1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صرف اللہ وارث

'توحید وشرک' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارسلان, ‏جون 18، 2013۔

  1. ‏جولائی 17، 2013 #21
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    بلاشک و شبہ آپ نے سچ کہا۔ اس میں کسی کو اختلاف ہو تو اپنے دین کی تجدید کو لازم پکڑے۔

    مجازی وارث بھی ہوئے آپ نے بالکل ٹھیک کہا۔

    یہ بھی آپ نے بالکل ٹھیک کہا۔

    اگر آپ غور کریں تو

    بعد میں آنے والا پہلے کا وارث ہوا۔ جیسا کہ آپ نے
    والد (داوٗد علیہ السلام) کا ذکر کیا اور بیٹے (سلیمان علیہ السلام) کو وارث بتایا۔

    اسی طرح آپ نے
    والد (زکریا علیہ السلام) کا ذکر کیا اور بیٹے (یحیی علیہ السلام) کو وارث بتایا۔

    آپ کی پیش کردہ دلیلوں سے بعد میں آنے والا تو وارث ثابت ہوتا ہےة جسے قبر میں دفنا دیا جائے اس کے لواحقین جو پیچھے رہ جاتے ہیں وہ اپنی مدت حیات تک اس کے وارث ہوتے ہیں۔

    اختلاف یہ ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ جنہیں شہید کر دیا گیا وہ آج کے لوگوں کے وارث کیسے ہوئے؟

    اللہ نے قرآن میں اپنے لئے ہی ہر چیز کی میراث کا جو ذکر کیا ہے تو اس لئے کہ
    ہُوَالْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاہِرُ وَالْبَاطِنُ۝۰ۚ وَہُوَبِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ (سورۃ الحدید:3)
    وہی (اللہ سب سے) اوّل اور (سب سے) آخر ہے اور (اپنی قدرت کے اعتبار سے) ظاہر اور (اپنی ذات کے اعتبار سے) پوشیدہ ہے، اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

    امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اندر مذکورہ بالا صفات (الٰہیہ) ہیں ؟
    اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے تو پھر آپ اپنے دعوی وراثت میں سچے ہیں
    اگر نہیں
    تو مقام غور ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏جولائی 18، 2013 #22
    ام کشف

    ام کشف رکن
    جگہ:
    islamabad
    شمولیت:
    ‏فروری 09، 2013
    پیغامات:
    124
    موصول شکریہ جات:
    382
    تمغے کے پوائنٹ:
    53

    ان سب کا آپس میں کیا رشتہ تھا۔
     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  3. ‏جولائی 18، 2013 #23
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    جن ''بندوں'' کا آپ ذکر کر رہے ہیں کیا وہ قبر میں دفن ہونے کے بعد بھی وارث ہوں گے؟؟؟؟

    کیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ شہید نہیں ہوئے؟

    کیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو قبر میں دفن نہیں کیا گیا؟

    کیا آپ کے ہم نواؤں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی قبر پر مزار نہیں بنایا؟

    آپ کے عقیدے کے مطابق یہ سب کام وقوع پذیر ہو چکے ہیں اور آپ کی زندگی سے پہلے ہی سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے رب کے پاس نعمتوں کے باغوں میں جلوہ افروز ہو چکے ہیں۔

    اُولٰىِٕكَ ھمُ الْوٰرِثُوْنَ ۔ الَّذِيْنَ يَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ ھمْ فِيْہَا خٰلِدُوْنَ (سورۃ المؤمنون:10-11)
    یہ ہی لوگ میراث حاصل کرنے والے ہیں (یعنی) جو بہشت کی میراث حاصل کریں گے۔ اور اس میں ہمیشہ رہیں گے

    ایسی نعمتیں کہ پوری دنیا و ما فیہا جنت کی کسی ادنیٰ سے ادنیٰ نعمت کی قیمت نہیں ہو سکتی۔

    تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم زبردستی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اعلی ترین نعمتوں کی وراثت کی بجائے دنیا کی ذلیل و حقیر چیزوں کی وراثت سونپنے چلے ہو؟
     
    • پسند پسند x 4
    • شکریہ شکریہ x 2
    • لسٹ
  4. ‏جولائی 18، 2013 #24
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,982
    موصول شکریہ جات:
    1,494
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    اگر اس آیت سے آپ یہ استدلال کرنا چاہتے ہیں کہ حضرت علی رضی الله عنہ بھی وارث ہیں تو آپ بڑی گمراہی میں ہے- الله آپ کو ہدایت دے -

    پہلی بات یہ کہ الله کی صفت رب ہونا بھی ہے - رب کا مطلب ہے پالنے والا - ہم کہتے ہیں کہ والدین اپنے بچوں کو پالتے ہیں - کیا آپ نے کبھی اپنے والد یا والدہ کو رب کہا ؟؟؟- نہیں---- تو پھر کسی غیر الله کو وارث کہنا جسے "علی وارث" کہنا کس طرح جائز ہو سکلتا ہے ؟؟؟

    دوسری بات- اگر تھوڑی دیر کے لئے (نعو ز و باللہ میں ذالک) ہم یہ سوچ بھی لیں کہ علی وارث کہنا صحیح ہے تو - سوال ہے کہ محمّد صل الله علیہ وسلم کی پھر کیا حثیت رہ جاتی ہے؟؟؟ یعنی نبی کریم صل الله علیہ وسلم درجے میں حضرت علی رضی الله عنہ سے کہیں زیادہ بلند تھے تو پھر "محمّد وارث " کیوں نہیں ؟؟؟ علی وارث کیوں؟؟؟ اور پھر کس وقت کس حاجت کے لئے کس انسان کو پکارا جائے یا وارث سمجھا جائے - حضرت علی رضی الله عنہ کو یا محمّد صل الله علیہ وسلم کو یا حضرت حسین رضی الله کو یا عبدلقادر جیلانی رحمللہ وغیرہ کو؟؟؟


    يَا صَاحِبَيِ السِّجْنِ أَأَرْبَابٌ مُتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ ۚ مَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِهِ إِلَّا أَسْمَاءً سَمَّيْتُمُوهَا أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ بِهَا مِنْ سُلْطَانٍ ۚ إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۚ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ سوره یوسف٣٩-٤٠


    اے قید خانہ کے رفیقو کیا کئی جدا جدا معبود بہتر ہیں یا اکیلا الله جو زبردست ہے - تم اس کے سوا کچھ نہیں پوجتے مگر چند ناموں کو جو تم نے اور تمہارے باپ داداؤں نے مقرر کر لیے ہیں الله نے ان کے متعلق کوئی سند نہیں اتاری- حکومت سوا الله کے کسی کی نہیں ہے اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو یہی سیدھا راستہ ہے لیکن اکثر آدمی نہیں جانتے-
     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 2
    • لسٹ
  5. ‏جولائی 20، 2013 #25
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    یہ ہے میری پہلی پوسٹ اس دھاگہ میں
    اور یہ ہے اس پر شاکر صاحب کا جواب
    یعنی حقیقی اور مجازی کے فرق کا مطلقا انکار اس پر بات آگے بڑھی لیکن پھر کچھ لوگوں نے اعتراف کیا کہ ہاں حقیقی وارث اللہ تعالیٰ ہی ہے اور مجازی معنوں میں اللہ کے بندے بھی وارث ہوسکتے ہیں اس اعترف کے بعد یہ بحث اپنے منطقی انجام پر پہنچ گئی ہے اب اس بحث میں تقدیم اور تاخیر کی وراثت کی بحث لانا مناسب نہیں !
     
  6. ‏جولائی 20، 2013 #26
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    بہرام اور اس کے بزرگ جب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ، ان کے خاندان اور اہل خانہ رضی اللہ عنہم کو دھوکہ دیتے رہے مثلاً

    تو، صدیوں پرانی دھوکہ دہی کی ''وراثت '' میں ملی ہوئی آزمودہ عادت آج انہوں نے پھر آزمانے کی کوشش کی مثلاً لکھتے ہیں:

    اگر بہرام کا قرآن کی صداقت پر ایمان ہو تو اللہ تعالی کا یہ فرمانِ عالی شان پڑھ لے:

    كُلَّمَآ اَضَاۗءَ لَھُمْ مَّشَوْا فِيْہِ۝۰ۤۙوَاِذَآ اَظْلَمَ عَلَيْہِمْ قَامُوْا۝۰ۭ وَلَوْ شَاۗءَ اللہُ لَذَھَبَ بِسَمْعِہِمْ وَاَبْصَارِہِمْ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ عَلٰي كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ۝۲۰ۧ [٢:٢٠]
    جب بجلی ان پر روشنی ڈالی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں اور جب اندھیرا ہو جاتا ہے تو کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہیں اور اگر الله چاہتا تو ان کے کانوں (کی شنوائی) اور آنکھوں (کی بینائی دونوں) کو زائل کر دیتا ہے۔ بے شک الله ہر چیز پر قادر ہے۔

    چنانچہ بزعم خود جب بہرام نے دیکھا کہ روشنی ملی ہے تو اس میں بھاگ پڑا اور جب وراثت میں تقدیم و تاخیر والی بات میں اندھیرا پایا تو وہیں کھڑا ہو گیا اور دہائی دینے لگا کہ

     
    • پسند پسند x 3
    • زبردست زبردست x 2
    • ناپسند ناپسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏جولائی 21، 2013 #27
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    نہیں بلکہ اس طرح ہونا چاہئے کہ بندوں کے وارث ہونے کا پہلے مطلقا انکار جب قرآن ہی سے ثابت کردیا کہ اللہ کے بندے بھی وارث ہوتے ہیں تو پھر بھاگ کھڑا ہوا اور اپنے چیلوں کو آگے کردیا
     
  8. ‏جولائی 22، 2013 #28
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    میرے رب نے کم بیش ساڑھے چودہ سو سال پہلے ہی یہ خبر ارشاد فرما دی تھی:

    اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ اَنْ لَّنْ يُّخْرِجَ اللہُ اَضْغَانَہُمْ (سورۃ محمد)
    کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے یہ خیال کئے ہوئے ہیں کہ اللہ ان کے کینوں کو ظاہر نہیں کرے گا؟

    اللہ احکم الحاکمین نے یہ آج ہمارے سامنے اس کی سچائی بہرام کے تحریر کردہ الفاظ سے ظاہر فرما دی۔

    اللہ تعالی نے اسی لئے فرمایا تھا:

    وَلَتَعْرِفَنَّہُمْ فِيْ لَحْنِ الْقَوْلِ۝۰ۭ وَاللہُ يَعْلَمُ اَعْمَالَكُمْ (سورۃ محمد)
    اور تم انہیں (ان کے) انداز گفتگو ہی سے پہچان لو گے۔

    میرے رب نے بہرام کو موقعہ دیا ہے کہ وہ اپنے دل کی باتیں باہر نکالے۔ جب یہ نکل جائیں گی تو اللہ اکیلے احکم الحاکمین سے امید واثق ہے کہ بہرام کے دل میں اللہ تعالی، اس کی نازل کردہ کتابوں، اس کے رسولوں، خصوصاً رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی ازواج مطہرات اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور دیگر اہل ایمان کی محبت گھر کر جائے گی۔ اور انشراح صدر کے ساتھ بہرام کو ‘‘وراثت’’ کی سمجھ بھی آئے گی جس کے بعد وہ ‘‘صرف اللہ وارث’’ ہی پکارے گا۔
     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  9. ‏جولائی 22، 2013 #29
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    حضرت علی رضی اللہ عنہ کی قبر کا کسی کو علم نہیں۔۔۔
    جہاں مزار بنایا گیا ہے وہ بھی ان سے منسوب ہے۔۔۔
    وہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا جسد خاکی نہیں ہے۔۔۔
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  10. ‏جولائی 22، 2013 #30
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,982
    موصول شکریہ جات:
    1,494
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    جزاک الله - صحیح فرمایا آپ نے -

    مصنف محمود احمد عباسی بھی اپنی کتاب "تحقیق سیّد و سادات" میں اس موضوع پر تفصیلی مضمون پیش کرچکے ہیں- تا حال حضرت علی رضی الله عنہ کی قبر ایک معمہ ہے - (واللہ عالم)
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • متفق متفق x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں