول کے مطابق یہ حملہ طالبان نے کیا تھا تو کیوں اچانک سارا میڈیا ایک آواز بولنے لگا؟
؟ کیوں اسے یہ واقعہ اتنا ظالمانہ نظر آگیا؟
کیا اس سے پہلے کوئی ایسے حملے ہوئے ہی نہیں جسمیں کئی بے قصور شہری ہلاک ہوئے ہوں؟
پاکستان کی ایر بیس پر حملہ کیا گیا اور کئی فوجی نوجوانوں کو شہید کیا گیا- اور امریکہ کی طرف سے کئی بار کے کہنے پر صرف معذرت کی گئی۔کیا یہ ظالمانہ کارروائی نہیں تھی؟ اگر تھی تو امریکہ کو کوئی حق نہیں بنتا کہ وہ اس کو ظالمانہ قرار دے۔
کیوں اچانک - ہلاری کلنٹن - اقوام متحدہ - امریکی حکومت - جنرل کیانی - الطاف حسین - رحمن ملک - حامد کرزئی - اسفند یار ولی اور موجودہ نام نہاد حکومت۔
کے مذمتی بیان آگئے۔
Geo Urdu - امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کا ملالہ یوسف زئی پر حملے پر اظہار مذمت
Geo Urdu - امریکا کی جانب سے ملا لہ یوسف زئی پر حملے کی شدید مذمت
Geo Urdu - طالبان کیخلاف اٹھنے والی ملالہ یوسف زئی بہادر بچی ہے، اقوام متحدہ
Geo Urdu - دہشت گردوں کے سامنے نہیں جھکیں گے، آرمی چیف
Geo Urdu - ملالہ دہشت گردی کیخلاف جرأتمندی کی علامت ہے، الطاف حسین
Geo Urdu - ملالہ کی حالت بہتر، بیرون ملک بھیجنے کا فیصلہ موٴخر کردیا، رحمان ملک
Geo Urdu - کابل …افغان صدرحامدکرزئی ملالہ یوسفزئی پرحملے کی مذمت کرتے ہوئے ملالہ
Geo Urdu - کابل …افغان صدرحامدکرزئی ملالہ یوسفزئی پرحملے کی مذمت کرتے ہوئے ملالہ
Geo Urdu - ملالہ پر حملہ: سنی اتحاد کونسل کا جمعہ کو ملک گیر یومِ مذمت منانے کا اعلان
Geo Urdu - ملالہ پر حملہ ظالمانہ ہے، اسلام میں ایسے اقدام کی اجازت نہیں، عمران خان

لگتا ہے سارا بنا بنایا پلان ہے۔افسوس کہ امریکہ نے اپنے ہی چاہنے والے کو اپنے مقصد کے لئے استعمال کرلیا۔

بات دراصل یہ ہیکہ امریکہ چاہتا ہے کہ وہ حقیقی طالبان کو نقلی طالبان کے ذریعہ بدنام کرے اور لوگوں کے دلوں میں ان کے خلاف نفرت کو جنم دے۔جسمیں درپردہ قادیانی سازش کی جھلک بھی دیکھائی دیتی ہے جو اپنے طور پر علماء اسلام کو بدنا کر کے لوگوں کے دلوں میں جہاد کے جذبے کو ایسے واقعات کے ذریعہ ماند کرنے کےدر پے ہے- اب ہر کوئی شہری یہی بات سونچے گا کہ اگر واقعی یہ جہاد ہے تو یہ کتنا خراب کام ہے۔کیونکہ ہمارا عام شہری تو جہاد کے صحیح مفہوم سے آگاہ تو نہیں ہے اس لئے وہ اس نقلی طالبان کے اس نقلی جہاد کو ہی اصلی جہاد سمجھ بیٹھے گا۔

میں ملالہ یوسف زئی سے اظہار تعزیت کرتا ہوں اور اللہ سے دعاء کرتا ہوں کہ اللہ اسے صحت کاملہ عطا فرمائے۔کیونکہ یہ بھی ہماری اسی بہن کی طرح ہے جس طرح عافیہ صدیقی۔
 
شمولیت
نومبر 23، 2011
پیغامات
493
ری ایکشن اسکور
2,479
پوائنٹ
26
السلام علیکم

افسوس صد افسوس طارق بھائی ، آپ نے مجھے کس احمق کے ساتھ کھڑا کر دیا؟
بھائی میں صاف کہتا ہوں ، کہ امریکہ ہو یا اس کے تنخواہ دار سب ظلم میں برابر کے شریک ہیں ، مگر مجھے حیرت ہے، میری تحریر میں نہ تو امریکی دشمنی اور اسکو برا بھلا کہنے سے روکا گیا ہے اور نہ میڈیا کو تمغہ حسن کارگردگی پہنانے کا کہا ہے جو آپ نے مجھے ، ان ظالموں کی صف میں کھڑا کر دیا۔۔۔حیرت بھائی۔

میں صرف اتنا کہا ہے کہ ظلم کو ظلم کہو، ایک ظالم کی دھن میں ایسا مگن ہونا کہ باقی ظالموں کے ظلم سے صرف نظر کرنے لگ جانا کہاں کا انصاف ہے؟؟؟

پریشان نہ ہوئیے میں آپکویا آپکی تحریر کو کسی کے ساتھ تشبیہ نہیں دوں ، بس اتنا کہوں گا:::

مذمت کیجئے ، امریکہ کی بھی اور انکے گماشتوں ٹی ٹی پی والوں کو کی بھی کہ جنہوں نےدین اوجہاد کو بدنام کرنے میں میڈیا سے کچھ کم کردار ادا نہیں کیا۔۔
 

حافظ اختر علی

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 10، 2011
پیغامات
768
ری ایکشن اسکور
732
پوائنٹ
317
چور مچائے شور(سو چوہے کھا کے بلی حج کو چلی)

چور مچائے شور

کراچی: ايم کيوايم کے قائد الطاف حسين نے مطالبہ کيا ہے کہ پاکستان کے مفتيان اور چوٹي کے علمائے کرام چوبيس گھنٹے کے اندر اندر قوم کي بيٹي ملالہ يوسف زئي پر طالبان کے بزدلانہ حملے کي مذمت کريں
ايک بيان ميں الطاف حسين نے کہا کہ مفتي اعظم پاکستان سميت تمام مفتيان کرام اور ملک کي تمام بڑي بڑي ديني درس گاہوں کے علمائے کرام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر چوبيس گھنٹے کے اندر اندر قوم کي بيٹي ملالہ يوسف زئي پر طالبان کے بزدلانہ اور وحشيانہ حملے کي مزمت نہيں کي اور اپنے موقف کا کھل کر اظہار نہ کيا تووہ بروز اتوار کو انے خطاب ميں ان علمائے کرام کو بے نقاب کرنے پر مجبور ہونگے،،، ايم کيوايم کے قائد الطاف حسين نے کہا کہ ملالہ يوسف زئي پر علمائے نے کھل کر مزمت نہ کي تو ايم کيوايم کے عوامي نمائندے قومي اسمبلي ميں يہ بل پيش کرينگے کہ پاکستان ميں صرف علمائے حق کو ہي ديني تعليم دينے کي اجازت دي جائے

سماء
 

حافظ اختر علی

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 10، 2011
پیغامات
768
ری ایکشن اسکور
732
پوائنٹ
317
آنکھ جو دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی

میں تو ان سارے بیانات کے روشنی میں اس فیصلے پر پہنچا ہوں کہ اس وقت منافقت دلوں میں گھر کر گئی ہے اور ہم جھوٹے ہوتے ہوئے بھی اپنے آپ کو سچا اور جس کی غلامی قبول کی ہوئی ہے اس کے جھوٹ کے عیاں ہونے کے باوجود بھی اس کی حمایت ہماری فطرت بن چکا ہے۔اگر ملالہ ہماری بہن ہے تو سادہ سوال ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کن کی بہن ہے؟اگر ملالہ کا خون اتنا قیمتی ہے کہ زخمی ہونے پر اس قدر افسوس اور عالمی دنیا سے فون پر رابطے اور تو جامعہ حفصہ میں شہید ہونے والی کون اور ان کو شہید کرنے والے کون؟کراچی میں دن دیہاڑے دم توڑتی روحوں کے مجرم کون؟ اور ان سے ہمارا رشتہ کیا؟
میڈیا کو ملالہ کا ایک ظلم نظر آیا باقی امریکی دہشت گردی نظر نہیں آئی؟کیا ویسی ہی کوریج دی گئی ہے اسے؟سوات ،شمالی وزیرستان،بلوچستان میں خون کی بہتی ہوئی ندیاں میڈیاں کے دلوں پر اثر نہیں کرتا؟
خدا رار اپنے دشمن کو پہچانو!اسلام کی تعلیمات کو پہچانو!آزادی اور غلامی کے مفہوم کو نئے سرے سے ازبر کرو،غیرت،حمیت اور عزم مصصم کا مفہوم ہی سمجھ لو
 
شمولیت
نومبر 23، 2011
پیغامات
493
ری ایکشن اسکور
2,479
پوائنٹ
26
السلام علیکم۔

حیرت ہے ، کس طرح ایک چودہ سالہ بچی سے یہ امید لگا لی گئی کہ وہ کل علم کی مالک ہوگی۔۔۔ صرف میڈیا کی کرپشن نے اسے مشہور تو کر دیا مگر اس کی دینی تربیت نہ ہونے کے برابر تھی۔
اگر آپ کے ارد گرد کوئی چودہ سالہ بچا یا بچی ہو تو دیکھ لیں تجربہ کر کے کہ اسے دین کا کتنا کا علم ہے۔

ٹائپسٹ نے لکھا:
برقعہ پتھر کے دور کی نشانی ہے اور داڑھی والے دیکھ کر فرعون یاد آتا ہے۔ ملالہ کی یادگار ڈائری
جب اس بہن نے اپنے ارد گرد داڑھی والوں کی شکل میں دیکھے ہی فرعون ہوں تو وہ کیا کہتی؟؟؟ لوگوں کی گردنیں محض مخالفت کی وجہ سے کاٹی جارہی ہوں، بچے پھاڑے جا رہے ہوں، عورتوں کو ذبردستی نکاح پر مجبور کیا جارہا ہو (یہ جذباتی باتیں نہیں ، اہل سوات اس کے گواہ ہیں ، جائیے تحقیق کر لیجئے، میں تو کر چکا)۔۔۔۔۔تو ان حالات میں وہ نا پختہ ذہن انہیں فرعون نہ کہے تو کیا فرشتے کہتی؟؟؟

دوسرا، ایک طرف تو آپ میڈیا کو کرپٹ اور اس پر شائع ہونے والی ٹی ٹی پی کی حملے کی ذمہ داری کو کالعدم قرار دے رہے ہیں مگر حیرت ہے پھر اسی بی بی سی پر شائع ہونے والی ڈائری کو وحی کی طرح سمجھ رہے ہیں ۔۔۔عجیب!!!
جناب ، اب کیا میڈیا یہاں کرپٹ نہیں؟؟؟
آپ کے پاس کیا ثبوت ہے کہ بی بی سی نے ہو باہو وہی ڈائری شائع کی جو اس بچی نے لکھی؟؟؟؟؟؟ بولیئے۔۔۔اگر انصاف کا دامن ابھی بھی ہاتھ میں ہے تو!!!
اور دوسرا ، آپ زرا خودغور کریں کہ یہ جملہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔’’برقعہ پتھر کے دور کی یاد‘‘ اس عمر کی بچی کہہ سکتی ہے ، یہ زیادہ ممکن ہے یا اس سے کہلوانا زیادہ ممکن ہے؟؟؟
اور تو اور یہ بی بی سی کا اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔۔۔۔ مگر عجیب ۔۔۔ایک طرف بی بی سی کی خبر قابل قبول نہیں مگر ڈائری بالکل قابل قبول۔۔۔۔ افسوس ۱!!

اور اگر یہ جملے بالفرض اس نے کہہ بھی دیئے تھے، تو پہلے اس پر حکم لگنا چاہیئے تھا ، جس میں شرائط بھی اور موانع بھی، پھر کوئی اقدام ،،،، اور اس اقدام کا مکلف صرف ریاست ہے۔۔ورنہ تو پھر ہر ایک جماعت کے نزدیک دوسری جماعت کافر ہے ، مرتد ہے۔۔تو پھر سب حد ارتداد لگانا شروع کر دیں؟؟؟
مگر یہاں اقدام پہلے کیا ٹی ٹی پی نے اور دلیلیں بعد میں گھڑ نا شروع کیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔جناب میں حیران ہوں ۔۔۔۔۔
جب یہی ترجمان ، پاک آرمی پر یا کسی بیس پر حملے کی ذمہ داری بی بی سی کے ہی ذریعے قبول کرتا ہے تو سارے ٹی ٹی پی کے کارندے اس درست قرار دیتے ہیں ، اس پر مباکبادیں دیتے ہیں۔۔۔۔مگر اب، پہلے تو سب نے مانا ہی نہیں ، پھر دلیلیں بنائی ، جو باب السلام پر بھی چڑہائیں گئیں اور اس کے کافر ہونے کے ضمن میں بی بی سی کی ڈائرئ ہی پیش کرنی شروع کر دی۔۔۔۔۔ھاھاھاھاھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بس میں مزید کچھ نہیں لکھوں گا سوائے اس کے کہ ۔۔۔۔۔گمراہی در گمراہی ان ٹی ٹی پی اور انکے حمایتوں کو گھیر چکی ہے۔

اللہ محفوظ فرمائے تمام اہل اسلام کو!!!
 

راجا

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 19، 2011
پیغامات
733
ری ایکشن اسکور
2,574
پوائنٹ
211
اس پورے واقعے میں میڈیا کا کردار بھی زیر بحث لایا جا سکتا ہے جو ڈرون حملوں اور ان کے متاثرین کو تو کوریج نہیں دیتا اور ملالہ کے معاملے کو مستقل اچھال رہا ہے۔
آپ امریکہ کو بھی گالیاں دے سکتے ہیں جو آئے روز پاکستان کی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈرون حملوں کے ذریعے معصوموں کی جان لے رہا ہے۔

لیکن۔۔

میرا سب احباب سے یہ سوال ہے کہ اصل واقعے پر بھی تو کچھ کہنا فرض بنتا ہے یا نہیں؟
کیا آپ کے نزدیک ایک چودہ سالہ بچی کے قتل کی یہ کوشش جائز اور عین شریعت کا منشا تھی؟
اگر یہ ملالہ آپ کی سگی بہن ہوتی تب بھی آپ یہی کہتے کہ جی ڈرون حملوں میں اتنے لوگ مر رہے ہیں، میری بہن بھی مر گئی کیا فرق پڑتا ہے؟

ایک مرتبہ پھر توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ڈرون حملوں کا ذمہ دار امریکہ ہے جو کسی اسلامی یا انسانی قانون کو خاطر میں نہیں لاتا۔
ملالہ کو مارنے والے وہ نام نہاد مجاہدین ہیں جو اسلامی شریعت کے نفاذ کی کوششیں کر رہے ہیں۔ اور اپنے سوا ہر ایک کو کافر قرار دیتے ہیں۔
یہی وہ لوگ ہیں جو پاکستانی افواج کو ناپاک افواج کہتے ہیں۔ اور پوری کی پوری فوج پر مرتد کا فتویٰ لگا کر ان تمام کلمہ گو مسلمانوں کے قتل ہی کو جہاد سمجھتے ہیں۔

ہم امریکہ کے ڈرون حملوں کی بھی مذمت کرتے ہیں۔
اور ہمیں نام نہاد مجاہدین کے اس قبیح اور قطعی غیر شرعی فعل کی بھی مذمت کرنی چاہئے۔ کیا خون مسلم اتنا ارزاں ہے؟ کیا ایک مسلمان کی تکفیر اور اس کے قتل کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ داڑھی کا مذاق اڑائے
کیا صرف قولاً داڑھی کا مذاق اڑانے والا ہی مرتد ہوتا ہے؟ اور جو روزانہ فعلاً داڑھی کا مذاق اڑاتا ہے، اس کے لئے تبلیغ ہی کافی ہے؟
کیا ایک مسلم کے قتل کا حق ریاست کے بجائے ہر شخص کو خودبخود حاصل ہے؟
کیا کل کو طالبان حکومت میں آ گئے تو ایسا ہر بچہ یا بچی قتل کر دیا جائے گا جو برقعے یا داڑھی کا مذاق اڑائے؟
کیا آپ کے گھر میں چودہ سالہ کوئی بھائی یا بہن ہے؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس عمر میں وہ پختہ ذہن، باشعور اور شرعی علوم سے واقف ہے اور جانتا یا جانتی ہے کہ فلاں بات اسے دائرہ اسلام سے خارج کر دے گی؟

میرے نزدیک طالبان کا یہ جرم ، امریکیوں کے جرائم سے زیادہ سنگین اس لئے ہے کہ طالبان کی اس حرکت سے اسلام اور جہاد بدنام ہوتا ہے۔
وہ دور بھی تھا جب مجاہدین کے حسن سلوک اور اخلاق کو دیکھ کر ہی لوگ مسلمان ہو جایا کرتے تھے۔
اور آج یہ حال ہے کہ طالبان سے فقط اختلاف رائے کا مطلب ہی یہ ہے کہ آپ صلیبی اور صیہونیت کے نمائندہ ہو، مرتد ہو اور آپ کا خون، مال اور عزت مجاہدین پر حلال ہے۔
 

Rashid Yaqoob Salafi

مشہور رکن
شمولیت
اکتوبر 12، 2011
پیغامات
140
ری ایکشن اسکور
509
پوائنٹ
114
کس کا یقین کریں ؟؟؟؟؟

ملالہ پر حملہ طالبان نے نہیں کیا۔ وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کا انکشاف

وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ وہ طالبان کی جانب سے ملالہ یوسف زئی پر حملے کی تصدیق نہیں کر سکتے کیونکہ ان کے پاس ایسی کوئی انٹیلی جنس انفارمیشن نہیں ہے کہ یہ حملہ طالبان نے کیا ہے۔ملالہ یوسف زئی کی زندگی کیلئے آئندہ 36 گھنٹے بہت اہم ہیں۔ اسلام آباد میں سابق برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفت گو میں رحمان ملک کاکہناتھاکہ حکیم الله محسود کی طاقت ختم ہو چکی ہے اور ان کے کئی گروپ بن چکے ہیں،اس لیے وہ طالبان کے دعوے کی تصدیق نہیں کر سکتے کہ واقعی یہ حملہ طالبان نے ہی کیا ہے بلکہ یہ کسی دشمنی کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے یا پھر کسی اور گروپ کی طرف سے بھی حملہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختون خوا حکومت نے ملالہ کو سیکورٹی فراہم کرنے کی پیش کش کی تھی تاہم اس کے والدین نے سیکورٹی لینے سے انکار کر دیا تھا۔رحمان ملک نے کہا کہ انہوں نے آئی جی خیبرپختون خوا کو ہدایت ہے کہ ملالہ اور اس کے والدین کو خصوصی سیکورٹی فراہم کی جائے۔
واضح رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کی طرف سے یہ بیان آنے سے پہلے بھی سرکاری سطح پر اب تک طالبان کا نام لے کر کسی نے بھی مذمت نہیں کی ہے حتی کہ آرمی چیف نے بھی صرف لفظ دہشت گرد کہا۔ صدر، وزیر اعظم، آرمی چیف اور دیگر اعلی سرکاری عہدےد ار اس حملے کا ذٕمہ دار طالبان کو ٹھہرانے کے بجائے دہشت گردوں کو ٹھہرا رہےہیں جب کہ میڈیا بار بار اس بات پر زور دے رہا ہے کہ طالبان کا نام لے کر مذمت کی جائے۔ اس مہم میں بی بی سی اور امریکی نشریاتی ادارے پیش پیش ہیں۔ سب سے پہلے بی بی سی نے ہی دعوی کیا کہ حملہ طالبان نے کیا ہے اور انہوں نے ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ پھر اس کا کہنا تھا کہ ملالہ یوسفزئی پر حملے کرنے والے کون تھے یہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی مہربانی سے واضح ہوگیا ہے۔ لیکن پھر بھی اکثر سیاست دان مصلحتوں کا شکار ہو کر اپنے مذمتی بیانات میں طالبان کا لفظ استعمال کرنے سے کترا رہے ہیں۔ اس سے زیادہ ستم ظریفی اور کیا ہو سکتی ہے۔ اس بابت پارلیمان کی متفقہ قرار داد اور فوجی سربراہ کا بیان بھی قابل ذکر ہے۔پاکستان فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی واقعے کے چوبیس گھنٹوں سے بھی کم وقت میں پشاور آمد اور ہسپتال میں ملالہ یوسفزئی کی خیریت معلوم کرنا انتہائی احسن اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے سیاستدانوں کو ایک مرتبہ پھر پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
لیکن فوجی سربراہ نے دورے کے بعد ایک تفصیلی بیان بھی جاری کیا لیکن اس میں انہوں نے طالبان کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ ’دہشت گرد‘ کہا ہے۔ اور یہی قومی اسمبلی کی قرار داد کے بارے میں دیکھنے کو ملا ہے۔وزیر اعظم کا کل کا قومی اسمبلی میں پالیسی بیان ہو یا صدر آصف علی زرداری کا مذمتی بیان کسی نے طالبان لفظ استعمال نہیں کیا۔کچھ لوگوں کے خیال میں شاید ان کے نزدیک طالبان کے لیے اب بھی کوئی نرم گوشہ موجود ہے جس کے باعث وہ انہیں نام سے یاد کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ تمام ریاست طالبان کے سامنے بےبس ہے۔
دریں اثنا وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ ملالہ یوسف زئی پر حملہ کرنے والوں کی شناخت ہوگئی، دہشت گرد افغانستان سے آئے تھے، افغان صدر سے شکایت کی ہے کہ دہشت گردوں کوسرحد پار آنے سے روکیں، حملہ کرنے والے دہشت گردکہیں بھاگ نہیں سکتے انہیں گرفتار کرکے ہرحال میں قرارواقعی سزا دی جائے گی۔ وہ سی ایم ایچ پشاور میں زخمی طالبہ کی عیادت کے بعد صحافیوں سے گفتگوکر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ملالہ کو علاج کے لیے بیرون ملک بھیجے جانے سے متعلق فیصلہ فی الحال موٴخرکردیا گیا امریکا اور لندن میں نیوروسرجن تیار ہیں اگرضرورت پڑی تو انہیں پاکستان بلایاجائے گا، پوری قوم ملالہ یوسف زئی کی صحت یابی کے لیے دعا کرے، دہشت گردوں کی شناخت ہوگئی ہے اورہمیں یہ بھی پتا ہے کہ وہ کتنے دن پہلے سوات میں آئے تھے اورانہوں نے کن کن لوگوں کو استعمال کیا اورکیا طریقہ واردات اختیارکیا، آئی جی خیبرپختونخوا نے ملالہ کے والدکو تین مرتبہ سیکورٹی دینے کی پیشکش کی تھی لیکن انہوں نے انکار کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ملالہ یوسف زئی کے علاج کے لیے صدر آصف زرداری نے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں۔ ایک سوال کے جواب رحمن ملک نے کہا کہ مناسب وقت پر شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن ہوگا اور ابھی مناسب وقت نہیں ہے۔
دہشت گردوں کے ہاتھوں زخمی ہونے والی طالبہ ملالہ یوسفزئی کو دوبارہ قتل کی دھمکیوں کے پیش نظر سیکورٹی اور علاج معالجہ کے امور پر آرمی چیف جنرل اشفاق پرویزکیانی اور وزیر داخلہ رحمن ملک کے درمیان بات چیت ہوئی ہے۔ وزیر داخلہ رحمن ملک کی ہدایت پر قتل کی تازہ دھمکیوں کے پیش نظر ملالہ یوسفزئی کے لیے نیا سیکورٹی حصار قائم کر دیا گیا ہے۔ ملالہ یوسفزئی کی زندگی کی حفاظت کے لیے گھرکے اندر لیڈی پولیس کمانڈوز اور باہر انسداد دہشت گردی تعینات ہوں گے پیشگی اجازت کے بغیر میل جول پر پابندی ہوگی۔ وزیر داخلہ رحمن ملک نے بتایا کہ ملالہ یوسفزئی کی حفاظت کے لیے خیبر پختونخوا آئی جی نے دو مرتبہ سیکورٹی دستے بھیجے مگر انکے والد ضیاء الدین نے انکارکر دیا اب فیصلہ کیا گیا ہے کہ ملالہ یوسفزئی کی زندگی کی حفاظت کے لیے نیا سیکورٹی کوڈ نافذکیا جائے گا گھرکے اندر لیڈی پولیس اور باہر مرد پولیس کمانڈوز تعینات ہوں گے۔ رحمن ملک کا کہنا تھا کہ ملالہ یوسفزئی کے واقعہ میں ڈرائیور بھی قصور وار تھا۔ اسکول سے گھر واپسی کے وقت دو لڑکوں نے ہاتھ کے اشارے سے اسکول وین کو روکا اور انہوں نے ڈرائیور سے کہا کہ ہماری ایک بچی گم ہوگئی ہے اسے تلاش کر رہے ہیں اسکے بعد ایک لڑکے نے ڈرائیورکو باتوں میں مصروف کرلیا ۔
 

راجا

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 19، 2011
پیغامات
733
ری ایکشن اسکور
2,574
پوائنٹ
211
راشد بھائی،
ہمارے وزیر داخلہ صاحب کے انکشافات کی حقیقت تو اب بچہ بچہ جانتا ہے۔ وہ اپنی کہتے رہتے ہیں۔ اگر وزیر داخلہ صاحب یہ الزام عائد کرتے کہ فلاں واقعہ کی ذمہ داری طالبان پر عائد ہوتی ہے تو کوئی یقین نہیں کرتا۔
ہمیں پاکستانی میڈیا یا پاکستانی ایجنسیوں کی تحقیق سے مطلب نہیں۔ جب خود تحریک طالبان پاکستان اس واقعے کی ذمہ داری اپنے سر لے رہی ہے اور یہ بات فقط بی بی سی تک محدود نہیں۔ بلکہ خود ٹی ٹی پی کے جہادی فورمز پر اس وقت "مجاہدین" اس واقعہ کو شرعی سپورٹ مہیا کرنے کی کوششوں میں ہیں۔ بلکہ کچھ مخلص نوجوان اس واقعے کی بدولت طالبان قیادت سے مشکوک ہو چکے ہیں۔ ٹی ٹی پی کے کئی فعال حامی بالکل خاموش ہیں۔ اگر آپ کو لنکس درکار ہیں تو میں آپ کو لنکس دے سکتا ہوں۔ آپ وہاں جا کر خود تحقیق کیجئے۔
آپ کی طرح میں بھی جہاد اور مجاہدین کا حامی ہوں۔ لیکن ایسے جہاد کو ہم کس طرح سپورٹ کریں جو خود مسلمانوں ہی کے خلاف کیا جا رہا ہو؟
 
Top