1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شہادت حسین کی خبریں جرح و تعدیل کے میزان میں

'تاریخی روایات' میں موضوعات آغاز کردہ از lovelyalltime, ‏اکتوبر 07، 2015۔

موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
  1. ‏اکتوبر 07، 2015 #1
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436


    حسین رضی الله عنہ کی شہادت یزید بن معاویہ کے دور میں ہوئی جو خلافت کا قضیہ تھا – حسین اپنی خلافت کوفہ میں قائم کرنا چاہتے تھے لیکن وہ سپورٹ حاصل نہ کر پائے جو ان کی خلافت کو برقرار بھی رکھ سکے – لہذا انہوں نے اغلبا آخری لمحات میں خلافت کے ارادے کو ترک کیا اور اپنے قافلے کا رخ کوفہ کی بجائے شمال کی طرف موڑ دیا – یہاں تک کہ کوفہ سے ٤٠ میل دور کربلا پہنچ گئے اور یہی شہید ہوئے جس پر امت ابھی تک غمگین ہے
    قاتلین حسین پر الله کی مار ہو

    ہم تک جو خبریں آئیں ہیں ان کو جرح و تعدیل کے میزان میں پرکھنا ضروری ہے

    مسند احمد ج ١ ص ٨٥ کی روایت ہے

    حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُدْرِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَارَ مَعَ عَلِيٍّ، وَكَانَ صَاحِبَ مِطْهَرَتِهِ، فَلَمَّا حَاذَى نِينَوَى وَهُوَ مُنْطَلِقٌ إِلَى صِفِّينَ، فَنَادَى عَلِيٌّ: اصْبِرْ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، اصْبِرْ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، بِشَطِّ الْفُرَاتِ قُلْتُ: وَمَاذَا قَالَ؟، دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَعَيْنَاهُ تَفِيضَانِ، قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَغْضَبَكَ أَحَدٌ، مَا شَأْنُ عَيْنَيْكَ تَفِيضَانِ؟ قَالَ: «بَلْ قَامَ مِنْ عِنْدِي جِبْرِيلُ قَبْلُ، فَحَدَّثَنِي أَنَّ الْحُسَيْنَ يُقْتَلُ بِشَطِّ الْفُرَاتِ» قَالَ: فَقَالَ: «هَلْ لَكَ إِلَى أَنْ أُشِمَّكَ مِنْ تُرْبَتِهِ؟» قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ. فَمَدَّ يَدَهُ، فَقَبَضَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ فَأَعْطَانِيهَا، فَلَمْ أَمْلِكْ عَيْنَيَّ أَنْ فَاضَتَا


    علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن میں نبی صلی الله علیہ وسلم کے پاس گیا تو (دیکھا) آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔ میں نے کہا : اے اللہ کے نبی ! کیا کسی نے آپ کو ناراض کردیا ہے ؟ آپ کی آنکھوں سے آنسو کیوں بہہ رہے ہیں؟آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ میرے پاس ابھی جبریل (علیہ السلام) اُٹھ کر گئے ہیں، انہوں نے مجھے بتایا کہ حسین کو فرات کے کنارے قتل کیا جائے گا۔


    سند میں عَبْدِ الله بْنِ نُجَيٍّ ہے جس کے امام بخاری فیہ نظر کہتے ہیں

    اسی الفاظ سے ابن عدی کہتے ہیں من الحديث وأخباره فيها نظر اپنی حدیث اور خبر میں

    فیہ نظر ہے

    فیہ نظر محدثین جرح کے لئے بولتے ہیں

    مسند احمد کی روایت ہے

    عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ میں نے ایک دن دوپہر کو نبی صلی الله علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا، آپ کے بال بکھرے ہوئے اور گرد آلود تھے، آپ کے ہاتھ میں خون کی ایک بوتل تھی ۔ میں نے پوچھا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، یہ کیا ہے ؟آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: یہ حسین اور ان کے ساتھیوں کا خون ہے ، میں اسے صبح سے اکٹھا کررہا ہوں


    اسکی سند کا راوی عمار بن أبي عمار مولى بني هاشم مختلف فیہ ہے کتاب اکمال مغلطائی میں ہے

    وقال البخاري: أكثر من روى عنه أهل البصرة…و لا یتابع علیہ

    ابن حبان مشاہیر میں کہتے ہیں

    وكان يهم في الشئ بعد الشئ

    اسکو بات بے بات وہم ہوتا ہے

    ابو داود کہتے ہیں شعبہ نے اس سے روایت لی لیکن کہا

    وكان لا يصحح لي

    میرے نزدیک صحیح نہیں

    یحیی بن سعید کہتے ہیں شعبہ نے صرف ایک روایت اس سے لی

    امام مسلم نےاس سےصرف ایک روایت نقل کی ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم مکہ میں کتنے عرصے رہے

    طبرانی روایت کرتے ہیں کہ عَمَّارِ بنِ أَبِي عَمَّارٍ کہتا ہے کہ

    حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ: عَنْ عَمَّارِ بنِ أَبِي عَمَّارٍ؛ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ تَقُوْلُ

    سَمِعْتُ الجِنَّ يَبكِيْنَ عَلَى حُسَيْنٍ، وَتَنُوحُ عَلَيْهِ

    ام سلمہ کو سنا میں نے ایک جن کو سنا جو حسین پر نوحہ کر رہا تھا


    جبکہ ام سلمہ تو حسین کی شہادت سے پہلے وفات پا چکی ہیں

    تاریخ دمشق ابن عساکر کی روایت ہے

    أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الباقي أنا أبو محمد الحسن بن علي أنا أبو عمر محمد بن العباس أنا أبو الحسن أحمد بن معروف أنا الحسين بن الفهم أنا محمد بن سعد أنا محمد بن عبد الله الأنصاري نا قرة بن خالد أخبرني عامر بن عبد الواحد عن شهر بن حوشب قال أنا لعند أم سلمة زوج النبي (صلى الله عليه وسلم) قال فسمعنا صارخة فأقبلت حتى انتهيت إلى أم سلمة فقالت قتل الحسين قالت قد فعلوها ملأ الله بيوتهم أو قبورهم عليهم نارا ووقعت مغشيا عليها وقمنا


    شہر بن حوشب سے روایت ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ام سلمہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کے پاس موجود تھا۔ میں نے حسین کی شہادت کی خبر سنی تو ام سلمہ کو بتایا ۔(کہ سیدنا حسینؓ شہید ہوگئے ہیں) انہوں نے فرمایا: ان لوگوں نے یہ کام کردیاہے، اللہ ان کے گھروں یا قبروں کو آگ سے بھر دے ۔ اور وہ (غم کی شدت سے ) بیہوش ہوگئی


    سند میں شہر بن حوشب ہے اس پر بحث آ رہی ہے

    تاریخ دمشق ابن عساکر کی روایت ہے

    أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الباقي أنا أبو محمد الحسن بن علي إملاء ح

    وأخبرنا أبو نصر بن رضوان وأبو غالب أحمد بن الحسن وأبو محمد عبد الله بن محمد قالوا أنا أبو محمد الحسن بن علي أنا أبو بكر بن مالك أنا إبراهيم بن عبد الله نا حجاج نا حماد عن أبان عن شهر بن حوشب عن أم سلمة قالت كان جبريل عند النبي (صلى الله عليه وسلم) والحسين معي فبكى فتركته فدنا من النبي (صلى الله عليه وسلم) فقال جبريل أتحبه يا محمد فقال نعم قال جبرائيل إن أمتك ستقتله وإن شئت أريتك من تربة الأرض التي يقتل بها فأراه إياه فإذا الأرض يقال لها كربلا


    شہر بن حوشب کہتا ہے کہ ام سلمة رضی الله عنہا نے فرمایا کہ جبریل علیہ السلام نبی صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئے اور حسین ان کے ساتھ تھے پس وہ روئے…جبریل نے بتایا کہ اپ کی امت اس بچے کو قتل کرے گی اور اپ چاہیں تو میں وہ مٹی بھی دکھا دوں جس پر قتل ہونگے پس اپ صلی الله علیہ وسلم کو زمین دکھائی اور اپ نے اس کو كربلا کہا


    ان دونوں روایات میں کی سند میں شہر بن حوشب ہے

    النَّسَائِيُّ کہتے ہیں : لَيْسَ بِالقَوِيِّ، قوی نہیں .

    ابْنُ عَدِيٍّ کہتے ہیں: لاَ يُحْتَجُّ بِهِ، وَلاَ يُتَدَيَّنُ بِحَدِيْثِهِ اس کی حدیث ناقابل دلیل ہے.

    أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ کہتے ہیں: وَلاَ يُحْتَجُّ بِهِ، اس کی حدیث نا قابل دلیل ہے .

    يَحْيَى بنِ مَعِيْنٍ: ثِقَةٌ کہتے ہیں.

    عَبْدِ اللهِ بنِ عَوْنٍ، قَالَ: إِنَّ شَهْراً تَرَكُوْهُ اس کو متروک کہتے ہیں

    الذھبی کہتے ہیں اس کی حدیث حسن ہے اگر متن صحیح ہو اور اگر متن صحیح نہ ہو تو اس سے دور رہا جائے کیونکہ یہ ایک احمق مغرور تھا

    الذھبی کتاب سير أعلام النبلاء میں اس پر لکھتے ہیں

    قُلْتُ: مَنْ فَعَلَهُ لِيُعِزَّ الدِّيْنَ، وَيُرْغِمَ المُنَافِقِيْنَ، وَيَتَوَاضَعَ مَعَ ذَلِكَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ، وَيَحْمَدَ رَبَّ العَالِمِيْنَ، فَحَسَنٌ، وَمَنْ فَعَلَهُ بَذْخاً وَتِيْهاً وَفَخْراً، أَذَلَّهُ اللهُ وَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَإِنْ عُوْتِبَ وَوُعِظِ، فَكَابَرَ، وَادَّعَى أَنَّهُ لَيْسَ بِمُخْتَالٍ وَلاَ تَيَّاهٍ، فَأَعْرِضْ عَنْهُ، فَإِنَّهُ أَحْمَقٌ مَغْرُوْرٌ بِنَفْسِهِ.


    اس سے سنن اربعا اور مسلم نے مقرونا روایت لی ہے

    کتاب رجال صحیح مسلم از ابن مَنْجُويَه (المتوفى: 428هـ) کے مطابق

    مسلم نے صرف ایک روایت کہ کھمبی ، من میں سے ہے لی ہے

    تاریخ دمشق ابن عساکر کی ایک اور روایت ہے

    أخبرنا أبو بكر محمد بن الحسين نا أبو الحسين بن المهتدي أنا أبو الحسن علي بن عمر الحربي نا أحمد بن الحسن بن عبد الجبار نا عبد الرحمن يعني ابن صالح الأزدي نا أبو بكر بن عياش عن موسى بن عقبة عن داود قال قالت أم سلمة دخل الحسين على رسول الله (صلى الله عليه وسلم) ففزع فقالت أم سلمة ما لك يا رسول الله قال إن جبريل أخبرني أن ابني هذا يقتل وأنه اشتد غضب الله على من يقتله


    ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حسین بن علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) موجود تھے اورآپ رو رہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے جبریل (علیہ السلام) نے بتایا کہ میری امت اسے میرے بعد قتل کرے گی


    اس کی سند میں موسى بن عقبة ہے جو ثقہ ہیں لیکن مدلس. داود مجھول ہے جس سے یہ روایت نقل کر رہے ہیں

    معجم الکبیر طبرانی کی روایت ہے

    حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَنْطَبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا ذَاتَ يَوْمٍ فِي بَيْتِي، فَقَالَ: «لَا يَدْخُلْ عَلَيَّ أَحَدٌ» . فَانْتَظَرْتُ فَدَخَلَ الْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَسَمِعْتُ نَشِيجَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكِي، فَاطَّلَعْتُ فَإِذَا حُسَيْنٌ فِي حِجْرِهِ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ جَبِينَهُ وَهُوَ يَبْكِي، فَقُلْتُ: وَاللهِ مَا عَلِمْتُ حِينَ دَخَلَ، فَقَالَ: ” إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ مَعَنَا فِي الْبَيْتِ، فَقَالَ: تُحِبُّهُ؟ قُلْتُ: أَمَّا مِنَ الدُّنْيَا فَنَعَمْ. قَالَ: إِنَّ أُمَّتَكَ سَتَقْتُلُ هَذَا بِأَرْضٍ يُقَالُ لَهَا كَرْبَلَاءُ “. فَتَنَاوَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنْ تُرْبَتِهَا، فَأَرَاهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أُحِيطَ بِحُسَينٍ حِينَ قُتِلَ، قَالَ: مَا اسْمُ هَذِهِ الْأَرْضِ؟ قَالُوا: كَرْبَلَاءُ. قَالَ: صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ، أَرْضُ كَرْبٍ وَبَلَاءٍ


    جبریل نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو کربلا کی مٹی دکھائی اور اس کو کرب و بلا کی زمیں کہا


    اس کی سند میں عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَنْطَب ہے جو مجھول ہے

    طبرانی الکبیر میں قول ہے

    حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ خُثَيْمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ الضَّبِّيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: لَوْ كُنْتُ فِيمَنْ قَتَلَ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ، ثُمَّ غُفِرَ لِي، ثُمَّ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ، اسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَمُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَنْظُرَ فِي وَجْهِي


    ابراہیم بن یزید النخعی نے فرمایا:اگر میں ان لوگوں میں ہوتا جنہوں نے حسین بن علی کو قتل (شہید) کیا، پھر میری مغفرت کردی جاتی ، پھر میں جنت میں داخل ہوتا تو میں نبی صلی الله علیہ وسلم کے پاس گزرنے سے شرم کرتا کہ کہیں آپ میری طرف دیکھ نہ لیں۔


    اس کی سند میں مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ الضَّبِّيِّ ہے – الأزدي اس کو منكر الحديث کہتے ہیں ابن حجر صدوق کہتے ہیں

    اسکی سند میں سعيد بن خثيم بن رشد الهلالى ہے جس ابن حجر ، صدوق رمى بالتشيع له أغاليط شیعیت میں مبتلا اور غلطیوں سے پر ہے ، کہتے ہیں

    مشخیۃ ابراہیم بن طہمان کی روایت ہے

    عَنْ عَبَّادِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتِيَ فَقَالَ: «لَا يَدْخُلُ عَلَيَّ أَحَدٌ فَسَمِعْتُ صَوْتًا، فَدَخَلْتُ، فَإِذَا عِنْدَهُ حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ وَإِذَا هُوَ حَزِينٌ، أَوْ قَالَتْ: يَبْكِي، فَقُلْتُ: مَا لَكَ تَبْكِي يَا رَسُولَ ؟ قَالَ: أَخْبَرَنِي جِبْرِيلُ أَنَّ أُمَّتِي تَقْتُلُ هَذَا بَعْدِي فَقُلْتُ وَمَنْ يَقْتُلُهُ؟ فَتَنَاوَلَ مَدَرَةً، فَقَالَ:» أَهْلُ هَذِهِ الْمَدَرَةِ تَقْتُلُهُ “


    ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پاس حسین بن علی موجود تھے اورآپ رو رہے تھے ۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے جبریل نے بتایا کہ میری امت اسے میرے بعد قتل کرے گی


    سند میں عَبد الرحمن بن إسحاق ہے جس کے لئے کتاب الكامل في ضعفاء الرجال کے ابن عدی مطابق

    يَحْيى بن سَعِيد، قالَ: سَألتُ عن عَبد الرحمن بن إسحاق بالمدينة فلم أرهم يحمدونه.

    یحیی بن سعید کہتے ہیں عبد الرحمان بن اسحاق کے بارے میں اہل مدینہ سے سوال کیا لیکن ایسا کوئی نہ تھا جو اس کی تعریف کرے

    سند میں ہاشم بن ہاشم مجھول ہے

    ام سلمہ رضی الله عنہا کی اوپر دی گئی تمام احادیث ضعیف ہیں کیونکہ ان کی وفات حسین کی شہادت سے پہلے ہو گئی تھی

    ترمذی روایت کرتے ہیں

    حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ قَالَ: حَدَّثَنَا رَزِينٌ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي سَلْمَى، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ، وَهِيَ تَبْكِي، فَقُلْتُ: مَا يُبْكِيكِ؟ قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَعْنِي فِي المَنَامِ، وَعَلَى رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ التُّرَابُ، فَقُلْتُ: مَا لَكَ يَا رَسُولَ ، قَالَ: “شَهِدْتُ قَتْلَ الحُسَيْنِ آنِفًا” هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
    سلمی سے روایت ہے کہ میں نے ام المومنین ام سلمہ رضی الله تعالی عنہا سے رونے کا سبب پوچھا اور کہا : کس شے نے آپ کو گریہ وزاری میں مبتلا کر دیا ہے؟ آپ نے کہا : میں نے خواب میں نبی صلی الله علیہ وسلم کی زیارت کی ہے . کا سر اور ریش مبارک گرد آلود تھی.میں نے عرض کی ، یارسول ،آپ کی کیسی حالت بنی ہوئی ہے ؟ رسول الله نے فرمایا: میں نے ابھی ابھی حسین کو شہید ہوتے ہوئے دیکھا ہے


    ترمذی اور مستدرک الحاکم میں یہ روایت نقل ہوئی ہے

    اس کی سند میں سَلْمَى الْبَكْرِيَّةِ ہیں

    تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي میں مبارکپوری لکھتے ہیں

    هَذَا الْحَدِيثُ ضَعِيفٌ لِجَهَالَةِ سَلْمَى


    سَلْمَى کے مجھول ہونے کی وجہ سے یہ حدیث ضعیف ہے


    کتاب مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح کے مطابق

    وَمَاتَتْ أُمُّ سَلَمَةَ سَنَةَ تِسْعٍ وَخَمْسِينَ

    اور ام سلمہ کی وفات ٥٩ ھ میں ہوئی


    تاریخ کے مطابق حسین کی شہادت سن ٦١ ہجری میں ہوئی

    ام سلمہ خواب میں دیکھتی ہیں یا جن بتاتا ہے- کتنے راوی ان کی حالت نیند میں ان کے پاس ہی بیٹھے ہیں! ام المومنین پر جھوٹ بولنے والوں پر الله کی مار

    ام المومنین کی خواب گاہ میں یہ منحوس داخل کیسے ہوئے؟

    قارئین آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ تمام روایات ضعیف ہیں – اسناد دین ہیں لہذا محدثین کی جرح کو قبول کرنا چاہیے -نہ کہ محبوب راویوں کو بچانے کے چکر میں تاریخ کو ہی مسخ کر دیا جائے

    عیسائی عقیدہ رکھتے ہیں کہ عیسیٰ انسانیت کے گناہوں کی وجہ سے جان بوجھ کر سولی چڑھا کچھ اسی نوعیت کا عقیدہ ان راویوں نے بھی پیش کیا ہے کہ حسین کو خبر تھی وہ کوفہ میں قتل ہونگے اور وہ خود وہاں چل کر گئے- ظاہر ہے اسلام میں خودکشی حرام ہے اور اس بات کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے ان کی کربلا میں شہادت کی خبر دے دی تھی اور وہ اس کو جانتے ہوئے بھی وہاں گئے

    بلکہ ان سب خبروں کے باوجود علی نے مدینہ چھوڑ کر کربلا کے پاس جا کر اپنا دار الخلافہ بنایا

    سوچیں اور سبائی سوچ سےنکلیں

    الله حسین پر اور ان کی ال پر رحم کرے






     
  2. ‏اکتوبر 07، 2015 #2
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436



    طبقات ابن سعد کے مطابق ام سلمہ رضی الله عنہا کی وفات ٥٩ ھ ہے

    طبقات ابن سعد ” 4 / 340، 341


    ابو ہریرہ رضی الله عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی جو خود حسین سے پہلے انتقال کر گئے


    ابن الأثير

    (المتوفى: 630هـ)

    .أسد الغابة في معرفة الصحابة میں کہتے ہیں

    کہ ایک قول کے مطابق

    إنها توفيت في شهر رمضان أو شوال سنة تسع وخمسين، وصلى عليها أبو هريرة


    ان کی وفات رمضان یا شوال میں ٥٩ ھ میں ہوئی ابو ہریرہ نے نماز پڑھائی


    ابن حبان ثقات میں کہتے ہیں

    وَمَاتَتْ أم سَلمَة سنة تسع وَخمسين

    ام سلمہ ٥٩ ھ میں وفات ہوئی


    الباجی کہتے ہیں کتاب التعديل والتجريح , لمن خرج له البخاري في الجامع الصحيح

    توفيت فِي شَوَّال سنة تسع وَخمسين فصلى عَلَيْهَا أَبُو هُرَيْرَة

    یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے وصیت کی کہ سعيد بن زيدان کی نماز جنازہ پڑھائیں

    اس کے لئے نووی : تهذيب الأسماء واللغات میں لکھتے ہیں

    وهذا مشكل، فإن سعيد بن زيد، رضى الله عنه، مات سنة إحدى وخمسين، وأم سلمة ماتت سنة تسع وخمسين كما تقدم


    یہ مشکل ہے کیونکہ سعید بن زید سن ٥١ ھ میں انتقال کر گئے تھے اور ام سلمہ کا انتقال ٥٩ ھ میں ہوا جیسا کہ گزرا ہے


    لوگوں نے جب دیکھا کہ یہ حسین والی روایات جھوٹی ثابت ہوں گی تو موقف تبدیل کیا اور کہنا شروع کیا کہ ام سلمہ ٥٩ ھ میں فوت نہیں ہو سکتیں دلیل میں صحیح مسلم کی ایک معلول روایت پیش کی

    صحیح مسلم، بَابُ الْخَسْفِ بِالْجَيْشِ الَّذِي يَؤُمُّ الْبَيْتَ کی روایت ہے

    حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ – وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا – جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ، قَالَ: دَخَلَ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ صَفْوَانَ وَأَنَا مَعَهُمَا، عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، فَسَأَلَاهَا عَنِ الْجَيْشِ الَّذِي يُخْسَفُ بِهِ، وَكَانَ ذَلِكَ فِي أَيَّامِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَعُوذُ عَائِذٌ بِالْبَيْتِ، فَيُبْعَثُ إِلَيْهِ بَعْثٌ، فَإِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ خُسِفَ بِهِمْ» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ فَكَيْفَ بِمَنْ كَانَ كَارِهًا؟ قَالَ: «يُخْسَفُ بِهِ مَعَهُمْ، وَلَكِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى نِيَّتِهِ» وَقَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: هِيَ بَيْدَاءُ الْمَدِينَةِ، حَدَّثَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِهِ: قَالَ فَلَقِيتُ أَبَا جَعْفَرٍ، فَقُلْتُ: إِنَّهَا إِنَّمَا قَالَتْ: بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ، فَقَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: كَلَّا، وَاللهِ إِنَّهَا لَبَيْدَاءُ الْمَدِينَةِ

    قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، جریر، عبدالعزیز بن رفیع سے روایت ہے کہ میں حارث بن ابی ربیعہ اور عبد اللہ بن صفوان کے ہمراہ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان دونوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے اس لشکر کے بارے میں سوال کیا جسے ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دوران دھنسایا گیا تھا، تو سیدہؓ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک پناہ لینے والا بیت اللہ کی پناہ لے گا، پھر اس کی طرف لشکر بھیجا جائے گا، وہ جب ہموار زمین میں پہنچے گا تو انہیں دھنسا دیا جائے گا، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! جس کو زبرد ستی اس لشکر میں شامل کیا گیا ہو اس کا کیا حکم ہے؟ آپؐ نے فرمایا: اُسے بھی ان کے ساتھ دھنسا دیا جائے گا، لیکن قیامت کے دن اسے اس کی نیت پر اٹھایا جائے گا، ابوجعفر نے کہا بیداء سے مدینہ مراد ہے۔


    اب دھوکہ دیکھیں روایت میں ہے کہ ام سلمہ ابن زبیر کی خلافت تک زندہ تھیں اور یہ کہتے ہیں ٦١ ھ میں وفات ہوئی

    ابن زبیر کی خلافت ٦٤ ھ سے شروع ہوتی ہے

    یزید کی وفات کے بعد جب مروان خلیفہ بنتا ہے اور ابن زبیر خروج کرتے ہیں

    پھر اس مسلم کی روایت کی علت دیکھیں ابن زبیر کے دور میں ایک لشکر بھی دھنسا دیا ہے جو تاریخ سے ثابت نہیں کوئی نقل نہیں کرتا کہ اتنا بڑا کوئی واقعہ بھی ہوا تھا

     
  3. ‏اکتوبر 07، 2015 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,361
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    عجیب اوٹ پٹانگ ترجمہ ہے۔۔پتا نہیں کس جاہل نے یہ ’’ گل کھلائے ‘‘ ہیں ۔اور انہیں کاپی پیسٹ کردیا گیا ہے۔
    خیر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ستبدي لك الأيام ما كنت جاهلاً
     
  4. ‏اکتوبر 08، 2015 #4
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    میرے بھائی پلیز آپ صحیح ترجمہ کر دیں -
     
  5. ‏اکتوبر 08، 2015 #5
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    باب: بیت اللہ کے ڈھانے کا ارادہ کرنے والے لشکر کے دھنسائے جانے کا بیان

    قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، جریر، عبدالعزیز بن رفیع سے روایت ہے کہ میں حارث بن ابی ربیعہ اور عبد اللہ بن صفوان کے ہمراہ ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان دونوں نے سیدہؓ سے اس لشکر کے بارے میں سوال کیا جسے حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دوران دھنسایا گیا تھا، تو سیدہؓ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک پناہ لینے والا بیت اللہ کی پناہ لے گا، پھر اس کی طرف لشکر بھیجا جائے گا، وہ جب ہموار زمین میں پہنچے گا تو انہیں دھنسا دیا جائے گا، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! جس کو زبرد ستی اس لشکر میں شامل کیا گیا ہو اس کا کیا حکم ہے؟ آپؐ نے فرمایا: اُسے بھی ان کے ساتھ دھنسا دیا جائے گا، لیکن قیامت کے دن اسے اس کی نیت پر اٹھایا جائے گا، ابوجعفر نے کہا بیداء سے مدینہ مراد ہے۔


    صحیح مسلم۔ جلد:۳/ تیسرا پارہ/ حدیث نمبر:۷۲۲۱/ حدیث مرفوع

    احمد بن یونس، زہیر، عبدالعزیز بن رفیع، اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے، اس میں راوی کہتے ہیں کہ میں ابوجعفر سے ملا تو میں نے کہا سیدہؓ نے تو زمین کا ایک میدان کہا، تو ابوجعفر نے کہا: ہرگز نہیں! اللہ کی قسم وہ میدان مدینہ منورہ کا ہے۔


    صحیح مسلم۔ جلد:۳/ تیسرا پارہ/ حدیث نمبر:۷۲۲۲/ حدیث مرفوع

    عمرو ناقد، ابن ابی عمرو، سفیان بن عیینہ، امیہ بن صفوان، عبد اللہ بن صفوان، ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، آپؐ نے فرمایا: اِس گھر والوں سے لڑنے کے ارادہ سے ایک لشکر چڑھائی کرے گا، یہاں تک کہ جب وہ زمین کے ہموار میدان میں ہوں گے تو ان کے درمیانی لشکر کو دھنسا دیا جائے گا اور ان کے آگے والے پیچھے والوں کو پکاریں گے پھر انہیں بھی دھنسا دیا جائے گا اور سوائے ایک آدمی کے جو بھاگ کر ان کے بارے میں اطلاع دے گا کوئی بھی باقی نہ رہے گا، ایک آدمی نے کہا میں گواہی دیتا ہوں تمہاری اس بات پر کہ تم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا پر جھوٹ نہیں باندھا اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا پر بھی میں گواہی دیتا ہوں کہ انہوں نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ نہیں باندھا۔


    صحیح مسلم۔ جلد:۳/ تیسرا پارہ/ حدیث نمبر:۷۲۲۳/ حدیث مرفوع

    محمد بن حاتم بن میمون، ولید بن صالح، عبید اللہ بن عمرو، زید بن ابی انیسہ، عبدالملک عامری، یوسف بن ماہک، عبد اللہ بن صفوان، ام المومنین رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایک قوم اس گھر یعنی خانہ کعبہ کی پناہ لے گی، جن کے پاس کوئی رکاوٹ نہ ہوگی، نہ آدمیوں کی تعداد ہوگی اور نہ ہی سامان ہوگا، ان کی طرف ایک لشکر بھیجا جائے گا، جب وہ زمین کے ایک ہموار میدان میں ہوں گے تو انہیں دھنسا دیا جائے گا، یوسف نے کہا شام والے اُن دنوں مکہ والوں سے لڑنے کے لئے روانہ ہو چکے تھے، عبد اللہ بن صفوان نے کہا اللہ کی قسم وہ لشکر یہ نہیں، زید نے اس حدیث کی یہ سند بھی بیان کی: عبد الملک عامری، عبد الرحمٰن بن سابط، حارث بن ابو ربیعہ، حضرت ام المؤمنینؓ، اس سے سند سے بھی یوسف بن ماہک کی طرح حدیث مروی ہے، البتہ اس روایت میں اس لشکر کا ذکر نہیں کیا جس کا ذکر عبداللہ بن صفوان نے کیا۔


    صحیح مسلم۔ جلد:۳/ تیسرا پارہ/ حدیث نمبر:۷۲۲۴/ حدیث مرفوع

    ابوبکر بن ابی شیبہ، یونس بن محمد، قاسم بن فضل حدّانی، محمد بن زیاد، حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیند میں اپنے ہاتھ پاؤں کو ہلایا تو ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! آپؐ نے اپنی نیند میں وہ عمل کیا جو پہلے نہ کرتے تھے؟ تو آپؐ نے فرمایا تعجب ہے! کہ میری امت کے کچھ لوگ بیت اللہ کا ارادہ کریں گے، قریش کے ایک آدمی کو پکڑنے کے لئے جس نے بیت اللہ میں پناہ لی ہوگی، یہاں تک کہ جب وہ ایک ہموار میدان میں پہنچیں گے تو انہیں دھنسا دیا جائے گا، ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! راستے میں تو سب لوگ جمع ہوتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! ان میں بااختیار، مجبور اور مسافر بھی ہوں گے جو ایک ہی دفعہ ہلاک ہو جائیں گے اور مختلف طریقوں سے نکلیں گے اور انہیں ان کی نیتوں پر اٹھایا جائے گا۔


    صحیح مسلم۔ جلد:۳/ تیسرا پارہ/ حدیث نمبر:۷۲۲۵/ حدیث مرفوع
     
  6. ‏اکتوبر 08، 2015 #6
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    ام سلمہ رضی الله عنہا کی وفات

    المعارف از ابن قتیبہ کے مطابق

    وتوفيت «أم سلمة» سنة تسع وخمسين، بعد «عائشة» بسنة وأيام.


    ام سلمہ کی وفات سن ٥٩ ھ میں عائشہ کے ایک سال بعد یا کچھ دن بعد وفات ہوئی


    کتاب تلقيح فهوم أهل الأثر في عيون التاريخ والسير از ابن جوزی کے مطابق

    فَتزَوج رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم أم سَلمَة فِي لَيَال بَقينَ من شَوَّال سنة أَربع وَتوفيت سنة تسع وَخمسين وَقيل سنة ثِنْتَيْنِ وَسِتِّينَ وَالْأول أصح


    پس رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا سن 4 ھ میں شوال میں کچھ راتیں کم اور ام سلمہ کی وفات سن ٥٩ ھ میں ہوئی اور کہا جاتا ہے سن ٦٢ ھ میں اور پہلا قول
    صحیح ہے

    کتاب جمل من أنساب الأشراف از أحمد بن يحيى بن جابر بن داود البَلَاذُري (المتوفى: 279هـ) کے مطابق

    وتوفيت أم سلمة فِي شوال سنة تسع وخمسين، ودفنت بالبقيع


    ام سلمہ کی وفات شوال ٥٩ ھ میں ہوئی اور بقیع میں دفن ہوئیں


    ابن قتیبہ واقدی اور البَلَاذُري کے لئے کہا جاتا ہے کہ ان کا میلان شیعیت کی طرف تھا حسن اتفاق ہے ان سب کا ام سلمہ کی وفات پر اجماع ہے کہ وہ ٥٩ ھ میں حسین سے پہلے وفات پا چکی ہیں

    طبقات ابن سعد کے مطابق ام سلمہ رضی الله عنہا کی وفات ٥٩ ھ ہے


    طبقات ابن سعد ” 4 / 340، 341

    ابو ہریرہ رضی الله عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی جو خود حسین سے پہلے انتقال کر گئے


    ابن حبان ثقات میں کہتے ہیں

    وَمَاتَتْ أم سَلمَة سنة تسع وَخمسين


    ام سلمہ ٥٩ ھ میں وفات ہوئی


    الباجی کہتے ہیں کتاب التعديل والتجريح , لمن خرج له البخاري في الجامع الصحيح

    توفيت فِي شَوَّال سنة تسع وَخمسين فصلى عَلَيْهَا أَبُو هُرَيْرَ


    ان کی وفات شوال سن ٥٩ ھ میں ہوئی ابو ہریرہ نے نماز پڑھائی


    الذھبی تاریخ الاسلام میں لکھتے ہیں

    وَقَالَ بَعْضُهُمْ: تُوُفِّيَتْ سَنَةَ تِسْعٍ وَخَمْسِينَ، وَهُوَ غَلَطٌ، لِأَنَّ فِي «صَحِيحِ مُسْلِمٍ» أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ صَفْوَانَ دَخَلَ عَلَيْهَا فِي خِلافَةِ يَزِيدَ


    اور بعض نے کہا ان کی وفات سن ٥٩ ھ میں ہوئی اور یہ غلط ہے کیونکہ صحیح مسلم میں ہے کہ عبد الله بن صفوان ان کے پاس داخل ہوا یزید کی خلافت کے دور میں


    اسی کتاب میں [حَوَادِثُ] سَنَة تسع وخمسين میں الذھبی لکھتے ہیں

    وَيُقَالُ: توفيت فِيهَا أم سلمة، وتأتي سَنَة إحدى وستين

    اور کہا جاتا ہے کہ اس میں ام سلمہ کی وفات ہوئی اور آگے آئے گا کہ سن ٦١ ھ میں ہوئی

    یہ الذھبی کی غلطی ہے صحیح مسلم کی معلول روایت میں ہے کہ راویوں نے ان سے ابن زبیر کے دور میں پوچھا جو ٦٤ ھ سے شروع ہوتا ہے

    ابن اثیر الکامل میں لکھتے ہیں

    وَمَاتَتْ سَنَةَ تِسْعٍ وَخَمْسِينَ، وَقِيلَ: بَعْدَ قَتْلِ الْحُسَيْنِ – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ


    اور ام سلمہ کی وفات سن ٥٩ ھ میں ہوئی اور کہا جاتا ہے حسین کے قتل کے بعد ہوئی


    ابن کثیر البداية والنهاية میں لکھتے ہیں

    وَمَاتَتْ أُمُّ سَلَمَةَ فِي ذِي الْقِعْدَةِ سَنَةَ تِسْعٍ وَخَمْسِينَ رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ


    البیہقی نے روایت کیا ہے کہ ام سلمہ کی وفات ذیقعدہ سن ٥٩ ھ میں ہوئی


    اسی کتاب میں ابن کثیر لکھتے ہیں

    قَالَ الْوَاقِدِيُّ: تُوُفِّيَتْ سَنَةَ تِسْعٍ وَخَمْسِينَ وَصَلَّى عَلَيْهَا أَبُو هُرَيْرَةَ.
    وَقَالَ ابْنُ أَبِي خَيْثَمَةَ: تُوُفِّيَتْ فِي أيَّام يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ.
    قُلْتُ: وَالْأَحَادِيثُ الْمُتَقَدِّمَةُ فِي مَقْتَلِ الْحُسَيْنِ تَدُلُّ عَلَى أَنَّهَا عَاشَتْ إِلَى مَا بَعْدَ مَقْتَلِهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ.


    واقدی کہتا ہے ام سلمہ کی وفات سن ٥٩ ھ میں ہوئی ابو ہریرہ نے نماز پڑھائی
    ابن ابی خیثمہ کہتا ہے ان کی وفات یزید کے دور میں ہوئی
    میں کہتا ہوں اور شروع کی احادیث جو مقتل حسین کے بارے میں ہیں ان سے دلالت ہوتی ہے کہ یہ ان کے قتل کے بعد بھی زندہ رہیں


    قارئین آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ام سلمہ کی وفات کے حوالے سے موقف ان روایات کو صحیح ثابت کرنے کے لئے بدلا گیا جبکہ یہ خود تاریخ کے مطابق غلط ہیں
     
  7. ‏اکتوبر 08، 2015 #7
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436


    @اسحاق سلفی بھائی یہ ترجمہ یہاں سے لیا گیا ہے

    لنک

    http://anwar-e-islam.org/node/30678#.VhYhBfmqpBd
     
  8. ‏اکتوبر 10، 2015 #8
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    کہاں غائب ہیں بھائی آپ - صحیح ترجمہ کا انتظار ہے آپ کی طرف سے
     
  9. ‏اکتوبر 10، 2015 #9
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    858
    موصول شکریہ جات:
    240
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    اس روایت کے بارے میں کیا حکم ہے

    اہل علم جواب دیں

    جزاک اللہ خیر

    12108707_151623785186992_7014031813769207868_n.jpg
     
  10. ‏اکتوبر 12، 2015 #10
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    معرفة الصحابة از ابو نعیم کی روایت ہے

    حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَسَّانَ، ثنا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَن أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «اسْتَأْذَنَ مَلَكُ الْقَطْرِ أَنْ يَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُذِنَ لَهُ فَقَالَ لِأُمِّ سَلَمَةَ» احْفَظِي عَلَيْنَا الْبَابَ، لَا يَدْخُلَنَّ أَحَدٌ ” قَالَ: فَجَاءَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، فَوَثَبَ حَتَّى دَخَلَ، فَجَعَلَ يَقْعُدُ عَلَى مَنْكِبَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ الْمَلَكُ: أَتُحِبُّهُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ» قَالَ: فَإِنَّ فِي أُمَّتِكَ مَنْ يَقْتُلُهُ، وَإِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ الْمَكَانَ الَّذِي يُقْتَلُ فِيهِ، قَالَ: فَضَرَبَ بِيَدِهِ، فَأَرَاهُ تُرَابًا أَحْمَرَ، فَأَخَذَتْهُ أُمُّ سَلَمَةَ، فَصَرَّتْهُ فِي طَرَفِ ثَوْبِهَا، قَالَ: كُنَّا نَسْمَعُ أَنَّهُ يُقْتَلُ بِكَرْبَلَاءَ


    عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ کہتا ہے ہم سے ثابت نے بیان کیا وہ کہتے ہیں ان سے انس بن مالک رضی الله عنہ نے بیان کیا کہ بارش کے فرشتے نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس انے کی اجازت مانگی پس اس کو اجازت دی اس نے ام سلمہ سے کہا کہ دروازہ کی حفاظت کریں کہ کوئی داخل نہ ہو پس حسین آ گئے اور اندر داخل ہوئے اور رسول الله کے شانے پر بیٹھ بھی گئے تو فرشتہ بولا کیا آپ ان سے محبت کرتے ہیں رسول الله نے کہا ہاں فرشتہ بولا اپ کی امت میں سے کچھ اس کا قتل کر دیں گے اور اگر آپ چاہیں تو اس مکان کو دکھا دوں جہاں یہ قتل ہونگے اس نے ہاتھ پر ضرب لگائی اور سرخ مٹی آپ نے دیکھی جس کو ام سلمہ نے سمیٹ کر اپنے کپڑے میں رکھا کہا ہم سنتے تھے کہ یہ کربلا میں قتل ہونگے


    سند میں عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ ہے جس کو محدثین ضعیف کہتے ہیں الذھبی میزان میں لکھتے ہیں

    قال البخاري: ربما يضطرب في حديثه.
    وقال أحمد: له مناكير.
    وقال أبو حاتم: يكتب حديثه ولا يحتج به.
    وقال الدارقطني: ضعيف.
    وقال أبو داود: ليس بذاك.
    وقال أبو زرعة: لا بأس به.


    البانی نے بھی اس کی روایت کو ضعیف کہا ہے مثلا ایک دوسری روایت پر الصحیحہ ج 5 ص ١٦٦ میں لکھتے ہیں

    قلت: وهذا إسناد ضعيف
    ، عمارة بن زاذان صدوق سيء الحفظ


    میں کہتا ہوں اس کی اسناد ضعیف ہیں اس میں عمارة بن زاذان ہے جو صدوق برے حافظہ والا ہے


    اس مخصوص کربلا والی روایت کو البانی الصحیحہ میں ذکر کرتے ہیں

    قلت: ورجاله ثقات غير عمارة هذا قال الحافظ: ” صدوق كثير الخطأ “. وقال
    الهيثمي: ” رواه أحمد وأبو يعلى والبزار والطبراني بأسانيد وفيها عمارة بن
    زاذان وثقه جماعة وفيه ضعف وبقية رجال أبي يعلى رجال الصحيح “.


    میں کہتا ہوں اس کے رجال ثقہ ہیں سوائے عمارہ کے ابن حجر کہتے ہیں صدوق ہے غلطیاں کرتاہے اور ہیثمی کہتے ہیں اس کو امام احمد ابو یعلی البزار اور الطبرانی نے جن اسانید سے روایت کیا ہے ان میں عمارہ ہے جن کو ایک جماعت نے ثقہ کہا ہے اور اس میں کمزوری ہے اور باقی رجال ابی یعلی کے رجال ہیں


    البانی مبہم انداز میں اس کو رد کر رہے ہیں لیکن التعليقات الحسان على صحيح ابن حبان وتمييز سقيمه من صحيحه، وشاذه من محفوظه میں کھل کراس روایت کی تعلیق میں لکھتے ہیں

    صحيح لغيره


    جبکہ دوسری تمام روایات کا ضعیف ہونا اوپر واضح کیا گیا ہے لہذا یہ صحیح الغیرہ نہیں ضعیف ہے




    قارئین آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ تمام روایات ضعیف ہیں – اسناد دین ہیں لہذا محدثین کی جرح کو قبول کرنا چاہیے -نہ کہ محبوب راویوں کو بچانے کے چکر میں تاریخ کو ہی مسخ کر دیا جائے
     
لوڈ کرتے ہوئے...
موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں