1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

شب برات کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

'بدعت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏مئی 11، 2017۔

  1. ‏مئی 11، 2017 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,653
    موصول شکریہ جات:
    6,458
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,055

    شب برات کی شرعی حیثیت کیا ہے؟


    الحمد لله:

    اللہ کا فرمان ہے۔

    سخت مشقت کر رہے ہونگے، تھکے جاتے ہونگے، شدید آگ میں جھلس رہے ہونگے۔ (سورۃ غاشیہ # ۳،۴)

    اور جو اِس دنیا میں اندھا بن کر رہا وہ آخرت میں بھی اندھا ہی رہے گا بلکہ راستہ پانے میں اندھے سے بھی زیادہ ناکام۔ (سورۃ الاسراء # ۷۲)

    ⏪ برصغیر پاک و ہند میں اس رات کو شب برات کے علاوہ شب قدر بھی کہا جاتا ہے۔ حالانکہ احادیث میں اس رات کے بارے میں شب برات یا شب قدر کے الفاظ کا کہیں ذکر نہیں ۔ بعض روایات میں اس رات کا جو ذکر آیا ہے وہ نصف شعبان کی رات کے حوالے سے آیا ہے اور ویسے بھی شب قدر اورشب برات سےمراد لیلۃ القدر ہے جس کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔

    سورہ القدر میں فرمایا:

    ﴿إِنّا أَنزَلنـٰهُ فى لَيلَةِ القَدرِ‌ ﴿١﴾... سورةالقدر
    کہ ہم نے اس قرآن کو قدر والی رات میں نازل کیا۔

    سورہ دخان میں ہے کہ

    ﴿إِنّا أَنزَلنـٰهُ فى لَيلَةٍ مُبـٰرَ‌كَةٍ... ﴿٣﴾... سورة الدخان
    یعنی ہم نے اس کتاب کو برکت والی رات میں نازل کیا۔

    یہ خیال درست نہیں ہے کہ سورہ دخان میں مراد شعبان کی ۱۴۔۱۵ کی درمیانی شب ہے کیونکہ معتبر تفاسیر میں اس سے مراد لیلۃ القدر ہی لی گئی ہے۔

    جہاں تک اس رات کو منانے کا تعلق ہے تو ہمارے ہاں اس کے مختلف طریقے رائج ہیں:

    ☀پهلا یہ کہ اس شام کو اچھے اور عمدہ کھانے (حلوہ وغیرہ) پکائے جاتے ہیں اور بانٹے جاتے ہیں اور پھر خود بھی بیٹھ کر اسے مزے سے کھاتےہیں ۔

    ☀دوسرا یہ کہ آتش بازی کی جاتی ہے اور گولہ بارود خوب استعمال کیا جاتاہے۔

    ☀تیسرا طریقہ کچھ لوگوں کے ہاں یہ بھی مروج ہے کہ اس رات کے استقبال کے لئے گھروں کو صاف کیا جاتا ہے اور انہیں خوب سجایا جاتاہے اور یہ عقیدہ ہوتا ہے کہ اس دن مرے ہوئے لوگوں کی روحیں واپس آتی ہیں۔

    ☀چوتھا طریقہ بعض جگہوں پر یہ بھی دیکھا گیا کہ اس رات لوگ خصوصی اہتمام کے ساتھ اور بعض اوقات اجتماعی شکل میں قبرستا ن کی زیارت اور دعا کےلئے جاتے ہیں۔

    ☀پانچواں طریقہ جو زیادہ معروف ہے وہ اس دن روزہ رکھنا اور رات کو عبادت و ذکر کرنے کا طریقہ ہے۔

    ان پانچوں طریقوں کے بدعت ہونے میں کوئی شبہ نہیں بلکہ ان میں سے کجھ تو خرافات کے زمرے میں آتے ہیں۔

    ◀ پہلی بات تو یہ ہے کہ نصف شعبان کی اس رات کو سرے سے اسلامی تہوار کہا ہی نہیں جاسکتا اور اسے عیدین یا حج وغیرہ کی شکل دینا ہی غلط ہے۔

    ◀ اور پھر یہ حلوہ پکانے اور کھانے ’آتش بازی کرنے اور گھروں کو سجانے کی رسمیں تو یوں بھی کسی اسلامی تہوار کا حصہ نہیں۔ یہ وہ خود ساختہ رسومات ہیں جو یا تو بعض مذہبی پیشواؤں نے اپنے مخصوص مفادات کے لئے جاری کیں اور یا پھر مسلمانوں نے ہندوؤں سے مستعار لے لی ہیں اور آتش بازی کا کسی دن کے منانے کے ساتھ اسلام میں سرے سے تصور ہی موجود نہیں۔

    ◀ مردوں کی روحوں کے آنے کا عقیدہ بھی باطل ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کا کوئی ثبوت نہیں۔ مرنے کے بعد کسی روح کا واپس آنا نہ شعبان کی اس رات میں ممکن ہے نہ کسی دوسرے دن وہ واپس اس دنیا میں آ سکتی ہیں۔
    اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔

    (یہ لوگ اپنی کرنی سے باز نہ آئیں گے) یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آ جائے گی تو کہنا شروع کرے گا کہ "اے میرے رب، مجھے اُسی دنیا میں واپس بھیج دیجیے جسے میں چھوڑ آیا ہوں۔ امید ہے کہ اب میں نیک عمل کروں گا" ہرگز نہیں، یہ بس ایک بات ہے جو وہ بک رہا ہے اب اِن سب (مرنے والوں) کے پیچھے ایک برزخ حائل ہے دوسری زندگی کے دن تک۔ (سورۃ مومنون # ۹۹،۱۰۰)

    وہ اللہ ہی ہے جو موت کے وقت روحیں قبض کرتا ہے اور جو ابھی نہیں مرا ہے اُس کی روح نیند میں قبض کر لیتا ہے، پھر جس پر وہ موت کا فیصلہ نافذ کرتا ہے اُسے روک لیتا ہے اور دوسروں کی روحیں ایک وقت مقرر کے لیے واپس بھیج دیتا ہے اِس میں بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرنے والے ہیں۔ (سورۃ زمر # ۴۲)

    ◀ اس رات قبرستان کی خصوصی زیارت کا مسئلہ بھی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔ یوں تو کسی بھی دن یا رات قبروں کی مسنون طریقے سے زیارت جائز ہے۔ بلکہ رسول اللہﷺ نے قبروں کی زیارت کی تلقین فرمائی ہے لیکن اس رات بطور خاص اور اجتماعی شکل میں اس رات کی فضیلت کی وجہ سے جانا ثابت نہیں اس بارے میں ایک روایت ترمذی شریف کی پیش کی جاتی ہے۔مگر محدثین نے اس سند کو ضعیف قرار دیا ہے۔ اس لئے ضعیف حدیث سے دلیل نہیں پکڑی جاسکتی۔

    ◀ اب رہا مسئلہ پانچویں طریقے کا جس پر زیادہ لوگ عمل کرتے ہیں یعنی دن کو روزہ رکھنا اور رات کو ذکر و عبادت کرنا اور اس کےفضائل بیان کرنے کے لئے مخصوص مجلسیں منعقد کرانا۔

    اس بارے میں درج ذیل روایات پیش کی جاتی ہیں:

    ۱۔ سنن ابن ماجہ: کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ (نصف شعبان کی رات(شب براءت )کا بیان)، سند : ضعیف جداً، حدیث # 1388 .

    علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب نصف شعبان کی رات آئے تو اس رات کو قیام کرو اور دن کو روزہ رکھو۔ اس رات اللہ تعالیٰ سورج کے غروب ہوتے ہیں پہلے آسمان پر نزول فرما لیتا ہے، اور صبح صاد طلوع ہونے تک کہتا رہتا ہے: کیا کوئی مجھ سے بخشش مانگنے والا ہے، کہ میں اسے معاف کروں؟ کیا کوئی رزق طلب کرنے والا ہے کہ اسے رزق دوں؟ کیا کوئی کسی بیماری یا مصیبت میں ) مبتلا ہے کہ میں اسے عافیت فرمادوں؟‘‘

    ۲۔ سنن ابن ماجہ: کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ (نصف شعبان کی رات(شب براءت )کا بیان)، سند : ضعیف، حدیث # 1389 .

    عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ایک رات میں نے رسول اللہ ﷺ کو ( گھر میں ) نہ پایا۔ میں آپ کی تلاش میں نکلی تو دیکھا کہ آپ بقیع میں ہین اور آپ نے آسمان کی طرف سر اٹھایا ہوا ہے۔ ( جب مجھے دیکھا تو) فرمایا: ’’عائشہ ! کیا تجھے یہ ڈر تھا کہ اللہ اور اس کا رسول تجھ پر ظلم کریں گے؟ ‘‘ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ: میں نے عرض کیا: مجھے یہ خوف تو نہیں تھا لیکن میں نے سوچا (شاید) آپ اپنی کسی) اور) زوجہ محترمہ کے ہاں تشریف لے گئے ہیں ۔تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نصف شعبان کو آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور بنو کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ (لوگوں ) کو معاف فرما دیتا ہے۔‘‘

    ۳۔ سنن ابن ماجہ: کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ (نصف شعبان کی رات(شب براءت )کا بیان)، سند : ضعیف، حدیث # 1390 .

    ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت بیان کی کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات( اپنے بندوں پر) نظر فرماتا ہے ، پھر مشرک اور( مسلمان بھائی سے) دشمنی رکھنے والے کے سوا ساری مخلوق کی مخفرت فرما دیتا ہے۔‘‘ امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے اپنے استاد محمد بن اسحاق کی سند سے یہ روایت بیان کی تو انہوں نے صحاک بن عبدالرحمن اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے درمیان ضحاک کے باپ کا واسطہ بیان کیا۔

    یہ تمام روایات جو اس رات کی فضیلت میں بیان کی جاتی ہیں وہ سند کے اعتبار سے قابل استدلال نہیں اور محدثین نے حدیث کی صحت کے لئے جو معیار مقرر کیا ہے اس پر پورا نہیں اترتیں ۔ اس لئے ان روایات کو بنیاد بنا کر اس رات کو خصوصی اسلامی تہوار کی حیثیت دینا ہرگز قرین قیاس نہیں ہے۔
    اس بارے میں جو بات ثابت ہے وہ یہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ شعبان کے مہینے میں دوسرے مہینوں کے مقابلے میں زیادہ روزہ رکھتے تھے۔

    جیسا کہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے رویت کی کہ انھوں نے کہا: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے سوا کبھی کسی مہینے کے پورے روزے رکھے ہوں،اور میں نے نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی (اور) مہینے میں اس سے زیادہ روزے رکھے ہوں جتنے شعبان میں رکھتے تھے۔

    صحیح مسلم: کتاب: روزے کے احکام و مسائل (باب: رمضان کے علاوہ (دوسرے مہینوں میں )نبی اکرم ﷺ کے روزے ‘یہ مستحب ہے کہ کوئی مہینہ روزوں سے خالی نہ رہے) حدیث # ۲۷۲۱

    آج مسلمان دین سے ناواقفیت کی وجہ سے اس مہینے میں کثرت صوم کے عمل سے تو غافل ہیں لیکن فالتو رسموں کو خوب اہتمام سے کرتے ہیں۔

    اللہ تعالی فرماتا ہے۔

    آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کر دیا ہے
    (سورة المائده # 3)

    نیز فرمایا :

    اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ اور اس کے رسول کے آگے پیش قدمی نہ کرو اور اللہ سے ڈرو، اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے
    (سورة الحجرات # 11)

    اور فرمایا :

    در حقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسولؐ میں ایک بہترین نمونہ هے، ہر اُس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخر کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے
    (سورة الأحزاب # 211)

    ⏪ تو جو کتاب و سنت سے ہٹ کر کوئ روش اختیار کرے وہ بدعت ہے اور بدعت سے متعلق نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم کا فرمان ہے۔

    " ہر نيا كام بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہى ہے اور ہر گمراہى آگ ميں ہے ...

    اسے نسائى نے باب كيف الخطبۃ صلاۃ العيدين ميں روايت كيا ہے، اور مسند احمد ميں جابر رضى اللہ تعالى عنہ سے اور ابو داود ميں عرباض بن ساريہ اور ابن ماجہ ميں ابن مسعود رضى اللہ تعالى عنہم سے مروى ہے.

    جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم خطبہ ارشاد فرماتے تو آپ يہ كہتے:

    " اما بعد: يقينا سب سے بہتر كلام اللہ كى كتاب اللہ ہے، اور سب سے بہتر طريقہ محمد صلى اللہ عليہ وسلم كا ہے، اور سب سے برے امور نئے ايجاد كردہ ہيں، اور ہر بدعت گمراہى ہے "
    صحيح مسلم حديث نمبر ( 20055 ).

    الله ہمیں کتاب و سنت پر چلنے کی توفیق عطا فرماۓ اور شرک و بدعت سے بچاۓ۔ آمین
     
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  2. ‏مئی 11، 2017 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,653
    موصول شکریہ جات:
    6,458
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,055

    ماہ شعبان: حقیقت کے آئینے میں


    مقبول احمد سلفی

    ماہ شعبان بطور خاص اس کی پندرہویں تاریخ سے متعلق امت مسلمہ میں بہت سی گمراہیاں پائی جاتی ہیں اس مختصر سے مضمون میں اس ماہ کی اصل حقیقت سے روشناس کرانا چاہتا ہوں تاکہ جو لوگ صحیح دین کو سمجھنا چاہتے ہیں ان پر اس کی حقیقت واضح ہوسکے ،ساتھ ساتھ جو لوگ جانے انجانے بدعات وخرافات کے شکار ہیں ان پر حجت پیش کرکے شعبان کی اصل حقیقت پر انہیں بھی مطلع کیا جاسکے ۔

    مندرجہ ذیل سطور میں شعبان کے حقائق کو دس نکات میں واشگاف کرنے کی کوشش کروں گا ،ان نکات کے ذریعہ اختصار کے ساتھ تقریبا سارے پہلو اجاگر ہوجائیں گے اور ایک عام قاری کو بھی اس ماہ کی اصل حقیقت کا اندازہ لگانا آسان ہوجائے گا۔

    پہلا نکتہ :ماہ شعبان کی فضیلت


    شعبان روزہ کی وجہ سے فضیلت وامتیاز والا مہینہ ہے ، اس ماہ میں کثرت سے روزہ رکھنے پر متعددصحیح احادیث مروی ہیں جن میں بخاری و مسلم کی روایات بھی ہیں ۔ بخاری شریف میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے :

    أن عائشةَ رضي الله عنها حدَّثَتْه قالتْ : لم يكنِ النبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم يصومُ شهرًا أكثرَ من شَعبانَ، فإنه كان يصومُ شعبانَ كلَّه(صحيح البخاري:1970)

    ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزہ نہیں رکھا کرتے تھے ، آپ ﷺ شعبان کے مہینے کا تقریبا پورا روزہ رکھا کرتے تھے ۔

    اور مسلم شریف میں امِ سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے:

    سألتُ عائشةَ رضي اللهُ عنها عن صيامِ رسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ فقالت : كان يصومُ حتى نقول : قد صام . ويفطر حتى نقول : قد أفطر . ولم أرَه صائمًا من شهرٍ قطُّ أكثرَ من صيامِه من شعبانَ . كان يصومُ شعبانَ كلَّه . كان يصومُ شعبانَ إلا قليلًا .(صحيح مسلم:1156)

    ترجمہ: میں نے عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے نبیﷺ کے روزوں کے بارے میں دریافت کیا تووہ کہنے لگیں: آپﷺ روزے رکھنے لگتے تو ہم کہتیں کہ آپ تو روزے ہی رکھتے ہیں، اورجب آپ ﷺ روزہ چھوڑتے تو ہم کہتے کہ اب نہيں رکھیں گے، میں نے نبی ﷺ کو شعبان کے مہینہ سے زيادہ کسی اورمہینہ میں زيادہ روزے رکھتے ہوئے نہيں دیکھا، آپ سارا شعبان ہی روزہ رکھتے تھے ، آپ ﷺ شعبان میں اکثر ایام روزہ رکھا کرتے تھے۔

    ترمذی شریف میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے :

    ما رأيتُ النَّبيَّ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ يصومُ شَهرينِ متتابعينِ إلَّا شعبانَ ورمضانَ(صحيح الترمذي:736)

    ترجمہ: میں نے نبی ﷺ کو لگاتار دومہینوں کے روزے رکھتے نہیں دیکھا سوائے شعبان اور رمضان کے ۔

    یہی روایت نسائی میں ان الفاظ کے ساتھ ہے :

    ما رأيتُ رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ علَيهِ وسلَّمَ يصومُ شهرينِ متتابعينِ ، إلَّا أنَّه كان يصِلُ شعبانَ برمضانَ(صحيح النسائي:2174)

    ترجمہ:میں نے نبیﷺ کو کبھی بھی دو ماہ مسلسل روزے رکھتےہوئے نہيں دیکھا لیکن آپ شعبان کو رمضان کے ساتھ ملایا کرتے تھے۔

    ان ساری احادیث سے صرف روزہ رکھنے کا ثبوت ملتا ہے یعنی شعبان کا اکثر روزہ رکھنا اور جن روایتوں میں پورا شعبا ن روزہ رکھنے کا ذکر ہے ان سے بھی مراد شعبان کا اکثر روزہ رکھناہے ۔

    اس ماہ میں بکثرت روزہ رکھنے کی حکمت پراسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :

    يا رسولَ اللَّهِ ! لم ارك تَصومُ شَهْرًا منَ الشُّهورِ ما تصومُ من شعبانَ ؟ ! قالَ : ذلِكَ شَهْرٌ يَغفُلُ النَّاسُ عنهُ بينَ رجبٍ ورمضانَ ، وَهوَ شَهْرٌ تُرفَعُ فيهِ الأعمالُ إلى ربِّ العالمينَ ، فأحبُّ أن يُرفَعَ عمَلي وأَنا صائمٌ(صحيح النسائي:2356)

    میں نے اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ سے پوچھا کہ آپ جتنے روزے شعبان میں رکھتے ہیں کسی اورمہینہ میں اتنے روزے نہیں رکھتے؟ آپﷺ نے جواب میں فرمایا:یہ ایسا مہینہ ہے جس میں لوگ غفلت کاشکار ہوجاتے ہیں جو رجب اوررمضان کے مابین ہے، یہ ایسا مہینہ ہے جس میں اعمال رب العالمین کی طرف اٹھائے جاتے ہیں، میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میرے اعمال روزے کی حالت میں اٹھائے جائیں۔

    خلاصہ کلام یہ ہوا کہ نبی ﷺ کی اقتدا ء میں ہمیں ماہ شعبان میں صرف روزے کا اہتمام کرنا چاہئے وہ بھی بکثرت اور کسی ایسے عمل کو انجام نہیں دینا چاہئے جن کا ثبوت نہیں ہے۔

    دوسرا نکتہ : نصف شعبان کے بعد روزہ رکھنا


    اوپر والی احادیث سے معلوم ہوا کہ شعبان کا اکثر روزہ رکھنا مسنون ہے مگر کچھ ایسی روایات بھی ہیں جن میں نصف شعبان کے بعد روزہ رکھنے کی ممانعت آئی ہے ۔

    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا :
    إذا بقيَ نِصفٌ من شعبانَ فلا تصوموا(صحيح الترمذي:738)

    ترجمہ:جب نصف شعبان باقی رہ جائے (یعنی نصف شعبان گزر جائے) تو روزہ نہ رکھو۔

    اس معنی کی کئی روایات ہیں جو الفاظ کے فرق کے ساتھ ابوداؤد، نسائی ، بیہقی، احمد ، ابن ابی شیبہ اور ابن حبان وغیرہ نے روایت کیا ہے ۔ اس حدیث کی صحت وضعف کے متعلق علماء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے ۔صحیح قرار دینے والوں میں امام ترمذی ، امام ابن حبان،امام طحاوی ، ابوعوانہ،امام ابن عبدالبر،امام ابن حزم،علامہ احمد شاکر، علامہ البانی ، علامہ ابن باز اور علامہ شعیب ارناؤط وغیرہ ہیں جبکہ دوسری طرف ضعیف قرار دینے والوں میں عبدالرحمن بن مہدی، امام احمد، ابوزرعہ رازی ، امام اثرم ، ابن الجوزی ، بیہقی ، ابن معین اورشیخ ابن عثیمین و غیرہم ہیں۔

    ابن رجب نے کہا کہ اس حدیث کی صحت وعمل کے متعلق اختلاف ہے ۔ جنہوں نے تصحیح کی وہ ترمذی، ابن حبان،حاکم،طحاوی اور ابن عبدالبرہیں اور جنہوں نے اس حدیث پر کلام کیا ہے وہ ان لوگوں سے زیادہ بڑے اور علم والے ہیں ۔ ان لوگوں نے حدیث کو منکر کہا ہے ، وہ ہیں عبدالرحمن بن مہدی،امام احمد،ابوزرعہ رازی،اثرم ۔ (لطائف المعارف ص: 135)

    اس وجہ سے یہ روایت منکر اور ناقابل حجت ہے، اگر ممانعت والی روایت کو صحیح مان لیا جائےجیساکہ بہت سے محدثین اس کی صحت کے بھی قائل ہیں تو اس بنا پر یہ کہا جائے گا کہ اس ممانعت سے چند لوگ مستثنی ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں۔

    (1) جسے روزے رکھنے کی عادت ہو ، مثلا کوئي شخص پیر اورجمعرات کا روزہ رکھنے کا عادی ہو تووہ نصف شعبان کے بعد بھی روزے رکھے گا۔

    (2) جس نے نصف شعبان سے قبل روزے رکھنے شروع کردئے اورنصف شعبان سے پہلے کو بعدوالے سے ملادیا۔

    (3)اس سے رمضان کی قضاء اور نذر میں روزے رکھنے والا بھی مستثنی ہوگا ۔

    (4) نبی ﷺ کی اتباع میں شعبان کا اکثر روزہ رکھنا چاہے رکھ سکتا ہے اس حال میں کہ رمضان کے روزے کے لئے کمزور نہ ہوجائے ۔

    تیسرا نکتہ: نصف شعبان کا روزہ


    ایسی کوئی صحیح حدیث نہیں ہے جس سے پندرہویں شعبان کو روزہ رکھنے کی دلیل بنتی ہو، صحیح احادیث سے شعبان کا اکثر روزہ رکھنے کی دلیل ملتی ہے جیساکہ اوپر متعدد احادیث گزری ہیں ۔ جو لوگ روزہ رکھنے کے لئے شعبان کی پندرہویں تاریخ متعین کرتے ہیں وہ دین میں بدعت کا ارتکاب کرتے ہیں اور بدعت موجب جہنم ہے ۔ اگر کوئی کہے کہ پندرہویں شعبان کو روزہ رکھنے سے متعلق حدیث ملتی ہے تو میں کہوں گا کہ ایسی روایت گھڑی ہوئی اور بناوٹی ہے۔ جو گھڑی ہوئی روایت کو نبی ﷺ کی طرف منسوب کرے اس کا ٹھکانہ جہنم ہے ۔

    چوتھا نکتہ : نصف شعبان کی رات قیام


    جھوٹی اور من گھرنت روایتوں کو بنیاد بناکر نصف شعبان کی رات مختلف قسم کی مخصوص عبادتیں انجام دی جاتی ہیں ۔ ابن ماجہ کی روایت ہے :
    إذا كانت ليلةُ النِّصفِ من شعبانَ فقوموا ليلَها ، وصوموا نَهارَها(ضعيف ابن ماجه:261)

    ترجمہ: جب نصف شعبان کی رات آئے تو ا س قیام کرو اور دن کا روزہ رکھو۔

    یہ روایت گھڑی ہوئی ہے کیونکہ اس میں ایک راوی ابوبکربن محمد روایتیں گھڑنے والا تھا۔

    اس رات صلاۃ الفیہ یعنی ایک ہزار رکعت والی مخصوص طریقے کی نماز پڑھی جاتی ہے ، کچھ لوگ سو رکعات اور کچھ لوگ چودہ اور کچھ بارہ رکعات بھی پڑھتے ہیں ۔ اس قسم کی کوئی مخصوص عبادت نبی ﷺ اور آپ کے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین سے منقول نہیں ہے ۔اسی طرح اس رات اجتماعی ذکر، اجتماعی دعا، اجتماعی قرآن خوانی اور اجتماعی عمل کا کوئی ثبوت نہیں ہے ۔

    پانچواں نکتہ : شب برات کا تصور


    پندرہویں شعبان کی رات کو مختلف ناموں سے موسوم کیا جاتا ہے ۔مثلا لیلۃ المبارکہ(برکتوں والی رات)، لیلۃ الصک(تقسیم امور کی رات )، لیلۃ الرحمۃ (نزول رحمت کی رات) ۔ ایک نام شب برات (جہنم سے نجات کی رات)بھی ہے جو زبان زد خاص وعام ہے ۔ حقیقت میں ان ناموں کی شرعا کوئی حیثیت نہیں ہے ۔

    لیلۃ المبارکہ نصف شعبان کی رات کو نہیں کیا جاتا ہے بلکہ شب قدر کو کہاجاتا ہے ،اللہ کا فرمان ہے :

    إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ{الدخان:3}

    ترجمہ: یقیناً ہم نے اس (قرآن) کو بابرکت رات میں نازل کیا ہے کیونکہ ہم ڈرانے والے ہیں۔

    اللہ تعالی نے قرآن کو لیلۃ المبارکہ یعنی لیلۃ القدر میں نازل کیا جیساکہ دوسری جگہ اللہ کا ارشاد ہے :

    إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ[القدر:1]

    ترجمہ: ہم نے اس(قرآن) کو قدر والی رات میں نازل کیا ہے۔

    تقسیم امور بھی شب قدر میں ہی ہوتی ہے نہ کہ نصف شعبان کی رات اوراسےلیلۃ الرحمۃ کہنے کی بھی کوئی دلیل نہیں ۔ جہاں تک شب برات کی بات ہے ، تو وہ بھی ثابت نہیں ہے ، اس کے لئے جو دلیل دی جاتی ہے ضعیف ہے ۔ آگے اس حدیث کی وضاحت آئے گی ۔

    چھٹواں نکتہ: نصف شعبان کی رات قبرستان کی زیارت


    ترمذی میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے :

    فقَدتُ رسولَ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ ليلةً فخرجتُ فإذا هوَ في البقيعِ۔
    ترجمہ : ایک رات میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پہلو سے غائب پایا ،تلاش کیا تو آپ کوبقیع [ قبرستان] میں پایا۔

    یہ روایت نصف شعبان سے متعلق ہے ، اس حدیث کو بنیاد بناکر پندرہویں شعبان کی رات قبرستان کی صفائی ہوتی ہے ، قبروں کی پوتائی کی جاتی ہے ، وہاں بجلی وقمقمے لگائے جاتے ہیں اور عورت ومرد ایک ساتھ اس رات قبرستان کی زیارت کرتے ہیں جبکہ مذکورہ حدیث ضعیف ہے ۔ اس پر عمل نہیں کیا جائے گا۔ قبروں کی زیارت کبھی بھی مسنون ہے اس کے لئے تاریخ متعین کرنا بدعت ہے اور عورت ومرد کےاختلاط کے ساتھ زیارت کرنا ، قبر پر میلہ ٹھیلہ لگاناکبھی بھی جائز نہیں ہے ۔

    ساتواں نکتہ : آتش بازی


    شعبان میں جس قدر بدعات وخرافات کی انجام دہی پر پیسے خرچ کئے جاتے ہیں اگر اس طرح رمضان المبارک میں صدقہ وخیرات کردیا جاتا تو بہت سے غریبوں کو راحت نصیب ہوتی اورذخیرہ آخرت بھی ہوجاتامگر جسے فضول خرچی یعنی شیطانی کام پسند ہو وہ رمضان کا صدقہ وخیرات کہاں، شعبان میں آتش بازی کو ہی پسند کرے گا۔ ماہ شعبان شروع ہوتے ہی پٹاخے چھوڑنے شروع ہوجاتے ہیں ذرا تصور کریں اس وقت سے لیکر شعبان بھر میں کس قدر فضول خرچی ہوتی ہوگی؟۔نصف شعبان کی رات کی پٹاخے بازی کی حد ہی نہیں ، اس سے ہونے والے مالی نقصانات کے علاوہ جسمانی نقصانات اپنی جگہ ۔

    آٹھواں نکتہ : مخصوص پکوان اور روحوں کی آمد


    نصف شعبان کی بدعات میں قسم قسم کے کھانے ، حلوے پوری اور نوع بنوع ڈنر تیار کرنا ہے ، اسے فقراء ومساکین میں تقسیم کرتے ہیں اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ روحیں آتی ہیں،بایں سبب ان کے لئے فاتحہ خوانی کی جاتی ہے ۔ یہ بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ اگر آج حلوہ پوری نہ بنائی جائے تو روحیں دیواریں چاٹتی ہیں ۔ کھانا پکانے کے لئے تاریخ متعین کرنا اور متعین تاریخ میں فقراء میں تقسیم کرنا ، اس کھانے پرفاتحہ پڑھنا ، فاتحہ شدہ کھانامردوں کو ایصال ثواب کرنا سب کے سب بدعی امو ر ہیں ۔ اور یہ جان لیں کہ مرنے کے بعد روح دنیا میں لوٹ کر نہیں آتی ،قرآن میں متعدد آیات وارد ہیں جیساکہ اللہ کا فرمان ہے :

    کَلاَّ إِنَّها کَلِمَةٌ هُوَ قائِلُها وَ مِنْ وَرائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلي‏ يَوْمِ يُبْعَثُونَ(المومنون: 100)

    ترجمہ: ہرگز نہیں ، یہ بس ایک بات ہے جو وہ بک رہاہے اب ان سب (مرنے والوں) کے پیچھے ایک برزخ حائل ہے دوسری زندگی کے دن تک۔

    نواں نکتہ : کیانصف شعبان کو اللہ آسمان دنیا پر نزول کرتا ہے ؟


    ایک روایت بڑے زور شور سے پیش کی جاتی ہے :

    ان الله ليطلع في ليلة النصف من شعبان فيغفر لجميع خلقه إلا لمشرك أو مشاحن(سنن ابن ماجه :1390 ) .
    ترجمہ: اللہ تعالی نصف شعبان کی رات (اپنے بندوں پر) نظر فرماتا ہے پھر مشرک اور (مسلمان بھائی سے ) دشمنی رکھنے والے کے سوا ساری مخلوق کی مغفرت کردیتا ہے ۔

    اس حدیث کو البانی صاحب نے حسن قرار دیا ہے جبکہ اس میں مشہور ضعیف راوی ابن لہیعہ ہے اور دوسرے جمیع طرق میں بھی ضعف ہے ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کے طریق سے یہ روایت آئی ہے ۔

    إنَّ اللَّهَ تعالى ينزِلُ ليلةَ النِّصفِ من شعبانَ إلى السَّماءِ الدُّنيا ، فيغفرُ لأكْثرَ من عددِ شَعرِ غنَمِ كلبٍ(ضعيف ابن ماجه:262)

    ترجمہ: للہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات کو آسمان دنیا پر اترتا ہےاور کلب قبیلہ کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے زیادہ لوگوں کو معاف فرماتا ہے۔

    اسے شیخ البانی نے ضعیف کہا ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی سند میں انقطاع کا ذکر کیا ہے جس کی وجہ سے یہ ضعیف ہے ۔

    بہرکیف! نصف شعبان کی رات آسمان دنیا پر اللہ کے نزول کی کوئی خاص دلیل نہیں ہے البتہ اس حدیث کے عموم میں داخل ہے جس میں ذکر ہے کہ اللہ تعالی ہررات تہائی حصے میں آسمان دنیا پر نزول کرتا ہے ۔

    دسواں نکتہ : پندرہویں شعبان سے متعلق احادیث کا حکم


    آخری نکتے میں یہ بات واضح کردوں کہ نصف شعبان کے دن یا اس کی رات سے متعلق کوئی بھی صحیح حدیث نہیں ہے ۔قبیلہ کلب کی بکری کے بالوں کے برابر مغفرت والی حدیث، مشرک و بغض والے علاوہ سب کی مغفرت والی حدیث، سال بھر کے موت و حیات کا فیصلہ کرنے والی حدیث،اس دن کے روزہ سے ساٹھ سال اگلے پچھلے گناہوں کی مغفرت کی حدیث ، بارہ –چودہ- سو اور ہزار رکعات نفل پڑھنے والی حدیث یانصف شعبان پہ قیام وصیام اور اجروثواب سے متعلق کوئی بھی حدیث قابل حجت نہیں ہے ۔

    اس وجہ سے پندرہ شعبان کے دن میں کوئی مخصوص عمل انجام دینا یا پندرہ شعبان کی رات میں کوئی مخصوص عبادت کرنا جائز نہیں ہے ۔ شعبان کے مہینے میں نبی ﷺسے صرف اور صرف بکثرت روزہ رکھنے کا ثبوت ملتا ہے لہذا مسلمانوں کو اسی عمل پر اکتفا کرنا چاہئے اور بدعات وخرافات کو انجام دے کر پہلے سے جمع کی ہوئی نیکی کوبھی ضائع نہیں کرنا چاہئے ۔
     
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏جون 23، 2017 #3
    اطہر سجاد

    اطہر سجاد مبتدی
    شمولیت:
    ‏مئی 31، 2017
    پیغامات:
    4
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    19

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شب برات کی فضیلت میں صحیح روایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۱۔وَعَنْ مُعَاذَ بْنِ جَبَلٍ عَنِ النَّبِیِّﷺ قَالَ: ((یَطَّلِعُ اللّٰہُ اِلٰی جَمِیْعِ خَلْقِہٖ لَیْلَۃَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَیَغْفِرُ لِجَمِیْعِ خَلْقِہٖ اِلاَّ لِمُشْرِکٍ اَوْ لِشَاحِنٍ )) ’’حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اللہ کے رسول ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا :’’اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات کو اپنی تمام مخلوق کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ‘پس اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق کو بخش دیتے ہیں سوائے مشرک اور کینہ پرور کے۔‘‘ (صحیح الترغیب و الترھیب: ۲۷۶۷‘علامہ ناصر البانی۔)
    http://shamela.ws/browse.php/book-179/page-1394

    ا- المعجم الأوسط - عربی حدیث نمبر 6776
    http://shamela.ws/browse.php/book-28171#page-7089

    2- المعجم الأوسط - اُردو جلد پنجم صفحہ ۲۶۱ حدیث نمبر 6776
    https://archive.org/stream/AlMujamAlAwsatJild5/al%20mu%27jam%20al%20awsat%20Jild%205#page/n261/mode/2up

    3- صحيح ابن حبان - محققا عربی حدیث نمبر 5665
    http://shamela.ws/browse.php/book-1729/page-8323

    4- صحيح ابن حبان - مخرجا عربی حدیث نمبر 5665
    http://shamela.ws/browse.php/book-1734#page-11309

    5- صحيح ابن حبان اُردو جلد ششم صفحہ ۵۹۲ حدیث نمبر 5665
    https://archive.org/stream/SahiIbneHibbanJild1-8/Sahih%20Ibn%20Hibban%20Jild%206%20LRes#page/n591/mode/2up
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں