1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عقیقہ اور ولیمہ

'فقہ عام' میں موضوعات آغاز کردہ از Naeem Mukhtar, ‏اگست 26، 2016۔

  1. ‏اگست 27، 2016 #11
    حافظ راشد

    حافظ راشد رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 20، 2016
    پیغامات:
    114
    موصول شکریہ جات:
    27
    تمغے کے پوائنٹ:
    43

    جزاک اللہ خیرا
    محترم اسحاق سلفی صاحب اللہ آپکے علم و عمل میں برکت عطا فرما ئے آمین
     
  2. ‏مئی 15، 2017 #12
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,340
    موصول شکریہ جات:
    1,076
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    محترم شیخ!
    اگر عقیقہ بڑے جانور میں کر لیا یا اسی طرح سے شادی میں ہی عقیقہ کر لیا تو ان دونوں صورت میں عقیقہ دوبارہ کرنا پڑے گا ؟
     
  3. ‏مئی 15، 2017 #13
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,188
    موصول شکریہ جات:
    2,366
    تمغے کے پوائنٹ:
    777

    محدث میگزین (نومبر 2012 ، شمارہ 358 ) میں جناب فاروق رفیع صاحب حفظہ اللہ کا عقیقہ کے متعلق تحقیقی مضمون شائع ہوا ، جس سے ایک اقتباس پیش خدمت ہے :
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عقیقہ میں بھیڑ اور بکری ہی کو ذبح کرنا مشروع ہے !
    عقیقہ میں بھیڑ اور بکری ہی کفایت کرتی ہیں، ان کے علاوہ اونٹ گائے وغیرہ کا عقیقہ نبیﷺ سے ثابت نہیں، دلائل حسب ِذیل ہیں :
    1. امّ کرز سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:
    «عَنِ الْغُلاَمِ شَاتَانِ، وَ عَنْ الْجَارِیَةِ وَاحِدَةٌ، لاَ یَضُرُّ کُمْ ذُکْرَانًا کُنَّ أَوْ إِناثًا»32
    جامع ترمذی : ۱۵۱۶؛ سنن ابن ماجہ : ۳۱۶... إسنادہ صحیح
    "(عقیقہ میں) لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے، بکریوں کا مذکر یا مؤنث ہونا تمہارے لیے نقصان دہ نہیں۔"
    2. سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ کا بیان ہے :
    «عَقَّ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ عَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ بِکَبْشَیْنِ بِکَبْشَیْنِ»
    سنن نسائی : ۴۲۲۴... إسنادہ صحیح
    "جناب رسول اللہﷺ نے سیدنا حسن و حسینؓ کی طرف سے دو دو مینڈھے ذبح کیے۔"
    ان احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ دو جنسوں: بھیڑ اور بکری ہی کا عقیقہ مسنون و مشروع ہے اورعقیقہ میں گائے اور اونٹ کفایت نہیں کرتے، نیز قولِ سيده عائشہؓ بھی اس مفہوم کی تائید کرتا ہے جيسا كہ عبد اللہ بن عبید اللہ بن ابو ملیکہ بیان کرتے ہیں کہ عبد الرحمٰن بن ابی بکرؓ کے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو عائشہؓ صدیقہ سے کہا گیا : اے امّ المومنین!
    «عَقِّی عَنْهُ جَزُوْرًا، فَقَالَتْ : مَعاَذَ اللهِ! وَلٰکِنْ مَا قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ شَاتَانِ مُکَافَئَتَانِ»سنن بیہقی: ۹؍۳۰۱ إسنادہ حسن... عبد الجبار بن ورد صدوق راوی ہے
    "اسکی طرف سے ایک اونٹ عقیقہ کریں، اس پر اُنھوں نے کہا : معا ذ اللہ ! بلکہ (ہم وہ ذبح کریں گے) جو رسول ﷺ نے فرمایا ہے: ( لڑکے کی طرف سے) دو ایک جیسی بکریاں۔"
    عقیقہ میں گائے اور اونٹ ذبح کرنا ثابت نہیں اور جس روایت میں عقیقہ میں گائے اور اونٹ ذبح کرنے کی مشروعیت ہے وہ موضوع اور من گھڑت روایت ہے۔ اور وہ یہ کہ سیدنا انسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :
    «مَنْ وُلِدَ لَهُ غُلاَمٌ فَلْیَعُقَّ مِنْ الإِْبِلِ أَوِ الْبَقَرِ أَوِ الْغَنَمِ»
    طبرانی صغیر : ۲۲۹... یہ روایت مسلسل بالضعفاء ہے۔ (موضوع)
    "جس کے ہاں لڑکا پیدا ہو وہ (عقیقہ میں) اونٹ، گائے یا بھیڑ بکری ذبح کرے۔"
    1۔اس روایت میں امام طبرانی کے اُستاد ابراہیم احمد بن مرادی واسطی ضعیف ہیں۔
    2۔عبد الملک بن معروف خیاط مجہول ہے۔ 3۔ مسعدہ بن یسع باہلی کذاب ہے۔
    4۔ حریث بن سائب تمیمی اور حسن بصری کی تدلیس ہے۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    الاسلام سؤال و جواب سائیٹ پر اس سوال کے جوواب میں درج ذیل فتوی دیا گیا :
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    هل يصح أن يعق عن ابنه بالإبل أو البقر
    هل يمكن لمن أراد العقيقة أن يذبح عجلا لابنه بدلا من خروفين؟
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    جواب
    الحمد لله
    السنة الواردة في العقيقة أن يعق عن الغلام بشاتين ، وعن الفتاة بشاة ؛ لما رواه أبو داود (2842) عن عمرو بن شعيب عن أبيه أراه عن جده قال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ( مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَنْهُ فَلْيَنْسُكْ ، عَنْ الْغُلامِ شَاتَانِ مُكَافِئَتَانِ ، وَعَنْ الْجَارِيَةِ شَاةٌ ) حسنه الألباني في صحيح أبي داود .
    واختلف أهل العلم : هل تجزئ العقيقة بالإبل والبقر أم لا ؟ فذهب الجمهور إلى جواز العقيقة بهما ، وذهب البعض إلى المنع من ذلك ؛ لأن السنة لم ترد إلا بالغنم .
    جاء في "الموسوعة الفقهية" (30/279) : " يجزئ في العقيقة الجنس الذي يجزئ في الأضحية , وهو الأنعام من إبل وبقر وغنم , ولا يجزئ غيرها , وهذا متفق عليه بين الحنفية والشافعية والحنابلة , وهو أرجح القولين عند المالكية ، ومقابل الأرجح أنها لا تكون إلا من الغنم " انتهى .
    والأفضل أن تكون العقيقة من الغنم ، اتباعا للسنة ، فالشاة هنا أولى من البعير ومن البقرة أو العجل .
    قال الشيخ ابن عثيمين رحمه الله : " أما الأضاحي فقال المؤلف: " أفضلها إبل ، ثم بقر ، ثم غنم" ، ومراده إن أخرج بعيراً كاملاً فهو أفضل من الشاة... إلا في العقيقة فالشاة أفضل من البعير الكامل ؛ لأنها التي وردت بها السنة ، فتكون أفضل من الإبل " انتهى من "الشرح الممتع" (7/424) .
    وعلى هذا ؛ فلا حرج من العقيقة عن الابن بعجل (بقرة) غير أن الشاتين أفضل .
    وينبغي أن يعلم أنه يشترط في العقيقة ما يشترط في الأضحية ، ومن هذه الشروط : أن تكون البقرة قد أتمت سنتين ودخلت في الثالثة ، وقد سبق بيان ذلك في جواب السؤال (41899) فلا تجوز العقيقة ولا الأضحية بعجل صغير لم يتم سنتين .
    والله أعلم .

    ترجمہ :
    عقيقہ ميں اونٹ يا گائے ذبح كرنا
    كيا بيٹے كے عقيقہ ميں دو بكروں كى بجائے بچھڑا ذبح كرنا ممكن ہے ؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جواب
    الحمد للہ:

    عقيقہ كے بارہ ميں سنت يہ ہے كہ بچہ كى جانب سے دو اور بچى كى جانب سے ايك بكرا ذبح كيا جائے؛ اس كى دليل ابو داود كى درج ذيل حديث ہے:

    عمرو بن شعيب اپنے باپ اور اپنے دادا سے روايت كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
    " جس كا بچہ پيدا ہو اور وہ اس كى جانب سے قربانى كرنا چاہے تو وہ ذبح كر لے، بچے كى جانب سے كفائت كرنے والے دو اور بچى كى جانب سے ايك بكرى ذبح كرے "
    سنن ابو داود حديث نمبر ( 2842 )، علامہ البانى رحمہ اللہ نے اسے صحيح ابو داود ميں صحيح قرار ديا ہے.

    اہل علم كا اس ميں اختلاف ہے كہ آيا عقيقہ ميں اونٹ اور گائے ذبح كى جا سكتى ہے يا نہيں ؟
    جمہور علماء كہتے ہيں كہ ان كا عقيقہ جائز ہے، ليكن بعض علماء كرام اس سے منع كرتے ہيں؛ كيونكہ سنت ميں بكرے كا ہى آيا ہے.

    الموسوعۃ الفقھيۃ ميں درج ہے:
    " عقيقہ ميں بھى وہى جنس كفائت كر جاتى ہے جو جنس قربانى ميں كفائت كرتى ہے، جو كہ اونٹ، گائے اور بكرى ہيں، اس كے علاوہ كوئى اور كفائت نہيں كرتا، احناف شافعيہ اور حنابلہ كے ہاں يہ متفقہ چيز ہے، اور مالكيہ كے ہاں راجح يہى ہے، اس كے مقابلہ ميں قول يہ ہے كہ يہ بكرى كى جنس كے علاوہ نہيں " انتہى.
    ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ ( 30 / 279 ).

    افضل يہى ہے كہ عقيقہ ميں بكرا ہى ذبح كرنا چاہيے تا كہ سنت پر عمل ہو يہاں اونٹ اور گائے يا بچھڑے كى بجائے بكرى اور مينڈھا اولى اور بہتر ہے.

    شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:
    " قربانى ميں مؤلف رحمہ اللہ كہتے ہيں: اس ميں سب سے افضل اونٹ اور پھر گائے، اور پھر بكرا ہے، اس سے مراد يہ ہے كہ اگر وہ پورا اونٹ اپنى جانب سے ذبح كرتا ہے تو يہ بكرے سے افضل ہے.... ليكن عقيقہ ميں بكرا پورے اونٹ سے افضل ہے؛ كيونكہ سنت ميں بكرے كا ہى ذكر آيا ہے، تو اس طرح يہ اونٹ سے افضل ہوا " انتہى.
    ديكھيں: الشرح الممتع ( 7 / 424 ).

    اس بنا پر عقيقہ ميں بچھڑا ذبح كرنے ميں كوئى حرج نہيں ليكن دو بكرے افضل ہيں، اور مسلمان كو چاہيے كہ وہ عقيقہ كے جانور ميں بھى وہى شروط مد نظر ركھے جو قربانى ميں ہيں، اور وہ شروط يہ ہيں: گائے دو سال كى مكمل اور تيسرے برس ميں داخل ہو چكى ہو، اس كا بيان سوال نمبر ( 41899 ) كے جواب ميں گزر چكا ہے، اس ليے اس سے چھوٹى عمر كے بچھڑے كا عقيقہ ميں ذبح كرنا جائز نہيں ہے.

    واللہ اعلم .
    الاسلام سوال و جواب
     
    • علمی علمی x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  4. ‏مئی 15، 2017 #14
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,188
    موصول شکریہ جات:
    2,366
    تمغے کے پوائنٹ:
    777

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    عرب علماء کا جواب دیکھئے :

    الجواب :
    الحمد لله
    ذبح البقرة بنية أن يقع بعضها عن عقيقة والبعض الآخر عن أضحية محل خلاف بين أهل العلم : فأجازه الحنفية والشافعية .
    قال ابن عابدين الحنفي في جواز الاشتراك في مثل هذه الحالة : " وَشَمِلَ مَا لَوْ كَانَتْ الْقُرْبَةُ وَاجِبَةً عَلَى الْكُلِّ أَوْ الْبَعْضِ ، اتَّفَقَتْ جِهَاتُهَا أَوْ لَا: كَأُضْحِيَّةٍ وَإِحْصَارٍ وَجَزَاءِ صَيْدٍ وَحَلْقٍ وَمُتْعَةٍ وَقِرَانٍ ، خِلَافًا لِزُفَرَ، لِأَنَّ الْمَقْصُودَ مِنْ الْكُلِّ الْقُرْبَةُ، وَكَذَا لَوْ أَرَادَ بَعْضُهُمْ الْعَقِيقَةَ عَنْ وَلَدٍ قَدْ وُلِدَ لَهُ مِنْ قِبَلِ لِأَنَّ ذَلِكَ جِهَةُ التَّقَرُّبِ بِالشُّكْرِ عَلَى نِعْمَةِ الْوَلَد" انتهى من الدر المختار وحاشية ابن عابدين (6 / 326) .
    وفي الفتاوى الفقهية الكبرى لابن حجر الهيتمي الشافعي (4 / 256): "أَمَّا لَوْ ذَبَحَ بَدَنَةً أَوْ بَقَرَةً عَنْ سَبْعَةِ أَسْبَابٍ : مِنْهَا ضَحِيَّةٌ وَعَقِيقَةٌ ، وَالْبَاقِي كَفَّارَاتٌ فِي نَحْوِ الْحَلْقِ فِي النُّسُكِ ؛ فَيُجْزِي ذَلِكَ ؛ وَلَيْسَ هُوَ مِنْ بَابِ التَّدَاخُلِ فِي شَيْءٍ ؛ لِأَنَّ كُلَّ سُبُعٍ يَقَعُ مُجْزِيًا" انتهى.

    ومنع الحنابلة من التشريك في العقيقة مطلقا , فلا تجزىء البقرة أو البدنة ، عندهم ، إلا عن عقيقة واحدة ، لولد واحد , جاء في شرح منتهى الإرادات (1 / 614):" (وَلَا تُجْزِئُ بَدَنَةٌ أَوْ بَقَرَةٌ) تُذْبَحُ عَقِيقَةً (إلَّا كَامِلَةً)" انتهى.
    وفي المبدع في شرح المقنع (3 / 277): "والمذهب أنه لا يجزئ فيها (العقيقة) شرك في دم ، ولا يجزئ إلا بدنة ، أو بقرة كاملة" انتهى.

    والراجح : عدم جواز التشريك في العقيقة ؛ لعدم ورود التشريك فيها ، بعكس الأضحية ، ولأن العقيقة تقع فداء عن المولود , فيلزم فيها التقابل والتكافؤ ، بأن تكون نفس بنفس , فلا يجزىء فيها إلا بقرة كاملة أو بدنة كاملة أو شاة كاملة .
    قال الشيخ ابن عثيمين - رحمه الله تعالى - في الشرح الممتع على زاد المستقنع (7 / 428): "(والبدنة والبقرة عن سبعة) يستثنى من ذلك العقيقة ، فإن البدنة لا تجزئ فيها إلا عن واحد فقط ، ومع ذلك فالشاة أفضل ؛ لأن العقيقة فداء نفس ، والفداء لا بد فيه من التقابل والتكافؤ ، فتفدى نفس بنفس ، ولو قلنا: إن البدنة عن سبعة لفديت النفس بسبع أنفس، ولهذا قالوا: لا بد من العقيقة بها كاملة ، وإلا فلا تجزئ .
    وإذا كان عند الإنسان سبع بنات وكلهن يحتجن إلى عقيقة فذَبَحَ بدنة عن السبع فلا تجزئ.
    ولكن هل تجزئ عن واحدة ؟ أو نقول هذه عبادة غير مشروعة على هذا الوجه ، فتكون بعير لحم ، ويذبح عقيقة لكل واحدة ؟ الثاني أقرب ، أن نقول: إنها لا تجزئ عن الواحدة منهن ؛ لأنها على غير ما وردت به الشريعة ، فيذبح عن كل واحدة شاة ، وهذه البدنة التي ذبحها تكون ملكاً له ، له أن يبيع لحمها ؛ لأنه تبين أنها لم تصح على أنها عقيقة" انتهى.
    وينظر جواب السؤال رقم (82607)

    وعلى ذلك : فلا يجزىء عنك أن تذبح بقرة تقع عن الأضحية والعقيقة عن ولديك , وعليك في العقيقة بالشياه فإنها أفضل .
    قال الشيخ ابن عثيمين – رحمه الله – في الشرح الممتع على زاد المستقنع (7 / 424): " .... إلا في العقيقة ، فالشاة أفضل من البعير الكامل ؛ لأنها التي وردت بها السنة ، فتكون أفضل من الإبل" انتهى. فتذبح عن الابن شاتين , وعن البنت شاة واحدة.

    وأما الأضحية : فأنت فيها بالخيار بين الإبل والبقر والغنم , والأفضل فيها الإبل ، ثم البقر ، إن ضحيت بها كاملة دون شرك , ثم الغنم , وقد سبق بيان هذا بالتفصيل في الفتوى رقم (45767).

    والله أعلم.

    ترجمہ :
    الحمد للہ:

    گائے کا کچھ حصہ عقیقے کی نیت سے اور کچھ حصہ قربانی کی نیت سے ذبح کرنا علمائے کرام کے ہاں اختلافی مسئلہ ہے، چنانچہ حنفی اور شافعی فقہائے کرام اسے جائز قرار دیتے ہیں۔

    جیسے کہ ابن عابدین حنفی رحمہ اللہ صورت مسؤلہ کے جائز ہونے سے متعلق کہتے ہیں:
    "[یہ صورت جائز ہے کہ] اگر قربانی میں شریک تمام شریکوں کی قربانی واجب ہو یا چند کی واجب ہو [اور دیگر کی قربانی نفل ہو] یا جانور ذبح کرنے کے مقاصد ایک ہوں یا الگ الگ ہوں [قربانی تب بھی جائز ہوگی] جیسے کہ : عید کی قربانی، [سفرِ حج میں]محصور ہوجانے پر [ذبح کی جانے والی قربانی]، [احرام کی حالت میں] شکار کرنے اور وقت سے پہلے بال منڈوانے پر [بطور کفارہ ] ذبح کیا جانے والا جانور، حج تمتع، یا حج قران کی قربانی [کرنے والے تمام لوگ ایک ہی جانور میں شریک ہو سکتے ہیں]، لیکن زفر کا موقف اس کے خلاف ہے، [جائز ہونے کی دلیل یہ ہے کہ] تمام شرکاء کا مقصد قربانی کرنا ہے ، بلکہ اگر کوئی شریک پہلے سے پیدا شدہ اپنے کسی بچے کا عقیقہ کرنا چاہے تو وہ عقیقے کی نیت سے قربانی کے جانور میں شریک ہو سکتا ہے؛ کیونکہ عقیقہ بھی نعمتِ اولاد کے ملنے پر کی جانے والی قربانی ہوتی ہے" انتہی
    الدر المختار وحاشية ابن عابدين (6 / 326)

    اسی طرح "الفتاوى الفقهية الكبرى" (4 / 256) میں ابن حجر ہیتمی شافعی لکھتے ہیں :
    "اگر کوئی شخص سات مختلف اسباب کی بنا پر ایک گائے یا اونٹ ذبح کر دیتا ہے، مثلاً: عید کی قربانی، عقیقہ، احرام کی حالت میں بال کٹوانے کا کفارہ وغیرہ تو یہ جائز ہو گا؛ اس سے ایک چیز کا دوسری چیز میں داخل ہونا بھی لازم نہیں آئے گا؛ کیونکہ [گائے ، اونٹ کی ]قربانی کا ایک حصہ مکمل ایک قربانی ہوتی ہے۔" انتہی

    لیکن راجح یہ ہے کہ عقیقے میں شراکت داری جائز نہیں ہے؛ کیونکہ عقیقے میں شراکت کا ذکر کہیں نہیں ملتا، عید کی قربانی کے متعلق شراکت کا ذکر ملتا ہے، ویسے بھی عقیقہ پیدا ہونے والے بچے کی طرف سے فدیہ ہوتا ہے ، اس لیے جس طرح بچہ ایک مکمل جان ہے اسی طرح فدیہ میں ذبح کیا جانے والا جانور بھی مکمل ہونا چاہیے، لہذا عقیقے میں مکمل گائے یا مکمل اونٹ یا مکمل بکری ہی ذبح کرنا کافی ہو گا۔

    شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ الشرح الممتع على زاد المستقنع (7 / 428) میں کہتے ہیں:
    "اونٹ یا گائے سات افراد کی طرف سے قربانی کیلیے کافی ہوتے ہیں، لیکن اس میں عقیقہ کو مستثنیٰ رکھا جائے گا؛ کیونکہ عقیقے میں مکمل ایک اونٹ ہونا ضروری ہے، لیکن پھر بھی عقیقے میں چھوٹا جانور [بکرا، بکری] ذبح کرنا افضل ہے؛ کیونکہ عقیقے میں بچے کی جان کا فدیہ دینا ہوتا ہے اور فدیہ مکمل جانور سے ہی ممکن ہے ، لہذا پوری جان کے بدلے میں پورا جانور ذبح کیا جائے گا۔
    اگر ہم یہ کہیں کہ : اونٹ کی سات افراد کی جانب سے قربانی ہوتی ہے ، لہذا عقیقے میں اونٹ ذبح کرنے سے سات افراد کا فدیہ ہو جائے گا؟! [اہل علم کہتے ہیں] کہ عقیقے میں مکمل جانور کا ہونا ضروری ہے اس لیے ساتواں حصہ عقیقے کیلیے صحیح نہیں ہو گا۔
    مثال کے طور پر ایک کسی شخص کی سات بیٹیاں ہوں اور سب کی طرف سے عقیقہ کرنا باقی ہو تو وہ شخص ساتوں بیٹیوں کی جانب سے عقیقے کے طور پر ایک اونٹ ذبح کر دیتا ہے تو یہ کفایت نہیں کر ے گا۔

    لیکن کیا اگر اس طرح ساتوں بیٹیوں کا عقیقہ نہیں ہوا ، تو کیا ایک بیٹی کا عقیقہ ہو جائے گا ؟ یا ہم یہ کہیں کہ یہ عبادت شرعی طریقے پر نہیں کی گئی اس لیے یہ گوشت والا جانور شمار ہو گا اور ہر ایک کی طرف سے جانور ذبح کیا جائے گا؟ دوسرا موقف زیادہ بہتر لگتا ہے، یعنی کہ ہم کہیں گے کہ: اس طرح کسی ایک لڑکی کی طرف سے بھی عقیقہ نہیں ہو گا؛ کیونکہ اس کا طریقہ کار شرعی طریقے کے مطابق نہیں تھا، اس لیے اس شخص کو ہر بیٹی کی طرف سے ایک بکری ذبح کرنا ہو گی، اور ذبح شدہ یہ اونٹ اس کی ملکیت ہی رہے گا اب وہ اسے جو چاہے کر ے اس لیے وہ اس کا گوشت فروخت کر سکتا ہے؛ کیونکہ یہ بطور عقیقہ ذبح نہیں ہوا" انتہی

    مزید کیلیے دیکھیں: (82607).

    اس بنا پر خلاصہ یہ ہے کہ:

    آپ کوایک جانور قربانی اور عقیقے کی مشترکہ نیت سے ذبح کرنا کفایت نہیں کرے گا، اس لیے عقیقے کیلیے الگ بکری ذبح کریں یہ افضل ہے۔

    شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ الشرح الممتع على زاد المستقنع (7 / 424) میں کہتے ہیں:
    "عقیقے میں بکری ذبح کرنا مکمل اونٹ ذبح کرنے سے بہتر ہے؛ کیونکہ عقیقہ کرتے ہوئے احادیث میں صرف بکری کا ذکر ہی ملتا ہے، ا س لیے عقیقے میں بکری ذبح کرنا ہی افضل ہو گا" انتہی
    اس لیے آپ لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور بیٹی کی جانب سے ایک بکری ذبح کریں گے۔

    جبکہ عید کی قربانی کے حوالے سے آپ کو اختیار ہے، آپ اونٹ، گائے، یا بکری ذبح کر لیں، عید کی قربانی میں مکمل اونٹ افضل ہے، اس کے بعد مکمل گائے اور پھر بکری ، اس بارے میں مکمل تفصیلات پہلے فتوی نمبر: (45767) میں موجود ہیں۔

    واللہ اعلم.

    اسلام سوال و جواب ویب سائٹ
     
    • علمی علمی x 4
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  5. ‏مئی 15، 2017 #15
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,188
    موصول شکریہ جات:
    2,366
    تمغے کے پوائنٹ:
    777

    فتاوى عامة رقم : 3456
    السؤال : هل تجزئ بقرة في العقيقة عن مولود أم لابد من ذبح شاة ؟
    البلد : مصر .
    التاريخ : 28 / 12 / 2014 .
    رقم الفتوى : 3456
    جواب السؤال
    الجواب : السنة في العقيقة أن يعق عن الذكر بشاتين ، وعن الأنثى بشاة وذلك لما رواه أبو داود عن عمرو بن شعيب عن أبيه أراه عن جده قال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَنْهُ فَلْيَنْسُكْ ، عَنْ الْغُلامِ شَاتَانِ مُكَافِئَتَانِ ، وَعَنْ الْجَارِيَةِ شَاةٌ ".
    واختلف الفقهاء في إجزاء البقرة أو البدنة في العقيقة عن المولود ، فذهب الجمهور إلى إجزاء بقرة عن مولود واحد أو أكثر ، حيث يكون للأنثى سُبع البقرة وللذكر سُبعان ، قال النووي: [ ولو ذبح بقرة أو بدنة عن سبعة أولاد أو اشترك فيها جماعة جاز، سواء أرادوا كلهم العقيقة أو أراد بعضهم العقيقة وبعضهم اللحم.] اهـ.
    وينبغي أن يعلم أنه يشترط في العقيقة ما يشترط في الأضحية ، ومن هذه الشروط : أن تكون البقرة قد أتمت سنتين ودخلت في الثالثة .
    وذهب الحنابلة والمالكية إلى عدم إجزاء بقرة إلا عن مولود واحد ذكرا كان أو أنثى . وجاء في الشرح الممتع على زاد المستقنع : [ والبدنة والبقرة عن سبعة،يستثنى من ذلك العقيقة، فإن البدنة لا تجزئ فيها إلا عن واحد فقط ] اهـ.
    وقال ابن عثيمين في "الشرح الممتع على زاد المستقنع":
    [ وقوله: "والبدنة والبقرة عن سبعة" يُستثنَى من ذلك العقيقة، فإنَّ البدنة لا تُجْزِئ فيها إلا عنْ واحدٍ فَقَطْ، ومع ذلك فالشاةُ أفضل؛ لأنَّ العقيقةَ فداءُ نفس، والفِداءُ لابد فيه منَ التَّقابُل والتَّكافؤ، فتُفْدَى نفسٌ بنفس، ولو قلنا: إن البدنة عن سبعة لفديت النفسُ بسُبع نفس، ولهذا قالوا: لا بد من العقيقة بِها كاملةً وإلا فلا تُجْزِئ، وإذا كان عند الإنسان سبْعُ بناتٍ -وكلُّهن يحتجن إلى عقيقة- فذَبَحَ بدنة عنِ السبع فلا تجزئ.
    ولكنْ هل تُجزئُ عن واحدة، أو نقول: هذه عبادة غير مشروعة على هذا الوجه، فتكون بعير لحم ويذبح عقيقة لكل واحدة؟
    الثاني أقرب، أن نقول: إنها لا تجزئ عن الواحدة منهنَّ؛ لأنَّها على غير ما وردتْ به الشريعة، فيذبح عن كل واحدةٍ شاةً، وهذه البدنة التي ذَبَحَها تكونُ مِلْكاً له، له أن يبيع لحمها؛ لأنه تبين أنَّها لم تَصِحَّ على أنَّها عقيقة". ] اهـ.
    جاء في موسوعة الفقه الكويتية :
    [ إذا اشترك فيها [أي البدنة] سبعة، فلا بد أن يكون كل واحد منهم مريدا للقربة، وإن اختلف نوعها. فلو اشترى سبعة أو أقل بدنة، أو اشتراها واحد بنية التشريك فيها، ثم شرك فيها ستة أو أقل، وأراد واحد منهم التضحية، وآخر هدي المتعة، وثالث هدي القران، ورابع كفارة الحلف، وخامس كفارة الدم عن ترك الميقات، وسادس هدي التطوع، وسابع العقيقة عن ولده أجزأتهم البدنة. بخلاف ما لو كان أحدهم يريد سبعها ليأكله، أو ليطعم أهله، أو ليبيعه، فلا تجزئ عن الآخرين الذين أرادوا القربة.
    هذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد.
    وذلك، لأن القربة التي في الأضحية، وفي هذه الأنواع كلها إنما هي في إراقة الدم، وإراقة الدم في البدنة الواحدة لا تتجزأ، لأنها ذبح واحد، فإن لم تكن هذه الإراقة قربة من واحد أو أكثر لم تكن قربة من الباقين، بخلاف ما لو كانت هذه الإراقة قربة من الجميع، وإن اختلفت جهتها، أو كان بعضها واجبا وبعضها تطوعا.
    وقال زفر : لا يجزئ الذبح عن الأضحية أو غيرها من القرب عند الاشتراك ، إلا إذا كان المشتركون متفقين في جهة القربة، كأن يشترك سبعة كلهم يريد الأضحية، أو سبعة كلهم يريد جزاء الصيد، فإن اختلفوا في الجهة لم يصح الذبح عن واحد منهم، لأن القياس يأبى الاشتراك، إذ الذبح فعل واحد لا يتجزأ، فلا يتصور أن يقع بعضه عن جهة، وبعضه عن جهة أخرى، لكن عند اتحاد الجهة يمكن أن تجعل كقربة واحدة، ولا يمكن ذلك عند الاختلاف، فبقي الأمر فيه مردودا إلى القياس.
    وروي عن أبي حنيفة أنه كره الاشتراك عند اختلاف الجهة، وقال : لو كان هذا من نوع واحد لكان أحب إلي، وهكذا قال أبو يوسف. ] اهـ.
    وجاء في موسوعة الفتوى رقم : 15288
    [ فقد اختلف الفقهاء في إجزاء غير الغنم في العقيقة:
    - فذهب الجمهور إلى إجزاء ذلك.
    - وذهبت الظاهرية إلى عدم إجزاء ذلك.
    واستدل الجمهور على ذلك بما رواه أبو الشيخ ابن حبان - قال العراقي في طرح التثريب بإسناد حسن - عن أنس رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "من ولد له غلام، فليعق عنه من الإبل والبقر والغنم". ورواه الطبراني .
    وقد اختلف الجمهور - بعد اتفاقهم في الإجزاء في البقر والإبل - هل تجزئ عن واحد أم عن سبعة ؟
    - فذهب الشافعية إلى أنها تجزئ عن سبعة قياساً على الأضحية والهدي.
    - وذهب المالكية والحنابلة إلى أنها تجزئ عن واحد، والظاهر هو الأول.
    والجمهور متفقون على أنه يشترط في سن العقيقة ما يشترط في سن الأضحية. ] اهـ.
    وخلاصة الأمر أنه يجوز ذبح بقرة في العقيقة بشرط أن تكون البقرة قد أتمت السنة الثانية ودخلت في الثالثة ، ويجوز الاشتراك في العقيقة كالأضحية .
    لمزيد من الفائدة يمكن الرجوع إلى هذه الفتاوى بالموقع : [ فتاوى عامة رقم : 383 ، 428 ، 932 ، 1344 ، 1639 ، 2300 ، 2397 ] .
    والله تعالى أعلم .
     
    • علمی علمی x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں