1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

علامہ ابن خلدون اور یزید بن معاویہ

'تاریخ' میں موضوعات آغاز کردہ از ابو حمزہ, ‏دسمبر 16، 2013۔

  1. ‏مئی 07، 2018 #11
    difa-e- hadis

    difa-e- hadis رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2017
    پیغامات:
    264
    موصول شکریہ جات:
    23
    تمغے کے پوائنٹ:
    52

  2. ‏مئی 07، 2018 #12
    difa-e- hadis

    difa-e- hadis رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2017
    پیغامات:
    264
    موصول شکریہ جات:
    23
    تمغے کے پوائنٹ:
    52

    امام ابن کثیر کے مطابق یزید ظالم اور فاسق تھا جس کی اللہ نے گرفت کی اب ہم کس کی مانیں آپ کی یا امت کے اس امام کی جو یزید کو فاسق کہہ رہے ہیں کیا یہ بھی رافضی تھے اللہ ہدایت دے
     
  3. ‏مئی 08، 2018 #13
    ابو حمزہ

    ابو حمزہ رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 10، 2013
    پیغامات:
    369
    موصول شکریہ جات:
    138
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    السلام علیکم
    میرے خیال میں علامہ ابن خلدون رحمہ اللہ کے اس روویے پر بحث ہونے چاہے جو میں نے پوسٹ میں لکھا ہے نہ کہ یزید یا کسی اور پر۔۔۔۔
     
  4. ‏مئی 08، 2018 #14
    ابو حمزہ

    ابو حمزہ رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 10، 2013
    پیغامات:
    369
    موصول شکریہ جات:
    138
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    جن جن لوگوں نے اپنے اجتہاد پر بیعت توڑی ان کے لئے ابن عمر رضی اللہ عنہ کا قول صحیح بخاری میں موجود ہے بس سے ہی دلیل مانا جانا چاہے آپ خواھ مخواھ کیوں بحث کر رہے ہیں ۔۔۔
     
  5. ‏مئی 09، 2018 #15
    difa-e- hadis

    difa-e- hadis رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2017
    پیغامات:
    264
    موصول شکریہ جات:
    23
    تمغے کے پوائنٹ:
    52

    محترم،
    ابن خلدون کے رویہ پر اپ نے جو بحث فرمائی ہے اس کا محور کون ہے جو آپ کی نظر میں مظلوم ہے اور ابن خلدون نے اس کے کردار کے ساتھ انصاف نہ کرتے ہوئے دو رویہ اختیار کیا ہے میں نے اسی کے حوالے سے لکھا ہے کہ ابن خلدون کیا امت کے اہل علم نے اس پر اجماع نقل کیا ہے کہ جس کردار کا وہ حامل تھا ابن خلدون نے اس کو اسی طرح پیش کیا ہے تو جس کے کردار کی صفائی کی خاطر اپ نے اتنی قلابیں باندھی ہیں میں نے اس کی معمولی سی جھلک امت کے چند اہل علم کے حوالے سے پیش کی ہیں

    دوسری بات ابن عمر رضی اللہ عنہ اگر اس بیعت سے راضی ہوتے توشروع ہی سے بیعت کرتے مگر انہوں نے سب سے آخر میں بیعت کی تھی اور ان کے یہ تاریخی الفاظ موجود ہے"اگر اس میں شر ہوگا تو ہم صبر کریں گے"
    تو عمر رضی اللہ عنہ نے شر کا امکان اس لئے ظاہر کیا کہ وہ اس کی حرکات سے واقف تھے اس لئے شروع سے بیعت نہیں کر رہے تھےوگرنہ ان کو یہ کہنے کی کوئی حاجت نہ تھی
     
  6. ‏مئی 10، 2018 #16
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,208
    موصول شکریہ جات:
    8,203
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    و علیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    تھریڈ کا عنوان آپ نے ہی رکھا ہے ؟ ’ ابن خلدون اور یزید بن معاویہ‘؟
    اگر ابن خلدون کی تاریخ دانی موضوع تھا، تو بالخصوص عنوان میں یزید بن معاویہ لکھنے کی شاید حاجت نہ تھی۔
    ویسے یہ رویہ بہر صورت درست نہیں کہ ہر موضوع اور بحث آخر میں وہی پرانے ایک نکتے کی طرف لوٹ آئے۔
    دفاع حدیث والے بھائی کو میں پہلے بھی کئی بار گزارش کر چکا ہوں ۔ لیکن لاحیاۃ لمن تنادی
     
  7. ‏مئی 11، 2018 #17
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,922
    موصول شکریہ جات:
    1,483
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    محترم -

    آپ نے فرمایا کہ: امت گمراہی پر جمع نہیں ہو گی یعنی بحثیت مجموعی امت کبھی گمراہ نہیں ہو گی اور امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر رہے گا تو امت کی اکثریت گمراہ ہو سکتی ہے مگر بحیثیت مجموعی امت گمراہی پر جمع نہیں ہو گی کیونکہ ایک گروہ حق پر رہے گا۔ اس قول پر پر امام بخاری اور ابن ابی حاتم اور امام عقیلی رحم الله وغیرہ کی جرح موجود ہے -

    اگر یہ قول بالفرض مان لیا جائے تو اس کا اصل مطلب ہے کہ یہ "عقیدہ توحید" سے متعلق یہ امّت بحثیت مجمموعی گمراہ نہیں ہو گی- (جیسا کہ بخاری کی روایت ہے کہ مجھے تم پر اس بات کا خوف نہیں کہ تم میرے بعد مشرک ہو جاؤ گے) - نا کہ اس سے یزید بن معاویہ رحمہ الله کی بیعت کا معامله لیا جائے یا ان کے کردار سے متعلق یہ کہا جائے کہ وہ فاسق و فاجر انسان تھے-یہ لوگوں کی اپنی گھڑی ہوئی اختراع ہے کہ یزید بن معاویہ رحم الله امّت کے اجماعی عقیدے کے مطابق فاسق و فاجر تھے- دوم یہ کہ اگر حسین رضی الله عنہ کو اس گروہ میں شامل کیا جائے جو حق پر تھا (اور جن کے جانشین ہمیشہ حق پر رہینگے) اور جس نے یزید بن معاویہ کے خلاف جہاد کا علم بلند کیا - تو کیا دوسرا گروہ گمراہ کہلاے گا- جس نے ان کو اس کارساز پر جانے سے منع کیا تھا یا جنہوں نے بذات خود بغیر زور زبردستی کے یزید بن معاویہ کی بیعت کی ؟؟- جن میں جید صحابہ کرام عبدللہ بن عباس رضی الله عنہ اور عبدللہ بن عمر رضی الله عنہ جیسے نفوس بھی تھے- ؟؟ اور ممعامله یہی نہیں رکتا بلکہ پھر تو حضرت عائشہ رضی الله عنھما اور سیدنا معاویہ رضی الله عنہ کو بھی اس اصول کے تحت اس گروہ میں شامل کرنا پڑے گا جو گمراہ تھے کہ علی رضی الله عنہ کے خلاف نبرد آزما ہوے - اور روایت کے مطابق جو گروہ حق پر رہا اور جس کی آل اولاد حق پر رہے گی تا قیامت تو وہ صرف اہل بیت ہی ہے باقی سب گمراہ ہیں؟؟ کیا کوئی عقلمند اس بات کا اثبات کرے گا ؟؟

    آپ کی پیش کردہ معقل بن سنان رضی اللہ عنہ جس میں انہوں نے یزید کو فاسق اور شرابی کہا ہے- روایت تخریج کے اعتبار سے صحیح نہیں -

    قَالَ الْمَدَائِنِيُّ، عَنْ عَوَانَةَ، وَأَبِي زَكَرِيَّا الْعَجْلانِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ: إِنَّ مُسْلِمًا لَمَّا دَعَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ إِلَى الْبَيْعَةِ، يَعْنِي بَعْدَ وَقْعَةِ الْحَرَّةِ، قَالَ: لَيْتَ شِعْرِي مَا فَعَلَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ، وَكَانَ لَهُ مُصَافِيًا، فَخَرَجَ نَاسٌ مِنْ أَشْجَعَ، فَأَصَابُوهُ فِي قَصْرِ الْعَرَصَةِ، وَيُقَالُ: فِي جَبَلِ أُحُدٍ، فَقَالُوا لَهُ: الأَمِيرُ يُسْأَلُ عَنْكَ فَارْجِعْ إِلَيْهِ، قَالَ: أَنَا أَعْلَمُ بِهِ مِنْكُمْ، إِنَّهُ قَاتِلِي، قَالُوا: كَلا، فَأَقْبَلَ مَعَهُمْ، فَقَالَ لَهُ: مَرْحبًا بِأَبِي مُحَمَّدٍ، أَظُنُّكَ ظَمْآنَ [1] ، وَأَظُنُّ هَؤُلاءِ أَتْعَبُوكَ، قَالَ: أَجَلْ، قَالَ: شَوِّبُوا لَهُ عَسَلا بِثَلْجٍ، فَفَعَلُوا وَسَقَوْهُ، فَقَالَ: سَقَاكَ اللَّهُ أَيُّهَا الأَمِيرُ مِنْ شَرَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، قَالَ: لا جَرَمَ وَاللَّهِ لا تَشْرَبُ بَعْدَهَا حَتَّى تَشْرَبَ مِنْ حَمِيمِ جَهَنَّمَ، قَالَ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ وَالرَّحِمَ، قَالَ: أَلَسْتَ قُلْتَ لِي بِطَبَرِيَّةَ وَأَنْتَ مُنْصَرِفٌ مِنْ عِنْدِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ وَقَدْ أَحْسَنَ جَائِزَتَكَ: سِرْنَا شَهْرًا وَخَسِرْنَا ظَهْرًا، نَرْجِعُ إِلَى الْمَدِينَةِ فَنَخْلَعُ الْفَاسِقَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ، عَاهَدْتُ اللَّهَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ لا أَلْقَاكَ فِي حَرْبٍ أَقْدِرُ عَلَيْكَ إِلا قَتَلْتُكَ، وَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ

    اس میں أَبِي زَكَرِيَّا الْعَجْلانِيِّ مجہول ہے-
    راوی عوانة : کے بارے میں ہے کہ اخباری و غیر ثقہ ہے - ابن حجر وغیرہ نے اس کو لسان المیزان وغیرہ میں اخباری قرار دیا ہے -
    اس لئے آپ کی پیش کردہ یہ روایت ضعیف ہے اور نا قابل اعتبار ہے-

    یہ روایت اصحاب کرام رضوان الله اجمعین پر بھی تبرّا ہے- کہ
    یہ پاک ہستیاں حکام وقت کی بیعت کرکے بعد میں توڑ دیتی تھیں - ؟؟ یعنی یہ نیم رافضی یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ نبی کے اصحاب دوغلے تھے (نعوذ باللہ) کہ ظاہر میں کچھ اور باطن میں کچھ -یعنی جانتے بوجھتے -کہ حاکم شرابی و زانی ہے اس کی پہلے بیعت کی اور بعد میں توڑ دی- اس کو امر المعروف و نہی عن المنکر کی دعوت دینے کی ضرورت ہی محسوس کی -

    یہ دین اسلام کا مزاج نہیں کہ حکام وقت کی بیعت کو کھیل تماشا بنایا جائے - کہ جب مرضی توڑ دی جائے. - نبی کریم صل الله علیہ و آ له وسلم کا تو حکم ہے کہ حاکم وقت کی ہر صورت اطاعت کرو - اس کی اطاعت سے مونھ مت موڑو - چاہے وہ فاسق و فاجر ہی کیوں نہ ہو- (یعنی بیعت نہ توڑو)-کیا صحابہ کرام سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ نبی کریم صل الله علیہ و آ له وسلم کے حکم سے رو گردانی کریں گے ؟؟

    بخاری کی روایت میں تو واضح ہے کہ: ابن عمر رضی الله نے تو ان افراد سے براءت کا اظہار کیا جو بیعت توڑنے والے تھے چاہے یہ ان کا بیٹا ہو یا بہن بہنوئی ہوں ان کو ان کے عمل پر افسوس تھا جب ہی اس کو دغا بازی و غداری قرار دیا-
     
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  8. ‏مئی 14، 2018 #18
    difa-e- hadis

    difa-e- hadis رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2017
    پیغامات:
    264
    موصول شکریہ جات:
    23
    تمغے کے پوائنٹ:
    52

    محترم، محمد علی جواد
    یہ فقط آپ کا اپنا مفروضہ ہے کہ اس سے مراد صرف توحید ہے میں نے اس حوالے سے اپ کو لنک دیا تھا شاید اپ نے پڑھنے کی زحمت گوارہ نہیں کی اس میں متعدد مسائل ایسے ہیں جو صرف اجماع سے ثابت ہیں مثلا

    وأجمعوا علٰی أن حکم الجوامیس حکم البقر‘‘(الاجماع ص۱۲، فقرہ:۹۱)
    اور اس پر اجماع ہے کہ بھینسوں کا وہی حکم ہے جو گائیوں کا حکم ہے۔

    اب بھینس کا مسئلہ توحید کا تو ہو نہیں سکتا

    Untitled.png
    طبرانی الکبیر رقم ۱۳۶۳
    اس روایت کی سند یہ ہے اب اس کے کسی ایک روای پر جمہور کی جرح مفسر پیش کردیں وگرنہ مان لیں یہ روایت صحیح ہے اور اس میں اجماع مسائل پر بھی کیا گیا ہے
     
  9. ‏مئی 14، 2018 #19
    difa-e- hadis

    difa-e- hadis رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2017
    پیغامات:
    264
    موصول شکریہ جات:
    23
    تمغے کے پوائنٹ:
    52

    محترم، محمد علی جواد
    یہ تو آپ فرما رہے ہیں کہ یہ روایت ضعیف ہے جبکہ اس میں عوانہ راوی کو بعض نے صدوق بھی کہا ہے اور اس کے صدوق کا اعتراف شیخ سنابلی صاحب نے بھی اپنی کتاب میں کیا ہے پڑھ لیں

    awana ki tazdeeq.png
    یزید پر الزامات کا جائزہ ص ۷۳۷

    اس پر انہوں نے متہم کی جرح نہیں کی اس کا معنی یہی ہے کہ وہ بھی اس کو صدوق ہی سمجھتے ہیں تو صدوق راوی کی روایت حسن ہوتی ہے اس لئے یہ روایت حسن ہے ضعیف نہیں ہے
     
  10. ‏مئی 14، 2018 #20
    difa-e- hadis

    difa-e- hadis رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2017
    پیغامات:
    264
    موصول شکریہ جات:
    23
    تمغے کے پوائنٹ:
    52

    محترم، محمد علی جواد
    اہل مدینہ کی دوغلے تھے "نعوذ باللہ" جو انہوں نے پہلے بیعت کرلی پھر توڑدی
    اور یہ آپ کا مفروضہ ہے کہ حکمران کو کیسا ہی ہو اس کے حکومت کرنے دی جائے خلفاء الراشدین کے دور میں متعدد واقعات ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر حکمران بگڑ جائے تو اس کو اترا جا سکتا ہے
    عمر رضی اللہ عنہ نے منبر ہر یہ فرمایا کہ اگر میں بگڑ جاوں تو تم کیا کرو گے تو ایک ایک نے تلوار لہرائی اور کہا تیرے لئے پھر یہ ہوگا اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کا شکر ادا کیا تھا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں