1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صوفیاء اہلحدیث رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کا طریق السلوک

'اہل حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از aqeel, ‏فروری 09، 2013۔

  1. ‏فروری 09، 2013 #1
    aqeel

    aqeel مشہور رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏فروری 06، 2013
    پیغامات:
    299
    موصول شکریہ جات:
    307
    تمغے کے پوائنٹ:
    119

  2. ‏فروری 10، 2013 #2
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    تو یہ تو اس گنہگار کی اپنی رائے ہوئی نا؟؟؟۔۔۔
    راہ تصوف کے سالک مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمۃ خود فرماتے ہیں!
    پہلے دور کو چھوڑ کر دوسرے اور تیسرے ادوار میں اہل سنت والجماعت کے نام پر باطل تصوف اور خانقاہی نظام کا رواج عام رہا اور ہے اور جسے حکومت وقت کی ہمیشہ سرپرستی حاصل رہی اور آج بھی ہے۔۔۔


    وہ پیشہ ور اورجاہ طلب وحقیقت فروش اور الحاد شعار اور فاسد العقیدہ، نام نہاد صوفی ہیں جنہوں نے دین میں تحریف کرنے، مسلمانوں کو گمراہ کرنے، معاشرہ میں انتشار پیدا کرنے، آزادی وبےقیدی کی تبلیغ کرنے کے لئے تصوف کو آلہ کار بنایا اور اس کے محافظ وعلمبردار بن کر لوگوں کے سامنے آئے، نتیجہ یہ ہوا کے اہل غیرت واہل حمیت مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد ان سے بدظن ہوگئی، کچھ غیر محقق صوفی ایسے تھے جو اس شعبہ کی روح اور اس کے حقیقی مقاصد سے ناآشنا تھے وہ مقصد ووسیلہ میں تمیز نہ کرسکے بعض اوقات انہوں نے وسائل پر تو بہت اصرار کیا اور مقاصد کو نظر انداز کردیا، اور اس شعبہ یا اس فن میں ایسی چیزیں داخل کیں جن کا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا اور اس کو فن کی روح اور اس کا کمال قرار دیا بلکہ مقصود ومطلبوب سمجھ بیٹھے ( تزکیہ واحسان صفحہ ١٥-١٦، بحوالہ تعمیر ملب، مفکر اسلام صفحہ نمبر ٢٨ مجریہ ١٠ جولائی تا ٢٥ اگست ٢٠٠٥)۔۔۔


    تمدن، تصوف، شریعت، کلام
    بتان عجم کے پچاری تمام
    حقیقت خرافات میں کھوگئی
    یہ امت روایات میں کھوگئی​
    وہ صوفی کہ تھا خدمت حق میں مرد
    محبت میں یکتا، حمیت میں فرد
    عجم کے خیالات میں کھوگیا۔
    یہ سالک مقامات میں کھوگیا​
     
  3. ‏فروری 10، 2013 #3
    aqeel

    aqeel مشہور رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏فروری 06، 2013
    پیغامات:
    299
    موصول شکریہ جات:
    307
    تمغے کے پوائنٹ:
    119

    محترم مجھے آپ کی بات سے اختلاف نہیں،مجھے اختلاف ان بد بختوں،جہلا اور ضدی لوگوں سے ہے ،جو مطلق اسکے مخالف ہیں اور بغیر تمیز کیےتصوف اسلامی پر لعن کرتے ہیں ، دین اسلام قیامت تک سلامت رہئے گا۔اور تصوف جزو دین ہے ،اور یہ بھی قیامت تک اپنی اصل میں ملے گا ۔مگر اسکو جس کی طلب سچی اور کھری ہو گی۔
    اور پھر یہ آمیزش تو دین کے ہر شعبے میں ہوئی ہے۔تصوف میں زیادہ اس لئے ہوئی ہے کہ جتنی کو ئی چیز قیمتی ہو تی ہے اسکی نقل بھی اتنی زیادہ ہوتی ہے۔

    تو یہ تو اس گنہگار کی اپنی رائے ہوئی نا؟؟؟۔۔۔ مجھے آپکی اس بات کی سمجھ نہیں آئی ہے آپ کیا کہنا چاہتے ہیں۔
     
  4. ‏فروری 10، 2013 #4
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    دراصل ابھی تک تصوف کی شکل واضح نہیں ہوئی ہے۔۔۔
    یہ کچھ تحفظات ہیں اس بارے میں تھوڑی دضاحت درکارہے۔۔۔
    مثال کے طور پر۔۔۔

    ابن عربی جسے صوفیاء شیخ اکبر کا لقب دیتے ہیں۔۔۔اس کا عقیدہ تھا کہ خالق اور مخلوق میں کوئی فرق نہیں ہے اللہ ہی خالق ہے اور مخلوق ہی اللہ ہے۔۔۔

    جنید بغدادی نو آموز لوگوں کے لئے یہ شروط رکھتا ہے کہ وہ تین چیزوں میں اپنے آپ کو نہ مشغو رکھیں۔۔۔
    طلب رزق، طلب حدیث اور شادی کیونکہ انسان جب ان چیزوں سے دور رہے گا تو اس کے پاس زیادہ دلجمعی اور سکون واطمینان ہوگا۔۔۔

    ابویزید بسطامی اپنی الوھیت کا اعلان کرتے ہوئے بکتا ہے
    (سبحانی سبحانی ما اعظم شانی) میری ذات پاک ہے پاک ہے میری عظیم شان ہے۔۔۔
    جبکہ ایک دوسرا صوفی لباس پہن کر اپنے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے اس طرح اللہ کا مذاق اڑاتا ہے اس حبہ (کرتا) میں اللہ کے سوا کوئی نہیں ہے استغفراللہ ہم ان ساری کفریہ باتوں سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں۔۔۔
     
  5. ‏فروری 10، 2013 #5
    مشہودخان

    مشہودخان مبتدی
    جگہ:
    جے پور
    شمولیت:
    ‏جنوری 12، 2013
    پیغامات:
    48
    موصول شکریہ جات:
    95
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    ۔
    جناب سمجھ کا پھیر ہے خالق تو خالق ہے ہی مگر خالق کی اپنی مخلوق میں کارگری ظاہر ہوتا کیا کہیں گے ۔ جیسا عرف عام میں کہا جاتا یہ لڑکا اپنے باپ کے اوپر گیا اور یہ جو کہا جاتا گرگ زادہ گرگ شود
    مراد صفات ہیں مخلوق میں خالق کی صفات ظاہر ہو رہی ہیں
    الفاط کا انتخاب دیکھئے’’ رکھتا ہے‘‘
    بس حدیث شریف کا یاد رکھو بیوی بچوں کو بھول جاؤ کیا یہ یا دنہیں دنیا اور دنیا کی تمام چیز ملعون ہے یہ بھی تو غالباً حدیث شریف کے الفاظ ہیں
    قرٰن شریف میں بال بچوں اور دنیا کو لہو لعب قرار دیا ہے
    جی فرمائے
     
  6. ‏فروری 10، 2013 #6
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    مشہود بھائی!۔ ایک بات بتائیں۔۔۔ خالق کو آپ خالق تصور کررہے پہلے تو اس پر مبارک باد قبول کیجئے، دوسری تاویل جو آپ نے پیش کی مگر خالق کی اپنی مخلوق میں کارگری ظاہر ہوتا کیا کہیں گے۔۔۔ تو اس کا بہترین جواب ہے دین سے ناواقفیت میں مثال دوں۔۔ ایک بات کا جواب دیں یہ ساری عقل اللہ رب العالمین نے متاخرین کو ہی کیوں دے دی؟؟؟۔۔۔ پھر دنیاوی مثالوں کو دے کر بہلانا۔۔۔ کے لڑکا اپنے باپ کے اوپر گیا۔۔۔ تو یہ فطری چیز ہے پڑوسی پر تو جانے سے رہا۔۔۔ لیکن کیا رب کا کوئی بیٹا ہے یا کوئی یہ دعوٰی کرسکتا ہے کہ میں رب کا بیٹا ہوں دیکھیں اس طرح کے دعوے نصرانیوں نے بھی کئے حضرت عٰیسی علیہ السلام کو لیکر کیا ہوا۔۔۔ گیم سے آوٹ ہوگئے یعنی کافر قرار پائے یہ ہی غیرذمہ دارانہ مثالیں زناکاری کی کمائی کو کرائے میں ادا کئے جانے پر حلال ہوجاتی ہیں بین اُسی طرح مخلوق میں کارگری ظاہر ہونے لگتی ہے چلیں ہم آپ کی اس بات پر امنا صدقنا کئے لیتے ہیں اب فرض کیجئے جیسا آپ نے لڑکے کی مثال دی۔۔۔ اسی میں ہم ایک سوال جوڑدیں کے ہر چوتھا بندہ یہ دعوٰی کرنے لگے تو سچائی کیسے جان پائیں گے کہ یہ ہی وہ بندہ ہے جس میں خالق کی کارگری ظاہر ہوئی ہے؟؟؟ پھر یہ اپنے دعوٰی میں کتنا صحیح ہے اس معیار کا تعین کیسے ہوگا۔۔۔ اس طرح تو رافضیوں میں نصیری علی رضی اللہ عنہ کو رب مانتے ہیں تو کیا وہاں بھی یہ فارمولا استعمال ہوگا یا پھر اس فارمولے کو برصغیر میں صوفیت کی چادر میں لپیٹ کر امپورٹ کیا جارہا ہے؟؟؟۔۔۔ اسی طرح آج کا صوفی مقام اورمرتبے میں اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کے قحط پڑھ رہا ہے امیر المومنین بھی ہیں گواہی بھی ہے کہ میرے بعد اگر اس امت میں کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتے۔۔۔ وہاں ایسا کچھ نہ ہوا نہ ہوتا دکھائی دیا۔۔۔
    اس پر میں کیا جواب دوں؟؟؟۔۔۔ بس اتنا ہی کہوں گا کے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کے اس عورت سے شادی کرو جو زیادہ بچے جننے والی ہو تاکہ روز قیامت مجھے کثرت امت پر فخر ہو۔۔۔
     
  7. ‏فروری 11، 2013 #7
    عمران اسلم

    عمران اسلم مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    318
    موصول شکریہ جات:
    1,604
    تمغے کے پوائنٹ:
    150

    مشہود خان صاحب قرآن کریم کو سب سے زیادہ سمجھنے والے نبی کریمﷺ اور صحابہ کرام نے تو کبھی بیوی بچوں کو چھوڑ کر رہبانیت اختیار نہیں کی۔
    نبی کریمﷺ نے تو اس ضمن میں ہماری اس طرح رہنمائی فرمائی ہے۔
    أن أبا العباس الشاعر،‏‏‏‏ أخبره أنه،‏‏‏‏ سمع عبد الله بن عمرو ـ رضى الله عنهما ـ بلغ النبي صلى الله عليه وسلم أني أسرد الصوم وأصلي الليل،‏‏‏‏ فإما أرسل إلى،‏‏‏‏ وإما لقيته،‏‏‏‏ فقال ‏"‏ ألم أخبر أنك تصوم ولا تفطر،‏‏‏‏ وتصلي ولا تنام،‏‏‏‏ فصم وأفطر،‏‏‏‏ وقم ونم،‏‏‏‏ فإن لعينك عليك حظا،‏‏‏‏ وإن لنفسك وأهلك عليك حظا ‏"‏‏.‏ قال إني لأقوى لذلك‏.‏ قال ‏"‏ فصم صيام داود ـ عليه السلام ـ ‏"‏‏.‏ قال وكيف قال ‏"‏ كان يصوم يوما ويفطر يوما،‏‏‏‏ ولا يفر إذا لاقى ‏"‏‏.‏ قال من لي بهذه يا نبي الله قال عطاء لا أدري كيف ذكر صيام الأبد،‏‏‏‏ قال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لا صام من صام الأبد ‏"‏‏.‏ مرتين‏.‏
    اسی طرح ایک حدیث میں ہے:
    أنس بن مالك ـ رضى الله عنه ـ يقول جاء ثلاثة رهط إلى بيوت أزواج النبي صلى الله عليه وسلم يسألون عن عبادة النبي صلى الله عليه وسلم فلما أخبروا كأنهم تقالوها فقالوا وأين نحن من النبي صلى الله عليه وسلم قد غفر له ما تقدم من ذنبه وما تأخر‏.‏ قال أحدهم أما أنا فإني أصلي الليل أبدا‏.‏ وقال آخر أنا أصوم الدهر ولا أفطر‏.‏ وقال آخر أنا أعتزل النساء فلا أتزوج أبدا‏.‏ فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ‏"‏ أنتم الذين قلتم كذا وكذا أما والله إني لأخشاكم لله وأتقاكم له،‏‏‏‏ لكني أصوم وأفطر،‏‏‏‏ وأصلي وأرقد وأتزوج النساء،‏‏‏‏ فمن رغب عن سنتي فليس مني ‏"‏‏.‏ [صحیح بخاری: 5063]
    دنيا کو لہو و لعب قرار دینے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ دنیا کے ساتھ ہر قسم کا تعلق ختم کر دیا جائے۔
    دنیا اور بیوی بچوں سے الگ تھلگ ہو کر مجرد زندگی گزارنا اور فاقوں کے ذریعے تزکیہ نفس اختیا رکرنا کارِ ثواب نہیں بلکہ شریعت کی منشا کے خلاف ہے۔
     
  8. ‏فروری 12، 2013 #8
    aqeel

    aqeel مشہور رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏فروری 06، 2013
    پیغامات:
    299
    موصول شکریہ جات:
    307
    تمغے کے پوائنٹ:
    119

    حرب بن شداد صاحب اگر آپ اور مولانا عمران اسلم صاحب اور مشہھود صاحب بھی مناسب سمجھے تو اس تصوف پر مباحث کسی اور فورم پر لے چلتے ہیں کیانکہ اب انتظامیہ سے یہ کڑوے سچ برداشت نہیں ہورہے ہیں الحمد للہ ہمارے اکابرین اہلحدیث صوفی تھے اور انہوں نے تصوف پر ہر اعتراض کا جواب دیا ہے،آپ جو بھی مناسب فورم سمجھے اس پر آجائے تاکہ اچھے طریقے سے ہماری بات جاری رہ سکے۔
    فورم پر بعض نا قدین کے غلظ رویہ کے باعث پہلے سے مفتی عابد الرحمن صاحب عدم دلچسبی لے رہئے ہیں ،لہذا مجھے آپکے جواب کا انتظہار رہئے گا۔
     
  9. ‏فروری 12، 2013 #9
    عمران اسلم

    عمران اسلم مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    318
    موصول شکریہ جات:
    1,604
    تمغے کے پوائنٹ:
    150

    عقیل صاحب آپ بھی ماشاء اللہ صوفی ہیں تو آپ ہمارے اعتراضات کا جواب کیوں نہیں دیتے؟
    ہم جو بھی سوال کرتے ہیں آپ کسی کتاب کے پڑھنے کا مشورہ دے مارتے ہیں۔
    اگر اکابر اعتراضات کا جواب دیتے رہے ہیں تو آپ بھی کمر ہمت باندھیے نا!
    جہاں تک کسی دوسرے فورم پر جانے کی بات ہے تو جناب میں نے آج تک کبھی محدث فورم کے علاوہ کوئی اور فورم استعمال نہیں کیا۔
    اور وقت کی قلت کی وجہ سے اس جنجھٹ میں پڑنا بھی نہیں چاہتا۔
    آپ کسی عارف کی خدمت حاصل کیجئے شاید آپ کے کمپیوٹر کا مسئلہ حل ہو جائے۔
    والسلام
     
  10. ‏فروری 12، 2013 #10
    aqeel

    aqeel مشہور رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏فروری 06، 2013
    پیغامات:
    299
    موصول شکریہ جات:
    307
    تمغے کے پوائنٹ:
    119

    اصل بات یہ ہے کہ ایک ہی بات کا روز روز جواب نہیں دیا جاتا سراجا منیر یہاں پر اپ لوڈ کرنے کا مقصد ہی یہی تھا کہ وہاں تصوف پر مکمل بادلائل قران وحدیث سے لکھا گیا ہے اورپھر لکھا بی ایک معتبر عالم ایلحدیث کے قلم سے ہے ،تو میں چاہتا ہوں کہ بات اب اس سے آگے کے شروع کی جائے ،ابھی آپ جان چکے ہونگے میں کتابیں پڑھنے کی بات کیوں کرتا ہوں۔
    یہی اعتراض انکے زمانے میں منکرین تصوف کرتے تھے اور آج بھی وہی دوہرائے جا رہئے ہیں آپ اکابرین اہلحدیث کے تصوف پر دلائل کو لے اور پھر اعتراض کریں تا کی بات مفید اور بامقصد ہو سکے۔
    جی وقت ہمارا ہی فالتو ہے ،جو اصول آپ نے فورم کے معاملے میں بتایا ہے یقیناً باقی تحقیقات بھی آپ سی طرح کر رہئے ہونگے۔ بالخصوص تصوف وسلوک پر۔
    جی بڑے عارف تو شاکر صاحب ہی ہیں اور یہ مسئلہ انکے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں