1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

علمی کتب کی تحقیق کے چند اہم اصول و ضوابط

'مکالمہ' میں موضوعات آغاز کردہ از عامر عدنان, ‏فروری 22، 2019۔

  1. ‏فروری 22، 2019 #1
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    841
    موصول شکریہ جات:
    237
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    محترم ومکرم قارئین!
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    ایک ایسے موضوع کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوں جس کی ایک مدت سے ضرورت محسوس کر رہا تھا، وہ ہے: "علمی کتب کی تحقیق کے چند اہم اصول وضوابط"، کیونکہ عربی زبان میں تو اس پر کافی مواد موجود ہے لیکن میرے علم کی حد تک اردو زبان میں اس پر زیادہ کچھ نہیں لکھا گیا ہے۔ اس لئے ضرورت محسوس کی گئی کہ اردو داں طبقہ کو اس روشن باب سے واقف کرایا جائے۔ اس باب میں لکھی گئی بعض کتابوں، بعض علمی وتدریبی دوروں، مناقشوں (وائیوا)، مشایخ کرام کے محاضرات، اور اپنے تجربات کی روشنی میں قسط وار اس موضوع پر روشنی ڈالنے کی کوشش کر رہا ہوں، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اس موضوع کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
    قارئین کرام سے مؤدبانہ التماس ہے کہ اسے دوسروں تک پہنچا کر اس کار خیر کے ساتھی بنیں، اور اپنے علمی ملحوظات ومشوروں سے نوازنا نہ بھولیں۔
    تو لیجئے حاضر ہے اس سلسلے کی پہلی کڑی۔
    -------------------------------------------------

    علمی کتب کی تحقیق کے چند اہم اصول وضوابط
    تحریر: فاروق عبد اللہ نراین پوری
    (پہلی قسط)

    کسی کتاب کی نص کو مؤلف ِکتاب کی وضع کردہ قریب ترین شکل وصورت میں ثابت کرنے کو تحقیق کہتے ہیں۔ ایک محقق کی ذمہ داری ہے کہ حتی الامکان کتاب کے نصوص کو قارئین کے سامنے اسی کمیت وکیفیت کے ساتھ پیش کرے جس طرح مؤلفِ کتاب نے اسے لوگوں کے سامنے پیش کیا تھا۔
    مشہور محقق شیخ عبد السلام محمد ہارون رحمہ اللہ (المتوفى: 1408ہجری) اپنی کتاب "تحقيق النصوص ونشرها" (ص39) میں فرماتے ہیں : "الكتاب المحقق هو الذي صح عنوانه، واسم مؤلفه، ونسبة الكتاب إليه، وكان متنه أقرب ما يكون إلى الصورة التي تركها مؤلفه، وعلى ذلك فإن الجهود التي تبذل في كل مخطوط يجب أن تتناول البحث في الزوايا التالية:
    1- تحقيق عنوان الكتاب.
    2- تحقيق اسم المؤلف.
    3- تحقيق نسبة الكتاب إلى مؤلفه.
    4- تحقيق متن الكتاب حتى يظهر بقدر الإمكان مقاربا لنص مؤلفه". انتهى.
    (تحقیق شدہ کتاب وہ ہے جس کا عنوان درست ہو، اورمؤلف کا نام و مؤلف کی طرف کتاب کی نسبت ثابت ہو۔ مؤلف کتاب نے جس شکل وصورت میں وہ کتاب چھوڑی تھی اس کا متن اس سے قریب ترین حالت میں ہو۔ بنابریں ہر مخطوط میں جو جہود صرف کئے جائیں ضروری ہے کہ اس میں درج ذیل نکات شامل بحث ہوں:
    1 – کتاب کے عنوان کی تحقیق۔
    2 – مؤلف کتاب کے نام کی تحقیق۔
    3 –مؤلف کی طرف اس کتاب کی نسبت کی تحقیق۔
    4 – متن کتاب کی تحقیق یہاں تک کہ حتی الامکان مؤلف کی نص سے قریب ترین صورت میں وہ منظر عام پر آئے۔ )
    تقریبا اسی طرح کی بات شیخ السید رزق الطویل نے "مقدمة في أصول البحث العلمي وتحقيق التراث" (ص192) میں کی ہے۔
    کسی کتاب کی تحقیق کا یہ سب سے خاص، اہم اور اصل مقصد ہے۔
    شیخ مطاع الطرابیشی فرماتے ہیں: "لا مراء في أن أداء النص كما وضعه مؤلفه مطلب أساسي للتحقيق بعامة, وهو أمر متفق عليه, صرح به الباحثون في هذا الفن والعاملون فيه". (في منهج تحقيق المخطوطات لمطاع الطرابيشي, ص11).
    (اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ نص کتاب کو مؤلف کے وضع کردہ صورت میں پیش کرنا عمومی طور پر تحقیق کا اصل مقصد ہے، اور یہ متفق علیہ معاملہ ہے جس کی اس فن میں کام کرنے والے اور ریسرچ کرنے والوں نے صراحت کی ہے۔)
    لیکن ایک محقق کا کام یہیں پر ختم نہیں ہوجاتا، اس کے علاوہ بھی نص کتاب کی مختلف زاویوں سے خدمت ایک محقق کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہے لیکن اس کا درجہ اس کے بعد آتا ہے۔ اگر کسی کتاب کی تحقیق میں صرف اس خاص اور اصل مقصد ہی پر مکمل توجہ صرف کی گئی ہو اور اس میں اس کے علاوہ مزید کچھ بھی نہ ہو پھر بھی "تحقیق" میں اس کا شمار کیا جاسکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر نص ِکتاب کی مختلف زاویہ سے خدمت تو موجود ہو لیکن "مؤلف کے نص سے قریب ترین شکل وصورت میں اسے منظر عام پر لانے کی کوشش" نہ کی گئی ہو تو اسے تحقیق کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ اسے خدمت، اعداد للنشر، اعتناء، واہتمام وغیرہ مختلف نام تو دئے جا سکتے ہیں لیکن تحقیق نہیں۔

    جاری...........
     
    • زبردست زبردست x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  2. ‏فروری 23، 2019 #2
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    841
    موصول شکریہ جات:
    237
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    علمی کتب کی تحقیق کے چند اہم اصول وضوابط
    تحریر: فاروق عبد اللہ نراین پوری
    (دوسری قسط)

    محقق کے اخلاقی اوصاف:
    ایک محقق کا درج ذیل اخلاقی اوصاف سے متصف ہونا ضروری ہے۔

    (1) علمی امانت:
    در اصل کسی علمی تراث کی تحقیق ایک بہت بڑی امانت ہے۔ اس لئے محقق کو علمی امانت کی صفت سے متصف ہونا بہت ہی ضروری ہے تاکہ تحقیق نص کے دوران ان سے کوئی علمی خیانت نہ سرزد ہو جائے۔

    محقق کی علمی امانت کا تقاضہ یہ ہے کہ مؤلف کی وضع کردہ قریب ترین صورت میں کتاب قارئین کے سامنے پیش کردے، اس میں کسی طرح کی کوئی کمی وبیشی نہ کرے۔
    عموما کسی تحقیق شدہ کتاب میں علمی امانت کے متعلق دو طرح کا خلل ہمیں نظر آتا ہے۔

    پہلا: بعض محققین کا حسن قصد کی بنا پر مؤلف کتاب کی غلطیوں کی متنِ کتاب میں اصلاح کرنا۔ یا اس پر مزید حسن ونکھار لانے کے لئے بعض چیزوں کا متن کے اندر اضافہ کرنا۔
    حالانکہ یہ طریقہ بالکل غیر مناسب ہے، کسی کتاب کی تحقیق کا مقصد مؤلف کی غلطیوں کو چھپانا یا اصلاح کرنا، یا اس میں نکھار پیدا کرنا نہیں ہوتا۔ اگر محقق اس طرح کی کوئی ضرورت محسوس کرے تو مطلوبہ کلمات پر نوٹ چڑھا کر حاشیہ میں صحیح معلومات سے قارئین کو آگاہ کر سکتے ہیں، بلکہ کرنا چاہئے، لیکن متن کتاب میں تبدیلی یا اضافہ کا حق کسی محقق کو نہیں ہے۔

    شیخ عبد السلام ہارون فرماتے ہیں : "ليس تحقيق المتن تحسينًا أو تصحيحًا، وإنما هو أمانة الأداء التي تقتضيها أمانة التاريخ، فإن متن الكتاب حكم على المؤلف، وحكم على عصره وبيئته، وهي اعتبارات تاريخيه لها حرمتها، كما أن ذلك الضرب من التصرف عدوان على حق المؤلف الذي له وحده حق التبديل والتغيير". (تحقيق النصوص ونشرها ص44)
    اس عبارت کا مفہوم یہ ہے کہ کسی متن کی تحقیق کا مقصد اس کی اصلاح یا اس کو بہتر بنانا نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک امانت ہے جس کی امانت تاریخ تقاضہ کرتی ہے کہ اسے جوں کا توں اہل علم کے سامنے پیش کر دیا جائے۔ متن کتاب کے ذریعہ مؤلف کتاب، اس کے زمانے اور ماحول پر حکم لگایا جاتا ہے۔ یہ تاریخی اعتبارات ہیں جن کی اپنی ایک حرمت ہے۔ تبدیل وتغییر کا حق صرف مؤلف کو حاصل ہے، اور اس طرح کا تصرف مؤلف کے اس حق کی پامالی ہے۔

    چنانچہ حسن قصد کی بنا پر بعض محققین سے ایسی غلطیاں ہوئی ہیں، مثلا تقریب التہذیب للحافظ ابن حجر کے دار العاصمہ والے طبعہ میں محقق کتاب شیخ ابو الاشبال صغیر احمد شاغف الباکستانی حفظہ اللہ نے متن کتاب کے اندر جن تراجم میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے راوی کا طبقہ یا جرح وتعدیل کے اعتبار سے مقام ومرتبہ ذکر نہ کیا تھا انہیں تہذیبین یا دوسرے مصادر سے استفادہ کرکے اپنی طرف سے قوسین (بریکیٹ) میں اضافہ کر دیا ہے۔ گرچہ اسے انہوں نے قوسین کے اندر رکھا ہے، لیکن چونکہ یہ حافظ ابن حجر کی بات نہیں ہے اس لئے اسے متن میں رکھنے کی گنجائش نہیں ہے۔ محقق کو چاہئے تھا کہ نوٹ چڑھا کر حاشیہ میں ان چیزوں کو ذکر کرتے۔
    اگر یہ مؤاخذہ نہ ہوتا تو اسے تقریب کا سب سے بہترین طبعہ کہا جا سکتا تھا۔

    شیخ احمد الخراط فرماتے ہیں: "ليست الغاية من التحقيق تحسين أسلوب المؤلف وتصحيح أخطائه, أو أخطاء عصره, وإنما الغاية –كما قلنا- عرض الكتاب كما يريده مؤلفه ثم خدمة نصه...الخ". (محاضرات في تحقيق النصوص لأحمد الخراط ص49)
    (مؤلف کے اسلوب کو بہتر بنانا اور ان کی یا ان کے زمانے کی غلطیوں کی اصلاح کرنا تحقیق کا مقصد نہیں ہے۔ بلکہ تحقیق کا مقصد یہ ہے کہ مؤلف کتاب کی منشا کے مطابق کتاب پیش کر دی جائے پھر اس کی نص کی خدمت کی جائے۔ )

    پس ایک محقق کے لئے علمی امانت سے متصف ہونا نہایت ہی ضروری ہے۔ علامہ عبد العزیز میمنی راجکوٹی سلفی اور علامہ عبد الرحمن بن یحی المعلمی رحمہما اللہ میدان تحقیق کے ایسے درخشندہ ستارے ہیں جن کی علمی امانت میں مثالیں دی جاتی ہیں۔

    دوسرا: بعض محققین کا مذہبی یا ذاتی مقاصد کی خاطر مؤلف کتاب کی نص میں قطع وبرید کرنا۔
    یہ ایک بہت بڑی خیانت ہے۔

    شیخ ایاد خالد الطباع فرماتے ہیں: "محقق کا ذاتی یا مذہبی خواہشات پرستی سے دور رہنا ضروری ہے۔ اسی طرح کثرت تالیفات کی رغبت، مال وزر کی لالچ یا دوسروں کی محنتوں کو ہڑپنے کے مقصد سے کسی بھی شکل وصورت میں کتاب منظر عام پر لاکر اس سے کھلواڑ کرنے سے بچنا واجب ہے۔ (منهج تحقيق المخطوطات لإياد خالد الطباع ص 42).

    شیخ بکر بن عبد اللہ ابو زید رحمہ اللہ نےاپنی کتاب"تحریف النصوص من مآخذ اہل الاہواء فی الاستدلال" میں اس طرح کی بہت ساری علمی خیانتوں اور تحریفات سے پردہ اٹھایا ہے۔

    بعض محققین اس جرم میں ملوث پائے گئے، جنہوں نے جان بوجھ کر مؤلف کی نص سے چھیڑ چھاڑ کی اور اس کو اپنے مطلب و فکر کا جامہ پہنایا۔ چنانچہ زاہد کوثری نے الانتقاء لابن عبد البر، الاختلاف فی اللفظ لابن قتیبہ، الاسماء والصفات للبیہقی، شروط الأئمہ للحازمی والمقدسی اور ذیول تذکرۃ الحفاظ للذہبی وغیرہ کتب پر اپنی تعلیقات میں ایسی حرکتیں کی ہیں۔
    اسی طرح ان کے شاگرد عبد الفتاح ابو غدہ نے کئی جگہوں پر شیخ الاسلام ابن تیمیہ ، ابن القیم، ذہبی، ابن حجر وغیرہ کی عبارتوں میں کمی وبیشی، قطع وبرید، تقدیم وتاخیر اور تلفیق وغیرہ جیسی حرکتیں کی ہیں۔ (دیکھیں : تحریف النصوص من مآخذ اہل الاہواء فی الاستدلال، ص 160-161، اور ص 191-240)

    مصنف ابن ابی شیبہ کو جب ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی، پاکستان والوں نے چھاپا تو اس میں وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی حدیث : "رأيت النبي صلى الله عليه وسلم وضع يمينه على شماله في الصلاة" کے آخر میں "تحت السرۃ" کا اضافہ کردیا۔ (دیکھیں مذکورہ ایڈیشن کا 1/390)۔
    حالانکہ سابقہ طبعات اور قلمی نسخوں میں یہ لفظ کہیں موجود نہ تھا۔ مولانا حبیب الرحمن اعظمی حنفی نے بھی جب اپنی تحقیق سے مکتبہ امدادیہ سے مصنف ابن ابی شیبہ کو شائع کیا تو اس میں بھی "تحت السرۃ " کی تحریف موجود تھی۔ (تفصیل کے لئے دیکھیں: تحریف النصوص من مآخذ اہل الاہواء فی الاستدلال، ص 255-256).
    یہ بھی اسی علمی خیانت کی ایک مثال ہے۔

    اسی طرح نیل الاوطار کے قدیم اور بعض جدید طبعات میں معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ لعنت کی بد دعا بھی اسی قبیل سے ہےکیونکہ نفیس اور معتمد مخطوطات میں لعنت کا کوئی ذکر نہیں ہےجیسے کہ شیخ صبحی حسن حلاق رحمہ اللہ نے اپنی تحقیق میں ان صفحات کی تصویر کے ساتھ اسے بیان کیا ہے۔

    اس طرح کی مثالیں بے شمار ہیں۔
    خلاصہ کلام یہ کہ علمی امانت سے متصف ہونا ایک محقق کے لئے نہایت ہی ضروری ہے۔

    جاری........
     
  3. ‏فروری 23، 2019 #3
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    841
    موصول شکریہ جات:
    237
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    علمی کتب کی تحقیق کے چند اہم اصول وضوابط
    تحریر: فاروق عبد اللہ نراین پوری
    (تیسری قسط)

    محقق کے اخلاقی اوصاف
    (2) صبر وتحمل:

    محترم قارئین! گزشتہ قسط میں آپ نے پڑھا کہ محقق کتاب کا علمی امانت سے متصف ہونا نہایت ہی ضروری ہے۔ علمی امانت کے ساتھ ساتھ ایک محقق کے اندر ایک اور صفت کا پایا جانا بہت ہی ضروری ہے ، وہ ہے صبر وتحمل، کیونکہ ایک محقق کا سامنا ہمیشہ مخطوطات سے ہوتا ہے۔ اور مخطوط کو صحیح صحیح پڑھنا کوئی آسان کام نہیں۔ قدیم مخطوطات میں بلکہ نویں صدی ہجری تک کے مخطوطات میں عموما نقطے وغیرہ نہیں ہوتے، بہت سارے رموز واوقاف ہوتے ہیں، خطوط اور اور رسم واملا کا بھی کافی فرق ہوتا ہے۔ (مخطوط کے اندر پیش آنے والی مشکلات کا بالتفصیل بیان آگے کی قسطوں میں آرہا ہے، ان شاء اللہ)
    بسا اوقات ایک لفظ کو پڑھنے میں گھنٹوں لگ جاتے ہیں۔ بلکہ ہفتوں اور مہینوں کے بعد بسا اوقات بعض الفاظ حل ہوتے ہیں۔ شیخ البانی رحمہ اللہ کی سوانح حیات میں بعض ایسے واقعات ملتے ہیں کہ شیخ نے ایک لفظ کو پڑھنے کے لئے کئی کئی دن گزار دئے ہیں، تب انہیں کامیابی ملی ہے۔
    بسا اوقات بعض کلمات تحریف شدہ یا تصحیف شدہ ہوتے ہیں جن تک موجودہ مصادر سے کوئی مدد نہیں ملتی۔

    ایک محقق کن کن پریشانیوں سے گزر کر ایک مخطوط کو منظر عام پر لاتا ہے اس کا صحیح اندازہ قارئین کو کبھی نہیں ہو سکتا۔ اور جن کا اس میدان سے تعلق نہیں ہے وہ تو تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اسے صرف وہ اور اس کا رب ہی جانتا ہے۔ اسی لئے اکثر ان کی محنتوں کی تنقیص وہی کرتے ہیں جن کا اس میدان سے کوئی خاص عملی واسطہ نہیں ہوتا، یا ہوتا تو ہے لیکن اللہ تعالی کے فضل وکرم سے انہیں ایسی پریشانیوں سے دوچار نہیں ہونا پڑا ہے۔ (تفصیلات کے لئے دیکھیں: ڈاکٹر احمد الخراط کی کتاب محاضرات فی تحقیق النصوص، ص 23، اور فی منہج تحقیق المخطوطات لمطاع الطرابیشی ص 31)

    اسی طرح نص کتاب کی خدمت کے وقت اسے مختلف طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایک عام باحث اپنے محتویات کے ساتھ آزاد ہوتا ہے لیکن ایک محقق نص کتاب کے ساتھ مقید ومحبوس ہوتا ہے۔ بعض نصوص کی توثیق کے لئے اسے بسا اوقات محولہ کتاب کو شروع سے آخر تک پورا کھنگالنا پڑتا ہے، تب جاکر اسے کامیابی ملتی ہے، بلکہ بسا اوقات تب بھی کامیابی نہیں ملتی۔ خود راقم الحروف ایسے تجربات سے گزر چکا ہے۔

    اور بسا اوقات ہفتوں کی محنت کے بعد محقق اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ مؤلف کتاب سے اسے نقل کرنے یا فلاں کتاب یا فلاں عالم کی طرف اسے منسوب کرنے میں وہم ہوا ہے۔

    اس لئے ایک محقق کے اندر صبر وتحمل کی صفت کا پایا جانا نہایت ہی ضروری ہے۔

    جاری........
     
  4. ‏فروری 24، 2019 #4
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    841
    موصول شکریہ جات:
    237
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    علمی کتب کی تحقیق کےچند اہم اصول وضوابط
    تحرير: فاروق عبد اللہ نراین پوری
    (چوتھی قسط)

    محقق کے علمی اوصاف

    علمی امانت اور صبر وضبط کے اخلاقی اوصاف سے متصف ہونے کے ساتھ ساتھ چند علمی اوصاف سے متصف ہونا ایک محقق کے لئے بہت ضروری ہے،جن کا بیان آگے آرہا ہے۔

    (1) مخطوطات پڑھنے میں مہارت اور اس کا تجربہ ہو:

    پہلے یہ وضاحت گزر چکی ہے کہ تحقیق کا اصل مقصد کتاب کو اسی صورت میں پیش کرنے کی حتی الامکان کوشش ہے جس صورت میں مؤلف کتاب نے اسے چھوڑا تھا۔ اس کے لئے مخطوط کو صحیح صحیح پڑھنا بہت ہی ضروری ہے۔ ورنہ کتاب اپنی اصل صورت سے نکل جائےگی۔ مخطوط کو پڑھنا بھی ایک مستقل فن ہے، اور مشق وتمرین کے ساتھ اس میں مہارت پیدا ہوتی ہے۔ کبار علما و محققین کی صحبت میں رہ کر اس میں درک حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ مخطوط کے اندر بہت سارے اصطلاحات اورموز ہوتے ہیں جن کو جانے بغیر تحقیق کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، خصوصا اگر وہ مخطوط علوم حدیث سے تعلق رکھتا ہو ۔ علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے تدریب الراوی کے آخر میں اس کے بعض اصول وضوابط ذکر کئے ہیں، جنہیں پڑھنا محققین کے لئے خصوصا حدیث وعلوم حدیث کے طلبہ کے لئے بہت ہی ضروری ہے۔

    قدیم مخطوطات میں عموما نقطے نہیں ہوتے، بلکہ نویں صدی ہجری تک کے مخطوطات میں ہمیں یہ معاملہ نظر آتا ہے، شیخ عبد السلام محمد ہارون فرماتے ہیں کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (متوفی 852 ہجری) کے ہاتھ کے لکھے ہوئے نسخوں میں یہ چیز واضح طور پر موجود ہے۔ (تحقيق النصوص ونشرها ص: 40)

    " فتح الباری لشرح صحیح البخاری" کی تحقیق کے لئے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے شاگرد ابن حرمی رحمہ اللہ (متوفی 875ہجری) کا جو نسخہ میرے پاس ہے اس میں بیشتر جگہوں پر نقطے نہیں ہیں، کیونکہ انہوں نے اپنے ہم عصر لوگوں کے حساب سے اسے لکھا تھا، جب کہ آج کسی کے لئے بھی بغیر نقطوں والی کسی عبارت کو پڑھنا بہت مشکل ہے۔

    شیخ عبد السلام ہارون فرماتے ہیں: "قد يوجد في الخط القديم من إهمال النقط والإعجام، ومن إشارات كتابية لا يستطاع فهمها إلا بطول الممارسة والإلف, وهذا الأمر يتطلب عالما في الفن الذي وضع فيه الكتاب، متمرسا بخطوط القدماء"۔ (تحقيق النصوص ونشرها ص: 39)
    (بسا اوقات قدیم خط میں نقطے نہیں ہوتے۔ کتابت کے بعض ایسے رموز واشارات ہوتے ہیں جنہیں طویل مشق اور خاص لگاؤ کے بغیر نہیں سمجھا جا سکتا ، یہ کام اس بات کا متقاضی ہے کہ جس فن پر کتاب لکھی گئی ہے محقق اس فن کا جانکار ہو اور قدیم علما کے خطوط کا تجربہ کار ہو۔)

    تیسری صدی ہجری تک کوفی خط کا رواج تھا، شروع شروع میں اہل عرب کوفی خط میں نہ نقطے استعمال کرتے تھے اور نہ حرکات، مرور ایام کے ساتھ حسب ضرورت ان چیزوں کا اضافہ ہوتا رہا ہے، قرآن کریم کے قدیم نسخوں میں اسے بآسانی ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔

    عربی خطوط میں نقطوں کی شروعات اعراب کے نقطوں سے ہوئی ہے، اعجام کے نقطوں سے نہیں ۔ اعراب کے نقطوں کا مطلب یہ ہے کہ جہاں حرکات کی ضرورت محسوس کرتے وہاں مطلوبہ حرف پر زبر کے لئے حرف کے بالکل اوپر ایک نقطہ ڈال دیتے تھے، زیر کے لئے حرف کے نیچے ایک نقطہ استعمال کرتے، اور پیش کے لئے اوپر حرف کے سامنے (بالکل اوپر نہیں) ایک نقطہ رکھتے، اور تنوین کے لئے دو نقطوں کا استعمال کرتے۔ اسے نقطۃ الاعراب کہتے ہیں۔ اس لئے آپ کسی قدیم مخطوط میں واو، لام، میم وغیرہ پر بھی نقطے دیکھ سکتے ہیں۔ نا تجربہ کار اسے نقطے کا غلط استعمال سمجھ سکتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ استعمال غلط نہیں ہے۔ اعراب کے ان نقطوں کی شروعات ابو الاسود الدؤلی رحمہ اللہ نے کی تھی، انہوں نے علی رضی اللہ عنہ کا زمانہ پایا ہے۔

    اعجام کے نقطوں (مثلا: ب ت ث ج خ وغیرہ کے نقطے) کی شروعات اس کے بعد ہوئی ہے۔ اسے عبد الملک بن مروان کے زمانے میں حجاج بن یوسف کی امارت میں نصر بن عاصم نے انجام دیا تھا۔ اس لئے کسی قدیم مخطوط میں نقطہ کی تمییز ضروری ہے کہ کہیں وہ اعراب کا نقطہ تو نہیں ۔
    زبر زیر پیش وغیرہ کی موجودہ شکل خلیل بن احمد الفراہیدی رحمہ اللہ کی ایجاد ہے۔ (تفصیلات کے لئے دیکھیں ڈاکٹر محمد التو نجی کی کتاب "المنہاج فی تالیف البحوث وتحقیق المخطوطات"، ص 155)

    (نوٹ: عربی خطوط کے اندر مذکورہ تطور اور ترقی کو میں نے ایک مختصر ویڈیو میں پریکٹیکل سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ یہ ویڈیو صرف 9 منٹ دس سکنڈ کا ہے۔ اپنا قیمتی وقت نکال کر ایک بار اسے دیکھیں شاید کچھ فائدہ ہو۔ درج ذیل لنک سے آپ اس ویڈیو کو دیکھ سکتے ہیں:)
    )

    ساتویں صدی ہجری کے بعد کے مخطوطات میں خط ثلث، نسخ اور محقق کا رواج بڑھا ہے۔
    اور فارسی خطوط مثلا تعلیق، نستعلیق، مکسر وغیرہ کی شہرت گرچہ چھٹی ساتویں صدی ہجری میں ہو گئی تھی لیکن حقیقت میں دسویں اور گیارہویں صدی میں وہ پروان چڑھا ہے اور اپنے کمال تک پہنچا ہے۔ (دیکھیں : المنہاج فی تالیف البحوث وتحقیق المخطوطات، ص 156)

    اسی طرح مخطوطات میں املا کا بھی کافی فرق پایا جاتا ہے۔ مثلا الف مقصورہ کے لکھنے میں عصر حاضر اور عصر قدیم میں کافی فرق ہے۔ اسی طرح کاف اور طاء کا معاملہ ہے۔ایک ناتجربہ کار شخص قدیم مخطوطات میں لفظ "شرط" کو "شرک" پڑھ سکتا ہے۔ مغربی خط کا معاملہ اس سے بھی الگ ہے، پہلی نظر میں اسے پڑھنا بعض لوگوں کے لئے ٹیڑھی کھیر ثابت ہو سکتی ہے۔

    اندلسی مخطوطات میں حروف بالکل گول گول ہوتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ ایک کلمہ دوسرے کلمے میں داخل ہو گیا ہے۔ ان میں فاء اور قاف کے مابین فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے ، اگر نیچے ایک نقطہ ہو تو اس کا مطلب فاء ہے اور اوپر ایک نقطہ ہو تو اس کا مطلب قاف ہے۔ (دیکھیں: المنہاج فی تالیف البحوث وتحقیق المخطوطات، ص 156)

    اسی طرح بعض مخطوطات میں سین مہملہ اور شین معجمہ کے مابین فرق کرنے کے لئے سین مہملہ کے نیچے تین نقطے رکھ دیتے ہیں۔

    املا اور خطوط کے معاملہ کو آسان کرنے والی ایک بہترین کتاب ہے "المَطَالِعُ النَّصرية للمَطَابِعِ المصريَّةِ في الأصُول الخَطيَّةِ" لنصر أبی الوفاء بن الشيخ نصر يونس الوفائي الهوريني الأحمدي الأزهري الأشعري الحنفي الشافعيّ (المتوفى: 1291هـ)۔ اس کتاب کے مطالعہ سے ان شاء اللہ ایک حد تک املا اور خطوط کی مشکلات حل ہو جائیں گی۔ لیکن یہ کافی نہیں ہے، اصل یہی ہے کہ اس فن میں ممارست اور مشق وتمرین کے ذریعہ تجربہ اور مہارت پیدا کی جائے۔

    مخطوط کو صحیح صحیح پڑھنے کے علاوہ اس میں موجود رمواز واوقاف سے واقف ہونا بہت ہی ضروری ہے، خصوصی اگر لکھنے والے نے اسے لکھ کر حذف (ڈیلیٹ) کر دیا ہو۔ ہماری طرح مخطوطات کے ناسخین کسی کلمہ یا عبارت کو حذف کرنے کے لئے اس پر بار بار قلم چلا کر ناقابل قرأت نہیں کر دیتے، بلکہ اس کے لئے مخصوص رموز کا استعمال کرتے ہیں۔ بعض ناسخین اس کے لئے قوسین (بریکیٹ) کا استعمال کرتے ہیں۔ بعض اس پر ایک لکیر کھینچ دیتے ہیں۔ بعض شروع اور آخر میں ایک ایک دائرہ رکھ دیتے ہیں۔ اور بعض دوسرے رموز کا استعمال کرتے ہیں۔ علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے تدریب الراوی (1/515-518) میں اس کی اور کئی ایک صورتیں ذکر کی ہیں۔

    مخطوط میں استعمال ہونے والے بعض دوسرے اہم رموز یہ ہیں: لحق، حاشیہ، تصحیح، تضبیب، وغیرہ۔ ان کی معرفت کے لئے تدریب الراوی (1/514) وغیرہ کی طرف رجوع کریں۔

    ان تمام امور سے کلی واقفیت کے بغیر تحقیق کا کام کرنا بہت ہی مشکل ہے۔ اس لئے کسی عالم دین کا شرعی علوم کا سمندر ہونا ایک الگ معاملہ ہے اور مخطوطات کو صحیح طریقے سے پڑھنا بالکل ایک الگ معاملہ۔ اگر کسی نے اس میدان میں ایک مدت تک وقت نہ گزارا ہو تو علم کا سمندر ہونے کے باوجود بھی وہ نہ تو تحقیق کر سکتا ہے اور نہ ہی تحقیق کے باب میں دوسروں کوکوئی فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ لہذا اس کام کے لئے ایسے علماکی طرف رجوع کرنا ضروری ہے جنہیں اس میدان کا اچھا خاصا تجربہ حاصل ہو۔

    جاری۔۔۔۔۔۔۔
     
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  5. ‏فروری 24، 2019 #5
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    841
    موصول شکریہ جات:
    237
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    (پانچویں قسط)
    علمی کتب کی تحقیق کے چند اہم اصول وضوابط
    تحریر: فاروق عبد اللہ نراین پوری

    مخطوطات میں استعمال ہونے والے بعض مشہور رموز واشارات کی تشریح

    محترم ومعزز قارئین!
    گزشتہ قسط میں ذکر کیا گیا تھا کہ مخطوطات میں بعض کلمات اشارات اور رموز کی شکل میں لکھے جاتے ہیں، صراحت کے ساتھ نہیں لکھے جاتے، محقق کاان رموز واشارات سے واقف ہونا نہایت ہی ضروری ہے۔
    اس سے پہلے کہ محقق کے علمی اوصاف میں سے دوسرے وصف کا تذکرہ کیا جائے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بہ کثرت استعمال ہونے والے بعض رموز کی مختصر تشریح پیش کر دی جائے۔ واضح رہے کہ ان میں سے بعض رموز آج بھی مطبوعہ کتابوں میں مستعمل ہیں، اس لئے انہیں جاننے کی ضرورت صرف محقق کو نہیں بلکہ عام قارئین کو بھی ہے۔

    بعض رموز کا مختصر بیان یہ ہے:

    (ث) بعض کلمات کے اوپر حرف "ث" لکھا ہوتا ہے، یہ مثلث لغوی کی طرف اشارہ ہوتا ہے، یعنی اس کلمے کو تینوں طرح پڑھا جا سکتا ہے۔

    (عــــــــ) بعض کلمات میں اس طرح حرف عین کا سر لکھا ہوا ہوتا ہے، یہ "لعلہ کذا" کا مخفف ہے، اور بسا اوقات عین کے نیچے اسے لکھتے ہیں یہ بتانے کے لئے کہ یہ عین مہملہ ہے، غین معجمہ نہیں۔

    (ک) یہ" کذا فی الأصل" کا مخفف ہے۔

    اگر کسی کلمہ کو لکھنے میں تقدیم وتاخیر ہو گئی ہوتو اس کے لئے (خ) و (ق)، یا (خ) و (م)، یا (م) و(م) کا استعمال کرتے ہیں۔

    (خ) اس سے دوسرے نسخوں کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہوتا ہے، یعنی دوسرے نسخے میں اس طرح ہے۔

    (حش) یا (ح) یہ "حاشیہ" کا مخفف ہے۔
    (ش) یہ "شرح" کا مخفف ہے۔
    (ص) یہ "مصنف" کا مخفف ہے۔
    (رضی) یہ "رضی اللہ عنہ " کا مخفف ہے۔
    (الش) یہ "الشارح" کا مخفف ہے۔
    (ایض) یہ "ایضا" کا مخفف ہے۔
    (لا یخ) یہ "لا یخفی" کا مخفف ہے۔
    (الظ) یہ "الظاہر" کا مخفف ہے۔
    (الخ) یہ "الی آخرہ" کا مخفف ہے۔
    (اھ) یہ "انتھی" کا مخفف ہے۔
    (ج) یہ "جمع" کا مخفف ہے۔
    (جج) یہ "جمع الجمع" کا مخفف ہے۔
    (ججج) یہ "جمع جمع الجمع" کا مخفف ہے۔
    (معا) یعنی دونوں طرح پڑھنا جائز ہے۔
    (ثنا) یہ "حدثنا" کا مخفف ہے۔
    (نا) یہ بھی "حدثنا" کا مخفف ہے۔
    (دثنا) یہ بھی "حدثنا" کا مخفف ہے۔
    (قثنا) یہ "قال حدثنا" کا مخفف ہے۔
    (ثنی) یہ "حدثنی" کا مخفف ہے۔
    (أنا) یہ "أخبرنا" کا مخفف ہے۔
    (أرنا) یہ بھی "أخبرنا" کا مخفف ہے۔
    (أبنا) یہ بھی "أخبرنا" کا مخفف ہے۔
    (ح) ایک سند دوسرے سند کی طرف تحویل کا اشارہ ہے۔
    (مزید تفصیلات کے لئے مراجعہ کریں امام سیوطی کی کتاب تدریب الراوی کی 25 ویں نوع "کتابۃ الحدیث وضبطہ" اور ایاد خالد الطباع کی کتاب "منہج تحقیق المخطوطات"، ص47-52)

    یہ تو غالبا عام اصطلاحات اور اشارات ہیں جنہیں ناسخین مخطوطات میں استعمال کرتے ہیں، لیکن بعض مؤلفین کے کچھ خاص رموز و اصطلاحات بھی ہوتے ہیں جنہیں عموما وہ اپنے مقدمہ میں ذکر کرتے ہیں، جیسے کہ حافظ مزی نے تہذیب الکمال میں، حافظ ذہبی نے میزان الاعتدال میں، حافظ ابن حجر نے تقریب التھذیب، لسان المیزان و تعجیل المنفعہ وغیرہ میں استعمال کیا ہے۔ بسا اوقات ایک ہی رمز کا مطلب مختلف کتابوں میں مختلف ہوتا ہے۔
    ان تمام امور کی معرفت محقق کو ہونا نہایت ہی ضروری ہے۔

    جاری....
     
  6. ‏فروری 25، 2019 #6
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    841
    موصول شکریہ جات:
    237
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    (چھٹی قسط)
    علمی کتب کی تحقیق کے چند اہم اصول وضوابط
    تحریر: فاروق عبد اللہ نراین پوری

    محقق کے علمی اوصاف:

    (2) جس فن پر کتاب لکھی گئی ہو محقق اس فن کی باریکیوں کا علم رکھتا ہو۔

    شیخ عبد السلام ہارون فرماتے ہیں: "وهذا الأمر يتطلب عالما في الفن الذي وضع فيه الكتاب"۔ (تحقيق النصوص ونشرها ص: 39(
    (تحقیق کا کام اس بات کا متقاضی ہے کہ جس فن پر کتاب لکھی گئی ہے محقق اس فن کا جانکار ہو۔)

    ایک محقق کا کام صرف نص کتاب کو مؤلف کتاب کے وضع کردہ قریب ترین صورت میں پیش کرنا ہی نہیں ہوتا، بلکہ اس کے علاوہ بھی ان کے ذمہ بے شمار علمی کام ہوتے ہیں (جن کا تفصیلی بیان اگلی قسطوں میں آرہا ہے) ۔ اگر فن کتاب کی باریکیوں کا انہیں علم نہ ہو تو زیر تحقیق کتاب کا وہ وہی حشرکریں گے جو ایک چھوٹا بچہ بضد ہوکر اپنے ہاتھ سے کھاتے وقت اپنے ہاتھ منہ اور لباس کا کرتا ہے۔

    ابھی کچھ دنوں پہلے حدیث کی ایک مشہور کتاب کی تحقیق نظر سے گزری، کتاب اس سے پہلے تین چار بار شائع ہو چکی ہے، پہلے ہی بعض کبار علما نے اس کی تحقیق کی ہوئی ہے، نئی تحقیق ایک ایسے محقق کی ہے جنہوں نے ثانویہ تک کی اکیڈمک پڑھائی کی ہے،سرورق پر فاضل محقق دعوی کرتے ہیں کہ "یحقق کاملا لاول مرۃ"، یہ دعوی جتنا عظیم الشان ہے، اس دعوے کی دھجیاں انہوں نے اس سے بھی عظیم الشان طریقے سے اڑائی ہے۔ جب اس کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ کتاب کا کوئی قلمی نسخہ فاضل محقق کی نظروں سے گزرا تک نہیں ہے۔ بعض قدیم طبعات پر ہی جناب کا پورا دار ومدار ہے۔ کام صرف یہ کیا ہےکہ کتاب میں موجود آثار صحابہ وتابعین پر کتاب کی ظاہری سند پر اعتماد کرتے ہوئے حکم لگا دیا ہے، ان آثار کے موجودہ طرق کو جمع کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ ان کا یہ عمل سابقہ عمل سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ کیونکہ علوم حدیث کا ہر طالب جانتا ہے کہ کسی بھی حدیث یا اثر پر اس کے تمام طرق کو جمع کئے بغیر صحیح حکم نہیں لگایا جا سکتا۔ امام علی بن المدینی فرماتے ہیں: "الْبَابُ إِذَا لَمْ تُجْمَعْ طُرُقُهُ لَمْ يَتَبَيَّنْ خَطَؤُهُ "۔ (مقدمة ابن الصلاح، ص: 91(

    لہذا محقق کو چاہئے کہ جس کتاب کی تحقیق کرنا چاہتا ہے پہلے اس فن میں مہارت پیدا کرے، اس کی باریکیوں کا علم حاصل کرے، عربی زبان سمجھنے اور سمجھانے پر قدرت پیدا کرے، پھر تحقیق کے میدان میں قدم رکھے، ورنہ بیشتر مقامات پر وہ ایسی ٹھوکر کھا سکتا ہے جس کا وہ تصور تک نہیں کر سکتے۔مشہور مقولہ ہے "إذا تكلم الرجل في غير فنه يأتي بالعجائب".

    آج ہر علمی محاذ پر برادرس کی غیر محمود دخل اندازی ہے، یہی صورت حال علمی کتب کی تحقیق کے ساتھ بھی ہے۔چنانچہ بہت سارے ایسے محققین آپ کو میدان تحقیق میں نظر آئیں گے جنہوں نے متعلقہ فنون کو متمکن اساتذہ سے صحیح طریقہ سے پڑھا ہی نہیں ہے، اور تحقیق کے میدان میں زور آزمائی شروع کر دی ہےنتیجۃً ان کی تحقیق عجائب کا مجموعہ ہوکر رہ گئی ہے۔ مثلا ایک کتاب کی تحقیق میں ابن لبون (اونٹنی کا ایسا بچہ جو دو سال مکمل کرنے کے بعد تیسرے سال میں داخل ہو گیا ہو) پر ایک محقق کا نوٹ دیکھنے کو ملا، فرماتے ہیں کہ مجھے ابن لبون کا کہیں ترجمہ (سوانح) نہیں ملا۔ لفظ ابن دیکھ کر شاید انہوں نے اسے کوئی علامہ فہامہ سمجھ لیا تھا۔

    اسی طرح کےایک برادر محقق ہیں ڈاکٹر عبد المعطی امین قلعجی، جو کہ ایک طبی ڈاکٹر ہیں، تحقیق کے لئے انہوں نے طبی کتب کا نہیں بلکہ کتب حدیث کا انتخاب کیا ہے، چنانچہ متعدد کتب حدیث میں محقق کے طور پر ان کا نام ہمیں نظر آتا ہے۔انہوں نے تحقیق کے نام پر وہی گل کھلائے ہیں جو کسی برادر سے توقع کی جاتی ہے۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے متعدد جگہوں پر ان کی علم حدیث سے لاعلمی پر زبردست گرفت کی ہے۔
    ایک جگہ فرماتے ہیں: "ولقد بلغني عن هذا القلعجي أنه ليس دكتوراً بالمتبادر من هذه اللفظة أو اللقب -أي دكتور في الحديث أو على الأقل في الشريعة- وإنما هو طبيب، فإن صح هذا فهو تدليس حديث خبيث لا نعرف له مثيلًا في المتهمين بالتدليس من رواة الحديث أو المؤلفين فيه، والله المستعان". الضعیفہ (12/481)۔
    (اس قلعجی کے بارے مجھے خبر ملی کہ یہ وہ ڈاکٹر نہیں جس کی طرف اس لفظ یا لقب سے ذہن جاتا ہے –یعنی حدیث یا علی الاقل شرعی علوم میں ڈاکٹرہو- بلکہ یہ طبیب ہیں، اگر یہ بات درست ہے تو یہ ایک نئی اور قبیح تدلیس ہےجس کی نہ تو مدلس راویوں کے یہاں اور نہ ہی تدلیس کے موضوع پر کتابیں لکھنے والوں کے یہاں ہی کوئی نظیر ملتی ہے۔واللہ المستعان۔)
    اور ایک جگہ فرماتے ہیں: "فما أجهله بهذا العلم!! وما أجرأه على الخوض فيما لا يعلم!!" الضعيفة (11/ 168)۔
    (اس علم - یعنی علم حدیث-میں یہ کتنے نادان ہیں!! اور جس علم سے انہیں کوئی سروکار ہی نہیں اس سے الجھنے میں یہ کتنے جری ہیں!!)

    اس لئے ضروری ہے کہ جس فن کی کتاب ہے محقق کو اس فن کی باریکیوں کا علم ہو۔ ایک عالم دین عموما تمام شرعی علوم کی باریکیوں کا علم نہیں رکھتا، ہر ایک کی رغبتیں یکساں نہیں ہوتیں، کوئی فن تفسیر کا ماہر ہوتا ہے تو کوئی علوم قرأت کا، کوئی فقہ اور اصول فقہ کا متخصص ہوتا ہے تو کسی نے اپنی پوری محنت حدیث اور علوم حدیث پر صرف کی ہوتی ہے۔ اسی طرح عقیدہ، لغت، ادب، تاریخ، قضا، دعوت اور تربیت وغیرہ کا معاملہ ہے۔ ایک محقق کو اپنے حدود کا علم ہونا چاہئے اور اپنے دائرہ حدود میں ہی تحقیق کے میدان میں قدم رکھنا چاہئے تاکہ کما حقہ وہ کتاب کی خدمت کر سکیں۔

    جاری...
     
  7. ‏فروری 25، 2019 #7
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    841
    موصول شکریہ جات:
    237
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    (ساتویں قسط)
    علمی کتب کی تحقیق کےچند اہم اصول وضوابط
    تحریر: فاروق عبد اللہ نراین پوری

    محقق کے علمی اوصاف:

    (3) محقق مطلوبہ کتاب کے علمی مصادر ومراجع سے واقف ہو:

    نص کتاب کی خدمت کے لئے محقق کا مؤلف کے علمی مصادر ومراجع سے واقف ہونا ضروری ہے تاکہ توثیق النقول کے لئے ان کی طرف رجوع کر سکے۔ مؤلف بھی ایک بشر ہی ہیں، ہو سکتا ہے کہ بعض نصوص کو نقل کرنے میں ان سے چوک ہوئی ہو، یا بعض نصوص کو معنی ً نقل کرنے میں ان سے غلطی ہوئی ہو، ایسے موقع پر محقق کے لئے ضروری ہے کہ صحیح معلومات کی طرف قارئین کی رہنمائی کریں۔ اور یہ کام مؤلف کے مصادر ومراجع سے واقفیت کے بغیر نا ممکن ہے۔

    اس کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب مخطوط اپنی بہترین شکل وصورت میں محقق تک نہ پہنچا ہو۔ مثلا مخطوط میں بعض جگہوں پر بعض حروف مٹے ہوئے ہوں، یا پھٹے ہوئے ہوں، یا کسی بھی سبب پڑھنے کے لائق نہ ہو۔ یا پھر مخطوط اچھی حالت میں تو ہو لیکن اس کے تمام نسخے اعلی معیار کے نہ ہوں، سب سقیم نسخے ہوں۔ یا پھر کوئی اعلی نسخہ ہی ہو لیکن اس کے متعدد نسخے موجود نہ ہوں، صرف ایک ہی نسخہ محقق کو ملا ہو، ایسی صورت میں کتاب کے علمی مصادر ومراجع پر محقق کا عبور حاصل ہونا تحقیق کو آسان بنا دیتا ہے، اور اس کے بغیر بسا اوقات تحقیق کرنا ممکن نہیں رہ جاتا۔

    محقق کا موضوع کتاب کے متعلق علمی گہرائی اس کی تحقیق کو چار چاند لگا دیتا ہے۔ پھر وہ موضوع کے متعلق بہت سارے ایسے گوشوں سے قارئین کو روبرو کراتا ہے جس کا عام محققین کے یہاں فقدان ہوتا ہے۔

    بسا اوقات صاحب کتاب اپنے مصادر کی صراحت نہیں کرتے، کئی کئی صفحات وہ اپنے اسلاف سے نقل کرتے ہیں، متأخرین علما کے یہاں یہ چیز کچھ زیادہ ہی ہے۔ بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ شرح حدیث میں متأخرین علما کے یہاں موجود اکثر وبیشتر مواد امام نووی اور حافظ ابن حجر رحمہما اللہ سے ماخوذ ہوتا ہے تو بیجا نہ ہوگا۔

    امام شوکانی بسا اوقات حافظ ابن حجر سے صفحات نقل کرتے ہیں اور آخر میں کذا فی الفتح کہتے ہیں جس سے بعض لوگوں کو شبہہ ہو سکتا ہے کہ صرف آخری پیراگراف ہی منقول ہے جب کہ معاملہ اس کے بر عکس ہوتا ہے۔

    علامہ نواب صدیق حسن خان بھوپالی رحمہ اللہ کا معاملہ تو اس سے مشکل ہے، آپ بسا اوقات پورا پورا مبحث، بلکہ باب اور کتاب کسی دوسری سابقہ کتاب سے نقل کئے ہوئے ہوتے ہیں جس کا بہت سارے قارئین کو علم نہیں ہوتا، کیونکہ اس کی صراحت نہیں ہوتی۔ ایسے موقع پر اگر محقق مؤلف کے مصدر ومرجع سے واقف نہ ہو تو تحقیق کا حق ادا نہیں کر سکتا۔

    علامہ مبارکپوری رحمہ اللہ نے تحفۃ الاحوذی میں روات کے تراجم میں بہ کثرت تھذیب التھذیب ، تذکرۃ الحفاظ اور وفیات الاعیان سے نقل کیا ہے اور اس کی صراحت بعض جگہوں پر تو موجود ہے، لیکن بہت سارے جگہوں پر کوئی صراحت نہیں ہوتی۔ اگر کوئی تحفۃ الاحوذی کی تحقیق کرنا چاہے اور اسے اس کا علم نہ ہو تو توثیق کا کام کرنا اس کے لئے کافی مشکل ہوجائےگا۔ بلکہ کتاب کا حق ادا نہیں کر پائےگا۔ واضح رہے کہ اس کتاب کی ابھی تک کوئی خدمت نہیں ہوئی ہے۔

    مؤلف کتاب کے علمی مصادر کے متعلق بسا اوقات محقق کو یہ پریشانی لاحق ہوتی ہے کہ جن قدیم مصادر سے انہوں نے استفادہ کیا ہے وہ مصادر ہم تک نہیں پہنچے جن سے محقق نقولات کی توثیق کر سکے، ایسے موقع پر محقق کو ثانوی (دویم درجے کے) مصادر کا علم ہونا چاہئے جن کی طرف وہ رجوع کرکے توثیق کر سکتا ہے۔
    مثلا : صحیح بخاری کے قدیم شارحین میں سے ایک امام مہلب بن ابی صفرہ ہیں، سنہ 435 ہجری میں ان کی وفات ہوئی ہے۔ "شرح صحیح البخاری" کے نام سے انہوں نے صحیح بخاری کی بہترین شرح تصنیف کی تھی، لیکن افسوس کہ یہ عظیم شرح ہم تک نہیں پہنچی۔ تقریبا ان کے بعد آنے والے صحیح بخاری کے تمام شارحین نے ان کی اس شرح کو اپنا ایک خاص مصدر بنایا ہے۔ اب اگر کوئی محقق کسی متأخر الوفات عالم کی شرح بخاری (مثلا الکواکب الدراری للکرمانی، فتح الباری لابن حجر، عمدۃ القاری للعینی، ارشاد الساری للقسطلانی، بلکہ فتح الباری لابن رجب بھی) کی تحقیق کرنا چاہے تو امام مہلب کے ان بے شمار اقوال کی کیسے توثیق کرےگا جو ان کی زیر تحقیق کتاب میں موجود ہے؟ ان کی کتاب تو ہم تک پہنچی ہی نہیں۔
    ایسے موقع پر محقق کو ثانوی مصادر کا علم ہونا بہت ہی ضروری ہے۔ مثلا امام مہلب بن ابی صفرہ رحمہ اللہ کے اقوال کو امام ابن بطال رحمہ اللہ نے کافی زیادہ نقل کیا ہے۔ بلکہ ہزاروں جگہوں پر اتنی کثرت کے ساتھ نقل کیا ہے کہ آپ ابن بطال کی کتاب "شرح صحیح البخاری" کو امام مہلب کی کتاب کا دوسرا نسخہ کہہ سکتے ہیں۔ اور ابن بطال ابن ابی صفرہ کے معاصر ہیں، ابن بطال کی وفات 449 میں ہوئی ہے۔

    اسی طرح امام ابن التین (ابو محمد عبد الواحد صفاقسی متوفی 611) رحمہ اللہ کا معاملہ ہے۔ انہوں نے بھی صحیح بخاری کی ایک شرح لکھی تھی۔ جس کا نام تھا «المخبر الفصيح لفوائد مسند البخاري الصحيح». ان کی شرح سے بھی ان کے بعد آنے والے علما نے کافی استفادہ ونقل کیا ہے۔ اور اتفاق سے ان کی شرح بھی ابھی تک مخطوط ہے، مطبوع نہیں ہے۔ جامعۃ الملک سعود ریاض کے بعض دکتوراہ کے طلبہ اس کی تحقیق میں لگے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالی انہیں اس کا حق ادا کرنے اور منظر عام پر لانے کی توفیق عطا فرمائے۔
    ان کی یہ شرح گرچہ مطبوع نہیں ہے لیکن الحمد للہ علامہ ابن الملقن رحمہ اللہ نے اپنی شرح "التوضیح لشرح الجامع الصحیح" میں ان کے اقوال کو محفوظ کیا ہے۔ لہذا توثیق کے لئے اس ثانوی مصدر کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے۔
    وقس علی ہذا۔

    اس طرح مؤلف کتاب کے مصادر کا علم ہونا تحقیق کو استحکام بخشتا ہے، اور عدم واقفیت کے بقدر تحقیق میں کمزوری آتی ہے۔

    جاری...
     
  8. ‏فروری 26، 2019 #8
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    841
    موصول شکریہ جات:
    237
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    (آٹھویں قسط)
    علمی کتب کی تحقیق کے چند اہم اصول وضوابط
    تحریر: فاروق عبد اللہ نراین پوری

    محقق کے علمی اوصاف:

    (4) محقق مطلوبہ کتاب کے منہج واسلوب اور اصطلاحات سے واقف ہو:

    جس کتاب کی تحقیق کرنی ہو اس کے منہج واسلوب اور اصطلاحات سے محقق کو مانوس ہونا چاہئے ۔اور اس کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس کتاب کو اچھی طرح پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کرے، نیزمؤلف کتاب کی دوسری کتابیں بھی زیر مطالعہ رکھے۔
    محقق کو اپنے مقدمہ میں مؤلف کے منہج کو بھی بیان کرنا ہے (جس کا بیان آگے آرہا ہے) اگر انہیں مؤلف کتاب کے اسلوب ومنہج سے صحیح واقفیت نہ ہوگی تو وہ قارئین کو اس کے متعلق فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔

    بعض مؤلفین کے بعض خاص اسلوب واصطلاحات ہوتے ہیں۔ ان اسالیب واصطلاحات کو جانے بغیر کتاب کو سمجھنا مشکل ہے۔

    بعض خاص اسلوب ومنہج کے متعلق چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں:
    امام نسائی کا اسلوب یہ ہے کہ اگر حدیث میں کوئی علت ہو تو مُعَل کو پہلے روایت کرتے ہیں، پھر اس کے بعد صحیح روایت لاتے ہیں۔
    امام ترمذی کا اسلوب بھی اس قریب تر ہے۔

    امام ابن خزیمہ کا اسلوب یہ ہے کہ اگر حدیث میں کوئی کلام ہو تو حدثنی فلان عن فلان ... کہہ کر سند سے اس کی شروعات نہیں کرتے۔ بلکہ پہلے متن حدیث کو ذکر کرتے ہیں پھر بعد میں اس کی سند ذکر کرتے ہیں۔

    امام مسلم رحمہ اللہ متابعات وشواہد میں بعض ضعیف روات سے بھی روایت کرتے ہیں، یہ ان کی کتاب کا اصل موضوع نہیں ہوتا، اس میں ان کا اسلوب ومنہج یہ ہے کہ پہلے اصل صحیح روایت کو ذکر کرنے کے بعد ان متابعات وشواہد کو ذکر کرتے ہیں۔

    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے تقریب التہذیب میں روات کے سن وفات کو ذکر کرنے میں یہ اسلوب اپنایا ہے کہ صرف سو کے بعد والے عدد کو ذکر کریں، سو ، دو سو، تین سو کو ذکر نہ کریں۔ مثلا اگر کسی راوی کی وفات ایک سو چالیس ہجری میں ہوئی ہے تو ان کا طبقہ ذکر کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ چالیس ہجری میں ان کی وفات ہوئی ہے۔ ایک سو چالیس نہیں کہتے۔ اسی طرح اگر کسی کی وفات مثلا دو سو ستر ہجری میں ہوئی ہے تو ان کا طبقہ ذکر کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ ان کی وفات ستر ہجری میں ہوئی ہے، دو سو ستر نہیں کہتے۔
    اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک قاری پھر تمییز کیسے کرے کہ اس سے مراد سو سے پہلے ہے یا سو کے بعد یا دو سو کے بعد، تو اس کا جواب ان کے مقدمہ میں موجود ہے۔ انہوں نے تمام روات کو پہلے بارہ طبقات میں تقسیم ہے۔
    پھر فرماتے ہیں: "وذكرت وفاة من عرفت سنة وفاته منهم، فإن كان من الأولى والثانية: فهم قبل المائة، وإن كان من الثالثة إلى آخر الثامنة: فهم بعد المائة، وإن كان من التاسعة إلى آخر الطبقات: فهم بعد المائتين، ومن ندر عن ذلك بينته". (تقريب التهذيب ص: 75)
    یعنی اگر راوی پہلے اور دوسرے طبقے کا ہے تو ان کی وفات سو ہجری سے پہلے ہوئی ہے۔ اور اگر تیسرے طبقے سے لے کر آٹھویں طبقے کے درمیان ہے تو ان کی وفات سو ہجری کے بعد ہوئی ہے۔ اور اگر نویں طبقے سے لے کر بارہویں طبقے کے درمیان ہے تو ان کی وفات دو سو ہجری کے بعد ہوئی ہے۔ یہی اصل ہے ، بعض جو نادر ہیں تو ان کے متعلق انہوں نے صراحت کر دی ہے ، یعنی صراحت کے ساتھ سو دو سو کی عدد کو وہاں پر ذکر کیا ہے۔

    اسی طرح الاصابہ فی تمییز الصحابہ میں موجود بعض ناموں سے بعض لوگوں کو بسا اوقات یہ شبہہ ہو جاتا ہے کہ یہ صحابی ہیں۔ یہ در اصل حافظ ابن حجر کے اسلوب ومنہج سے عدم واقفیت کی بنا پر ہوتا ہے۔ بعض نام اس میں حافظ ابن حجر اس لئے بیان کرتے ہیں کیونکہ انہیں بعض لوگوں نے صحابی سمجھ لیا ہےحالانکہ تحقیق یہ ہے کہ وہ صحابی نہیں ہیں۔ اور مقدمہ میں انہوں نے اس اسلوب ومنہج کی صراحت کی ہوئی ہے۔

    یہ تو اسلوب ومنہج کی بات ہوئی۔ اسی طرح بعض مؤلفین کے بعض خاص اصطلاحات ہوتے ہیں، ان اصطلاحات سے واقفیت کے بغیر ان کی کتاب کو سمجھنا بہت ہی مشکل ہے۔ محقق کو چاہئے کہ کتاب میں موجود تمام اصطلاحی کلمات کا مفہوم انہیں پتہ ہو تاکہ اس کے صحیح معنی ومفہوم سے قارئین کو بہرور کر سکے۔
    بطور مثال چند خاص اصطلاحات کو ذکر کیا جا رہا ہے۔

    امام بغوی نے مصابیح السنہ میں احادیث کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہے: صحاح وحسان۔ اس سے کوئی بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ محدثین کی مشہور اصطلاح صحیح اور حسن احادیث مراد ہیں، لیکن حقیقت میں ان کی مراد کچھ دوسری ہی ہے، صحاح سے مراد جو احادیث صحیحین یا کسی ایک میں ہیں، اور حسان سے مراد جو سنن ابی داود وترمذی وغیرہما میں ہیں چاہے وہ ان کے نزدیک بھی ضعیف ہی کیوں نا ہوں ان پر وہ حسان کا اطلاق کرتے ہیں۔

    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تقریب التہذیب میں روات کے مرتبے کو ذکر کرتے ہوئے بہ کثرت لفظ "مقبول" کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ اس سے ان کے نزدیک ان روات کا قابل قبول ہونا مقصود نہیں ہوتا، بلکہ یہ مقصود ہوتا ہے کہ ان کی متابعت کی جائے تو مقبول ہیں، ورنہ وہ در اصل لین الحدیث ہیں۔
    اگر کوئی اس اصطلاح سے واقف نہ ہو تو اس کا غلط مفہوم نکال سکتا ہے۔ ایک بار ایک معروف ادارے کے شیخ الحدیث کے ساتھ یہ واقعہ پیش ہو چکا ہے، ان کو اعتراض تھا کہ جب حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس راوی کو مقبول کہا ہے تو علما ان کی حدیث کو ضعیف کیوں کہہ رہے ہیں۔ میں نے ان سے بات کی، حافظ ابن حجر کا مقدمہ دکھایا تب انہیں یہ چیزسمجھ میں آئی۔

    امام مجد ابن تیمیہ المنتقی میں متفق علیہ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں ، کوئی بھی اس سے یہ سمجھ سکتا ہے کہ یہ حدیث صحیحین میں ہونے کی طرف انہوں نے اشارہ کیا ہے۔ حالانکہ ان کا مقصود یہ ہے کہ اسے امام احمد اور شیخین نے روایت کی ہے، صرف شیخین کی طرف اشارہ مقصود نہیں ہوتا۔ اگر کہیں پر صرف شیخین کی طرف اشارہ کرنا ہو تو اس کے لئے آپ "أخرجاہ" کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔

    امام سیوطی تدریب الراوی میں بہ کثرت " قال شیخ الاسلام" کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں ، اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ مراد ہیں، بلکہ اس سے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کو انہوں نے مراد لیا ہے۔

    فقہی کتب احناف میں شیخین ، صاحبین وطرفین کی اصطلاح بھی اسی طرح ہے، اگر کوئی ان کے معانی سے واقف نہ ہو ں تو بہت سارے اقوال کی نسبت میں وہ غلطی کے شکار ہو سکتے ہیں۔
    وقس علی ہذا۔

    اس لئے ایک محقق کا مطلوبہ کتاب کے اسلوب ومنہج اور خاص اصطلاحات سے واقف ہونا نہایت ہی ضروری ہے۔

    جاری...
     
  9. ‏فروری 27، 2019 #9
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    841
    موصول شکریہ جات:
    237
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    (نویں قسط)
    علمی کتب کی تحقیق کے چند اہم اصول وضوابط
    تحریر: فاروق عبد اللہ نراین پوری

    محقق کا مقدمہ

    گزشتہ قسطوں میں محقق کے اخلاقی اور علمی اوصاف کا مفصل بیان گزر چکا ہے۔ اب ان صفات سے متصف ہونے کے بعد انہیں تحقیق کے میدان میں قدم رکھنا ہے۔ اس کے لئے انہیں سب سے پہلےاپنے مقدمہ میں اپنے منہج اور دیگر ضروری امور کی وضاحت کرنا ضروری ہے۔

    کسی بھی کتاب کی تحقیق دو قسموں پر منقسم ہوتی ہے: قسم الدراسہ اور قسم النص المحقق۔
    قسم الدراسہ میں محقق کو کتاب اور اس کے مصنف کے متعلق مکمل تفصیلات ذکر کرنے کی ضرورت ہے۔

    مصنف کے متعلق تفصیلی معلومات میں ان چند اہم عناوین کو شامل کرنا مستحسن ہے۔
    1- مؤلف کا نام،نسب، کنیت، لقب ونسبت، ۔
    2- ولادت۔
    3- نشو ونما۔
    4- علمی اسفار
    5- اساتذہ کرام۔
    6- شاگردان رشید
    7- عقیدہ۔
    8- فقہی مذہب۔
    9- ان کے متعلق اہل علم کے تأثرات۔
    10- تالیفات ،و دیگر علمی وملی خدمات ۔
    11- وفات۔

    جب کہ کتاب کے متعلق تفصیلی معلومات میں درج ذیل چیزوں کو ذکر کرنا چاہئے:
    1- کتاب کا نام۔ (اس کی تحقیق کے متعلق تفصیلی گفتگو اگلی قسطوں میں آرہی ہے۔)
    2- مؤلف کی طرف اس کی نسبت کی توثیق۔ (اس کی تحقیق کے متعلق بھی تفصیلی گفتگو اگلی قسطوں میں آرہی ہے۔)
    3- اس کی علمی قیمت۔
    4- اسی فن کی دیگر کتب کے مابین اس کا مقام ومرتبہ۔
    5- اس کا موضوع۔
    6- مؤلف کا منہج۔
    7- اس پر سابقہ علمی خدمات ۔
    8- اس کے طبعات –اگر موجود ہوں-۔
    9- مؤلف کے مصادر ومراجع۔

    پھر محقق کو چاہئے کہ اپنی تحقیق میں جن قلمی نسخوں پر وہ اعتماد کرتے ہوئے قدم رکھ رہے ہیں ان کی تفصیلات ذکر کردے۔ اس میں درج ذیل عناوین پر بات کرنا ضروری ہے۔
    1- اپنے ہاتھ سے اسے لکھنے والے کا نام۔
    2- لکھنے کی تاریخ ۔
    3- خط کی نوعیت (مثلا: کوفی، مغربی، اندلسی، نسخ، محقق، نستعلیق، مکسر وغیرہ)
    4- ایک صفحے میں عموما کتنی سطریں لکھی ہوئی ہیں۔
    5- ایک سطر میں عموما کتنے حروف لکھے ہوئے ہیں۔
    6- وہ قلمی نسخہ کتنی جلدوں میں ہے، نیز مکمل ہے یا ناقص۔ اگر ناقص ہے تو اس کی تفصیلات۔
    7- لوحات (اوراق) کی تعداد۔
    8- اگر عرض وسماع موجود ہے (یعنی اس نسخے کو کسی بڑے عالم پر پڑھا گیا اور تمام لوگوں کے نام اس پر درج ہیں) تو اس کی تفصیلات ۔
    9- اس کی خوبی وخرابی (مثلا خوبی میں: مصنف کے ہاتھ کا لکھا ہوا نسخہ، مصنف کے کسی شاگرد کے ہاتھ کا لکھا ہوا نسخہ، سب سے پرانا نسخہ، مکمل نسخہ، اس پر عرض وسماع کا موجود ہونا، خط کی خوبصورتی وغیرہ۔ اور خرابی میں: غیر مکمل ہونا، لکھنے والے کا نام یا تاریخ کا علم نہ ہونا، خط پڑھنے کے قابل نہ ہونا، عرض وسماع کا موجود نہ ہونا، وغیرہ۔)
    10- دنیا کے کس کتاب خانے میں وہ موجود ہے۔
    11- اس کتاب خانے میں اس قلمی نسخے کا سیریل نمبر۔
    12- دوران تحقیق اس قلمی نسخے کا رمز۔ وغیرہ۔

    قلمی نسخے کے متعلق ان تفصیلات کو ذکر کرنے کے بعد نمونے کے طور پر ان قلمی نسخوں کے بعض صفحات کی تصویر لگانا نہ بھولیں، خصوصا پہلے اور آخری صفحے کی تصویر۔

    ان تمام امور کو انجام دینے کے بعد ایک محقق عملی طور پر تحقیق کا کام شروع کرتا ہے۔ اور قلمی نسخوں کے ساتھ اس کی زندگی شروع ہوتی ہے۔ ان شاء اللہ اگلی قسط سے اب اس موضوع کے سب سے اصل نکتے پر بحث شروع ہوگی۔

    جاری ....
     
  10. ‏فروری 27، 2019 #10
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    841
    موصول شکریہ جات:
    237
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    (دسویں قسط)
    علمی کتب کی تحقیق کے چند اہم اصول وضوابط
    تحریر: فاروق عبد اللہ نراین پوری

    مخطوطات کی جمع وترتیب اور تحقیق کے عملی مراحل

    محترم قارئین!
    گزشتہ قسط میں بیان کیا گیا تھا کہ کسی بھی کتاب کی تحقیق دو قسموں پر منقسم ہوتی ہے: قسم الدراسہ اور قسم النص المحقق۔
    گزشتہ قسط میں اول الذکر کے متعلق تفصیلی باتیں آچکی ہیں۔
    اب اس قسط سے باقاعدہ ہم آپ کو میدان تحقیق کی سیر کرائیں گے۔

    کسی بھی کتاب کی تحقیق سے پہلے محقق کو یہ جاننے کی کوشش کرنا چاہئے کہ مطلوبہ کتاب مطبوع یا نہیں۔ اور اگر مطبوع ہے تو وہ تحقیق شدہ ہے یا نہیں۔
    "کتاب چھپی ہوئی ہے یا نہیں " بہت ساری کتابوں میں اسے بیان کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے، بلکہ اس موضوع پر بعض خاص کتابیں لکھی گئی ہیں۔ مثلا:
    1- اکتفاء القنوع بما ہو مطبوع۔ اسے اڈرارڈ فندیک نے جمع کیا ہے۔ پھر محمد علی الجبلاوی نے اس پر کچھ اضافے کئے ہیں۔
    2- الاعلام للزرکلی ۔ اس میں تقریبا 1956 تک کی کتابوں کی معلومات مل جائیں گی۔
    3- معجم المطبوعات العربیہ والمصریہ لیوسف الیان سرکیس۔ اس میں 1928 تک کی کتابوں کی معلومات مل جائیں گی۔
    4- الکتب العربیہ التی نشرت فی مصر بین 1936-1940 لعائدہ ابراہیم نصیر۔
    اس کے علاوہ کتب خانوں ، ناشرین کتب وغیرہ کی فہرست سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔
    نیز مکتبہ شاملہ اور انٹرنیٹ پر موجود دوسرے الکٹرانک مکتبات سے بھی اچھی خاصی رہنمائی مل سکتی ہے، ان شاء اللہ۔

    اب اگر محقق کسی کتاب کی تحقیق کی ضرورت محسوس کرتا ہے تو انہیں اس کتاب کے قلمی نسخوں کی تلاش وجستجو شروع کرنی چاہئے کیونکہ کسی بھی کتاب کی تحقیق میں قلمی نسخوں کا کلیدی رول ہوتا ہے۔ تحقیق کا پورا دار مدار قلمی نسخوں (یا جو ان کے قائم مقام ہو) پر ہوتا ہے۔ ان کے بغیر تحقیق کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ لہذا سب سے پہلے قلمی نسخوں کو جمع کرنا اور ان کی مناسب ترتیب دینا ضروری ہے پھر باقاعدہ تحقیق کے عملی میدان میں داخل ہونے کا مرحلہ آتا ہے۔

    ان تمام مراحل کا تفصیلی بیان آگے آ رہا ہے:

    پہلا مرحلہ: مطلوبہ کتاب کے مخطوطات (قلمی نسخوں) کو جمع کرنا:
    جس کتاب کی تحقیق کرنی ہو اس کے قلمی نسخوں کو ڈھونڈنا اور انہیں حاصل کرنامحقق کے لئے ضروری ہے۔
    تحقیق کے میدان سے جڑے ہوئے کبار محققین فرماتے ہیں کہ تحقیق کے لئے کم از کم دو نسخۂ خطیہ (قلمی نسخوں) کا ہونا ضروری ہے، اور اگر اس سے بھی زیادہ نسخے ہوں تو یہ تحقیق کو مزید استحکام بخشتا ہے، تاکہ محقق کے لئے ان نسخوں کے مابین مقارنہ کرنے اور ان میں سے ایک کو دوسرے کے ساتھ ملا کر صحیح نص تک پہنچنے میں آسانی ہو۔ اگر محقق کے پاس صرف ایک ہی نسخہ(یعنی نسخۂ فریدہ) موجود ہے تو اس پر اعتماد کرتے ہوئے تحقیق نہیں کی جا سکتی۔ یہی اس باب میں اصل ہے ۔

    استاد ہلال ناجی فرماتے ہیں: "أبرز المآخذ في نظري هو نشر النصوص ناقصة اعتمادًا على نسخة واحدة دون الالتفات إلى أن هذا النشر لا يمثل الكتاب كما وضعه مصنفه". (محاضرات في تحقيق النصوص للأستاذ هلال ناجي ص37)
    (ایک ہی نسخہ پر اعتماد کرتے ہوئے نصوص کو نا مکمل شائع کرنا ، اس جانب توجہ دئے بغیر کہ یہ شائع کردہ نسخہ اس کتاب کی نمائندگی نہیں کرتا جسے مصنف نے لکھا تھایہ میری نظر میں سب سے قابل گرفت امر ہے۔ )

    اس لئے حتی الامکان ایک سے زائد قلمی نسخوں کو جمع کرنا ضروری ہے۔ مخطوطات کے جائے وجود کی معرفت کے لئے درج ذیل طریقے اپنائے جا سکتے ہیں:
    پہلا طریقہ: اس باب میں لکھی گئی کتابوں کی طرف رجوع کرنا۔
    جن میں سے بعض یہ ہیں:
    1 – تاریخ الادب العربی لبروکلمان ۔
    اس کے مصنف ایک مستشرق ہیں۔ اللہ تعالی نے ان کے ذریعہ دین کی ایک عظیم خدمت لی ہے۔ انہوں نے ڈھونڈ ڈھونڈ کر پوری دنیا کے معروف کتب خانوں سے قلمی نسخوں کی معلومات جمع کی ہیں۔ یہ کتاب جرمنی زبان میں پانچ جلدوں میں ہے۔ اس میں عربی زبان میں لکھے گئے اسلامی کتابوں کا بیان موجود ہے، مؤلف نے مطبوع ومخطوط تمام کتابوں کو حتی الامکان بیان کرنے کی کوشش کی ہے (گرچہ ان کا یہ عمل ناکافی ہے)۔ اور مخطوطات کے جائے وجود کی بھی صراحت کی ہے۔ اسے عبد الحلیم نجار، ڈاکٹر سید یعقوب بکر اور ڈاکٹر رمضان عبد التواب نے عربی کا جامہ پہنایاہے۔ عبد الحلیم نجار نے بعض اضافے بھی کئے ہیں۔

    2 – تاریخ التراث العربی لفؤاد سزکین
    یہ کتاب ڈاکٹر فؤاد سزکین نے جرمنی زبان میں لکھی ہے۔ اس میں انہوں نے بروکلمان کی کتاب کی کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس میں انہوں نے دوسری چیزوں کے علاوہ پوری دنیا کے کتب خانوں میں موجود قلمی نسخوں کو دس جلدوں میں بیان کیا ہے۔ تقریبا چالیس ملکوں کے کتب خانوں کی فہرست اس میں موجود ہے۔ اس عظیم خدمت پر انہیں کنگ فیصل ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ہے۔ بعد میں ڈاکٹر ابو الفضل محمود فہمی حجازی نے اس کی تعریب کی ہے۔

    3 – معجم المؤلفین لعمر رضا کحالہ۔
    اسلامی کتب کے متعلق آپ کو گہرا علم تھا، اور ہو بھی کیوں نا آپ تقریبا تیس سال تک دار الکتب الظاہریہ دمشق کے مدیر تھے جوکہ نادر مخطوطات کے لئے مشہور ہے۔ تیرہ جلدوں پر مشتمل ان کی یہ کتاب محققین کے لئے ایک عظیم سرمایہ ہے۔ اس میں انہوں نے مطبوع ومخطوط کتابوں کو ذکر کرنے کی کوشش کی ہے۔ اور مخطوطات کے جائے وجود کی بھی صراحت کی ہے۔

    4 – الفہرس الشامل للتراث العربی الشامل ۔ اسے مؤسسۃ آل البیت للفکر الاسلامی، عمان ، اردن نے شائع کیا ہے۔
    یہ عربی کتابوں کی فہرست کا ایک انسائیکلو پیڈیا ہے۔ اس میں پوری دنیا کے کتب خانوں کی فہرست کو شامل کر دیا گیا ہے جوکہ ایک عظیم کارنامہ ہے۔ تمام کتابوں کی حروف معجم پر ترتیب دی گئی ہے۔ اقدمیت کے اعتبار سے کتاب کے نسخوں کی ترتیب دی گئی ہے۔ اپنی گوناگوں خوبیوں کی وجہ سے تمام کتابوں کے مابین یہ کتاب محققین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے کیونکہ اس میں ایک محقق کو جن معلومات کی ضرورت ہوتی ہے تقریبا تمام ہی معلومات کو جمع کر دیا گیا ہے۔ مثلا کتاب خانے کا نام، اس کتاب خانے میں اس قلمی نسخے کا سیریل نمبر، لوحات (اوراق ) کی تعداد، نسخ (نقل) کرنے کی تاریخ، مصنف کا نام اور مجلدات کی تعداد وغیرہ۔

    دوسرا طریقہ: کتب خانوں کی فہارس دیکھی جائے۔
    پوری دنیا میں تقریبا چار سو سے زائد ایسے کتب خانے ہیں جن میں مخطوطات پائے جاتے ہیں۔ان میں سے اکثر مغربی ممالک میں ہیں، اور بعض عربی ممالک میں۔ بریطانیا کی مکتبۃ المتحف البریطانی میں بے شمار مخطوطات موجود ہیں۔اسی طرح سسٹر بیٹی میں بھی۔ بسام الجابی نے " دلیل الباحث الی التراث العربی" کے نام سے ایک گائیڈ تیار کی ہے جس میں پوری دنیا کے کتب خانوں کا نام مع پتہ درج کیا ہے۔ الحمد للہ ان میں سے بہت سارے کتب خانوں کی فہارس تیار کی جا چکی ہیں۔ (دیکھیں: المنہاج فی تالیف البحوث وتحقیق المخطوطات للدکتور محمد التو نجی ص160، اور محاضرات فی تحقیق النصوص لاحمد الخراط، ص 31)

    جن میں سے بعض مشہور فہارس یہ ہیں:
    1- فہرست دار الکتب البروسیہ فی برلین۔ دس جلدوں میں۔ اسے اہلورد (W. Ahlwardt) نے تیار کیا ہے۔
    2- فہرست مخطوطات دار لکتب الظاہریہ بدمشق۔
    3- فہرست مخطوطات مکتبۃ الاوقاف العامہ فی الموصل۔
    4- فہرست مخطوطات المجمع العلمی العراقی فی بغداد
    5- فہرست مخطوطات جامعۃ الریاض۔
    6- فہرست مخطوطات المکتبۃ المرکزیہ بجامعۃ الملک عبد العزیز۔
    7- فہرست مکتبات دار الکتب المصریہ۔
    8- نوادر المخطوطات العربیہ فی مکتبات ترکیا۔
    9- فہرست الخزانۃ التیموریہ بالقاہرہ۔
    10- فہرست مخطوطات مکتبۃ عارف حکمت بالمدینہ النبویہ
    11- المخطوطات العربیہ بمکتبۃ الفاتیکان۔
    (اس کے علاوہ اور متعدد فہارس کی جانکاری کے لئے ڈاکٹر احمد الخراط السوری کی کتاب محاضرات فی تحقیق النصوص، ص 30- 31 کی طرف رجوع کریں۔)

    وطن عزیز ہندوستان پوری دنیا میں مخطوطات اور قدیم شرعی مصادر کی نشر واشاعت کے لئے مشہور رہا ہے۔ اس میں بے شمار عام وخاص کتب خانوں میں قلمی نسخے موجود ہیں جن کی تعداد ڈاکٹر معراج احمد ندوی (اسسٹنٹ پروفیسر، عالیہ یونیورسٹی، کولکاتا) کے مطابق تقریبا ڈیڑھ لاکھ ہے۔ جن میں سے چالیس فیصد (یعنی تقریبا پچپن ہزار) عربی مخطوطات ہیں۔ جن میں سے بعض مشہور کتب خانوں کی فہارس یہ ہیں:
    1- فہرست مخطوطات مکتبہ خدا بخش پٹنہ
    2- فہرست مخطوطات مکتبہ سعیدیہ حیدر آباد
    3- فہرست مخطوطات مکتبہ رضا رام پور
    4- فہرست مخطوطات مکتبہ آزاد علی گڑھ
    5- فہرست مخطوطات مکتبہ پیر محمد شاہ گجرات
    6- فہرست مخطوطات مکتبہ راجا محمود آباد لکھنؤ
    7- فہرست مخطوطات مکتبہ سید ظل الرحمن علی گڑھ
    8- فہرست مخطوطات مکتبہ عالیہ چشتیہ گجرات
    9- فہرست مخطوطات مکتبہ عالیہ مہدویہ گجرات
    10- فہرست مخطوطات متحف ومکتبہ سالار جنگ حیدر آباد
    11- فہرست مخطوطات مکتبہ دائرۃ المعارف العثمانیہ حیدر آباد
    12- فہرست مخطوطات مکتبہ مکتبہ آصفیہ حیدر آباد
    13- فہرست مخطوطات مکتبہ جامعہ عثمانیہ حیدر آباد
    14- فہرست مخطوطات مکتبہ جامعہ ہمدرد
    15- فہرست مخطوطات مکتبہ ذاکر حسین، جامعہ ملیہ اسلامیہ
    16- فہرست مخطوطات مکتبہ دار العلوم ندوۃ العلماء ، وغیرہ۔

    تیسرا طریقہ: مایکروفیلم کی فہرست دیکھی جائے۔
    آج ڈیجیٹل دور ہے، الحمد للہ ٹیکنالوجی نے مخطوطات کی فراہمی کا معاملہ کافی حد تک آسان بنا دیا ہے۔ الحمد للہ سعودی عرب کی یونیورسیٹیوں میں یہ مایکروفلمیں کافی زیادہ تعداد میں موجود ہیں۔ جامعہ اسلامیہ مدینہ طیبہ، جامعۃ الامام ریاض، جامعۃ الملک سعود ریاض، جامعۃ الملک عبد العزیز جدہ میں کافی تعداد میں یہ موجود ہیں۔ ان جامعات کے فہارس کی طرف رجوع کرنے سے بھی انہیں ڈھونڈنے میں مدد مل سکتی ہے۔ (دیکھیں: ڈاکٹر احمد الخراط السوری کی کتاب محاضرات فی تحقیق النصوص، ص 31)

    چوتھا طریقہ: جامعۃ الدول العربیہ کے ماتحت چلنے والے معہد المخطوطات (کویت) کی فہرست دیکھی جائے۔
    وہاں کی ٹیم نے پوری دنیا سے ہزاروں مخطوطات کی تصویریں جمع کی ہیں۔ (دیکھیں: ڈاکٹر احمد الخراط السوری کی کتاب محاضرات فی تحقیق النصوص، ص 31-32)۔

    پانچوں طریقہ: مرکز الملک فیصل للبحوث والدراسات الاسلامیہ سے شائع شدہ "خزانۃ التراث" کی طرف رجوع کیا جائے۔

    چھٹا طریقہ: مشہور محققین اور اہل علم سے رابطہ کیا جائے۔
    جن میں سے سب سے مشہور شخصیت ہمارے شیخ عزیر شمس حفظہ اللہ ومتعہ بالصحۃ والعافیہ ہیں۔ اسی طرح استاد محترم شیخ عبد الباری بن حماد بن انصاری حفظہ اللہ کے پاس بھی اس باب میں بہترین معلومات ہیں۔ اللہ تعالی کا فضل وکرم ہے کہ استاد محترم سے مجھے اس فن تحقیق کو پڑھنے کا موقع ملااور جہاں تک ہو سکا ان سے کسب فیض کیا بلکہ کر رہا ہوں، کیونکہ ابھی میں جس فتح الباری کے تحقیقی مشروع میں کام کر رہا ہوں اس کے مشرف عام آپ ہی ہیں۔

    ساتواں طریقہ: انٹر نیٹ ویب سائٹس کی مدد لی جائے۔
    چونکہ آج انٹرنیٹ کا دور ہے، تو اس سے بھی ایک محقق فائدہ اٹھا سکتا ہے، بہت سارے ایسے ویب سائٹس ہیں جو قارئین کو قیمتا یا مفت میں مخطوطات فراہم کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض ویب سائٹس کے نام یہ ہیں:
    1- مرکز ودود
    2- مرکز جمعہ الماجد
    3- مکتبہ الألوکہ
    4- جامع المخطوطات الإسلامیہ
    5- مکتبۃ الملک فہد الوطنیہ – قسم المخطوطات والنوادر
    6- الکتابدار
    7- جامعۃ الملک سعود- قسم المخطوطات-
    8- مرکز الدراسات والأبحاث وإحیاء التراث،
    9- WAMCP Portal (مخطوطات ویلکوم العربیہ)
    10- مرکز أمجاد للمخطوطات
    11- المکتبہ الوقفیہ، وغیرہ۔

    اس طرح محقق پہلے مطلوبہ کتاب کے تمام یا زیادہ سے زیادہ قلمی نسخے جمع کر لے تاکہ بہترین انداز میں مؤلف ِکتاب کے وضع کردہ قریب ترین صورت میں اسے منظر عام پر لا سکے۔

    جاری...
     
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. علی عمران
    جوابات:
    11
    مناظر:
    1,279
  2. Aamir
    جوابات:
    3
    مناظر:
    1,425
  3. Aamir
    جوابات:
    6
    مناظر:
    3,159
  4. Aamir
    جوابات:
    5
    مناظر:
    1,751
  5. محمد ارسلان
    جوابات:
    4
    مناظر:
    816

اس صفحے کو مشتہر کریں